{"title":"History","description":"\u003cp\u003eتاریخ کی بہترین کتابوں کا مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431537717433,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431551774905,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431587786937,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436848001209,"sku":"KW-NAW-0446","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"wicket-se-wicket-tak","title":"Wicket se Wicket tak وکٹ سے وکٹ تک","description":"\u003cp\u003eوکٹ سے وکٹ تک“ معروف برطانوی ادیب اور تبصرہ نگار پیٹر اوبورن کی شہرہ آفاق کتاب Wounded Tiger, A History of Pakistan Cricket کا اردو ترجمہ ہے جسے 2014ءمیں کرکٹ پر سال کی بہترین کتاب ہونے پر وِزڈن انعام حاصل ہوا۔پیٹر اوبورن، پاکستان اور اس کی کرکٹ کے زبردست مداح اور حامی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ حقائق پر مبنی پاکستان کرکٹ کی متنازع تاریخ پر پس پردہ واقعات سے بھرپور دھماکا خیز کتاب ہے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم تقسیم ِبرصغیر کے بعد افراتفری کے دَور میں مرتب ہوئی۔ ابتدائی طور پر پاکستانی ٹیم منتشر ہونے کے ساتھ ساتھ کمزور اورمالی طور پر غیرمستحکم تھی مگر وہ بتدریج ترقی کرتے ہوئے دنیائے کرکٹ کی اہم طاقت بن کر ابھری۔کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں نے پاکستان کو دنیا میں مرتبہ ومقام حاصل کرنے میں مدددی۔ دفاعی حالات میں جرا¿ت مندی اور مزاحمت میں شکست دینے کی کوشش میں اے ایچ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد، ماجد خان، جاوید میاںداد، عبدالقادر، وسیم اکرم اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کا مقام نمایاں ہے۔پاکستان کرکٹ کی داستان فتوحات، حادثات اور المناک واقعات سے بھرپور ہے۔ اس کے علاوہ میچوں میں بے ایمانی اور جوئے کے رحجان سے مزید بدنامی ہوئی۔ 2009ءسے شدت پسندی کے خوف نے پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ کو جلاوطنی میں دھکیل دیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کھیل کب واپس وطن لوٹ سکے گا۔ مگر پیٹر اوبورن کی تحریر اُمید سے بھرپور ہے۔ اُس کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کرکٹ جو صرف کراچی اور لاہور کے عظیم شہروں تک محدود تھی، اب پورے ملک سے کھلاڑی اور مداح پیدا کررہی ہے۔ پاکستانی خواتین کی کرکٹ کی دل کو گرما دینے والی کہانی بھی بیان کی گئی ہے جو آج وہ بھی کھیل کی دنیا میں طاقت بن چکی ہے۔ اپنے تمام مصائب کے باوجود کرکٹ پاکستانیوں کو اعلیٰ کارکردگی اور اپنے آپ کو متعارف کروانے کا موقع دیتی ہے جس سے انہیں اپنی پہچان کا احساس ہوتا ہے اور اپنے ملک پر فخر کرنے کا شعور ملتا ہے۔کرکٹ کے اعلیٰ حکام اور سابق کھلاڑیوں کی یادوں سے بھرپور یہ کہانی سیاسی، سماجی اور ثقافتی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔ پاکستان کرکٹ پر یہ کتاب ایک قوم اور اس کے پسندیدہ کھیل پر مکمل اور جامع مطالعہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jumhoori","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432279421113,"sku":"KW-PET-0488","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender_c868fa99-932c-4849-a62c-bcbca331ed2c.jpg?v=1785001795"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432282566841,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"},{"product_id":"taqseem-e-hind-تقسیم-ہند","title":"TAQSEEM-E-HIND تقسیم ہند","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eعبدالوحید خاں برصغیر کے اُن ممتاز دانشوروں، مؤرخین اور سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تحریکِ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور اسلامی سیاسی فکر پر گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی حلقوں میں بھی طویل عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کی صوبائی مسلم لیگوں کی ورکنگ کمیٹیوں کی رکنیت نے انھیں برصغیر کی سیاسی جدوجہد کا براہِ راست مشاہدہ عطا کیا۔ عبدالوحید خاں 1915ء میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔ ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ اور ’’تاریخِ افکار و سیاسیاتِ اسلامی‘‘ ان کی معروف تصانیف ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کا گجراتی اور بنگالی سمیت برصغیر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب India Wins Freedom کے جواب میں عبدالوحید خاں نے 1961ء میں انگریزی زبان میں India Wins Freedom – The Other Sideتصنیف کی، جس میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے واقعات کا ایک مختلف تاریخی زاویۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’’تقسیمِ ہند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور زیرِ نظر کتاب اسی اہم تصنیف کی نئی اشاعت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عبدالوحید خاں اپنے خاندان سمیت ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور یہیں سے الیکشن بھی کامیابی سے لڑا۔ وہ صدر ایوب خان کی حکومت میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی اور بنگلا دیش کے قیام کو اُس وقت کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ انھیں گہرے صدمے سے دوچار کر گیا، جس کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eذاتی طور پر مجھے مولانا آزاد کے علم و فضل سے ہمیشہ عقیدت رہی ہے، جس کو نہ سیاسی طوفان و طلاطم متزلزل کر سکے، نہ شدید اصولی اختلافات اُن کی ’’خمِ زلفِ کمال‘‘ کی اسیری سے چھڑا سکے۔ اضطراب و ہیجان کے اس دَور میں بھی، جبکہ مولانا کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی تھیں، میں ان کی رنگیں بیانیوں اور فطری لطافتوں سے حظ اٹھاتا رہتا تھا۔ مگر ارادت کیشی کے اِس مضبوط حصار کے باوجود جو میرے تصوّرات نے مرحوم کی ذات کے اِردگرد قائم کر رکھا ہے، جیسے ہی اُن کی کتاب ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ شائع ہوئی اور وہ ایک سیاسی مورّخ کی حیثیت سے نمودار ہوئے، خودبخود وہ تمام نقوش و خطوط اُجاگر ہو گئے جو اُن کی شکست خوردہ قیادت کے جذبۂ انتقام اور احساسِ کمتری نے اُن کے ذہن و فکر کے گوشوں میں بنائے تھے اور جو اَب تک مدّھم اور پھیکے پڑے ہوئے تھے اور دماغوں سے محو ہوتے جا رہے تھے۔ مولانا کا اشہبِ قلم تاریخِ آزادئ ہند کے میدان میں شہ گام کے لیے نکلا تھا، لیکن ان کے ذہنِ رسا نے ان کی عنان خود اپنی زخم خوردہ انانیت و اِمامت کی شاہراہوں کی طرف پھیر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخِ آزادی کی منزل تو ایک طرف رہ گئی، البتہ اس کو مولانا کے ذہنی و قلبی واردات، اُن کے ذاتی رجحانات اور عقائد، ان کے اپنے افکار و توہمات کی وادیوں میں جولانیوں کا موقع مل گیا۔ (عبدالوحید خاں)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجناب عبد الوحید خاں کی تصنیف ’’ تقسیمِ ہند‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ سے متعلق تاریخ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔ انھوں نے مولانا کے فکری تضادات پر سخت گرفت کی ہے اور محققانہ دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری سے انڈیا ونز فریڈم کے اقتباسات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتے ہیں۔ انھوں نے تاریخی واقعات کے تناظر میں مولانا ابوالکلام کے یک طرفہ نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے اور نہایت ذمہ داری سے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ کانگریس اور انگریزی گٹھ جوڑ کو بھی آشکار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے باعث نوجوان نسل گمراہ کن تصورات کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ تاریخِ پاکستان کے اکابرین سے متعلق شکوک وشبہات کا خاتمہ کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف مسلسل محاذ بنا کر ان کے اخلاص کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتاب پاکستان سے وابستگی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں دھول اڑائی گئی ہے اور عبد الوحید خاں نے آئینے پر جمی گرد کو صاف کر دیا ہے۔ اس کتاب کو ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ سادہ اور عام فہم زبان میں تاریخ کا تقابلی مطالعہ نہایت خوش گوار تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر شاہد اشرف)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432283025593,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a53624f332ea1783849551.jpg?v=1785181357"},{"product_id":"jang-e-azeem-awwal-asl-kahani-kya-hai-جنگ-عظیم-اول-اصل-کہانی-کیا-ہے","title":"JANG-E-AZEEM AWWAL: ASL KAHANI KYA HAI? جنگ عظیم اول: اصل کہانی کیا ہے؟","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9\/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432302162105,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d3b81f7433f1775482911.jpg?v=1785197336"},{"product_id":"maharaja-porus-مہاراجا-پورس","title":"MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eصاحبانِ علم و نظر ہی جانتے ہیں کہ تاحدِّ نگاہ پھیلی زمین میں کھدائی کس جگہ کی جائے تو اس میں مدفن حقیقتوں کو آشکار کیا جا سکتا ہے۔ بدھا پرکاش بھی ایسے ہی صاحبِ علم و نظر ہیں جنھوں نے تاریخ کے وسیع میدان سے پورس کو یوں کھود نکالا ہے کہ وہ شخص جس کےحالاتِ زندگی کے متعلق دو چار موٹی موٹی باتوں کےسوا یونانی کتابوں میں کچھ دستیاب نہیں تھا، اپنی پوری شخصیت، حالات اور واقعات کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے مہاراجا پورس کو بازیاب کیا، آج اس کے اپنے حالاتِ زندگی بسیار کوشش کے دستیاب نہ ہو سکے۔ مگر ’’لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے‘‘، بدھا پرکاش کی یہ کتاب ان کا نام زندہ رکھنے کو کافی ہے۔\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003eڈاکٹر بدھا پرکاش، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہم محقق اور مؤرخ ، قدیم ہندوستانی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں تدریسی میدان میں اُترے اور بھارتی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر رہے۔ کچھ عرصہ کُورُوکشیتر یونیورسٹی (کُورُوکشیتر) میں اِنڈک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) سے وابستہ ہو گئے اور قدیم تاریخ و ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس دوران اہم تحقیقی کتب تصنیف کیں جن میں ’’مہاراجا پورس‘‘ نمایاں کارنامہ ہے۔ برصغیر میں پورس پر تحقیقی کام کرنے والے گنے چُنے مؤرخین میں پروفیسر بدھا پرکاش کا نام نہایت اہم اور مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003eپروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی ، ممتاز سکالر، معروف ادیب و مترجم، 27مئی 1937ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اُردو، انگریزی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کی محبّت ان کے کام سے ظاہر ہے۔ علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ گزشتہ پچاس برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 100 سے زائد علمی، ادبی اور تحقیقی کتب ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا-\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437054275769,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61013d6b9e5181627471211_37596725-2abc-4da4-88c5-c9c4a09492fe.jpg?v=1785691017"},{"product_id":"maharaja-porus-مہاراجا-پورس-1","title":"MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eصاحبانِ علم و نظر ہی جانتے ہیں کہ تاحدِّ نگاہ پھیلی زمین میں کھدائی کس جگہ کی جائے تو اس میں مدفن حقیقتوں کو آشکار کیا جا سکتا ہے۔ بدھا پرکاش بھی ایسے ہی صاحبِ علم و نظر ہیں جنھوں نے تاریخ کے وسیع میدان سے پورس کو یوں کھود نکالا ہے کہ وہ شخص جس کےحالاتِ زندگی کے متعلق دو چار موٹی موٹی باتوں کےسوا یونانی کتابوں میں کچھ دستیاب نہیں تھا، اپنی پوری شخصیت، حالات اور واقعات کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے مہاراجا پورس کو بازیاب کیا، آج اس کے اپنے حالاتِ زندگی بسیار کوشش کے دستیاب نہ ہو سکے۔ مگر ’’لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے‘‘، بدھا پرکاش کی یہ کتاب ان کا نام زندہ رکھنے کو کافی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر بدھا پرکاش، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہم محقق اور مؤرخ ، قدیم ہندوستانی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں تدریسی میدان میں اُترے اور بھارتی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر رہے۔ کچھ عرصہ کُورُوکشیتر یونیورسٹی (کُورُوکشیتر) میں اِنڈک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) سے وابستہ ہو گئے اور قدیم تاریخ و ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس دوران اہم تحقیقی کتب تصنیف کیں جن میں ’’مہاراجا پورس‘‘ نمایاں کارنامہ ہے۔ برصغیر میں پورس پر تحقیقی کام کرنے والے گنے چُنے مؤرخین میں پروفیسر بدھا پرکاش کا نام نہایت اہم اور مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی ، ممتاز سکالر، معروف ادیب و مترجم، 27مئی 1937ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اُردو، انگریزی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کی محبّت ان کے کام سے ظاہر ہے۔ علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ گزشتہ پچاس برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 100 سے زائد علمی، ادبی اور تحقیقی کتب ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437068497081,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e5e84b8b0071776674891_2c87c2b3-d83e-4a38-8439-deba997ef988.jpg?v=1785691306"},{"product_id":"falsafa-urooj-o-zawal-e-aqwam-فلسفہ-عروج-و-زوال-اقوام","title":"FALSAFA UROOJ O ZAWAL E AQWAM  فلسفہ عروج و زوال اقوام","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعلم و مذہب، تہذیب و تمدن، ملک و سلطنت، ہر مہذب قوم کا سرمایہ حیات ہیں اور انھیں چیزوں کی ترکیب و امتزاج سے ہر قوم کا تاریخی مواد تیار ہوتا ہے۔ اس بنا پر ہر متمدن قوم اپنا تاریخی سرمایہ اپنے ساتھ لاتی ہے اور اپنے وجود کے ساتھ ساتھ اس کو محفوظ رکھتی ہے۔ وہ اپنے مواد کی تیاری اور پختگی میں کسی مؤرخ کی ممنونِ احسان نہیں ہوتی بلکہ خود مؤرخ اس قوم کا گراںبارِ منّت ہوتا ہے۔ البتہ اس مواد کی موزوں ترتیب اس کا مکمل نظام اور اس کے ابتدائی اور انتہائی سلسلوں میں توفیق و تطبیق، غرض اس کے تمام ارتقائی مدارج کی تفصیل و توضیح ایک مؤرخ کا کام ہے اور اس حیثیت سے تاریخ کی نہایت سادہ، مختصر، عام فہم اور جامع تعریف ”مجموعہ ارتقائے اقوام“ کی ترکیب اضافی کے ساتھ کی جاسکتی ہے جو گستاؤ لی بان کی کتاب کے نام کا پہلا جزو ہے۔ لیکن یہ جزو اس کتاب کی ایک جنس مشترک ہے جو تاریخ کی ہر کتاب پر صادق آ سکتی ہے۔ کتاب کی فصل ممیّز جو اس کو تمام تاریخی کتابوں سے ممتاز کرتی ہے اس کا دوسرا جزو یعنی ’’ارتقائے اقوام کے قوانین نفسی ‘‘ ہے اور انھی قوانین کی تفصیل اس کتاب کا موضوع اور گستاؤ لی بان کا اصلی کارنامہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعبدالسلام ندوی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449912406201,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f969dd3a109e1603706323.jpg?v=1785781213"},{"product_id":"dastan-e-falsafa-2nd-edition-داستان-فلسفہ","title":"DASTAN E FALSAFA (2ND EDITION)  داستان فلسفہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہمارے عہد کی پسندیدہ ترین کتب میں سے ایک۔ تحقیق کے گیارہ سال اور لکھنے کے تین سال کے بعد ”دی سٹوری آف فلاسفی“ تخلیق ہوئی۔ اپنے پہلے ایڈیشن کے بعد سے ہی یہ ہمارے عہد کی پسندیدہ ترین کتب میں شمار ہونے لگی ہے۔ یہ ایک معاصر کلاسک کتاب ہے جو قاری کو تعلیم اور مزہ دیتی، تحریک دلاتی اور رفعت کا احساس دیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر وِل ڈیورانٹ کی جانب سے فلسفیانہ تاریخ کے اِس خاکے میں سقراط سے لے کر پروفیسر جان ڈیوی تک عظیم فلسفیوں کی نہ صرف سہل انداز میں وضاحت کی گئی ہے، بلکہ فلسفیوں کی زندگی اور تعبیروں کو دو حوالوں سے دیکھا گیا ہے، یعنی اچھی حکایات اور سمیت چُست جملوں کی چاشنی کے ساتھ!­دی بُک مَین (نیویارک)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک بھرپور تحقیقی، نہایت مفید، انسان دوست اور پڑھنے کے لائق کتاب۔ ڈاکٹر ڈیورانٹ نے ”دی سٹوری آف فلاسفی“ کو صرف عوام میں مقبول ہی نہیں بنایا بلکہ انسانیت پسند صورت بھی دی ہے۔ عام قارئین کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبا بھی اِس سے کافی استفادہ کریں گے­جان ڈیوی (ماہر تعلیم، ماہر نفسیات)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ فلسفہ اِس حد تک پڑھنے کے لائق ہو سکتا ہے۔ وِل ڈیورانٹ کی نثر نیّر و تاباں ہے۔ وہ اُسی طرح شاندار ہے جیسے Sainte-Beuve اپنے شخصی خاکوں میں۔ کتاب میں قصوں کہانیوں کی چاشنی بھی ہے اور چٹکلوں کی دلکشی بھی­ ہیری ہینسن (امریکی صحافی، ایڈیٹر، تاریخ داں)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ کے متعدد اقتباسات کا موازنہ معاصر ادب میں کسی بھی عمدہ ادبی تحریر سے کیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e­ہیرالڈ ٹرائبیون (نیویارک)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ نہ صرف ایک مؤرخ، بلکہ ماضی کے متعلق اپنے مشاہدات میں اِس قدر علمی اور حال پر اِس کے اطلاق میں اتنا باریک بیں ہے کہ اُسے بیسویں صدی کا اہم فلسفی قرار دیا گیا­یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل (امریکا)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں طویل عرصے سے ول ڈیورانٹ کا معترف ہوں۔ تہذیب کی نشوونما کے متعلق اُن کے بیان نے ہر عمر کے بے شمار قارئین کو دیگر ادوار کی تاریخ، عظیم ہستیوں اور اہم واقعات سے روشناس کروایا ہے ­رچرڈ نکسن (امریکی صدر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ کی نثر اِس لائق ہے کہ اِسے بلند آواز میں پڑھ کر سنایا جائے ­ڈِک سائمن (سائمن اینڈ شسٹر پبلشرز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449939079353,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68a726c673b6d1755784902.jpg?v=1785781392"},{"product_id":"100-insani-tehzeeb-kay-mamar-2nd-edition-100-انسانی-تہذیب-کے-معمار","title":"INSANI TEHZEEB KAY 100 MAMAR (2ND EDITION)  100 انسانی تہذیب کے معمار","description":"\u003ch4 class=\"text-text-dark-blue\" style=\"text-align: right;\"\u003e \u003cspan\u003eوِل جیمز ڈیورانٹ (1885ء - 1981ء) امریکی فلسفی، تاریخ دان اور مؤرخ، اپنی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ (1898ء - 1981ء) کے ساتھ مل کر لکھی ہوئی ضخیم کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اُس نے انسانوں کے نقطہ ہائے نظر کی تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ وہ میساچوسٹس میں جوزف ڈیورانٹ اور میری ایلارڈ کے ہاں پیدا ہوا جو کیوبیک سے نقل مکانی کر کے امریکہ آئے تھے۔ 1900ء میں اس نے سینٹ پیٹرزبرگ سکول سے تعلیم مکمل کی اور پھر نیوجرسی کے سینٹ پیٹرز کالج چلا آیا۔ 1905ء میں وہ سوشلسٹ بن گیا اور دو سال بعد گریجوایشن کی۔ ایک جریدے میں 2 ڈالر فی ہفتہ تنخواہ پر نوکری کرنے کے بعد دیگر جرائد میں جنسی مجرموں پر مضامین لکھے۔ 1907ء میں سٹین ہارل یونیورسٹی نیوجرسی میں لاطینی، فرانسیسی، انگلش اور جیومیٹری پڑھانا شروع کی اور کالج میں لائبریرین بھی بنا۔ 1911ء میں فیرر ماڈرن سکول میں پڑھانے لگا۔ یہاں اُسے اپنے سے عمر میں تیرہ برس چھوٹی لڑکی Chaya Kofman عرف ایرئیل کے ساتھ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی اور ایک بیٹا گود بھی لیا۔ 1913ء میں ول نے پڑھانا ترک کر دیا اور پریسبی ٹیرئین چرچ میں دس ڈالر فیس پر لیکچر دینے لگا۔ ان لیکچرز کے نوٹس ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا نقطۂ آغاز بنے۔ 1917ء میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری پر کام کرتے ہوئے اس نے اپنی پہلی کتاب ’’فلاسفی اینڈ دی سوشل پرابلم‘‘ لکھی۔ ’’دی سٹوری آف فلاسفی‘‘ کا آغاز مزدوروں کے لیے لکھے ہوئے مختصر پمفلٹس کی صورت میں ہوا۔ 1926ء میں ایک بڑے امریکی پبلشر نے ان پمفلٹس کو کتاب کی شکل دی۔ کتاب کو ملنے والی پذیرائی نے ول ڈیورانٹ اور ایرئیل ڈیورانٹ کو مالی فراغت دی اور دنیا بھر میں سفر کرنے کے قابل بھی بنایا۔ تب وہ گیارہ جلدوں پر مشتمل شاہکار کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ لکھنے میں لگ گیا۔ ول اور ایرئیل ڈیورانٹ نے نسلِ انسانی کی ’’متحدہ تاریخ‘‘ پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ محققانہ نقطۂ نظر سے تاریخ لکھنے کے خلاف تھے۔ ان کا مقصد تہذیب کی سوانح لکھنا تھا جس میں جنگوں، سیاست اور فاتحین کی زندگیوں کے علاوہ ثقافت، آرٹ، فلسفہ، مذہب وغیرہ بھی شامل ہوں۔ ول ڈیورانٹ کی موت کے بعد اس کی دو کتابیں ’’Heroes of History‘‘ (2001ء) اور ’’The Greatest Minds and Ideas of All Time‘‘ (2002ء) شائع ہوئیں۔ اس کی متعدد کتب کے اُردو تراجم ہو چکے ہیں۔ ول اور ایرئیل نے مشترکہ خودنوشت میں ایک دوسرے کے ساتھ شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔ آخری ایام میں ول ہسپتال داخل ہوا تو ایرئیل نے کھانا چھوڑ دیا اور 25 اکتوبر 1981ء کو اس کی موت واقع ہو گئی۔ اگرچہ ان کی بیٹی ایتھل اور پوتے پوتیوں نے بیمار وِل سے ایرئیل کی موت کو چھپانے کی کوشش کی ، لیکن اسے خبر ہو گئی اور دو ہفتے بعد ہی وہ بھی چل بسا۔ اپنی 96 ویں سالگرہ کے دو دن بعد، 7 نومبر 1981ء کو ول ڈیورانٹ لاس اینجلس کے ویسٹ ووڈ ولیج میموریل پارک قبرستان میں ایرئیل کے پہلو میں دفن ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانسانی تہذیب کے معماروں یا ہیروز کی درجہ بندی اُن کے ’’اثرات‘‘ کے اعتبار سے کرنا بہت مشکل اور ایک لحاظ سے غیردرست بھی ہے۔ آپ علمی میدان میں کوئی تھیوری پیش کرنے والے کسی سائنس دان یا فلسفی کا موازنہ ایک موجد یا جنگجو کے ساتھ کیسے کر سکتے ہیں؟ یا پھر ایک خطے اور دَور میں کامیابی حاصل کرنے والے کسی ولی یا فاتح کا مقابلہ دوسرے خطے یا دَور سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اِس کے باوجود ہمیں ایک سو کے علاوہ پچاس یا دس عظیم کی فہرستوں پر مشتمل کتب بھی ملتی ہیں۔ دراصل یہ سبھی اپنے اپنے نقطۂ نظر سے تاریخی کرداروں کو دیکھنے کے بہانے ہیں۔ ان کا مقصد جہاں بہت سی شخصیات کو شامل کرنا ہے، وہاں بہت سی شخصیات کو تاریخ کے دھارے سے باہر نکالنا یا مسترد کرنا بھی ہے۔ یہی معاملہ اس کتاب کے ساتھ بھی ہے۔ ول ڈیورانٹ کی گیارہ جلدوں (14 ہزار سے زائد صفحات) پر مشتمل مشہور کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کو پڑھنے کے بعد میں نے اُن شخصیات کو منتخب کیا جو اس کتاب میں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں اس کی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ نے اس کی متواتر مدد کی۔ اِس سے ہمیں تہذیب کے معماروں کی زندگی اور کام سے واقفیت ملنے کے ساتھ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مصنف نے نصف صدی تک تحقیق و تصنیف سے کیا نتائج اخذ کیے ہیں؛ اُس کے خیال میں کون سے عہد، کون سے افراد اور کارنامے نمایاں ہیں۔ مثلاً وہ انسانی تاریخ میں عظیم ترین مفکروں میں کس کس کو شمار کرتا ہے؟ کون سے شاعر اس کے خیال میں واقعتاً عظیم ہیں؛ ایسے شاعر جن کے چھیڑے ہوئے نغمے سینکڑوں ہزاروں برس بعد بھی کانوں میں گونج رہے ہیں؟ یہ تمام مضامین زیرنظر کتاب میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا عطر بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے۔ وِل ڈیورانٹ اپنی زندگی کے آخری دنوں (1981ء) میں خود یہ کام انجام دے رہے تھے۔ ایک طرح سے میں نے اُردو ترجمے میں اُن کے ارادہ کردہ منصوبے کو مکمل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449993605305,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c17530c76331757508912_1.jpg?v=1785781815"},{"product_id":"waqt-ki-mukhtasar-tarikh-2nd-edition-وقت-کی-مختصر-تاریخ","title":"WAQT KI MUKHTASAR TARIKH (2ND EDITION)  وقت کی مختصر تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکیا وقت کا کوئی آغاز تھا؟ کیا وقت الٹا چل سکتا ہے؟ کیا کائنات لامتناہی ہے یا اس کی سرحدیں موجود ہیں؟ یہ سوالات اس بین الاقوامی شہرت یافتہ شاہکار کا موضوع ہیں۔ سـٹیـفـن ہاکـنـگ، نیـوٹـن سے لے کر آئـن سـٹائـن تک کائـنـات کی عـظـیـم تـھـیـوریـز کا جائزہ پیش کرنے کے بعد سپیس اور ٹائم کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کائنات کی سرحدوں کی طرف ایک سائنس دان کا دلیرانہ سفر‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-نیوز وِیک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فلکیاتی طبیعیات کی پیچیدگیوں کو مسحور کن صراحت اور ذہانت کے ساتھ واضح کرتا ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ ایک غیرمعمولی قوت کا حامل ذہین شخص ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- آبزرور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’عظیم سوالات سے پردہ اٹھانے والے ذہن کی قیادت میں آگے بڑھنا ایک پُرجوش تجربہ ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فطری استادانہ صلاحیتوں کا مالک ہے۔ وہ آسان فہم، بذلہ سنج اور نہایت پیچیدہ تصورات کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eروزمرہ زندگی سے لی ہوئی مثالوں کے ساتھ پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حیران کن ذہنی صلاحیت کا مالک سٹیفن ہاکنگ تخلیق کے مخفی قلب میں گہرائیوں تک اُترتا جاتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- رِیڈرز ڈائجسٹ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450012610745,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67c01d3a31a141740643642.jpg?v=1785782082"},{"product_id":"cosmos-کاسموس","title":"COSMOS  کاسموس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ کتاب دل موہ لینے والی..... رنگوں سے بھرپور.... تخیل کو مہمیز دینے والی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیویارک ٹائمز بُک ریویو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اپنے موضوع میں وسیع اور خیالات کو برانگیختہ کرنے والی..... احساسِ تحیر سے جگمگاتی ہوئی۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیامی ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تفہیمِ عامہ کے قابل سائنس کی عمدہ کتاب جس میں تخیل اور بصیرت کی غیر معمولی مقدار بھی شامل ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسان ڈیاگو یونین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس زبردست، جرأت آزما ہے..... کتاب کی خوبیوں میں سے ایک موجودہ دَور کے علم اور سائنسی طریقۂ کار کی تاریخی جڑیں کھوجنا ہے۔ ڈاکٹر ساگان کی شاعرانہ بصیرت اور ادبی مہارت اِسے قابلِ مطالعہ ہونے کی نمایاں خصوصیات عطا کرتی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سائنس مانیٹر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کارل ساگان ہمارے عہد کے ذہین ترین سائنس دانوں میں سے ایک ہے۔ اُس نے سائنس کے ماضی، حال اور مستقبل پر غوروفکر کرتے ہوئے ایک شان دار تصنیف پیش کی ہے۔ وہ ذہن کو ورطۂ حیرت میں ڈال دینے والی کائناتی ہیبت سے نبرد آزما ہوتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسوی ایٹڈ پریس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ پُولِٹزر انعام یافتہ کارل ساگان نے ساری چمکتی دمکتی کائنات کو اِس واحد شان دار کتاب میں سمو دیا ہے۔ وہ سائنس اور فلسفے کو نغمے جیسی قوت کی حامل تحریر میں رچاتا ہے۔ ساگان ہماری بقا کے معجزے اور سپیس کی شاہانہ کہکشاؤں کے جلال سے ہمارے ذہن کو دنگ کر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکاسموپولیٹن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس ٹیلی وژن سیریز کے پروگراموں نے لاکھوں ناظرین کو نہ صرف سپیس کی حیرتوں سے متعارف کروایابلکہ دُنیا، زندگی، نوعِ انسان کی فطرت اور ماخذ کے حوالے سے عمیق ترین سائنسی سوالات سے بھی آگاہ کیا۔ کارل ساگان کی کتاب ’کاسموس‘ ٹیلی وژن سیریز کا سکرپٹ نہیں بلکہ سائنسی کارناموں میں عظیم انسانی کاوش کا ایک بھرپور اور زمانی ترتیب کے مطابق بیان ہے۔ ’کاسموس‘ قاری کو گہرائی میں غوروفکر کرنے کا موقع دیتی ہے.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سینچری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان چند سال کے اندر اندر ’مسٹر سائنس‘ بن گیا ہے۔ اُس نے سائنس کو عوامی تفہیم کی سطح پر لاتے ہوئے حیات کے مسالے اور تاریخ کو سپیس اور ابدیت کی وسعت سے منسلک کیا۔ یہ کام وہ اِس قدر خوب صورت اور جان دار انداز میں انجام دیتا ہے کہ آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اور کوئی بھی چیز اِس سے زیادہ جوش انگیز یا اہم نہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکاگو ٹریبیون\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان ایسا فلکیات دان ہے جس کی ایک آنکھ ستاروں پر اور دوسری تاریخ پر ہے، جبکہ اُس کے ذہن کی تیسری آنکھ انسانی معاملات پر لگی ہوئی ہے..... ہم اُس کی بلند عزمی اور فصاحت و بلاغت کے مداح ہیں؛ وہ کہیں کہیں شاعرانہ نفاست اختیار کر لیتا ہے اور اکثر ہمیں اپنی کائنات اور خود کے بارے میں حیرتوں سے بھر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیوز ڈے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان بخوبی جانتا ہے کہ عام قاری کے تخیل کو کیسے مہمیز دینی ہے اور پہلے سے آخری صفحے تک اُس کی دلچسپی کو کیسے باندھے رکھنا ہے..... ذہن کو وسعت دینے والی یہ کتاب ہمیں بحرِ کائنات کے نہایت مسحور کن سفر پہ لے کر جاتی ہے۔ یہ علم سے بھرپور، خوب صورت انداز میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ ہر ذہین قاری کو چاہیے کہ ساگان کی بیان کردہ کائناتی کہانی کو پڑھے، اچھی طرح غور کرے، سیکھے اور اِسے اپنی سوچ کا حصہ بنائے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجان برکھم ریویوز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450029879481,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62b548fa8f33f1656047866.jpg?v=1785782316"},{"product_id":"roz-e-qiyamat-روز-قیامت","title":"ROZ E QIYAMAT  روز قیامت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر امریکی مصنفہ اور روحانی ماہر سِلویا سلیسٹی براؤن (1936ء تا 2013 ء) نے یہ کتاب 2008ء میں \"End of Days\" کے نام سے لکھی جو مختلف تہذیبوں اور مختلف ادوار میں کی جانے والی روزِ قیامت کی عالمی پیشین گوئیوں اور اُن کے تصورات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ مصنفہ نے اکیسویں صدی کے دوران ممکنہ سائنسی کمالات اور آفات کے بارے میں اپنی پیشین گوئیاں بھی دی ہیں۔ 2020ء کے آغاز میں دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے متعلق اُن کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں اِس کتاب کو نئی شہرت ملی اور عالمی سطح پر اِس کا چرچا ہوا۔ علاوہ ازیں، مشہور افراد کی جانب سے مشہور پیشین گوئیوں کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ نوسٹراڈیمس کی فرانس کے بادشاہ ہنری دوم کی ہلاکت، ہٹلر کی وجہ سے یورپ کی تباہی اور 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جہاز ٹکرانے کے حوالے سے پیشین گوئیاں، جبکہ ایچ جی ویلز نے اپنی تحریروں میں ایٹم بم، ٹینک، کمپیوٹر، وی سی آر، ٹیلی وژن کی ایجاد کے متعلق پہلے سے بتا دیا تھا اور ٹائم مشین کا تصور بھی پیش کیا۔ مختلف مذاہب کے مقدس صحائف اور پیغمبروں کی جانب سے روزِ قیامت کے متعلق کی گئی پیش گوئیاں خاص طور پر زیرِبحث لائی گئی ہیں کیونکہ ہمارے موجودہ عقائد اور نظریات کی بنیاد اُنھی پر ہے۔ اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے علاوہ ہندومت، بدھ مت، زرتشت مت، جین مت، اِنکا اور مایا کے تصورات بھی مختصر اور جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنفہ کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ اور روحانی ماہر سِلویا سلیسٹی براؤن (1936ء تا 2013ء) نے کنساس سٹی، میسوری میں پرورش پائی۔ وہ پانچ سال کی عمر میں رویا (بشارتیں) دیکھنے لگی اور اُس کی نانی نے اُسے ان بشارتوں کا مفہوم سمجھنے میں مدد دی۔ سِلویا نے 1974ء میں روحانی محفلیں منعقد کرنا شروع کیں۔ 2008ء میں وہ بیس تا تیس منٹ کے ٹیلی فون سیشن کے لیے 750 ڈالر فیس لے رہی تھی۔ 1986ء میں اُس نے کیمبل، کیلی فورنیا میں ’ناسٹک کرسچن چرچ‘ کی بنیاد رکھی جسے Society of Novus Spiritus کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 2010ء میں سِلویا کے بزنس منیجر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سِلویا کی سالانہ آمدنی 30 لاکھ ڈالر تھی۔ اُس نے روحانی موضوعات پر چالیس سے زائد کتب تصنیف کیں۔ وہ Montel Williams Show اور Larry King Live سمیت کئی ٹیلی وژن اور ریڈیو کے پروگراموں میں تواتر سے آتی رہی اور ریڈیو پر ایک گھنٹے کے Hay House Radio شو کی میزبانی بھی کرتی تھی۔ اِن شوز کے دوران اکثر روحانی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ 1991ء میں اُس نے Haunted Lives: True Ghost Stories میں کام کیا۔ اس کے بعد 2006ء میں CBS ٹیلی وژن سوپ اوپیرا The Young and the Restless in December میں نمودار ہوئی۔ان پروگراموں کی بدولت اُس کو حقیقی روحانی عامل ماننے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ 2007ء میں ٹیلی فون کے ذریعے روحانی کیفیت جاننے کے خواہش مندوں کی فہرست چار سال طویل تھی۔ اُس کی متعدد کتب نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ میں شامل رہیں۔ سلویا برائون نے 20 نومبر 2013ء کو 77سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اُسے اپنی وفات کے سات سال بعد دوبارہ سے میڈیا کی بہت زیادہ توجہ ملی جب سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ اُس کی کتاب \"End of Days\" (2008ء) میں کورونا وائرس کے حوالے سے کی گئی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450079686841,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a67864b1aa4c1785169483.jpg?v=1785783030"},{"product_id":"banda-bashar-sappiens-بندہ-بشر","title":"BANDA BASHAR (SAPPIENS)  بندہ بشر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450096169145,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/634eb55002bc81666102608.jpg?v=1785783311"},{"product_id":"diplomacy-urdu-ڈپلومیسی","title":"DIPLOMACY (URDU)  ڈپلومیسی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمغربی سفارت کا ایک نفاست سے لکھا گیا مطالعہ .... ذی شعور، عموماً اشتعال انگیز اور مستقل محو رکھنے میں کامیاب! ___ مچیکوکاکوٹانی ، دی نیو یارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ایک عظیم کتاب ہے... اپنے تجزیات میں شاندار اور اپنی پہنچ میں نہایت ماہرانہ! ___ جارج پی شلٹز ،سابق امریکی وزیر خارجہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو اُبھرتے ہوئے سفارت کاروں اور سیاست دانوں کو ایسے ہی شوق سے پڑھنا چاہیے جیسے ان کے پیش روؤں نے میکاولی کو پڑھا تھا ___ ڈگلس ہرڈ ، ڈیلی ٹیلی گراف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیسنجر کی جکڑ لینے والی یہ کتاب ہمارے دَور کے کچھ دُشوار ترین سوالات کا سامنا کرتی ہے .... اس کے صفحات بصیرت سے فروزاں ہیں ___ سائمن شاما ، دی نیویارکر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ بہت بھرپور اور پُرکشش کام ہے، بین الاقوامی بحرانوں کا ایک شاندار مطالعہ جن سے ہماری جدید دُنیا وضع ہوئی .... خارجی امور پر ایک فکر انگیز مراقبہ! ___ آرتھر شیلسنگر ، امریکی تاریخ داں اور مصنف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسفارت کاری پر گزشتہ تیس سالوں میں اہم ترین کام ! ___ والٹر لاکیویر ، چیئرمین انٹرنیشنل ریسرچ کونسل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنکسن اور فورڈ کے ادوار میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کیسنجر کے رویے کے بارے میں آپ جو بھی رائے رکھیں، یہ کتاب ایک شاہکار ہے۔ اس میں کیسنجر کی ایک غیر معمولی مفکر اور مؤرخ کے طور پر شناخت قائم ہوتی ہے ___ مائیکل پالیسر ، برطانوی سفیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیسنجر بیسویں صدی کی سفارت کاری کی ایک عظیم شخصیت ہے، یہ اس کے تجربے کے بارے میں ہے؛ یہاں آپ سفارت کاری کو اس ہنر کے ایک عظیم شارح کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ___ جیریمی گرین سٹاک ، سابق برطانوی سفارت کار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک انتہائی اہم کتاب، فکری طور پر بے لاگ، راست باز اور جراَت مند .... تین دہائیوں سے کیسنجر کا سخت ناقد اور اُس سے بدظن ہونے کے باوجود، میں خود کو سحرزدہ پاتا ہوں ___ گاڈفری ہوجسن ، دی انڈی پینڈنٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کا مطالعہ مغرب کے سفارتی مراکز میں بنیادی اور لازم و ملزوم ہونا چاہیے ___ ایل کلارک ، دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450107015353,"sku":"BC SSH","price":3000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/646242d83ece21684161240.jpg?v=1785783489"},{"product_id":"ahad-e-lord-mountbatten-عہد-لارڈ-ماؤنٹ-بیٹن","title":"AHAD E LORD MOUNTBATTEN  عہد لارڈ ماؤنٹ بیٹن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجولائی 1942ء میں یکایک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اسٹاف میں مجھے ایئر پبلک ریلیشنز آفیسر کا عہدہ مل گیا۔ اس کی و جہ غالباً یہ تھی کہ میں رائل ایئر فورس سروس میں کام کر چکا تھا۔ اس کے پندرہ ماہ کے بعد جب وہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے سپریم الائڈ کمانڈر نامزد ہوئے تو انھوں نے اپنی انٹر کمان اور انٹر ریکارڈ سیکشن کا سارا چارج مجھے دے دیا۔ انھوں نے مجھے اس جگہ پر صرف اس لیے نہیں لا بٹھایا تھاکہ سرکاری دستاویزات سے ان کے لیے اطلاعات فراہم کرتا رہوں، بلکہ وہ مجھے اپنی اونچی سطح کے جلسوں اور ہفتہ وار انٹرویو میں بھی شریک کرتے تاکہ پس منظر کے طور پر ان کو ریکارڈ دیا کروں۔ اسی اثنا میں ان کو وائسرائے ہند کے عہدے کی پیش کش ہوئی۔ میں چونکہ ماؤنٹ بیٹن کی مشین کے ایک پرزہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے اپنا پریس اتاشی بنا دیا۔ اتفاق کی بات اس سے پہلے ہندوستان میں جتنے بھی وائسرائے ہوئے، ان کے اسٹاف میں پریس اتاشی کا عہدہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اس کتاب کی بنیاد میں نے اپنے نوٹس، خطوط اور یادداشت پر رکھی ہے اور اس کا مقصد محض اس عہد کی ایک کہانی بیان کرنا ہے جس عہد میں ہندوستان کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ میں نے اپنی ڈائریوں میں مستقبل کی تاریخ کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے، ان میں تاریخ بیان نہیں کی ہے۔ ساتھ ہی یہ ڈائریاں ایک طرح کی عینی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں ہندوستان پر ’’دوسرا فیصلہ یا فتویٰ‘‘ صادر نہیں کیا گیا ہے۔ جن واقعات کے طوفانوں مَیں سے گزرا ہوں یا جن شخصیات کی صحبتیں میں نے اٹھائی ہیں وہ مجھ سے اتنی قریب ہیں کہ میں ان واقعات و شخصیات کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تجزیہ کا فائدہ اُس وقت پہنچ سکتا تھا اگر فضا سازگار ہوتی، اور جن آراکا ہم اظہار کرتے ان کو سراہا جاتا۔ اگر آپ ان ڈائریوں، میں میری عجلت پسندی محسوس کرتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ہمارے کام کی رفتار انتہائی تیز تھی اور اگر ان میں تسلسل اور ترتیب بھی نظر نہ آئے تو اس کے بنیادی اسباب وہ مسائل تھے جن کا جلد از جلد حل نکالنا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ایلن کیمبل جانسن )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایلن کیمبل جانسن (16جولائی1913ء -25جنوری 1998ء) کا کیریئر ابتدا سے ’تصنیف وتالیف، سیاست، صحافت اور تعلقاتِ عامہ‘ کی چار سطحوں پر محیط تھا۔ اس نے ویسٹ منسٹر سکول اور کرائسٹ چرچ آکسفرڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1937ءسے 1940ء کے دوران سر آرچی بالڈ سنکلیئر، لبرل رہنما کے پولیٹیکل سیکریٹری کے طور پر بھی کام کیا۔ اس دوران اس نے انتھونی ایڈن اور لارڈ ہیلی فیکس کی مفصل سوانح عمری بھی تحریر کیں۔ مؤخرالذکر تحریر پر اسے سرونسٹن چرچل سے داد وتحسین بھی ملی۔ جنگ عظیم دوئم (1939-45ء) کے دوران اس نے چار سال رائل ایئر فورس (RAF) میں گزارے۔ اس دوران وہ کمبائنڈ آپریشن کے دوران لارڈ مائونٹ بیٹن کے ہیڈکوارٹر ریکارڈ سٹاف کے سربراہ کے طور پر بھی تعینات رہا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا کمانڈ میں بھی انٹرالائیڈ ریکارڈز سیکشن کے آفیسرانچارج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس نے دو دفعہ سالسبری سے لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔ وہ ایک معروف براڈکاسٹر اور تعلقاتِ عامہ کے ایک مشاورتی ادارے کا بانی رکن اور مینیجنگ ڈائریکٹر بھی تھا۔ اس ادارے نے نمایاں برطانوی اور دیگر بین الاقوامی کاروباری حلقوں کو خدمات فراہم کیں۔ \"Mission with Mountbatten\" ایلن کیمبل جانس کی لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ تیسری مہم کے روزوشب کا احوال ہے جب وہ 1947ء سے ہندوستان کے آخری وائسرائے اور پہلے آئینی گورنرجنرل مائونٹ بیٹن کے پریس اتاشی کے عہدے پر فائز تھا۔ اسی دورانیے میں اپنی ڈائری میں درج یادداشتوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب کی گئی جو پہلی مرتبہ 1951ء میں منظرِ عام پر آئی۔ ایلن کیمبل نے 85 سال کی عمر میں 25 جنوری 1998ء کو برطانیہ میں انتقال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450121597113,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6780b50d56f1785168053.jpg?v=1785783809"},{"product_id":"punjab-punjabi-aur-punjabiyat-پنجاب-پنجابی-اور-پنجابیت","title":"PUNJAB, PUNJABI AUR PUNJABIYAT  پنجاب پنجابی اور پنجابیت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پنجاب، پنجابی اور پنجابیت‘‘ خوشونت سنگھ کی پنجاب، پنجابیوں اور سکھوں سے متعلق انگریزی تحریروں کا مجموعہ ہے جسے ان کی صاحبزادی مالا دیال نے تین حصوں پر مشتمل کتاب کی صورت میں مرتب کیا۔ اس کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کتاب خطے کے لوگوں اور مختلف عوامل سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ حصہ اوّل پنجایبوں کی تاریخ، ثقافت، زبان اور سکھ ازم سے متعلق کھوج لگاتا ہے۔ حصہ دوم ان سلگتے ہوئے واقعات سے متعلق ہے جنہوں نے خوشونت سنگھ کی زندگی کے دوران ریاست کو متاثر کیا، جیسے تقسیم کا دُکھ، خالصہ تحریک، آپریشن بلیو سٹار، سکھ مخالف فسادات اور بہت کچھ۔ حصہ سوم معروف پنجابی شعرا، سیاستدانوں، کارکنوں، دوستوں اور خاندان کے افراد کے شخصی خاکوں پر مشتمل ہے۔ کتاب میں درج مواد خوشونت سنگھ کے آبائی وطن کے لوگوں کی ثقافت، عزم اور جذبوں کی داد دیتا ہوا نظر آتا ہے، وہ وطن جس کی شناخت انہوں نے بڑے دھیان، گیان کے بعد حاصل کی۔ یہ مجموعہ حقیقی معنوں میں پنجاب اور اس میں بسنے والوں کی لاجواب تصویر کشی کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوشونت سنگھ، پنجاب کے گائوں ہڈالی (ضلع خوشاب، پاکستان) میں 1915ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان کے معروف ترین اور وسیع حلقے میں پڑھے جانے والے مصنف اور اخبار نویس تھے۔ وہ ’یوجنا‘ کے بانی ایڈیٹر اور السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، دی ہندوستان ٹائمز اور نیشنل ہیرلڈ کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کا بہت قریب سے معائنہ کیا تھا اور اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ اور مایہ ناز کتاب ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ لکھ ڈالی جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ہندی اور اُردو ناول، شاعری اور مختصر کہانیوں کے انگریزی ترجمے بھی کیے جن میں علامہ محمد اقبال کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘، مرزا محمد ہادی رسوا کا ’’امرائو جان ادا‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کا ’’اِک چادر میلی سی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ خوشونت سنگھ 1980ء سے 1986ء تک راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا) کے رکن رہے۔ انھیں 1974ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا جسے انہوں نے 1984ء میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا۔ انھیں 2007ء میں بھارت کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم و بھوشن سے نوازا گیا۔ خوشونت سنگھ 2014ء میں دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی چِتا کی راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی پاکستان لے جاکران کے آبائی علاقہ میں سپردخاک کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہدحمید کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ پشاور کے معروف تعلیمی ادارے ایڈورڈز کالج سے گریجویشن مکمل کی جبکہ بعدازاں تاریخ کے مضمون میں ایڈیشنل گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ربع صدی سے میدان صحافت میں آبلہ پائی کررہے ہیں۔ شعبہ صحافت سے متعلق متعدد ورکشاپس، سیمیناروں اور مذاکروں میں شریک ہوچکے ہیں جبکہ شعبہ صحافت سے متعلق بدلتی ہوئی رتوں کے مطابق نئے تقاضوں سے ہم آہنگی حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات کا سفر کرچکے ہیں۔ لکھنے، لکھانے کا شوق شروع ہی سے تھا جس کے ذریعے جذبات کے اظہار کا خوب موقع میدانِ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد ملا۔ کتاب سے عشق ورثے میں ملا اور یہ سلسلہ بدستور قائم ہے۔ لکھنے لکھانے کا شوق کتابوں کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ڈھالنے کی طرف بھی لے آیا اور زیر مطالعہ کتاب اسی شوق کی عکاس ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450153251001,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e64abbc6f5741583655868.jpg?v=1785784385"},{"product_id":"masla-e-falasteen-مسئلہ-فلسطین","title":"MASLA E FALASTEEN  مسئلہ فلسطین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمصنّف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی مباحث... صیہونیت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی؟ یہودیوں نے اس کے فروغ کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ مغربی سیاست دانوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھائے؟ نام نہاد لبرل دانشوروں، ناول نگاروں، شاعروں، مقالہ نویسوں، سفرناموں کے مصنفوں اور صیہونیت کے دیگر ہمدردوں نے کیسے فضا ہموار کی؟ خود صیہونیوں نے فلسطین میں آباد ہونے کے لیے کن کن جتنوں سے کام لیا اور اپنے دعاوی کو سچا ثابت کرنے کے لیے کن کن تاویلوں کا سہارا لیا؟ جب اسرائیل قائم ہو گیا تو فلسطینیوں کو کیسے ملک بدر کیا گیا؟ اور تمام تر دعووں کے باوجود انھیں آج تک کیسے درجہ دوم کے شہری بنائے رکھا گیا؟ فلسطینیوں نے تحریکِ آزادی کیسے منظم کی اور فلسطینی شاعروں، کہانی نویسوں، دوسرے ادیبوں، مصنفوں اور دانشوروں نے کیسے اس تحریک کے لیے زمین ہموار کی اور اس کی آبیاری کی؟ پی ایل او اور دوسری تحریکیں کیسے وجود میں آئیں؟ جنگ سڑسٹھ کے کیا نتائج مرتب ہوئے؟ کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے نے کیا گُل کِھلائے؟ فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے فلسطین کے مسئلے کا کیا حل ممکن ہے؟ وغیرہم... کو اپنی کتاب کا موضوع بنایا ہے اور ان پر جو سیر حاصل بحث کی ہے، وہ ہمیں اس مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے میں بہت مدد دیتی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس مسئلے کو پہلی مرتبہ صحیح انداز سے پیش کیا گیا ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی یہ کتاب صیہونیت کے اصل چہرے سے نقاب سرکانے اور اس ضمن میں مغرب کے نام نہاد لبرل سیاست دانوں اور دانش وروں نے جو مکروہ کردار ادا کیا ہے، اس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑنے کی غرض سے لکھی تھی۔ وہ اپنے اس مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صیہونیوں نے یہ کتاب ہی بازار سے غائب کرا دی، اب تو کسی خوش نصیب کو ہی دستیاب ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بیت المقدس اور مصر کے سکولوں میں حاصل کی، پھر وہ امریکا چلے آئے۔ بی اے انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں کیا۔ ایڈورڈ سعید نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اسی یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ یہاں انھوں نے Bowdoin انعام بھی حاصل کیا۔ 1974ء میں ایڈورڈ سعید ہارورڈ یونیورسٹی میں تقابلی ادب کے مہمان پروفیسر تھے۔ 1975-76ء میں انھوں نے سٹین فورڈ یونیورسٹی کے نفسیات اور کرداری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں فیلو کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ 1977ء میں انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں ادبی تنقید پر لیکچر دیے۔ 1979ء میں وہ ایک اور مشہور امریکی یونیورسٹی جان ہا پکنز کے شعبہ انسانیات میں مہمان پروفیسر تھے۔ بعدازاں وہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر رہے۔ انھیں مشہور ناول نگار کونریڈ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کی کتب آٹھ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور یورپ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں چھپ چکی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی نے اپنا پہلا سالانہ ٹریلنگ (Trilling)انعام انھیں ان کی کتاب ’’Beginnings: Intention \u0026amp; Method‘‘ پر دیا۔ 1978ء میں امریکا کے نیشنل بک کرٹکس سرکل ایوارڈ کے شعبۂ تنقید کے مقابلے میں ان کی کتاب ’’Orientalism‘‘ دوسرے نمبر پر آئی۔ ان کی دیگر کتب میں ’’Literature and Society‘‘ اور ’’Conrad and the Fiction of Autobiography‘‘ شامل ہیں۔ محمد حسن عسکری اور فیض احمد فیض نے ایڈورڈ سعید کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا ہے۔ خود ایڈورڈسعید نے بیروت میں فیض احمد فیض سے اپنی ملاقات کا ذکر بڑے پیار سے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ یہ مضمون انگلستان کے ایک رسالے ’’گرانٹا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ فلسطینیوں کا پُرزور طریقے سے مؤقف پیش کرنے کی پاداش میں صیہونی ان پر زبانی ہی نہیں بلکہ جسمانی حملے بھی کر چکے ہیں۔ ایڈورڈ سعید فلسطینی قومی کونسل کے رُکن بھی رہے۔ اُن کی وفات 25ستمبر 2003ء کو نیویارک شہر میں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450162360505,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6048c84d593681615382605.jpg?v=1785784608"},{"product_id":"khuda-kay-liyay-jang-خدا-کے-لیے-جنگ","title":"KHUDA KAY LIYAY JANG  خدا کے لیے جنگ","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eکیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ 14 نومبر 1944ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ سترہ سال کی عمر میں سلسلہ یسوعیہ میں راہبہ بننے کے لیے داخل ہوئیں۔ راہبہ کے ان سات سالوں میں سخت جسمانی و ذہنی اذیتیں اٹھانے کے بعد انہوں نے اس روحانی سلسلے کو خیرباد کہا اور ایک آپ بیتی لکھی جس سے وہ بہت جلد دُنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ بعدازاں بی بی سی چینل فور کے لیے سینٹ پال پر ایک دستاویزی فلم بنائی جس دوران میں انہیں سامی مذاہب پر دلچسپی پیدا ہوئی۔ کیرن کی کتب کا موضوع و مقصد دُنیا بھر کے بڑے مذاہب خاص کر اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا ایسا مطالعہ پیش کرنا ہے جس سے ان مذاہب کے ماننے والوں کی آپس میں قربت پیدا ہو۔ انہیں مذہبی موضوعات پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والے مصنفہ کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ان کی اب تک 26 کتب شائع ہو چکی ہیں۔ کیرن کی بیسٹ سیلر کتاب ’خدا کے لیے جنگ‘ پر دی نیویارک ٹائمز کا یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ’’یہ کتاب یہودیت، عیسائیت اور اِسلام میں بنیاد پرست تحریکوں کے عروج کی تاریخ میں سب سے متاثر کن، لائق مطالعہ اور شاندار تحریروں میں سے ہے۔‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450170355897,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66064fc4ac9f81711689668.jpg?v=1785784787"},{"product_id":"holocaust-ki-kahani-ہالوکاسٹ-کی-کہانی","title":"HOLOCAUST KI KAHANI  ہالوکاسٹ کی کہانی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eہالو کاسٹ کو پچھلی صدی کا نائن الیون کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔نائن الیون کے بارے میں ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ یہ وقوعہ امریکہ اور اُس کے حواریوں نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دراصل اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لیے کرایا ہے۔ بالکل اسی طرح ہالوکاسٹ کے بارے میں بہت سی باتیں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ یہودی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگِ عظیم دوم کے وقت جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کی کاوش کی گئی اور ان کوششوں کے نتیجے میں لاکھوں یہودیوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ انہیں گیس چیمبرز میں داخل کر کے زہریلی گیس چھوڑ دی گئی۔ یوں جرمنی میں موجود تقریبا ً ہزاروں یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتلِ عام سے ڈر کر باقی ماندہ یہودی جرمنی چھوڑ کر اسرائیل چلے آئے۔ یہودیوں کے اس قتلِ عام کو ہالو کاسٹ کا نام دیا جاتا ہے۔\u003cbr\u003eیہ تو تھا یہودیوں کا دعویٰ۔کیا اصل حقائق کچھ اور ہیں ؟ کیا حقیقت اس سے مختلف ہے جو یہودی دعویٰ کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eآج بھی سارے یورپ میں ہالوکاسٹ کے بارے میں گفتگو اور اس کے بارے میں تحقیق سختی سے منع ہے اور اس جرم کے مرتکب کو سخت سزا دی جاتی ہے۔لیکن کہتے ہیں سچ چھپتا نہیں آخرکار سچ سامنے آنے لگا ۔لاکھوں محققین نے اپنے طور پر تحقیقات کرنے کے بعد اس سارے واقعے کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ناصرف انکار کر دیا بلکہ یہودیوں کی اس مذموم حرکت کی سخت مذمت کی۔ زیر نظر کتاب اسی جذبے کے تحت ترتیب دی گئی ہے تاکہ اُردو کے قارئین تاریخ کے اس اہم واقعے کے متعلق جان کاری حاصل کر یں اور تحقیقی ذہن رکھنے والے حضرات کتاب میں موجود معلومات کا جائزہ لے سکیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر امجد علی بھٹی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450180219065,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6018d7fe3142e1612240894.jpg?v=1785784965"},{"product_id":"meri-jaddojahd-میری-جدوجہد","title":"MERI JADDOJAHD  میری جدوجہد","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450188542137,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6721c897e0e1785143752.jpg?v=1785785185"},{"product_id":"mughlia-saltanat-ka-arooj-o-zawal-مغلیہ-سلطنت-کا-عروج-و-زوال","title":"MUGHLIA SALTANAT KA AROOJ O ZAWAL  مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450195718329,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a677300bb3941785164544.jpg?v=1785785309"},{"product_id":"suleiman-aali-shan-سلیمان-عالیشان","title":"SULEIMAN AALI-SHAN  سلیمان عالیشان","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامریکی مؤرخ، فلمی منظرنگار، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (1892 -1962ء) الپائن، نیوجرسی (امریکا) میں پیدا ہوئے۔کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران ایشیا کی قوموں اور تاریخ میں دلچسپی لینا شروع کی۔ لیم نے شروع سے ہی اپنی تحریر کو ذریعۂ معاش بنایا۔ جلد ہی معروف ایڈونچر میگزین کے لیے لکھنا شروع کر دیا اور انیس سال تک اپنی افسانہ نگاری کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 1927ء میں چنگیزخان کی سوانح عمری تحریر کی جس کی کامیابی کے بعد اپنی توجہ افسانہ نگاری سے ہٹا کر دیگر اصناف پر مرکوز کردی۔ اپنی وفات تک انہوں نے بے شمار سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر ڈالیں۔ دو جلدوں پر مشتمل کتاب\"Crusades\"کی کامیابی سے متاثر ہو کر سیسل بی ڈی ملی نے لیم کو صلیبی جنگوں سے متعلق فلم کے لیے اپنا مشیر مقرر کیا اور دوسری کئی فلموں میں بطورسکرین رائٹر استعمال کیا۔ لیم فرانسیسی، لاطینی، فارسی اور عربی زبانیں روانی سے بول سکتے تھے۔ لیم کی نثر سادہ اور اس کے ہمعصر مصنّفین سے صریحاً مختلف تھی۔ کہانیاں گہری تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور تحریروں میں بسا اوقات ایسے حقیقی تاریخی کرداروں کی عکاسی ہوتی تھی جو ان کے مغربی قارئین کے لیے انوکھے ہوتے تھے۔ انہوں نے غیرملکی یا نامانوس ثقافتوں کی منفی خاکہ کشی کے سہل پسندانہ رجحان سے اجتناب کیا۔ ان کے بہت سے ہیرو منگول، ہندوستانی، رُوسی یا مسلمان تھے۔ مزیدبرآں وہ غیرملکی یا تہذیب سے ناآشنا تھے اور ان میں سے بیشتر ماہر شمشیرزن اور جنگجو تھے۔ پاک و ہند میں ہیرلڈ لیم کی کئی کتابوں کو اُردو زبان میں منتقل کیا گیا۔ صلاح الدین ایوبی، امیرتیمور، چنگیز خان، سکندراعظم، سلیمان عالیشان، بابر دی ٹائیگر، ہینی بال، نور محل، قسطنطنیہ، کورش اعظم، منگول اور ان کا سردار، تاتاریوں کی یلغار اور خلت قزاق شاندار اُردو تراجم کے باعث خاصی مشہور ہوئیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450201747641,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5feb080b4fc561609238539.jpg?v=1785785450"},{"product_id":"amir-temur-jiss-ne-dunya-hila-dali-امیر-تیمور-جس-نے-دنیا-ہلا-ڈالی","title":"AMIR TEMUR: JISS NE DUNYA HILA DALI  امیر تیمور، جس نے دنیا ہلا ڈالی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہیرلڈلیم کی مشہور کتاب ’’Tamerlane: The Earth Shaker‘‘ کا اُردو ترجمہ جب پہلی بار شائع ہوا تو، چونکہ لوگ اس مایہ ناز مؤرّخ کو اس کے افسانوی اندازِ بیان کی وجہ سے ناول نگار سمجھتے تھے، اس کتاب کو بھی ایک ناول سمجھا گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا ناول نہیں ہے جس کے واقعات کا تانا بانا تیمور کے گرد بُنا گیا ہو بلکہ یہ تاریخی ادب کا ایک غیرفانی شاہکار ہے۔ اس کے اوراق پر لرزندۂ جہاں، صاحبقراں، امیرتیمور گورگاں، فاتح ایشیا کی قلمی تصویر ہیرلڈلیم نے اس قدر چابکدستی سے کھینچی ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ اندازِ بیاں بےشک قصّہ گوئی کا سا ہے مگر ہر واقعہ پوری تصدیق اور چھان بین کے بعد لکھا ہے اور سونے پر سہاگا یہ ہے کہ اس کے مآخذ تیمور کے دور کی فارسی اور دیگر زبانوں کی تاریخیں یا تذکرے ہیں۔ یوں اس کتاب کو تیمور جیسی اہم تاریخی شخصیت کی ایک ایسی مستند سوانح حیات کا درجہ حاصل ہو گیا ہے جس میں مؤرخانہ اندازِ نگارش کی عمومی خشکی نہیں پائی جاتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eازبکستان کے ایک شہر ’سبز‘ میں 9مارچ 1346ء میں امیر تیمور کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ ایک بہت بڑا فاتح ہوگا جس نے دنیا کا مالک بننا چاہا۔ اُس نے جس کام میں ہاتھ ڈالا کامیابی اس کا مقدر بن گئی۔ آدھی دنیا سے زیادہ کو یکے بعد دیگرے مغلوب کر کے فتح حاصل کی از سر نو تعمیر کی۔اس بات کو تاریخ فراموش نہیں کرسکتی کہ دنیا کے بڑے فاتحین میں امیر تیمور سب سے آخری فاتح تھا۔ جتنی جنگیں ہوئیں ان میں فتح کامل حاصل کی صرف ایک بڑی سلطنت باقی رہ گئی تھی جسے فتح کرنے کا ارادہ تھا مگر موت نے اُسے مہلت نہ دی۔سر پرسی سائیلس تیمور کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تیمور نے جو کام کئے، وہ ایشیا کے فاتحوں میں سے کسی دوسرے سے تاریخی زمانے میں عمل میں نہیں آئے۔ اس لئے جو شہرت تیمور کو حاصل ہوئی اس کا مستحق کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ تیمور نے جو کچھ حاصل کیا وہ اس حد کے قریب پہنچا ہوا نظر آتا ہے جسے انسان کی قدرت سے بالا تر کہا جاتا ہے۔‘‘مولانا اشرف الدین لکھتے ہیں: ’’ہمت اور شجاعت نے تیمور کو تمام تاتار کی شہنشاہی پر ممتاز کیا اور اشیاء کو اس کے زیرنگیں کر دیا۔ جس قدر امور سلطنت پیش آئے اُس نے بذات خود انجام دئیے حتیٰ کہ ایک کیشئر تک نہیں رکھا، وہ ہر ایک کے حق میں فیاض تھا۔‘‘اس کتاب میں مصنف ہیر لڈلیم ہے۔ کتاب کا ترجمہ محترم محمد عنایت اللہ صاحب نے کیا ہے جس کے لئے وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جس مہارت سے قارئین کے سامنے کتاب پیش کی ہے۔ انہی کا خاصہ ہے۔ تحریر میں کہیں جھول نہیں۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لئے ایک عہد کی عکاسی کرانے میں کامیاب ہیں۔ تیمور کے بچپن کا جائزہ لیتے اور قدم قدم آگے بڑھتے ہوئے اس کے بعد کی مکمل تاریخ پیش کرتے ہیں۔ قاری کو لمحہ بھر کتاب سے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتے۔ کتاب کو ۳۳ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں تقریباً تیس (۳۰) نادر شاہکار تصاویر قارئین کی توجہ کی مرکز بنیں گی۔ تیمور کی زندگی سامنے عیاں ہوجائے گی۔ ناشران بک کارنر شو روم نے ایک نئی سج دھج کے ساتھ ادبی، تحقیقی حوالوں سے جو کتابیں شائع کی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اتنی خوب صورت کتابیں آپ کی نظر سے پہلے نہ گزری ہوں گی اس کتاب کو ضرور خریدیے، گھر کی زینت بنائیے۔ (صغیرہ بانو شیریں)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450214691001,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/628f80a65a84c1653571750.jpg?v=1785785621"},{"product_id":"dastan-e-harem-saraa-داستان-حرم-سرا","title":"DASTAN E HAREM SARAA  داستان حرم سرا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنشاط خانم جارجیا کے ایک مسلمان قبیلے کے سردار کی لڑکی تھی۔ خوبصورت، سمن بر، پری پیکر۔ اس کے جمال و رعنائی کو آسمان کے تارے جُھک جُھککر دیکھتے تھے۔ اس کی برنائی اور زیبائی کے سامنے چاند ماند تھا۔ وہ شہسوار تھی، قادر انداز تھی۔ وہ وادیوں کی سیر کرتی، کوہستانی علاقوں میں بُوئے گل کی طرح عنبر افشانی کرتی لیکن ایک روز اس کی شاندار حویلی پر قزاقوں نے حملہ کیا۔ وفادار اور جاںنثار خادمائوں اور غلاموں نے خون کے آخری قطرے تک حقِ وفا نبھایا۔ خود نشاط خانم آخر وقت تک بندوق اور پستول چلاتی رہی۔ آخر وہ گرفتار کر لی گئی۔ گرفتار ہو کر غلاموں کے بازار میں پہنچی، نیلام ہوا، اور سَو اشرفی میں وہ خرید لی گئی۔ وہ قسطنطنیہ لے جائی گئی جو خلافتِ عثمانیہ اور حکومتِ ترکیہ کا پایۂ تخت تھا۔ یہاں وہ حَرم سرا میں باندی کی حیثیت سے داخل ہوئی اور ایک روز سلطان عبدالحمید ثانی کی منظورِ نظر بن کر نہ صرف حَرم سرا کی ملکہ، بلکہ سارے مُلک کی فرماںروا بن گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقسمت کا کھیل! .....عثمانی سلطان اور اس کی حَرم سرا کے بارے میں افواہوں، سازشوں اور جھوٹ پر مبنی بہت سی داستانیں انگریزوں نے لکھی ہیں، جن کا ایک حرف بھی سچ نہیں۔ نشاط سلطانہ نے اپنی سرگزشتِ حیات \"My Harem Life\" کے نام سے لکھی ہے جو دلچسپ بھی ہے، سبق آموز بھی اور عبرت انگیز بھی! یہ ناول بھی ہے اور تاریخ بھی!.....ناول سے زیادہ دلچسپ اور تاریخ کی طرح مستند!.....اس میں محلات کی سازشیں، حَرم سرا کی زندگی، ترکوں میں آزادی اور استقلال کی تحریک، سلطان کی معزولی، نئی حکومت کے قیام اور نئی ترک عورت کی کہانی نشاط خانم نے لکھ کر قلم توڑ دیا ہے۔ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ شروع کرنے کے بعد ختم کیے بغیر چین نہیں آ سکتا۔ (رئیس احمد جعفری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعثمانی سلطنت کی شیرازہ بندی ٹوٹی تو کتنے ہی کردار بکھر کر رہ گئے۔ کچھ تاریخ کی سرخیوں میں آئے، کچھ کے ماتھوں پر ذلت رقم کر دی گئی اور چند بد نصیب ایسے بھی ٹھہرے جنھیں تاریخ نے اپنے صفحات میں جگہ بھی دینا مناسب نہیں سمجھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب کی مصنفہ عثمانی سلطنت کا ایسا ہی کردار ہے جو اپنی شناخت کھو کر طاقِ نسیان میں دھرا ہے۔ نشاط سلطانہ کی شناخت اس حد تک گُم ہوچکی ہے کہ اس کی لکھی خودنوشت \"My Harem Life\" کا بطور حوالہ بھی کسی کتاب میں ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط سلطانہ کون تھی، یہ تحقیق طلب مسئلہ ہے۔سرِدست اس کی اپنی خودنوشت کے مطالعے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ جارجیا کے کوہستانی علاقے کی رہنے والی تھی جسے رہزنوں نے اغوا کر کے استنبول کے بازارِ غلاماں میں لا بیچا اور یہاں اس کا خریدار کوئی اور نہیں بلکہ حرمِ عثمانیہ کے چیف خواجہ سرا قیزلر آغا کا معاون تھا، جس نے اسے حرمِ سلطانی کے لیے پیش کر دیا۔ یہ’ خرید ‘ والدۂ سلطان پرستو قادین کی نظر میں پسندیدہ ٹھہری اور انھوں نے نشاط کی شاہی آداب میں تربیت اور مختلف فنون و علوم سکھانے میں خصوصی دلچسپی لینا شروع کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط جو اغوا کے بعد اپنے نصیب کی سیاہ بختی پر کُڑھتی و شاکی رہتی تھی، یک لخت اوجِ کمال کی سیڑھیاں چڑھنے لگی اور ترقی کے مختلف مدارج طے کرتے کرتے حرم سرا میں مناسبات کے شعبے کی انچارج بنا دی گئی؛ اب اس کی مرضی کے بغیر نہ تو حرم سرا سے کوئی گزارش باہر جا سکتی تھی، نہ کسی کی عرض داشت منظور ہو سکتی تھی۔ مستزاد یہ کہ سازشوں و رقابتوں سے رچے اس ماحول میں وہ اپنی صاف دلی کے سبب والدۂ سلطان کے بہت قریب ہوگئی، جو عثمانیوں کی حرم سرا میں سب سے مقتدر ہستی تھیں۔ والدۂ سلطان پرستو قادین نے نشاط کو اپنے لے پالک بیٹے اور چونتیسویں عثمانی سلطان، عبدالحمید ثانی کو پیش کیا جسے سلطان نے قبولیت بخشی۔ یہ نشاط سلطانہ کا اوج تھا... اونچائی کی وہ حد جس کے بعد زوال منہ کھولے کھڑا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلطان عبدالحمید ثانی کا آسان ترین تعارف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ عثمانی سلطنت کا اورنگ زیب عالمگیر تھا، یعنی اس کا آخری ’مقتدر‘ بادشاہ۔ افسردہ آنکھوں والا یہ سلطان جس پر بچپن سے ہی الم ناکی نے اپنا جالا بننا شروع کر دیا تھا کہ اس کی سگی ماں بچپن میں ہی چل بسی، سگے بہن بھائی بھی زندگی کی چند بہاروں سے زیادہ نہ دیکھ سکے اور جب تخت ملا تو پے در پے مشکلات نے سلطان کی اقتدار پر گرفت کمزور کر دی۔ پھسلتی ریت کو مُٹھی میں رکھنے کے لیے جتنا زور سلطان نے لگایا، اس نے سلطنت کی چولیں ہلا دیں۔ سیاسی حالات ایسےگنجلک ہوئے کہ سلطان کو معزول کر کے سالونیکا (Salonica) ’جلا وطن‘ کر دیا گیا اور نشاط سلطانہ، جس کا ستارہ اوجِ کمال پر پہنچا ہی تھا، یک لخت ڈوب گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ عرصہ قبل موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی اہلیہ کے اس بیان نے ترکی و یورپی پریس میں خاصی ہلچل مچائی کہ عثمانی سلاطین کی حَرم سرا ایک تعلیمی انسٹیٹیوشن اور اچھی چیز تھی۔ خاتونِ اوّل کا یہ بیان اس کتاب میں درج واقعات کی روشنی میں خاصا درست معلوم ہوتا ہے۔ اخبارات میں ہوئی تنقید کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یورپی مستشرقین نے عثمانیوں کی حَرم سرا کو اپنے تخیل کی قباحتوں سے خوب ’رنگین ‘ کیا ہے، جب کہ درحقیقت حرم سرا ایک ایسا عزلت خانہ تھا جس کے بارے میں استنبول کے باسی بھی زیادہ نہیں جانتے تھے، چہ جائیکہ سینکڑوں میل دُور یورپی دارالحکومتوں میں بیٹھے علما کو درست خبر مہیا ہوتی۔ یہ تو عام، سب کی دیکھی بھالی بات ہے کہ جس چیز کے بارے میں معلومات کم ہوں اور تجسس زیادہ ہو تو خبروں کےاس فقدان کو افواہ سازی و رنگین کاری سے پُر کیا جاتا ہے کہ کچھ تو گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ یہی ستم عثمانی حَرم سرا پر بھی ڈھایا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو دانستہ یا نا دانستہ، مصدقہ یا غیر مصدقہ باتیں عثمانی حَرم سرا پر لکھی گئیں تھیں، امتدادِ زمانہ نے ان کو تاریخ کے مسند پر بٹھا کر سچ کی سند عطا کر دی ہے۔ حَرم سرا کا تاثر عوام میں کچھ اس ڈھب کا بن چکا ہے کہ جب بھی حَرم سرا کا ذکر ہو تو اس قصے کو سنجیدہ محفلوں میں دوہرایا نہیں جا سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۹۰۵ء میں سلطان عبدالحمید ثانی کے ہی دَور میں ترکی کی معاشرت پر خالد خلیل کی یادداشتیں \"The Diary of a Turk\" کے نام سے منظر عام پر آئی (اس کا اُردو ترجمہ بھی بک کارنر کے پلیٹ فارم سے جلد ہی ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے)، اس کتاب میںخالد خلیل نے حَرم سرا کا منظرنامہ کچھ ان الفاظ میں پیش کیا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ترکی میں وہ حصۂ مکان جہاں مستورات رہتی ہیں حرم کہلاتا ہے اور مردوں کے حصۂ مکان کو سلاملق کہتے ہیں جو کہ عام ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ گو مکان کی تمام مستورات کو مجموعی طور پر حَرم ہی کہتے ہیں تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ سب صاحبِ خانہ کی بیبیاں ہیں۔ ہر شخص کی زوجہ، والدہ، ہمشیرہ، دختر نیز وہ عورتیں جو شرعاً بلانقاب اس کے سامنے ہو سکتی ہوں، اس کے حرم میں داخل ہیں۔ ہر خاندان میں مفصلۂ ذیل اشخاص کو حرم سرا میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ صاحبِ خانہ، اس کے بیٹے، والد، خسر اور نسبتی بھائی۔ بڑے بڑے شہروں مثل قسطنطنیہ، سمرنا اور ادرنہ میں لوگ اپنے دُور کے رشتے داروں کو بھی اندر جانے کی اجازت دے سکتے ہیں اور جو کہ یورپین رسم و رواج اختیار کرتے ہیں، اپنے گہرے دوستوں کو بھی داخل کر سکتے ہیں، لیکن پرانی وضع کے خاندانوں میں جو کہ آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، صاحبِ خانہ کا کوئی مرد رشتے دار تیرہ یا چودہ برس کی عمر کے بعد حرم سرا میں نہیں جانے پاتا اگر اس سے اور دختر صاحبِ خانہ یا دوسری قابل نکاح لڑکیوں سے شادی ہونا ممکن ہو۔ یہ پابندیاں متمول اشخاص میں زیادہ تر ہیں۔ ایسے خاندانوں میں حرم سرا اور مردان خانہ میں ایک گھومنے والی الماری کے ذریعہ سے کاروبار عمل میں آتا ہے اور پارسل اور کھانے کے برتن منگائے یا بھیجے جاتے ہیں۔ یہ الماری اس دیوار میں سوراخ کر کے لگائی جاتی ہے جو کہ مردان خانہ کو حرم سرا سے جدا کرتی ہے۔ عورتوں کو مردوں کی نظر سے بچانے کے لیے ایک اور ترکیب یہ کی جاتی ہے کہ حرم سرا کی کھڑکیوں میں جالی لگاتے ہیں جس کا یہ منشا ہوتا ہے کہ عورتیں تو باہر کی ہر شے اس جالی کے پیچھے سے دیکھ سکتی ہیں، لیکن کوئی مرد قریب کی سڑکوں، باغوں اور مکانوں سے انھیں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو میں غالباً عثمانیوں کی شاہی حَرم سرا سے معنون کوئی بھرپور کتاب موجود نہیں۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی حیثیت بارش کے پہلے قطرے کی سی ہے جو تاریخ کی ’تحریف شدہ‘ زمین پر جب پڑے گا تو اسے صاف توکرے گا ہی، کیا پتا مذکورہ موضوع پر مزید تحقیق کا شوق ابھارنے میں بھی ثمر آور ثابت ہوسکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو اُردو میں جناب رئیس احمد جعفری مرحوم نے ترجمہ کیا ہے جو اپنی سند آپ ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ کتاب ۱۹۵۹ء میں ’’سلطانہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ ادارہ بک کارنر نے محنت، سلیقے اور خوب صورتی کے ساتھ بامقصد کتب کی اشاعت کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے اور کتاب کے اس ایڈیشن کو نایاب تصاویر سے مزین، تسہیل و تصحیح کے ساتھ اور رائج اُردو املا سے ہم آہنگ کر کے، مکمل حروف خوانی کے بعد خوب صورت طور پر شائع کر رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس کام میں ان کا معاون بن سکا۔ (سلمان خالد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450221473977,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b9fc955951785313788.jpg?v=1785785814"},{"product_id":"khoobsurat-zehan-خوبصورت-ذہن-copy","title":"DUNIYA KI SO AZEEM KITABAIN (2ND EDITION)  دنیا کی سو عظیم کتابیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’القرآن الحکیم‘‘ سے ’’گرنتھ صاحب‘‘ تک بنی نوعِ انسان کی مذہبی رہنمائی کرنے والی کتابیں...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافلاطون کی ’’ریاست‘‘ سے کارل مارکس کی ’’داس کیپیٹل‘‘ تک انسانی فکر و فلسفے کی داستان...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیروڈوٹس کی ’’تواریخ‘‘ سے ابنِ خلدون کے ’’مقدّمہ‘‘ تک تاریخ کی سرگزشت...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کلیہ و دِمنہ‘‘ سے دانتے کی ’’ڈیوائن کامیڈی‘‘ تک داستان گوئی کے عظیم سنگِ میل...