{"title":"History","description":"\u003cp\u003eتاریخ کی بہترین کتابوں کا مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 335\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635053241,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e215\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636232889,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Nawab Sikandar Begum\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: Zaif Syed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 238\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636855481,"sku":"KW-NAW-0446","price":1125.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"wicket-se-wicket-tak","title":"Wicket se Wicket tak وکٹ سے وکٹ تک","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Peter Oborne\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eNajam Latif\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eوکٹ سے وکٹ تک“ معروف برطانوی ادیب اور تبصرہ نگار پیٹر اوبورن کی شہرہ آفاق کتاب Wounded Tiger, A History of Pakistan Cricket کا اردو ترجمہ ہے جسے 2014ءمیں کرکٹ پر سال کی بہترین کتاب ہونے پر وِزڈن انعام حاصل ہوا۔پیٹر اوبورن، پاکستان اور اس کی کرکٹ کے زبردست مداح اور حامی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ حقائق پر مبنی پاکستان کرکٹ کی متنازع تاریخ پر پس پردہ واقعات سے بھرپور دھماکا خیز کتاب ہے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم تقسیم ِبرصغیر کے بعد افراتفری کے دَور میں مرتب ہوئی۔ ابتدائی طور پر پاکستانی ٹیم منتشر ہونے کے ساتھ ساتھ کمزور اورمالی طور پر غیرمستحکم تھی مگر وہ بتدریج ترقی کرتے ہوئے دنیائے کرکٹ کی اہم طاقت بن کر ابھری۔کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں نے پاکستان کو دنیا میں مرتبہ ومقام حاصل کرنے میں مدددی۔ دفاعی حالات میں جرا¿ت مندی اور مزاحمت میں شکست دینے کی کوشش میں اے ایچ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد، ماجد خان، جاوید میاںداد، عبدالقادر، وسیم اکرم اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کا مقام نمایاں ہے۔پاکستان کرکٹ کی داستان فتوحات، حادثات اور المناک واقعات سے بھرپور ہے۔ اس کے علاوہ میچوں میں بے ایمانی اور جوئے کے رحجان سے مزید بدنامی ہوئی۔ 2009ءسے شدت پسندی کے خوف نے پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ کو جلاوطنی میں دھکیل دیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کھیل کب واپس وطن لوٹ سکے گا۔ مگر پیٹر اوبورن کی تحریر اُمید سے بھرپور ہے۔ اُس کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کرکٹ جو صرف کراچی اور لاہور کے عظیم شہروں تک محدود تھی، اب پورے ملک سے کھلاڑی اور مداح پیدا کررہی ہے۔ پاکستانی خواتین کی کرکٹ کی دل کو گرما دینے والی کہانی بھی بیان کی گئی ہے جو آج وہ بھی کھیل کی دنیا میں طاقت بن چکی ہے۔ اپنے تمام مصائب کے باوجود کرکٹ پاکستانیوں کو اعلیٰ کارکردگی اور اپنے آپ کو متعارف کروانے کا موقع دیتی ہے جس سے انہیں اپنی پہچان کا احساس ہوتا ہے اور اپنے ملک پر فخر کرنے کا شعور ملتا ہے۔کرکٹ کے اعلیٰ حکام اور سابق کھلاڑیوں کی یادوں سے بھرپور یہ کہانی سیاسی، سماجی اور ثقافتی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔ پاکستان کرکٹ پر یہ کتاب ایک قوم اور اس کے پسندیدہ کھیل پر مکمل اور جامع مطالعہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jumhoori","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655762617,"sku":"KW-PET-0488","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender_c868fa99-932c-4849-a62c-bcbca331ed2c.jpg?v=1785001795"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shueyb Gandapur\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e152\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368616964281,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"},{"product_id":"taqseem-e-hind-تقسیم-ہند","title":"TAQSEEM-E-HIND تقسیم ہند","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/abdul-waheed-khan\"\u003eABDUL WAHEED KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 304\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003eAuthor Biography:\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eعبدالوحید خاں برصغیر کے اُن ممتاز دانشوروں، مؤرخین اور سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تحریکِ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور اسلامی سیاسی فکر پر گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی حلقوں میں بھی طویل عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کی صوبائی مسلم لیگوں کی ورکنگ کمیٹیوں کی رکنیت نے انھیں برصغیر کی سیاسی جدوجہد کا براہِ راست مشاہدہ عطا کیا۔ عبدالوحید خاں 1915ء میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔ ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ اور ’’تاریخِ افکار و سیاسیاتِ اسلامی‘‘ ان کی معروف تصانیف ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کا گجراتی اور بنگالی سمیت برصغیر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب India Wins Freedom کے جواب میں عبدالوحید خاں نے 1961ء میں انگریزی زبان میں India Wins Freedom – The Other Sideتصنیف کی، جس میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے واقعات کا ایک مختلف تاریخی زاویۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’’تقسیمِ ہند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور زیرِ نظر کتاب اسی اہم تصنیف کی نئی اشاعت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عبدالوحید خاں اپنے خاندان سمیت ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور یہیں سے الیکشن بھی کامیابی سے لڑا۔ وہ صدر ایوب خان کی حکومت میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی اور بنگلا دیش کے قیام کو اُس وقت کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ انھیں گہرے صدمے سے دوچار کر گیا، جس کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eذاتی طور پر مجھے مولانا آزاد کے علم و فضل سے ہمیشہ عقیدت رہی ہے، جس کو نہ سیاسی طوفان و طلاطم متزلزل کر سکے، نہ شدید اصولی اختلافات اُن کی ’’خمِ زلفِ کمال‘‘ کی اسیری سے چھڑا سکے۔ اضطراب و ہیجان کے اس دَور میں بھی، جبکہ مولانا کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی تھیں، میں ان کی رنگیں بیانیوں اور فطری لطافتوں سے حظ اٹھاتا رہتا تھا۔ مگر ارادت کیشی کے اِس مضبوط حصار کے باوجود جو میرے تصوّرات نے مرحوم کی ذات کے اِردگرد قائم کر رکھا ہے، جیسے ہی اُن کی کتاب ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ شائع ہوئی اور وہ ایک سیاسی مورّخ کی حیثیت سے نمودار ہوئے، خودبخود وہ تمام نقوش و خطوط اُجاگر ہو گئے جو اُن کی شکست خوردہ قیادت کے جذبۂ انتقام اور احساسِ کمتری نے اُن کے ذہن و فکر کے گوشوں میں بنائے تھے اور جو اَب تک مدّھم اور پھیکے پڑے ہوئے تھے اور دماغوں سے محو ہوتے جا رہے تھے۔ مولانا کا اشہبِ قلم تاریخِ آزادئ ہند کے میدان میں شہ گام کے لیے نکلا تھا، لیکن ان کے ذہنِ رسا نے ان کی عنان خود اپنی زخم خوردہ انانیت و اِمامت کی شاہراہوں کی طرف پھیر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخِ آزادی کی منزل تو ایک طرف رہ گئی، البتہ اس کو مولانا کے ذہنی و قلبی واردات، اُن کے ذاتی رجحانات اور عقائد، ان کے اپنے افکار و توہمات کی وادیوں میں جولانیوں کا موقع مل گیا۔ (عبدالوحید خاں)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجناب عبد الوحید خاں کی تصنیف ’’ تقسیمِ ہند‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ سے متعلق تاریخ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔ انھوں نے مولانا کے فکری تضادات پر سخت گرفت کی ہے اور محققانہ دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری سے انڈیا ونز فریڈم کے اقتباسات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتے ہیں۔ انھوں نے تاریخی واقعات کے تناظر میں مولانا ابوالکلام کے یک طرفہ نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے اور نہایت ذمہ داری سے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ کانگریس اور انگریزی گٹھ جوڑ کو بھی آشکار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے باعث نوجوان نسل گمراہ کن تصورات کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ تاریخِ پاکستان کے اکابرین سے متعلق شکوک وشبہات کا خاتمہ کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف مسلسل محاذ بنا کر ان کے اخلاص کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتاب پاکستان سے وابستگی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں دھول اڑائی گئی ہے اور عبد الوحید خاں نے آئینے پر جمی گرد کو صاف کر دیا ہے۔ اس کتاب کو ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ سادہ اور عام فہم زبان میں تاریخ کا تقابلی مطالعہ نہایت خوش گوار تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر شاہد اشرف)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367641624761,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a53624f332ea1783849551.jpg?v=1785181357"},{"product_id":"jang-e-azeem-awwal-asl-kahani-kya-hai-جنگ-عظیم-اول-اصل-کہانی-کیا-ہے","title":"JANG-E-AZEEM AWWAL: ASL KAHANI KYA HAI? جنگ عظیم اول: اصل کہانی کیا ہے؟","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-mujahid-kamran-1\"\u003eDR MUJAHID KAMRAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9\/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370438406329,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d3b81f7433f1775482911.jpg?v=1785197336"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/history.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}