{"title":"Non Fiction","description":null,"products":[{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431551774905,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432283091129,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"jang-e-azeem-awwal-asl-kahani-kya-hai-جنگ-عظیم-اول-اصل-کہانی-کیا-ہے","title":"JANG-E-AZEEM AWWAL: ASL KAHANI KYA HAI? جنگ عظیم اول: اصل کہانی کیا ہے؟","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9\/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432302162105,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d3b81f7433f1775482911.jpg?v=1785197336"},{"product_id":"amn-mumkin-he-امن-ممکن-ہے","title":"AMN MUMKIN HE امن ممکن ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eفریڈرک ا یس ہیفرمیہل 11 نومبر 1938ء کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ اوسلو یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ وہ ناروے کے معروف قانون دان، مصنف اور امن کے فعال کارکن تھے۔ انھوں نے 1965ء سے 1982ء تک ایک وکیل اور سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا۔ وہ 1980ء سے 1982ء تک نارویجن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے پہلے سیکرٹری جنرل رہے۔ بعد ازاں انھوں نے امن اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک مصنف اور کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ ناروے کی امن کونسل کے اعزازی صدر، اور بین الاقوامی امن بیورو کے نائب صدر رہے۔ فریڈرک ہیفرمیہل جوہری ہتھیاروں کے خلاف وکلا کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے منتخب نائب صدر تھے۔ انھوں نے 21 دسمبر 2023 کو وفات پائی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوجاہت مسعود 1966ء میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور یورپی قانون میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کی۔ 1994ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ پاکستانی دیہات میں بارہ برس انسانی حقوق کی تعلیم کا فرض ادا کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس اور صحافت سے منسلک ہیں۔ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر اہلِ ثقافت سے انٹرویو کرتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2015ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’امن ممکن ہے‘‘ ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو امن کی تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ ’’جنگیں ختم کرنے‘‘ کے نعرے میں کشش ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن قریب قریب ایسی ہی شدّت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مقصد حقیقی دنیا میں کچھ زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بہت سے معروف امن پسند اہلِ دانش نے امن کے لیے اپنی کامیاب اور متنوع کوششوں کی روشنی میں اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ ان تحریروں میں مایوسی اور الم ناکی کی عکاسی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جنگ اور امن کے مسائل سے نمٹنے کے عملی ذرائع اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے صاحبانِ علم میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ جس روز انسانوں نے متحد ہو کر امن کو انسانی بقا کی بنیادی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، اس دن دنیا کی کوئی طاقت کرۂ ارض پر قیامِ امن کو نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی متعدد تحریروں میں پڑھنے والوں کو قیامِ امن کے لیے ان علانیہ اور پس پردہ کوششوں سے متعارف کرایا گیا ہے جنھیں حالیہ برسوں میں ’’نئی سفارت کاری‘‘ کی اصطلاح بخشی گئی ہے۔ ایسی سفارت کاری میں امن کے برہنہ پا اور تہی دست علمبردار گلی کوچوں میں بسنے والے سادھارن اور گمنام امن پسندوں کی آواز اور تحفظات کو ان راہداریوں اور ایوانوں تک لے جاتے ہیں جہاں تجربہ کار اور پیشہ ور سفارت کار ہماری دنیا کو چلانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچونکہ ایسی متبادل سفارت کاری کا بیشتر کام پس منظر میں رہتے ہوئے کیا جاتا ہے، اس لیے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا کے بظاہر عام شہری امن کا عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیسے بظاہر ’’ناممکن‘‘ مرحلے طے ہو رہے ہیں۔ دو، صرف دو مثالیں لیجیے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے دنیا میں بارودی سرنگوں پر پابندی کا جھنڈا اٹھایا، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کا بِیڑا اٹھایا۔ روایتی انداز سے سوچنے والے تجربہ کار ماہرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ دونوں مقاصد ناقابلِ حصول ہیں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ان دونوں اہداف کے لیے کوشش کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ زیرِ نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دونوں اہداف نہ صرف یہ کہ حاصل کر لیے گئے، بلکہ یہ بھی کہ ان کامیابیوں تک پہنچنے میں صرف پانچ برس لگے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب مئی 1999ء کی ہیگ کانفرنس اپیل برائے امن کے لیے پہلے سے تیار کردہ مواد کا حصہ ہے۔ آج سِول سوسائٹی 21ویں صدی کے لیے امن اور انصاف کا ایک نیا ایجنڈا مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ تمام جدید ہتھیار بدیہی طور پر تمام انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لیے آج روایتی فوج ہمیں تسلی بخش سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی باوجود اس کے کہ ہم سب انسان فوج اور ہتھیاروں کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب فریڈرک ایس ہیفرمیہل کا پختہ یقین ہے کہ جس دن انسانوں نے بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود پائیدار امن کے لیے جدید ہتھیاروں کے ناقابلِ بھروسا ہونے کی حقیقت سمجھ لی، اس روز دنیا بھر میں کوئی طاقت امن کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فوج کی پیش قدمی سے کہیں زیادہ ناقابلِ مزاحمت وہ خیال ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔‘‘\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432309338297,"sku":null,"price":0.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69eef77a492aa1777268602.jpg?v=1785198082"},{"product_id":"gynae-feminism-4-books-set-zindagi-se-darte-ho-v-vakhri-kitab-rahem-pe-rahm-dufi-dufi-dufi-گائنی-فیمن-ازم-چار-کتابوں-کا-مجموعہ-زندگی-سے-ڈرتے-ہو-وی-وکھری-کتاب-رحم-پہ-رحم-دفعی-دفعی-دفعی","title":"GYNAE FEMINISM | 4 BOOKS SET | ZINDAGI SE DARTE HO, V: VAKHRI KITAB, RAHEM PE RAHM, DUFI DUFI DUFI گائنی فیمن ازم | چار کتابوں کا مجموعہ | زندگی سے ڈرتے ہو، وی وکھری کتاب، رحم پہ رحم، دفعی دفعی دفعی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e📕 زندگی سے ڈرتے ہو \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماضی میں اگر ان موضوعات کو شرم و حیا کے غلیظ پردوں میں لپیٹ کر عورت کی زندگی کو اہم نہیں جانا گیا تو کیا ضروری ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت بھی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والوں کی سی زندگی بسر کرے۔ جسم کو سمجھنا اور اس کے متعلق بات کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📘 وِی: وَکھری کتاب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچیے ایسی عورت معاشرے کو کیا دے سکتی ہے جو اپنے جسم کے ایک اہم عضو کا نام تک نہیں لے سکتی اور تکالیف دور کرنے کے لیے سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے ان ٹوٹکوں کا سہارا لیتی ہے جو ماؤں اور نانیوں دادیوں کی سرگوشیوں کی صورت اس تک پہنچتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📕 رحم پہ رحم \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعورت اکائی ہے اور کوئی بھی معاشرہ اور ادب اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنت اور بنے گئے الفاظ اس اکائی کے گرد نہ گھومتے ہوں۔ عورت کا دکھ سکھ، کرب و آگہی، مسائل و تکالیف جہالت کے پردے ہٹا کر زندگی کے سٹیج پر لے آنا ہی اصل ادب ہے اور ادیب کو حیاتِ جاوداں تب ہی نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنے الفاظ کو ہچکچاہٹ، انا، جھوٹی شرم و حیا اور مصنوعی اقدار و روایات کے نقاب نہ پہنائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دفعی دفعی دفعی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدرد جسم اور اعضا سے اُٹھتا ہو یا دل کے نہاں خانوں میں دوڑتا ہو یا روح کے پوشیدہ احساس سے جنم لیتا ہو ، عورت سراپا درد ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ایسی آنکھ اور ایسا دل چاہیے جو اسے اپنے جیسا سمجھے، اپنے جیسا انسان!