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہومرکی ’’ایلیڈ‘‘ سے علامہ محمد اقبال کے ’’جاوید نامہ‘‘ تک دُنیا کی عظیم شعری تخلیقات...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکالی داس کی ’’شکنتلا‘‘ سے ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیملٹ‘‘ تک عالمی ڈرامے کے فن پارے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسروانٹیز کے ’’ڈان کیخوٹے‘‘ سے دستوئیفسکی کے’’کرامازوف برادران‘‘تک شاہکارناول ...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دُنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو آپ کے لیے علم کی بےکراں کائنات کے بھرپور مشاہدے کے لیے ایک ایسا دریچہ وا کرتی ہے جس سے آپ ہزاروں برسوں پر محیط انسانی دانش، فکر، شاعری، ادب، فلسفہ اور مذہب پر مبنی لازوال کتابوں کی دُنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک کتاب آپ کو اَن گنت کتابوں سے بےنیاز کر کے ان کتابوں سے بھرپور انداز میں متعارف کرائے گی جنھوں نے اس دُنیا پر حکمرانی کی اور اسے بدل کر رکھ دیا۔ یہ کتاب تمام شائقینِ کتب کی لائبریریوں کے لیے ایک ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ اس تلاش میں ہیں کہ آپ کو کیا پڑھنا چاہیے،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتو یقین جانیے یہ کتاب اسی لیے لکھی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر اُردو کے اہم محقق، مترجم ، مدیر ، صحافی اور ڈھائی سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف، مؤلف اور مترجم تھے۔ ان میں سے سو کے قریب کتابیں بچوں کے لیے لکھیں۔ ستار طاہر یکم مئی 1940ء کو ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے۔ خاندان لائل پور منتقل ہوگیا تو بی اے تک تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ 1959ء میں صحافت کا آغاز کیا۔ ابن فتح، س ط اور ابو عدیل جیسے مختلف قلمی ناموں سے بھی لکھا۔ ماہنامہ کتاب، ماہنامہ معلومات، ویمن ڈائجسٹ، ہفت روزہ ممتاز، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت، اُردو ڈائجسٹ، سپوتنک، قافلہ اور قومی ڈائجسٹ میں ادارتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ سیاسیات، ادب، فنونِ لطیفہ، عمرانیات، فلم غرض ہر موضوع پر لکھا۔ ستار طاہر جمہوریت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ضیاالحق کے مارشل لا کے زمانے میں جو کچھ انہوں نے لکھا، اس کی بہت کم لوگوں کو ہمت ہوئی۔ اس پر انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ پندرہ روزہ ’’قافلہ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف کئی یادگار تحریریں لکھیں جو قافلہ کے خصوصی نمبروں کی صورت میں شائع ہوئیں۔ بعد ازاں یہ کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔ ان میں زندہ بھٹو مردہ بھٹو، سورج بکف و شب گزیدہ، اورمارشل لاء کا وائٹ پیپر خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ستار طاہر کو بعد از وفات صدرِ پاکستان نے صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے جمہوریت ایوارڈ دیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے بچوں کے ادب میں کنٹری بیوشن کے اعتراف میں نشانِ اعزاز دیا۔ انھوں نے کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جن میں ’’وعدے کی زنجیر‘‘، ’’انسان اور گدھا‘‘ اور ’’میرا نام ہے محبّت‘‘ شامل ہیں۔ ستار طاہر کی قلم کی یہ مزدوری 1993ء میں عیدالفطر کے دن تک جاری رہی۔ جب آخری سانس لیا، اس دن مارچ کی 25 تاریخ تھی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457169928377,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62e50a6c157691659177580.jpg?v=1785835127"},{"product_id":"ilm-ki-raah-dariyan-علم-کی-راہداریاں","title":"ILM KI RAAH-DARIYAN  علم کی راہداریاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدنیا میں ترقی و پُر آسائش زندگی کی جستجو میں یونیورسٹیاں ہمیشہ مشعلِ راہ کی طرح رہنمائی کرتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کا کام صرف تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ ممالک کی سیاسی، سماجی، معاشی اور مالی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈالتی ہیں اور ان ممالک کی جی ڈی پی کا بڑا حصہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبا کی کوششوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز کی ترقی کے لیے بھی یونیورسٹیوں کو اس انداز اور جذبے سے چلانے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کے استحکام کے لیے ان کو چلانے والوں کی ذہنی وسعت اور علمی پختگی بہت اہم ہوتی ہے ۔ مبارکباد کے مستحق برادرم پروفیسر ڈاکٹر سعید بزدار کا دلچسپ اسلوب میں یہ علمی کارنامہ ’’علم کی راہداریاں‘‘ قابلِ داد و تحسین ہے کہ انھوں نے پاکستان میں یونیورسٹیوں کو ایک نئی اور جدید سمت میں چلانے کے لیے دنیا کی دس غیر معمولی یونیورسٹیوں کا مطالعہ پیش کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر میریٹوریس ڈاکٹر یوسف خشک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، پرو وائس چانسلر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر سعید بزدار سے میرا بہت پرانا تعلق ہے۔ وہ ایک سائنس دان، محقق اور استاد ہیں جنھیں دُنیا کی بہترین درس گاہوں سے تعلیم و تربیت کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب نے جہاں اپنے شعبۂ تدریس میں اہم مقالات لکھے وہاں انھوں نے اپنی مادرِ علمی کے لیے اس کتاب کی صورت میں نذرانہ پیش کیا۔ دُنیا کی دس بہترین یونیورسٹیوں کی تاریخ صرف معلومات میں اضافہ ہی نہیں بلکہ وہ مشعلِ راہ بھی مہیا کرتی ہے جو علم کے راستے میں چلنے والوں کو درکار ہے۔ ڈاکٹر سعید بزدار چونکہ خود ایک معلّم اور منتظم ہیں، لہٰذا اُن کی نظر سے اِن تدریسی اداروں کا مطالعہ ایک Reference Book کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے یہ تصنیف گراں قدر ہو گی۔ مجھے یہ بھی خوشگوار حیرت ہے کہ ایک سائنس کا استاد بھی اُردو تحریر میں سلاست اور معنی آفرینی کا حامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سابق پرنسپل قائدِ اعظم میڈیکل کالج ، بہاول پور)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457813688505,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65d73057464c91708601431.jpg?v=1785837545"},{"product_id":"nisf-sadi-ke-zakhm-نصف-صدی-کے-زخم","title":"NISF SADI KE ZAKHM  نصف صدی کے زخم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’نصف صدی کے زخم‘‘ زمانۂ طالبِ علمی کی سیاسی سرگزشت ہے۔ پروفیسر خواجہ مسعود اور ان کے ہم نوا اساتذہ کرام کے فیضانِ تربیت سے گورڈن کالج اُس زمانے کی سب سے بڑی ترقی پسند درس گاہ تھی۔ راجہ انور طلبا سیاست سے ہوتے ہوئے قومی سیاست کے میدان میں آ نکلے۔ پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو اپنایا۔ بھٹو شہید کے دورِ اقتدار کی راہداریوں کی سیر کی۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں قید و بند اور جلاوطنی کے عذاب سہے اور ثواب کمائے۔ ثواب یوں کہ اپنے وطن کی کال کوٹھری میں پابندِ سلاسل زندگی کی اذیتیں برداشت کرتے رہنے کی بجائے دیارِ غیر میں سیر و سیاحت کے تجربات و مشاہدات دل و دنیا کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ انور کے لیے جبری جلاوطنی ایک عطیۂ خداوندی ثابت ہوئی۔ پاکستان کے نادان حکمرانوں نے اسے سزا سمجھا تھا مگر وہ عطا تھی۔ اس دوران دیارِغیر میں بھی ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہی۔ مشاہدات و تجربات کو عالمی سطح کی وسعتِ نظری اور نئے تناظر میسر ہوئے۔ جی چاہتا ہے کہ ہم اس عطائے ربانی کی کہانی راجہ محمد انور کی زبانی بھی سنیں جو اس تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ ان کی تازہ تصنیف کی اشاعت پر میں تہ دل سے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ (پروفیسر فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457838297273,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/684979a58b9b61749645733.jpg?v=1785837716"},{"product_id":"bari-jail-se-choti-jail-tak-بڑی-جیل-سے-چھوٹی-جیل-تک","title":"BARI JAIL SE CHOTI JAIL TAK  بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eزندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغالباً ستمبر 1970ء کا پہلا ہفتہ تھا کہ جیل میں اسیر طلبہ نے صبح صبح شور مچایا، ’’راجہ بھی آ رہا ہے‘‘ انھوں نے اخبار سے اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تھی۔ شام کو اسے بھی ہمارے ساتھ ’’سی کلاس‘‘ کی تنگ ترین کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ اب تکلّف کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص خاصا دل گُردے کا مالک ہے۔ غم، دُکھ اور یاسیت کے طوفان میں بھی مسکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ راجہ کے آنے سے صحنِ زنداں کی کلفتیں بہت ہلکی ہلکی نظر آنے لگیں۔ وہ لطیفے، ہنسی مذاق اور فقرہ بازی کا ماہر ہے۔ ہم پانچ آدمی اس مختصر سی جگہ پر سوتے۔ راجہ موم بتّی جلا کر رات رات کراہتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلو قلم بند کرتا۔ اس کتاب کی بہت ساری یادداشتیں میرے سامنے لکھی گئیں اور بہت سے ایسے واقعات جہاں زبان ترجمانی نہیں کر پاتی، اس نے خونِ جگر میں اُنگلیاں ڈبو کر لکھے اور شاید یہ اسی کا حصّہ تھا۔ وہ اپنے حُلیے سے چی گویرا بھی لگتا ہے اور ہپی بھی، کبھی کبھی مولوی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالبِ علم بھی ہے، ادیب بھی اورمقرّر بھی۔ دُشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے ’’جند جان‘‘ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حسّاس آدمی ہے۔ ’’راجہ بہت اچھا لکھتا ہے‘‘ میں یہ نہیں کہوں گا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر میں نے کچھ کہا تو آپ شاید ’’دوست نوازی‘‘ کا فتویٰ عائد کر دیں۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ راجہ کے حق میں ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشبِ زنداں کی عکاسی ہر فرد کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کٹھن راہ میں کئی مقام ایسے بھی ہیں جہاں مروجہ زبان محسوسات کی ترجمانی نہیں کر پاتی۔ تاہم راجہ نے اپنی حسّاس طبیعت کے باعث اس ماحول کے دُکھوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان ہے۔ جیل پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجھے یہ کہنے دیجیے کہ راجہ کی یہ درد بھری تصنیف اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمعراج محمد خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457978151097,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65cc95d9619c31707906521.jpg?v=1785838369"},{"product_id":"mazi-ka-hamam-ماضی-کا-حمام","title":"MAZI KA HAMAM  ماضی کا حمام","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیری راجہ انور سے پہلی ملاقات خبریں اخبار میں ہوئی تھی، میں بھی وہاں کالم لکھتا تھا۔ راجہ صاحب نے ایک دن مجھے فون کیا اور میں نے انھیںپنجاب یونیورسٹی کا واقعہ بڑی تفصیل سے سنایا۔ یہ دیر تک ہنستے رہے، مجھے اس زمانے میں ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے درجنوں پیراگراف زبانی یاد تھے، میں نے وہ بھی ان کے کانوں میں انڈیل دیے اور یوں ان کے ساتھ رفاقت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کل جرمنی، برمنگھم اور اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ یہاں گرمی آتی ہے تو اُدھر چلے جاتے ہیں اور اُدھر سردی آجاتی ہے تو یہاں آ جاتے ہیں۔ راجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں وژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے، آپ انھیں پڑھنا شروع کر دیں تو پھر آپ پڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کر لیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔ ان کے کالموں اور کتاب دونوں کا نام ’’بازگشت‘‘ ہے، یہ دونوں واقعی بازگشت ہیں، گئے زمانوں اور بیتی ہوئی شخصیات کی بازگشت، ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی بازگشت، جیل کے بند اور کھلتے آہنی کواڑوں کی بازگشت اور انسان کے ٹوٹتے، بکھرتے اور دفن ہوتے آئیڈیلز کی بازگشت۔ میں جب بھی ان کی تحریریں پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر راجہ انور نہ ہوتے تو ماضی کی یہ بازگشتیں ہم تک کیسے پہنچتیں، ہم ان سے کیسے واقف ہوتے لہٰذا تھینک یو راجہ صاحب! تُسی گریٹ او۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید چودھری)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458018488505,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/679637aed3c191737897902.jpg?v=1785838532"},{"product_id":"pothohar-khitta-e-dil-rubaa-2nd-edition-پوٹھوہار-خطۂ-دل-ربا","title":"POTHOHAR: KHITTA-E-DIL-RUBAA (2ND EDITION)  پوٹھوہار : خطۂ دل ربا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپوٹھوہار قدیم تاریخ کے دامن میں ایک ایسا جھلملاتا خطہ ہے جس کی چمک دمک کو زمانے کا اُلٹ پھیر بھی کم نہ کر سکا۔ یہ اونچے نیچے ٹیلوں، سرسبز کھیتوں، شاداب درختوں اور آزاد ہواؤں کا دل رُبا خطہ ہے جہاں ہر موڑ پر تاریخ کے نیلم ومرجان بکھرے ہوئے ہیں۔ میں پوٹھوہار کی انھی سحر انگیز ہواؤں میں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے حُسن کا اسیر ہو گیا۔ یہ کتاب محض تحریروں کا مجموعہ نہیں بلکہ راولپنڈی اور پوٹھوہار سے میرے عشق اور جنون کا احوال ہے۔ یہ ان گلی، کوچوں، عمارتوں، قلعوں، حویلیوں اور دل بروں کی کہانیاں ہیں جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔ یہ راولپنڈی اور پوٹھوہار کے ان سربستہ گوشوں کا احوال ہے جن کے طلسم نے مجھے اپنا اسیر بنا لیا اور جنھیں دیکھنے کا تجسس ایک بے انت تلاش میں بدل گیا۔ یہ تاریخ کی کتاب نہیں، ان منظروں کا بیان ہے جنھیں میری آنکھوں نے دیکھا اور جن کا لمس میری روح نے محسوس کیا۔ کہتے ہیں حیرت کا یہ سفر ہے کہ ختم ہی ہونے میں نہیں آتا۔ کتنے ہی اَن دیکھے، اَن چھوئے مقام اپنی بانہیں پھیلائے مجھے اپنی طرف بلا رہے ہیں اور مجھے ان کی پکار پر جانا ہے۔ مجھے پوٹھوہار کے آسمانوں میں بکھرے خوش نما رنگوں کو کشید کرنا ہے۔ ان فضاؤں میں پھیلے طلسمات کو دل و جاں میں اتارنا ہے۔ اس مٹی کے ذروں میں بکھرے تاریخ کے لعل و مرجان کو سمیٹنا ہے۔ یہ پوٹھوہار کی مٹی کا مجھ پر قرض ہے جس کی سحر انگیز فضاؤں نے مجھے پروان چڑھایا اور جس کی مہکتی مٹی میں مجھے ہمیشہ کے لیے سو جانا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد صدیقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458509058233,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65e17667b710f1709274727.jpg?v=1785841461"},{"product_id":"kashmir-kahani-کشمیر-کہانی","title":"KASHMIR KAHANI  کشمیر کہانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ طے ہے آپ ’’کشمیر کہانی‘‘ ایک دفعہ پڑھنا شروع کریں گے تو واپس نہیں رکھ پائیں گے۔ اس کتاب میں نیا سنسنی خیز تجربہ کیا گیا ہے۔ آپ خود کو اس زمانے میں پائیں گے جب ہندوستان میں پاور ٹرانسفر ہو رہی ہے۔ لندن سے آخری وائسرائے اپنی خوبصورت بیوی اور سترہ سالہ بیٹی کے ساتھ دلّی ایئرپورٹ پر اتر رہا ہے۔ سب اہم کردار سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں اور آپ خاموش تماشائی کی طرح ان تاریخی کرداروں کو قومی مفادات کی جنگ لڑتے دیکھ رہے ہیں۔ ماؤنٹ بیٹن، گاندھی اور نہرو میں گھرا اکیلا جناح پاکستان کے لیے لڑ رہا ہے۔ نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا معاشقہ آپ کی آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کو پشاور دورے میں قتل کرنے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ وہ اس حملے سے بچ بھی گیا تو اُن ایک لاکھ پٹھانوں سے کیسے بچ پائے گا جو وائسرائے کی پشاور میں موجودگی کا سن کر اکٹھے ہوگئے ہیں اور اس دوران ماؤنٹ بیٹن کو سی آئی ڈی سے مخبری ملتی ہے کہ محمد علی جناح کو کراچی میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جناح کو بچانے کے لیے ماؤنٹ بیٹن جناح کے ساتھ اس گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے جسے بم سے اڑانے کا پلان ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کی حالتِ زار کا اندازہ کریں جسے اپنی سحر انگیز شخصیت پر بڑا غرور تھا۔ وہ کسی بھی بڑے شخص کو اپنے چارم سے متاثر کر سکتا تھا لیکن حیران کن طور پر وہ جناح کو کبھی متاثر نہ کر سکا تھا۔ وہ حیرت زدہ ہی رہا، جناح اس سے متاثر کیوں نہیں ہوا تھا، جب کہ برطانوی بادشاہ، شہزادے یا شاہی خاندان کے افراد ہوں یا اشرافیہ سب اس سے متاثر ہوتے تھے۔ نہرو اور گاندھی جیسے بڑے لوگ بھی ماؤنٹ بیٹن کی سحرانگیز شخصیت کی کشش سے نہ بچ پائے تھے لیکن جناح کس مٹی کا بنا ہوا تھا جس نے ماؤنٹ بیٹن کو عام انسان جیسا ٹریٹ کیا تھا؟ نہرو کے معاشقے ہوں، بیٹی اندرا کی اپنے باپ کی معشوقوں سے لڑائیاں، یا پھر قبائلی پٹھانوں کا خوفناک لشکر جو رات کے اندھیرے میں مظفرآباد سے سری نگر کی طرف چل پڑا ہے اور کشمیر کا خوفزدہ راجہ اپنے قابل بھروسہ افسر کو ابھی ابھی یہ حکم دے کر سویا ہوا ہے کہ اگر وہ پٹھانوں کو اس کے محل کی طرف آتا دیکھے تو اسے سوتے ہی میں گولی مار دے۔ (رؤف کلاسرا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458559324345,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67505c3c347a01733319740.jpg?v=1785842650"},{"product_id":"chaar-aadmi-5th-edition-چار-آدمی-پانچواں-ایڈیشن","title":"CHAAR AADMI (5TH EDITION)  چار آدمی (پانچواں ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمنتخب اور محبوب، ڈاکٹر امجد ثاقب ایک منفرد آدمی ہیں۔ ان نادر و نایاب لوگوں میں سے ایک، زندگی کو جو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ فہم و فراست پروردگار نے آدم زاد کو اسی لیے عطا کی تھی۔ کم ہیں مگر بہت ہی کم جو خیال کی شمع روشن کرتے اور اپنی ترجیحات خود طے کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے اٹھے کہ والدین کی تمنّا یہی تھی۔ سول سروس کا رُخ کیا لیکن وہاں بھی جی نہ لگا۔ ایک آزاد ذہن الگ اپنی دنیا بسانا چاہتا ہے۔ بالآخر اس راہ پہ وہ چل نکلے، جہاں سے پورے ملک اور اب اس سے بھی پرے، روشنی پھیل رہی ہے۔ رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے مگر مسلسل اور پیہم۔ ان کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکۂ برطانیہ کی جانب سے انھیں \"Common Wealth's Point of Light\"کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ورلڈاکنامک فورم کی طرف سے \"Entrepreneur of the Year 2018\"کے مستحق ٹھہرے۔ صدرِپاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز ملا۔ حال ہی میں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ’’ریمون میگ سائے سائے‘‘، جسے ایشین نوبیل پرائز بھی کہتے ہیں، پیش کیا گیا۔ وہ کئی کُتب کے مصنّف اور مقبول مقرّر بھی ہیں جنھیں آکسفرڈ، کیمبرج، ہارورڈ اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں میں اظہارِ خیال کے متعدد مواقع ملے۔ نوبیل انعام بھی مل گیا ہوتا مگر وہ مسلمان ہیں اور پاکستانی۔ یہ کتاب تین آدمیوں کی کہانی ہے اور پھر ان کی اپنی۔ آدمی تاریخ ساز شخصیات کے سحر میں مبتلا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امجدثاقب عام لوگوں کی زندگیوں میں اُترتے ہیں۔ عجیب تر یہ ہے کہ ان زندگیوں میں سے لعل و گُہر بھی ڈھونڈ لاتے ہیں۔ ان کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن درد اور احساس جسے بخشا گیا، سب کچھ اسے بخش دیا گیا۔ ہر زمانے میں بہت سے ممتاز لوگ ہوتے ہیں، ہمارے عہد میں بھی۔ عملی طور پر لیکن چند ایک ہی نے واقعی کچھ کر دکھایا۔ ڈاکٹر امجدثاقب ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے سال ہا سال سے خاک بسر مخلوق کو سینے سے لگایا۔ ایک ایسی دُنیا کا خواب دیکھا جس میں ہر شخص کو عزت اور احترام سے زندہ رہنے کا موقع ملے، پھر خوش دلی سے خود کو اس خواب کی تعبیر کے لیے وقف کر دیا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاقباؔل نے کہا تھا، جہاں کہیں دُنیا میں روشنی ہے، مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہے یا مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں۔ ہمہ گیر یہ اُجالا، ہجرت کے فوراً بعد مواخات کی یادگار ہے۔ اسی چراغ سے جو چراغ جلے، کبھی نہیں بجھتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو زمانے ابھی نہیں آئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458575282361,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62de83825a97a1658749826.jpg?v=1785843473"},{"product_id":"sailab-ki-kahani-pictorial-book-سیلاب-کی-کہانی","title":"SAILAB KI KAHANI (PICTORIAL BOOK)  سیلاب کی کہانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ۔ سیلاب کی یہ دل گداز کہانی کوٹ مٹھن سے شروع ہو کر مسجدِ قرطبہ میں ختم ہوتی ہے۔ کوٹ مٹھن اور مسجد ِ قرطبہ ، یہ دو استعارے ہیں، سوزومستی اورفنا و بقا کے۔ کہانی جب شروع ہو تو خبر نہیں ہوتی کہ کس کس موڑ سے گزرے گی، کہاں ختم ہو گی۔ اس کہانی میں بھی بہت سے موڑ ہیں۔ سیلاب زدگان کے علاوہ بہت سے اور لوگوں کا تذکرہ جو ایک ہی خواب دیکھتے ہیں، مواخات کا خواب۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص کو عزت سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہو۔ اس کہانی کا آخری موڑ مسجدِ قرطبہ کی عظمت اور غرناطہ کا زوال ہے۔ یہ ذکر اس لیے شامل ہوا کہ ہم کمال و زوال کی حقیقت کو سمجھ سکیں۔ یہ جان پائیں کہ سلسلۂ روز و شب میں عشق ہی اصل شے ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب ایک منفرد سفر کی کہانی ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے جو غیرمعمولی تباہی ہوئی، امجد ثاقب اس کا عینی شاہد ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں وہ چارو ں صوبوں میں جاکر لوگوں کے دُکھ بانٹتا رہا، ہمت بڑھاتا رہا۔ اس طرح کی کہانی شاید ہی لکھی گئی ہو جس میں قدرتی آفات کا حال بھی ہو اور اس سے بچنے کی تدابیر اور حکمتِ عملی بھی۔ وہ اس کہانی کا مصنف بھی ہے اور کردار بھی۔ نہ وہ ہتھیار پھینکتا ہے، نہ کسی کو ہتھیار پھینکنے دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مصیبت میں گھرے لوگ تباہی کو بھول کر مستقبل کی تعمیر میں مگن ہوں۔ اس کے نزدیک ماضی سبق سیکھنے کے لیے ہےاور مستقبل زندہ رہنے کے لیے۔ یہ کتاب ایک ایسی دستاویز ہے جو ہر شخص کو پڑھنی چاہیے، خاص طور پر حکومت سے وابستہ تمام لوگوں کو، تاکہ ہمیں ا پنی کوتاہیوں کا علم ہو سکے اور ہم ان آفات سے بچنے کا کوئی راستہ ڈھونڈ سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب سلطان خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( ستارئہ امتیاز، ہلال ِ امتیاز، نشانِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458576003257,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/648d5823cb2801686984739.jpg?v=1785843599"},{"product_id":"delhi-ka-yadgar-mushaira-دہلی-کا-ایک-یادگار-مشاعرہ","title":"DELHI KA YADGAR MUSHAIRA  دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460317098169,"sku":"BC SSH","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5c4ef9abb24981548679595.jpg?v=1785855861"},{"product_id":"kala-pani-کالا-پانی","title":"KALA PANI  کالا پانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیڑھ سو برس قبل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2 مئی 1864ء کو عدالت میں جج کی آواز گونجی:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتم بہت عقلمند، ذی علم اور قانون دان، اپنے شہر کے نمبردار اور رئیس ہو، تم نے اپنی ساری عقلمندی اور قانون دانی کو سرکار کی مخالفت میں خرچ کیا۔ تمہارے ذریعے سے آدمی اور روپیہ سرکار کے دشمنوں کو جاتا تھا۔ تم نے سوائے انکار بحث کے کچھ حیلتاً بھی خیرخواہی سرکار کا دَم نہیں بھرا اور باوجود فہمائش کے اس کے ثابت کرانے میں کچھ کوشش نہ کی۔ اس واسطے تم کو پھانسی دی جاوے گی۔ میں تم کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر نے بے خوف کہا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’جان لینا اور دینا خدا کا کام ہے، آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ رب العزت قادر ہے کہ میرے مرنے سے پہلے تم کو ہلاک کر دے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ گواہ ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفرؒ کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور جج اگلے چند روز میں دنیا سے سدھار گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1۔15 دسمبر1864ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچیف کورٹ… کا فیصلہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھانسی کی سزا حبسِ دوام بعبور دریائے شور میں تبدیل ہو گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کس کو سزا حبس دوام دی گئی؟ یہ کس قافلے کا رہرو تھا؟ کس تحریک کا امین تھا؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ تحریک سیّد احمد شہیدؒ، جہاد اور تجدید، احیائے دین کی لے کر اُٹھے جس میں سرفروش اپنی گردنیں اپنی ہتھیلیوں پر لیے پھرتے تھے۔ سیّد احمد شہیدؒ نے طاغوت اور لرزتی کانپتی دم توڑتی سکھا شاہی حکومت کے خلاف تلواریں نیام سے نکال کر وقت کے پہیّے کو گھمایا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان شدید ابتلاء و آزمائش میں تھے۔ زندگیاں اجیرن، مساجد اور اسلامی شعائر کی اعلانیہ بے حرمتی کا دور دورہ تھا۔ جہاد کا اصل مقصد، ہدف، منزل حکومت الٰہیہ کا قیام تھا۔ وہ غلامی کی زنجیریں کاٹنے اپنے قافلہ کے ساتھ بالاکوٹ تک پہنچے۔ لیکن زمین پر میرجعفر از بنگال، میر صادق از دکن ننگ دین ننگ ملت ایسے انگریزوں اور سکھوں کے کاسۂ لیس، مسلمانوں کی صفوں میں خیمہ زن تھے۔ انہوں نے اپنے پیادے، وزیر، گھوڑے، مہرے، بساط سیاست پر ترتیب دیے اور چال چلی…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24 ذیقعدہ 1425ھ (6 مئی 1831ء) تاریخ کا وہ روشن دن ہے جس نے سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کو سرفروشوں سمیت جامِ شہادت نوش کرتے دیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیّد احمد شہیدؒ کی تحریک پر قلم رواں ہو تو کہیں پڑاؤ ملے نہ سانس لوں اور میں لکھتا چلا جاؤں، لیکن…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبڑی طویل کہانی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر کبھی اے دوست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے قاری نے 1800ء میں سیّد احمد شہیدؒ کے ساتھ سانس لینا ہے اور اپنی سانسوں میں پاکیزگی رواں رکھنی ہے تو مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ کی ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ کی جلد ششم (حصہ اوّل، دوم) مطالعہ کر لے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا جعفر تھانیسریؒ، سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک کے وہ امین ہیں جنہوں نے اپنی مکمل زندگی، بیوی بچے، اپنا مال اسباب، اپنا آرام، اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکوہِ استقامت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ نے ورق الٹے تو میں نے ایک سو ترپّن سال بعد جانا، جیسے یہ کل کی بات ہے۔ یہ قصہ پارینہ نہیں، بلکہ ورق تازہ ہے جس پر لہو کے چھینٹوں سے نقش گری کی گئی ہے۔ صعوبت اور سختیاں جھیل کر اس ورق تازہ کی جلد بندی ہوئی ہے۔ یہ ضلع انبالہ ہے۔ میں قصبہ تھانیسر میں ہوں۔ میاں جیون ا رائیں قبیلے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپؒ نے اپنے بیٹے کانام جو 1838ء میں پیدا ہوا، محمد جعفر تجویز کیا۔ محمد جعفر کے والد کا جلد انتقال ہو گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولاناؒ کا کہنا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں نے دس برس کی عمر تک کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ اپنے باپ کے فوت ہو جانے کے بعد جبکہ میری عمر دس بارہ برس کی تھی اور میرا چھوٹا بھائی چھ مہینے کا تھا، ہم اپنی والدہ کی سرپرستی میں تربیت پانے لگے۔ میری والدہ بالکل ناخواندہ تھیں۔ انہیں کوئی مذہبی تعلیم نہ دی گئی تھی۔ لڑکپن میں مَیں نے تعلیم کی طرف مطلق توجہ نہ کی اور آزاد پھرتا رہا۔ مجھے تھوڑی سی عقل آ گئی تو تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہی محمد جعفر، میں عرض کر رہا تھا، چشم فلک نے نظارہ دیکھا… سورج کی طرح طلوع ہوا اور تاریخ کے صفحات پر نصف النہار ہو گیا۔ قرآن کریم کے تین پارے حفظ کرنے اور سیکڑوں احادیث مبارکہ قلب میں محفوظ کر لینے والے نمازِ تہجد کے عادی مولوی محمد جعفر تھانیسریؒ نے مروّجہ تعلیم کی تکمیل کے بعد عرائض نویسی شروع کی اور اس میں مہارت کی چوٹی چھو لینے پر وکلاء، عرائض نویس قانون اور اُس کے ضابطوں کے بارے اُن سے رجوع کرنے لگے اور شہرت کو چاند لگنے لگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآزادی کا سفر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم یوں ہی آزاد نہیں ہو گئے۔ 1947ء تک کا سفر بڑا کٹھن، جان لیوا اور اَن گنت سر کٹانے والے سرفروشوں اور مجاہدین کے لہو سے مزیّن ہے۔ وہ جو دار و رسن پر کھینچے گئے اُن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایک مغل شہنشاہ کی بیٹی کے علاج کے سلسلہ میں آنے والا انگریز ڈاکٹر جس نے چوہے کی طرح نہر میں سوراخ کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی سوراخ سے شگاف تک کے مرحلے ٹاپتی ہندوستان پر قابض ہو گئی۔ اس شگاف کو پاٹنے میں جہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے اپنا حق ادا کیا، نواب سراج الدولہ سے علامہ اقبالؒ تک، یہ شاہراہ سرخ کارپٹ سے سجی تو ہم نے آزادی کا سانس لیا… جو قومیں اپنے محسنین کو یاد نہیں رکھتیں، وہ دنیا کے نقشے سے معدوم ہو جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجس قافلے، جس آزادی کایہ قصہ ہے، اس قصے میں مولانا جعفر تھانیسریؒ کا روشن اور تابناک نام قیامت تک دمکتا رہے گا۔ مجاہدین نے کیسے اپنی زندگیاں وار دیں۔ اپنا آرام، عیش، گھر بار، بیوی بچے، اپنا دیار، اپنی مٹی، اپنی زمین تج دی۔ پابجولاں وہ ہنستے رہے اور سرِدار کھینچے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکالا پانی… کالا پانی ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان تک سفر کی اوگھٹ گھاٹیوں میں سے گزرنا اتنا آسان تھا کیا۔آ… میرے عہد کے انسان! تو بھی پابجولاں بھوکا پیاسا، یہ سفر کاٹ! تو بھی اٹھارہ برس اپنی مٹی سے بچھڑ کر اپنے پیاروں سے جدا ہو کر دیکھ…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسامنے دیکھ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک آواز سنائی دی ہے، پانیوں پر سے سرکتی کُرلاتی تلاش کرتی آواز! جب بحری جہاز، انڈمان کے کنارے لگا تو ساحل پر بیسیوں مولوی اور منشی منتظر تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کیا مولوی محمد جعفر اور مولوی یحییٰ علی صاحب بھی اس جہاز پر آئے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں بھی وہیں تھا اُسی جزیرہ پر، میں بھی قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہا تھا، آواز دینے والوں میں مولوی احمد اللہؒ کے ساتھ میں بھی صف میں شامل تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیچے اتر کر ہم کو یہاں معلوم ہوا کہ مولوی احمد اللہ صاحب ہم سے ایک برس بعد پٹنہ میں قید ہو کر 15جون 1865ء کو ہم سے چھ مہینے پہلے پورٹ بلیر میں پہنچ گئے اور ایک دوسرے جہاز کے قیدیوں سے جو ہم سے اوّل اسی جیل تھانہ سے چل کر فقط دو روز پہلے ہم سے پہنچے تھے، ہماری آمد کا حال معلوم کر کے مولوی صاحب ہمارے منتظر تھے اور یہ سب لوگ انہیں کے اشارے ہمارے لینے کو گھاٹ پر آئے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر ہم لوگ بوٹ سے اتر کر اسی مجمع کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کرتے ہوئے اپنے چالان کے قیدیوں سے جدا ہو کر منشی غلام نبی صاحب محرر مرین ڈیپارٹمنٹ کے مکان پر پہنچے۔ وہاں مولوی احمد اللہ صاحب اور دوسرے اکثرمعزز لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور اسی مکان میں ہم تینوں آدمی رہنے لگے۔ اسی دم ہماری بیڑی کٹوا دی اور عمدہ لباس جوہمارے واسطے تیارکر کے رکھا تھا ہم کو پہنایا گیا اورتمام جلسہ کے ساتھ ہم نے دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھایااور اس تاریخ سے تاریخ رہائی تک ہم نے پھر بارک یا لباس یا کھانا قیدیوں کا کبھی نہیں دیکھا۔ گو اُسی تاریخ سے ہم قید سے رہا ہو گئے۔ گواٹھارہ برس تک مثل ملزمان کالے پانی میں رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسی شام سے گھرگھرہماری دعوتیں ہونے لگیں اور وہ وہ نفیس اور عمدہ کھانے ہم کوکھلائے گئے کہ ہند میں مجھ کو تو کبھی ایسے کھانے نصیب بھی نہ ہوئے تھے۔ وہ ہمارا خیال کہ اب ہم کو ساری عمر صرف جیل کا کھانا کھانا پڑے گا، اس قادرِ مطلق نے اس نعم البدل کے ہمارے دل سے قلع قمع کرا دیا اور اپنی قدرت کو دکھلا دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ہم اس جزیرے میں پہنچے ہزاروں مرد عورت قیدیوں کو دیکھا کہ ماتھا ان کا کھود کر پیشانی پر ان کا نام اور جرم اور لفظ دائم الحبس لکھا ہواہے کہ وہ نوشت مثل نوشتہ تقدیر کے تمام عمر نہیں مٹتی۔ مگر یہ تائید الٰہی سنیے کہ ہمارے پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے وہ حکم ماتھا کھودنے کا تمام عملداری سرکار سے ہمیشہ کے واسطے موقوف ہوگیاتھا۔ اس سبب سے اس داغِ دائم الحبس سے بھی ہم محفوظ رہے۔ ‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوبی۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتواریخ العجائب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک شخص کی خود نوشت نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ایمانیات کے درجہ میں ترتیب پانے لائق ہے۔ اس کے مطالعہ سے میں نے جانا کہ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا ربّ کریم پر ایمان اتنا پختہ اور غیر متزلزل تھا کہ کہیں ان کے پاؤں نہیں ڈگمگائے۔ وہ جس ابتلاء میں مبتلا ہوئے، رب کریم نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انہیں اس مشکل سے نکال لیا۔ تکالیف میں ان کے لیے آسانیوں کے دروازے کھول دیے۔ مولاناؒ نے اپنی خود نوشت میں اللہ رب العزت کے اس انعام اور شانِ کریمی کا ذکر تسلسل سے کیا ہے۔ یہ خود نوشت قاری کے دل میں موجود ایمان پر برگ و بار لاتی ہے اور انسان کا دل اس رب کریم کی رحمتوں پر پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ میں نے اپنے قلب پر واضح اس کتاب کے روحانی ثمرات محسوس کیے ہیں۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ عالم باعمل کی تحریر بھی اس کی صحبت کی مثل ہوتی ہے جس کی خوشبو دل و روح میں سرایت کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ واقعی تواریخ عجیب ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب مولانا جعفر تھانیسریؒ اٹھارہ برس کی جلاوطنی کاٹ کر وطن لوٹے تو ہر شخص کی خواہش تھی کہ اُن پتھریلے سیاہ جزائر کے بارے میں جانے جہاں انگریزوں نے عقوبت خانے تیار کیے اور باغیوں کو اُن میں مقید کر دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان خلیج بنگال کے مشرق کو 92 درجہ 470 دقیقہ طول شرقی اور 11 درجہ 43 دقیقہ عرض شمالی پر کلکتہ سے قریب چھ سو میل کے واقع ہیں۔ یہ مجموعہ جزائر 1746 میل کے گھیرے میں، جس میںقریب ایک ہزار جزیرے شامل ہیں، بنام انڈمان مشہور ہے۔ علم طبقات الارض کے محققوں کا یہ قول ہے کہ یہ جزائر کسی زمانہ میں براعظم ایشیا سے ملے ہوئے تھے۔ پھر زمانے کے پھیر پھار اور سمندر کی موجوں سے کٹتے کٹتے اوّل یہ ٹکڑا بر اعظم ایشیا سے علیحدہ ہو گیا تھااور پھر آخر کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہوتے چھوٹے چھوٹے جزیرے ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہاں سے پانچ روز میں کلکتہ سے اگن بوٹ پہنچتاہے اور تین روز میں رنگون سے مولین یہاں سے تین سو میل مشرق وشمال اور سنگا پور چار سو میل گوشہ مشر ق و جنوب میں اور پنانگ تین سو پچاس میل مشرق میں اور نکوباریاننکوڑی اسّی میل جنوب میں اور مدراس آٹھ سو میل مغرب اور لنکا آٹھ سومیل گوشہ مغرب و جنوب میں واقع ہیں۔ یہ جزائر سب پہاڑ ہیں، ہموار زمین بہت کم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقریب سوبرس کے ہوئے سب سے اوّل لیفٹیننٹ بلیر ایک جہازی سردار نے یہاں آکر لنگر ڈالا تھا۔ اسی سبب سے پورٹ بلیر اس جزیرے کا نام ہوا۔ انہیں ایام میں جس کو سو برس ہوئے سرکار نے پہلے بھی قیدیانِ حبس بعبور دریائے شور کا رکھنا تجویز کیا تھا۔ مگر ناموافقی آب و ہوا کے سبب سے 1796ء میںیہ جزیرہ آباد ہو کر پھر اُجڑ گیا تھا۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد سرکار کو پھر اس کی ضرورت ہوئی اور مارچ 1858ء سے گویا دوبارہ اس کی آبادی شروع ہوئی اور پہلے پہل بغاوت کے قیدی یہاں لاکر رکھے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشروع آبادی میں مدت تک جنگلی لوگ سخت مخالف رہے۔ چنانچہ دومرتبہ انہوںنے ڈاکٹر واکر صاحب سپرنٹنڈنٹ اوّل کے عہد میں بڑی بھاری جنگلیوں کی فوج جمع کر کے ایک دفعہ ہدو پر دوسری بار ابرڈین پر حملہ کیا۔ آخر ملایمی اور حکمتِ عملی سرکار سے وہ فرمانبردار ہوگئے اور اب جنگل یا بستی میں جہاں کہیں وہ ملتے ہیں تو نہایت خاطر داری سے پیش آتے ہیں، گو شروع آبادی میں ان وحشیوں نے بہت خون خرابے کیے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ چار فٹ سے پانچ انچ تک اونچے مثل حبشیوں کے سیاہ فام، گول سر، آنکھیں ابھری ہوئیں، سر پر بھیڑ کے سے بال مگر نہایت مضبوط اور قوی ہوتے ہیں۔ ان کل جزائر انڈمان میں ان کی بارہ ذاتیں ہیں، ایک ذات کی زبان دوسری قوم سے بہت کم ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ جنگلی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا آسمان میں رہتا ہے، وہی خالق ہر شے کا ہے اور سب سے بڑا ہے۔ وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا محل بہت عمدہ اور نفیس آسمان میں ہے اس کوکوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کے گھر سے پانی برستا ہے، بجلی کا شعلہ اور کڑک بھی اسی کے پاس سے آتی ہے، موت بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ بھلائی اور روزی بھی وہی دیتاہے۔ مسماۃ چانا پالک ایک اس کی جورو بھی ہے اس کی جورو کو بھی فنا نہیں اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوئی۔ مگر اس کا درجہ خدا سے کم ہے۔ اس کا کام ہے کہ سمندر میں مچھلیاں پیدا کرے، وہی مچھلیوں کو آسمان سے گراتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ شیطان کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب برے کام شیطان کراتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ شیطان دو ہیں، ایک زمین کا شیطان جس کا نام اِرم چوگلا ہے۔ جب زمین پر کوئی ناگہانی موت سے مر جاتا ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ارم چوگلا نے مار ڈالا ہے۔ ایک سمندر کا شیطان ہے جس کا نام جورو ونڈا ہے۔ جب کوئی آدمی ڈوب کر مر جاتا ہے توکہتے ہیں کہ اس کو جورو ونڈا نے مار ڈالا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ فرشتوں کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مرد عورت دونوں جنس سے ہیں اور جنگل میں رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھوت پریت کے بھی قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ ان کو کچھ اختیار نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا یا غیر خدا کی کسی چیز کی پوجا نہیں کرتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ طوفانِ نوح کے بھی قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک بار زمین پرایساطوفان آیا تھا کہ ساری دنیا ڈوب گئی تھی اور ان جنگلیوں کے بزرگ ایک کشتی بنا کر اس پرسوار ہو گئے تھے اور ایام طوفان میں بہت دنوں تک اس کشتی میں سوار رہے۔ جب طوفان رفع ہوا تو وہ کشتی کسی پہاڑ منجملہ کوہ ہائے جزائر انڈمان کے ٹھہری تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم سے طبع شدہ ’’کالا پانی‘‘ کے نسخہ کی انفرادیت و اہمیت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم کی خواہش تھی کہ ہمارے ادارہ سے کالا پانی (تواریخ عجیب) کا صحیح ترین نسخہ شائع ہو۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ تگ و دو کی۔ ہری پور سے محبی زاہد کاظمی کی معاونت بھرپور رہی اور ’بک کارنر‘ جہلم کے ڈائریکٹر امر شاہد نے ذاتی دلچسپی لے کر اس کتاب کے متعدد نسخے فراہم کیے۔ یہ اُن ہی کی معاونت کا ثمر ہے کہ مجھے صحیح ترین نسخہ تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن بہت چھوٹے سائز پر شائع ہوا تھا، جس میں کوئی ذیلی سرخی نہ تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد ایوب قادری کا کہنا ہے، ’’کالا پانی کا پہلا ایڈیشن ہمیں مفتی انتظام اللہ شہابی کے ذخیرہ علمیہ سے دستیاب ہوا۔ اب یہ کتاب آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس (کراچی) کی لائبریری میں موجود ہے۔‘‘ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کراچی کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری مرحوم نے چھان پھٹک کے بعد انہی دو ایڈیشنوں کو سامنے رکھ کر اصل متن کی صحت کو جانچا پرکھا، اور ادارہ یادگارِغالب نے یہ کتاب 2015ء میں شائع کی۔ اسی تلاش کے سفر میں دوسرے نسخہ کی فائل دستیاب ہوئی اور اطمینان ہو گیا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیجیے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمطالعہ کیجیے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ کی سیر سے لطف اندوز ہوں اور دل و روح کو سرشار کیجیے کہ مطالعہ ہی زندگی، مطالعہ ہی سانسوں کا تسلسل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حامد سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخانقاہ سراجیہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچشمہ بیراج، ضلع میانوالی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460324602041,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6750fa7ba751785155834.jpg?v=1785856367"},{"product_id":"dastaan-e-lucknow-داستان-لکھنؤ","title":"DASTAAN-E-LUCKNOW  داستان لکھنؤ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیادش بخیر، لکھنؤ .... عالم میں انتخاب ایک اور شہر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تہذیب، ایک روایت، ایک اسلوبِ حیات کہ مؤرخوں نے، شاعروں نے، اپنوں نے، غیروں نے، اس کے ایک ایک رُخ پر سو سو طرح سے روشنی ڈالی ہے۔ عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ایک پُرکشش اور سحر انگیز اور پُر ماجرا تاریخ۔ نوابین و شاہانِ اودھ کا یادگار دور کچھ ایسا ہی تھا کہ لکھنے والوں نے کبھی اس کو شیراز کا بدل قرار دیا تو کبھی اسے مشرقی تمدن کا آخری نمونہ کہا گیا کبھی اس کو پیرس کے مدِ مقابل رکھا گیا۔ عاشقان و فدایانِ لکھنؤ کی فہرست میں ایک بہت ممتاز اور مایۂ ناز نام سیّد محمد باقر شمسؔ، کہ جن کے تبحرِعلمی کا نہ صرف اُن کے معاصرین و مؤرخین میں اعتراف کیا جاتا تھا بلکہ عصرِ حاضر کے اکابرینِ علم و ادب میں بھی ان کے کام کو اسناد و اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ لکھنویات کے تمام گوشوں پر ان کی تحریریں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لکھنؤ کی تاریخ، لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت و ثقافت، لکھنؤ کی زبان، شاعری، ادب و فنون، لکھنؤ کی عزاداری، گویا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا۔ کم شہر ایسے ہوں گے جن پر ایک جگہ اِتنا جامع مواد مہیّا کر دیا گیا ہے۔ خانوادۂ باقر شمسؔ قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے کام کو سامنے لانے کا اہتمام کیا۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد اور گگن شاہد نے کتاب کی دیدہ زیب و دلآویز طباعت میں اپنے معیار کو برقرار رکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاعر و محقق، سابق صدر اکادمی ادبیات پاکستان، ادارۂ فروغِ قومی زبان، تمغۂ حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460327125177,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66d570b1cc54b1725264049.jpg?v=1785856482"},{"product_id":"dabastaan-e-lucknow-دبستان-لکھنؤ","title":"DABASTAAN-E-LUCKNOW  دبستان لکھنؤ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیادش بخیر، لکھنؤ .... عالم میں انتخاب ایک اور شہر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تہذیب، ایک روایت، ایک اسلوبِ حیات کہ مؤرخوں نے، شاعروں نے، اپنوں نے، غیروں نے، اس کے ایک ایک رُخ پر سو سو طرح سے روشنی ڈالی ہے۔ عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ایک پُرکشش اور سحر انگیز اور پُر ماجرا تاریخ۔ نوابین و شاہانِ اودھ کا یادگار دور کچھ ایسا ہی تھا کہ لکھنے والوں نے کبھی اس کو شیراز کا بدل قرار دیا تو کبھی اسے مشرقی تمدن کا آخری نمونہ کہا گیا کبھی اس کو پیرس کے مدِ مقابل رکھا گیا۔ عاشقان و فدایانِ لکھنؤ کی فہرست میں ایک بہت ممتاز اور مایۂ ناز نام سیّد محمد باقر شمسؔ، کہ جن کے تبحرِعلمی کا نہ صرف اُن کے معاصرین و مؤرخین میں اعتراف کیا جاتا تھا بلکہ عصرِ حاضر کے اکابرینِ علم و ادب میں بھی ان کے کام کو اسناد و اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ لکھنویات کے تمام گوشوں پر ان کی تحریریں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لکھنؤ کی تاریخ، لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت و ثقافت، لکھنؤ کی زبان، شاعری، ادب و فنون، لکھنؤ کی عزاداری، گویا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا۔ کم شہر ایسے ہوں گے جن پر ایک جگہ اِتنا جامع مواد مہیّا کر دیا گیا ہے۔ خانوادۂ باقر شمسؔ قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے کام کو سامنے لانے کا اہتمام کیا۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد اور گگن شاہد نے کتاب کی دیدہ زیب و دلآویز طباعت میں اپنے معیار کو برقرار رکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاعر و محقق، سابق صدر اکادمی ادبیات پاکستان، ادارۂ فروغِ قومی زبان، تمغۂ حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460328304825,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66d570a4924541725264036.jpg?v=1785856619"},{"product_id":"anarkali-انارکلی","title":"ANARKALI  انارکلی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج معروف ڈراما نگار اور طنز و مزاح نگار تھے۔ بچپن ہی سے ڈرامے سے دلچسپی تھی، یہ ان کا خاندانی ورثہ تھا۔ ابھی تعلیم مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ ایک ادبی رسالہ ’’کہکشاں‘‘ نکالنا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں ڈرامے کے فن نے کوئی خاص ترقی نہیں کی تھی ۔مگر اس کے باوجود عوام میں دلچسپی برقرار تھی۔ مرد عورتوں کا کردار ادا کرتے تھے اور پنڈال سے تالیوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ بائیس برس کی عمر میں امتیاز علی تاج نے ڈراما ’’انار کلی‘‘ لکھا جو آج بھی اُردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا، سحر بیانی ایسی کہ قاری کے ہوش غائب۔ ڈراما ’’انارکلی‘‘ لکھا تو جیسے طوفان آ گیا۔ ادب میں جو مقبولیت اس ڈرامے کو ملی وہ ایک مثال ہے۔ یہ ڈراما جہانگیر اور انارکلی کے فرضی معاشقے پر مبنی تھا اور یہ محض قیاس نہیں کہ کے- آصف نے مغل اعظم کی بنیاد رکھنے سے قبل اس ڈرامے کو ضرور پڑھا ہو گا ۔ امتیاز علی تاج نے ڈرامے میں ہر کردار کو زندہ جاوید بنا دیا۔ مکالمے ایسے کہ سیدھے دلوں میں اتر جائیں اور تماشا یہ کہ کم عمر میں شہزادے نے مقبولیت کے چاند کو چھو لیا۔ وہ فکر کیا تھی جس نے ڈراما ’’انارکلی‘‘کو لافانی زندگی دی ۔مت سہل ہمیں جانو۔ اس نے غلام ہندوستان سے علامتیں اور استعاروں کے نگینے قبول کیے اور تقدیر و تدبیر کی عظیم داستان ’’انار کلی‘‘ میں یہ نگینے جڑ دیے۔ ڈراما بغیر مکالموں کے نہیں کھیلا جاسکتا .... اور حقیقتاً انسانی قدروں کے ابلاغ کے اس مؤثر ذریعہ سے وہ واقف تھا اور آج کی تاریخ میں اس تاریخ کے ہزاروں شو ہو چکے ہیں۔ یہ ڈراما ہماری زندگی ، معاشرہ اور سیاست کا آئینہ دار ہے۔ برجستہ اور حسین مکالموں نے ڈراما ’’انارکلی‘‘ کو وہ مقبولیت دی کہ آج بھی ڈرامے کا سحر طاری ہے ۔ وہ تخیلاتی سفیر تھا۔ اس کی زندگی عشقِ اُردو کی تفسیر اور وہ اعتمادِ ذات سے نگینے تراشتا تھا ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج کے فروغِ حسن سے دیے آج بھی روشن ہیں۔ اُردو ہمیشہ زندہ رہے گی اور دیے کی روشنی میں کبھی کمی نہ آئے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460356714681,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6141b50fc29b81631696143.jpg?v=1785858119"},{"product_id":"raziya-sultana-رضیہ-سلطانہ","title":"RAZIYA SULTANA  رضیہ سلطانہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہم نے بچپن میں اپنے نانا قیسی رامپوری کے تین ناول والدہ مرحومہ کے پاس دیکھے جن میں ’’ٹیپو شہید‘‘، ’’فردوس‘‘ اور ’’پھیکی چاندنی‘‘ تھے۔ آج تک ان کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور یہ ہمارے کتب خانے کا حصہ ہیں۔ بعد میں ہم کو بقیہ ناول بھی مل گئے۔ تنقید نگاروں نے عام طور پر تاریخی ناول نگاروں کے ناولوں پر زیادہ نشتر چلائے ہیں، جب کہ قیسی صاحب نے ’’رضیہ سلطانہ‘‘ کے پیش لفظ میں یہ بات لکھ دی ہے کہ ’’تاریخی ناول لکھنے سے بہتر تو یہ ہے کہ انسان تاریخ ہی لکھے۔‘‘ تو ان تمام ناول نگاروں کے پیشِ نظر ایک ہی مقصد تھا کہ لوگوں کو پڑھنے کے لیے اچھا فکشن میسّر آئے۔ قیسی صاحب کی زندگی کو ہم چار ادوار میں دیکھتے ہیں۔ جب وہ رامپور میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے اور 1924ء تک وہیں رہے۔ پھر 1924ء سے 1944ء تک اجمیر میں قیام پذیر ہوئے اور وہی دَور افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کی پہچان بنا۔ پھر آخری ڈھائی تین سال دلّی میں گزارے اور 1947ء میں پاکستان ہجرت کر آئے، پاکستان میں بھی انھوں نے بہت سے ناول لکھے۔ جب ہم نے قیسی صاحب کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’غبار‘‘ شائع کیا تو اپنے مضمون میں یہ لکھا تھا کہ ’’آسمانِ اُردو میں کتنے ہی ستارے کتنے ہی چاند ہر دَور میں چمکتے رہے، وقت گزرتا رہا کچھ ستارے ادب کے افق پر سدا ہی چمکتے رہے، کچھ گہنا گئے، لیکن افق سے غروب نہیں ہوئے۔ کہکشاؤں کے جھرمٹ میں کتنے ہی نام ہیں۔ کن کن کو گنوائیں۔ ایم اسلم، شوکت تھانوی، رئیس احمد جعفری، نسیم حجازی،ابن انشا، ابراہیم جلیس، رفیعی اجمیری، قابل اجمیری، نہ جانے کتنے اَن گنت نام کہ جن کے فن کی قدر شناسی دنیا کرتی آئی ہے۔ اس جھرمٹ میں وقت کی تہ میں دب جانے والے بے شمار نام، لائبریریوں میں مٹی کھاتی کتابوں کی دبیز تہوں میں دبے نام، دل چاہتا ہے کہ ان لکھنے والوں کا نام ان کی کتابیں، ان کے مضامین، ان کی شاعری جھاڑ پونچھ کر نکالی جائیں اور ایک بار پھر سے شائع کی جائیں۔ ان کے نام کو، ان کے کام کو، پھر سے جلا بخشی جائے۔ قیسی رامپوری ایسا ہی ایک نام ہے جو ایک زمانے میں اُردو ناولوں میں زبردست پذیرائی حاصل کرنے والا نام تھا۔‘‘ بک کارنر جہلم کے برادران امر شاہد اور گگن شاہد کے کام کو ہم جب دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے نئے ادب کے ساتھ پُرانے ادب کو بھی جلا بخشی ہے اور کتنی ہی کتابیں دوبارہ ایسی شائع کی ہیں جو وقت کی تہ میں دب چکی تھیں۔ ان کی ادبی کاوشوں پر ہم ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعادل حسن (کراچی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقیسی رامپوری (پیدائش: 20 جون 1908ء - وفات: 10 فروری 1974ء)، اُردو زبان کے معروف مصنف، ناول نگار، ڈراما نویس، مترجم اور افسانہ نگار تھے۔ وہ صاحبِ اسلوب ادیب، تذکرہ نگار اور سفرنامہ نگار ملا واحدی دہلوی کے داماد تھے۔ قیسی کی جائے پیدائش رامپور ٹھہری۔ پہلے قیسی اجمیری کے نام سے بھی لکھتے رہے۔ اصل نام حامد الدین خلیل الزماں خان، والد بزرگوار کا نام محمد زمان خان، سلسلۂ نسب چونتیسویں پشت میں حضرت قیس عبدالرشید سے جاکر ملتا تھا جن کا مزار کابل میں ہے۔ پردادا کابل سے نوشہرہ آکر آباد ہوگئے تھے۔ والد نے رختِ سفر باندھا اور ریاست کوٹہ آکر آباد ہوگئے۔ اپنے قیسی ہونے کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں، ’’قیسی نہ تو میرا تخلص ہے نہ جناب قیس عامری کی لیلیٰ پرست ذات سے میرا کوئی تعلق ہے۔‘‘ فکرِ معاش سے آزاد ہوکر ادیب فاضل کا امتحان دیا، اس کے بعد منشی فاضل کا اور آخر میں انٹر کا۔ ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز اجمیر سے ہوا۔ رسالہ کیف میں پہلا افسانہ ’’ایثارِ مجسم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ وہاں ان کی ملاقات رفیعی اجمیری سے ہوئی۔ کچھ عرصہ خواجہ حسن نظامی کے ہاں دہلی میں بھی قیام کیا۔ ادب میں انھوں نے ناول نگاری کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ معاشرتی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر لاتعداد ناول تحریر کیے جس کا سلسلہ تقسیمِ ہند کے بعد ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان کے ناولوں کی تعداد 100 سے زائد ہے جن میں رضیہ سلطانہ، چاند بی بی، ٹیپو شہید، آخری فیصلہ، خیانت، نکہت، اچھے دن، عمو، انجم، اپاہج، برہنہ، بے آبرو، چوراہا، دل کی آواز، فرزانہ، حُور، ابلیس، اجالا، تیسرا راستہ، فردوس، کلیم وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے اور بعد کے کچھ ادبی جرائد کی ادارت بھی کی۔ ایک تخلیق کار، مترجم اور ادیب کے طور پر قیسی نے بھرپور زندگی گزاری۔ انھوں نے اپنی تخلیقی قوت، زورِتخیل، فنی ہنرمندی اور اندازِ بیان کی سادگی و جاذبیت کے ذریعے بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں میں اردو کے افسانوی ادب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تاریخ کے موضوع پر ایک کتاب ’’دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات‘‘ بھی تحریر کی۔ ناولوں کے تراجم بھی کیے، جن میں وِلا کیدر کے ناول ’’My antonia‘‘ کا ترجمہ ’’ویران ہے دل‘‘ خاصا مقبول ہوا۔ تھامس ہارڈی کے مشہور ناول ’’Jude the obscure‘‘ کا ترجمہ کیا تو اس کا عنوان سیماب اکبری آبادی نے ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ تجویز کیا۔ پاکستان آنے کے بعد بھی قیسی کا قلم نہیں رکا بلکہ بےشمار ناول لکھتے رہے، وہ اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناول نگار مانے جاتے تھے۔ قیسی رام پوری 10 فروری 1974ء کو بعارضہ قلب کراچی میں انتقال کر گئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460360679609,"sku":"BC SSH","price":460.