{"title":"Memoir","description":null,"products":[{"product_id":"tashqand-say-istanbul","title":"Tashqand Se Istanbul تاشقند سے استنبول","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب میرے اُس سفر کی داستان ہے جو میں نے قاسم علی شاہ کے ساتھ کیا ۔ تاریخ کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے ہی تاشقند، بخارا، سمر قند، قونیہ اور استنبول دیکھنے کا شوق رہا۔ کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی کی اور یہ تمام شہر صدیوں تک علم و ادب، سائنس، فلسفہ اور آرٹ کے مراکز رہے۔ ان شہروں نے ایسی ایسی عظیم شخصیات پیدا کیں جنہوں نے اپنے علم و فضل، دانش و تصوف اور فلسفہ و فن سے دُنیا بھر کو متاثر کیا۔ یہیں سے علوم دینیہ کی بڑی بڑی ہستیاں خدمتِ اسلام کے لیےاُٹھیں جن کے افکار سے آج بھی قلوب و اذہان میں روشنی ہوتی ہے۔ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ اس سفر میں مجھے قاسم علی شاہ کے ساتھ میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاری، حضرت قثم بن عباس، حضرت امام بخاری، حضرت بہاؤالدین نقشبندی، حضرت اسماعیل سامانی اور مولانا جلال الدین رُومی کے مزارات اقدس کی زیارت نصیب ہوئی۔ علاوہ ازیں امیر تیمور کا مقبرہ، سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد، توپ قاپی محل، دُنیا کا سب سے قدیم گرجاگھر آیا صوفیہ ، پرنسس آئی لینڈ اور قدیم شہر سیلے دیکھنے کا موقع ملا۔ لہٰذا میں نے اس کتاب میں ان شہروں کی سیاحت کے دوران میں اپنے مشاہدات اور محترم قاسم علی شاہ کی گفتار سے جو کچھ سیکھا اور وہ مقامات جہاں ہمیں جانے کا موقع ملا، ان کی تاریخ کو مختصراً تحریر کیا ہے۔ امید ہے میری یہ چھوٹی سی کاوش آپ کے لیے معلومات کا خزینہ ثابت ہو گی۔ (الطاف احمد عامر)\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431452291257,"sku":"KW-ALT-0433","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a65b3ed5dad41785050093.jpg?v=1785175344"},{"product_id":"diyar-e-shams","title":"Diyar e Shams (Turkey Nama) دیارِ شمس (ترکی نامہ)","description":"\u003cp\u003eڈاکٹر زاہد منیرعامر صاحب کی ترکی سے دلچسپی جو بچپن میں ٹکٹ جمع کرنے کے شغف کے مرحلے سے شروع ہوئی تھی عمر گزرتے گزرتے مطالعات میں اضافے کے ساتھ ایک باشعور محبت میں منتقل ہوگئی اور یہ محبت انھیں ترکی بھی کھینچ لائی ۔یعنی ڈاکٹر صاحب کا علم الیقین ترکی تشریف آوری کے بعد عین الیقین کے مرحلے تک پہنچ گیا اور جس طرح سے ان کی اس تصنیف سے علم ہوتا ہے ترکی کی زیارت نے ان کی ترکی سے محبت اور تُرک دوستی میں مثبت اضافہ کیا ہے۔اِس امر کے ڈاکٹر صاحب خود بھی معترف ہیں کہ وہ لکھتے ہیں:’’یورپ کا پہلا سفر 2011ء میں کیا گیا تھا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی ، سوئٹزرلینڈ اور سپین کے اس سفر کی روداد ہنوز نامکمل ہے۔ دوسرا سفر یورپ یونان، اٹلی اور نیدرلینڈز کا تھا، اس کی روداد سفر بھی ہنوز قلمبند نہیں ہوئی ہے لیکن ترکی ایسا زور آور نکلا کہ تمام اسفار کو پیچھے چھوڑکر سب سے پہلے اپنا سفرنامہ لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی ترکی نے زورِبازو سے نہیں بلکہ زورِ محبت سے یورپ کے معروف و مشہور ملکوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا سفرنامہ قلمبند کرایا اور بہت ہی خوب کیا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا یہ سفرنامہ اردو زبان میں لکھے گئے سفرناموں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے…ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کاوش میں قارئین کرام کو ترکی کے دو بڑے اور اہم شہروں استنبول اور قونیہ سے بخوبی متعارف کروایا ہے جس کا علم کتاب کی فہرست پر نظر دوڑاتے ہی ہوجاتا ہے…ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کامیں پھر سے اپنے شہر ’’استنبول‘‘ سے پر کشش انداز میں نئے سرے سے متعارف کرانے کی وجہ سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ستارۂ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاستنبول یونیورسٹی، شعبۂ اردو، استنبول،ترکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیوں تو ادب کی تمام اصناف ہی قاری کو جہانِ دیگر میں لے جاتی ہیں لیکن سفرنامہ ایک ایسی صنف ہے جو اپنے پڑھنے والے کو کسی افسانوی دنیا کی نہیں بلکہ حقیقی مناظر کی سیر کرواتا ہے۔ ایک اچھے سفرنامے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ مصنف (سیاح) نت نئی زمینوں کے دَر کچھ اس طرح کھولے کہ قارئین اس کے ساتھ اس سفر میں شریک ہو جائیں۔ ایک ایسا ہی سفرنامہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جس میں مصنف نے ترکی کی سیاحت کے دوران اپنے تجربات اور احساسات کو بخوبی قلم بند کیا ہے۔ میری مراد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سیاحت نامے ’’دیارِ شمس‘‘ سے ہے۔ ترکی کے دو صوفیانہ شہروں میں گھومتے ہوئے زاہد منیر عامر نے انتہائی باریک بینی اور اشتیاق سے ترک ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کو رقم کرتے ہوئے جو جذبہ شدت سے کار فرما نظر آتا ہے وہ ترکی سے محبت ہے۔ محبت کے بغیر یہ کام ہو بھی نہیں سکتا۔ سفرنامے کا انتساب ڈاکٹر صاحب نے ہمارے عظیم ترک رہنما کمال اتاترک کے نام کیا ہے جو پاک ترک دوستی کا خوب صورت استعارہ ہے۔آپ کا بہت شکریہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر …بہت شکریہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹرآسمان بیلن اوزجان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصدرشعبہ اردو،انقرہ یونیورسٹی، ترکی\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431457206457,"sku":"KW-DR.-0434","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5d7660e7dfb341568039143_f02f9b8f-ecd7-426c-a04f-7f2bdf95018c.jpg?v=1785174543"},{"product_id":"mera-pakistani-safarnama","title":"Mera Pakistani Safarnama - میرا پاکستانی سفر نامہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Balraj Sahni\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yasir Jawad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 168\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eہندوستانی فلم اور سٹیج اداکار بلراج ساہنی (یکم مئی 1913ء -13 اپریل 1973ء) کا خاندان 1947ء میں بھیرہ سے ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ہندی کے مشہور مصنف، ڈرامانگار اور اداکار تھے۔ بلراج ساہنی راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ انگلش ادب میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ واپس راولپنڈی چلے گئے اور اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگے۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلش اور ہندی کے اُستاد کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی وِشو بھارتی یونیورسٹی (بنگال) چلے گئے۔ بلراج نے پدمنی، نوتن، مینا کماری، وجینتی مالا اور نرگس کے ساتھ بندیا، سیما، سونے کی چڑیا، سٹہ بازار، بھابی کی چُوڑیاں، کٹھ پتلی، لاجونتی اور گھر سنسار جیسی فلموں میں کام کیا۔ نِیل کمل، گھر گھر کی کہانی، دو راستے اور ایک پھول دو مالی میں اُن کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ پنجابی کلاسک فلم ’’نانک دُکھیا سب سنسار‘‘ کے علاوہ ’’ستلج دے کنڈھے‘‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ بلراج ساہنی نے بطور لکھاری بھی اپنے جوہر دکھائے۔ اُنھوں نے ہندی، انگلش اور پنجابی میں لکھا۔ 1962ء میں اپنے آبائی وطن (مغربی پنجاب) کا دورہ کرنے کے بعد یہ کتاب ’’میرا پاکستانی سفرنامہ‘‘ لکھی۔ یہ تقسیمِ ہند کی وجہ سے بے وطن ہونے والوں کے دُکھ بھرپور طریقے سے بیان کرتی ہے۔ وہ لاہور، جھنگ، سرگودھا، بھیرہ اور راولپنڈی میں تجربات اور ملاقاتوں کا حال بہت خوب صورت انداز میں بتاتے ہیں۔ اُن کے خالص پنجابی انداز کو ترجمے میں ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے روس کا سفرنامہ بھی لکھا جسے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ اُن کی نظمیں اور افسانے ادبی جرائد میں چھپتے رہے۔ ان کی خودنوشت ’’میری فلمی آتم کتھا‘‘ یعنی فلمی آپ بیتی کو بہت سراہا گیا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے پی کے وسُودیون نائر کے ساتھ مل کر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن بنائی۔ وہ بعد میں اِس تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں دہلی میں غریبوں کے لیے لائبریری اور مطالعہ گاہ بنائی۔ آخری فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی ڈبنگ مکمل ہوتے ہی اُن کی وفات ہو گئی۔ وہ اپنی بیٹی شبنم کی بے وقت موت کی وجہ سے شدید غم زدہ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431480471737,"sku":"KW-BAL-0435","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f8952695ea241602835049_fdd3c8ae-39b1-4a3a-95f3-2e47b232f871.jpg?v=1785108831"},{"product_id":"zard-patton-ki-bahar","title":"Zard Patton Ki Bahar - زرد پتوں کی بہار","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eاصنافِ ادب میں خود نوشت، سوانح عمری، سفر نامہ اور خطوط اس لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہر خاص و عام کا دامنِ دل کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مطالعے سے قارئین کے ذوقِ تجسّس کو یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ ہر چند یہ تینوں صنفیںاپنے عناصرِ ترکیبی کے لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی عنصر قدر مشترک کا درجہ ضرور رکھتا ہے اور اسی قدر مشترک کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیوں کا رُوپ اختیار کر لیتی ہیں۔ دراصل قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بےحجابانہ فن کار کے دل و دماغ میں اُتر جائے اور اس خواہش کی تکمیل میں یہ اصناف بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ \u003cbr\u003eیہ اور بات ہے کہ کوئی فن کار ان اصناف کی وجہ سے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے لیکن یہ بہرحال ہیں ثانوی اصناف۔ میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، مہدی افادی، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، رشید احمد صدیقی، جوشؔ اور احسانؔ دانش وغیرہ بنیادی طور پر شاعر ہیں یا ادیب و نقّاد لیکن ان میں سے ہر ایک نے اِن ثانوی اصناف میں سے کسی نہ کسی کو اس طرح اپنایا کہ اب اس کا شمار ان کے امتیازات میں ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کلیہ مان لیا جائے تو اس کا اطلاق رام لعل کے سفر نامہ ’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ پر زیادہ بہتر طور پر ہوتا ہے۔ رام لعل بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار بھی اتنے قد آور کہ انھوں نے اس صنف کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور افسانہ نگاروں کی اس نئی نسل کو حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری سے قریب تر کر دیا جو منزل کی تلاش میں بھٹک رہی تھی اور جسے ’’برگ حشیش‘‘ کو ’’شاخ نبات‘‘ بتانے والے حضرات بہکا رہے تھے۔\u003cbr\u003eکوئی دو سال پہلے رام لعل نے ہندوستان سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔’’زرد پتوں کی بہار‘‘ اسی سفر کی یاد گار ہے۔ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں لیکن رام لعل کے اس سفر کو اس طرح کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو اُن کا وطن سے وطن کو سفر تھا۔ میانوالی (پاکستان) اُن کی جنم بھومی ہے لیکن اُنھوں نے تاریخ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا۔ جنم بھومی کی یاد کسے نہیں آتی، رام لعل بھی اس یاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور یادوں کے سائے میں اُنھوں نے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اور جب اُن کی عمر تجربہ کرتے رہنے کے حصار سے نکل کر تجربات کو عبرت و بشارت کا درجہ عطا کرنے کے قلم رو میں داخل ہوئی تو جس انسانی فطرت کو اُنھوں نے اپنے سینے میں لوریاں دے دے کر سُلائے رکھا تھا، وہ بیدار ہو گئی اور اُس نے رام لعل کو ان کی جنم بھومی میں پہنچا کے دم لیا۔ \u003cbr\u003e’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ رام لعل کا نہیں بلکہ انسانی فطرت اور جبلّت کا سفر نامہ ہے، یہ ایک فرد کا نہیں، نسل سے نسل کا سفر نامہ ہے۔ رام لعل کے اس سفر نامے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا دل دھڑک رہا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہی ادبی تخلیق لازوال بھی ہوتی ہے اور آفاقی بھی،جس میں انسانیت اپنے اصل خط و خال کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمود الٰہی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431487221945,"sku":"KW-RAM-0436","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/608b949c0ccba1619760284_0bce1f1c-cba6-49da-ae83-55c2b9052d86.jpg?v=1785108419"},{"product_id":"uncle-sam","title":"Uncle Sam Kay Des Se - انکل سام کے دیس میں","description":"\u003cp\u003eسلمان خالد کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو کبھی لائل پور کہلاتا تھا۔ ان کے اطوار میں لائل پور کی تہذیب، روایت اور شگفتگی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی سوچ، فکر اور تحریر میں ایک قدیمی دانش کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان اہلِ نظر میں سے ہیں جو نئی بستیاں ڈھونڈتے ہیں؛ نئے اُفق کی تلاش، نئے زمانوں کی کھوج۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ اپنی طرز کا ایک انوکھا سفرنامہ ہے جو کمال دلآویزی سے امریکی ریاستوں، درودیوار اور مکینوں سے روشناس کراتا ہے اور سطور اور بین السطور میں کچھ کہتے، کچھ نہ کہتے، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ دردمندی، گداز اور اخلاص، اس تحریر کا اصل خاصہ ہے۔ \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد نے خاص مہربانی یہ کی کہ وہ اخوت کے دوستوں میں شامل ہو گئے اور اس کتاب کی آمدنی انھوں نے اخوت یونیورسٹی کے لیے عطیہ کر دی جس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کیا جانا چاہیے۔ اخوت، الحمدللّٰہ، قرضِ حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اخوت یونیورسٹی بھی علم کا ایک بڑا مرکز بنے گی( ان شاءاللّٰہ) اور اس کا ایک حصہ سلمان خالد کے نام اور اخوت کے ان دوستوں کے نام مختص ہو گا جو پاکستان سے باہر ہیں لیکن پاکستان ان کے دل میں بستا ہے۔ اخوت کی تسبیح میں پروئے ہوئے یہ اَن گنت موتی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہی کی چمک سے غربت، افلاس اور جہالت کے اندھیرے دُور ہوں گے۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ ایک پاکستانی کی کہانی ہے۔ مقام اور موقع محل بدل جاتے ہیں، محبّت قائم رہتی ہے۔ اس کتاب سے بھی وہی مہک پُھوٹتی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر امجد ثاقب)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد ایک علم دوست، صاحبِ دل اور صاحبِ مطالعہ شخص ہیں۔ صاحبِ قلم ادب کا شناور ہو تو اس کا اندازِ تحریر بہت متنوع اور جاندار ہوتا ہے۔ سلمان خالد بہت انوکھے انداز میں اپنے قارئین کو امریکہ کی مختلف ریاستوں، مختلف شہروں کی سیر پوری معلومات کے ساتھ کراتے ہیں۔ ان کا ہشاش بشاش طرزِ تحریر کسی گرانی کے بغیر ہزاروں میل کا سفر طے کرا دیتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد بہت روانی کے ساتھ امریکی طرزِ معاشرت اور امریکیوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات سے آگاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے مزاج، سیاسی رجحانات، سماجی تعلقات اور وہاں کا کلچر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے ہم خود یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ایک ٹورسٹ کے انداز سے نہیں، ایک بھیدی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور یہی آنکھ قاری کی بھی وا ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا یہ سفرنامہ ایک اچھے فیملی مین اور شریف انسان کے ان دس دنوں کی کہانی ہے جو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں بھی اسی طرح آئیں لیکن اپنی عادتوں کی وجہ سے ہم اپنے ایسے دنوں میں بھی وہ رنگ نہیں بھر سکتے جو سلمان خالد نے پینٹ کیے۔ ہر قدم پہ خدا کا شکر ادا کرتا، کھانے انجوائے کرتا، بیگم بچوں کو سیر کراتا سلمان خالد وہ دیسی ہے جو امریکہ جا کر نہیں بدلا، کم از کم اس کتاب سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ دو تین گھنٹے میں کتاب مُک جاتی ہے لیکن خیال آتا ہے کہ سفر جاری رہنا چاہیے تھا۔ کوئی ایک آدھی گوری اپنی حدیں پار کرتی، کوئی پب ہوتا، کوئی ان پہ ڈُل جاتا .... ایک دو جگہ ویسے یہ سانحہ بھی پیش آیا لیکن خود سے تیس سال بڑی خواتین نے ہی نظرِ شفقت کی، خدا جانے کیا وجہ ہوئی۔ اگر آپ سفرناموں میں اچھا کھانا انجوائے کرتے ہیں، رواں نثر پڑھنا چاہتے ہیں اور قدم قدم پہ بہت زیادہ انگریزی الفاظ سے نہیں گھبراتے (جو میں خود بھی استعمال کرتا ہوں) تو بسم اللہ کیجیے، پسند آئے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسنین جمال- داڑھی والا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431497904313,"sku":"KW-SAL-0437","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62d96404eb3231658414084_a66b8f6f-d393-45b2-83d4-9bcfd85a9ee0.jpg?v=1785108182"},{"product_id":"aankh-cheen","title":"Hairat bhari aankh mein cheen - حیرت بھری آنکھ میں چین","description":"\u003cp\u003eاگر میں کہہ دوں کہ مجھے سلمیٰ اعوان کی نثر سے عشق ہے تو یقین جانیے اس میں رتی برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ میں برسوں سے انھیں پڑھ رہا ہوں؛ تب سے جب مجھے ڈھنگ سے قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ جیسی جیتی جاگتی، الہڑ مٹیار کی سی چنچل نثر وہ لکھتی ہیں، کوئی ہے جو ویسی لکھ پائے؟ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپورتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے اُنگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی چِین کے اس سفرنامے میں ہو رہا ہے۔ چِین جو میں نے دیکھ رکھا ہے؛ مگر جس رُخ سے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے میں نے نہیں دیکھا۔ میں ایک بچے کی طرح اُن کی انگلی تھامے حیرت سے چِین کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا؛ اس چِین کو جس کے سامنے کے مناظر میں تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی جھانک رہا تھا۔ \u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کہیں ستر اور اسّی کی دہائیوں والی اس چینی قوم کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو سائیکلوں پر سوار تھی اور پھر پیڈل مارنے والے زمانے کے لد جانے کے ذکر کے بعد وہ چِین دکھاتی ہیں جس میں عوام شاندار ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں، بسوں اور میٹرو میں سفر کرتے ہیں اور مخصوص یونیفارم پہننے والی خوب رُو لڑکیاں برینڈڈ ملبوسات میں ہیں اور ٹکا کے میک اَپ کرتی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجالندھر کے گاؤں سمی پور میں قیامِ پاکستان سے چار سال قبل پیدا ہونے والی سلمیٰ اعوان ساری عمر ملکوں ملکوں گھومتی رہی ہیں اور دُنیا کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکا یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں۔ لہٰذا چِین کے اس سفرنامے میں یہاں وہاں کے اور ہر زمانے کے مناظر بہم ہو کر اسے کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ سفر نامہ اس لڑکی کی کہانی ہو گیا ہے جس نے ڈھاکا یونیورسٹی کے گرلز ہال میں چِین اور روس نواز طالبات کے مائو اور لینن سے یگانگت کے نعرے سنے تھے اور مائو کی ترجمہ شدہ طوفانی نظموں کو جوشیلی آوازوں میں جنونی لڑکیوں سے گاتے ہوئے سنا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمٰی اعوان چِین کی عظمت کے ایک ایک نشان کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ چلن بھی سُجھا دیتی ہیں جو کسی زندہ قوم کا ہو سکتا ہے ۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431501082809,"sku":"KW-SAL-0438","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63b9264516f481673078341_8394acef-a397-4b02-b611-4a983848a456.jpg?v=1785107948"},{"product_id":"salma-awan","title":"Hairat bhari aankh mein cheen, Jo Dekha Jo Suna Jo Beeta (2 Books Set) - حیرت بھری آنکھ میں چین، جو دیکھا جو سنا جو بیتا (دو کتب)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003e \u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431503868089,"sku":"KW-SAL-0439","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/642fc74c768e31680852812_df0311dd-780d-4ead-9f13-518055308653.jpg?v=1785107844"},{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431527198905,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431537717433,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"hawai-rozi","title":"Hawai Rozi - ہوائی روزی","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کی تحریر میں بلا کی روانی، دلچسپی، چاشنی اور شرارت ہے۔ ہم سب ہمیشہ سے جاننا چاہتے تھے کہ فضائی سفر کے دوران روبوٹ کی طرح نظر آنے والا فضائی عملہ آپس میں کس طرح پیش آتا ہو گا اور ان میں کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ خاور جمال نے کمال دلچسپی سے یہ احوال بیان کیا ہے۔ میں ہمیشہ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ سرزمینِ ملتان سے ہیں جس سے مجھے عشق ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سطر سطر پر حیرتوں، مسکراہٹوں اور انکشافات سے پالا پڑے گا۔ سو پلیز سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو جائیے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگل نوخیز اختر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے تو مجھے کتاب کا عنوان ’’ہوائی روزی‘‘ بے حد پسند آیا ہے۔ چوں کہ مصنف ایک فضائی میزبان ہیں تو اس مناسبت سے کتاب کا نام ذو معنی ہے بلکہ کسی نقاد کی طرح کہوں تو ایہام ہے۔ بقول یوسفی، جہاں کسی لفظ کا مشکل متبادل موجود ہے وہاں آسان لفظ کہیں نہیں لگاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ نئی کتاب دیکھ کر میں اس کا سرسری جائزہ لیتا ہوں، سونگھتا ہوں، خوشبو آئے تو کھول کر دیکھتا ہوں کہ اس میں جان ہے یا نہیں پھر ہی اسے پڑھنے کا تردد کرتا ہوں، ورنہ پرے رکھ دیتا ہوں۔ اس کتاب کی مہک نے پہلے صفحے سے ہی مجھے اپنی جانب کھینچ لیا، اس اجنبی دوشیزہ کی طرح جو پاس سے گزرتی ہے تو فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصرف کتاب کا نام ہی نہیں، اس کے ابواب کے عنوانات بھی بہت عمدہ اور تخلیقی ہیں۔ مصنف خاور جمال ایک فضائی میزبان ہیں اور اس کتاب میں انھوں نے فضائی میزبانی کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھی اس لیے یہ اپنی جگہ ایک قابلِ ذکر کام ہے۔ خاور جمال میں حسِ مزاح خوب ہے اور بعض جگہ انھوں نے صرف مزاح سے ہی کام نہیں لیا بلکہ قاری کو رُلا بھی دیا ہے، خاص طور سے وہ باب جس میں انھوں نے اپنے اُن دوستوں کا ذکر کیا ہے جو ایک فضائی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ واقعی بہت دُکھ بھرا باب ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ نوجوان اگر اسی طرح لکھتا رہا تو ایک دن پائلٹ بن جائے گا۔ اس مصنف میں لکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ موصوف سکہ بند لکھاری حسنین جمال کے بھائی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سب سے میٹھی گنڈیری آپ کو آخر میں پیش کی جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر پیرزادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘... لیکن ایک جغادری قسم کے گھاگ لکھاری کے دل سے نکلی ہوئی بات کبھی سیدھی کاغذ تک نہیں پہنچتی۔ پہلے اسے دماغ کی لیبارٹری سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں اس پر تراش خراش کے نشتر چلتے ہیں۔ پھر خود تنقید کے کیمیائی محلول میں ڈبو کر اس کی تمام آلائشیں صاف کی جاتی ہیں، خوب صورت بوتلوں میں بند کر کے ان پر دیدہ زیب لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں اور پراڈکٹ کو قارئین کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کے دل سے جو باتیں نکلی ہیں، انھیں وہ کسی طرح کے تکلفات کی راہ پر ڈالنے کی بجائے بلا کم و کاست اور براہ راست کاغذ پر لے آئے ہیں۔ اور یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔ ان کی باتیں کچے ناریل کا پانی ہیں۔ چینی اور فوڈ کلر کی ملاوٹ سے بے نیاز یہ مشروب آپ کے مشام جاں کو سیراب کرتا ہوا سیدھا آپ کی روح میں اتر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرنل محمد خان نے فوجی رنگروٹوں کی بظاہر خشک اور بے کیف زندگی سے جس دلچسپ انداز میں پردہ اٹھایا تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خاور جمال نے ہمیں بتایا ہے کہ ایئر سٹیورڈ کو محض مسافروں میں کھانا بانٹنے والا ایک کارکن مت سمجھیے۔ وہ بھی آپ کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہے اور سینے میں دھڑکتا ہوا ایک دل رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر ہم دوسرے جنم پہ یقین رکھتے تو دعا کرتے کہ اگلی بار خاور جمال ایک ایئر ہوسٹس کے روپ میں نمودار ہو تاکہ اس کتاب کا ایک نسائی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف وقار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431548858553,"sku":"KW-KHA-0443","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a35b052deda1721981701_0bb53bab-df88-498c-9c6d-a72034688a9a.jpg?v=1785106121"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431551774905,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431587786937,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436848001209,"sku":"KW-NAW-0446","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432282566841,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432283091129,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432286695609,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950"},{"product_id":"mujhe-sab-hai-yaad-zara-zara-مجھے-سب-ہے-یاد-ذرا-ذرا","title":"MUJHE SAB HAI YAAD ZARA ZARA مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eقارئینِ کرام! یہ تصنیف بڑی تنوع کی حامل ہے۔ اِس میں کچھ ایسی یادوں کا تذکرہ ہے جو حافظے کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں اور تنہائی جنھیں دُہراتی رہتی ہے۔ بعض واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں اور کئی ایک ایسے حیرت انگیز، تحیر خیز اور ’اَن فراموش ایبل‘ ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے پر میں آج تک ششدر ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِن تحریروں کے بعد کا بیشتر حصہ فارسی شعر و ادب سے متعلق ہے۔ 62-1961ء کے دوران جب میں یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں ایم اے فارسی کی تیّاری کر رہا تھا، مجھے سیّد وزیر الحسن عابدی جیسے فارسی ادب کے جیّد سکالر کے لیکچروں سے استفادے کا موقع ملا۔ عابدی صاحب جیسے اساتذہ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے نصابی اور غیرنصابی اِرشادات اور فرمودات میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ اِن قیمتی ملفوظات کا ایک حصہ بھی اِس کتاب میں شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء میں مجھے جدید فارسی کی تحصیل کے لیے ایران جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ہمیں تہران کے نزدیک واقع ایک یونیورسٹی (دانشگاهِ سپاہیانِ انقلاب) کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں ایران کے بڑے فاضل اساتذہ (محمد حسین خراسانی صاحب، غروی صاحب، صالحی صاحب اور اُستاد دادبِہ) کے لیکچروں کی بدولت فارسی زبان اور شعر و ادب کی نزاکتوں اور نزہتوں سے بڑی نادر آگاہی اور شناسائی حاصل ہوئی۔ 120 دنوں پر محیط قیامِ ایران کے مشاہدات اور نوٹس بھی اِس کتاب کا حصّہ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب میں ان یادوں اور یادداشتوں کی گٹھڑی آپ کے حوالے کرتا ہوں… سپردم به تو مایهٔ خویش را… \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے کہا نہیں تھا؟… اِس پیرانہ سالی میں بھی… مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور مسعود)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Kitab Wala","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385735786681,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/695282dd415721767015133.jpg?v=1785282657"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-2nd-edition-قابل-اعتراض-دوسرا-ایڈیشن","title":"QABIL-E-AITRAAZ - 2ND EDITION قابل اعتراض - دوسرا ایڈیشن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436993654969,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d4dd19403661775557913.jpg?v=1785283313"},{"product_id":"kahaniyan-duniya-ki-کہانیاں-دنیا-کی","title":"KAHANIYAN DUNIYA KI کہانیاں دنیا کی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان متعدد جہات سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں میں جو خصوصیت دوسری خصوصیات کے مقابلے میں بہت نمایاں محسوس ہوئی وہ سلمیٰ اعوان کے مشاہدے کی اتنی شدید، بلکہ میں کہوں گا کہ اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی وَرید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال دکھایا گیا ہے۔ سلمیٰ کا اسلوب اتنا رواں اور پُرکشش ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے فن میں کوئی ایسا سحر ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور صرف لے لیتا ہی نہیں، اپنی گرفت کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ کسی منہ بند چشمے کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ ’’وہ اک تارا‘‘ کیا کمال کی کہانی ہے۔ مجھے تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی کہانی کو صرف میں ہی سمجھ سکتا ہوں کہ میں اُس پس منظر سے مکمل واقف ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاینا اور ہیثم کی محبت کی کہانی میں روس کے لیڈروں کی سیاسی اور ذاتی بدکاریوں کا احوال بریژنیف سے لے کر لینن تک یہ سب احوال ایک ملک کی گرتی ہوئی اخلاقیات اور اس کے ساتھ ہی عوام میں غیر مقبولیت کو سلمیٰ نے سیاسی انداز میں نہیں بلکہ کہانی کی اس روانی میں جس میں اینا اور ہیثم کی محبت، قربت اور پھر ہجر کی وہ داستان ہے جو ختم ہوتی ہے اس مقام پہ جہاں مرزا صاحباں یا ہیر رانجھے کی کہانی ختم ہوتی ہے۔ نثر کی چاشنی کو شاعری کے تلازمے کے ساتھ پیش کر کے سلمیٰ نے اظہاریہ کو اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ پشکن کی نظموں کے تراجم جو ظ انصاری نے کیے ہیں، یوجینی یوٹو شینکو اور شولوخوف کا حوالہ، گوربا چوف کی گلاس ناسٹ کا تذکرہ ہو کہ جس نے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کی نیو رکھی۔ اُسی زمانے میں چیچنین مسلمان جنگجوؤں اور روسی فوجوں کی لڑائی جو آج تک دہشت گردوں کی شکل میں پاکستان کی حدود میں موجود ہیں۔ پھر روسیوں کا وہ احساسِ شرمندگی کہ افغانستان پر حملہ کرنا حماقت تھی۔ یہ تمام تفاصیل اس باریکی سے بیان کی گئی ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے آنکھیں جھپکی نہیں جاتی ہیں۔ پاکستان میں روس کے انقلاب کے بعد اُردو افسانے میں کوئی بیانیہ اس طرح کا نہیں ملتا ہے جیسا کہ سلمیٰ اعوان نے لکھا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تہذیبوں کے تصادم، ان کے جبر، ننگی بربریت اور وحشی پن کی کہانیاں اگر صدیوں پرانی تھیں تو آج کی نئی کہانیاں بھی اسی طرح کی ہیں۔‘‘ یہ کڑوا اور کسیلا تاثر سلمیٰ اعوان کا ہے جن کی اُردو ادب میں اولین نمود افسانے کی صف میں ہوئی تھی۔ سلمیٰ اعوان کو اپنے مشاہدات میں وسعت پیدا کرنے کا خیال آیا تو وہ دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ممالک غیر کے جغرافیے اور تاریخ میں ہی سفر نہیں کیا بلکہ اپنے زیرِ قدم ممالک کے معاشروں سے کہانیاں بھی جمع کیں۔ یہ دنیا کی کہانیاں ہیں اور یہ روس، فلسطین، عراق، سری لنکا، مصر، ترکی اور بنگلا دیش کے کرداروں اور معاشروں سے تراشی گئی ہیں۔ اب ان کی کتاب ’’کہانیاں دنیا کی‘‘ پڑھی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ محدب شیشے سے حیرتوں کو جمع کر رہی ہیں اور حیرتوں کو کہانیوں کا روپ دے رہی ہیں جن کے کردار حقیقی نظر آتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مسعود مفتی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385891696825,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697b5df228c8a1769692658.jpg?v=1785284577"},{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385918599353,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1785285644"},{"product_id":"woh-jo-hua-وہ-جو-ہوا","title":"WOH JO HUA وہ جو ہوا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاینی ارنویکم ستمبر 1940ء میں لیل بون، نارماندی، فرانس میں پیدا ہوئیں۔ تقریباً بیس سے زائد فکشن اور خود نوشتوں کی مصنفہ اینی ارنو کو بہت سے ناقدین فرانس کی سب سے اہم معاصر ادیبہ قرار دیتے ہیں۔انھیں ان کی بےباک اور انتہائی ذاتی نوع کی تحریروں کے لیے سراہا جاتا ہے جو سماجی ناہمواری، طبقاتی تقسیم، یادداشت اور نسوانی تجربے کو ایک منفرد اور سادہ اسلوب میں دریافت کرتی ہیں۔ ان کا کام، جو اکثر خودنوشت اور سماجی تاریخ کا امتزاج ہوتا ہے ایک طاقتور ادبی قوت سمجھا جاتا ہے اور جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ انھیں 2022ء کا نوبیل انعام برائے ادب دیا گیا۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق، ’’ان کی تحریروں میں ’کلینکل‘ باریکی ہے اور ذاتی صدمات اور اجتماعی یادداشت کو چیرنے کی ایسی صلاحیت بھی جو اُن کے کام کو منفرد بناتی ہے۔‘‘ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب \"A Man's Place\" پر Prix Renaudot اور اپنے مجموعی کام کے اعتراف میں Marguerite Yourcenar Prize بھی حاصل کیا۔ حالیہ برسوں میں انھیں International Strega Prize، Prix Formentor، French-American Translation Prize اور Warwick Prize for Women in Translation سے بھی نوازا گیا— یہ آخری اعزاز ان کی کتاب \"The Years\" کے لیے تھا، جو Man Booker International Prize کے لیے بھی شارٹ لسٹ کی گئی تھی۔ ارنو ایک مختصر، غیرجذباتی اور اکثر بےرحم نثر استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی زندگی کا تجزیہ کر سکیں۔ یہ ’کلینکل درستی‘ انھیں ذاتی تجربات کو اس انداز میں بیان کرنے کی اجازت دیتی ہے کہ وہ بیک وقت ذاتی بھی ہوں اور آفاقی بھی— قربت اور فاصلہ دونوں کا امتزاج۔ ان کا کام فرانس میں طبقاتی تقسیم پر مرکوز ہوتے ہوئے یہ بھی دکھاتا ہے کہ یہ تقسیم خواتین پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ اس شرمندگی اور بیگانگی کو دریافت کرتی ہیں جو طبقاتی تبدیلی سے جنم لیتی ہے اور محنت کش طبقے کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کی کتابیں \"The Years\"، \"Happening\"، \"A Woman's Story\" اور \"Simple Passion\" عالمی شہرت رکھتی ہیں اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ دو ناولوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے گیتانجلی شری کے ناول ’’ریت سمادھی‘‘، محمود درویش، ایڈونس اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو میں منتقل کیا۔ ان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ان کا ابتدائی بچپن ریاست بہاولپور اور پنجاب میں گزرا اور گیارہ سال کی عمر سے کراچی میں ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور 2015ء میں بی بی سی اُردو سے ریٹائر ہوئے۔ اس سے پہلے وہ اُردو کے بڑے اخبارات سے بھی منسلک رہے لیکن وہ زیادہ اہم اُن چار روزناموں کو سمجھتے ہیں جن کے وہ بنیاد گزار ایڈیٹر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی اور ایسی صاف ستھری صحافت سے متعارف کرایا کہ کراچی میں ان کا نکالا ہوا اخبار خواتین ہاکر بھی فروخت کرنے لگیں۔ 1976ء سے وہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48395714035897,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/692e9f7dc39fa1764663165.jpg?v=1785370671"},{"product_id":"jazu-bhaiyya-جاذو-بھیا-copy","title":"BIKHRI HAI MERI DASTAAN بکھری ہے میری داستاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eعالی جناب محمد اظہار الحق کی نظم و نثر کا ایک زمانہ قائل ہے۔ دنیا اخبار میں شائع ہونے والے ان کے بےشمار کالم ادب پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کتاب قبلہ گاہی کی آپ بیتی ہے، جگ بیتی بھی۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے کہ یہ رواں، سادہ و شگفتہ، حقیقت آمیز، عبرت آموز، اثر و تاثر سے لب ریز تحریر، ایک حق شناس و حق نیوش شاعر و ادیب کی نوشتہ ہے...  اور کیا چاہیے۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجیسے درسی کتب میں طالبِ علموں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بیان کریں یا ہندوستان پر اتنے حملوں کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح اُن سے اگر یہ پوچھا جائے کہ خودنوشتوں کے لکھنے کے اسباب بیان کریں تو ان کا جواب کچھ یوں ہو گا... (1) ادیب کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تو وہ خود نوشت لکھ دیتا ہے۔ (2) خودنوشت عام طور پر عمر کے آخری حصّے میں لکھی جاتی ہے۔ (3) اگر مصنف کبھی چھوٹا موٹا افسر رہا ہے تو وہ اپنی افسری کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے، اور یہ دھاک بیٹھتی نہیں، اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ (4) ادیب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے لتّے لینے ہوتے ہیں۔ یہ لتّے کس طرح لیے جاتے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔ (5) علاوہ ازیں مصنف نے اپنے کم از کم سترہ فرضی عشقوں کی روداد بیان کرنی ہوتی ہے۔ اظہار الحق کی آپ بیتی مندرجہ بالا اسباب پر پوری نہیں اُترتی۔ یہ میری پسندیدہ خود نوشت ’’جہانِ دانش‘‘ کی مانند ایک ’’جہانِ اظہار‘‘ ہے۔ آپ اس جہان میں ایک مرتبہ اتر جائیے تو آپ پر کئی جہان منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اظہار اُن چند شاعروں میں شامل ہے جو بہت زورآور اور مؤثر نثر لکھنے پر قادر ہیں... اور مجھے امید ہے کہ یہ خود نوشت ان کا ’’سوان سانگ‘‘ یا راج ہنس کا آخری گیت ثابت نہیں ہو گی۔ اُن کا تخلیقی پرندہ ہمیشہ کی طرح فضائے بسیط میں پرواز کرتا رہے گا۔\u003cbr\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395804147897,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68a7137745bff1755779959.jpg?v=1785372822"},{"product_id":"dastaan-hai-pyaarayداستاں-ہے-پیارے","title":"DASTAAN HAI PYAARAY داستاں ہے پیارے","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمحمد اقبال دیوان حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے۔ آبا و اجداد کا تعلق ریاست جوناگڑھ کے دیوان اور پٹیل گھرانے سے ہے۔ مادری زبان گجراتی اور میمنی ہے۔ جامعہ سندھ سے انگریزی زبان میں آنرز اور پوزیشن کے ساتھ ایم اے کرنے کے بعد آدم جی سائنس کالج کراچی میں انگریزی کے استاد رہے اور مقابلےکا امتحان سی ایس ایس پاس کرکے فورتھ کامن جوائن کیا۔ چھے سال کی ملازمت کے بعد جب مرکزی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں ترقی کے امکانات معدوم دِکھے تو سندھ میں صوبائی ملازمت کا امتحان پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ اسی دوران ایک کڑے بین الاقوامی مقابلے میں ہمفرے فیلو شپ کے لیے ان کا انتخاب ہوا اور امریکا کی پینسلوینیا یونیورسٹی میں اعلیٰ تربیت کے لیے چلے گئے۔ ملازمت کا زیادہ تر حصہ کراچی میں گزرا۔ وزیر نواب محمد یوسف تالپور اور سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف انھیں ڈائریکٹر سپیشل پراجیکٹس اور ڈائریکٹر فرٹیلائزر امپورٹس بنا کر وزارتِ خوراک و زراعت میں لے گئے۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد سرکار نے انھیں تربیتی اکیڈمی قائم کرنے کا فریضہ سونپ دیا، یہ اس کے بانی ڈی جی مقرر ہوئے۔ جن افسران نے ان کے پاس تربیت حاصل کی وہ اس وقت سندھ میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ یہاں سے فارغ ہوئے تو ایک بڑے تجارتی خاندان کے ادارے میں دس سال تک ایک سینئر عہدے پر فائز رہے۔ اقبال دیوان ساٹھ کے قریب ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔ مرزا غالب، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، آغا بابر، ابوالفضل صدیقی کو ادب میں، امرتا شیر گِل، کولن ڈیوڈ اور پکاسو کو مصوری میں، لتا منگیشکر، مدن موہن، شیلندر، جگجیت سنگھ اور شریا گھوشال کو موسیقی میں بہت پسند کرتے ہیں۔ محبتیں چنتے ہیں، آرزو کے محل سجاتے ہیں، مصوری سیکھتے ہیں، بے نیازانہ زیست کرتے ہیں اور میرؔ کے اس شعر کی تفسیر دکھائی دیتے ہیں... خوش رہا جب تلک رہا جیتا ... میرؔ معلوم ہے قلندر تھا... یہی نہیں، ایک لاکھ کے قریب کتابوں کی ذاتی کولیکشن رکھتے ہیں اور کم از کم دو گھنٹے روزانہ مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کتابیں ایک بہت عالی شان دعوت کا نام ہے۔ اچھا ذہن، اچھی پوشاک مان کر اس دعوت میں جائیں، اِس مہمان سے مصافحہ، اُس کو جپھّی، کہیں کسی پر دُزدیدہ نگاہ، ایک آہ، کوئی پرانا خواب، کوئی جملہ، کوئی خیال، یہ ہے شانِ مطالعہ، سو نبھائے جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیوان صاحب کی سروس سے ریٹائر ہونے سے پہلے کی زندگی اور بعد از ریٹائرمنٹ ایک مصنف کی زندگی میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے سچ بولنا۔ انھوں نے جو دیکھا، جو سنا، اسے اپنے مطالعہ، مجاہدہ اور مشاہدہ کی کسوٹی پر پرکھا، پھر جنوں کی سان پر اس کی دھار تیز کی اور پھر منطق کے دہکتے کوئلوں پر اسے رکھ کر کندن بنایا، اس لیے ان کا لکھا ہوا رگ و پے میں سرایت کرتا چلا جاتا ہے اور پڑھنے والا اس حیرت کدے سے نکل ہی نہیں پاتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکامران لاشاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذہین گہری آنکھوں اور زرخیز دماغ والا یہ میمن افسر بہت کچھ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ بہت کم بیوروکریٹس ادیب بن کر ابھرے، اور اقبال دیوان اس خاص کیٹیگری میں سے ایک ہیں جو لکھتے ہیں اور بہت اچھا لکھتے ہیں۔ دل سے زیادہ اپنے غیرمعمولی دماغ کی سوچوں کو بڑے پیار اور احتیاط سے نکال کر کاغذ پر رکھ دیتے ہیں... اور مجال ہے کہ رحم کریں۔ یہ طے ہے کہ اس غیرمعمولی کتاب کے ذریعے پاکستان کی ایک اور جان دار تاریخ لکھ دی گئی ہے۔ یہ کتاب بھی جلد کلاسک کی شکل اختیار کر لے گی۔ آنے والے زمانوں میں پڑھی جائے گی۔ ہمارے دیوان نے واقعی کچھ خاص لکھا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eداستان کوئی بھی ہو، اپنے اندر بوقلموں رہتی ہے۔ اقبال دیوان کے پاس سے گزر کر وہ تعجب، اسرار، تاسف، حیرت اور دلچسپی بھی پیدا کر لیتی ہے۔ کیونکہ اُن کے پاس مختلف الاحوال مناظر دیکھنے کے لیے آنکھ ہی نہیں جراَت بھی ہے۔ چنانچہ تصویر کی آخری پرت تک وہ اپنے کینوس کی منقش گہرائی لے جاتے ہیں۔ کتاب کی تمام تصویریں اپنا الگ ہی طرزِ دید پیدا کرتی ہیں۔ کسی ڈرامے میں بھی اتنی رنگارنگی پیدا نہیں کی جاسکتی جو اقبال دیوان نے موضوعات کے تنوع سے ایک کتاب میں پیدا کر دی ہے۔ یقین نہ آئے تو صفحات پلٹنا شروع کر دیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد طاہر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426277699769,"sku":null,"price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6899b08878e8b1754902664.jpg?v=1785615165"},{"product_id":"dastan-e-harem-saraa-داستان-حرم-سرا","title":"DASTAN E HAREM SARAA  داستان حرم سرا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنشاط خانم جارجیا کے ایک مسلمان قبیلے کے سردار کی لڑکی تھی۔ خوبصورت، سمن بر، پری پیکر۔ اس کے جمال و رعنائی کو آسمان کے تارے جُھک جُھککر دیکھتے تھے۔ اس کی برنائی اور زیبائی کے سامنے چاند ماند تھا۔ وہ شہسوار تھی، قادر انداز تھی۔ وہ وادیوں کی سیر کرتی، کوہستانی علاقوں میں بُوئے گل کی طرح عنبر افشانی کرتی لیکن ایک روز اس کی شاندار حویلی پر قزاقوں نے حملہ کیا۔ وفادار اور جاںنثار خادمائوں اور غلاموں نے خون کے آخری قطرے تک حقِ وفا نبھایا۔ خود نشاط خانم آخر وقت تک بندوق اور پستول چلاتی رہی۔ آخر وہ گرفتار کر لی گئی۔ گرفتار ہو کر غلاموں کے بازار میں پہنچی، نیلام ہوا، اور سَو اشرفی میں وہ خرید لی گئی۔ وہ قسطنطنیہ لے جائی گئی جو خلافتِ عثمانیہ اور حکومتِ ترکیہ کا پایۂ تخت تھا۔ یہاں وہ حَرم سرا میں باندی کی حیثیت سے داخل ہوئی اور ایک روز سلطان عبدالحمید ثانی کی منظورِ نظر بن کر نہ صرف حَرم سرا کی ملکہ، بلکہ سارے مُلک کی فرماںروا بن گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقسمت کا کھیل! .....عثمانی سلطان اور اس کی حَرم سرا کے بارے میں افواہوں، سازشوں اور جھوٹ پر مبنی بہت سی داستانیں انگریزوں نے لکھی ہیں، جن کا ایک حرف بھی سچ نہیں۔ نشاط سلطانہ نے اپنی سرگزشتِ حیات \"My Harem Life\" کے نام سے لکھی ہے جو دلچسپ بھی ہے، سبق آموز بھی اور عبرت انگیز بھی! یہ ناول بھی ہے اور تاریخ بھی!.....ناول سے زیادہ دلچسپ اور تاریخ کی طرح مستند!.....اس میں محلات کی سازشیں، حَرم سرا کی زندگی، ترکوں میں آزادی اور استقلال کی تحریک، سلطان کی معزولی، نئی حکومت کے قیام اور نئی ترک عورت کی کہانی نشاط خانم نے لکھ کر قلم توڑ دیا ہے۔ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ شروع کرنے کے بعد ختم کیے بغیر چین نہیں آ سکتا۔ (رئیس احمد جعفری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعثمانی سلطنت کی شیرازہ بندی ٹوٹی تو کتنے ہی کردار بکھر کر رہ گئے۔ کچھ تاریخ کی سرخیوں میں آئے، کچھ کے ماتھوں پر ذلت رقم کر دی گئی اور چند بد نصیب ایسے بھی ٹھہرے جنھیں تاریخ نے اپنے صفحات میں جگہ بھی دینا مناسب نہیں سمجھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب کی مصنفہ عثمانی سلطنت کا ایسا ہی کردار ہے جو اپنی شناخت کھو کر طاقِ نسیان میں دھرا ہے۔ نشاط سلطانہ کی شناخت اس حد تک گُم ہوچکی ہے کہ اس کی لکھی خودنوشت \"My Harem Life\" کا بطور حوالہ بھی کسی کتاب میں ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط سلطانہ کون تھی، یہ تحقیق طلب مسئلہ ہے۔سرِدست اس کی اپنی خودنوشت کے مطالعے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ جارجیا کے کوہستانی علاقے کی رہنے والی تھی جسے رہزنوں نے اغوا کر کے استنبول کے بازارِ غلاماں میں لا بیچا اور یہاں اس کا خریدار کوئی اور نہیں بلکہ حرمِ عثمانیہ کے چیف خواجہ سرا قیزلر آغا کا معاون تھا، جس نے اسے حرمِ سلطانی کے لیے پیش کر دیا۔ یہ’ خرید ‘ والدۂ سلطان پرستو قادین کی نظر میں پسندیدہ ٹھہری اور انھوں نے نشاط کی شاہی آداب میں تربیت اور مختلف فنون و علوم سکھانے میں خصوصی دلچسپی لینا شروع کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط جو اغوا کے بعد اپنے نصیب کی سیاہ بختی پر کُڑھتی و شاکی رہتی تھی، یک لخت اوجِ کمال کی سیڑھیاں چڑھنے لگی اور ترقی کے مختلف مدارج طے کرتے کرتے حرم سرا میں مناسبات کے شعبے کی انچارج بنا دی گئی؛ اب اس کی مرضی کے بغیر نہ تو حرم سرا سے کوئی گزارش باہر جا سکتی تھی، نہ کسی کی عرض داشت منظور ہو سکتی تھی۔ مستزاد یہ کہ سازشوں و رقابتوں سے رچے اس ماحول میں وہ اپنی صاف دلی کے سبب والدۂ سلطان کے بہت قریب ہوگئی، جو عثمانیوں کی حرم سرا میں سب سے مقتدر ہستی تھیں۔ والدۂ سلطان پرستو قادین نے نشاط کو اپنے لے پالک بیٹے اور چونتیسویں عثمانی سلطان، عبدالحمید ثانی کو پیش کیا جسے سلطان نے قبولیت بخشی۔ یہ نشاط سلطانہ کا اوج تھا... اونچائی کی وہ حد جس کے بعد زوال منہ کھولے کھڑا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلطان عبدالحمید ثانی کا آسان ترین تعارف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ عثمانی سلطنت کا اورنگ زیب عالمگیر تھا، یعنی اس کا آخری ’مقتدر‘ بادشاہ۔ افسردہ آنکھوں والا یہ سلطان جس پر بچپن سے ہی الم ناکی نے اپنا جالا بننا شروع کر دیا تھا کہ اس کی سگی ماں بچپن میں ہی چل بسی، سگے بہن بھائی بھی زندگی کی چند بہاروں سے زیادہ نہ دیکھ سکے اور جب تخت ملا تو پے در پے مشکلات نے سلطان کی اقتدار پر گرفت کمزور کر دی۔ پھسلتی ریت کو مُٹھی میں رکھنے کے لیے جتنا زور سلطان نے لگایا، اس نے سلطنت کی چولیں ہلا دیں۔ سیاسی حالات ایسےگنجلک ہوئے کہ سلطان کو معزول کر کے سالونیکا (Salonica) ’جلا وطن‘ کر دیا گیا اور نشاط سلطانہ، جس کا ستارہ اوجِ کمال پر پہنچا ہی تھا، یک لخت ڈوب گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ عرصہ قبل موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی اہلیہ کے اس بیان نے ترکی و یورپی پریس میں خاصی ہلچل مچائی کہ عثمانی سلاطین کی حَرم سرا ایک تعلیمی انسٹیٹیوشن اور اچھی چیز تھی۔ خاتونِ اوّل کا یہ بیان اس کتاب میں درج واقعات کی روشنی میں خاصا درست معلوم ہوتا ہے۔ اخبارات میں ہوئی تنقید کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یورپی مستشرقین نے عثمانیوں کی حَرم سرا کو اپنے تخیل کی قباحتوں سے خوب ’رنگین ‘ کیا ہے، جب کہ درحقیقت حرم سرا ایک ایسا عزلت خانہ تھا جس کے بارے میں استنبول کے باسی بھی زیادہ نہیں جانتے تھے، چہ جائیکہ سینکڑوں میل دُور یورپی دارالحکومتوں میں بیٹھے علما کو درست خبر مہیا ہوتی۔ یہ تو عام، سب کی دیکھی بھالی بات ہے کہ جس چیز کے بارے میں معلومات کم ہوں اور تجسس زیادہ ہو تو خبروں کےاس فقدان کو افواہ سازی و رنگین کاری سے پُر کیا جاتا ہے کہ کچھ تو گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ یہی ستم عثمانی حَرم سرا پر بھی ڈھایا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو دانستہ یا نا دانستہ، مصدقہ یا غیر مصدقہ باتیں عثمانی حَرم سرا پر لکھی گئیں تھیں، امتدادِ زمانہ نے ان کو تاریخ کے مسند پر بٹھا کر سچ کی سند عطا کر دی ہے۔ حَرم سرا کا تاثر عوام میں کچھ اس ڈھب کا بن چکا ہے کہ جب بھی حَرم سرا کا ذکر ہو تو اس قصے کو سنجیدہ محفلوں میں دوہرایا نہیں جا سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۹۰۵ء میں سلطان عبدالحمید ثانی کے ہی دَور میں ترکی کی معاشرت پر خالد خلیل کی یادداشتیں \"The Diary of a Turk\" کے نام سے منظر عام پر آئی (اس کا اُردو ترجمہ بھی بک کارنر کے پلیٹ فارم سے جلد ہی ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے)، اس کتاب میںخالد خلیل نے حَرم سرا کا منظرنامہ کچھ ان الفاظ میں پیش کیا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ترکی میں وہ حصۂ مکان جہاں مستورات رہتی ہیں حرم کہلاتا ہے اور مردوں کے حصۂ مکان کو سلاملق کہتے ہیں جو کہ عام ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ گو مکان کی تمام مستورات کو مجموعی طور پر حَرم ہی کہتے ہیں تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ سب صاحبِ خانہ کی بیبیاں ہیں۔ ہر شخص کی زوجہ، والدہ، ہمشیرہ، دختر نیز وہ عورتیں جو شرعاً بلانقاب اس کے سامنے ہو سکتی ہوں، اس کے حرم میں داخل ہیں۔ ہر خاندان میں مفصلۂ ذیل اشخاص کو حرم سرا میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ صاحبِ خانہ، اس کے بیٹے، والد، خسر اور نسبتی بھائی۔ بڑے بڑے شہروں مثل قسطنطنیہ، سمرنا اور ادرنہ میں لوگ اپنے دُور کے رشتے داروں کو بھی اندر جانے کی اجازت دے سکتے ہیں اور جو کہ یورپین رسم و رواج اختیار کرتے ہیں، اپنے گہرے دوستوں کو بھی داخل کر سکتے ہیں، لیکن پرانی وضع کے خاندانوں میں جو کہ آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، صاحبِ خانہ کا کوئی مرد رشتے دار تیرہ یا چودہ برس کی عمر کے بعد حرم سرا میں نہیں جانے پاتا اگر اس سے اور دختر صاحبِ خانہ یا دوسری قابل نکاح لڑکیوں سے شادی ہونا ممکن ہو۔ یہ پابندیاں متمول اشخاص میں زیادہ تر ہیں۔ ایسے خاندانوں میں حرم سرا اور مردان خانہ میں ایک گھومنے والی الماری کے ذریعہ سے کاروبار عمل میں آتا ہے اور پارسل اور کھانے کے برتن منگائے یا بھیجے جاتے ہیں۔ یہ الماری اس دیوار میں سوراخ کر کے لگائی جاتی ہے جو کہ مردان خانہ کو حرم سرا سے جدا کرتی ہے۔ عورتوں کو مردوں کی نظر سے بچانے کے لیے ایک اور ترکیب یہ کی جاتی ہے کہ حرم سرا کی کھڑکیوں میں جالی لگاتے ہیں جس کا یہ منشا ہوتا ہے کہ عورتیں تو باہر کی ہر شے اس جالی کے پیچھے سے دیکھ سکتی ہیں، لیکن کوئی مرد قریب کی سڑکوں، باغوں اور مکانوں سے انھیں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو میں غالباً عثمانیوں کی شاہی حَرم سرا سے معنون کوئی بھرپور کتاب موجود نہیں۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی حیثیت بارش کے پہلے قطرے کی سی ہے جو تاریخ کی ’تحریف شدہ‘ زمین پر جب پڑے گا تو اسے صاف توکرے گا ہی، کیا پتا مذکورہ موضوع پر مزید تحقیق کا شوق ابھارنے میں بھی ثمر آور ثابت ہوسکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو اُردو میں جناب رئیس احمد جعفری مرحوم نے ترجمہ کیا ہے جو اپنی سند آپ ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ کتاب ۱۹۵۹ء میں ’’سلطانہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ ادارہ بک کارنر نے محنت، سلیقے اور خوب صورتی کے ساتھ بامقصد کتب کی اشاعت کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے اور کتاب کے اس ایڈیشن کو نایاب تصاویر سے مزین، تسہیل و تصحیح کے ساتھ اور رائج اُردو املا سے ہم آہنگ کر کے، مکمل حروف خوانی کے بعد خوب صورت طور پر شائع کر رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس کام میں ان کا معاون بن سکا۔ (سلمان خالد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450221473977,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b9fc955951785313788.jpg?v=1785785814"},{"product_id":"agar-mujhe-qatal-kia-gaya-اگر-مجھے-قتل-کیا-گیا","title":"AGAR MUJHE QATAL KIA GAYA  اگر مجھے قتل کیا گیا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبھٹو کی کتاب ’’اگر مجھے قتل کیا گیا....‘‘ کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ترجمے سے پہلے قارئین کرام میری چند ضروری معروضات کو ضرور پڑھ لیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصےسے اس کتاب کاشہرہ رہا ہے۔ یہ کتاب بھٹو مرحوم نے جیل کی اس کوٹھڑی میں لکھی جو اُن لوگوں کے لیےمخصوص کی ہوتی ہے جنھیں موت کی سزا دی جانی ہو۔ راولپنڈی جیل میں موت کی وہ کوٹھڑی جہاں شہید بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور یہ کتاب کاغذوں کو گھٹنوںپررکھ کر مکمل کی کہ انھیں وہاں لکھنے پڑھنےکی سہولتیں حاصل نہیں تھیں، مٹی اور اینٹوں سےبنی ہوئی وہ کوٹھڑی تو مارشل لا کے حکمران نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میںمسمار کروا دی۔ لیکن اس کوٹھڑی میں لکھی گئی یہ کتاب موت کی اس کوٹھڑی کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو اور غیرملکی زبانوں میں جیل میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد خاصی ہے اور ان میں سے بعض کو دائمی اہمیت اور شہرت بھی حاصل ہوئی ہے۔ حبسیات کے حوالےسے بھٹو مرحوم کی یہ کتاب ان زندہ رہنے والی کتابوں میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصے تک اس کتاب کو دبایا گیا۔ پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت جنرل ضیاء الحق کے حکم سے ممنوع قراردی گئی۔ اسے شائع کرناجرم تھا۔ اسے فوٹو سٹیٹ اور دستی نقل کی صورت میں رکھنا، پڑھنا اور تقسیم کرنا ایسا جرم تھا جس کی سزا کوڑے اور جیل کی کوٹھڑی ہو سکتی تھی۔ ایک دو ایسے پریس جہاں اسے شائع کرنے کی کوشش کی گئی وہاں چھاپے پڑے۔ ان کے مالکوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پریس بھی ضبط کرلیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیا کےمارشل لا کے دور میں مرحوم بھٹو کی زندگی میں ان کی کردار کشی اور سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کومتاثر کرنے کےلیے فوجی ٹولےنے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی حکومت کی طرف سےان کی اور ان کے حکومت کےخلاف وائٹ پیپر شائع کیے جائیں۔ یہ ایک گھنائونی چال تھی، جو جان لیوا دشمنی پر ہی مبنی نہیں تھی بلکہ اس کےذریعے سپریم کورٹ کے ججوں، پاکستان کے عوام اور عالمی رائےعامہ کو بھی گمراہ کرنامقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے شائع، جاری اور تقسیم کیے جانے والے دو وائٹ پیپرز کاجواب اس کتاب میں دیا ہے۔ اس کےبعد تین جلدیں مزیدشائع ہوئیں، جن کا جواب بھٹو مرحوم نہ دے سکے کیونکہ ان کی زندگی کی ڈوری پھانسی کے پھندے کے ذریعے کاٹ دی گئی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹومرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے مرتب کردہ ان وائٹ پیپرز کی دو جلدوں کا جواب سپریم کورٹ میں پیش کرنےکے لیے لکھاتھا۔ سپریم کورٹ نے اس اہم دستاویز کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ایساکیوں ہوا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس کے مضمرات بھی اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ بہرحال مارشل لا حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آگئی کہ بھٹو مرحوم کے اس جواب کو دبایا اور نیست و نابود کر دیا جائے۔ اپنی جگہ یہ طرزِ عمل کتنا گھنائونا ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قدم قدم پراسلام کانام لینے والے اور قرآنی آیات پڑھنے والے جنرل ضیاء الحق کو یہ سیدھا سادہ انسانی، اخلاقی، مذہبی اور قانونی اصول یادنہ رہا کہ ملزم کو جواب دینے کا ہرطرح کاحق حاصل ہوتا ہے اور اسے اس حق سےمحروم کرنے والا دین و دُنیا دونوں لحاظ سےخود بہت بڑا مجرم اور گناہ گار ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لیے پاکستانی عوام جدوجہد کرتے اور متجسس رہے۔ فوٹو سٹیٹ کاپیوں کی صورت میں یہ خفیہ طورپر پڑھی جاتی رہی۔ یہ فوٹو سٹیٹ کاپیاں نامکمل اور ناقص تھیں۔ دوسری طرف پڑوسی ملک بھارت میںاس کتاب کو موقع پرستوںاور تاجروںنےاپنے انداز میں استعمال کیا۔ اس اہم ترین تحریرکے ناقص اور نامکمل اردوترجمے ہوئے،انھیں بڑےناقص انداز میں شائع کیاگیا۔ انگریزی میںبھی اسے بہت سے ناشروں نے ادھورا ہی شائع کرکے پڑھنے والوں کے تجسس اور ذوق کامالی استحصال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی صورت میں پہلی بار بھٹو مرحوم کی اوریجنل تحریر کا مکمل اور پورا اُردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ مستندکتاب سے کیا گیا ہے، جو بھٹو مرحوم کی ہی اپنی تحریر تھی، اس میںکوئی شبہ نہیں کیاجاسکتا۔جب بھٹو مرحوم نے یہ تحریر راولپنڈی جیل کی موت کی کوٹھڑی میں لکھی اور اب جب اس کا پہلا ترجمہ آپ تک پہنچ رہا ہے تو وقت کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی تیزی سے بہہ چکاہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیاء الحق اپنے خوفناک انجام سے دوچار ہوچکا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی حکمرانی ہے اور بھٹو مرحوم کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کےہاتھوں میں ملک کی قیادت آچکی ہے۔یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ محترمہ بےنظیربھٹو کو پاکستان کی قیادت 1988ء میں ملی تواس وقت کاپاکستان 1970ء کے پاکستان سےبھی زیادہ شکستہ اور کمزور حالت میں ہے جب جناب بھٹو نےملک کی قیادت سنبھالی تھی۔ بہرحال یہ ایک عظیم چیلنج ہے، جس کاسامنا محترمہ بے نظیر بھٹو کو کرنا پڑ رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹو مرحوم کی اس آخری طویل اور مکمل تحریر کا ترجمہ بذاتِ خود ایک کربناک تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ قارئین بھی جب بھٹو مرحوم کی اس تحریرکوپڑھیں گے تو بہت کرب اور بے چینی محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیںگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اگرمجھے قتل کیا گیا....‘‘ ایک عہدِ تاریک کاآئینہ ہے۔ جس میںایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبیہوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ بھٹو مرحوم یہ کتاب لکھتے ہوئے کس کرب سے گزرے ہوں گے۔ لکھنےپڑھنے کی سہولتوں کے فقدان کے باوجود انھوںنے یہ کتاب جس انداز میںلکھی ہے، یہ اپنی جگہ بڑا اہم کارنامہ ہے۔ بھٹو مرحوم اپنے ہی الفاظ کےمطابق ہمیشہ سے ایک شاعر اور انقلابی تھے۔ یہ کتاب، اس کا طرزِ اسلوب، اس کی نثر ثابت کرتے ہیں کہ بھٹو واقعی ایک شاعر اور انقلابی ہے۔ اس کتاب میں شعریت اور انقلاب کا ایک ایسا امتزاج ملتاہے جس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ طرز ِاسلوب کسی مصنّف کی اصل پہچان اور رُوح ہوتا ہے۔ اس میں انفرادیت حاصل کرنا سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ بھٹو مرحوم اس کتاب کی نثر اور طرزِ اسلوب کےحوالے سے اس کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین دور کا تجزیہ ہے۔ اس سازش کا قصہ ہے جس نےایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس میںہمیں بہت سےچہرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چہرے جو اَب بساطِ ہستی سے غائب ہوچکے ہیں اور کچھ اب بھی موجود ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں جن کا مطالعہ لرزا دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کو ضیاء الحق کے دور میں اس لیے بڑی سختی سے دبایا گیا کہ بھٹو مرحوم نےجو انکشافات کیے تھے اس کا جواب نہیں دیاجاسکتاتھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بھٹو کی نابغیت پوری شان سے جھلکتی ہے۔ ان کا علم، تجربہ، بےپناہ حافظہ اور بات کہنے کا اسلوب پورے عروج پر ملتا ہے۔ ایک قانون دان اور عظیم عوامی سیاست دان کی حیثیت سے بھی یہ کتاب ان کا روشن پہلو ہمارے سامنےلاتی ہے۔ یہ کتاب ان کی بےپناہ ذہانت اور ذکا وت، ملک کے عوام کے ساتھ دردمندی کو ظاہر کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں، اس پر میں اس لیے کچھ نہیں کہوں گا کہ 1978ء میں لکھی جانے والی اس کتاب نے آج 1989ء تک بھٹو کے تجزیے اور بصیرت پر صداقت کی گئی مہریں ثبت کر دی ہیں۔ بھٹو مرحوم نے معروضیت کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ اپنی حکومت کی خامیاں بڑی دلیری سے پیش کی ہیں۔ خوداحتسابی کا اظہار بےباکی سےملتا ہے اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ ایک عظیم رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سچّے محبّ وطن پاکستانی کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔یہ کتاب سچّے واقعات اور کرداروں کا دلچسپ لرزہ خیزاظہار کرتی ہے۔ جب بھٹو عوامی اور فلسفیانہ دانش کے امتزاج سےطنز کرتے ہیں توان کی تحریر کا حُسن نکھر کر، سامنے آتا ہے۔ بھٹو کی طنز بڑی طاقتور ہے۔ کیونکہ یہ طنز حقائق پر مشتمل ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کا مطالعہ ایک بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت میں نے پوری کوشش کی ہے کہ بھٹو کا طرزِ اسلوب بھی جس حدتک ممکن ہو سکے اُردو میں منتقل کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے امورجو بعد میں سامنے آئےان کی وضاحت کردی گئی ہے، تاکہ قاری اس کتاب کے آئینے میں پوری تصویر دیکھ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس میں مجھے کس حدتک کامیابی ہوئی ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والے ہی کر سکیں گے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستّار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاہور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22 اپریل 1989ء\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450228617401,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6249ef4938e7d1649012553.jpg?v=1785785972"},{"product_id":"mere-muhtaram-میرے-محترم","title":"MERE MUHTARAM  میرے محترم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسنا تھا کہ بچے فرشتوں کی ڈاک سے بھیجے جاتے ہیں، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہو گا مگر خدا جانے فرشتوں کے دل میں کیا آئی کہ مجھے رامپور کے ایک ایسے خاندان میں تقسیم کر دیا جہاں پڑھنے لکھنے کا رواج ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ ادیبوں، شاعروں، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی بھرمار تھی۔ کچھ ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے دور دور تک خاندان کا نام روشن کیا، جیسے علی برادران، یعنی مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی جو برّصغیر کی سیاست کا ایک ایسا ورق ہیں، جس کے بغیر آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ اسی خاندان میں حافظ احمد علی خاں شوقؔ بھی تھے جنھوں نے ادب، تحقیق اور تذکرہ نگاری میں بہت سے سنگ میل قائم کیے۔ ان کاایک عظیم کارنامہ ’’تذکرہ کاملانِ رامپور‘‘ ہے، جس کو کسی حد تک ریاست رامپور کی تاریخ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ حافظ احمد علی خاں صاحب، نواب رامپور کے وزیروں میں سے ایک تھے اور وہ رضا لائبریری کے پہلے لائبریرین بھی تھے۔ اُس وقت یہ لائبریری شاہی کتب خانہ کہلاتی تھی۔ اور وہ پہلے آدمی تھے جنھوں نے انگریزی کی طرز پر لائبریری کیٹلاگ بنوایا، جو آج بھی رامپور رضا لائبریری میں موجود ہے۔ حافظ صاحب کے ایک پوتے مشہور پینٹر شاکر علی تھے، جن کو پاکستان میں جدید مصوّری کا امام کہا جاتا ہے۔ حافظ صاحب کے اور ایک پوتے شجاعت علی رامپور رضا لائبریری کے اسسٹنٹ لائبریرین کی حیثیت سے برسوں کام کرتے رہے، بعد میں سیاسی میدان میں نام کمایا اور ہر سچّے محب وطن کی طرح جیل کی صعوبتیں بھی اٹھائیں۔ یہ شجاعت علی صاحب میرے والد تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآنکھوں نے دیکھنے کا سلیقہ سیکھا تو پہلی نظر اُن ہزاروں کتابوں پر پڑی جو پر دادا حافظ احمد علی شوق کی کوٹھی میں اس طرح پڑی ہوئی تھیں کہ دھول اور دیمک کے سوا اُ ن کا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔ پتا نہیں کیوں مجھے ان کتابوں پر بڑا ترس آیا اور میں نے سیکڑوں کتابیں جو وقت کی دست بُرد سے بچ گئی تھیں، پڑھ ڈالیں۔ کچھ سمجھ میں آئیں کچھ نہیں آئیں مگر پڑھنے کا ایسا چسکا لگا کہ یہ بُری عادت آج تک نہیں چھوٹی۔ میں سترہ برس کا تھا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور مجھے بمبئی آنا پڑا، جہاں اپنے خاندانی اخبار ’’خلافت‘‘ میں صحافی کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ بہت سے دوسرے اخبارات میں بھی نوکریاں کیں اور پھر اپنا اخبار ’’اردورپورٹر‘‘ نکالا جس سے 1975ء تک وابستہ رہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصحافت کے ساتھ جس چیز نے مجھے اپنی طرف سب سے زیادہ متوجہ کیا، وہ تھا ڈراما۔ 1968ء میں انڈین پیوپلز تھیٹرایسو سی ایشن (اِپٹا) سے وابستہ ہوا او ر بہت سے سٹیج ڈرامے لکھے اور ڈائریکٹ کیے، جن میں ’’تمھاری امرتا‘‘، ’’بیگم جان‘‘،’ ’ہم سفر‘‘اور ’’اندھے چوہے‘‘ بہت مقبول ہوئے اور آج تک سٹیج کیے جارہے ہیں۔ 