{"title":"Short Stories","description":"\u003cp\u003eافسانوں کا بہترین مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester - ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Siddiqui\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 208\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342634528953,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"a-house-without-a-door","title":"A HOUSE WITHOUT A DOOR","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/khalid-fateh-muhammad\"\u003eKHALID FATEH MUHAMMAD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003ePaperback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 117\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eYear: 2026\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eKhalid Fateh Muhammad is a retired cavalry officer, novelist, short story writer, translator, critic, and editor of a quarterly Urdu magazine. He has authored twelve Urdu and two Punjabi novels, nine collections of stories, and eight collections of translations of international fiction into Urdu.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eHis fiction revolves around the common man, highlighting his miseries from the perspective of the modern world. His emphasis is on his psychological wounds, rather than the financial hardships he undergoes. He believes in hope, and to drive his point home, he uses the tool of fantasy, coupled, at times, with hallucinatory realism, and the stark, gnashing reality staring at him.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eHis is a different voice, with a bitter message spelled out in the sweetest of words. He uses symbols and metaphors to make his stories more effective and appealing, but he writes what he feels, not what others expect him to write.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367488041145,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1441.jpg?v=1785192907"},{"product_id":"prem-pujaran-aur-mard-e-inqilab-پریم-پجارن-اور-مرد-انقلاب","title":"PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/quddus-sehbai\"\u003eQUDDUS SEHBAI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eYear: 2026\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمیرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eقدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367705653433,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1442.jpg?v=1785192773"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/altaf-fatima\"\u003eALTAF FATIMA\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/alberto-manguel\"\u003eALBERTO MANGUEL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 236\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369154031801,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"banglay-ki-baoli-بنگلے-کی-باؤلی","title":"BANGLAY KI BAOLI بنگلے کی باؤلی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/ali-akbar-natiq\"\u003eALI AKBAR NATIQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 224\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48384464879801,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a7c9d77a86a1772603863.jpg?v=1785272587"},{"product_id":"bazar-ka-but-بازار-کا-بُت","title":"BAZAR KA BUT بازار کا بُت","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/tahira-iqbal\"\u003eTAHIRA IQBAL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 190\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاُردو افسانہ نگاری کے دورِ زرّیں میں بھی مجھے راجندر سنگھ بیدی سے بڑھ کر مشاہدے کی سچائی، گہرائی اور ہمہ گیری کم ہی کہیں ملی، مگر طاہرہ اقبال کے چند افسانے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ گہرے اور کھرے مشاہدے کے ذریعے اپنے افسانے کو مؤثر بنانے کا سلسلہ بیدی پر ختم نہیں ہو گیا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک بے خوفی اور اعتماد طاہرہ کی تحریروں میں برابر ملتا ہے۔ شہر کے مڈل کلاس لوگوں کی جھجک ان کی کہانی Grow کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے توانا بیانیے کے آگے کسی بھی طرح کی یہ جعلی Moralist ٹک نہیں سکتی، کیونکہ طاہرہ نے جو کچھ جتنا بھیانک دیکھا اور سمجھا وہ اپنا بے محابا اظہار چاہتا ہے۔ اگر طاہرہ اسپینش زبان میں لکھ رہی ہوتیں اور وسطی امریکی ریاستوں کے براعظم جنوبی امریکا کے پٹے ہوئے لوگوں کی بِپتا بیان کرتیں تو اس وقت دُنیا کی درجنوں زبانوں میں یہ کہانیاں ترجمہ ہو چکی ہوتیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( اسد محمد خان)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے کا کمال یہ ہے کہ پورا ماحول جس قدر بھیانک ہے اس کے خلاف پیدا ہونے والا تاثر ایک سوال انگیز سرّیت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوبی ہے جس نے طاہرہ اقبال کو قابلِ داد افسانہ نگار بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد علی صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ اقبال واقعتاً ایک خلاق افسانہ نگار ہیں۔ اُردو فکشن کا شاندار مستقبل جن چند افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر منحصر ہے، اُن میں طاہرہ اقبال سرِفہرست ہیں۔ مبدائے فیاض سے انھیں بےپناہ تخلیقی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اُن کی نگاہ باریک بیں ہے، مشاہدہ تیز ہے اور مطالعہ گہرا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385712062649,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6975f93fe1ac41769339199.jpg?v=1785281004"},{"product_id":"model-town-ماڈل-ٹاؤن","title":"MODEL TOWN ماڈل ٹاؤن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/bilal-hasan-minto\"\u003eBILAL HASAN MINTO\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 244\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eبلال حسن منٹو کا قلم کیا ہے، ہماری بوالعجبیوں اور الجھنوں کو بڑا کر کے یا پاس لا کر دکھانے کے لیے بیک وقت خرد بین اور دور بین کی طرح کام کرتا ہے۔ مزاح کا ایسا بے تکلف سا سلیقہ جو ہنساتا تو ہے مگر سوچنے پر مجبور بھی کر دیتا ہے: کیا ہم واقعی اتنے سادہ لوح، احمق یا فتنہ پرور ہیں؟ طنز و مزاح کے ایسے وار کرنے والے کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے نزدیک اِن کہانیوں کی سب سے نمایاں خوبی مصنف کا مزاح اور اس کا منفرد اندازِ بیان ہے، جو مطالعے کو نہایت سہل اور پُرلطف بنا دیتا ہے۔ بظاہر بےتکی (absurd) اور کہانی سے غیرمتعلق (irrelevant) چیزوں کی تفصیل اور روزمرہ سے لے کر تاریخی اہمیت کے واقعات کا بیان بہت تیکھے اور دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے ، جو لطیف بھی ہے اور کہانیوں کے تسلسل میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے سوچ کو اڑان کے نت نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے منفرد اندازِ بیان، اسلوب اور زبان کی تشکیل انتہائی کٹھن کام ہے۔ مصنف خوش قسمت ہے کہ اس کی زبان اور اسلوبِ خاص اس کے ہیں، کسی اور کے نہیں، اور بہت جان دار بھی ہیں۔ ان کے بنانے سنوار نے میں اس کی محنت قابلِ ستائش ہے... یا شاید وہ ہمیشہ سے یونہی بات کرتا آیا ہے اور ہم اب پہلی بار اسے ’’سُن‘‘ رہے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبلال منٹو کی کہانیوں کی کتاب ’’ماڈل ٹاؤن‘‘ پڑھ رہا ہوں۔ بہت ہی دلچسپ ہے۔ لاہور کے بارے میں مزے دار اور کائیاں مشاہدات۔ آپ پڑھیں گے تو میرا شکریہ ادا کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد حنیف) \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انگریزی سے ترجمہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385830092985,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6996f411373041771500561.jpg?v=1785283889"},{"product_id":"kahaniyan-duniya-ki-کہانیاں-دنیا-کی","title":"KAHANIYAN DUNIYA KI کہانیاں دنیا کی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/salma-awan\"\u003eSALMA AWAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان متعدد جہات سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں میں جو خصوصیت دوسری خصوصیات کے مقابلے میں بہت نمایاں محسوس ہوئی وہ سلمیٰ اعوان کے مشاہدے کی اتنی شدید، بلکہ میں کہوں گا کہ اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی وَرید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال دکھایا گیا ہے۔ سلمیٰ کا اسلوب اتنا رواں اور پُرکشش ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے فن میں کوئی ایسا سحر ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور صرف لے لیتا ہی نہیں، اپنی گرفت کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ کسی منہ بند چشمے کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ ’’وہ اک تارا‘‘ کیا کمال کی کہانی ہے۔ مجھے تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی کہانی کو صرف میں ہی سمجھ سکتا ہوں کہ میں اُس پس منظر سے مکمل واقف ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاینا اور ہیثم کی محبت کی کہانی میں روس کے لیڈروں کی سیاسی اور ذاتی بدکاریوں کا احوال بریژنیف سے لے کر لینن تک یہ سب احوال ایک ملک کی گرتی ہوئی اخلاقیات اور اس کے ساتھ ہی عوام میں غیر مقبولیت کو سلمیٰ نے سیاسی انداز میں نہیں بلکہ کہانی کی اس روانی میں جس میں اینا اور ہیثم کی محبت، قربت اور پھر ہجر کی وہ داستان ہے جو ختم ہوتی ہے اس مقام پہ جہاں مرزا صاحباں یا ہیر رانجھے کی کہانی ختم ہوتی ہے۔ نثر کی چاشنی کو شاعری کے تلازمے کے ساتھ پیش کر کے سلمیٰ نے اظہاریہ کو اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ پشکن کی نظموں کے تراجم جو ظ انصاری نے کیے ہیں، یوجینی یوٹو شینکو اور شولوخوف کا حوالہ، گوربا چوف کی گلاس ناسٹ کا تذکرہ ہو کہ جس نے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کی نیو رکھی۔ اُسی زمانے میں چیچنین مسلمان جنگجوؤں اور روسی فوجوں کی لڑائی جو آج تک دہشت گردوں کی شکل میں پاکستان کی حدود میں موجود ہیں۔ پھر روسیوں کا وہ احساسِ شرمندگی کہ افغانستان پر حملہ کرنا حماقت تھی۔ یہ تمام تفاصیل اس باریکی سے بیان کی گئی ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے آنکھیں جھپکی نہیں جاتی ہیں۔ پاکستان میں روس کے انقلاب کے بعد اُردو افسانے میں کوئی بیانیہ اس طرح کا نہیں ملتا ہے جیسا کہ سلمیٰ اعوان نے لکھا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تہذیبوں کے تصادم، ان کے جبر، ننگی بربریت اور وحشی پن کی کہانیاں اگر صدیوں پرانی تھیں تو آج کی نئی کہانیاں بھی اسی طرح کی ہیں۔‘‘ یہ کڑوا اور کسیلا تاثر سلمیٰ اعوان کا ہے جن کی اُردو ادب میں اولین نمود افسانے کی صف میں ہوئی تھی۔ سلمیٰ اعوان کو اپنے مشاہدات میں وسعت پیدا کرنے کا خیال آیا تو وہ دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ممالک غیر کے جغرافیے اور تاریخ میں ہی سفر نہیں کیا بلکہ اپنے زیرِ قدم ممالک کے معاشروں سے کہانیاں بھی جمع کیں۔ یہ دنیا کی کہانیاں ہیں اور یہ روس، فلسطین، عراق، سری لنکا، مصر، ترکی اور بنگلا دیش کے کرداروں اور معاشروں سے تراشی گئی ہیں۔ اب ان کی کتاب ’’کہانیاں دنیا کی‘‘ پڑھی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ محدب شیشے سے حیرتوں کو جمع کر رہی ہیں اور حیرتوں کو کہانیوں کا روپ دے رہی ہیں جن کے کردار حقیقی نظر آتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مسعود مفتی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385891696825,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697b5df228c8a1769692658.jpg?v=1785284577"},{"product_id":"aap-beeti-jag-beeti-آپ-بیتی-جگ-بیتی","title":"AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔ \u003cbr\u003eبک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔ \u003cbr\u003eفنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔\u003cbr\u003e(طاہرہ اقبال)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386020540601,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69392b684d5f11765354344.jpg?v=1785286071"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/short-stories.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}