{"title":"Non Fiction","description":null,"products":[{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/molvi-tamizuddin-khan\"\u003eMOLVI TAMIZUDDIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 456\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367625568441,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"jang-e-azeem-awwal-asl-kahani-kya-hai-جنگ-عظیم-اول-اصل-کہانی-کیا-ہے","title":"JANG-E-AZEEM AWWAL: ASL KAHANI KYA HAI? جنگ عظیم اول: اصل کہانی کیا ہے؟","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-mujahid-kamran-1\"\u003eDR MUJAHID KAMRAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9\/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370438406329,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d3b81f7433f1775482911.jpg?v=1785197336"},{"product_id":"amn-mumkin-he-امن-ممکن-ہے","title":"AMN MUMKIN HE امن ممکن ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fredrik-s-heffermehl\"\u003eFREDRIK S. HEFFERMEHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 222\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفریڈرک ا یس ہیفرمیہل 11 نومبر 1938ء کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ اوسلو یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ وہ ناروے کے معروف قانون دان، مصنف اور امن کے فعال کارکن تھے۔ انھوں نے 1965ء سے 1982ء تک ایک وکیل اور سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا۔ وہ 1980ء سے 1982ء تک نارویجن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے پہلے سیکرٹری جنرل رہے۔ بعد ازاں انھوں نے امن اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک مصنف اور کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ ناروے کی امن کونسل کے اعزازی صدر، اور بین الاقوامی امن بیورو کے نائب صدر رہے۔ فریڈرک ہیفرمیہل جوہری ہتھیاروں کے خلاف وکلا کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے منتخب نائب صدر تھے۔ انھوں نے 21 دسمبر 2023 کو وفات پائی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوجاہت مسعود 1966ء میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور یورپی قانون میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کی۔ 1994ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ پاکستانی دیہات میں بارہ برس انسانی حقوق کی تعلیم کا فرض ادا کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس اور صحافت سے منسلک ہیں۔ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر اہلِ ثقافت سے انٹرویو کرتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2015ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’امن ممکن ہے‘‘ ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو امن کی تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ ’’جنگیں ختم کرنے‘‘ کے نعرے میں کشش ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن قریب قریب ایسی ہی شدّت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مقصد حقیقی دنیا میں کچھ زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بہت سے معروف امن پسند اہلِ دانش نے امن کے لیے اپنی کامیاب اور متنوع کوششوں کی روشنی میں اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ ان تحریروں میں مایوسی اور الم ناکی کی عکاسی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جنگ اور امن کے مسائل سے نمٹنے کے عملی ذرائع اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے صاحبانِ علم میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ جس روز انسانوں نے متحد ہو کر امن کو انسانی بقا کی بنیادی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، اس دن دنیا کی کوئی طاقت کرۂ ارض پر قیامِ امن کو نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی متعدد تحریروں میں پڑھنے والوں کو قیامِ امن کے لیے ان علانیہ اور پس پردہ کوششوں سے متعارف کرایا گیا ہے جنھیں حالیہ برسوں میں ’’نئی سفارت کاری‘‘ کی اصطلاح بخشی گئی ہے۔ ایسی سفارت کاری میں امن کے برہنہ پا اور تہی دست علمبردار گلی کوچوں میں بسنے والے سادھارن اور گمنام امن پسندوں کی آواز اور تحفظات کو ان راہداریوں اور ایوانوں تک لے جاتے ہیں جہاں تجربہ کار اور پیشہ ور سفارت کار ہماری دنیا کو چلانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچونکہ ایسی متبادل سفارت کاری کا بیشتر کام پس منظر میں رہتے ہوئے کیا جاتا ہے، اس لیے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا کے بظاہر عام شہری امن کا عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیسے بظاہر ’’ناممکن‘‘ مرحلے طے ہو رہے ہیں۔ دو، صرف دو مثالیں لیجیے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے دنیا میں بارودی سرنگوں پر پابندی کا جھنڈا اٹھایا، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کا بِیڑا اٹھایا۔ روایتی انداز سے سوچنے والے تجربہ کار ماہرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ دونوں مقاصد ناقابلِ حصول ہیں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ان دونوں اہداف کے لیے کوشش کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ زیرِ نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دونوں اہداف نہ صرف یہ کہ حاصل کر لیے گئے، بلکہ یہ بھی کہ ان کامیابیوں تک پہنچنے میں صرف پانچ برس لگے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب مئی 1999ء کی ہیگ کانفرنس اپیل برائے امن کے لیے پہلے سے تیار کردہ مواد کا حصہ ہے۔ آج سِول سوسائٹی 21ویں صدی کے لیے امن اور انصاف کا ایک نیا ایجنڈا مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ تمام جدید ہتھیار بدیہی طور پر تمام انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لیے آج روایتی فوج ہمیں تسلی بخش سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی باوجود اس کے کہ ہم سب انسان فوج اور ہتھیاروں کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب فریڈرک ایس ہیفرمیہل کا پختہ یقین ہے کہ جس دن انسانوں نے بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود پائیدار امن کے لیے جدید ہتھیاروں کے ناقابلِ بھروسا ہونے کی حقیقت سمجھ لی، اس روز دنیا بھر میں کوئی طاقت امن کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فوج کی پیش قدمی سے کہیں زیادہ ناقابلِ مزاحمت وہ خیال ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔‘‘\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370449449145,"sku":null,"price":0.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69eef77a492aa1777268602.jpg?v=1785198082"},{"product_id":"gynae-feminism-4-books-set-zindagi-se-darte-ho-v-vakhri-kitab-rahem-pe-rahm-dufi-dufi-dufi-گائنی-فیمن-ازم-چار-کتابوں-کا-مجموعہ-زندگی-سے-ڈرتے-ہو-وی-وکھری-کتاب-رحم-پہ-رحم-دفعی-دفعی-دفعی","title":"GYNAE FEMINISM | 4 BOOKS SET | ZINDAGI SE DARTE HO, V: VAKHRI KITAB, RAHEM PE RAHM, DUFI DUFI DUFI گائنی فیمن ازم | چار کتابوں کا مجموعہ | زندگی سے ڈرتے ہو، وی وکھری کتاب، رحم پہ رحم، دفعی دفعی دفعی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-tahira-kazmi\"\u003eTAHIRA KAZMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 856\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e\u003cbr\u003e📕 زندگی سے ڈرتے ہو \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماضی میں اگر ان موضوعات کو شرم و حیا کے غلیظ پردوں میں لپیٹ کر عورت کی زندگی کو اہم نہیں جانا گیا تو کیا ضروری ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت بھی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والوں کی سی زندگی بسر کرے۔ جسم کو سمجھنا اور اس کے متعلق بات کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📘 وِی: وَکھری کتاب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچیے ایسی عورت معاشرے کو کیا دے سکتی ہے جو اپنے جسم کے ایک اہم عضو کا نام تک نہیں لے سکتی اور تکالیف دور کرنے کے لیے سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے ان ٹوٹکوں کا سہارا لیتی ہے جو ماؤں اور نانیوں دادیوں کی سرگوشیوں کی صورت اس تک پہنچتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📕 رحم پہ رحم \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعورت اکائی ہے اور کوئی بھی معاشرہ اور ادب اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنت اور بنے گئے الفاظ اس اکائی کے گرد نہ گھومتے ہوں۔ عورت کا دکھ سکھ، کرب و آگہی، مسائل و تکالیف جہالت کے پردے ہٹا کر زندگی کے سٹیج پر لے آنا ہی اصل ادب ہے اور ادیب کو حیاتِ جاوداں تب ہی نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنے الفاظ کو ہچکچاہٹ، انا، جھوٹی شرم و حیا اور مصنوعی اقدار و روایات کے نقاب نہ پہنائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دفعی دفعی دفعی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدرد جسم اور اعضا سے اُٹھتا ہو یا دل کے نہاں خانوں میں دوڑتا ہو یا روح کے پوشیدہ احساس سے جنم لیتا ہو ، عورت سراپا درد ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ایسی آنکھ اور ایسا دل چاہیے جو اسے اپنے جیسا سمجھے، اپنے جیسا انسان!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ایک پیش رو، ڈاکٹر طاہرہ خاموشی، منافقت اور ظلم کو توڑ رہی ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ (زبیدہ مصطفی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہم سب مرحوم شوکت علی کاظمی کے ممنونِ احسان ہیں جنھوں نے طاہرہ جیسی سرشور بیٹی اس سماج کو دی۔ (زاہدہ حنا )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ کاظمی نے اپنے کالموں میں، عورتوں کے حق میں آواز اُٹھاتے ہوئے، مردانہ برتری کے علم بردار معاشروں کی چیرپھاڑ کرنے میں کمی نہیں چھوڑی۔ (محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ وہ کہتی ہے ’’میں فیمینسٹ نہیں ہوں‘‘، اسے ظاہری سلوگنز سے نفرت ہے، وہ اندر سے سچی اور زبان سے کڑوی عورت ہے۔ (کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ بیدار ذہن، نڈر اور بےباک لکھاری ہیں تلخ باتیں کہنے کا ہنر انھیں آتا ہے۔ (افتخار عارف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عورتوں کی جسمانی تکالیف کا مداوا یا علاج ہی نہیں کرتیں بلکہ بہت ہی لطیف اور ہنر مندانہ انداز میں کاؤنسلنگ کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ (خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہمیں ایک طاہرہ کاظمی نہیں طاہرہ کاظمی ازم کی ضرورت ہے۔ (انور سن رائے)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ اکیسویں صدی میں اُردو زبان طاہرہ کاظمی کی احسان مند رہے گی کہ انھوں نے صنفی امتیاز کی ناانصافی کی مخالفت میں احتجاج کی تپش کو اُردو کا قالب بخشا۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380320612537,"sku":"BC SSH 4","price":3500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69c3a6f1a8c021774429937.jpg?v=1785247966"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-2nd-edition-قابل-اعتراض-دوسرا-ایڈیشن","title":"QABIL-E-AITRAAZ - 2ND EDITION قابل اعتراض - دوسرا ایڈیشن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/hashir-irshad\"\u003eHASHIR IRSHAD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 414\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385777434809,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d4dd19403661775557913.jpg?v=1785283313"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/non-fiction.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}