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ایک پیش رو، ڈاکٹر طاہرہ خاموشی، منافقت اور ظلم کو توڑ رہی ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ (زبیدہ مصطفی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہم سب مرحوم شوکت علی کاظمی کے ممنونِ احسان ہیں جنھوں نے طاہرہ جیسی سرشور بیٹی اس سماج کو دی۔ (زاہدہ حنا )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ کاظمی نے اپنے کالموں میں، عورتوں کے حق میں آواز اُٹھاتے ہوئے، مردانہ برتری کے علم بردار معاشروں کی چیرپھاڑ کرنے میں کمی نہیں چھوڑی۔ (محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ وہ کہتی ہے ’’میں فیمینسٹ نہیں ہوں‘‘، اسے ظاہری سلوگنز سے نفرت ہے، وہ اندر سے سچی اور زبان سے کڑوی عورت ہے۔ (کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ بیدار ذہن، نڈر اور بےباک لکھاری ہیں تلخ باتیں کہنے کا ہنر انھیں آتا ہے۔ (افتخار عارف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عورتوں کی جسمانی تکالیف کا مداوا یا علاج ہی نہیں کرتیں بلکہ بہت ہی لطیف اور ہنر مندانہ انداز میں کاؤنسلنگ کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ (خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہمیں ایک طاہرہ کاظمی نہیں طاہرہ کاظمی ازم کی ضرورت ہے۔ (انور سن رائے)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ اکیسویں صدی میں اُردو زبان طاہرہ کاظمی کی احسان مند رہے گی کہ انھوں نے صنفی امتیاز کی ناانصافی کی مخالفت میں احتجاج کی تپش کو اُردو کا قالب بخشا۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432372613305,"sku":"BC SSH 4","price":3500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69c3a6f1a8c021774429937.jpg?v=1785247966"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-2nd-edition-قابل-اعتراض-دوسرا-ایڈیشن","title":"QABIL-E-AITRAAZ - 2ND EDITION قابل اعتراض - دوسرا ایڈیشن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436993654969,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d4dd19403661775557913.jpg?v=1785283313"},{"product_id":"maharaja-porus-مہاراجا-پورس","title":"MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eصاحبانِ علم و نظر ہی جانتے ہیں کہ تاحدِّ نگاہ پھیلی زمین میں کھدائی کس جگہ کی جائے تو اس میں مدفن حقیقتوں کو آشکار کیا جا سکتا ہے۔ بدھا پرکاش بھی ایسے ہی صاحبِ علم و نظر ہیں جنھوں نے تاریخ کے وسیع میدان سے پورس کو یوں کھود نکالا ہے کہ وہ شخص جس کےحالاتِ زندگی کے متعلق دو چار موٹی موٹی باتوں کےسوا یونانی کتابوں میں کچھ دستیاب نہیں تھا، اپنی پوری شخصیت، حالات اور واقعات کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے مہاراجا پورس کو بازیاب کیا، آج اس کے اپنے حالاتِ زندگی بسیار کوشش کے دستیاب نہ ہو سکے۔ مگر ’’لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے‘‘، بدھا پرکاش کی یہ کتاب ان کا نام زندہ رکھنے کو کافی ہے۔\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003eڈاکٹر بدھا پرکاش، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہم محقق اور مؤرخ ، قدیم ہندوستانی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں تدریسی میدان میں اُترے اور بھارتی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر رہے۔ کچھ عرصہ کُورُوکشیتر یونیورسٹی (کُورُوکشیتر) میں اِنڈک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) سے وابستہ ہو گئے اور قدیم تاریخ و ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس دوران اہم تحقیقی کتب تصنیف کیں جن میں ’’مہاراجا پورس‘‘ نمایاں کارنامہ ہے۔ برصغیر میں پورس پر تحقیقی کام کرنے والے گنے چُنے مؤرخین میں پروفیسر بدھا پرکاش کا نام نہایت اہم اور مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003eپروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی ، ممتاز سکالر، معروف ادیب و مترجم، 27مئی 1937ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اُردو، انگریزی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کی محبّت ان کے کام سے ظاہر ہے۔ علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ گزشتہ پچاس برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 100 سے زائد علمی، ادبی اور تحقیقی کتب ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا-\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437054275769,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61013d6b9e5181627471211_37596725-2abc-4da4-88c5-c9c4a09492fe.jpg?v=1785691017"},{"product_id":"maharaja-porus-مہاراجا-پورس-1","title":"MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eصاحبانِ علم و نظر ہی جانتے ہیں کہ تاحدِّ نگاہ پھیلی زمین میں کھدائی کس جگہ کی جائے تو اس میں مدفن حقیقتوں کو آشکار کیا جا سکتا ہے۔ بدھا پرکاش بھی ایسے ہی صاحبِ علم و نظر ہیں جنھوں نے تاریخ کے وسیع میدان سے پورس کو یوں کھود نکالا ہے کہ وہ شخص جس کےحالاتِ زندگی کے متعلق دو چار موٹی موٹی باتوں کےسوا یونانی کتابوں میں کچھ دستیاب نہیں تھا، اپنی پوری شخصیت، حالات اور واقعات کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے مہاراجا پورس کو بازیاب کیا، آج اس کے اپنے حالاتِ زندگی بسیار کوشش کے دستیاب نہ ہو سکے۔ مگر ’’لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے‘‘، بدھا پرکاش کی یہ کتاب ان کا نام زندہ رکھنے کو کافی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر بدھا پرکاش، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہم محقق اور مؤرخ ، قدیم ہندوستانی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں تدریسی میدان میں اُترے اور بھارتی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر رہے۔ کچھ عرصہ کُورُوکشیتر یونیورسٹی (کُورُوکشیتر) میں اِنڈک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) سے وابستہ ہو گئے اور قدیم تاریخ و ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس دوران اہم تحقیقی کتب تصنیف کیں جن میں ’’مہاراجا پورس‘‘ نمایاں کارنامہ ہے۔ برصغیر میں پورس پر تحقیقی کام کرنے والے گنے چُنے مؤرخین میں پروفیسر بدھا پرکاش کا نام نہایت اہم اور مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی ، ممتاز سکالر، معروف ادیب و مترجم، 27مئی 1937ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اُردو، انگریزی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کی محبّت ان کے کام سے ظاہر ہے۔ علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ گزشتہ پچاس برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 100 سے زائد علمی، ادبی اور تحقیقی کتب ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437068497081,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e5e84b8b0071776674891_2c87c2b3-d83e-4a38-8439-deba997ef988.jpg?v=1785691306"},{"product_id":"riyasat-ریاست","title":"RIYASAT   ریاست","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eافلاطون دُنیا کا وہ عظیم فلسفی ہے جس کا نام تقریباً ڈھائی ہزار سال گزر جانے کے باوجود بھی دُنیا کے ہر خطے میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’ریاست‘‘ میں ایک فلسفی حکمران کا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ انصاف اور علم کو سب سےبڑی خوبی اور صفت مانتا ہے اور موت کے بعد کی زندگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کتاب میں ہمارے لیے ایک ایسی مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جہاں انصاف اور علم کی حکمرانی ہے۔ دُنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں ’’ریاست‘‘ کا ترجمہ نہ ہوا ہو اور اس پر فلسفیوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار نہ کیا ہو۔ برٹرینڈ رسل نے لکھا تھا کہ اتنی صدیاں بیت گئیں لیکن انسانی فکر و دانش پر افلاطون اور ارسطو کے خیالات و افکار اتنے گہرے ہیں کہ انھیں انسانی فکر کی مرکزیت حاصل ہو چکی ہے۔ افلاطون اور ’’ریاست‘‘ ہر دور میں موضوعِ بحث رہے ہیں۔ اُردو میں اغلباً اس کا پہلا ترجمہ ڈاکٹرذاکر حسین خاں نے کیا تھا جو بعد میں بھارت کے صدر بھی رہے۔ ’’ریاست‘‘ دس ابواب یا حصوں پر مشتمل ہے جن کو کتابوں (Books) كا نام ديا گيا هے۔ افلاطون کے پورے فلسفے اور بالخصوص ’’ریاست‘‘ میں افلاطون ہر ایسا سوال اٹھاتا ہے جس کا کسی نہ کسی صورت میں انسان کو اپنی زندگی میں سامنا کرنا پڑتاہے ۔ وہ حیات بعد الممات کے مسئلے کو بھی اپنی آخری کتاب میں پیش کرتا ہے۔ افلاطون کے ساتھ اختلاف ممکن ہے اور اختلاف کیا بھی گیا ہے مگر افلاطون کا کمال یہ ہے کہ وہ جو سوال اٹھاتا ہے اس کا واضح ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم کس طرح صحیح معنوں میں فکری انداز میں اپنے آپ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ’’ریاست‘‘ کے حوالے سے وہ انصاف کی روح کو تمام انسانوں میں زندہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ علم اور نیکی کی تلقین کرتا ہے اور ایک ایسی ریاست کا نقشہ پیش کرتا ہے جو عملی طور پر تو کبھی قائم نہیں ہوئی لیکن جس کے خصائص اور عناصر کو اگر انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا لیا جائے تو انسانی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ ’’ریاست‘‘ کا مطالعہ ایک بہت بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس نے بنی نوعِ انسان کے افکار پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں اور یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’ریاست‘‘ کو ہمیشہ پڑھا جاتا رہے گا اور اس سے دُنیا ہمیشہ فیض اٹھاتی رہے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دُنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ سے ماخوذ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449900380345,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/630318b7cc49a1661147319.jpg?v=1785781034"},{"product_id":"falsafa-urooj-o-zawal-e-aqwam-فلسفہ-عروج-و-زوال-اقوام","title":"FALSAFA UROOJ O ZAWAL E AQWAM  فلسفہ عروج و زوال اقوام","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعلم و مذہب، تہذیب و تمدن، ملک و سلطنت، ہر مہذب قوم کا سرمایہ حیات ہیں اور انھیں چیزوں کی ترکیب و امتزاج سے ہر قوم کا تاریخی مواد تیار ہوتا ہے۔ اس بنا پر ہر متمدن قوم اپنا تاریخی سرمایہ اپنے ساتھ لاتی ہے اور اپنے وجود کے ساتھ ساتھ اس کو محفوظ رکھتی ہے۔ وہ اپنے مواد کی تیاری اور پختگی میں کسی مؤرخ کی ممنونِ احسان نہیں ہوتی بلکہ خود مؤرخ اس قوم کا گراںبارِ منّت ہوتا ہے۔ البتہ اس مواد کی موزوں ترتیب اس کا مکمل نظام اور اس کے ابتدائی اور انتہائی سلسلوں میں توفیق و تطبیق، غرض اس کے تمام ارتقائی مدارج کی تفصیل و توضیح ایک مؤرخ کا کام ہے اور اس حیثیت سے تاریخ کی نہایت سادہ، مختصر، عام فہم اور جامع تعریف ”مجموعہ ارتقائے اقوام“ کی ترکیب اضافی کے ساتھ کی جاسکتی ہے جو گستاؤ لی بان کی کتاب کے نام کا پہلا جزو ہے۔ لیکن یہ جزو اس کتاب کی ایک جنس مشترک ہے جو تاریخ کی ہر کتاب پر صادق آ سکتی ہے۔ کتاب کی فصل ممیّز جو اس کو تمام تاریخی کتابوں سے ممتاز کرتی ہے اس کا دوسرا جزو یعنی ’’ارتقائے اقوام کے قوانین نفسی ‘‘ ہے اور انھی قوانین کی تفصیل اس کتاب کا موضوع اور گستاؤ لی بان کا اصلی کارنامہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعبدالسلام ندوی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449912406201,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f969dd3a109e1603706323.jpg?v=1785781213"},{"product_id":"dastan-e-falsafa-2nd-edition-داستان-فلسفہ","title":"DASTAN E FALSAFA (2ND EDITION)  داستان فلسفہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہمارے عہد کی پسندیدہ ترین کتب میں سے ایک۔ تحقیق کے گیارہ سال اور لکھنے کے تین سال کے بعد ”دی سٹوری آف فلاسفی“ تخلیق ہوئی۔ اپنے پہلے ایڈیشن کے بعد سے ہی یہ ہمارے عہد کی پسندیدہ ترین کتب میں شمار ہونے لگی ہے۔ یہ ایک معاصر کلاسک کتاب ہے جو قاری کو تعلیم اور مزہ دیتی، تحریک دلاتی اور رفعت کا احساس دیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر وِل ڈیورانٹ کی جانب سے فلسفیانہ تاریخ کے اِس خاکے میں سقراط سے لے کر پروفیسر جان ڈیوی تک عظیم فلسفیوں کی نہ صرف سہل انداز میں وضاحت کی گئی ہے، بلکہ فلسفیوں کی زندگی اور تعبیروں کو دو حوالوں سے دیکھا گیا ہے، یعنی اچھی حکایات اور سمیت چُست جملوں کی چاشنی کے ساتھ!­دی بُک مَین (نیویارک)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک بھرپور تحقیقی، نہایت مفید، انسان دوست اور پڑھنے کے لائق کتاب۔ ڈاکٹر ڈیورانٹ نے ”دی سٹوری آف فلاسفی“ کو صرف عوام میں مقبول ہی نہیں بنایا بلکہ انسانیت پسند صورت بھی دی ہے۔ عام قارئین کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبا بھی اِس سے کافی استفادہ کریں گے­جان ڈیوی (ماہر تعلیم، ماہر نفسیات)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ فلسفہ اِس حد تک پڑھنے کے لائق ہو سکتا ہے۔ وِل ڈیورانٹ کی نثر نیّر و تاباں ہے۔ وہ اُسی طرح شاندار ہے جیسے Sainte-Beuve اپنے شخصی خاکوں میں۔ کتاب میں قصوں کہانیوں کی چاشنی بھی ہے اور چٹکلوں کی دلکشی بھی­ ہیری ہینسن (امریکی صحافی، ایڈیٹر، تاریخ داں)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ کے متعدد اقتباسات کا موازنہ معاصر ادب میں کسی بھی عمدہ ادبی تحریر سے کیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e­ہیرالڈ ٹرائبیون (نیویارک)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ نہ صرف ایک مؤرخ، بلکہ ماضی کے متعلق اپنے مشاہدات میں اِس قدر علمی اور حال پر اِس کے اطلاق میں اتنا باریک بیں ہے کہ اُسے بیسویں صدی کا اہم فلسفی قرار دیا گیا­یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل (امریکا)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں طویل عرصے سے ول ڈیورانٹ کا معترف ہوں۔ تہذیب کی نشوونما کے متعلق اُن کے بیان نے ہر عمر کے بے شمار قارئین کو دیگر ادوار کی تاریخ، عظیم ہستیوں اور اہم واقعات سے روشناس کروایا ہے ­رچرڈ نکسن (امریکی صدر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eول ڈیورانٹ کی نثر اِس لائق ہے کہ اِسے بلند آواز میں پڑھ کر سنایا جائے ­ڈِک سائمن (سائمن اینڈ شسٹر پبلشرز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449939079353,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68a726c673b6d1755784902.jpg?v=1785781392"},{"product_id":"100-insani-tehzeeb-kay-mamar-2nd-edition-100-انسانی-تہذیب-کے-معمار","title":"INSANI TEHZEEB KAY 100 MAMAR (2ND EDITION)  100 انسانی تہذیب کے معمار","description":"\u003ch4 class=\"text-text-dark-blue\" style=\"text-align: right;\"\u003e \u003cspan\u003eوِل جیمز ڈیورانٹ (1885ء - 1981ء) امریکی فلسفی، تاریخ دان اور مؤرخ، اپنی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ (1898ء - 1981ء) کے ساتھ مل کر لکھی ہوئی ضخیم کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اُس نے انسانوں کے نقطہ ہائے نظر کی تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ وہ میساچوسٹس میں جوزف ڈیورانٹ اور میری ایلارڈ کے ہاں پیدا ہوا جو کیوبیک سے نقل مکانی کر کے امریکہ آئے تھے۔ 1900ء میں اس نے سینٹ پیٹرزبرگ سکول سے تعلیم مکمل کی اور پھر نیوجرسی کے سینٹ پیٹرز کالج چلا آیا۔ 1905ء میں وہ سوشلسٹ بن گیا اور دو سال بعد گریجوایشن کی۔ ایک جریدے میں 2 ڈالر فی ہفتہ تنخواہ پر نوکری کرنے کے بعد دیگر جرائد میں جنسی مجرموں پر مضامین لکھے۔ 1907ء میں سٹین ہارل یونیورسٹی نیوجرسی میں لاطینی، فرانسیسی، انگلش اور جیومیٹری پڑھانا شروع کی اور کالج میں لائبریرین بھی بنا۔ 1911ء میں فیرر ماڈرن سکول میں پڑھانے لگا۔ یہاں اُسے اپنے سے عمر میں تیرہ برس چھوٹی لڑکی Chaya Kofman عرف ایرئیل کے ساتھ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی اور ایک بیٹا گود بھی لیا۔ 1913ء میں ول نے پڑھانا ترک کر دیا اور پریسبی ٹیرئین چرچ میں دس ڈالر فیس پر لیکچر دینے لگا۔ ان لیکچرز کے نوٹس ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا نقطۂ آغاز بنے۔ 1917ء میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری پر کام کرتے ہوئے اس نے اپنی پہلی کتاب ’’فلاسفی اینڈ دی سوشل پرابلم‘‘ لکھی۔ ’’دی سٹوری آف فلاسفی‘‘ کا آغاز مزدوروں کے لیے لکھے ہوئے مختصر پمفلٹس کی صورت میں ہوا۔ 1926ء میں ایک بڑے امریکی پبلشر نے ان پمفلٹس کو کتاب کی شکل دی۔ کتاب کو ملنے والی پذیرائی نے ول ڈیورانٹ اور ایرئیل ڈیورانٹ کو مالی فراغت دی اور دنیا بھر میں سفر کرنے کے قابل بھی بنایا۔ تب وہ گیارہ جلدوں پر مشتمل شاہکار کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ لکھنے میں لگ گیا۔ ول اور ایرئیل ڈیورانٹ نے نسلِ انسانی کی ’’متحدہ تاریخ‘‘ پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ محققانہ نقطۂ نظر سے تاریخ لکھنے کے خلاف تھے۔ ان کا مقصد تہذیب کی سوانح لکھنا تھا جس میں جنگوں، سیاست اور فاتحین کی زندگیوں کے علاوہ ثقافت، آرٹ، فلسفہ، مذہب وغیرہ بھی شامل ہوں۔ ول ڈیورانٹ کی موت کے بعد اس کی دو کتابیں ’’Heroes of History‘‘ (2001ء) اور ’’The Greatest Minds and Ideas of All Time‘‘ (2002ء) شائع ہوئیں۔ اس کی متعدد کتب کے اُردو تراجم ہو چکے ہیں۔ ول اور ایرئیل نے مشترکہ خودنوشت میں ایک دوسرے کے ساتھ شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔ آخری ایام میں ول ہسپتال داخل ہوا تو ایرئیل نے کھانا چھوڑ دیا اور 25 اکتوبر 1981ء کو اس کی موت واقع ہو گئی۔ اگرچہ ان کی بیٹی ایتھل اور پوتے پوتیوں نے بیمار وِل سے ایرئیل کی موت کو چھپانے کی کوشش کی ، لیکن اسے خبر ہو گئی اور دو ہفتے بعد ہی وہ بھی چل بسا۔ اپنی 96 ویں سالگرہ کے دو دن بعد، 7 نومبر 1981ء کو ول ڈیورانٹ لاس اینجلس کے ویسٹ ووڈ ولیج میموریل پارک قبرستان میں ایرئیل کے پہلو میں دفن ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانسانی تہذیب کے معماروں یا ہیروز کی درجہ بندی اُن کے ’’اثرات‘‘ کے اعتبار سے کرنا بہت مشکل اور ایک لحاظ سے غیردرست بھی ہے۔ آپ علمی میدان میں کوئی تھیوری پیش کرنے والے کسی سائنس دان یا فلسفی کا موازنہ ایک موجد یا جنگجو کے ساتھ کیسے کر سکتے ہیں؟ یا پھر ایک خطے اور دَور میں کامیابی حاصل کرنے والے کسی ولی یا فاتح کا مقابلہ دوسرے خطے یا دَور سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اِس کے باوجود ہمیں ایک سو کے علاوہ پچاس یا دس عظیم کی فہرستوں پر مشتمل کتب بھی ملتی ہیں۔ دراصل یہ سبھی اپنے اپنے نقطۂ نظر سے تاریخی کرداروں کو دیکھنے کے بہانے ہیں۔ ان کا مقصد جہاں بہت سی شخصیات کو شامل کرنا ہے، وہاں بہت سی شخصیات کو تاریخ کے دھارے سے باہر نکالنا یا مسترد کرنا بھی ہے۔ یہی معاملہ اس کتاب کے ساتھ بھی ہے۔ ول ڈیورانٹ کی گیارہ جلدوں (14 ہزار سے زائد صفحات) پر مشتمل مشہور کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کو پڑھنے کے بعد میں نے اُن شخصیات کو منتخب کیا جو اس کتاب میں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں اس کی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ نے اس کی متواتر مدد کی۔ اِس سے ہمیں تہذیب کے معماروں کی زندگی اور کام سے واقفیت ملنے کے ساتھ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مصنف نے نصف صدی تک تحقیق و تصنیف سے کیا نتائج اخذ کیے ہیں؛ اُس کے خیال میں کون سے عہد، کون سے افراد اور کارنامے نمایاں ہیں۔ مثلاً وہ انسانی تاریخ میں عظیم ترین مفکروں میں کس کس کو شمار کرتا ہے؟ کون سے شاعر اس کے خیال میں واقعتاً عظیم ہیں؛ ایسے شاعر جن کے چھیڑے ہوئے نغمے سینکڑوں ہزاروں برس بعد بھی کانوں میں گونج رہے ہیں؟ یہ تمام مضامین زیرنظر کتاب میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا عطر بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے۔ وِل ڈیورانٹ اپنی زندگی کے آخری دنوں (1981ء) میں خود یہ کام انجام دے رہے تھے۔ ایک طرح سے میں نے اُردو ترجمے میں اُن کے ارادہ کردہ منصوبے کو مکمل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449993605305,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c17530c76331757508912_1.jpg?v=1785781815"},{"product_id":"waqt-ki-mukhtasar-tarikh-2nd-edition-وقت-کی-مختصر-تاریخ","title":"WAQT KI MUKHTASAR TARIKH (2ND EDITION)  وقت کی مختصر تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکیا وقت کا کوئی آغاز تھا؟ کیا وقت الٹا چل سکتا ہے؟ کیا کائنات لامتناہی ہے یا اس کی سرحدیں موجود ہیں؟ یہ سوالات اس بین الاقوامی شہرت یافتہ شاہکار کا موضوع ہیں۔ سـٹیـفـن ہاکـنـگ، نیـوٹـن سے لے کر آئـن سـٹائـن تک کائـنـات کی عـظـیـم تـھـیـوریـز کا جائزہ پیش کرنے کے بعد سپیس اور ٹائم کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کائنات کی سرحدوں کی طرف ایک سائنس دان کا دلیرانہ سفر‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-نیوز وِیک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فلکیاتی طبیعیات کی پیچیدگیوں کو مسحور کن صراحت اور ذہانت کے ساتھ واضح کرتا ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ ایک غیرمعمولی قوت کا حامل ذہین شخص ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- آبزرور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’عظیم سوالات سے پردہ اٹھانے والے ذہن کی قیادت میں آگے بڑھنا ایک پُرجوش تجربہ ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فطری استادانہ صلاحیتوں کا مالک ہے۔ وہ آسان فہم، بذلہ سنج اور نہایت پیچیدہ تصورات کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eروزمرہ زندگی سے لی ہوئی مثالوں کے ساتھ پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حیران کن ذہنی صلاحیت کا مالک سٹیفن ہاکنگ تخلیق کے مخفی قلب میں گہرائیوں تک اُترتا جاتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- رِیڈرز ڈائجسٹ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450012610745,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67c01d3a31a141740643642.jpg?v=1785782082"},{"product_id":"cosmos-کاسموس","title":"COSMOS  کاسموس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ کتاب دل موہ لینے والی..... رنگوں سے بھرپور.... تخیل کو مہمیز دینے والی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیویارک ٹائمز بُک ریویو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اپنے موضوع میں وسیع اور خیالات کو برانگیختہ کرنے والی..... احساسِ تحیر سے جگمگاتی ہوئی۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیامی ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تفہیمِ عامہ کے قابل سائنس کی عمدہ کتاب جس میں تخیل اور بصیرت کی غیر معمولی مقدار بھی شامل ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسان ڈیاگو یونین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس زبردست، جرأت آزما ہے..... کتاب کی خوبیوں میں سے ایک موجودہ دَور کے علم اور سائنسی طریقۂ کار کی تاریخی جڑیں کھوجنا ہے۔ ڈاکٹر ساگان کی شاعرانہ بصیرت اور ادبی مہارت اِسے قابلِ مطالعہ ہونے کی نمایاں خصوصیات عطا کرتی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سائنس مانیٹر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کارل ساگان ہمارے عہد کے ذہین ترین سائنس دانوں میں سے ایک ہے۔ اُس نے سائنس کے ماضی، حال اور مستقبل پر غوروفکر کرتے ہوئے ایک شان دار تصنیف پیش کی ہے۔ وہ ذہن کو ورطۂ حیرت میں ڈال دینے والی کائناتی ہیبت سے نبرد آزما ہوتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسوی ایٹڈ پریس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ پُولِٹزر انعام یافتہ کارل ساگان نے ساری چمکتی دمکتی کائنات کو اِس واحد شان دار کتاب میں سمو دیا ہے۔ وہ سائنس اور فلسفے کو نغمے جیسی قوت کی حامل تحریر میں رچاتا ہے۔ ساگان ہماری بقا کے معجزے اور سپیس کی شاہانہ کہکشاؤں کے جلال سے ہمارے ذہن کو دنگ کر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکاسموپولیٹن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس ٹیلی وژن سیریز کے پروگراموں نے لاکھوں ناظرین کو نہ صرف سپیس کی حیرتوں سے متعارف کروایابلکہ دُنیا، زندگی، نوعِ انسان کی فطرت اور ماخذ کے حوالے سے عمیق ترین سائنسی سوالات سے بھی آگاہ کیا۔ کارل ساگان کی کتاب ’کاسموس‘ ٹیلی وژن سیریز کا سکرپٹ نہیں بلکہ سائنسی کارناموں میں عظیم انسانی کاوش کا ایک بھرپور اور زمانی ترتیب کے مطابق بیان ہے۔ ’کاسموس‘ قاری کو گہرائی میں غوروفکر کرنے کا موقع دیتی ہے.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سینچری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان چند سال کے اندر اندر ’مسٹر سائنس‘ بن گیا ہے۔ اُس نے سائنس کو عوامی تفہیم کی سطح پر لاتے ہوئے حیات کے مسالے اور تاریخ کو سپیس اور ابدیت کی وسعت سے منسلک کیا۔ یہ کام وہ اِس قدر خوب صورت اور جان دار انداز میں انجام دیتا ہے کہ آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اور کوئی بھی چیز اِس سے زیادہ جوش انگیز یا اہم نہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکاگو ٹریبیون\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان ایسا فلکیات دان ہے جس کی ایک آنکھ ستاروں پر اور دوسری تاریخ پر ہے، جبکہ اُس کے ذہن کی تیسری آنکھ انسانی معاملات پر لگی ہوئی ہے..... ہم اُس کی بلند عزمی اور فصاحت و بلاغت کے مداح ہیں؛ وہ کہیں کہیں شاعرانہ نفاست اختیار کر لیتا ہے اور اکثر ہمیں اپنی کائنات اور خود کے بارے میں حیرتوں سے بھر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیوز ڈے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان بخوبی جانتا ہے کہ عام قاری کے تخیل کو کیسے مہمیز دینی ہے اور پہلے سے آخری صفحے تک اُس کی دلچسپی کو کیسے باندھے رکھنا ہے..... ذہن کو وسعت دینے والی یہ کتاب ہمیں بحرِ کائنات کے نہایت مسحور کن سفر پہ لے کر جاتی ہے۔ یہ علم سے بھرپور، خوب صورت انداز میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ ہر ذہین قاری کو چاہیے کہ ساگان کی بیان کردہ کائناتی کہانی کو پڑھے، اچھی طرح غور کرے، سیکھے اور اِسے اپنی سوچ کا حصہ بنائے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجان برکھم ریویوز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450029879481,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62b548fa8f33f1656047866.jpg?v=1785782316"},{"product_id":"zindagi-aur-maut-زندگی-اور-موت","title":"ZINDAGI AUR MAUT  زندگی اور موت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان کے تجسس، حیرت اور انسانیت پسندی سے جگمگاتی ہوئی کتاب۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ بُک لسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اُس کی آج تک لکھی ہوئی تحریروں سے کہیں زیادہ ذاتی اور تیکھی تحریر۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ دی ہارٹفورڈ کیورینٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان اپنے قارئین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ زندگی کی طرف غور سے دیکھیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اُس کی تحریر رجائیت اور اُمید، دوٹوک پن اور انسانیت کے ساتھ ہمدردی سے لبریز ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ سن سینٹینل، فوٹ لاڈرڈیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان کے کام کی صورت میں اُس کی دلائی ہوئی تحریک اور پیدا کردہ لا انتہا تجسس ایک جیتا جاگتا تحفہ ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ سیاٹل ٹائمز پوسٹ انٹیلی جینسر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یہ کتاب نئے خیالات اور سوالات سے بھری پڑی ہے۔ وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی دریافتوں کی پیش بینی کرتا اور دُنیا کو درپیش چار دلچسپ ترین مسائل پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ ڈینور پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان نے اپنی شہرت کو کام میں لا کر اُس کھائی کو روشن کیا ہے جس میں حماقت، لالچ اور اقتدار کی ہوس نے ابھی ہمیں پھینکنا ہے۔ یہ سب دلچسپیاں اور اسباب بِلینز اینڈ بِلینز میں بڑی خوب صورتی سے پیش کیےگئے ہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ دی واشنگٹن پوسٹ بک ورلڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بِلینز اینڈ بِلینز کو موجودہ نسل کے لیے ایک خاموش بہار قرار دیا جا سکتا ہے... انسانی تاریخ میں عظیم ذہن والے متعدد راہنما شامل ہیں جنھوں نے ہمیں ہماری کائنات اور آغاز کے بارے میں بصیرتیں مہیا کیں۔ گلیلیو نے تعین کیا کہ کرۂ ارض سورج کے گرد گھومتا ہے، نہ کہ سورج کرۂ ارض کے گرد۔ ڈاروِن نے اپنی کتاب کے ذریعے تخلیق کے تصور کو چیلنج کیا۔ اور اب ساگان نے دنیا کو تازہ ترین چیلنج پیش کیا ہے: بِلینز اینڈ بِلینز۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍️ سان انٹونیو ایکسپریس نیوز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450048164025,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/631da2a698e3c1662886566.jpg?v=1785782507"},{"product_id":"nazariyat-ki-mukhtasar-tarikh-2nd-edition-نظریات-کی-مختصر-تاریخ","title":"NAZARIYAT KI MUKHTASAR TARIKH (2ND EDITION)  نظریات کی مختصر تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاِس کتاب میں انسانی فکری تاریخ کے تقریباً دو سو ’نظریات‘ یا -isms کی سادہ تعریف پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اُردو زبان میں فلسفیانہ اور علمی موضوعات پر طبع زاد تحریریں نہ ہونے کے برابر ہیں، اور اصطلاحات کے ترجمے، تشریح اور مفہوم میں اکثر کئی مسائل پیش آتے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی کاوش کی ضرورت تھی جو اہم اور عام اصطلاحات کی سادہ اور آسان فہم وضاحت مہیا کرے۔ یہاں صرف ایسے تصورات اور بنیادی نظریات کو جگہ دی گئی ہے جو ادب، لسانیات، آرٹ، فلسفہ اور سیاست میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جیسے اشتراکیت، عینیت، ثبوتیت، تشکیکیت۔ لیکن کچھ ایسے مندرجات بھی ہیں جو کوئی باضابطہ نظریات نہیں لیکن اُنھیں ایک مخصوص علمی مفہوم عطا ہو گیا، جیسے روحیت، سادیت۔ اس کے علاوہ تمام بڑے مذاہب (مسیحیت، اسلام، یہودیت، ہندو مت، جَین مت، بُدھ مت، شنتو مت، کنفیوشس مت، زرتشت مت) کا مختصر تعارف بھی دیا گیا ہے جو متعدد نظریات میں بہت وقعت رکھتے ہیں، جیسے جبر و قدر، تقدیر پرستی، خیر و شر، اخلاقیات۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450071134393,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6899deb2b49591754914482.jpg?v=1785782885"},{"product_id":"banda-bashar-sappiens-بندہ-بشر","title":"BANDA BASHAR (SAPPIENS)  بندہ بشر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450096169145,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/634eb55002bc81666102608.jpg?v=1785783311"},{"product_id":"diplomacy-urdu-ڈپلومیسی","title":"DIPLOMACY (URDU)  ڈپلومیسی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمغربی سفارت کا ایک نفاست سے لکھا گیا مطالعہ .... ذی شعور، عموماً اشتعال انگیز اور مستقل محو رکھنے میں کامیاب! ___ مچیکوکاکوٹانی ، دی نیو یارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ایک عظیم کتاب ہے... اپنے تجزیات میں شاندار اور اپنی پہنچ میں نہایت ماہرانہ! ___ جارج پی شلٹز ،سابق امریکی وزیر خارجہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو اُبھرتے ہوئے سفارت کاروں اور سیاست دانوں کو ایسے ہی شوق سے پڑھنا چاہیے جیسے ان کے پیش روؤں نے میکاولی کو پڑھا تھا ___ ڈگلس ہرڈ ، ڈیلی ٹیلی گراف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیسنجر کی جکڑ لینے والی یہ کتاب ہمارے دَور کے کچھ دُشوار ترین سوالات کا سامنا کرتی ہے .... اس کے صفحات بصیرت سے فروزاں ہیں ___ سائمن شاما ، دی نیویارکر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ بہت بھرپور اور پُرکشش کام ہے، بین الاقوامی بحرانوں کا ایک شاندار مطالعہ جن سے ہماری جدید دُنیا وضع ہوئی .... خارجی امور پر ایک فکر انگیز مراقبہ! ___ آرتھر شیلسنگر ، امریکی تاریخ داں اور مصنف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسفارت کاری پر گزشتہ تیس سالوں میں اہم ترین کام ! ___ والٹر لاکیویر ، چیئرمین انٹرنیشنل ریسرچ کونسل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنکسن اور فورڈ کے ادوار میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کیسنجر کے رویے کے بارے میں آپ جو بھی رائے رکھیں، یہ کتاب ایک شاہکار ہے۔ اس میں کیسنجر کی ایک غیر معمولی مفکر اور مؤرخ کے طور پر شناخت قائم ہوتی ہے ___ مائیکل پالیسر ، برطانوی سفیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیسنجر بیسویں صدی کی سفارت کاری کی ایک عظیم شخصیت ہے، یہ اس کے تجربے کے بارے میں ہے؛ یہاں آپ سفارت کاری کو اس ہنر کے ایک عظیم شارح کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ___ جیریمی گرین سٹاک ، سابق برطانوی سفارت کار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک انتہائی اہم کتاب، فکری طور پر بے لاگ، راست باز اور جراَت مند .... تین دہائیوں سے کیسنجر کا سخت ناقد اور اُس سے بدظن ہونے کے باوجود، میں خود کو سحرزدہ پاتا ہوں ___ گاڈفری ہوجسن ، دی انڈی پینڈنٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کا مطالعہ مغرب کے سفارتی مراکز میں بنیادی اور لازم و ملزوم ہونا چاہیے ___ ایل کلارک ، دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450107015353,"sku":"BC SSH","price":3000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/646242d83ece21684161240.jpg?v=1785783489"},{"product_id":"punjab-punjabi-aur-punjabiyat-پنجاب-پنجابی-اور-پنجابیت","title":"PUNJAB, PUNJABI AUR PUNJABIYAT  پنجاب پنجابی اور پنجابیت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پنجاب، پنجابی اور پنجابیت‘‘ خوشونت سنگھ کی پنجاب، پنجابیوں اور سکھوں سے متعلق انگریزی تحریروں کا مجموعہ ہے جسے ان کی صاحبزادی مالا دیال نے تین حصوں پر مشتمل کتاب کی صورت میں مرتب کیا۔ اس کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کتاب خطے کے لوگوں اور مختلف عوامل سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ حصہ اوّل پنجایبوں کی تاریخ، ثقافت، زبان اور سکھ ازم سے متعلق کھوج لگاتا ہے۔ حصہ دوم ان سلگتے ہوئے واقعات سے متعلق ہے جنہوں نے خوشونت سنگھ کی زندگی کے دوران ریاست کو متاثر کیا، جیسے تقسیم کا دُکھ، خالصہ تحریک، آپریشن بلیو سٹار، سکھ مخالف فسادات اور بہت کچھ۔ حصہ سوم معروف پنجابی شعرا، سیاستدانوں، کارکنوں، دوستوں اور خاندان کے افراد کے شخصی خاکوں پر مشتمل ہے۔ کتاب میں درج مواد خوشونت سنگھ کے آبائی وطن کے لوگوں کی ثقافت، عزم اور جذبوں کی داد دیتا ہوا نظر آتا ہے، وہ وطن جس کی شناخت انہوں نے بڑے دھیان، گیان کے بعد حاصل کی۔ یہ مجموعہ حقیقی معنوں میں پنجاب اور اس میں بسنے والوں کی لاجواب تصویر کشی کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوشونت سنگھ، پنجاب کے گائوں ہڈالی (ضلع خوشاب، پاکستان) میں 1915ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان کے معروف ترین اور وسیع حلقے میں پڑھے جانے والے مصنف اور اخبار نویس تھے۔ وہ ’یوجنا‘ کے بانی ایڈیٹر اور السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، دی ہندوستان ٹائمز اور نیشنل ہیرلڈ کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کا بہت قریب سے معائنہ کیا تھا اور اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ اور مایہ ناز کتاب ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ لکھ ڈالی جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ہندی اور اُردو ناول، شاعری اور مختصر کہانیوں کے انگریزی ترجمے بھی کیے جن میں علامہ محمد اقبال کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘، مرزا محمد ہادی رسوا کا ’’امرائو جان ادا‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کا ’’اِک چادر میلی سی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ خوشونت سنگھ 1980ء سے 1986ء تک راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا) کے رکن رہے۔ انھیں 1974ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا جسے انہوں نے 1984ء میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا۔ انھیں 2007ء میں بھارت کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم و بھوشن سے نوازا گیا۔ خوشونت سنگھ 2014ء میں دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی چِتا کی راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی پاکستان لے جاکران کے آبائی علاقہ میں سپردخاک کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہدحمید کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ پشاور کے معروف تعلیمی ادارے ایڈورڈز کالج سے گریجویشن مکمل کی جبکہ بعدازاں تاریخ کے مضمون میں ایڈیشنل گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ربع صدی سے میدان صحافت میں آبلہ پائی کررہے ہیں۔ شعبہ صحافت سے متعلق متعدد ورکشاپس، سیمیناروں اور مذاکروں میں شریک ہوچکے ہیں جبکہ شعبہ صحافت سے متعلق بدلتی ہوئی رتوں کے مطابق نئے تقاضوں سے ہم آہنگی حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات کا سفر کرچکے ہیں۔ لکھنے، لکھانے کا شوق شروع ہی سے تھا جس کے ذریعے جذبات کے اظہار کا خوب موقع میدانِ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد ملا۔ کتاب سے عشق ورثے میں ملا اور یہ سلسلہ بدستور قائم ہے۔ لکھنے لکھانے کا شوق کتابوں کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ڈھالنے کی طرف بھی لے آیا اور زیر مطالعہ کتاب اسی شوق کی عکاس ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450153251001,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e64abbc6f5741583655868.jpg?v=1785784385"},{"product_id":"masla-e-falasteen-مسئلہ-فلسطین","title":"MASLA E FALASTEEN  مسئلہ فلسطین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمصنّف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی مباحث... صیہونیت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی؟ یہودیوں نے اس کے فروغ کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ مغربی سیاست دانوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھائے؟ نام نہاد لبرل دانشوروں، ناول نگاروں، شاعروں، مقالہ نویسوں، سفرناموں کے مصنفوں اور صیہونیت کے دیگر ہمدردوں نے کیسے فضا ہموار کی؟ خود صیہونیوں نے فلسطین میں آباد ہونے کے لیے کن کن جتنوں سے کام لیا اور اپنے دعاوی کو سچا ثابت کرنے کے لیے کن کن تاویلوں کا سہارا لیا؟ جب اسرائیل قائم ہو گیا تو فلسطینیوں کو کیسے ملک بدر کیا گیا؟ اور تمام تر دعووں کے باوجود انھیں آج تک کیسے درجہ دوم کے شہری بنائے رکھا گیا؟ فلسطینیوں نے تحریکِ آزادی کیسے منظم کی اور فلسطینی شاعروں، کہانی نویسوں، دوسرے ادیبوں، مصنفوں اور دانشوروں نے کیسے اس تحریک کے لیے زمین ہموار کی اور اس کی آبیاری کی؟ پی ایل او اور دوسری تحریکیں کیسے وجود میں آئیں؟ جنگ سڑسٹھ کے کیا نتائج مرتب ہوئے؟ کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے نے کیا گُل کِھلائے؟ فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے فلسطین کے مسئلے کا کیا حل ممکن ہے؟ وغیرہم... کو اپنی کتاب کا موضوع بنایا ہے اور ان پر جو سیر حاصل بحث کی ہے، وہ ہمیں اس مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے میں بہت مدد دیتی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس مسئلے کو پہلی مرتبہ صحیح انداز سے پیش کیا گیا ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی یہ کتاب صیہونیت کے اصل چہرے سے نقاب سرکانے اور اس ضمن میں مغرب کے نام نہاد لبرل سیاست دانوں اور دانش وروں نے جو مکروہ کردار ادا کیا ہے، اس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑنے کی غرض سے لکھی تھی۔ وہ اپنے اس مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صیہونیوں نے یہ کتاب ہی بازار سے غائب کرا دی، اب تو کسی خوش نصیب کو ہی دستیاب ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بیت المقدس اور مصر کے سکولوں میں حاصل کی، پھر وہ امریکا چلے آئے۔ بی اے انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں کیا۔ ایڈورڈ سعید نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اسی یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ یہاں انھوں نے Bowdoin انعام بھی حاصل کیا۔ 1974ء میں ایڈورڈ سعید ہارورڈ یونیورسٹی میں تقابلی ادب کے مہمان پروفیسر تھے۔ 1975-76ء میں انھوں نے سٹین فورڈ یونیورسٹی کے نفسیات اور کرداری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں فیلو کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ 1977ء میں انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں ادبی تنقید پر لیکچر دیے۔ 1979ء میں وہ ایک اور مشہور امریکی یونیورسٹی جان ہا پکنز کے شعبہ انسانیات میں مہمان پروفیسر تھے۔ بعدازاں وہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر رہے۔ انھیں مشہور ناول نگار کونریڈ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کی کتب آٹھ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور یورپ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں چھپ چکی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی نے اپنا پہلا سالانہ ٹریلنگ (Trilling)انعام انھیں ان کی کتاب ’’Beginnings: Intention \u0026amp; Method‘‘ پر دیا۔ 1978ء میں امریکا کے نیشنل بک کرٹکس سرکل ایوارڈ کے شعبۂ تنقید کے مقابلے میں ان کی کتاب ’’Orientalism‘‘ دوسرے نمبر پر آئی۔ ان کی دیگر کتب میں ’’Literature and Society‘‘ اور ’’Conrad and the Fiction of Autobiography‘‘ شامل ہیں۔ محمد حسن عسکری اور فیض احمد فیض نے ایڈورڈ سعید کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا ہے۔ خود ایڈورڈسعید نے بیروت میں فیض احمد فیض سے اپنی ملاقات کا ذکر بڑے پیار سے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ یہ مضمون انگلستان کے ایک رسالے ’’گرانٹا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ فلسطینیوں کا پُرزور طریقے سے مؤقف پیش کرنے کی پاداش میں صیہونی ان پر زبانی ہی نہیں بلکہ جسمانی حملے بھی کر چکے ہیں۔ ایڈورڈ سعید فلسطینی قومی کونسل کے رُکن بھی رہے۔ اُن کی وفات 25ستمبر 2003ء کو نیویارک شہر میں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450162360505,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6048c84d593681615382605.jpg?v=1785784608"},{"product_id":"khuda-kay-liyay-jang-خدا-کے-لیے-جنگ","title":"KHUDA KAY LIYAY JANG  خدا کے لیے جنگ","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eکیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ 14 نومبر 1944ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ سترہ سال کی عمر میں سلسلہ یسوعیہ میں راہبہ بننے کے لیے داخل ہوئیں۔ راہبہ کے ان سات سالوں میں سخت جسمانی و ذہنی اذیتیں اٹھانے کے بعد انہوں نے اس روحانی سلسلے کو خیرباد کہا اور ایک آپ بیتی لکھی جس سے وہ بہت جلد دُنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ بعدازاں بی بی سی چینل فور کے لیے سینٹ پال پر ایک دستاویزی فلم بنائی جس دوران میں انہیں سامی مذاہب پر دلچسپی پیدا ہوئی۔ کیرن کی کتب کا موضوع و مقصد دُنیا بھر کے بڑے مذاہب خاص کر اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا ایسا مطالعہ پیش کرنا ہے جس سے ان مذاہب کے ماننے والوں کی آپس میں قربت پیدا ہو۔ انہیں مذہبی موضوعات پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والے مصنفہ کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ان کی اب تک 26 کتب شائع ہو چکی ہیں۔ کیرن کی بیسٹ سیلر کتاب ’خدا کے لیے جنگ‘ پر دی نیویارک ٹائمز کا یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ’’یہ کتاب یہودیت، عیسائیت اور اِسلام میں بنیاد پرست تحریکوں کے عروج کی تاریخ میں سب سے متاثر کن، لائق مطالعہ اور شاندار تحریروں میں سے ہے۔‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450170355897,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66064fc4ac9f81711689668.jpg?v=1785784787"},{"product_id":"holocaust-ki-kahani-ہالوکاسٹ-کی-کہانی","title":"HOLOCAUST KI KAHANI  ہالوکاسٹ کی کہانی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eہالو کاسٹ کو پچھلی صدی کا نائن الیون کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔نائن الیون کے بارے میں ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ یہ وقوعہ امریکہ اور اُس کے حواریوں نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دراصل اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لیے کرایا ہے۔ بالکل اسی طرح ہالوکاسٹ کے بارے میں بہت سی باتیں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ یہودی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگِ عظیم دوم کے وقت جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کی کاوش کی گئی اور ان کوششوں کے نتیجے میں لاکھوں یہودیوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ انہیں گیس چیمبرز میں داخل کر کے زہریلی گیس چھوڑ دی گئی۔ یوں جرمنی میں موجود تقریبا ً ہزاروں یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتلِ عام سے ڈر کر باقی ماندہ یہودی جرمنی چھوڑ کر اسرائیل چلے آئے۔ یہودیوں کے اس قتلِ عام کو ہالو کاسٹ کا نام دیا جاتا ہے۔\u003cbr\u003eیہ تو تھا یہودیوں کا دعویٰ۔کیا اصل حقائق کچھ اور ہیں ؟ کیا حقیقت اس سے مختلف ہے جو یہودی دعویٰ کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eآج بھی سارے یورپ میں ہالوکاسٹ کے بارے میں گفتگو اور اس کے بارے میں تحقیق سختی سے منع ہے اور اس جرم کے مرتکب کو سخت سزا دی جاتی ہے۔لیکن کہتے ہیں سچ چھپتا نہیں آخرکار سچ سامنے آنے لگا ۔لاکھوں محققین نے اپنے طور پر تحقیقات کرنے کے بعد اس سارے واقعے کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ناصرف انکار کر دیا بلکہ یہودیوں کی اس مذموم حرکت کی سخت مذمت کی۔ زیر نظر کتاب اسی جذبے کے تحت ترتیب دی گئی ہے تاکہ اُردو کے قارئین تاریخ کے اس اہم واقعے کے متعلق جان کاری حاصل کر یں اور تحقیقی ذہن رکھنے والے حضرات کتاب میں موجود معلومات کا جائزہ لے سکیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر امجد علی بھٹی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450180219065,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6018d7fe3142e1612240894.jpg?v=1785784965"},{"product_id":"meri-jaddojahd-میری-جدوجہد","title":"MERI JADDOJAHD  میری جدوجہد","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450188542137,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6721c897e0e1785143752.jpg?v=1785785185"},{"product_id":"black-white-بلیک-اینڈ-وائٹ","title":"BLACK \u0026 WHITE  بلیک اینڈ وائٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار کی تحریر اور اس کی گفتگو مجھے سعادت حسن منٹو کی یاد دلاتے ہیں۔ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتا تھا کہ حسن نثار اُردو صحافت کا سعادت حسن منٹو ہے، لیکن ایک تو یہ اندازِ بیان مبالغہ آمیز ہوتا، دوسرے انتہائی روایتی۔ اس صورت میں مجھے مبالغہ آمیزی پہ تو شاید نہیں، البتہ روایتی ہونے کی بنا پر منٹو کی رُوح اور حسن نثار دونوں سے شرمندہ ہونا پڑتا۔ منٹو کی طرح حسن نثار بھی معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو ملفوف اور ڈھکے چھپے انداز میں پیش کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہمارے مرض کا کوئی روایتی علاج ممکن نہیں اور ہمارے زخموں کو ایک سفاک سرجن کی ضرورت ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ان زخموں کا دوا اور بعض اوقات دُعا کے ذریعے علاج تجویز کرتے ہوئے دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔ حسن نثار دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو، جیسا بھی وہ ہے، سمجھے اور تسلیم کیے بغیر، اپنے دُکھوں اور مسائل کا کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکتے۔ ماضی کی تفہیم کا یہ سفر ہی اس کے نزدیک خود شناسی کا سفر ہے۔ جان جوکھوں کا یہ سفر کوئی معمولی یا آسان سفر نہیں۔ اس سفر کا مسافر جب حیرت افروز دریافتوں اور ناقابلِ یقین انکشافات سے مالا مال دامن لے کر واپس لوٹتا ہے تو وہ مصلحت، منافقت اور مداہنت کے ان رائج الوقت سکوں سے بے نیاز ہو چکا ہوتا ہے جو وہ ابتدائے سفر میں اپنی جیب میں ساتھ لے کر نکلا ہوتا ہے۔ حسن نثار کے کھردرے لفظ، دو ٹوک لہجہ اور بلند آہنگ اسلوب .... یہ سب ہمیں اس کے اسی سفر کی کہانی سناتے ہیں۔ حسن نثار کے دوسرے بے شمار ناقدین کی طرح مجھے بھی حسن نثار کی سوچ اور بعض خیالات سے اکثر اختلاف رہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ میں انھیں مکمل طور پہ نا درست سمجھتا ہوں، بلکہ اس لیے کہ یہ میرے دل کو نہیں بھاتے، یا یوں کہہ لیجیے کہ ان کی تائید میرے بس میں نہیں۔ حسن نثار کو سنتے اور پڑھتے ہوئے مجھے اکثر ایک خاص طرح کی جھنجھلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ میں ان دونوں کاموں سے ممکنہ حد تک گُریز کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ حسن نثار ہی کیوں نہ ہو کہ جس سے میری رفاقت کی عمر پچاس برس سے زیادہ پر محیط ہے، میرے تصوّرات کے سکوں زار (Comfort Zone)میں مخل ہو ۔ہاں ایک آدھ بار ایسا ضرور ہوا کہ میرے دل نے چاہا کہ میں حسن نثار کو اس کے بعض خیالات پر سرِعام چیلنج کروں، محفل میں اس کی گفتگو کے دوران در آنے والے کمزور لمحوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کسی سوچی سمجھی دلیل کی مدد سے اسے چاروں شانے چت کردوں، لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ عین اس لمحے، میں خوف کا شکار ہوگیا اور میرا ارادہ ماند پڑ گیا۔ ایسے ہر موقعے پر میں نے دیکھا کہ حسن نثار تنہا نہ تھا۔ تاریخ اپنے ناقابلِ تردید حقائق سمیت اس کے ساتھ کھڑی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب بن عزیز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458109812921,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62767f8e227d81651933070.jpg?v=1785839060"},{"product_id":"adamkhor-nizam-ka-nauha-آدم-خور-نظام-کا-نوحہ","title":"ADAMKHOR NIZAM KA NAUHA  آدم خور نظام کا نوحہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار کو میں نے 1990ء کی دہائی میں پڑھنا شروع کیا جب انھوں نے ’’خبریں‘‘ میں کالم شروع کیا اور پھر پڑھتا ہی چلا گیا اور آج تک پڑھ رہا ہوں بلکہ اب تو سنتا ہوں اور دیکھتا بھی۔ ان کی تحریروں میں موجود نئے باغی نے مجھے متاثر کیا جو سب کے خلاف اکیلا تلوار تھام کر کھڑا ہوگیا تھا۔ حسن نثار نے جس طرح ہمارے معاشرے کی تاریخی، سماجی اور کلچرل منافقتوں کا بہادری سے پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ ایسا کام ہے جس کی مثال جدید اُردو صحافت اور کالم نگاری میں ملنا مشکل ہے۔ افسانہ نگاری میں جس طرح منٹو نے پورے معاشرے کو ننگا کیا وہی کام جدید اُردو کالم نگاری میں حسن نثار نے کیا ہے۔ حسن نثار نے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی۔ اگر انھوں نے کسی کے ساتھ رعایت کی کوشش بھی کی تو ان کے قلم نے ساتھ نہیں دیا اور وہی لکھا جو سچ تھا۔ وہ ہرگز نہیں گھبرائے کہ آپ یا میں ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم کیا رائے رکھتے ہیں۔ انھوں نے وہی لکھا اور بولا جو اُن کے خیال میں لکھا یا بولا جانا چاہیے تھا۔ آپ بے شک اعتراض کرتے رہیں انھیں کبھی پرواہ نہیں رہی۔ حسن نثار نے جس طرح پاکستانی تاریخ کو نئے سرے سے لکھا وہ ایک کمال ہے۔ پاکستانی معاشرے میں سچ لکھنا اور دھڑلے سے لکھنا کبھی آسان نہ تھا لیکن حسن نثار کو پڑھ اور سن کر لگتا ہے اتنا مشکل بھی نہ تھا۔ وہ ہرگز نہیں گھبرائے کہ ان کی تحریروں یا بولنے سے برسوں کی محنت سے مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں تراشے قدیم بُت ٹوٹ رہے تھے یا ہمارے ہیرو زیرو ہو رہے ہیں۔ لٹیروں کو ہیرو نہیں لکھا، لٹیرا ہی لکھا۔ کئی لڑائیاں لڑیں اور اب تک لڑ رہے ہیں لیکن میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں۔ کئی تنازعات میں گھرے لیکن کھڑے رہے۔ اس ڈر سے کمپرومائز نہیں کیا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ خبط عظمت میں مبتلا ماضی پرست قوم اور معاشرے کو اس کی اوقات یاد دلانے میں بھی کمی نہ چھوڑی کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ نہ حملہ آوروں کو تاج پہنائے نہ وہ کسی سے مرعوب ہوئے۔ ہاں جہاں جس کا کریڈٹ بنتا تھا اسے دینے میں بھی نہ گھبرائے۔ کون سا موضوع ہے جس پر وہ لکھیں اور کمال نہ کریں۔ فلم ہو،آرٹ ہو، تاریخ، مذہب، سیاست یا ہمسایہ ملکوں سے تعلقات یا عالمی سیاست اور سب سے بڑھ کر ناسٹیلجیا.... ماضی سے رومانس کو وہ ایک اور لیول تک لے گئے۔ جب وہ ہمیں اپنے شاندار ماضی میں لے کر جاتے ہیں تو آپ کا دل چاہتا ہے وہ اس سے کبھی نہ نکلیں اور آپ کے لیے شاہکار کہانیاں لکھتے رہیں۔ اپنے ماضی کی کہانیاں سناتے وقت وہ نہ صرف خود افسردہ ہوتے ہیں بلکہ آپ کو بھی اُداس کردیتے ہیں۔شہرت کی بلندی پر پہنچ کر بھی انھوں نے اپنا ماضی کبھی نہ چھپایا۔ جو زندگی میں محنت اور مشقت کی اسے اپنی کمزوری بنانے کی بجائے اپنی طاقت بنایا۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنھیں غصہ یا attitude اچھا لگتا ہو یا ان پر سجتا ہو۔ حسن نثار پر غصیلا یا جارحانہ انداز سُوٹ کرتا ہے۔ حسن نثار کو برسوں سے پڑھتے پڑھتے ایک دن مجھے اچانک احساس ہوا وہ پاکستانی میڈیا کے اس طرح کے ’’اینگری ینگ مین‘‘ ہیں جیسے کبھی امتیابھ بچن بھارتی فلموں کا اینگری ینگ مین تھا جس نے بھارتی سینما کو نئی بلندی عطا کی۔ حسن نثار بھی پاکستانی میڈیا کا وہ اینگری ینگ مین ہے جو نہ کسی سے ڈرا، نہ جھکا نہ ہی مرعوب ہوا۔ آپ حسن نثار کو پسند کریں یا نہ کریں، اسے اچھا سمجھیں یا بُرا لیکن یہ طے ہے آپ حسن نثار کو نظر انداز نہیں کرسکتے جس نے ہمیشہ طوفانی ہوائوں کے مخالف کھڑے ہونے کو ترجیح دی اور دریا کی تیز و تند لہروں کے مخالف تیرنے کو ترجیح دی۔ وہ ایک ایسا لیڈ فلمی کردار ہے جو برسوں سے ہٹ فلمیں دے رہا ہے۔ اس کے ٹی وی شوز کی ریٹنگز ہے۔ اسے دیکھا جاتا ہے۔ سنا جاتا ہے۔ اس کی بڑی فین فالونگ ہے۔ آج بھی ہر بڑا ٹی وی چینل اسے اپنی سکرین پر دکھانے اور منہ مانگے پیسے دینے کے لیے تیار بلکہ بے چین ہے۔ آج برسوں بعد بھی میرے جیسے قارئین اس کی تحریروں کا انتظار کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458379886777,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62c1a612a2b6a1656858130.jpg?v=1785840040"},{"product_id":"zindagi-se-darte-ho-زندگی-سے-ڈرتےہو","title":"ZINDAGI SE DARTE HO  زندگی سے ڈرتےہو","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458589634745,"sku":"BC SSH","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a084550939071778926928.jpg?v=1785844073"},{"product_id":"v-vakhri-kitab-وی-وکھری-کتاب","title":"V: VAKHRI KITAB  وی: وکھری کتاب","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458591928505,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0847a9ac7521778927529.jpg?v=1785844195"},{"product_id":"rahem-pe-rahm-رحم-پہ-رحم","title":"RAHEM PE RAHM  رحم پہ رحم","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458595074233,"sku":"BC SSH","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0849dfc3a5f1778928095.jpg?v=1785844298"},{"product_id":"dufi-dufi-dufi-دفعی-دفعی-دفعی","title":"DUFI DUFI DUFI  دفعی دفعی دفعی","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458599465145,"sku":"BC SSH","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0848d3b9f481778927827_b808bbe7-5684-488e-a3a9-78618dede352.jpg?v=1785844409"},{"product_id":"mera-kamra-میرا-کمرہ","title":"MERA KAMRA  میرا کمرہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمعروف ادیبہ امرتا پریتم کا تالیف کردہ خوب صورت مجموعہ ’’میرا کمرہ‘‘ جس میں کچھ معروف شاعروں اور ادیبوں کے وہ کمرے ہیں جن میں بیٹھ کر وہ لکھتے پڑھتے تھے۔ گہرے مطالعے کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ گھر کا ہر کونا یا کمرہ ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں اس کے مقیم کی شخصیت کو دیکھا جاسکتا ہے، اور اس کے پورے ادھورے سپنوں کو بھی۔ یوں تو گھر کا کوئی نہ کوئی کونا ہر انسان کی نجی ضرورت ہوتا ہے، لیکن جنھوں نے تعمیر کی تقدیر پائی ہے ان کے لیے اس کونے کا وجود اتنی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جتنی ان کی شخصیت۔ ’’امرتا پریتم‘‘ کے اس مجموعے میں ان ادیبوں کے کمروں کی یادیں اور کہانیاں پڑھیے، ان کے اپنے قلم سے !\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473831473337,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6176b2a942d721635168937.jpg?v=1785950789"},{"product_id":"aik-udas-kitab-ایک-اداس-کتاب","title":"AIK UDAS KITAB  ایک اداس کتاب","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم کا نام ہندو پاکستان کی سرحد کے دونوں جانب یکساں معروف اور مقبول ہے۔ پنجابی شاعری میں تو ان کا مقام کسی ذکر کا محتاج نہیں لیکن نثر کی مختلف اصناف میں بھی ان کی تحریر کچھ کم قیمت نہیں۔ ناول، کہانیاں، خاکے، خودنوشت، انشایئے بھی ان کے شعر کی طرح پنجابی ادب میں گرانقدر اضافہ ہیں۔ ان میں سے بیشتر اُردو تراجم کی صورت میں ہمارے ہاں شائع ہو چکے ہیں لیکن سننے میں آیا ہے کہ نہ ان کی اشاعت کے لیے موصوفہ سے اجازت طلب کی گئی نہ ترجمے اور طباعت میں مناسب احتیاط اور سلیقے سے کام لیا گیا ہے۔ ’’ایک اُداس کتاب‘‘ غالباً اُن کی پہلی تصنیف ہے جو اُن کی اجازت سے شائع ہوئی اور جسے احمد سلیم نے شگفتہ زبان اور عمدہ طباعت سے مزین کیا۔ یہ تذکرہ ہے مختلف ادوار اور مشرق و مغرب کے ان نامور لیکن سوختہ اختر ادیبوں کا، جن کی شمعِ حیات، نامساعد حالات کے سبب ان کے اپنے ہاتھوں یا ان کے شقی اعداء کے ہاتھوں پیش از وقت گُل ہو گئی۔ امرتا پریتم نے ان کی زندگی کے کوائف اور ان کی تحریروں کے نمونے کافی محنت اور دردمندی سے یکجا کیے ہیں جن پر مترجم نے ضمیمے کے طور سے بہت موزوں اضافہ کیا ہے، اہلِ ذوق اور شائقینِ ادب کے لیے یہ اُداس کتاب یقیناً لطف اور دلچسپی کا باعث ہو گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیضؔ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473840091321,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fbfc7bc80bba1606404028.jpg?v=1785950897"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/non-fiction.oembed?page=2","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}