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61bfec78972091639967864.jpg?v=1785858319"},{"product_id":"firdausi-فردوسی","title":"FIRDAUSI  فردوسی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eلاہور کے زمانۂ قیام میں ایک روز معظمی سیّد غلام عباس صاحب قبلہ سے فردوسی کا ذکر آگیا۔ موصوف نے مجھ سے فردوسی کے سوانح حیات پر کوئی افسانوی کتاب لکھنے کی فرمائش کی اور اپنی تحقیق کے مطابق بہت سی باتیں نوٹ کرائیں۔ ہندوستان پہنچ کر میں نے اس سلسلہ کی کئی کتب کا مطالعہ کیا اور واقعات میں راویوں کا اس قدر اختلاف پایا کہ قوتِ فیصلہ جواب دینے لگی۔ بالآخر علامہ شبلی کی ’’شعرالعجم‘‘ کو رہبر بنانا پڑا مگر بعض مقامات پر عقل نے علامہ مرحوم کی رائے سے اتفاق نہ کیا۔ اس لیے خود فردوسی کی قیادت کی ضرورت محسوس ہوئی اور شاہنامہ کے چیدہ چیدہ اشعار سے داستان مرتب کرنا پڑی۔ جہاں تک شاہنامہ کی ابتدا کا تعلق ہے بلاشک و شبہ وہ طُوس میں ہوئی۔ ایرانیوں کی وطنیت اور فردوسی کا مذاقِ سلیم اس کا محرک ہوا۔ آغازِ تصنیف کا سال قرائن سے 365 ہجری قرار پایا ہے۔ کیونکہ فردوسی نے اپنے قول کے مطابق اَسّی سال کی عمر اور 400 ہجری میں شاہنامہ مکمّل کیا اور تصنیف میں پینتیس سال صَرف ہوئے۔ سلطان محمود غزنوی کی تخت نشینی 388ہجری میں ہوئی اور ظاہر ہے کہ اس کے تخت پر بیٹھتے ہی اس قدر شہرت نہ ہوئی ہو گی کہ فردوسی غزنی کا عازم ہو جاتا۔ دو چار سال بعد جب جود و سخا کا آوازہ گونجا تو فردوسی نے بھی ادھر کا رُخ کیا۔ اس لیے فردوسی کی طوس سے روانگی 390 ہجری یا اس کے بعد ہوتی ہے اور شاہنامہ مکمّل ہونے کے فوری بعد اس نے غزنی کو چھوڑ دیا لہٰذا اس کا زمانۂ قیام دس سال سے زائد سمجھ میں نہیں آتا۔ واقعات کے بارے میں نتیجہ اخذ کر کے قلم اُٹھایا تو یہ دشواری سامنے آئی کہ افسانوی کردار اس انداز سے کھیارے جائیں کہ حقائق مسخ نہ ہونے پائیں۔ اس ضمن میں مَیں نے جتنی احتیاط کی ہے اس کا اندازہ تاریخ داں حضرات کر سکیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوحشی محمود آبادی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460361498809,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61950763f34631637156707.jpg?v=1785858422"},{"product_id":"azadi-e-hind-آزادی-ہند","title":"AZADI E HIND آزادی ہند","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e1959ء- پہلی مرتبہ مختصر متن انگریزی میں \"India Wins Freedom\" کے ٹائٹل سے دہلی (ہندوستان) سے ادارہ ’اورینٹ لونگ مین لمیٹڈ‘ نے شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1988ء- تیس صفحات کے اضافے کے ساتھ ہمایوں کبیر کا مرتب کردہ مکمّل متن ادارہ ’اورینٹ لونگ مین لمیٹڈ‘ نے ہی انگریزی میں شائع کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1991ء- شمیم حنفی نے ہمایوں کبیر کا مرتب کردہ مکمّل متن اُردو میں منتقل کیا جسے ’’ہماری آزادی‘ کے نام سے ’اورینٹ لونگ مین لمیٹڈ‘ نے شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2020ء- شمیم حنفی کا ترجمہ ’’آزادئ ہند‘‘ کے نام سے جہلم (پاکستان) سے ’بک کارنر‘ نے نستعلیق کمپوزنگ، تصاویر اور جدید طباعت کے ساتھ شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’انڈیا ونس فریڈم‘‘ نے آخرکار خود اپنی آزادی جیت لی۔ اس خودنوشت بیانیے کا مکمّل متن، مہربند کرکے نیشنل لائبریری کلکتہ اور نیشنل آرکائیوز نئی دہلی میں تیس برس تک محصور رکھا گیا۔ 1958ء میں ’’راوی‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور ’’راقم‘‘ ہمایوں کبیر نے اشاعت کے لیے ایک قدرے مختصر اور نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا تھا جس میں سے ایسے واقعات اور تاثّرات جو بالخصوص ذاتی نوعیت کے تھے، الگ کر دیے گئے تھے۔ اشاعت کے پہلے ہی سال میں اس مسودے کے تین بڑے ایڈیشن نکلے اور اس وقت سے یہ بارہا شائع کیا جا چکا ہے۔ اب ہمارے سامنے مکمّل متن ہے جسے ایک عدالتی ہدایت کے ذریعے ستمبر 1988ء میں رہائی ملی۔ نہ صرف یہ کہ اصل عبارت کے تمام الفاظ اور فقرے جوں کے توں پیش کر دیے گئے ہیں بلکہ عبارت کا اصل لہجہ اور مزاج بھی پوری طرح بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ متن اب اس امر کا انکشاف کرتا ہے کہ اب تک کے غیرشائع شدہ صفحات کے بارے میں بہت مدّت سے جو قیل و قال جاری تھی، وہ پوری طرح حق بجانب تھی۔ جنھوں نے پرانا ایڈیشن پڑھ رکھا ہے انھیں ایسے نکات کا اندازہ فوراً ہو جائے گا جن کے باعث یہ بیانیہ سابقہ بیانیے سے مختلف ٹھہرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا ابو الکلام آزاد (1888ء -1958ء) کا نام پیدائش پر فیروز بخت رکھا گیا مگر جوانی میں وہ محی الدین احمد کے نام سے جانے گئے اور اُس کے بعد انھوں نے ابو الکلام آزاد کا قلمی نام اختیار کیا۔ اُن کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو بابر کے زمانے میں ہرات سے ہندوستان آیا۔ ان کے بزرگوں میں معروف علما اور عہدےدار شامل تھے۔ مکہ معظمہ میں ان کی پیدائش کے دو برس بعد، جہاں ان کے والد مولانا خیر الدین 1857ء کے غدر کے بعد ہجرت کر گئے تھے، ان کے خاندان نے کلکتے میں اقامت اختیار کر لی۔ آزاد کو ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد اور پرائیویٹ اساتذہ سے ملی۔ ان کی سیاسی بیداری کو 1905ء میں بنگال کی تقسیم (جو بعد میں مسترد کر دی گئی) سے تحریک ملی۔ اُنھوں نے عراق، مصر، ترکی اور فرانس میں دُور دُور تک سفر کیے۔ مولانا آزاد نے جولائی 1912ء میں کلکتے سے اُردو ہفتہ وار ’’الہلال‘‘ کا اجرا کیا۔ انھوں نے جدوجہدِآزادی میں علی گڑھ کے علیحدگی کے رویے کی مخالفت کی ۔ یورپ میں 1914ء کی لڑائی چھڑنے پر ان کا اخبار پریس ایکٹ کے تحت بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد نومبر 1915ء میں، کلکتے ہی سے انھوں نے ایک اور اُردو ہفتہ وار ’’البلاغ‘‘ جاری کیا۔ مارچ 1916ء میں ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت آزاد کی شہر بدری تک برابر نکلتا رہا۔ بمبئی، پنجاب، دہلی اور صوبہ جات متحدہ کی سرکاروں نے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی اور وہ بہار چلے گئے۔ یکم جنوری 1920ء تک وہ رانچی میں نظر بند رہے۔ رہائی کے بعد آزاد کو (1920ء کے کلکتہ اجلاس میں) آل انڈیا خلافت کمیٹی کا صدر اور 1924ء میں دہلی کی اتحاد کانفرنس کا صدر منتخب کیا گیا۔ انھوں نے 1928ء میں نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کی صدارت کی۔ 1923ء میں، بعد ازاں 1940ء وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب کیے گئے اور اس منصب پر 1946ء تک فائز رہے۔ 1946ء میں انھوں نے برٹش کیبنٹ مشن سے کانگریس پارٹی کے مذاکرات کی قیادت کی۔ اس کے بعد آزاد ہندوستان کی پہلی حکومت میں وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے شامل ہوئے اور وہ اس منصب پر 22 فروری 1958ء کو اپنے انتقال تک کام کرتے رہے۔ان کی دوسری مطبوعہ کتابوں میں ’’البیان‘‘ (1915ء) اور ’’ترجمان القرآن‘‘ (1933ء-1936ء) جو تفسیریں ہیں، ’’تذکرہ‘‘ (1916ء) جو خودنوشت سوانح ہے اور ’’غبارِ خاطر‘‘ (1943ء) جو مکاتیب کا مجموعہ ہے، شامل ہیں اور یہ تمام کتابیں اُردو میں ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمایوں کبیر (1906ء - 1969ء) کلکتہ اور آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک ممتاز تعلیمی کیریئر کے بعد وہ پہلے والٹیئر کے مقام پر آندھرا یونیورسٹی میں، اور پھر کلکتہ یونیورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے 1933ء تا 1945ء کام کرتے رہے۔ 1937ء میں انھیں بنگال لیجسلیٹو کونسل کے لیے کسان پارٹی کے قائد کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ 1946ء میں آزاد نے ان کا انتخاب اپنے سیکریٹری کے طور پر کیا۔ چنانچہ آزاد سے ان کا قریبی تعلق رہا۔ حکومت ہند کے مشیرِ تعلیم کی حیثیت سے وہ 1956ء تک کام کرتے رہے، پھر وہ مستعفی ہوگئے اور 1957ء میں وہ کانگریس پارٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے پارلیمینٹ کے لیے چن لیے گئے۔ انھیں (1957ء - 1958ء) وزیر برائے شہری ہوابازی، (1958ء - 1963ء) وزیر برائے سائنسی تحقیقات اور ثقافتی امور اور (1963 ء تا 1968ء) وزیربرائے پٹرولیم اور کیمیکلز مقرر کیا گیا۔ انگریزی اور بنگلا زبانوں میں وہ بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں جو فلسفے، ادبیات، سیاسیات اور ثقافت کے موضوعات پر لکھی گئیں۔ ان کے دو ناول اور تین شعری مجموعے بھی شائع ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمیم حنفی (17 مئی 1938ء) اُردو کے ایک معروف نقاد، ڈراما نگار، مترجم اور شاعر ہیں۔ سلطان پور (یو پی) میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی وہیں پر گزاری۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے اُردو اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں ستیش چندردیب، فراق گورکھپوری، احتشام حسین اور اعجاز حسین ایسے صاحبانِ علم وفضل شامل تھے۔ چھ برس علی گڑھ یونیورسٹی میں تدریس سے متعلق رہنے کے بعد 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہو گئے، جہاں 2003ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک پڑھایا۔ اس کے بعد سے اسی تعلیمی ادارے میں پروفیسر ایمریطس کی حیثیت سے منسلک ہیں۔ شمیم حنفی کاشمار عہدِ حاضر کے اہم ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقید بھی اپنے ہم عصروں سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ ان کے یہاں تنقید لکھنے کا عمل ایک معنی میں وسیع تر تخلیقی سرگرمی سے عبارت ہے۔ فن پاروں کے اسرار تک پہنچ جانے کی جو چند مثالیں اُردو تنقید میں ملتی ہیں ان میں شمیم حنفی کی تحریریں بھی شامل ہیں ۔ایک گہرا وجودی طرزِ فکر واحساس ان کی تحریروں کی شناخت کے طور پر ابھرتا ہے۔ ان کے اُردو تراجم میں زیرِنظر کتاب کے علاوہ ’قومی یکجہتی اور سیکولرازم‘‘ (ڈاکٹر تاراچند کے خطابات)، ’’یادوں کا اُجالا‘‘ (ڈاکٹر بھگوان سنگھ کی خودنوشت)، ’’شہرِ خُوں آشام‘‘ (معاصر بنگالی زبان کی شاعری)، ’’منتخب تحریریں: جدوجہد کے سال‘‘ (پنڈت جواہر لعل نہرو کی تحریر Years of Struggle کا ترجمہ) شامل ہیں۔ شمیم حنفی ایک شاعر، نقاد، ڈراما نگار اور مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ کئی عملی فنون، مصوری، کمہار کے فن وغیرہ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Kitab Wala","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48463587049657,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f900ea43d9bb1603276452.jpg?v=1785889709"},{"product_id":"aik-qatra-khoon-ایک-قطرہ-خون-واقعہ-کربلا","title":"AIK QATRA KHOON  ایک قطرہ خون (واقعہ کربلا)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیوں تو دُنیا میں کیا نہیں ہوتا پر وہ سب کچھ نہیں ہو سکتا جو کربلا کے میدان میں ہوا۔ خلافتِ اسلامیہ پر ایک حادثہ عظیمہ جس پر آسمان خون کے آنسو رویا۔ اس کتاب میں لفظوں کی چاشنی، تصویرکشی اور زبان اس قدر اچھی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ پڑھتے ہی چلے جائیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"MISC","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48473862209721,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/611e1a827c0211629362818.jpg?v=1785951434"},{"product_id":"dara-shikoh-داراشکوہ","title":"DARA SHIKOH  داراشکوہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشہنشاہوں کی تاریخ، فوج، کنیزیں، اصیلیں، مغلانیاں، قلمقانیاں، باندیاں، لونڈیاں، نوکر چاکر، مصاحب .... ان کی داستاں کوئی لکھ سکتا تھا تو وہ قاضی صاحب تھے۔ بادشاۂ وقت، تیور بھی شاہانہ رکھتے تھے۔ محاورہ ہے کہ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا۔ نواب سے ملنے والا آیا تو وقت رُخصتی خالی ہاتھ کیسے جانے دیں۔ پیتل کا گھنٹہ دے دیا۔ ان پر لکھنے کو دُنیا بھر کی کتابیں اور کہانیاں ہیں۔ مگر آج قاضی صاحب کے صرف ایک ناول ’’دارا شکوہ‘‘ پر اکتفا کروں گا۔ ’’دارا شکوہ‘‘ پڑھتے ہوئے لگتا ہے، شاہجہاں کا پانچواں بیٹا، جس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی یہ رُوداد رقم کر رہا ہے۔ یہ ماضی کا قصّہ نہیں، یہ آج کا قصّہ ہے۔ لکھنے والے قاضی صاحب.... تاریخ کے محافظ قاضی صاحب.... اور اس دَور کے عینی شاہد قاضی صاحب.... وہ حقیقت میں بادشاہ تھے.... جلال و جمال کی شاہانہ مثال.... ’’دارا شکوہ‘‘ کسی جادو سے کم نہیں۔ جی چاہتا ہے، شاہجہاں کے کردار میں قاضی صاحب کو دیکھوں.... قاضی صاحب سے کئی ملاقاتیں رہیں، ہر ملاقات یادگار۔ کافی پہلے انھوں نے کہا تھا، افسانہ چاول پر قُلْ هُوَ اللّٰہ لکھنے کا نام ہے۔ ان کے ناول اور افسانے پڑھنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ وہ کہانیوں کے بادشاہ تھے۔ جب تک جیے شان سے جیے۔ وہ نمائش کے لیے افسانہ نہیں لکھتے تھے۔ وہ غیب کی صداؤں کو زنبیل سے نکالتے اور لفظوں کا انتخاب کرتے۔ انھوں نے جو بھی لکھا، کسی شاہکار سے کم نہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475803320505,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6029416a710ae1613316458.jpg?v=1785962741"},{"product_id":"tanha-6th-edition-تنہا","title":"TANHA (6TH EDITION)  تنہا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمجھے پاکستانی ادیبوں سے بڑی شکایت ہے کہ انھوں نے مشرقی پاکستان پر بہت کم لکھا۔ ’’تنہا‘‘ ملی تو خوشی ہوئی، پڑھی تو حیرت ہوئی۔ ایک خاتون نے کمال جراَت سے حقیقتوں کو عریاں کر دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻صدیق سالک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان اپنے ناول ’’تنہا‘‘ میں جس فنی مہارت کے ساتھ قومی لحاظ سے ایک نہایت اہم موضوع سے جس حُسن و خوبی سے نمٹی ہیں اُس کی مثال ہمارے نثری ادب میں بمشکل دستیاب ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻احمد ندیم قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں اور بانو اس عظیم ناول کے دل سے قائل ہیں۔ سانحۂ مشرقی پاکستان پر ڈھیر سارا ملکی اور غیرملکی مواد پڑھ چکنے کے بعد اگر آپ تحیر کے عالم میں ہیں تو تھوڑا ساوقت نکال کر ’’تنہا‘‘ ضرور پڑھیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپ پر ساری صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻اشفاق احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں اعتراف کرتی ہوں کہ سلمیٰ اعوان کاناول ’’تنہا‘‘ پڑھ کر میرا جی چاہا کہ کاش میں بھی جذبوں کی آویزش کا ایسا خوبصورت ناول لکھ سکتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻بانو قدسیہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان شاید پہلی ناول نگار ہیں جنھوں نے سانحۂ مشرقی پاکستان کو تاریخی سیاق سے دریافت کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻ڈاکٹر انور سدید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کا ناول ’’تنہا‘‘ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏻بشریٰ رحمٰن\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483610165433,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/656de7624e18a1701701474.jpg?v=1786039866"},{"product_id":"khuli-tarikh-کھلی-تاریخ","title":"KHULI TARIKH  کھلی تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے پاکستانی اُردو ادب کی مختصر کہانیوں، ناولوں اور شاعری میں جھلکتی پاکستانی تاریخ کی حقیقی و شفاف ترجمانی کے لیے، نوتاریخی طریقہ کار اور تکنیک کو انتہائی تخلیقی اور قابلِ ستائش انداز میں استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں ہماری تاریخ کا ایسا بصیرت انگیز اور غیر جانبدارانہ مطالعہ سامنے آیا ہے جو پاکستان، اس کی عوام اور اس کی شب و روز بدلتی سیاست کے ابعاد کو سمجھنے میں تفہیم کی نئی راہیں کھولے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر اشتیاق احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنئی تنقیدی تھیوری کے بڑے مفسرین کے نقطۂ نظر کے بر عکس اس کتاب میں لاشعوری اور غیر شخصی محرکات کو حرفِ آخر نہیں بنایا گیا۔ یہ حنا جمشید کی اپنی مہارت ہے کہ اس نے پاکستان کی تاریخ کی پیچیدہ گرہوں کو کھول کر اس کا فیصلہ قاری کے سپرد کر دیا ہے۔ اس کتاب میں آپ پڑھیں گے کہ نوتاریخیت ادیب کی ذہنی زندگی پر دباؤ ڈالنے والے محرکات، اداروں اور قوتوں کا سراغ لگاتی ہے، جو ایک بھرپور طاقت کی صورت اس کی تحریر پر اثرانداز ہوتے ہیں، مثلاً خاندانی روایات، مذہبی و نیم مذہبی عقائد، ثقافت، رسوم و رواج، حکومتِ وقت کے سخت گیر رویے وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ کہ کس طرح یہ تمام قوتیں ایک دوسرے کی طاقت میں اضافہ بھی کرتی جاتی ہیں اور خود کو قطعی غیر مبدل خیال کرتی ہیں، جیسے فقط وہ ہی فطری ہوں اور اس طرح ان کے مدِ مقابل جو بھی کھڑا ہو جائے یا ان کی نشاندہی کرے تو وہ اسے اپنا دشمن تعبیر کرتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر انوار احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حنا جمشید نے اہم مگر مشکل موضوع کا انتخاب کیا ، انھوں نے آزادی اور اس کے بعد کے پاکستانی ادب کا نو تاریخی مطالعہ جس محنت، توجہ اور ذہانت سے کیا ہے، وہ داد طلب ہے۔ ان کا عمومی نقطہ ٔنظر ترقی پسندانہ ہے، جو اِس مطالعے میں بھی جھلکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ترقی پسندی کو ایک جامد نظریہ نہیں سمجھتیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی کلاسیکی مارکسی تصور کی حتمیت پر اصرار نہیں کرتیں جس پر فرینکفرٹ سکول نے خاصی تنقید کی ہے۔ نوتاریخیت میں سماج کا تصور معاشی یا طبقاتی نہیں ہے، لیکن وہ طاقت کے تصورات (جو کئی طرح کے ہیں)کو ضرور اہمیت دیتی ہیں، کیونکہ طاقت جہاں بھی ہوتی ہے وہاں سماج بٹ جاتا ہے کہ ہر طاقت کو اپنا معروض چاہیے۔ سماجی و قومی سانحات، طاقت کے اندھے استعمال ہی کی شکلیں ہیں جنھیں حناجمشید نے اس بسیط مطالعے میں بہ طور خاص اہمیت دی ہے اور ان میں اُردو ادب اور ہماری مقامی تاریخ کے نئے رشتے دریافت کیے ہیں۔ اُمید ہے اہلِ نظر اس کام کو تحسین کی نظر سے دیکھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483997974713,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6501959e9f1fb1694602654.jpg?v=1786041378"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/history.oembed?page=3","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}