1975ء میں ایمرجنسی کے زمانے میں جب صحافت کا دروازہ بند ہوا تو فلمی دنیا کے دروازے کھل گئے اور تب سے اب تک 90 سے زیادہ فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں، جن میں ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘، ’’امراؤ جان‘‘، ’’بازی گر‘‘، ’’ڈر‘‘ اور ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ ‘جیسی کئی فلمیں بہت مقبول ہوئیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبمبئی شہر میں جو اب ممبئی کہلاتا ہے، کسی بھی نو وارد کے لیے پاؤں ٹکانا بے حد مشکل کام ہے، یہاں اتنی پھسلن ہے کہ امید کی انگلی پکڑ کے چلنے پر بھی قدم قدم پر گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ یہاں ایک بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ ممبئی کسی کو منہ نہیں لگاتی لیکن اگر کوئی ڈھیٹ جم ہی جائے اور ہلنے کا نام ہی نہ لے تو پھر قبول بھی کر لیتی ہے اور اس طرح نوازتی ہے کہ دامن چھوٹا پڑجاتا ہے۔ میری جدوجہد کا دور بھی بہت سخت تھا، اُس زمانے میں ایک اسسٹنٹ ایڈیٹر کو زیادہ سے زیادہ ایک سو بیس روپے مہینہ اور ایڈیٹر صاحب کو مبلغ ڈھائی سو روپے ملا کرتے تھے۔ مہنگائی اُس وقت بھی دروازے پر چوکی دار کی طرح بیٹھی دکھائی دیتی تھی لیکن قسمت اچھی تھی کہ کچھ اچھے لوگ مل گئے اور زندگی کی کانٹوں بھری کچّی پگڈنڈی پر چلنا آسان ہو گیا۔ اُن میں ایک ایسی لڑکی بھی تھی جس نے بڑی خاموشی سے ہمت بڑھانے، حوصلہ دلانے اور دامے، درمے تو نہیں مگر قدمے، سخنے مدد کرنے میں کبھی کوئی کسر اٹھا کے نہیں رکھی۔ کچھ احسانات بڑے عجیب ہوتے ہیں، اُنھیں لفظوں میں بیان کرناآسان نہیں ہوتا، اور نہ ان کا صلہ دیا جا سکتا ہے، لیکن دینا تو پڑتا ہے۔ یہاں میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میری وہ خاموش محسن اب میری بیوی ہے اور میرے چار بچوں کی ماں بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوقت نے مجھے اپنے خزانے سے اتنا کچھ دیا کہ’ ’گنواؤں تو گنوا بھی نہ سکوں‘‘۔ خاص طور سے فلموں نے مجھے دولت بھی دی اور شہرت بھی مگر وہ تخلیقی تسلی نہ مل سکی جس کی تلاش تھی۔ ایک دن جب تنہا بیٹھا ہوا غمِ جہاں کا حساب کر رہا تھا، تو کچھ لوگ بے حساب یاد آئے، اُن کی جلتی بجھتی یادوں کو کاغذ پر جمع کیا تو کچھ خاکے تیار ہو گئے۔ میری خوش قسمتی کہ ان خاکوں کو ادب نوازوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اتنی ہمت بڑھائی کہ ایک کتاب شائع ہو گئی جس کا نام ’’روشن دان‘‘ تھا۔ پذیرائی اور ہمت افزائی کا سلسلہ بڑھا تو خاکوں کے دو اور مجموعے ’’لنگرخانہ‘‘ اور ’’اُجالے‘‘ بھی منظرِ عام پر آ گئے۔ اب اِن تینوں کتابوں کے تمام خاکوں کو جمع کر کے ’’میرے محترم‘‘ کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔ سارے پھولوں کو ایک گلدان میں سجانے کا یہ نایاب خیال میرا نہیں ہے، اس کے پیچھے بک کارنر جہلم کے روح رواں بھائی امر شاہد کا ذہن رسا کار فرما ہے۔ میں ان کا ممنون ہوں کہ انھوں نے میری نیم ادبی کوششوں کو خود بھی سراہا اور ادب نوازوں تک پہنچانے کا اہتمام بھی کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجاوید صدیقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ممبئی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457304604857,"sku":"BC SSH","price":1850.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66fa97521473f1727698770.jpg?v=1785835479"},{"product_id":"nisf-sadi-ke-zakhm-نصف-صدی-کے-زخم","title":"NISF SADI KE ZAKHM  نصف صدی کے زخم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’نصف صدی کے زخم‘‘ زمانۂ طالبِ علمی کی سیاسی سرگزشت ہے۔ پروفیسر خواجہ مسعود اور ان کے ہم نوا اساتذہ کرام کے فیضانِ تربیت سے گورڈن کالج اُس زمانے کی سب سے بڑی ترقی پسند درس گاہ تھی۔ راجہ انور طلبا سیاست سے ہوتے ہوئے قومی سیاست کے میدان میں آ نکلے۔ پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست کو اپنایا۔ بھٹو شہید کے دورِ اقتدار کی راہداریوں کی سیر کی۔ ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں قید و بند اور جلاوطنی کے عذاب سہے اور ثواب کمائے۔ ثواب یوں کہ اپنے وطن کی کال کوٹھری میں پابندِ سلاسل زندگی کی اذیتیں برداشت کرتے رہنے کی بجائے دیارِ غیر میں سیر و سیاحت کے تجربات و مشاہدات دل و دنیا کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوتے ہیں۔ راجہ انور کے لیے جبری جلاوطنی ایک عطیۂ خداوندی ثابت ہوئی۔ پاکستان کے نادان حکمرانوں نے اسے سزا سمجھا تھا مگر وہ عطا تھی۔ اس دوران دیارِغیر میں بھی ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہی۔ مشاہدات و تجربات کو عالمی سطح کی وسعتِ نظری اور نئے تناظر میسر ہوئے۔ جی چاہتا ہے کہ ہم اس عطائے ربانی کی کہانی راجہ محمد انور کی زبانی بھی سنیں جو اس تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ ان کی تازہ تصنیف کی اشاعت پر میں تہ دل سے انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ (پروفیسر فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457838297273,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/684979a58b9b61749645733.jpg?v=1785837716"},{"product_id":"jhootay-roop-kay-darshan-3rd-edition-جھوٹے-روپ-کے-درشن-تیسرا-ایڈیشن","title":"JHOOTAY ROOP KAY DARSHAN (3RD EDITION)  جھوٹے روپ کے درشن (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور کو شاید آج کی سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک ایج کی نئی نسل زیادہ نہیں جانتی۔ لیکن میں انھیں 1991ء سے ان کی کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کی وجہ سے ہی جانتا ہوں۔ مجھے یاد ہے ملتان یونیورسٹی میں اکثر طالبِ علموں کی طرح میرے نزدیک بھی رومانٹک لیکن انقلابی کتاب یہی تھی۔ اگر رومانوی خط و کتابت کرنی ہے اور انقلابی بننا ہے تو راجہ انور کو پڑھیں۔ یہ کتاب میرے ہاتھ لگی اور میں نے بھی وہ رومانوی خطوط پڑھے اور خود کو راجہ انور نہیں بلکہ ’’راجہ اِندر‘‘ سمجھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور ساری عمر ایک سیاسی ورکر اور باغی رہے ہیں۔ انھوں نے خطرات سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ جلاوطنی بھگتی، موت کا سامنا کیا، افغانستان کی جیل میں رہے۔ اُن دنوں کی دردناک کہانی پر مشتمل کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ راجہ انور سے میری بھی چند ملاقاتیں رہی ہیں۔ وہ ایک شاندار کمپنی ہیں۔ بہترین گفتگو اور پوٹھوہار کی خوبصورت دھرتی کی روایتی محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک دن پتا کیا، وہ شہر میں نہ ملے۔ اِدھر اُدھر سے سن گن لی تو معلوم پڑا اُن کی طبیعت خراب ہوگئی تھی تو علاج کے لیے باہر تشریف لے گئے ہیں۔ چند دوستوں سے پوچھا تو بھی ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ پھر ایک لمبی جدائی۔ ایک دن شاہد صدیقی صاحب نے ان کےساتھ اپنی تصویر شیئر کی تو پتا چلا راجہ انور کی محفلیں پھر سے آباد ہوگئی ہیں۔ دل شاد ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eراجہ صاحب جتنی اچھی گفتگو اور تقریر کرسکتے ہیں اتنا ہی اچھا وہ لکھتے ہیں۔ بک کارنر جہلم نے اب راجہ انور کی کلاسک کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کا نیا ایڈیشن چھاپ کر نئی نسل کو ان سے متعارف کرانے کی خوبصورت کوشش کی ہے۔ اگر آپ اپنی گزری جوانی کے دنوں کے عشق کا ذائقہ محسوس کرنا چاہتے ہیں، کسی بھولی بسری حسینہ کی یادوں سے دل بہلانا چاہتے ہیں، محبت اور عشق کی سرد راکھ میں بچی کھچی چند چنگاریوں کو پھر سے سلگانا چاہتے ہیں، یونیورسٹی اور ہاسٹل لائف کے گزرے خوبصورت دنوں میں کچھ دیر کے لیے گم ہونا چاہتے ہیں اور خوبصورت نثر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو اس سے بہتر کتاب کوئی نہیں ہو سکتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور کو صحت مند ہو کر اپنے وطن اور ادب کی دنیا میں دوبارہ واپسی مبارک ہو۔ بہت کم خوش قسمت ہوتے ہیں جو ایک دفعہ ڈوب جائیں تو دوبارہ اسی شان سے طلوع ہوں جیسے راجہ انور ہوئے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیا آپ پوٹھوہار کے راجہ کا سواگت نہیں کریں گے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(رؤف کلاسرا)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’سارے نابالغ ایک سائیڈ پر ہو جائیں اور کان پکڑ لیں!‘‘ ہال میں سراسیمگی پھیل گئی، یہ فقرہ ہم سب کے لیے عجیب تھا، ہمیں بلوغت کی دیواریں عبور کیے مدّت ہو چکی تھی لہٰذا ہم سامنے کھڑے ڈشکرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ ڈشکرے نے شیطانی قہقہہ لگایا اور کہا، ’’جس جس نے ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ پڑھی ہوئی ہے وہ بالغ ہے اور جو ابھی تک اس سے محروم ہے وہ نابالغ ہے، لہٰذا جلدی فیصلہ کرو تم میں نابالغ کون ہے اور بالغ کون؟‘‘ ہم سب بلوغت کے اس ٹیسٹ سے ناواقف تھے، چنانچہ ہم نے چپ چاپ کان پکڑ لیے اور ڈشکرا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بڑی تفصیل سے ہماری تشریفوں کا معائنہ کرنے لگا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ واقعہ 1989ء میں پنجاب یونیورسٹی کے 9 نمبر ہاسٹل میں پیش آیاتھا۔ میں نے تازہ تازہ ایل ایل بی میں داخلہ لیا تھا، ہاسٹل گیا تو پہلی رات سینئر سٹوڈنٹس نے ہماری ریگنگ شروع کر دی۔ سینئرز کا لیڈر منڈی بہائوالدین کا کوئی چدھڑ تھا، شکل اور آواز سے بدمعاش لگتا تھا جبکہ ہم سب چھوٹے چھوٹے چوچے تھے۔ ڈشکرے چدھڑ کا بلوغت کا صرف ایک ہی معیار تھا جس سٹوڈنٹ نے کتاب ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ پڑھ رکھی ہو وہ اس کی نظر میں بالغ تھا اور باقی نابالغ، ہال میں موجود تمام نئے طالبِ علم اس رات نابالغ نکلے، چنانچہ منڈی بہائوالدین، پھالیہ اور سرگودھا کے گوندل، رانجھے اور چدھڑ ساری رات ہماری تشریفوں پر طبلہ بجاتے رہے۔ میں نے دوسری صبح سب سے پہلے یونیورسٹی کی بک شاپ سے ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ خریدی اور شام سے پہلے پہلے بالغ ہو گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ راجہ انور کے ساتھ میرا پہلا تعارف تھا، راجہ انور ایک طلسماتی شخصیت کا نام تھا۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا، ذہین اور پڑھاکو تھے، خوب صورت بھی تھے اور بلاکے مقرر بھی تھے چنانچہ پوری یونیورسٹی میں مشہور ہو گئے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کنول نام کی ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوئے، یہ دونوں ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے، محبت ختم ہو گئی لیکن خط بچ گئے۔ راجہ انور نے یہ خط ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیے اور اس کتاب نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ ہمارے زمانے میں یہ کتاب طالبِ علموں کے غیرنصابی نصاب کا حصہ ہوتی تھی، یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی نوجوان پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے اور وہ یہ کتاب نہ پڑھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں وِژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے، جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے، شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کرلیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید چودھری)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457878995129,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6797648178e651737974913.jpg?v=1785837901"},{"product_id":"jhootay-roop-kay-darshan-golden-jubilee-edition-جھوٹے-روپ-کے-درشن-گولڈن-جوبلی-ایڈیشن","title":"BAN BAAS - AN AUTOBIOGRAPHY  بن باس (خودنوشت)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور کی کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ کے لیے تقریب پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی تھی۔ اب اس کی دوسری کتاب ’’بَن باس‘‘ کی تقریب بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ یہ تقریب کہیں اور بھی ہو سکتی تھی۔ یہ راجہ انور کی اپنی مادرِ علمی کے ساتھ وابستگی ہے کہ وہ یہاں پُرانے زمانے کو نئے زمانے کے ساتھ ہم رنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں ’’بَن باس‘‘ کے لیے بات کروں، یہ بات بھی سن لیں کہ یونیورسٹی میں اسے جیل جانا پڑا تھا۔ ایسے لوگوں کو جیل بھجوانے کا شوق بھی ظالم اور بزدل لوگوں کو بہت ہوتا ہے۔ ظالم تو بزدل ہوتا ہے۔ بزدل بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس مشہورِ زمانہ کتاب کا نام ہے ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘۔ یہ عنوان پاکستان میں کتنی ہی کہانیوں کا عنوان بن گیا ہے۔ راجہ انور ایک بہادر آدمی ہے۔ وہ بہادر اہلِ قلم بھی ہے۔ اس نے اپنے قلم کو عَلَم بنا لیا ہے جو قلم کو تلوار بنا لیتے ہیں وہ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ راجہ انور بالکل اور طرح کا آدمی ہے۔ افغانستان میں قیام کے حوالے سے اس کی کتابیں پڑھیں تو صاف پتا لگ جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں جیسا نہیں ہے۔ اپنی قبر کی آغوش میں پڑا پڑا بھی وہ اپنے قلب کی آغوش میں تھا جن کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھرتا رہا۔ وہی اس کی جان لینے کے درپے تھے۔ وہ ان کے ہاتھ لگ گیا مگر نجانے کیا ہوا کہ وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ جو آدمی اپنے مرنے کی خبر خود اپنے کانوں سے سنے، وہ اپنے اندر شہید ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار اس ’’شہادت‘‘ کی سعادت پانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے تو وہ کتنا زندہ شخص ہو گا۔ راجہ انور زندہ تر آدمی ہے اور اسے یہ مقام اس کی کتابوں نے دیا ہے کہ وہ سب کچھ لکھنے کا اہل ہوا ہے جو اس کے ساتھ ہوا ہے اور اس کے دل پر بیتا ہے۔ اس کی پیاری ماں اس کی موت کی خبر سن کر مر گئی۔ ماں تو ہوتی ہی پیار اور وفا ہے۔ وہ بھی وفا کے قافلے سے بچھڑا ہوا ایک سالار ہے۔ جو اپنی موت کی خبر سنتا ہے اور ایک لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ جب وہ اپنی ماں کی قبر پر کھڑے ہو کے فاتحہ پڑھ رہا ہوگا تو فاتحانہ جانثاری کی یاد نے ایک نئی زندگی کا دروازہ اس کے لیے کھولا ہوگا۔ ’’قبر کی آغوش‘‘ اور ’’بن باس‘‘ اسی زندگی کا تحفہ ہیں۔ وہ راجہ سے مہاراجہ بن گیا ہے اور اسے پتا ہی نہیں چلا کہ اس کے پاس کوئی سلطنت نہیں ہے۔ کوئی جاگیر نہیں ہے۔ تو پھر اس کے پاس کیا ہے۔ مجھے پتا ہے مگر مجھے پتا نہیں۔ راز اور یاد بھی ایک سلطنت ہے۔ راز دو آدمیوں کے پاس نہیں ہوتا۔ راجہ انور نے ہمیں اپنا ہمراز بنا لیا ہے۔ راز کو فروغ دینے کا یہی طریقہ ہے۔ علم بھی راز ہے وہ جو کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد اجمل نیازی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457894428857,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65af75cd09ee71705997773.jpg?v=1785838233"},{"product_id":"bari-jail-se-choti-jail-tak-بڑی-جیل-سے-چھوٹی-جیل-تک","title":"BARI JAIL SE CHOTI JAIL TAK  بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eزندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغالباً ستمبر 1970ء کا پہلا ہفتہ تھا کہ جیل میں اسیر طلبہ نے صبح صبح شور مچایا، ’’راجہ بھی آ رہا ہے‘‘ انھوں نے اخبار سے اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تھی۔ شام کو اسے بھی ہمارے ساتھ ’’سی کلاس‘‘ کی تنگ ترین کوٹھری میں دھکیل دیا گیا۔ اب تکلّف کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص خاصا دل گُردے کا مالک ہے۔ غم، دُکھ اور یاسیت کے طوفان میں بھی مسکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ راجہ کے آنے سے صحنِ زنداں کی کلفتیں بہت ہلکی ہلکی نظر آنے لگیں۔ وہ لطیفے، ہنسی مذاق اور فقرہ بازی کا ماہر ہے۔ ہم پانچ آدمی اس مختصر سی جگہ پر سوتے۔ راجہ موم بتّی جلا کر رات رات کراہتی ہوئی زندگی کے مختلف پہلو قلم بند کرتا۔ اس کتاب کی بہت ساری یادداشتیں میرے سامنے لکھی گئیں اور بہت سے ایسے واقعات جہاں زبان ترجمانی نہیں کر پاتی، اس نے خونِ جگر میں اُنگلیاں ڈبو کر لکھے اور شاید یہ اسی کا حصّہ تھا۔ وہ اپنے حُلیے سے چی گویرا بھی لگتا ہے اور ہپی بھی، کبھی کبھی مولوی اور اکثر فلاسفروں کی طرح بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ طالبِ علم بھی ہے، ادیب بھی اورمقرّر بھی۔ دُشمنوں کے لیے وبالِ جان اور دوستوں کے لیے ’’جند جان‘‘ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ انتہائی حسّاس آدمی ہے۔ ’’راجہ بہت اچھا لکھتا ہے‘‘ میں یہ نہیں کہوں گا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ اگر میں نے کچھ کہا تو آپ شاید ’’دوست نوازی‘‘ کا فتویٰ عائد کر دیں۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ راجہ کے حق میں ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشبِ زنداں کی عکاسی ہر فرد کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اس کٹھن راہ میں کئی مقام ایسے بھی ہیں جہاں مروجہ زبان محسوسات کی ترجمانی نہیں کر پاتی۔ تاہم راجہ نے اپنی حسّاس طبیعت کے باعث اس ماحول کے دُکھوں کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب زندان خانے میں بِلکتی ہوئی زندگی کی ترجمان ہے۔ جیل پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا گیا لیکن مجھے یہ کہنے دیجیے کہ راجہ کی یہ درد بھری تصنیف اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمعراج محمد خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نامور سوشلسٹ، دانشور اور فلسفی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457978151097,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65cc95d9619c31707906521.jpg?v=1785838369"},{"product_id":"mazi-ka-hamam-ماضی-کا-حمام","title":"MAZI KA HAMAM  ماضی کا حمام","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیری راجہ انور سے پہلی ملاقات خبریں اخبار میں ہوئی تھی، میں بھی وہاں کالم لکھتا تھا۔ راجہ صاحب نے ایک دن مجھے فون کیا اور میں نے انھیںپنجاب یونیورسٹی کا واقعہ بڑی تفصیل سے سنایا۔ یہ دیر تک ہنستے رہے، مجھے اس زمانے میں ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے درجنوں پیراگراف زبانی یاد تھے، میں نے وہ بھی ان کے کانوں میں انڈیل دیے اور یوں ان کے ساتھ رفاقت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ آج کل جرمنی، برمنگھم اور اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ یہاں گرمی آتی ہے تو اُدھر چلے جاتے ہیں اور اُدھر سردی آجاتی ہے تو یہاں آ جاتے ہیں۔ راجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں وژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے، آپ انھیں پڑھنا شروع کر دیں تو پھر آپ پڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کر لیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔ ان کے کالموں اور کتاب دونوں کا نام ’’بازگشت‘‘ ہے، یہ دونوں واقعی بازگشت ہیں، گئے زمانوں اور بیتی ہوئی شخصیات کی بازگشت، ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی بازگشت، جیل کے بند اور کھلتے آہنی کواڑوں کی بازگشت اور انسان کے ٹوٹتے، بکھرتے اور دفن ہوتے آئیڈیلز کی بازگشت۔ میں جب بھی ان کی تحریریں پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر راجہ انور نہ ہوتے تو ماضی کی یہ بازگشتیں ہم تک کیسے پہنچتیں، ہم ان سے کیسے واقف ہوتے لہٰذا تھینک یو راجہ صاحب! تُسی گریٹ او۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید چودھری)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458018488505,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/679637aed3c191737897902.jpg?v=1785838532"},{"product_id":"qabar-ki-aaghosh-قبر-کی-آغوش","title":"QABAR KI AAGHOSH  قبر کی آغوش","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور غضب کا لکھاری ہے۔ اس کی تحریر میں بَلا کی رعنائی ہے اور ایسی گرفت کہ پڑھنے والا اس کے سحر سے نکل ہی نہیں سکتا۔ وہ نہایت عمدہ خاکہ نگار بھی ہے۔ کہیں کہیں وہ شگفتگی سے کام لیتا ہے تاکہ پُلِ چرخی کے تذکرے سے قاری کے اعصاب نہ چٹخنے لگیں اور کہیں اُس کی تحریر میں ایسا درد بھر جاتا ہے کہ قاری کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ___ عرفان صدیقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیسے راجہ انور کی زندگی کا رنگ ڈھنگ مختلف ہے اسی طرح اس کا ڈکشن بھی مختلف ہے۔ کریکٹرائزیشن ایسے غضب کی کہ جو ہمارے بڑے سے بڑے ڈراما رائٹرز کو بھی نصیب نہیں۔ اس کی تحریر سادگی اور برجستگی سے عبارت ہے ___ حسن نثار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی معروضیت ہے۔ راجہ انور نے انتہائی مہارت اور اختصار کے ساتھ اپنے ساتھی قیدیوں کے خاکے لکھے ہیں۔ اس کتاب کی مدد سے موجودہ افغانستان کے مسائل کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ شاید ہی کوئی کتاب ایسی جامعیت کا دعویٰ کر سکے ___ امجد اسلام امجد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی زبان اور اس کا طرزِ بیان آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی بڑے ادیب نے ہالی وُڈ کی فلم کا سکرپٹ لکھا ہو۔ اگر یہ کتاب انگریزی میں ترجمہ ہو کر کسی ہالی وُڈ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ہاتھ لگتی تو یہ بھی فرانسیسی ادیب ڈوما کے شاہکار ناول ’’دی کائونٹ آف مائونٹی کرسٹی‘‘ کی طرح پردۂ سکرین پر تہلکہ مچادیتی ___ رؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب عبرت سرائے دہر کی ایک تصویر ہے۔ اس میں آنسو بھی ہیں اور آہیں بھی۔ یہ کتاب ایسے جانکاہ اَلمیوں کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان محوِ حیرت ہونے لگتا ہے۔ ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ سے ’’قبر کی آغوش‘‘ تک راجہ انور کا سفر صلیبوں پر اپنی خواہشات قربان کرنے کی داستان ہے ___ ڈاکٹر امجد ثاقب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب کسی حد تک اُن کی آپ بیتی اور خود نوشت سوانح حیات ہے جس میں اُن کی دربدری اور افغانستان میں اسیری کے ماہ وسال کی غم انگیز تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ واقعات کی معجز نما رنگ آمیزی اور تلخ و شیریں حوادث کی تمام تر جزئیات کے ساتھ مؤثر تصویر کشی میں راجہ انور کی مہارت نے ’’قبر کی آغوش‘‘ کو ایک دلچسپ اور سچّے واقعات پر مبنی مؤثر ناول کے درجے پر پہنچا دیا ہے ___ ڈاکٹر معین نظامی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458033299641,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65af808b518911706000523.jpg?v=1785838640"},{"product_id":"dahshat-gard-shahzada-دہشت-گرد-شہزادہ","title":"DAHSHAT-GARD SHAHZADA  دہشت گرد شہزادہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’دہشت گرد شہزادہ‘‘ الذوالفقار کی کارروائیوں کی مربوط داستان ہے۔ یہ مسلح گروہ مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا انتقام لینے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے جنھیں جنرل ضیاء الحق نے1977ء میں معزول کیا اور پھر قتل کرا دیا۔ ’’الذوالفقار‘‘ کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا اور 1996 ء میں مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیے جانے تک اس کا وجود برقرار رہا۔ اس کی تندوتیز سرگرمیوں کا دور 1980ء کے عشرے کا ابتدائی اور درمیانی عرصہ تھا۔ راجہ انورنے اس تنظیم کی جن دہشت گرد کارروائیوں کاذکر کیاہے ممکن ہے انھیں پڑھتے ہوئے مغرب کا قاری اضطراب محسوس کرے لیکن مغرب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ خود ان دنوں جنرل ضیا جیسی استبدادی حکومتوں کاپشت پناہ تھا اور خود ایسے دہشت پسند گروہ تشکیل دے رہا تھا جن میں افغانستان میں بھیجے جانے والے گروہ شامل تھے۔ ان تشدد پسند گروہوں کی کارروائیاں الذوالفقار سے کہیں زیادہ سفاک اور تباہ کن تھیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیاء الحق کاگیارہ سالہ آمرانہ دور (1977-88ء) پاکستان کی المناک تاریخ کا انتہائی گھناؤنا باب ہے۔ اس دورمیں ملک کودہشت وبربریت ملی۔ حکمران طبقے نے ایک ناقابلِ گرفت ہیروئین مافیا کو جنم دیا جو آج بھی ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کو جکڑے ہوئے ہے۔ ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور ذوالفقارعلی بھٹوکو تختۂ دار پہ پہنچانے کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی و سماجی انحطاط کا آغاز ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’شہادت‘‘ نے بھٹو خاندان کو ایسا’’ہالہ‘‘ مہیا کیا جس کی آب وتاب حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹو خاندان... سندھ کا جاگیردار خاندان ہے جہاں کسانوں اور ہاریوں کو زرعی غلام سمجھا جاتا ہے اور جہاں جاگیرداری محض تاریخ کی کتابوں تک محدودنہیں۔ سندھی وڈیرہ ایشیا کا انتہائی سفاک اور ظالم جاگیردار ہے۔ اس کی اپنی دنیاہوتی ہے جس میں رہنے والوں کی زندگیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذوالفقار علی بھٹو اسی دنیا میں پیدا ہوئے۔ تاہم تقسیم سے پہلے ان کا زیادہ تر وقت بمبئی میں گزرا۔ انھوں نے آکسفرڈ اور ہارورڈ میں تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔ وہ اپنی زندگی کے تیس کے عشرے میں تھے کہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر نے ان میں موجود ذہین اور چالاک فرد کو پہچان لیا۔ 1956ء میںاس نے انھیں مرکزی کابینہ میں لے لیا۔ ترقی کے زینے پرقدم رکھنے کے بعد انھوںنے کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔1965ء میں وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ تھے۔ 1966ء میں ایوب خان نے انھیں برطرف کردیا جو اَب خود کوترقی دے کرفیلڈ مارشل بن چکا تھا۔ بھٹو نے برطرفی کے بعد اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی تشکیل دی۔ جب پاکستان کے طلبا ایوب آمریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو مغربی پاکستان میں بھٹو اِن کے لیڈر بن گئے۔ انھیں مختصر سے عرصہ کے لیے قید بھی کیا گیا۔ عوامی مقبولیت نے انھیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔عوام سے ان کا تعلق اور ربط وسیع تر ہو گیا۔ انھوں نے عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ امرا کے محل چھین کر انھیں غریبوں کے لیے ہسپتالوں میںتبدیل کر دیا جائے گا۔ ایک ایسا عوامی جوش و خروش ملک میں پھیل گیا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ جب طالب علموں اور محنت کشوں کی شورش نے بالآخر ایوب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تو انتخاب منعقد ہوئے جس میں بھٹو کی پارٹی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر لی۔ پنجاب جیسے اہم صوبے میں تمام بڑے بڑے جاگیرداروں کو شکست ہو گئی۔ عوام کی توقعات بہت بلند تھیں۔ لوگ اب اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے منتظر تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایوب کابینہ سے برطرفی کے بعد بھٹوجب عوامی رابطہ مہم پر نکلے تو راجہ انور کی ان سے ملاقات ہوئی۔ راجہ انور راولپنڈی کا ایک سرگرم طالب علم رہنما تھا۔ وہ بھٹو کے عوامی انداز سے بہت متاثر ہوا۔ راجہ انوربھی لاکھوں پاکستانیوں کی طرح سمجھتا تھا کہ یہ عالی نسب سیاستدان ہی سماجی انقلاب لائے گا۔ 1968-69ء میں ایک ہیجان نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اسے کوئی بھی مثبت سمت دی جا سکتی تھی لیکن امید کے یہ دن مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے خون میں بہہ گئے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھٹو مغربی پاکستان... نئے پاکستان... میں اقتدار میں آ گئے۔ چھ سالہ اقتدار کے بعد انھیں ان کے اپنے منتخب کردہ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے رُخصت کر دیا۔ عالی نسب ’’بھٹو‘‘ اور ’’معمولی‘‘‘ ضیاء الحق کے درمیان اس ٹکراؤ کو راجہ انور نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ بھٹو نے اپنے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود ضیا کو چھ جرنیلوں پہ ترقی دے کرآرمی چیف بنایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ضیا سیدھا سادہ شخص ہے۔ اسے آسانی سے استعمال کیا جا سکتاہے وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ میں فوج مرکزی سیاسی ادارہ بن چکی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنگلہ دیش میں فوج کی ناکامی کے بعد اسے کم کیا جا سکتا تھا۔ اس کے کردار اور سرگرمیوں کو تبدیل کیاجا سکتا تھا۔ اس کا بجٹ آدھا کر کے یہ رقم عوام کے روٹی، کپڑا اور مکان کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی تھی لیکن بھٹو نے ایسا کچھ نہ کیا حالانکہ وہ اکلوتے سیاسی رہنما تھے جنھیں وسیع تر عوامی حمایت حاصل تھی اور وہ ایسا کرنے پر قادر تھے۔ لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ جرنیلوں کو ایک دوسرے کے خلاف اُلجھا کر اپنا اقتدار ہمیشہ ہمیشہ برقرار رکھ سکیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور نے اپنا آپ بھٹو کے حوالے کر دیا اوران کی حکومت میں مشیر بن گیا۔ جب معمولی شخصیت کے جنرل ضیا نے بھٹو کو اقتدارسے باہر کیا تو راجہ انور بھی ’’اجڑ‘‘ کر رہ گیا۔ مایوسی کے عالم میں اس نے مرتضیٰ بھٹو کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔مرتضیٰ ذوالفقار علی بھٹو کابڑا بیٹا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ جلاو طنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر جو کچھ ہوا یہ کتاب اس کا خوبصورت اظہار ہے۔ جو لوگ مرتضیٰ کی ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ کی کارروائیوں سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب بھر پور دلچسپی اور توجہ کا سامان رکھتی ہے۔ الذوالفقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت ذوالفقار علی بھٹو کی فریفتہ، نظریاتی اور جراَت مند تھی۔ لیکن ان کا لیڈر بھٹو کا بیٹا تھا جو پُرشکوہ فریب کا شکار لیکن اپنے پیروکاروں کی زندگیوں سے بے نیاز تھا۔ چونکہ ضیا کی پشت پہ مغرب تھا چنانچہ مرتضیٰ نے کابل، ماسکو، دمشق اور نئی دہلی کے حکام کا رُخ کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکیاولی کی رُوح اس تمام تر کارروائی پہ سایہ فگن رہی۔ مضحکہ خیز ڈھونگ اور المیے ’’دہشت گرد شہزادے‘‘ کی داستان میں چاہے اور اَن چاہے ساتھیوں کی طرح موجود ہیں۔ راجہ انور کی کہانی سرد جنگ کے ہنگامہ خیزمحاذ ہندو کش سے نکل کر شام اور لیبیا کے گوریلا کیمپوں میں پہنچتے ہوئے ہمیں غیر معمولی قسم کے کرداروں سے متعارف کراتی ہے۔ ان میں تجاہلِ عارفانہ برتنے والے سیاستدان، عیار انٹیلی جنس سربراہ، نظریاتی ٹھگ، رئیس سوداگر اور فریب خوردہ کسان لڑکے شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجموعی طور پر بھٹو خاندان اور اس کے پیروکاروں کی کہانی... گریک ٹریجڈی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کی بات کی۔ وہ اقتدار پہ ایک عوامی بغاوت کے نتیجہ میں پہنچتے ہیں۔ اقتدار کا ناجائزاستعمال کرتے ہیں۔ اس شخص کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوتے ہیں جو ان کی اپنی تخلیق ہے۔ انھیں پھانسی دے دی جاتی ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے شاہنواز کو فرانس میں پُراسرار حالات میں زہر دے دیا جاتا ہے۔ بڑابیٹا دہشت گرد گروپ بناتا ہے جو متعدد لغویات کے باوجود طیارہ اغوا کر لیتا ہے اور کم از کم دو مرتبہ پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے قریب پہنچ جاتاہے۔ بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی بے نظیر وطن میں رہتی ہے اسے کئی مرتبہ گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر ’’جلاوطن‘‘ ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ لیکن وہ پھر وطن واپس آ جاتی ہے۔ جنرل ضیا کا طیارہ نامعلوم قاتلوں کے ذریعے فضا میں دھماکے سے اُڑا دیاجاتا ہے۔ ضیا کے بعد جرنیل عام انتخابات کی اجازت دے دیتے ہیں۔ بے نظیر انتخابات جیت کروزیراعظم بن جاتی ہے۔دو سال سے پہلے اسے برطرف کر دیاجاتا ہے۔ تین سال حزبِ اختلاف میںرہنے کے بعد وہ پھر اقتدار میں آ جاتی ہے۔ مرتضیٰ واپس وطن آ جاتا ہے اور کھلے بندوںاپنی بہن اوربہنوئی آصف زرداری سے لڑتا ہے۔ زرداری پر زبردست بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ بھٹو خاندان میں تنازع شروع ہو جاتا ہے۔ جس کا خاتمہ مرتضیٰ کا اپنے گھرکے سامنے کراچی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہن وزیراعظم ہے وہ بدحواس ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد اس کے اپنے بنائے صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں اس کی برطرفی ہوتی ہے۔ آصف زرداری کو جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ آصف زرداری پہ مرتضیٰ کے قتل کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطارق علی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e18 جولائی 1997ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلندن\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458045817017,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67c995df6c4211741264351.jpg?v=1785838756"},{"product_id":"samandar-jazeeray-aur-judaiyan-سمندر-جزیرے-اور-جدائیاں","title":"SAMANDAR, JAZEERAY AUR JUDAIYAN  سمندر، جزیرے اور جدائیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمحمد اظہار الحق صاحب بلامبالغہ وطنِ عزیز پاکستان کی ایک باکمال علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ یہ روایتی بات نہیں بلکہ امرِ واقع ہے کہ اُنھوں نے اُردو ادب کو نئی اصطلاحات، تراکیب، اُسلوب اور موضوعات سے مالا مال کیا ہے۔ چونکہ وہ جو کہنا چاہتے ہیں اُس پر اُن کا ظاہر و باطن یکسو اور واضح ہے، اس لیے اُن کے لفظوں اور بیان میں بلا کی تاثیر ہے گویا ’’از دل خیزد بر دل ریزد‘‘ کی دل کش عملی تصویر۔ پاکستان کا روایتی معاشرہ اقدار کے جس خوب صورت پیکر پر سر بلند کھڑا ہے، محمد اظہار الحق نے اپنے خونِ دل سے اُس کو رنگ و روپ بخشا ہے، اس لیے اُن کے لفظ سانس لیتے، بولتے، مکالمہ و بحث کرتے اپنا مؤقف منواتے، ہنستے مسکراتے اور دکھ درد کے اظہار کی صورت میں اشکبار بھی نظر آتے، صرف نظر نہیں آتے، بلکہ قاری کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں، کوشش اور محنت سے نہیں، اپنی تاثیر اور سچائی ہے۔ تصورات اور احساسات کی تجسیم (Personification) اور اُس میں بلا کی دلکشی اور بے ساختہ پن اُن کی شاعری اور نثر کا زندۂ جاوید وصف ہے، جو آج صرف اُنہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اظہار الحق صاحب کا قلب و روح مشرقی اقدار، خاندانی سٹرکچر کی اُستواری، اپنی سرزمین اور آب و خاک سے بے انتہا اور غیر مشروط محبت سے لبریز ہے، جس کی آج ہمیں، ہمارے معاشرے اور ملک کو اشد ضرورت ہے، اس لیے اُن کے فکر و ہنر کی جس قدر تعریف اور پذیرائی کی جائے، کم ہے۔ اُنھیں فارسی زبان و ادب پر مکمل عبور ہے اس لیے اُن کی فارسی اور اُردو شاعری اور اُردو نثر اسلوب اور بلاغت کے اعتبار سے نہایت عمدہ، دل نشین اور قابلِ تقلید ہے۔ محمد اظہار الحق کو ’’سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ یقیناً اُن کی تحریروں کے اِس موضوع وار انتخاب کو بہت پذیرائی ملے گی اور اسے خوب سراہا جائے گا۔ مصنف کے ساتھ ساتھ اِس عمدہ انتخاب کے ناشرین ’’بک کارنر‘‘ جہلم کے گگن شاہد اور امر شاہد کو بھی بہت بہت بہت مبارک باد کہ اُنھوں نے قارئین کو شاہکار تحریریں شاندار طباعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے فراہم کیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458324967609,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66cb2f17357111724591895.jpg?v=1785839759"},{"product_id":"aashiq-mast-jalali-2nd-edition-عاشق-مست-جلالی","title":"AASHIQ MAST JALALI (2ND EDITION)  عاشق مست جلالی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمحمد اظہار الحق کا یہ مجموعہ پاکستان اور اس خطّے کی تہذیبی، ثقافتی، تاریخی، سیاسی اور سماجی صورتِ حال کے پس منظر اور پیش منظر کا مکمل ادراک رکھتا ہے اور اپنے قاری کی فکری تربیت کے بے شمار راستے کھولتا ہے۔ فن کا کمال یہی ہونا چاہیے کہ عام قاری سے خاص قاری تک خیال کی ترسیل کئی وسیلوں سے امکان پیدا کرتی جائے۔ اس ہنر میں محمداظہارالحق یکتا ہیں۔ کئی پہلوؤں سے یہ نثر قومی، انسانی اور معاشرتی دردمندی کی فضا پیدا کرتے ہوئے ہمارے احساس میں رچائوپیدا کرتی ہے۔\u003cbr\u003eاصغر ندیم سید\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمد اظہار الحق کی تحریروں میں آپ کو نئے خیالات ملتے ہیں، ایک نئی دنیا ملتی ہے، جہاں ماضی، حال اور مستقبل گلے ملتے ہیں۔ کوئی بھی ان کے قلم کی کاٹ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ درد ہے، انسان دوستی ہے، گاؤں کی برستی بارش میں کچی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ہے، صدیوں پرانی روایات کا احیا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے سے طاقتور کے خلاف بولنے کی جرأت ہے۔ اظہارالحق صاحب کے قلم نے کسی کا خیال رکھا تو صرف اور صرف اپنے ضمیر، اپنے قاری اور اپنی دھرتی کے مفادات کا۔\u003cbr\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458422255801,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66cc7f1443ec21724677908.jpg?v=1785840348"},{"product_id":"niralay-log-nirali-kahaniyan-نرالے-لوگ-نرالی-کہانیاں","title":"NIRALAY LOG NIRALI KAHANIYAN  نرالے لوگ نرالی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب میں برسوں سے لکھنا چاہ رہا تھا۔ بڑے لوگوں کی کہانیاں سب لکھتے ہیں لیکن مجھے عام لوگوں کی کہانیاں لکھنے اور سننے کا شوق ہے۔ میں نے سندھی اداکار گلاب چانڈیو اور بھارتی اداکار شکتی کپور سے سیکھا تھا کہ آپ جتنے مرضی مشہور ہو جائیں تو بھی آپ نے عام انسان کو کیسے عزت دینی ہے۔ ایک بار چڑیا گھر میں ہاتھی کے مہاوت نے مجھے بےوقوف اور بہادر کے فرق کو ایک سکینڈ میں سمجھا دیا تھا۔ ملتان کے اس ہیڈ ماسٹر کی کہانی بھی آپ کے دلوں کو گرمائے گی جو سکول میں صرف قابل اور ذہین بچوں کو پڑھانا چاہتا تھا اور ایک دن میرا اُس سے ٹاکرا ہوگیا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم جیسے آنرایبل انسان کی کہانی جو اڈیالہ جیل میں قید ایک مظلوم اجنبی نوجوان کی ضمانت کے لیے اپنی بیٹی کو ضامن کے طور پر راولپنڈی کی عدالت میں لے گیا تھا جس کی پورے شہر میں ضمانت دینے کو کوئی تیا رنہ تھا۔ ایک سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی ڈائری سے چرائے چند اوراق پڑھ کر آپ دہل جائیں گے۔ اس ڈائری میں ایک کہانی سابق وزیراعلیٰ پنجاب نواب صادق قریشی کی ہے کہ کیسے انھوں نے 1970ء کی دہائی میں ڈپٹی کمشنر ملتان کے ان کو کیے گئے انکار کا بدلہ لیا تھا، وہ آپ کو ششدر کر دے گا۔ ایک طاقتور سیاسی حکمران اور مزاحمت پر اترے بیوروکریٹ کی اَنا کی جنگ کا انجام آپ کو یقیناً پسند آئے گا۔ 1979ء میں بھٹو صاحب کی پھانسی سے قبل آخری خواہش بھی آپ کو زندگی کا نیا رخ دکھائے گی۔ پھانسی کے چودہ برس بعد اس آخری خواہش کا میری اپنی زندگی سے ایک گہرا تعلق نکل آیا تھا۔ رومی کی پارسائی اور شمس تبریز اور طوائف کی کہانی آپ کے بدن میں سنسنی پیدا کردے گی۔ اور بلوچستان کی پانچ لڑکیوں کی دردناک کہانی پڑھ کر آپ کیسے سو سکیں گے جنھیں صحرا میں زندہ درگور کر دیا گیا۔ ان پانچ معصوموں کی کہانی لکھنا سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ کالو قصائی کی سچی کہانی بھی آپ کو یقین دلائے گی کہ انسانی کردار اور عزتِ نفس کا غربت یا امارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے گائوں کا کالو قصائی وہ کردار تھا جس سے میں آج تک متاثر ہوں۔ بات متاثر ہونے کی نکلی ہے تو پھر آپ اس کتاب کے سرورق کی کہانی پڑھ کر اپنے آنسو روک سکیں یا احتراماً کھڑے نہ ہوں، تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ مظلوم باپ کی چار بچیوں کے لیے دی گئی قربانی آپ کو انسانی کردار کی عظمت کا قائل کر دے گی۔ بعض دفعہ درندوں کی بستی میں انسان بھی مل جاتے ہیں۔ اس کتاب میں کئی ہیروز اور ولن قید ہیں جو آپ کو اپنی اپنی کہانیاں سنانے کو بے چین ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458541629625,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/679f9409daf451738511369.jpg?v=1785842067"},{"product_id":"aik-qatal-jo-na-ho-saka-ایک-قتل-جو-نہ-ہو-سکا","title":"AIK QATAL JO NA HO SAKA  ایک قتل جو نہ ہو سکا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ میری زندگی کی پہلی کتاب تھی جو میں نے ایک رات میں مکمل کی۔ ‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب سڈل (ڈی جی انٹیلیجنس بیورو)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعجب کتاب ہے۔ ایک جہانِ حیرت میں آپ گُم ہو جاتے ہیں اور آخری پیرا پڑھ چکتے ہیں تو حیرت باقی رہتی ہے۔ یقین آتا ہے کہ حقیقت افسانےسے بہت زیادہ دلچسپ ہوتی ہے۔ چھ ماہ قبل جب اس نے داستان سنائی کہ وہ اسے ایک ناول میں ڈھالے گا تو میں نے سوچا کہ اسے روکنے کی کوشش کروں۔ آخر سات سو خفیہ دستاویزات کو کہانی میں وہ کیسے پرو سکے گا۔ کتاب چھپ کر آئی تو دو راتوں میں پڑھ ڈالی۔ یہ ایک چھوٹی سی خبر سے جنم لینے والی داستان ہے، جس کی روشنی میں آپ اس سماج کے خدوخال دیکھتے ہیں، آئے دن جو ایک نئے بحران سے دو چار ہوتا ہے۔ ستمبر2009ء کو ایک معروف اخبار نویس نے خبر دی کہ صدر زرداری، گورنر سلمان تاثیر اور وزیرِ قانون بابر اعوان نے پنجاب کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لاہور کے گورنر ہائوس میں سیل قائم ہے اور بارہ بدنام مجرموں سے ان کا رابطہ ہے۔ طوفان اٹھا۔ انکشاف یہ تھا کہ 27اگست کو جسٹس خواجہ شریف اندرونِ لاہور اپنے آبائی گھر پہ میلاد شریف میں قتل کر ڈالے جائیں گے۔ رؤف کلاسرا کی اس کتاب ’’ایک قتل جوہو نہ سکا‘‘ میں اور بھی انکشافات ہیں۔ مثلاً اندرونِ لاہور کا قبضہ مافیا، کرائے کے قاتل، اغوا برائے تاوان اور ان جرائم پیشہ گروہوں کی تفصیل بھی۔ جس انہماک اور سلیقہ مندی سے رؤف کلاسرا نے یہ کتاب لکھی ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک ایسا سنسنی خیز پلاٹ سامنے آتا ہے جو شہرۂ آفاق ناولسٹوں جیسے جیفری آرچر کی تھرلر کہانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ جائے۔ اس کہانی میںآپ کو ماریو پزو کے عظیم ناول ’’گاڈ فادر‘‘ پر مبنی فلم کی آمیزش بھی نظر آئے گی کہ کیسے پولیس والے قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر پیسے بناتے ہیں۔ سیاست دانوں، جرائم پیشہ افراد اور انتظامیہ میں کس طرح کا گٹھ جوڑ ہے۔ اس میں جیمز بانڈ کی پھرتیوں سے لے کر ایجنسیوں کی Mr. Bean جیسی نالائقیاں بھی نظر آئیں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر متین\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458558636217,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6278ea785f96f1652091512.jpg?v=1785842449"},{"product_id":"chaar-aadmi-5th-edition-چار-آدمی-پانچواں-ایڈیشن","title":"CHAAR AADMI (5TH EDITION)  چار آدمی (پانچواں ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمنتخب اور محبوب، ڈاکٹر امجد ثاقب ایک منفرد آدمی ہیں۔ ان نادر و نایاب لوگوں میں سے ایک، زندگی کو جو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ فہم و فراست پروردگار نے آدم زاد کو اسی لیے عطا کی تھی۔ کم ہیں مگر بہت ہی کم جو خیال کی شمع روشن کرتے اور اپنی ترجیحات خود طے کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے اٹھے کہ والدین کی تمنّا یہی تھی۔ سول سروس کا رُخ کیا لیکن وہاں بھی جی نہ لگا۔ ایک آزاد ذہن الگ اپنی دنیا بسانا چاہتا ہے۔ بالآخر اس راہ پہ وہ چل نکلے، جہاں سے پورے ملک اور اب اس سے بھی پرے، روشنی پھیل رہی ہے۔ رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے مگر مسلسل اور پیہم۔ ان کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکۂ برطانیہ کی جانب سے انھیں \"Common Wealth's Point of Light\"کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ورلڈاکنامک فورم کی طرف سے \"Entrepreneur of the Year 2018\"کے مستحق ٹھہرے۔ صدرِپاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز ملا۔ حال ہی میں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ’’ریمون میگ سائے سائے‘‘، جسے ایشین نوبیل پرائز بھی کہتے ہیں، پیش کیا گیا۔ وہ کئی کُتب کے مصنّف اور مقبول مقرّر بھی ہیں جنھیں آکسفرڈ، کیمبرج، ہارورڈ اور اقوامِ متحدہ جیسے اداروں میں اظہارِ خیال کے متعدد مواقع ملے۔ نوبیل انعام بھی مل گیا ہوتا مگر وہ مسلمان ہیں اور پاکستانی۔ یہ کتاب تین آدمیوں کی کہانی ہے اور پھر ان کی اپنی۔ آدمی تاریخ ساز شخصیات کے سحر میں مبتلا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امجدثاقب عام لوگوں کی زندگیوں میں اُترتے ہیں۔ عجیب تر یہ ہے کہ ان زندگیوں میں سے لعل و گُہر بھی ڈھونڈ لاتے ہیں۔ ان کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن درد اور احساس جسے بخشا گیا، سب کچھ اسے بخش دیا گیا۔ ہر زمانے میں بہت سے ممتاز لوگ ہوتے ہیں، ہمارے عہد میں بھی۔ عملی طور پر لیکن چند ایک ہی نے واقعی کچھ کر دکھایا۔ ڈاکٹر امجدثاقب ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے سال ہا سال سے خاک بسر مخلوق کو سینے سے لگایا۔ ایک ایسی دُنیا کا خواب دیکھا جس میں ہر شخص کو عزت اور احترام سے زندہ رہنے کا موقع ملے، پھر خوش دلی سے خود کو اس خواب کی تعبیر کے لیے وقف کر دیا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاقباؔل نے کہا تھا، جہاں کہیں دُنیا میں روشنی ہے، مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہے یا مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں۔ ہمہ گیر یہ اُجالا، ہجرت کے فوراً بعد مواخات کی یادگار ہے۔ اسی چراغ سے جو چراغ جلے، کبھی نہیں بجھتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو زمانے ابھی نہیں آئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458575282361,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62de83825a97a1658749826.jpg?v=1785843473"},{"product_id":"sailab-ki-kahani-pictorial-book-سیلاب-کی-کہانی","title":"SAILAB KI KAHANI (PICTORIAL BOOK)  سیلاب کی کہانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ۔ سیلاب کی یہ دل گداز کہانی کوٹ مٹھن سے شروع ہو کر مسجدِ قرطبہ میں ختم ہوتی ہے۔ کوٹ مٹھن اور مسجد ِ قرطبہ ، یہ دو استعارے ہیں، سوزومستی اورفنا و بقا کے۔ کہانی جب شروع ہو تو خبر نہیں ہوتی کہ کس کس موڑ سے گزرے گی، کہاں ختم ہو گی۔ اس کہانی میں بھی بہت سے موڑ ہیں۔ سیلاب زدگان کے علاوہ بہت سے اور لوگوں کا تذکرہ جو ایک ہی خواب دیکھتے ہیں، مواخات کا خواب۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص کو عزت سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہو۔ اس کہانی کا آخری موڑ مسجدِ قرطبہ کی عظمت اور غرناطہ کا زوال ہے۔ یہ ذکر اس لیے شامل ہوا کہ ہم کمال و زوال کی حقیقت کو سمجھ سکیں۔ یہ جان پائیں کہ سلسلۂ روز و شب میں عشق ہی اصل شے ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب ایک منفرد سفر کی کہانی ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے جو غیرمعمولی تباہی ہوئی، امجد ثاقب اس کا عینی شاہد ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں وہ چارو ں صوبوں میں جاکر لوگوں کے دُکھ بانٹتا رہا، ہمت بڑھاتا رہا۔ اس طرح کی کہانی شاید ہی لکھی گئی ہو جس میں قدرتی آفات کا حال بھی ہو اور اس سے بچنے کی تدابیر اور حکمتِ عملی بھی۔ وہ اس کہانی کا مصنف بھی ہے اور کردار بھی۔ نہ وہ ہتھیار پھینکتا ہے، نہ کسی کو ہتھیار پھینکنے دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مصیبت میں گھرے لوگ تباہی کو بھول کر مستقبل کی تعمیر میں مگن ہوں۔ اس کے نزدیک ماضی سبق سیکھنے کے لیے ہےاور مستقبل زندہ رہنے کے لیے۔ یہ کتاب ایک ایسی دستاویز ہے جو ہر شخص کو پڑھنی چاہیے، خاص طور پر حکومت سے وابستہ تمام لوگوں کو، تاکہ ہمیں ا پنی کوتاہیوں کا علم ہو سکے اور ہم ان آفات سے بچنے کا کوئی راستہ ڈھونڈ سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب سلطان خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( ستارئہ امتیاز، ہلال ِ امتیاز، نشانِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458576003257,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/648d5823cb2801686984739.jpg?v=1785843599"},{"product_id":"meri-dastan-میری-داستان","title":"MERI DASTAN  میری داستان","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُردو کے نامور نثر نگار مرزا فرحت اللہ بیگ کی یہ خودنوشت ’’میری داستان‘‘ دراصل ایک ’’دفتربیتی‘‘ ہے جو آپ بیتی کے تمام پہلوؤں کی بجائے صرف ایک پہلو یعنی ان کی دفتری زندگی اور کارناموں پر محیط ہے۔ مرزا صاحب نے انسانی زندگی کو ایک قید سے تعبیر کیا ہے اور اس قید کے پانچ حصے کیے ہیں۔ حصہ اوّل ماں کا پیٹ۔ دوسرا حصہ بڑے بوڑھوں کی قید۔ سوم حصہ مدرسے کی قید۔ چوتھا حصہ نوکری کی قید اور آخری حصہ قبر کی قید۔ یہ تقسیم ان کی بڑی خوش طبعی پر مبنی ہے۔ ’’میری داستان‘‘ اپنے تمام کرداروں کے صحیح تشخص کے باوجود ایک زبردست عوامی میلہ ہے جس میں قہقہے ہیں، چہچہے ہیں، بھیڑ بھاڑ ہے، آدمی پر آدمی گر رہا ہے، ہنڈولے جھول رہے ہیں، چرخ جھوم رہے ہیں، حلوائیوں کی دُکانوں پر مٹھائی کے تھال سجے ہیں، کڑھاؤ چڑھے ہیں، پوریاں تلی جا رہی ہیں، کہیں ناچ گانا ہو رہا ہے، کہیں بھنڈی کی دھوم دھام ہے۔ یہ حسنِ بیان، ذہانت، انشاء پردازی اور ادب عالیہ کا شاہ کار ہیں۔ وفات سے تین سال پہلے یہ روداد مکمل ہو گئی تھی۔ تینتیس برس بعد اشاعت کی نوبت آئی مگر چَھپی نہیں بلکہ چُھپی رہی۔ معدودے چند لوگوں کی نظر سے گزری۔ اکثر لوگ اس کے وجود سے ناواقف تھے۔ نئی اشاعت سے یہ عام پڑھنے والوں تک پہنچ جائے گی اور مرزا صاحب کی زندگی کا اہم حصہ نظروں کے سامنے آ جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460322603193,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6009949bd19e41611240603.jpg?v=1785856113"},{"product_id":"yaran-e-kuhan-یاران-کہن","title":"YARAN E KUHAN  یاران کہن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاگر اس کتاب کے ہر مضمون میں آپ کو سالکؔ نظر آئے تو اس پر بدکنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تذکرہ ہی صرف اُن بزرگوں کا ہے، جن سے سالکؔ کے براہ راست روابط ہوئے۔ لہٰذا اس میں جا بجا ’’صیغۂ واحد متکلم‘‘ کا استعمال ناگزیر تھا۔ اس تذکرے سے ان بزرگوں کے سوانحِ حیات لکھنا یا ان کی تصانیف پر تبصرہ کرنا مقصود نہیں، صرف ان کی شخصیتوں کی ہلکی سی جھلک دکھانا منظور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مقصد میں ناکام نہیں رہا۔ یہ کتاب آغاشورشؔ کے ’’توائی ڈالنے‘‘ کی وجہ سے صرف چند روز میں لکھی گئی ہے۔ اس لیے اگر اس میں کوئی ایسے اسقام نظر آئیں جو اہلِ ذوق کے نزدیک میرے اسلوبِ تحریر کے شایاں نہ ہوں تو ان کی ذمہ داری اُسی ’’بلائے بے درماں‘‘ کے سر ہے، جس کو شورشؔ کہتے ہیں اور جس کی کسی ضد سے میں سرتابی نہیں کر سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعبدالمجید سالک\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460329287865,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/619ddb3154c8e1637735217.jpg?v=1785856828"},{"product_id":"raseedi-ticket-3rd-edition-رسیدی-ٹکٹ","title":"RASEEDI TICKET (3RD EDITION)  رسیدی ٹکٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eرسیدی ٹکٹ کا جس وقت ہندی اور انگریزی میں ترجمہ ہو رہا تھا، میرے کئی ماہ اس کی پکڑ میں رہے۔ اس لیے کئی حصے نئے لکھے گئے جو اِن زبانوں کے تراجم میں تو شامل ہو گئے لیکن پنجابی میں، اس کتاب کے چھپ چکنے کے باعث رہ گئے۔ وہ نئے اوراق اب اس نئے ایڈیشن میں شامل کر رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچتی تھی، نظموں کو بھی ان کے وقتِ تصنیف اور محرک کے تذکرہ کے ساتھ شامل کر سکوں لیکن پھر رسیدی ٹکٹ کو چھاپ سکنا میرے بس سے باہر ہو جاتا۔ اس لیے اس خیال کو مَیں نے دو مزید حصص میں تقسیم کر دیا۔ ’’میں جمع میں‘‘ اور ’’مَیں جمع دُنیا‘‘ میں، جن میں سے ایک جلد میں صرف وہ نظمیں ہیں (محرک واقعہ اور وقت سمیت) جو ایک ہستی کے متعلق ہیں، یعنی میرے ’’تم‘‘ سے اور دوسری جلد میں صرف وہ جو دُنیا میں پیش آ رہے ہیں، واقعات سے منسلک ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مَیں‘‘ کے بغیر نہ ’’تم‘‘ کے معنی نکلتے ہیں، نہ دُنیا کے۔ یہ ’’مَیں‘‘ کے آگے ’’تم‘‘ کا سفر ہوتا ہے اور ’’تم‘‘ کے آگے اپنی کائنات کا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدونوں حالتوں میں یہ ’’مَیں‘‘ کی وسعت کا سفر ہوتا ہے۔ وہ کتاب ’’میں جمع میں‘‘ (سمیت میں جمع دُنیا کے) علیحدہ سے چھپی ہے اور یہ رسیدی ٹکٹ الگ ہے لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتاپریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473762267321,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/655f394ccf63c1700739404.jpg?v=1785949356"},{"product_id":"surkh-dhaage-ka-rishta-سرخ-دھاگے-کا-رشتہ","title":"SURKH DHAAGE KA RISHTA  سرخ دھاگے کا رشتہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اس زندگی میں دو بار محبت کی ہے۔ پہلی ساحر سے، اور دوسری امروز سے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساحر کو میں نے آج سے تقریباً پینتالیس برس پہلے، پریت نگر ضلع امرتسر کے ایک مشاعرے میں دیکھا تھا۔ میں نے اپنی کتاب ’’ رسیدی ٹکٹ ‘‘ میں اس ملاقات کا ذکر لکھا ہوا ہے کہ اگلے روز جب ہم سب نے پریت نگر سے واپس لاہور پہنچنا تھا، اور ہم کو جو بس ملی تھی، وہ ایک نزدیکی گاؤں لوپوکی سے ملنی تھی، جہاں تک ہم سب نے پیدل چل کر جانا تھا۔ اور وہ راستہ چلتے ہوئے میں کتنا ہی فاصلہ اس جگہ پر چلتی رہی، جہاں ساحر کے جسم کا ایک لمبا سایہ پڑ رہا تھا۔ اور اس کے بعد .... برسوں تک مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ہمیشہ اس کے سائے میں چلتی رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ اس زندگی کی وہ حقیقت تھی، جو میں نے بسر کی تھی، اور لکھی تھی۔ لیکن یہ کس جنم کا سایہ تھا، اب جس سائے میں مَیں چل رہی تھی، یہ نہیں جانا۔ یہ میں نے 1983ء کی 5 جنوری کی رات کو جانا، جب گزشتہ جنم کو دیکھتے، میں نے اس محل کے راجے کی صورت میں ساحر کو دیکھا، جہاں 8 مارچ والے دن اس کی بیوی کی صورت میں مَیں نے قدم رکھا تھا، اور 29 دسمبر والے دن مجھے ایک عورت نے زہر کا پیالہ دے کر مروا دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473766461625,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/636f36937270d1668232851.jpg?v=1785949537"},{"product_id":"mei-jama-tu-میں-جمع-تو","title":"MEI JAMA TU  میں جمع تو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامروز کے لفظوں میں اگر کوئی امرتا کی تمام تخلیقات، نظمیں، کہانیاں، ناول ترتیب وار سامنے رکھ کر پڑھے تو وہ امرتا کی پوری زندگی کو جان سکتا ہے۔ اگر کوئی چاہے تو اس کی بنیاد پر اس کی سوانح لکھ سکتا ہے اور میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں، اسی لیے میں نے ”رسیدی ٹکٹ“ کے شروع میں لکھا تھا ”جو کچھ پیش آیا وہ سب کا سب نظموں اور ناولوں کے حوالے ہوگیا، پھر باقی کیا بچا۔ اس کے باوجود کچھ سطریں لکھ رہی ہوں، اس طرح جس طرح زندگی کے حساب کتاب کے کاغذوں پر ایک چھوٹا سا رسیدی ٹکٹ لگا رہی ہوں، نظموں اور ناولوں کے حساب کتاب کی کچی رسید کو پکی رسید بنانے کے لیے۔“ ”رسیدی ٹکٹ“ میرے من کی تاریخ ہے، میری تخلیقات کا پس منظر، میری تخلیق کی جنم بھومی، لیکن اگر میں اس میں ترتیب سے ان تخلیقات کے زمانے کو بھی جوڑنے لگتی ان تخلیقات سمیت تو مجھ میں انھیں شائع کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ اب بھی ناولوں اور کہانیوں کو ایک طرف رکھ کر صرف نظموں کو سامنے رکھا ہے اور وہ بھی صرف ان نظموں کو جن کا تعلق میری نجی زندگی سے ہے۔ حالانکہ لوگوں کے درد کو میں اپنے درد کا ہی حصہ مانتی ہوں۔ میرے مفہوم میں تمام لوگ میرے وجود کی وسعت ہیں لیکن یہاں میں ”نجی زندگی“ کے لفظ کو بڑے محدود معنوں میں، اکہرے معنوں میں صرف ان نظموں کا انتخاب کر رہی ہوں جو کسی خاص شخص کی یعنی ”تو“ کی میری زندگی میں آمد سے متعلق ہیں۔میری زندگی میں پہلی آمد خلا کی تھی جس میں جو کچھ چاہ لیا، جو کچھ تصور کر لیا وہی سوچ گھڑی بھر کے لیے من کی حالت ہوگئی۔ یہ ایک حقیقت کا ایک تصور کے گلے لگ کے باتیں کرنے کا وقت تھا۔ اس عہد کی کچھ نظمیں ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473823248569,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fbfc767627811606403943.jpg?v=1785950626"},{"product_id":"mohabbat-namay-محبت-نامے","title":"MOHABBAT NAMAY  محبت نامے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامرتا نے سب سے پہلا خط جو میرے نام لکھا، وہ صرف ایک سطر کا تھا۔ وہ مجھے بمبئی میں موصول ہوا تھا، جب میں شمع اور دہلی کو چھوڑ کر گورودت کے ساتھ کام کرنے کے لیے وہاں گیا تھا وہ ایک سطر یہ تھی ’’بمبئی اپنے آرٹسٹ کو خوش آمدید کہتی ہے۔‘‘ اس خط میں امرتا نے مجھے کسی نام سے مخاطب کیا تھا اور نہ اپنا نام لکھا تھا۔ جس دن وہ خط مجھے بمبئی میں ملا اس دن مجھے لگا تھا، جیسے امرتا کے وجود کا نام بمبئی بھی ہو۔میں امرتا کو بہت سے ناموں سے بلاتا آرہا ہوں، بلاتا ہوں۔ آشی سے لے کر ’’برکتے‘‘ تک کئی نام ہیں مجھے جو بھی خوبصورت لگتا ہے، اسی نام سے میں اسے پکارنے لگتا ہوں۔ جو بھی مجھے مؤثر لگتا ہے، وہی اس کا نام رکھ دیتا ہوں۔ یوں تو گھر میں، رسوئی میں اسے ’’برکتے‘‘ ہی کہہ کر بلاتا ہوں۔ وہ واقعی میری برکت ہے۔ طبیعت کی افتاد سے میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ اپنے کاروبار میں کبھی کبھی کم کام بھی ہو جاتا ہے، مگر میں نے کبھی کوئی کمی محسوس نہیں کی۔ برکتے کا لمس پاکر میرا تھوڑا بھی بہت ہو جاتا ہے۔ یہ سبھی خطوط میرا سرمایہ ہیں اور میری دانست میں امرتا کی خود گزشت ’’رسیدی ٹکٹ‘‘ کا ایک حصہ!! (امروز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473825607865,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e64a945449981583655237.jpg?v=1785950725"},{"product_id":"mera-kamra-میرا-کمرہ","title":"MERA KAMRA  میرا کمرہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمعروف ادیبہ امرتا پریتم کا تالیف کردہ خوب صورت مجموعہ ’’میرا کمرہ‘‘ جس میں کچھ معروف شاعروں اور ادیبوں کے وہ کمرے ہیں جن میں بیٹھ کر وہ لکھتے پڑھتے تھے۔ گہرے مطالعے کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ گھر کا ہر کونا یا کمرہ ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں اس کے مقیم کی شخصیت کو دیکھا جاسکتا ہے، اور اس کے پورے ادھورے سپنوں کو بھی۔ یوں تو گھر کا کوئی نہ کوئی کونا ہر انسان کی نجی ضرورت ہوتا ہے، لیکن جنھوں نے تعمیر کی تقدیر پائی ہے ان کے لیے اس کونے کا وجود اتنی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جتنی ان کی شخصیت۔ ’’امرتا پریتم‘‘ کے اس مجموعے میں ان ادیبوں کے کمروں کی یادیں اور کہانیاں پڑھیے، ان کے اپنے قلم سے !\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473831473337,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6176b2a942d721635168937.jpg?v=1785950789"},{"product_id":"guzre-din-autographed-edition-گزرے-دن-آٹوگراف-ایڈیشن","title":"GUZRE DIN (AUTOGRAPHED EDITION)  گزرے دن (آٹوگراف ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس وقت ہمارے دو سینئر ناول نگار اور دو ’’بزرگ‘‘ شاعر ہیں جن کی کتب انھی کے تجویز کردہ املا اور تزئین کاری سے شائع ہوں، ان کے انگریزی میں تراجم ہوں تو وہ ادب کے نوبیل انعام کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ان میں سیّد حسن منظر نمایاں ترین ہیں، اس لیے کہ شاید ہی کوئی اور ناول نگار ہو جو صحائفِ الہامی سے شناسائی رکھتا ہو مگر برہمنیت کا شکار نہ ہو۔ جو طب اور نفسیات کا ڈاکٹر ہو مگر مشکل علاقوں اور لوگوں میں کام کرتا رہا ہو۔ برص اور جذام کے مرض کو چھوت سمجھنے والوں کے درمیان مریض کے اپنے بدن پر دوائی کا لیپ کرکے وہاں کے لوگوں کے وہم کو دُور کرتا رہا ہو۔ وہ پریم چند سے محبّت کرتا ہو مگر اس کا سیکولر اور ترقّی پسند ہونا اسے نائیجیریا کے مسلمان رہنما (ابوبکر تفاوا بلیوا) کے خلاف فوجی بغاوت اور ہلاکت کا نوحہ لکھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ دورانِ ملازمت چوروں اور قبضہ گیروں نے اس کو مال اسباب سے محروم کیا مگر انسانی اقدار سے بے تعلّق نہیں ہونے دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ گزرے دن‘‘ ایک تخلیق کار کی ہی آپ بیتی نہیں، ایک فرض شناس معالج، انسانوں، زبانوں، نسلوں اور عادتوں کی رنگا رنگی یا بوقلمونی کو سمجھنے میں صرف مشاہدے اور تجربے کو کافی خیال نہیں کرتا، اس کے لیے تاریخی اور تہذیبی ماخذات تلاش کرتا، ان کا مطالعہ کرتا اور تجزیہ کرتا دکھائی دیتا ہے، پاکستان کے مشکل منظر نامے سے تقابل بین السطور موجود ہے اور کچھ ملال بھی ہوتا ہے کہ اس کے وسیع طبی اور تمدنی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے ہمارے اربابِ اختیار نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس صورتِ حال کا مداوا ’’بک کارنر جہلم‘‘ کے امر شاہد اور گگن شاہد عمدہ طباعت اور یادگار تصویروں کے ساتھ ’’گزرے دن‘‘ کی اشاعت سے کر رہے ہیں جن کے لکھنے میں ان کی راتوں کا اضطراب بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر انوار احمد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475974697145,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64b510c97efc11689587913.jpg?v=1785964144"},{"product_id":"kachay-gharon-ki-kahaniyan-کچے-گھروں-کی-کہانیاں","title":"KACHAY GHARON KI KAHANIYAN  کچے گھروں کی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُس وقت میری عمر پانچ چھ برس ہو گی۔ ہمارے گھر کے سامنے سے کچی سڑک گزرتی تھی۔ سڑک کے ساتھ پانی کا نالہ چلتا تھا اور کنارے پر دونوں جانب ٹاہلیوں کے بلند پیڑ تھے۔ ساتھ ہی یونین کونسل کا دفتر تھا۔ اُس میں بھی بےشمار شیشم اور نیم کے درخت تھے۔ سڑک پر پھیری لگانے والے اکثر آواز لگاتے ہوئے گزرتے تھے۔ کھوئے کی قفلی لے لو، گُڑ اور برف کا ٹھنڈا گولا لے لو۔ لال و لال متیرہ لے لو، خاص کر جب قفلی اور گولے کی آواز آتی تو میرے کان کھڑے ہو جاتے، بھاگ کر سڑک پر آ جاتا۔ پیسے اُن دِنوں نہیں ہوتے تھے۔ کبھی کبھار گندم یا آٹا گولے والے کو دے کر برف کا گولا بنوا لیتا۔ سُڑکے لگا لگا کر چوستا اور شیشم کے درختوں کی چھاؤں تلے پانی کے نالے میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتا۔ جب گولا ختم ہو جاتا تو گھر لوٹتا۔ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو فقط قفلی یا گولے والے کو دُور جاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوتا گھر میں نہ گھستا تھا۔ یونین کونسل تب مصطفیٰ زیدی نے بنوائی تھی اور اُس میں ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔ اُس وقت وہ ساہیوال کے ڈی سی ہوتے تھے۔ اُس لائبریری میں بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کتابیں تھیں۔ اکثر اوقات جب مجھے گولا نہ ملتا تو بجائے گھر میں داخل ہونے کے یونین کونسل کی لائبریری میں گُھس جاتا۔ وہاں ابنِ صفی کی عمران سیریز، ٹارزن کی جنگلی مہمیں اور کمانڈوز کی کہانیاں مفت میں مل جاتی تھیں جنھیں پڑھ کر واپس کرنا ہوتا تھا۔ مَیں وہ گھر لے آتا اور اُس کے عوض چوکیدار کو دوپہر کے وقت گھر سے عمدہ دودھ پتی بنوا کر لا پلاتا۔ یہاں سے مَیں نے وہ سارا ادب پڑھا جو بچوں کو پڑھنا چاہیے تھا۔ اے کاش، آج کے بچے پیدا ہوتے ہی جوان نہ ہوتے اور نیٹ کی بجائے کم از کم بیس سال کی عمر تک کتاب ہی سے واسطہ رکھتے تو یقین مانیے وہ آہستہ آہستہ بڑے ہوتے اور یہ بہت فطری ہوتا۔ کیونکہ جلد بڑا ہونے والا جلد رسوا ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(علی اکبر ناطق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476010774713,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a0633a608ed1738564410.jpg?v=1785965960"},{"product_id":"abaad-huay-barbaad-huay-3rd-edition-آباد-ہوئے-برباد-ہوئے-تیسرا-ایڈیشن","title":"ABAAD HUAY BARBAAD HUAY (3RD EDITION)  آباد ہوئے برباد ہوئے (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eیہ ایک شان دار اور بے مثال خودنوشت ہے جس میں کھرا سچ ہے، ایک ایسا سچ جس کی لپیٹ میں علی اکبر ناطق کے آباؤ اجداد، اُس کی اپنی ذات اور زمانہ بھی آتا ہے۔ اس کی نثر پنجاب کی دھرتی کی طرح زرخیز اور پُرمایہ ہے۔ اس داستانِ حیات میں فکشن اور کہانی جیسی دل فریب دل چسپی ہے۔ یہ خودنوشت رنگین قصّوں کی من موہنی مالا ہے، البتہ یہ فقط واقعہ نگاری نہیں، واقعات کی تہ میں، تہ در تہ میں گنجینۂ معانی مخفی ہے۔ اس گنجینے تک فقط صاحبِ نظر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ خودگزشت اِس دَور کی کہانی ہے، یہ رُودادِ حیات ہر ہر دور کی بے مثال حکایت ہے۔\u003cbr\u003eاس کتاب کو پڑھنا رُوح کو سرشار کر دینے والا تجربہ ہے کہ یہ اُردو اَدب میں اپنی نوع کی واحد خودنوشت ہے، ایک امر ہوجانے والی لازوال تخلیق!\u003cbr\u003e(عرفان جاوید)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476013166777,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6790a08e453381737531534.jpg?v=1785966228"},{"product_id":"khushbu-ki-divaar-ke-peeche-خوشبو-کی-دیوار-کے-پیچھے","title":"KHUSHBU KI DIVAAR KE PEECHE  خوشبو کی دیوار کے پیچھے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیری زندگی پہاڑی ندی کے سفرزاد پانی جیسی رہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس پانی کی منزل فنا کا کڑوا سمندر ہے مگراس کی موج موج سے جو مدھر اور حیات افزا گیت پھوٹتا ہے اُس نے مجھے گرفتار رکھا ہے۔ ہر اوبڑ کھابڑ، ہر روڑا پتّھر اور ہر رکاوٹ میرے لیے کسی ستار کے تنبے کی جواریوں پر سے گزرتی تنی ہوئی تاریں ہیں جو چوٹ پڑنے پر گنگنانے لگتی ہیں۔ ہر بار پانی کا دھارا رکاوٹوں سے ٹکراتا ہے اور فضا میں گیت اچھال دیتا ہے۔ یہی میری ہست ندی کا گیت ہے۔ یہ محض میری ہڈ بیتی یا دُکھ سکھ کا روایتی قصہ نہیں ہے۔ میں جیسا ہوں مجھے ایسا بنانے اوراس وجود کی عمارت کی تعمیر میں اینٹ گارے کا کام دینے کے لیے میری محبتیں، میری الجھنیں، میری نجی، پیشہ ورانہ اور ادبی زندگی کے علاوہ، سماجی، سیاسی اور تہذیبی واقعات اور سانحات بھی بہم ہوتے رہے ہیں۔ یوں یہ کہانی ایسا آئینہ ہو گئی ہے، جس میں آپ چاہیں تو اپنا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں اور اپنے اغل بغل کی چہل پہل اور اکھاڑ پچھاڑ بھی۔ اس نہج سے دیکھیں تو میری زندگی میری کہاں رہی ہے؟ کہ اس میں انہدام کی زد پر آئی ہوئی تہذیب، تیزی سے پچھڑتی ہوئی محبوب روایات، ٹوٹتے بنتے سماجی رشتے، سیاست دانوں کی لوٹ مار، قومی اداروں کی توڑ پھوڑ، مقتدر قوتوں کی من مانیاں، ٹکڑوں میں بٹتی ریاست، دہشت کے لہو میں غرق ہوتا قومی وجود، وباکا لقمہ بنتے پیارے لوگ اور ادبی گہما گہمی سمیت زندگی کا ہر پہلو متن ہو گیا ہے۔ اس ہنگامے کے اندر سے مجھے زندگی کی معنویت کا ایک گیت سنائی دیتا رہا ہے۔ وہی گیت میں آپ کی محفل میں سنانے آ گیا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483160916153,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63a0731d065ec1671459613.jpg?v=1786038164"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/memoir.oembed?page=3","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}