{"title":"Short Stories","description":"\u003cp\u003eافسانوں کا بہترین مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48431527198905,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"a-house-without-a-door","title":"A HOUSE WITHOUT A DOOR","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eKhalid Fateh Muhammad is a retired cavalry officer, novelist, short story writer, translator, critic, and editor of a quarterly Urdu magazine. He has authored twelve Urdu and two Punjabi novels, nine collections of stories, and eight collections of translations of international fiction into Urdu.\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eHis fiction revolves around the common man, highlighting his miseries from the perspective of the modern world. His emphasis is on his psychological wounds, rather than the financial hardships he undergoes. He believes in hope, and to drive his point home, he uses the tool of fantasy, coupled, at times, with hallucinatory realism, and the stark, gnashing reality staring at him.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eHis is a different voice, with a bitter message spelled out in the sweetest of words. He uses symbols and metaphors to make his stories more effective and appealing, but he writes what he feels, not what others expect him to write.\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432283517113,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1441.jpg?v=1785192907"},{"product_id":"prem-pujaran-aur-mard-e-inqilab-پریم-پجارن-اور-مرد-انقلاب","title":"PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمیرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eقدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432284893369,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1442.jpg?v=1785192773"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436930117817,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"banglay-ki-baoli-بنگلے-کی-باؤلی","title":"BANGLAY KI BAOLI بنگلے کی باؤلی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436956790969,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a7c9d77a86a1772603863.jpg?v=1785272587"},{"product_id":"bazar-ka-but-بازار-کا-بُت","title":"BAZAR KA BUT بازار کا بُت","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eاُردو افسانہ نگاری کے دورِ زرّیں میں بھی مجھے راجندر سنگھ بیدی سے بڑھ کر مشاہدے کی سچائی، گہرائی اور ہمہ گیری کم ہی کہیں ملی، مگر طاہرہ اقبال کے چند افسانے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ گہرے اور کھرے مشاہدے کے ذریعے اپنے افسانے کو مؤثر بنانے کا سلسلہ بیدی پر ختم نہیں ہو گیا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک بے خوفی اور اعتماد طاہرہ کی تحریروں میں برابر ملتا ہے۔ شہر کے مڈل کلاس لوگوں کی جھجک ان کی کہانی Grow کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے توانا بیانیے کے آگے کسی بھی طرح کی یہ جعلی Moralist ٹک نہیں سکتی، کیونکہ طاہرہ نے جو کچھ جتنا بھیانک دیکھا اور سمجھا وہ اپنا بے محابا اظہار چاہتا ہے۔ اگر طاہرہ اسپینش زبان میں لکھ رہی ہوتیں اور وسطی امریکی ریاستوں کے براعظم جنوبی امریکا کے پٹے ہوئے لوگوں کی بِپتا بیان کرتیں تو اس وقت دُنیا کی درجنوں زبانوں میں یہ کہانیاں ترجمہ ہو چکی ہوتیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( اسد محمد خان)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے کا کمال یہ ہے کہ پورا ماحول جس قدر بھیانک ہے اس کے خلاف پیدا ہونے والا تاثر ایک سوال انگیز سرّیت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوبی ہے جس نے طاہرہ اقبال کو قابلِ داد افسانہ نگار بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد علی صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ اقبال واقعتاً ایک خلاق افسانہ نگار ہیں۔ اُردو فکشن کا شاندار مستقبل جن چند افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر منحصر ہے، اُن میں طاہرہ اقبال سرِفہرست ہیں۔ مبدائے فیاض سے انھیں بےپناہ تخلیقی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اُن کی نگاہ باریک بیں ہے، مشاہدہ تیز ہے اور مطالعہ گہرا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385712062649,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6975f93fe1ac41769339199.jpg?v=1785281004"},{"product_id":"model-town-ماڈل-ٹاؤن","title":"MODEL TOWN ماڈل ٹاؤن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eبلال حسن منٹو کا قلم کیا ہے، ہماری بوالعجبیوں اور الجھنوں کو بڑا کر کے یا پاس لا کر دکھانے کے لیے بیک وقت خرد بین اور دور بین کی طرح کام کرتا ہے۔ مزاح کا ایسا بے تکلف سا سلیقہ جو ہنساتا تو ہے مگر سوچنے پر مجبور بھی کر دیتا ہے: کیا ہم واقعی اتنے سادہ لوح، احمق یا فتنہ پرور ہیں؟ طنز و مزاح کے ایسے وار کرنے والے کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے نزدیک اِن کہانیوں کی سب سے نمایاں خوبی مصنف کا مزاح اور اس کا منفرد اندازِ بیان ہے، جو مطالعے کو نہایت سہل اور پُرلطف بنا دیتا ہے۔ بظاہر بےتکی (absurd) اور کہانی سے غیرمتعلق (irrelevant) چیزوں کی تفصیل اور روزمرہ سے لے کر تاریخی اہمیت کے واقعات کا بیان بہت تیکھے اور دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے ، جو لطیف بھی ہے اور کہانیوں کے تسلسل میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے سوچ کو اڑان کے نت نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے منفرد اندازِ بیان، اسلوب اور زبان کی تشکیل انتہائی کٹھن کام ہے۔ مصنف خوش قسمت ہے کہ اس کی زبان اور اسلوبِ خاص اس کے ہیں، کسی اور کے نہیں، اور بہت جان دار بھی ہیں۔ ان کے بنانے سنوار نے میں اس کی محنت قابلِ ستائش ہے... یا شاید وہ ہمیشہ سے یونہی بات کرتا آیا ہے اور ہم اب پہلی بار اسے ’’سُن‘‘ رہے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبلال منٹو کی کہانیوں کی کتاب ’’ماڈل ٹاؤن‘‘ پڑھ رہا ہوں۔ بہت ہی دلچسپ ہے۔ لاہور کے بارے میں مزے دار اور کائیاں مشاہدات۔ آپ پڑھیں گے تو میرا شکریہ ادا کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد حنیف) \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انگریزی سے ترجمہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385830092985,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6996f411373041771500561.jpg?v=1785283889"},{"product_id":"kahaniyan-duniya-ki-کہانیاں-دنیا-کی","title":"KAHANIYAN DUNIYA KI کہانیاں دنیا کی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان متعدد جہات سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں میں جو خصوصیت دوسری خصوصیات کے مقابلے میں بہت نمایاں محسوس ہوئی وہ سلمیٰ اعوان کے مشاہدے کی اتنی شدید، بلکہ میں کہوں گا کہ اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی وَرید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال دکھایا گیا ہے۔ سلمیٰ کا اسلوب اتنا رواں اور پُرکشش ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے فن میں کوئی ایسا سحر ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور صرف لے لیتا ہی نہیں، اپنی گرفت کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ کسی منہ بند چشمے کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ ’’وہ اک تارا‘‘ کیا کمال کی کہانی ہے۔ مجھے تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی کہانی کو صرف میں ہی سمجھ سکتا ہوں کہ میں اُس پس منظر سے مکمل واقف ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاینا اور ہیثم کی محبت کی کہانی میں روس کے لیڈروں کی سیاسی اور ذاتی بدکاریوں کا احوال بریژنیف سے لے کر لینن تک یہ سب احوال ایک ملک کی گرتی ہوئی اخلاقیات اور اس کے ساتھ ہی عوام میں غیر مقبولیت کو سلمیٰ نے سیاسی انداز میں نہیں بلکہ کہانی کی اس روانی میں جس میں اینا اور ہیثم کی محبت، قربت اور پھر ہجر کی وہ داستان ہے جو ختم ہوتی ہے اس مقام پہ جہاں مرزا صاحباں یا ہیر رانجھے کی کہانی ختم ہوتی ہے۔ نثر کی چاشنی کو شاعری کے تلازمے کے ساتھ پیش کر کے سلمیٰ نے اظہاریہ کو اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ پشکن کی نظموں کے تراجم جو ظ انصاری نے کیے ہیں، یوجینی یوٹو شینکو اور شولوخوف کا حوالہ، گوربا چوف کی گلاس ناسٹ کا تذکرہ ہو کہ جس نے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کی نیو رکھی۔ اُسی زمانے میں چیچنین مسلمان جنگجوؤں اور روسی فوجوں کی لڑائی جو آج تک دہشت گردوں کی شکل میں پاکستان کی حدود میں موجود ہیں۔ پھر روسیوں کا وہ احساسِ شرمندگی کہ افغانستان پر حملہ کرنا حماقت تھی۔ یہ تمام تفاصیل اس باریکی سے بیان کی گئی ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے آنکھیں جھپکی نہیں جاتی ہیں۔ پاکستان میں روس کے انقلاب کے بعد اُردو افسانے میں کوئی بیانیہ اس طرح کا نہیں ملتا ہے جیسا کہ سلمیٰ اعوان نے لکھا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تہذیبوں کے تصادم، ان کے جبر، ننگی بربریت اور وحشی پن کی کہانیاں اگر صدیوں پرانی تھیں تو آج کی نئی کہانیاں بھی اسی طرح کی ہیں۔‘‘ یہ کڑوا اور کسیلا تاثر سلمیٰ اعوان کا ہے جن کی اُردو ادب میں اولین نمود افسانے کی صف میں ہوئی تھی۔ سلمیٰ اعوان کو اپنے مشاہدات میں وسعت پیدا کرنے کا خیال آیا تو وہ دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ممالک غیر کے جغرافیے اور تاریخ میں ہی سفر نہیں کیا بلکہ اپنے زیرِ قدم ممالک کے معاشروں سے کہانیاں بھی جمع کیں۔ یہ دنیا کی کہانیاں ہیں اور یہ روس، فلسطین، عراق، سری لنکا، مصر، ترکی اور بنگلا دیش کے کرداروں اور معاشروں سے تراشی گئی ہیں۔ اب ان کی کتاب ’’کہانیاں دنیا کی‘‘ پڑھی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ محدب شیشے سے حیرتوں کو جمع کر رہی ہیں اور حیرتوں کو کہانیوں کا روپ دے رہی ہیں جن کے کردار حقیقی نظر آتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مسعود مفتی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385891696825,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697b5df228c8a1769692658.jpg?v=1785284577"},{"product_id":"aap-beeti-jag-beeti-آپ-بیتی-جگ-بیتی","title":"AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔ \u003cbr\u003eبک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔ \u003cbr\u003eفنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔\u003cbr\u003e(طاہرہ اقبال)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386020540601,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69392b684d5f11765354344.jpg?v=1785286071"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-1-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-1","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 1) سب رنگ کہانیاں (والیم 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eزیر نظر کتاب سب رنگ میں شائع ہونے والی غیر ملکی کہانیوں کی پہلی جلد ہے اور بھی جلدیں زیر ترتیب ہیں، سو احوالِ درون و زبوں کی گُل افشانی کے مواقع آتے رہیں گے۔ عام ایک شکوہ تھا کہ پرانے شمارے آسانی سے نہیں ملتے اور فرمایش تھی، کیوں نہ سب رنگ کی تحریریں کتابی صورت میں شائع کردی جائیں۔ طے یہ ہوا کہ پہلے مرحلے میں سمندر پار کی کہانیوں کو ترجیح دی جائے۔ اِن کہانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کئی ذرائع سے ان کا حصول ممکن ہو پاتا تھا۔ اولاً، اِدھراُدھر، ملک بھر سے یا سب رنگ کے چند خاص ترجمہ نگاروں کے ذریعے۔ دوسرے، عالمی افسانوی ادب پر گہری نظر رکھنے والے احباب اور قارئین کے توسّط سے۔ ہماری درخواست پر یہ صاحبان اپنی پسندیدہ غیرملکی کہانیوں کی نشان دہی میں ہماری معاونت کرتے تھے۔ تیسرے، کہانیوں کی تلاش کے لیے باقاعدہ مقرّر و مامور رفیقوں کی کاوشوں سے۔ اِن حضرات کا کام اُردو میں شائع ہونے والی ملکی وغیر ملکی کہانیوں کے بھولے بسرے مجموعے اور رسالے کھنگالتے رہنا تھا..... اور یہ سراغ رساں یا کھوجی ناکام نہیں ہوتے تھے۔ چوتھا ذریعہ خاصے مقابلے کا اور بڑا دل چسپ تھا۔ بیرون ملک مقیم سب رنگ کے شیدائی یورپ اور امریکا سے چھپنے والی کہانیوں کے تازہ ترین مجموعوں اور رسالوں کی تاک میں رہتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ اِدھر کوئی نئی کتاب یا رسالہ بازار میں وارد ہو، اُدھر دیگر ڈائجسٹوں کے ہاتھ لگنے سے پہلے سب رنگ کو رسا ہو جائے۔ اس آخری ذریعے سے بھی نادرکہانیاں مل جایا کرتی تھیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eانھی غیر ملکی کہانیوں کا یہ مجموعہ آپ کی نذر ہے۔ یہ انتخاب در انتخاب ہے۔ دیکھیے کیسے کیسے موضوعات پر مغرب میں یہ دل نشیں، اثر آفریں، زندگی آمیز اور زندگی آموز کہانیاں تخلیق کی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395393859769,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68d664e45bb121758880996.jpg?v=1785366939"},{"product_id":"jazu-bhaiyya-جاذو-بھیا","title":"JAZU BHAIYYA جاذو بھیا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eثمینہ نذیر کا فکشن ہمیں مضطرب کرتا ہے ۔ یہ اضطراب ان سچائیوں کے روبرو آنے کا نتیجہ ہے جنھیں ہم اپنی روزمرہ دنیا سے مسلسل بے دخل کرتے رہتے ہیں، اور خود اپنے متعلق ایک مثالیہ تشکیل دینے کی مشقت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کڑی اور کچھ صورتوں میں کڑوی سچائیوں کا تعلق صنفی، نسلی، مذہبی، قومی تفریق سے بھی ہے اور انسانی داخل میں جاری کش مکش سے بھی ہے۔ گویا جنھیں ہم اپنے سماج، تصورات، بیانیوں اور کلامیوں سے خارج کرتے ہیں، ثمینہ نذیر انھیں اپنے فکشن میں سامنے لاتی ہیں اور زوردار اسلوب میں واپس لاتی ہیں۔ اس ضمن میں، وہ ترقی پسندانہ حقیقت نگاری کو کینن کی مانند بروئے کار لاتی ہیں، اور ناپسندیدہ، دھتکارے گئے، دربدر کیے گئے کرداروں (نسوانی کرداروں اور ان کی باطنی دنیا کو بہ طور خاص) کو اپنے فکشن کے مرکز میں لاتی ہیں، اور ان سے ایسے اعمال سرزد کرواتی ہیں جو مقتدر اور اشراف کو سیخ پاکرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے فکشن کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہ اُردو افسانے میں، غیرمسلم کرداروں کو اہم مقام دیتی ہیں۔ جدید عہد سے، اُردو فکشن کی زمین، غیر مسلم کرداروں پر تنگ ہوتی چلی گئی ہے۔ اس سے اُردو فکشن، صرف ماضی کے ثقافتی تنوع ہی سے محروم نہیں ہوا، انسانی صورتِ حال کو پیش کرنے میں بھی تنگیِ نظر کا شکار ہوا ہے۔ ثمینہ نذیر کی کہانیوں میں ہم انسانی صورتحال کا قدرے وسیع تصور ملاحظہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کے اسلوب کا اہم کردار ہے۔ ان کے پاس کسی صورتِ واقعہ و صورتِ حال کو بیان کرنے والی لچک دار زبان ہے، یعنی سلینگ سے لے کر نفیس و بامحاورہ زبان۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e(ناصر عباس نیّر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eثمینہ نذیر گزشتہ چند سال میں اُردو ادب کے ناول اور افسانوں کی دنیا میں ایک نمایاں اضافہ ثابت ہوئی ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’کلّو‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تو اسے ادب کے قدر دانوں نے سراہا۔ اس کے بعد ناول ’’سیاہ ہیرے‘‘ نے تو جیسے افریقا کو اُردو ادب میں غالباً پہلی بار روشناس کرایا۔ ان کی کہانیوں اور ناول میں کہانی کی بُنت اور کرداروں کا رچاؤ خاصا پختہ نظر آتا ہے۔ بہت جلد وہ اُردو فکشن کے بڑے لکھنے والوں میں شمار ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ناظر محمود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eثمینہ نذیر روزمرہ زندگی کے عام کرداروں کے گرد جادوئی کہانیاں بُنتی ہیں۔ چاہے وہ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’کلّو‘‘ کے مضبوط نسوانی کردار ہوں، ناول ’’سیاہ ہیرے‘‘ کے کثیر الجہتی مرکزی کردار، یا ’’جاذو بھیّا‘‘ کے رنگا رنگ کرداروں کا قافلہ، سب قاری کے ذہن پر ایک دیر پا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حُوری نورانی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eثمینہ نذیر کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہمارے خطہ کی روزمرہ زندگیوں کی بے باکی سے عکاسی کرتا ہے، تمام ان تفاصیل کے ساتھ جو ہم سے پوشیدہ ہونے پر بھی ہماری شعوری اور لاشعوری دنیا کی بنیاد ہیں۔ ثمینہ نذیر کا فن جز کو کل اور کل کو جز کے تناظر میں ڈھال کر قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی نظریات میں تفریق کرنے سے گریز کرے۔ چنانچہ ان کے افسانے ’’دیوارِ گریہ‘‘ میں ہند و پاک کی سرحد سیاسی کشیدگی کی علامت تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی پدرشاہی نظام سے رہائی کا ایک غیرمتوقع وسیلہ بھی بن جاتی ہے۔ ثمینہ نذیر ہمارے خطہ کے متعدد لہجوں، زبانوں، رسومات و عادات، المیوں اور مسرّتوں کو اس باریکی اور خورد بینی سے صفحات پر نقل کرتی ہیں کہ قارئین اپنے پس منظر کی ایک بالکل بدلی ہوئی شکل سے روبہ رو ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف ثمینہ نذیر جہاں ہمارے مشترکہ معاشرے کی نمایاں مورّخ ہیں اور کسی ماہرِ بشریات کی تن دہی سے ہمارے خطے کی پیچیدہ زندگیوں کو قلم بند کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف وہ اپنے اس لامحدود مطالعے کو قاری تک عام فہم اور شعور کو تہ و بالا کر دینے والے انداز میں پہنچاتی ہیں۔ بےشک ثمینہ نذیر کا یہ جدید افسانوی مجموعہ عصمت چغتائی، واجدہ تبسّم، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور اور تمام ان مصنّفین کی ادبی میراث اور برہنہ گوئی کا علمبردار ہے جنھوں نے ہمارے خطے کو سال ہا سال جھنجوڑ کر رکھ دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جیدیپ پانڈے)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395781898425,"sku":null,"price":850.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6918118f3bc5e1763185039.jpg?v=1785372134"},{"product_id":"gabriel-garcia-marquez-saari-kahaniyan-گابریئل-گارسیا-مارکیز-ساری-کہانیاں","title":"GABRIEL GARCIA MARQUEZ: SAARI KAHANIYAN گابریئل گارسیا مارکیز: ساری کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eگابریئل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کی عظیم ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ ادیب، صحافی اور ادب میں نوبیل انعام یافتہ تھے۔ گارسیا مارکیز 6 مارچ 1927ء کو کولمبیا کے ایک چھوٹے سے قصبے اراکٹاکا میں پیدا ہوئے اور17 اپریل 2014ء کو میکسیکو سٹی، میکسیکو میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگارسیا مارکیز نے کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ ان کا اصل میدان ادب ہے۔ انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز شعبۂ صحافت سے کیا اور کولمبیا کے علاوہ مختلف بین الاقوامی اخبارات کے لیے کام کیا۔ اس تجربے نے انھیں لاطینی امریکا کے سماجی اور سیاسی منظرنامے کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کی جو بعد میں ان کی فکشن نگاری میں ان کے بہت کام آئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارکیز کو سب سے بڑی ادبی کامیابی اس وقت ملی جب 1967ء میں ان کا شاہکار ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ شائع ہوا، اس نے مارکیز کو بین الاقوامی شہرت دلائی اور انھیں لاطینی امریکی ادب کی سب سے اہم شخصیت تسلیم کیا گیا۔ ان کی دیگر قابلِ ذکر تصنیفات میں ’’وبا کے دنوں میں محبت‘‘، ’’ایک پیش گفتہ موت کی روداد‘‘ اور ’’سردار کا زوال‘‘ شامل ہیں۔ ان کا آخری ناول ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ان کی وفات کے دس سال بعد 6 مارچ 2024ء کو مارکیز کی عین سالگرہ کے موقع پر شائع ہوا جس کا اُردو ترجمہ اگلے ہی مہینے 17 اپریل کو مارکیز کی عین دسویں برسی کے موقع پر ’’بک کارنر‘‘ نے شائع کیا۔ ناولوں کے علاوہ مارکیز نے متعدد کہانیاں بھی لکھیں جن کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1982ء میں مارکیز کو ادب کا نوبیل انعام دیا گیا، جس سے وہ کولمبیا کے پہلے اور لاطینی امریکا کے اُن چند مصنّفین میں سے ایک بن گئے جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اپنی زندگی کے آخری دس برسوں میں، مارکیز متعدد بیماریوں سے نبرد آزما رہے لیکن انھوں نے لکھنا جاری رکھا۔ مارکیز نے عالمی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی وراثت نہ صرف ان کی ادبی تحریریں ہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے وہ اَن گنت ادیب بھی جو اُن سے متاثر ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم 1967ء میں شہداد پور، سندھ میں پیدا ہوئے، وہ ایک متنوع ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، تاہم بعد ازاں اپنے یکے بعد دیگرے شائع ہونے والے ادبی تراجم کی بدولت انھوں نے اُردو کے معروف اور ممتاز مترجمین کی صفِ اوّل میں جگہ بنالی۔ ایک شاعر، ادیب ، مترجم اور مرتب کی حیثیت سے وہ دس سے زائد قابلِ ذکر کتابوں کے حامل ہیں جن میں غزلوں کا ایک دلکش مجموعہ ’’درِخواب‘‘ بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے متعدد ادبی متون، بالخصوص فکشن کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی قابلِ ذکر کتابوں میں عمر شاہد حامد کا ناول “The Prisoner”، ربی سنکر بل کے دو ناولوں “Dozakhnama” اور “A Mirrored Life” اور میورئیل موفروئے کی “Rumi’s Daughter” کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ ہسپانوی ادیب گابریئل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول “Until August” کا اُردو ترجمہ شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے آصف فرخی کے بارے میں ایک انتھالوجی، ذکیہ مشہدی کی منتخب کہانیاں، شاعر اکبر معصوم کی کلیات اور پاکستان میں اُردو نثری نظموں کا ایک انتخاب بھی مرتب کیا ہے۔ انھوں نے مشہور ہندی افسانہ نگار بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا بھی ترجمہ کیا، ان کا یہ انتخاب بعد ازاں دسویں یو بی ایل لٹریچر اینڈ آرٹس ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم کو متعدد ادبی اعزات سے نوازا گیا جن میں ان کے پہلے شعری مجموعے ’’درِ خواب‘‘ پر ملنے والا عکس خوشبو ایوارڈ، “A Mirrored Life” کے اُردو ترجمے ’’آئینہ سی زندگی‘‘ پر ملنے والا یو بی ایل لٹریری ایوارڈ 2021ء برائے ترجمہ اور “Rumi’s Daughter” کے ترجمے ’’دُخترِ رومی‘‘ پر ملنے والا ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2024 ءبرائے ترجمہ شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48428188172473,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687237e6bc0dd1752315878_010f3d9f-0169-4121-a22b-2ed2ae014024.jpg?v=1785629223"},{"product_id":"shah-muhammad-ka-tanga-6th-edition-شاہ-محمد-کا-ٹانگہ-چھٹا-ایڈیشن","title":"SHAH MUHAMMAD KA TANGA (6TH EDITION)  شاہ محمد کا ٹانگہ (چھٹا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفکشن ایک عرصے سے میری چائے کی پیالی نہیں ہے لیکن علی اکبر اتنا چالاک آدمی ہے کہ پہلے اس نے بہلا پھسلا کر مجھے کوئی تین چار سو صفحات پر مشتمل ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ پڑھوا دیا اور اب یہ افسانے، لیکن اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے فکشن بھی پڑھنا چاہیے ورنہ میں نے شاید آخر میں انتظار حسین کا ناول ’’آگے سمندر ہے‘‘ اور مستنصر حسین تارڑ کا ’’بہائو‘‘ پڑھا تھا اور اب مجھے مزید فکشن پڑھنا پڑے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیعنی ... ^ ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر۔ اس سمارٹ سے مجموعے میں 13 افسانے شامل ہیں۔ یہاں فرداً فرداً افسانوں کا تجزیہ یا جائزہ لینا مشکل ہے، ماسوائے اس کے کہ مصنف کے مشاہدے کی صورتِ حال کیا ہے اور اس میں بیان کرنے کی طاقت اور صلاحیت کس حد تک ہے۔ علی اکبر ناطق کو جہاں زبان پر خاصا عبور حاصل ہے وہاں ان کا طرزِ بیان بھی عام فہم اور دلکش ہے، اور قاری آخر تک افسانے کی گرفت میں رہتا ہے، اور یہ خوشی کی بات ہے کہ کہانی تجرید کی بھول بھلیوں سے نکل آئی ہے اور اس میں کہانی پن عود کر آیا ہے، اور قاری افسانے سے باقاعدہ لطف اندوز ہونے لگا ہے، بشرطے کہ یہ پھر اسی طرف واپس چلی جائے۔ علی اکبر ناطق نے جس مختصر عرصے میں اپنی پہچان قائم کی ہے اور بڑے بڑوں سے اپنا اعتراف کروایا ہے وہ خوش آئند بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ پاکستان میں شاعری کے حوالے سے معاملات اوپر نیچے رہتے ہیں اور اپنے پائوں پر بھی کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ ز یادہ تر منظر فکشن نے سنبھال رکھا ہے اور اس کتاب کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سعیٔ مسعود پر میں اس نوجوان کو مبارک باد پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کرنا چاہتا ...^ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ظفر اقبال)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437265694905,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69942a1ce5c771771317788.jpg?v=1785692584"},{"product_id":"darhi-wala-5th-edition-deluxe-داڑھی-والا-ڈیلکس","title":"DARHI WALA - 5TH EDITION - DELUXE  داڑھی والا - ڈیلکس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eداڑھی والے میں بظاہر نہ تو آپ کو کوئی فلسفی یا نقاد نظر آئے گا نہ ہی مفکر یا دانشور۔ آپ روانی میں اس سے گزر جائیے تو یہ لذت بھری نثرنگاری بہت عام سے موضوعات پر دلچسپ عبارت آرائی معلوم ہو گی۔ لیکن جب اس تجربے سے گزر جائیے تو ایک لحظہ داڑھی والے کی سِریت پر غور ضرور کیجیے۔ آپ پر کھلے گا کہ یہ تحریریں ایک نادیدہ لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔ ایک ایسی لڑی جو خود داڑھی والے کے علم میں بھی نہیں، جسے وہ چاہے بھی تو نہیں چھیڑ سکتا۔ اس لچک دار لڑی کا ایک سرا خیال کے سرچشمے سے جڑا ہے تو دوسرا حرف و تصویر کی سیراب زمینوں سے۔یہ لڑی قاری کو یوں جکڑتی ہے کہ وہ قراَتِ متن میں بہتا تو ہے لیکن بہاؤ کو محسوس نہیں کر سکتا۔ یہی آکسیجن جیسی فطری نثر داڑھی والے کا کمال ہے۔ وہ اپنے نثری کُل میں اجزا سے بڑھتا ہی نہیں بلکہ اس کُل ہی کی غیر عمداً تخلیق دراصل اس کا نثری کارنامہ ہے۔ داڑھی والا اتنی ہی عام زندگی جیتا ہے جتنا ہم میں سے کوئی بھی لیکن اس بظاہر عام سے تجربے کی تہہ میں چھپی بھرپور کیفیات کو برآمد کرنا کسی کسی کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ زندگی کی intellectualization تو بہت سے لوگ کرتے ہیں جنھیں عرف عام میں دانشور کہا اور مانا جاتا ہے۔ زندگی کا خالص بیان وہی کر سکتا ہے جسے تہیں کھول کر اسے صفحات کی زمین پر بچھانا آتا ہو۔ تو بس حسنین جمال کی ’’داڑھی والا‘‘ کھولیے اور حیاتِ محض کی اَن گنت پرتوں کا تجربہ ایسی لطافت سے کیجیے، جیسے ابھی ایک ساعت قبل آپ نے سانس لیا اور آپ کو تجربے کی پیچیدگی کا اندازہ بھی نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عاصم بخشی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اُردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواتر کے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیںملتی۔ سو فیصد یا چلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچانوے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کے دو تہائی سے زیادہ کالم\/بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پر مَیں لکھ پاتا، مگر پھرسوچا کہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کا خاصا ہے۔ حسنین جمال کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثر میں کمال درجہ بےساختگی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مصنّف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گُل فشانی کر رہا ہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلّف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوار گِرا کر ان کا حسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کر لیتے ہیں جو ہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اور پھر ان پر نہایت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے ، مگر جس سلیقے اور شائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثر کن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کا مجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بھی صاحبِ ذوق کی لائبریری کا حصّہ بن سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عامر خاکوانی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہرائو اور چاشنی ہے۔ زیرِنظر کتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پر شائع ہوئے تھے۔ ایک تحریر تو اب تک نہیں بھولتی ’’محرّم تو سب کا ہوتا تھا‘‘، حسنین جمال نے قلم توڑ دیا تھا۔ پڑھ کر بےساختہ فون کیا اور داد دِی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا، ’’یہ نو مضامین کی سیریز کا حصہ ہے جو محرّم کے حوالے سے مختلف موقعوں پر لکھے۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہو گا۔‘‘ کبھی محرّم پر لکھنے بیٹھتا ہوں تو حسنین جمال کی یہ تحریر یاد آ جاتی ہے، خدایا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا۔ کتابوں کے سرورق پر رائے عموماً مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے مگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صف اوّل کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریر میں بعض اوقات غیرضروری طور پر انگریزی کے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، شاید یہ آج کے دَور کی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس سے اجتناب کرے اور اگر کہیں انگریزی کا لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یار لوگ با دلِ نخواستہ مانع حمل کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(یاسر پیرزادہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور تم کیا جانو یہ داڑھی والا کون ہے! شکل سے فرانسیسی سید لگتا ہے ، عقل سے سپینش فلسفی نظر آتا ہے اور تحریر سے کسی ایرانی بادشاہ کا مصاحب اور کاتب ہے ۔ حضت صاحب جناب حسنین جمال مجھے بہت محبوب ہیں ۔ ہمارا اِن کا یارانہ 2010ء میں ہوا اور تاحال جاری و ساری ہے، ورنہ اِن کی منڈلی کے باقی سب احباب رفتہ رفتہ بلاک کی نذر ہو چکے ہیں اور حسنین سے صدقہ جاریہ کی دوستی صرف اِن کی چلبلی تحریروں اور محبتی مزاج کے سبب ہے ۔ بہت زیادہ سیانے بھی نہیں بنتے اور یاروں کے یار رہتے ہیں ۔ داڑھی والا، اِن کی کتاب آئی تو ہم نے بک کارنر کے گگن میاں کو تُرنت فون گھمایا کہ بھئی ہمیں تین کاپیاں شتاب بھیجیو ۔ ایک اپنے لیے اور دو اپنے منکر نکیروں کے لیے۔ اِدھر حسنین بھائی نے بقلم خود ہمارے کرونا کو پس انداز کر کے ایک کاپی لکھ کر عنایت کر دی۔ اور یہی کاپی ہم نے رات بھر جاگ کر پڑھی کہ اِن دنوں نہ انگ چیناں نہ نیند نیناں والا معاملہ چل رہا ہے ۔ پہلا مضمون اُن کے اپنے اوپر ہے اور آگے جگ بیتیاں اور جگ علتیں ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک مضمون دل کو گدگداتا چلا جاتا ہے۔ حسنین بھائی جیسے دل کے مجذوب ہیں ویسے اِن کی تحریریں سالک ہیں۔ آپ پڑھیں گے تو سر دھنیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(علی اکبر ناطق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین اپنے حلیے، اپنے خیالات، اور اپنے اظہار کے حوالے سے سب سے جدا ہے، اور سب سے جدا ہونا اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ تخلیق کا اولین نکتہ لگے بندھے سٹرکچر اور پامال اسلوب سے باہر نکلنا ہے اور یہی باہر نکلنا لوگوں کو چونکا دیتا ہے، انھیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکالتا اور ان پر سوچ کے نئے در کھولتا ہے۔ جب اس کی کتاب ’’داڑھی والا‘‘ ملی تو مجھے حقیقی خوشی ہوئی۔ ایک نظر میں ہی اس کے اسلوب کی سادگی (اور پُرکاری)، بے ساختگی اور موضوعات کی رنگا رنگی قاری کا من موہ لیتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاہد صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاطمینان سے اور آہستہ آہستہ حسنین جمال کی کتاب ’’داڑھی والا‘‘‘ کا مطالعہ شروع کیا ہے اور یہ واقعی ٹکڑے ٹکڑے کر کے چائے کے ساتھ، سہ پہر ڈھلتے وقت یا رات کے خاموش پچھلے پہر پڑھنے والی کتاب ہے۔ چونکہ اس میں زندگی کا گہرا اور حسّاس مشاہدہ ہے، ایک مسحورکن رومانیت بھی اور ایک ارفع زندگی گزارنے کے گُر بھی۔ ایک منفرد اسلوب اور اندازِ بیاں اور بہت سی ایسی باتیں جو ایک مطمئن اور مسرور رُوح کی نشاندہی کرتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437420163257,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697caf6689c0a1769779046.jpg?v=1785693857"},{"product_id":"nikolai-gogol-choti-bari-kahaniyan-نکولائی-گوگول-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"NIKOLAI GOGOL : CHOTI BARI KAHANIYAN نکولائی گوگول : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنکولائی گوگول 20 مارچ 1809ء کو یوکرین میں پیدا ہوا۔ بچپن میں ہی اس نے یوکرین کے فوک ادب اور کرداروں سے گہری واقفیت پیدا کر لی تھی۔ یوکرین ہی میں اس نے تعلیم حاصل کی۔ وہ اٹھارہ برس کا تھا کہ اس نے پیٹرز برگ کا رُخ کیا۔ تب اس کا ارادہ سٹیج اداکار بننے کا تھا، لیکن اس میں وہ ناکام رہا اور نتیجے میں اسے کلرکی کرنی پڑی۔ کچھ عرصہ ایک سکول میں بھی پڑھاتا رہا مگر اپنی ملازمتوںسے غیر مطمئن تھا۔ اس زمانے میں اس نے ایک نظم لکھی جو اس کے نام کے بغیر شائع ہوئی۔ اس کی ہمت بندھ گئی۔ گوگول کی شہرت کا آغاز کہانیوں سے ہوتا ہے۔ جب اس کی کہانیوں کا مجموعہ ’’دیكانكا كے پاس گائوں كی شامیں‘‘ شائع ہوا تو بطور ادیب اور کہانی کار اس کی لازوال شہرت کا آغاز ہوا۔ انہی کہانیوں کی وجہ سے وہ رُوس کے عظیم شاعر اور جدید رُوسی ادب کے بانی پُشکن کی قربت میں پہنچا۔ وہ پُشکن کا مداح بن گیا۔ اس کا زیادہ تر وقت پُشکن کی رفاقت میں بسر ہوتا۔ گوگول جہاں بحیثیت انسان بہت عجیب و غریب شخص تھا وہاں وہ بعض لازوال تخلیقات کی وجہ سے بھی ساری دُنیا کے لیے اب تک دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس نے یوکرین کے علاقے اور اس کے لوگوں، ثقافت اور رسم و رواج کو زندۂ جاوید کر دیا۔ عالمی ادب کا کون سا ایسا طالبِ علم ہے جس نے گوگول کے شاہکار ’’تاراس بلبا‘‘ کو نہ پڑھا ہو۔ ایک ایسی طویل کہانی یا ناولٹ جس نے اپنی اشاعت کے دور سے لے کر اب تک ساری دُنیا کو متاثر کیا ہے۔ دُنیا کے شاہکار افسانوں کی جب بھی فہرست بنے گی اس میں ’’اوورکوٹ‘‘ کا نام بھی شامل ہو گا۔ اس عظیم کہانی کا ترجمہ دُنیا کی ہر زبان میں ہوچکا ہے۔ گوگول کی آخری تخلیق ’’ڈیڈسولز‘‘ تھی۔ 2 جون1842ء کو اس کا پہلا حصہ شائع ہوا۔ اسے خاصی شہرت ملی، لیکن یہ گوگول کی توقع سے بہت کم تھی۔ تاہم اسے یقین تھا کہ اس ناول کے بعد میں لکھے جانے والے حصے پورے رُوس کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ دوسرے حصے میں گوگول رُوس کی روح کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کے معمے کو بھی حل کرنا چاہتا تھا۔ تیسرے حصے میں وہ اس ناول کے حوالے سے رُوس کونجات کا راستہ دکھانے کا خواہاں تھا، لیکن اب وہ ذہنی علالت کے اس درجے پر تھا کہ اس سے کچھ لکھا نہ جارہا تھا۔ جون 1845ء میں اس نے ’’ڈیڈ سولز‘‘ کے اس دوسرے حصے کو خود نذرِ آتش کردیا جتنا کہ اس نے اسے اب تک لکھا تھا۔ یہ واقعہ 24 فروری1852ء کی رات کو پیش آیا اور اس کا اسے گہرا صدمہ ہوا۔ اپنی عظیم تخلیق کو اپنے ہاتھ سے جلا دینے کے غم نے اسے ہمیشہ کے لیے بستر سے لگا دیا۔ غذا کو ہاتھ لگانا چھوڑ دیا اوراسی فاقہ کشی کے عالم میں اپنے مسوّدے کو نذرِ آتش کرنے کے نو دن بعد 4 مارچ 1852ء کو گوگول چل بسا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ سے ماخوذ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439627972793,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/678e57b9273351737381817.jpg?v=1785710353"},{"product_id":"maupassant-choti-bari-kahaniyan-موپاساں-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"MAUPASSANT : CHOTI BARI KAHANIYAN  موپاساں : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eموپاساں وہ شخص ہے جس کی نظر انسانی زندگی کے تاریک نہاں خانوں تک پہنچتی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور وہ اس مقام سے انسانیت کی کشمکش کی تشریح کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- لیو ٹالسٹائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں روحانی کرب کا شکار ہے، نہ صرف اس مادی دنیا کی نامعقولیت سے، اس میں خوبصورتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکی غیرموجودگی سے، بلکہ دنیا میں سچی محبت کی عدم فراوانی سے دل گرفتہ ہے۔ میں نے آج تک کسی شخص کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدل شکستگی میں اتنی مایوس کن آہ و فغان نہیں سنی جسے اپنی تنہائی کا ادراک ہو... یہ صرف موپاساں ہی ہے جو اپنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکہانیوں میں اپنے دکھ کا بیان کرتا ہے۔ یہ لکھاری ایک مخصوص صلاحیت کا حامل ہے جسے جوہر کہتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ جوہر اس قابلیت پر مشتمل ہے جو اسے کسی بھی موضوع پر ایسی نگاہ ڈالنے کے قابل بناتا ہے ،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو اسے اس موضوع میں وہ کچھ دکھاتا ہے جو کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھ پاتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- لیو ٹالسٹائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں پیدائشی لکھاری ہے۔ اپنے ہم عصروں میں سمجھدار ترین اور توانا ترین سوچ کا حامل کہانی نویس...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- ایمیل زولا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتوانائی، لچک، توازن... اس قدآور اور ماہر کہانی نویس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کا جوش و ولولہ دانستہ ہے اور اس کا فن کامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- اناطول فرانس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں تاریخ کی کسی بھی صدی سے ناآشنا ہوں جس میں کسی ایک مقام پر اتنے نفیس نفسیاتی تجسس سے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھرپور اذہان پائے جاتے ہوں جتنے اس وقت پیرس میں موجود ہیں۔ اگر ان میں بلند فکر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقدوقامت کے حامل کسی ایک شخص کا نام لینا چاہوں تو وہ موپاساں ہو گا...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- فریڈرک نیطشہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کا مطالعہ کبھی بے کیف نہیں ہوتا... وہ ماہر ترین قصّہ گو ہے... وہ اپنے کرداروں کے ساتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبیک وقت سنگدلی اور شفقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے اندیشوں اور ان کی حرکات و سکنات کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمذمت نہیں کرتا... وہ ان کی مشکلات سے نفرت نہیں کرتا۔ اپنے کرداروں کی ابتلا، دھوکے اور اضطراب کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیکھتے ہوئے مجھے اس کی نگاہوں میں گہرے ترحم کا احساس ہوتا ہے... لیکن وہ ان سب کو دیکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ دیکھتا ہے اور اپنا چہرہ دوسری جانب نہیں موڑتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- جوزف کانریڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں نے دیکھا کہ ہماری فطرت کی بنیاد حیوانی جذبات پر قائم ہے... اور یوں وہ اکثر انسانی زندگی کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیوانی جہت کی عکاسی میں جتا رہا۔ شاید ہی کسی دوسرے کہانی نویس نے اتنے استدلالی انداز میں،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاتنے علم و تجربے کے ساتھ اور اپنے فن میں اتنی کامل چابکدستی کے ساتھ ایسا لکھا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- آرتھر سِمنز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچیخوف کے ساتھ موپاساں کا شمارعالمی ادب میں مختصر کہانیوں میں دنیا کے عظیم ترین ناموں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ہوتا ہے۔ وہ زولا کی طرح فطرت پسند نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی تحریروں میں انسانوں پر ان کے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماحول کا اثر نمایاں ہے، تاہم اس کے نزدیک انسانی محرکات کی بنیاد نفسیاتی عوامل پر ایستادہ نہیں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کی فطرت پسندی میں شوپنہاؤر کی قنوطیت عیاں ہے اور یوں انسانی سرشت کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتصویر کشی میں وہ اکثر سنگدلی اور سختی کا مظاہرہ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- پروفیسر کورنیلئے کواس\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48444759048377,"sku":"BC SSH","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625114a21c41b1649480866.jpg?v=1785749163"},{"product_id":"nanha-shahzada-pictorial-edition-ننھا-شہزادہ-مصور-ایڈیشن","title":"NANHA SHAHZADA (PICTORIAL EDITION)  ننھا شہزادہ (مصور ایڈیشن)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445027483833,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/643fbb22e0c451681898274.jpg?v=1785750648"},{"product_id":"nanhay-nicholas-kay-kaarnamay-ننھے-نکولس-کے-کارنامے-copy","title":"DEO MERA DOST (ILLUSTRATED)  دیو میرا دوست","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکبھی سوچا ہے کہ آپ کسی سیارے کے برابر ایک آڑو پر اپنے دیوہیکل کیڑے مکوڑے دوستوں کے ساتھ مہم پر نکل جائیں؟ یا کسی ایسے دیس میں جا پہنچیں جہاں صرف دیو رہتے ہوں؟ یا اپنی ظالم ہیڈ مسٹرس کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہو جائیں؟ یا گیس سے بھرے غباروں کے ساتھ کسی کو باندھ کر آسمان کی جانب اڑا دیں؟ یہ ہے رولڈ ڈال کی دنیا جہاں ہر صفحے پر نئی حیرت اور نئی دنیا موجود ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دیو میرا دوست‘‘ بچوں کے کسی خواب کی مانند حیرت انگیز طور پر مزے دار، شرارت آمیز اور پُرلطف کتاب ہے جو ہر عمر کے بچوں کو پسند آئے گی۔ رولڈ ڈال کی ہر کہانی عجیب، پُراسرار اور شاندار دنیاؤں کی طرف ایک حیرت انگیز مہم ہے جو بچوں کے تخیل کی طاقت اور صلاحیت کو وسعت بخشتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1985ء میں اس کتاب کے جرمن ترجمے کو بچوں کے بہترین ترجمے کا ’’ڈوئیچے یوگنلٹراتور پری‘‘ اور 1991ء میں آسٹریلیا میں بچوں کی بہترین کتاب کا ’’بلبی ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ 2003ء میں بی بی سی نے اسے ’’ملک کی مقبول ترین کتب‘‘ میں شامل کیا۔ امریکا کی نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن نے 2007ء کے ایک جائزے میں اسے ’’بچوں کے لیے سو بہترین کتب‘‘ میں شامل رکھا۔ 2012ء میں ’’سکول لائبریری جرنل‘‘ نامی امریکی جریدے نے اسے ’’بچوں کی محبوب ترین کتب‘‘ کی فہرست میں شامل کیا۔ 2023ء میں بی بی سی کے ایک اور جائزے میں اس کتاب کو ’’بچوں کی 100 بہترین کتب‘‘ میں شامل کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک اندازے کے مطابق رولڈ ڈال کی دنیا بھر میں 60 سے زیادہ زبانوں میں 300 ملین کتب فروخت ہو چکی ہیں اور ہر 3سیکنڈ میں ایک کتاب فروخت ہوتی ہے۔ ’’جیمز اور دیوہیکل آڑو‘‘ اور ’’چارلی اور چاکلیٹ فیکٹری‘‘ بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں میں دنیا بھر کی مقبول ترین اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں شامل ہیں۔ رولڈ ڈال کی 18کتابیں ایوارڈ یافتہ مصور کوئنٹن بلیک کی سحر انگیز اور دلآویز تصاویر سے مزین ہیں۔ 1993ء میں برطانیہ کے شاہی ڈاک خانے نے بچوں کے ادب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے جن میں سے ایک پر ’’دیو میرا دوست‘‘ کی تصویر بنی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48450285174969,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67dd26472587c1742546503.jpg?v=1785751031"},{"product_id":"jalawatni-aur-saltanat-جلاوطنی-اور-سلطنت","title":"JALAWATNI AUR SALTANAT  جلاوطنی اور سلطنت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہم کسی مصنّف سے محض اس لیے نہیں جُڑ جاتے کہ وہ ہمیں ایک ایسی دُنیا میں لے جاتا ہے جو ہمارے خیالات میں رچ بس جاتی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ہماری شخصیت کی تشکیل میں اپنا حصّہ ڈال دیتا ہے۔ دستوئیفسکی اور بورحیس کی مانند آلبرٹ کامیو بھی میرے نزدیک ایسا ہی اساسی مصنف ہے۔ اس کی تصوّراتی نثر قاری کو ایک پُراسرار منظرنامے میں لے جاتی ہے جسے سمجھنے کی شدید خواہش قاری کے دل میں جاگ اٹھتی ہے۔ اس کی معنویت کو بھانپ لینا ایسا ہی ہے جیسے زندگی کی مانند ادب کے لامتناہی امکانات کو سمجھ لینا۔ ایسے مصنّفین کو جوانی میں قدرے پُرامید ذہن کے ساتھ پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قاری بھی کتابیں لکھنا چاہے گا____ اورحان پاموک ( نوبیل انعام یافتہ تُرک ناول نگار )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e...ماحول اور منظر کی ایسی عکاسی ہے کہ کہانی کے منظرنامے میں قاری نمائندے کی صورت میں بدقسمت کرداروں کے ساتھ ساتھ ان کے کرب و الم میں شریک ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے... یہ طاقت ور، آنکھیں کھول دینے اور خیالات کو نیا نظریہ دینے والی کہانیاں ہیں جنھیں چابک دستی اور لاتعلقی سے لبریز جذبات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (سنڈے ٹائمز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کہانیوں کا موازنہ کامیو کے بہترین کام کے ساتھ کیا جا سکتا ہے (دی نیشن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445194109113,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64dccff84e0dd1692192760.jpg?v=1785751517"},{"product_id":"babel-ka-kutub-khana-بابل-کا-کتب-خانہ","title":"BABEL KA KUTUB KHANA  بابل کا کتب خانہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمصنف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخورخے لوئیس بورخیس (پیدائش: 24 اگست 1899ء بیونس آئرس، ارجنٹائن - وفات: 14 جون 1986ء جنیوا، سویٹزر لینڈ) افسانہ نگار، شاعر، نقاد اور مترجم۔ ابتدائی زندگی اپنے خاندان کے ساتھ یورپ کے مختلف شہروں میں گزارنے کے بعد بورخیس واپس ارجنٹائن لوٹے اور 1921ء میں ان جرائد سے اپنی کہانیوں کی اشاعت کا آغاز کیا جو ماورائے حقیقت، سری اور تجریدی ادب کے لیے مشہور تھے۔ ایک موروثی بیماری کے باعث وہ 1955ء تک مکمل طور پر نابینا ہو چکے تھے، لیکن بدستور بیونس آئرس کی نیشنل لائبریری میں ڈائریکٹر اور یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ بے حد وسیع مطالعہ رکھنے والے بورخیس کئی زبانوں پر مختلف درجے کی دسترس رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بینائی جاتی رہنے کے باعث بورخیس میں علامتی تخلیق نگاری کی صلاحیت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ مغربی ادب میں بورخیس کا مقام اس حد تک ہے کہ ان کا تقابل ہومر اور ملٹن کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کو اسپینوزا اور ورجل سے ایک مسلسل مکالمہ کہا گیا ہے۔ ان کی کہانیاں صنفی قید سے آزاد ہیں اور بیک وقت فلسفے، ریاضی، متعدد تہذیبی روایات اور قدیم اساطیر کی بھول بھلیاں ہیں۔ ساتھ ہی ان کی کہانیوں کی بُنت واقعہ نگاری اور کردار نگاری کے مروجہ اصولوں کو توڑتے ہوئے براہِ راست قاری کے تخیل کو اپنا ہدف بناتی ہے۔ وجودیاتی فلسفے میں ان سے بورخسی معمّے (Borgesian Conundrum) کی اصطلاح منسوب ہے جو دراصل اس مسئلے کا بیان ہے کہ آیا ادیب کہانی تخلیق کرتا ہے یا پھر کہانی اسے تخلیق کرتی ہے؟ بورخیس کی وفات 1986ء میں ہوئی لیکن ان کی کہانیوں کے تراجم کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ہو چکا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق بورخیس کے انگریزی مترجمین کی تعداد کم و بیش دو درجن ہے۔ بورخیس کی ان پچیس چھوٹی بڑی کہانیوں کے تراجم ایک سے زیادہ انگریزی تراجم کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہیں اور زیادہ تر کہانیوں کے بعد ان مآخذ کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر عاصم بخشی پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینئرنگ کی تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں۔ ان کے متعدد بین الاقوامی فکشن کے تراجم شائع ہو چکے ہیں جن میں دائی سیجی کا فرانسیسی ناول ’’بالزاک اور پری پیکر چینی درزن‘‘، بن یامین کا مالیالم ناول ’’بکر بیتی‘‘ ، آندرے زینوسکی کا پولش ناول ’’حیاتِ موش‘‘ اور ہنری فریڈرک بلانک کا فرانسیسی ناول ’’نیند کی راجدھانی‘‘ شامل ہیں۔ اسامہ صدیق کے انگریزی ناول کا ترجمہ ’’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘‘ بک کارنر جہلم سے شائع ہو چکا ہے۔ متفرق کہانیوں کے تراجم مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علاوہ انھوں نے فلسفے کی صنف میں جوشوا ہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ فلسفۂ سائنس سے متعلق مضامین کے مجموعۂ تراجم ’’نئی زمینوں کی تلاش‘‘ نے 2017ء میں اردو سائنس بورڈ کی طرف سے بہترین کتاب کا ’’اردو سائنس ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔ شاعری کا ایک مجموعہ ’’شاہراہِ شوق‘‘ 2015ء میں لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی طبع زاد نثری کاوش ’’دبدھا‘‘ نے 2022ء میں کراچی لٹریری فیسٹیول میں اردو نثر کی بہترین کتاب کا انعام حاصل کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446163026105,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a3472b1034d1721976619.jpg?v=1785757703"},{"product_id":"kalila-wa-dimna-کلیلہ-و-دمنہ","title":"KALILA WA-DIMNA کلیلہ و دمنہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکسی زمانے میں جنگل میں خشک سالی کے سبب قحط پڑا تو ہاتھیوں کے بدمست سردار نے خرگوشوں کی کچھار میں واقع، واحد دستیاب ’’چاند چشمے‘‘ سے سیراب ہونے کی چاہ میں ان کے گھر اپنے پیروں تلے روند ڈالے۔ تب اپنےمسمار گھروں کا بدلہ لینے کے لیے ایک عقلمند خرگوش نے اپنی دانائی سے ایسی چال چلی کہ خود سے کئی گنا طاقتور حریف کو پسپا ہو کر سرنگوں ہونے اور معافی تلافی پر مجبور کر تے ہوئے یہ ثابت کر دکھایا کہ بسا اوقات طاقت کانشہ خود طاقتور کے لیے کس طرح وبالِ جان بن جاتا ہے۔ ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کی یہ حکایات ایسے ہی دلچسپ قصوں، حیرت انگیز کہانیوں اور دنگ کر دینے والے دانائی کے افکار سے پُر ہیں۔ یہ کتاب اولاً سنسکرتی زبان میں تھی بعد میں اس کی شہرت کے باعث اسے دیگر زبانوں مثلاً تبتی، فارسی، عربی اور کئی زبانوں میں بھی نقل کیا جاتا رہا۔ چونکہ اصل کتاب عربی زبان میں محفوظ رہی اس لیے اس کا عربی ترجمہ ہی سب سے اہم ہے۔ عبد اللّٰہ بن المقفع جو ابو جعفر منصور عباسی کا محرر، کاتب اور فارسی کا ماہر انشاپرداز تھا، اس نے اس کتاب کو عربی زبان کے قالب میں ڈھالا۔ وہ پہلوی اور یونانی زبان بھی جانتا تھا، تاہم عربی زبان میں کامل مہارت کے سبب یہ کام اس کے سپرد کیا گیا۔ عربی میں اس کتاب کی فصاحت، بلاغت اور اس کے سلیس و سہل ہونے کے سبب عربوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ رودکی جیسےکئی مشاہیر نے اس کتاب کے مشمولات کو اشعار کی شکل میں نظم کرنے کی بھی کوشش کی۔ یہ کتاب سریانی، یونانی، فارسی، عبرانی، لاطینی، اسبانی، ملقی، انگریزی، روسی، فرانسیسی اور جرمن میں بھی ترجمہ ہوئی لیکن اس کی مرجع و اصل ابن المقفع کی ترجمہ شدہ یہ عربی کتاب ہی رہی۔ یہ کاوش اسی اصل عربی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے جو اہلِ دانش کی بصیرت افروزی کی خاطر پیشِ خدمت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حنا جمشید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446322213049,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63183c96e0e0d1662532758.jpg?v=1785760296"},{"product_id":"kalila-wa-dimna-deluxe-edition-کلیلہ-و-دمنہ-ڈیلکس-ایڈیشن","title":"KALILA WA-DIMNA (DELUXE EDITION)  کلیلہ و دمنہ (ڈیلکس ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکسی زمانے میں جنگل میں خشک سالی کے سبب قحط پڑا تو ہاتھیوں کے بدمست سردار نے خرگوشوں کی کچھار میں واقع، واحد دستیاب ’’چاند چشمے‘‘ سے سیراب ہونے کی چاہ میں ان کے گھر اپنے پیروں تلے روند ڈالے۔ تب اپنےمسمار گھروں کا بدلہ لینے کے لیے ایک عقلمند خرگوش نے اپنی دانائی سے ایسی چال چلی کہ خود سے کئی گنا طاقتور حریف کو پسپا ہو کر سرنگوں ہونے اور معافی تلافی پر مجبور کر تے ہوئے یہ ثابت کر دکھایا کہ بسا اوقات طاقت کانشہ خود طاقتور کے لیے کس طرح وبالِ جان بن جاتا ہے۔ ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کی یہ حکایات ایسے ہی دلچسپ قصوں، حیرت انگیز کہانیوں اور دنگ کر دینے والے دانائی کے افکار سے پُر ہیں۔ یہ کتاب اولاً سنسکرتی زبان میں تھی بعد میں اس کی شہرت کے باعث اسے دیگر زبانوں مثلاً تبتی، فارسی، عربی اور کئی زبانوں میں بھی نقل کیا جاتا رہا۔ چونکہ اصل کتاب عربی زبان میں محفوظ رہی اس لیے اس کا عربی ترجمہ ہی سب سے اہم ہے۔ عبد اللّٰہ بن المقفع جو ابو جعفر منصور عباسی کا محرر، کاتب اور فارسی کا ماہر انشاپرداز تھا، اس نے اس کتاب کو عربی زبان کے قالب میں ڈھالا۔ وہ پہلوی اور یونانی زبان بھی جانتا تھا، تاہم عربی زبان میں کامل مہارت کے سبب یہ کام اس کے سپرد کیا گیا۔ عربی میں اس کتاب کی فصاحت، بلاغت اور اس کے سلیس و سہل ہونے کے سبب عربوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ رودکی جیسےکئی مشاہیر نے اس کتاب کے مشمولات کو اشعار کی شکل میں نظم کرنے کی بھی کوشش کی۔ یہ کتاب سریانی، یونانی، فارسی، عبرانی، لاطینی، اسبانی، ملقی، انگریزی، روسی، فرانسیسی اور جرمن میں بھی ترجمہ ہوئی لیکن اس کی مرجع و اصل ابن المقفع کی ترجمہ شدہ یہ عربی کتاب ہی رہی۔ یہ کاوش اسی اصل عربی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے جو اہلِ دانش کی بصیرت افروزی کی خاطر پیشِ خدمت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حنا جمشید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446344724665,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6303182ba5db11661147179.jpg?v=1785760420"},{"product_id":"kalila-wa-dimna-hariyupiya-2-books-bundle-offer-کلیلہ-و-دمنہ-ہری-یوپیا-بنڈل-آفر","title":"KALILA WA-DIMNA, HARIYUPIYA | 2 BOOKS BUNDLE OFFER  کلیلہ و دمنہ ، ہری یوپیا | بنڈل آفر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446367072441,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/636f317203c4d1668231538.jpg?v=1785760533"},{"product_id":"majmua-asad-muhammad-khan-sheri-o-nasri-taraajim-مجموعہ-اسد-محمد-خاں-شعری-و-نثری-تراجم","title":"MAJMUA ASAD MUHAMMAD KHAN: SHERI-O-NASRI TARAAJIM  مجموعہ اسد محمد خاں: شعری و نثری تراجم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاسد محمد خاں، دُبلے پتلے سادہ مزاج کے پٹھان، 26 ستمبر 1932ء کو شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ کچھ عرصہ لاہور میں رہے، پھر کراچی کو مسکن بنا لیا۔ بھوپال، لاہور اور کراچی کے مختلف اداروں سے تعلیم حاصل کی اور روزگار کے سلسلے میں متفرق شعبوں سے منسلک رہے۔ 1960ء کی دہائی میں شاعری سے ادبی کیرئیر کا آغاز کیا اور ’’انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند‘‘، ’’زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے‘‘، ’’تم سنگ نینا لاگے مانے نہیں جیارا‘‘ اور ’’موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا‘‘، جیسے مقبول گیت لکھے۔ بعدازاں کہانیاں لکھنے لگے اور اُردو ادب کو ’’باسودے کی مریم‘‘، ’’مئی دادا‘‘ اور ’’ترلوچن‘‘ سمیت درجنوں بے مثال کہانیاں اور لازوال کردار عطا کیے۔ ان کی بہت سی کہانیاں متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوئیں، معتبر انتخابات کی زینت بنیں اور ٹی وی چینلوں پر بھی دکھائی گئیں۔ اسد محمد خاں کو اُن کے طویل ادبی سفر کے دوران متعدد ادبی اعزازات دیے گئے جن میں پاکستان کا اعلیٰ سول ایوارڈ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ (2009ء) بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاَسد محمد خاں کا لکھا ہوا کمیّت کے حساب سے اتنا کثیر نہیں جتنا کیفیت اور قبولیت کے اعتبار سے بیش ہے۔ اپنی طرح کا لکھتے ہیں، اپنی چھاپ کا اور اِس کج کلاہانہ کوشش میں کہیں بھی مجہول تجریدیت کا شکار نہیں ہوئے۔ کہانی، گیت، نظم، ڈراما، خاکہ، سفرنامہ، خودنوشت، ترجمہ، مصوری، اسد محمد خاں نے سب میں اپنی یکتائی و زیبائی ثابت کی ہے۔ ’’مجموعہ اسد محمد خاں:شعری و نثری تراجم‘‘ اُن کے فن کا ایک نمونہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449703149753,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6726292aaca5e1730554154.jpg?v=1785779822"},{"product_id":"aalami-nasri-adab-vol-1-عالمی-نثری-ادب-جلد-اوّل","title":"AALAMI NASRI ADAB (VOL: 1)   عالمی نثری ادب (جلد اوّل)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449812496569,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/670397af393bf1728288687.jpg?v=1785780251"},{"product_id":"aalami-nasri-adab-vol-2-عالمی-نثری-ادب-جلد-دوم","title":"AALAMI NASRI ADAB (VOL: 2)  عالمی نثری ادب (جلد دوم)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449837891769,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/606efe2c0df441617886764.jpg?v=1785780359"},{"product_id":"aalami-nasri-adab-vol-3-عالمی-نثری-ادب-جلد-سوم","title":"AALAMI NASRI ADAB (VOL: 3)  عالمی نثری ادب (جلد سوم)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449845952697,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/606efdf458dee1617886708.jpg?v=1785780425"},{"product_id":"aalmi-tarajim-muntakhib-afsanay-عالمی-تراجم-منتخب-افسانے","title":"AALMI TARAJIM - MUNTAKHIB AFSANAY  عالمی تراجم ۔ منتخب افسانے","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449876525241,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b80a134d21785313290.jpg?v=1785780753"},{"product_id":"dehaati-babu-دیہاتی-بابو","title":"DEHAATI BABU  دیہاتی بابو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاسد طاہر کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن ’’جپّہ‘‘ کے اضافے پر یہ نام کچھ عجیب سا لگتا ہے سو مجھے بھی لگا لیکن جب مسودہ پڑھنا شروع کیا تو وہ کسی ’’جن جپھے‘‘ سے کم نہ تھا جسے آپ جپّہ کا جپھا بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں نہ لمبا لکھتا ہوں نہ لمبی بات کرسکتا ہوں۔ مختصر ترین عرض یہ کہ اسد طاہر جپّہ کی تحریروں پہ گہری نظر ڈالیں اور پھر مجھے بھی ضرور مطلع فرمائیں کہ کہیں آپ کو بھی جپّہ کی تحریر نے یونہی تو نہیں جکڑ پکڑ لیا جیسے مجھے، کہ بچپن میں پڑھا تھا.... Told sweet-Untold sweeter ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسد طاہر جپّہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے قلم کار بھی ہیں۔ گاؤں کے سکول میں ٹاٹ پہ بیٹھ کر پڑھے اور گورنمنٹ کالج سے ہوتے ہوئے سول سروس تک پہنچے اور اپنے والد کے خواب کو تعبیر دے دی۔ ان کے والدِ گرامی پروفیسر محمد انور خان اردو اور فارسی پہ دسترس رکھتے تھے۔ انھوں نے غالب اور اقبال سے ان کو اس طرح متعارف کرایا کہ ستاروں پہ کمند ڈالنے کی خواہش ان کے دل میں موجزن ہوگئی۔ وہ ہر نوجوان کے دل کو یہی لگن لگانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کے سب اہلِ وطن دیار ِعشق میں اپنا مقام پیدا کریں۔ انھیں یقین ہے کہ نیا زمانہ اور نئے صبح و شام ہمارے انتظار میں ہیں، ضرورت بس کمرِ ہمت کسنے اور قدم بڑھانے کی ہے۔ ان کی آواز سنیے اور ان کے الفاظ پڑھیے، جو دل سے نکلتے ہیں اور دل میں اتر جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجیب الرحمٰن شامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپاکستان میں سول اور ملٹری افسران اچھے اچھے ادیب بن کر ابھرے اور نام کمایا۔ کئی نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ اس خوبصورت فہرست میں اب نیا نام اسد طاہر جپہ کا ہے۔ انھیں پڑھ کر آپ کو ایک نیا پن، ایک نئی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ دھرتی سے جڑے انسان ہیں۔ ہر زمین زاد کی طرح ان کے اندر سے بھی اپنی مٹی سے محبت گہری ہے۔ کوئی بناوٹ نہیں، کوئی خبطِ عظمت نہیں، کوئی پروٹوکول نہیں۔ جیسے ہیں ویسے ہی خود کو پیش کیا۔ خود پر میک اپ نہیں کیا۔سیلف میڈ لوگوں پر دو اثرات ہوتے ہیں۔ کامیابی ملنےکے بعد وہ ترش اور سخت دل ہو جاتے ہیں کہ جو زمانے نے ان کے ساتھ کیا وہ اب باقی لوگ بھی بھگتیں یا پھر بہت ہمدرد اور مہربان کہ جو دُکھ انھوں نے دیکھے وہ اور لوگ نہ دیکھیں۔ جپہ صاحب کو پڑھ کر لگتا ہے، وقت کے حادثات اور تھپیڑوں نے انھیں سنگ دل نہیں بلکہ ایک مہربان، انکسار پسند اور حساس انسان بنایا اور یہی ان کی ماں کی بے پناہ قربانیوں کا صلہ ہے۔اسی کتاب میں ایک ماں کی مسلسل جدوجہد کی کہانی آپ کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکے گی جو اپنی اوائل جوانی میں ہی اپنے بچوں کے ساتھ مل کر ایک طویل جنگ لڑنے کے لیے اکیلی رہ گئی تھی۔اب تک آپ نے سرکاری بابوز کی تحریروں کو پڑھا ہو گا، اب ’’دیہاتی بابُو‘‘ کو پڑھیں۔ ’’قرض چار پھولوں کا‘‘ پڑھ کر مجھے لگا میں اپنی کہانی پڑھ رہا ہوں اور یہ احساس گہرا ہوا کہ ہم دیہاتیوں کے دُکھ، سُکھ اور جدوجہد کی کہانیاں مائوں کی طرح سانجھی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتخلیق کا ہنر کسی کی عطا ہے۔ اس حوالے سے اسد طاہر خوش قسمت ہیں کہ انھیں یہ ہنر عطا ہوا، وہ مثبت سوچ کے حامل ہیں۔ اپنی مٹّی سے محبت اور وطنِ عزیز کے لیے کچھ کرنے کی دُھن۔ اسد طاہر ہمیشہ ہر اس قافلے میں شریک ہوجاتےہیں جس کا مقصد خیر، نیکی اور بھلائی ہو۔ یہ ہمارا اعزاز ہےکہ انھوں نے اخوت کی رفاقت کا بھی حق ادا کیا۔ اپنی سرکاری مصروفیات اور سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ اسد طاہر اپنی تحریروں کے ذریعے پاکستان کی مضبوطی و استحکام کے خواب دیکھتے ہیں۔ مختلف قومی و بین الاقوامی موضوعات پر ان کے مضامین انگریزی و اردو اخبارا ت میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ آپ روایتی سرکاری بابُو کی بجائے قائداعظم کے فرمان کے مطابق امانت اور دیانت کے ساتھ کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمہ وقت،شب و روز اور موسموں کے سرد و گرم سے بےنیاز۔ چند روز ہوئے ان کے مضامین پر مشتمل ان کی پہلی کتاب ’’دیہاتی بابُو‘‘ کا مسودہ پڑھنے کو ملا۔ جب بھی کبھی چند لمحے میسر آئے میں ان کا مسودہ کھول کے بیٹھ گیا اور جو مضمون پڑھنا شروع کیا اسے ختم کرکے دم لیا۔ حُسنِ نظر، حُسنِ فکر اور پھر دوراندیشی اور درد مندی۔ اس کتاب میں آپ کو بہت کچھ ملے گا۔ معیشت کے اسرار و رموز، معاشرتی رویوں کے نشیب و فراز، دیہات کی سادہ و خوبصورت زندگی، شہروں کی چمک دمک اور ایک خوبصورت سماج کا طلوع ہوتا ہوا افق۔ اسد طاہر کے پاس ہر رنگ کا ہنر موجود ہے۔ تحریر کی چاشنی اور قاری کو ہم سفر اور ہم نوا بنانے کا انوکھا فن۔ ان کی ہمہ صفت شخصیت سے ابھی بہت کچھ متوقع ہے۔ خیر، نیکی اور بھلائی۔ ایسی ہی پُر تاثیر باتیں جو دل میں گھر کر جائیں اور ایک نئی صبح کی نوید بن کر دل پر دستک دیتی رہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد امجد ثاقب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیہاتی بابُو پڑھ کر میں برسوں پیچھے چلا گیا ہوں، چشمِ تصور مجھے گاؤں میں لے گئی ہے۔ کیا زمانہ تھا، مینہ برستا تھا تو مٹی خوشبو دیتی تھی۔ یہ سہانی مہک سانسوں کے راستے جسموں میں اتر جاتی اور روحوں کو تازہ کردیتی تھی۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ دیہی سکولوں میں جانے والے بچے بیٹھنے کے لیے گھر سے محض بوری لے کر جاتے تھے۔ پرائمری سکول کے بعد مڈل اور ہائی سکول کے لیے بچوں کو میلوں چلنا پڑتا تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دور کے دیہاتی سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ پوری لگن سے پڑھاتے تھے، شاید اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اُس زمانے میں تعلیم تجارت نہیں بنی تھی، اساتذہ کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے شاگرد نامور ہوں۔ افسوس کہ آج کل اس خوبصورت جذبے کی جگہ دولت کی رغبت نے لے لی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں دیہی پس منظر کے حامل افراد کی عادات و اطوار اور رویے شہری لوگوں سے قدرے مختلف ہیں۔ دیہاتی بابُوؤں کے رویوں میں خالصتاً محبت بولتی ہے۔ اسد طاہر جپّہ کہنے کو بابُو ہیں مگر ان کے اندر ایک خدا ترس انسان چھپا ہوا ہے۔ وہ بڑے عہدوں پر رہ کر بھی مٹی کی محبت نہیں بھولے، ان کی تحریروں میں بھی دھرتی کی محبت بولتی ہے۔ ’’دیہاتی بابُو‘‘ کو جب آپ پڑھنا شروع کرتے ہیں تو دلچسپی بڑھتی جاتی ہے اور آخری صفحہ پڑھ لینے کے بعد آپ گہری سوچوں میں اتر جاتے ہیں اور سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمظہر برلاس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصاحبِ تحریر ہنرمند ہو تو تحریر کمال ہوجاتی ہے ورنہ محض زوال کی تصویر۔ ہمارے بڑے بھائی اور سینئر اسد طاہر جپہ نثر میں اثر پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ نثرپارہ رواروی میں لکھا جائے تو روانی ناپید اور محبت سے لکھا جائے تو مطالعیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مطالعیت کسی بھی نثرپارے کی رُوح سے کم نہیں۔ چاہے وہ ناول ہو یا افسانہ، کالم ہو یا خاکہ، مضمون ہو یا مکتوب، مطالعیت نہیں تو نثر پر نثار ہونے کو کچھ نہیں بچتا۔ اسد طاہر کے ہاں یہ عنصر جملوں میں گھلا ملا اور فقروں میں گندھا ہے۔ تاثیر انگیزی کی یہ صلاحیت خداداد ہے۔ کوشش نہیں عطا ہے، کاوش نہیں رضا ہے، خواہش نہیں دُعا ہے۔ عامیانہ تخلیقات کی اس تاریک رات میں روشنی بھری نثر کی سحر نمودار ہو تو آنکھیں خودبخود سکون پاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسد طاہر کا موضوع معیشت ہو یا مُعاشرہ، اُنھیں مُشت بھر لفظوں سے مشامِ جاں کو مہکانا آتا ہے۔ شُماریات کے حوالے سے اعداد پر لکھنے والا بندہ تعداد کا گورکھ دھندا پیش کرے اور قاری تب بھی پڑھتا چلا جائے تو تحسین تو بنتی ہے۔ تحصیلِ محصولات کے مصروف شعبے سے جُڑے سرکاری افسر ہوکر بھی اس قدر باقاعدگی سے نثر نگاری بھی بڑا کام ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ تحریریں ایسی ہیں کہ آپ انھیں ان کے سیاق و سباق کے علاوہ بھی پڑھیے تو لطف دیں گی۔ ان میں خشکی نام کو نہیں۔ تر و تازہ لہجے میں بات سے بات نکلتی ہے اور موجوں کی روانی کے مانند بہتی چلی جاتی ہے۔ کہیں کسی موڑ پر صاحبِ تحریر اصلاحِ معاشرہ کی تجویز بھی دینا چاہیں تو نصیحت کے طور پر نہیں، مشورے کے طور پر دیتے ہیں جو کہ اچھے نثر نگاروں کا خاصہ ہے۔ اس خاصیت کے لیے اسد طاہر خصوصی مبارک کے مستحق ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحالاتِ حاضرہ پر اُن کی نظر گہری ہے۔ تبھی تجزیے میں تجربے کی آمیزش کرکے پیش کرتے ہیں۔ صاحبِ مطالعہ شخص ہی اپنی عمیق اور وسیع سوچ سے ایسے گوہر پارے برآمد کرسکتا ہے۔ بات میں ذات کا عنصر نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔ اسد طاہر کے ہاں بات بنتی ہے اور خوب بنتی ہے۔مَیں اس کتاب کی اشاعت پر انھیں دِلی مبارک پیش کرتا ہوں اور دُعا گو ہوں کہ تخلیق کا جوہر اُن پر مہربان رہے اور وہ یونہی اپنی ذات کی تہہ میں چھپے تمام امکانات کو بروئے کار لاتے رہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرحمٰن فارس\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457573695673,"sku":"BC SSH","price":1475.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67740699663e51735657113_97f5d6fc-b557-4a56-9947-2cc59528e54f.jpg?v=1785836545"},{"product_id":"dhanak-ka-aathvan-rang-2nd-edition-دھنک-کا-آٹھواں-رنگ-دوسرا-ایڈیشن","title":"DHANAK KA AATHVAN RANG (2ND EDITION)  دھنک کا آٹھواں رنگ (دوسرا ایڈیشن)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457663578297,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63ccf60034ff41674376704.jpg?v=1785836890"},{"product_id":"dhanak-ka-aathvan-rang-book-marks-دھنک-کا-آٹھواں-رنگ-بک-مارکس","title":"DHANAK KA AATHVAN RANG (BOOK MARKS)  دھنک کا آٹھواں رنگ (بک مارکس)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457685336249,"sku":"BC SSH","price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63eca12ec41d81676452142.jpg?v=1785836980"},{"product_id":"dhanak-ka-aathvan-rang-premium-quality-دھنک-کا-آٹھواں-رنگ","title":"DHANAK KA AATHVAN RANG (PREMIUM QUALITY)  دھنک کا آٹھواں رنگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیرے لیے یہ بات انتہائی باعثِ مسرت ہے کہ میری بیٹی (لینہ حاشر) کے مضامین کا مجموعہ ’’دھنک کا آٹھواں رنگ‘‘ کے نام سےشائع ہو رہا ہے۔ لینہ کے قلم کو بڑی دردمندی عطا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک دلِ حسّاس سے نوازا ہے۔ محروم، مجبور اور مظلوم انسانوں کے لیے وہ ایک سُلگتی ہوئی ہمدردی ہے۔ اُس کی تحریروں میں افسردگی بھی ہے اور شگفتگی بھی.... نوحۂ غم بھی، نغمۂ شادی بھی۔ لیکن افسردگی کا پلّہ بھاری ہے۔ شگفتگی بھی بیشتر شدید طنز کا پیرایہ لیے ہوئے ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان مضامین کے دامن میں انسانی سفّاکی، بے حِسی اور بربریت سے لبریز ایسی سچّی کہانیاں بھی ہیں جو رُلا رُلا دیتی ہیں۔ وطن کی سیاسی اور سماجی اَبتری پر بھی وہ خون کے آنسو روتی ہے.... لینہ حاشر ساری انسانیت کی محبّت سے سرشار ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیری خدمت کا تو اُسے ہر دم خیال رہتا ہے۔ مجھ سے وہ اتنی محبّت رکھتی ہے جس کا اندازہ لگانا بھی میرے لیے دُشوار ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں اس کتاب کی اشاعت پر لینہ بیٹی کو اس دُعا کے ساتھ دِلی مبارک دیتا ہوں کہ .... اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور مسعود\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457697689785,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63aae56e648271672144238.jpg?v=1785837080"},{"product_id":"dhanak-ka-aathvan-rang-premium-quality-دھنک-کا-آٹھواں-رنگ-copy","title":"DILAM  دلم","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eفیس بک کے ذریعے میں خوبصورت دل کے مالک لکھاریوں سے متعارف ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی تحریروں میں جادو تھا، جنھیں پڑھ کرمیں حیران ہوا کہ یہ لوگ اب تک کہاں تھے۔ ان کی تحریریں اخبارات کے صفحات کی زینت کیوں نہ بن سکیں۔ ان خوبصورت لکھاریوں میں ایک نام زارا مظہر صاحبہ کا تھا۔ ان کی تحریروں سے مجھے ایک سلجھے، پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان سے تعارف ہوا۔ انھیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ اپنی تحریروں میں جس طرح انھوں نے مشکل سماجی مسائل کو چھیڑاہے اس کی ہمارے معاشرے کو سخت ضرورت تھی۔\u003cbr\u003eرؤف کلاسرا\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eزارامظہر نے سادہ بیانی اور ایجاز سے مجسّمے تراشے ہیں اور ان میں حقیقت کے وہ فطری رنگ بھرے ہیں جو سندر ہیں کہ فطرت اپنی اصل میں سندرتا کی زہرہ، سرخوشی کی وینس ہے۔ ان کے نثر پارے گویا پریم کتھا کی کڑیاں ہیں، محبّت اور ناسٹیلجیا ان کی تحریر کے خاص جواہر ہیں، اپنے ماضی، بچپن، لڑکپن سے محبت کبھی کبھار ایک ہوک میں بدل جاتی ہے۔ ان کی تحریروں کے ہرے ہرے تر و تازہ بُوٹے ناسٹیلجیا کی زمین سے سر نکالتے ہیں اور انسانوں، روایتوں، رشتوں، درختوں، اشیا سے محبت ان کی تحریر میں یوں رچی بسی ہے جیسے صندل کے جنگل میں مہک۔\u003cbr\u003eعرفان جاوید\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eزارا مظہر لکھنے کے لیے موضوع نہیں سوچتیں، موضوع ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں، یہ کسی ایک خوش نصیب کو چُن لیتی ہیں۔ جسے چُنا اس کے ساتھ انصاف کیا، جسے چھوڑ دیا اس میں کوئی مصلحت آڑے آئی ورنہ لکھنا جو شروع ہو جائیں تو قلم ان کا پھر اپنا دل کرنے پہ ہی رُکے گا۔ نئے لکھنے والوں پہ زارا مظہر کو پڑھنا فرض ہے، بالخصوص وہ بچے جو پوچھتے ہیں کہ لکھا کیسے جائے... لکھا ایسے جائے!\u003cbr\u003eحسنین جمال\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eزارا مظہر کا نام آتے ہی ذہن میں سلسلہ وار چولہا، چکی، چوکی، چرخہ، چراغ، قلم اور باغ کے درخشندہ عکس دائرہ در دائرہ گھومنے لگتے ہیں۔ ان کے موضوعات کا تنوع، علمی اور عملی جہات کی ہفت رنگ دُنیا پہلو بدل بدل کر جلوہ دکھانے لگتی ہے۔ افسانہ، نظم، مضامین، کتب کا جائزہ، نِت نئے پکوانوں کی تراکیب، غرض کیا نہیں ہے جو زارا مظہر کی زنبیل میں سر نیہوڑائے خوابیدہ نہیں ہے۔ ان کے قاری انھیں انگلی پر لپٹےکروشیے کے بل کھولتے ہوئے، ہاتھ میں ڈوئی تھامے دلکش برتنوں میں رنگا رنگ پکوان پیش کرتے اور ہاتھوں میں کُھرپی لیے زمین کی پیشانی کے بل ہموار کرتے دیکھ سکتے ہیں۔\u003cbr\u003eصدف مرزا\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457724297401,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/647ee846d81091686038598_e20295ab-ce43-4376-874a-4a8d3e0efe2b.jpg?v=1785837284"},{"product_id":"khayaalon-ki-art-gallery-خیالوں-کی-آرٹ-گیلری","title":"KHAYAALON KI ART GALLERY  خیالوں کی آرٹ گیلری","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eصنوبر ناظر کا شمار نئی نسل کی ان نمایاں خاتون لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اس شاندار روایت میں نمایاں ہوئی ہیں جسے کشور ناہید، زاہدہ حنا اور نورالہدیٰ شاہ نے اعتبار و وقار بخشا ہے۔ ناہموار استحصالی طبقاتی معاشروں میں قلم ظلم و جبر کے خلاف جد و جہد میں خلقِ خدا کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ ترجمانی صنوبر کی تحریروں میں جھلکتی ہے۔ صنوبر کی کہانیاں، کالم، آپ بیتیاں ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کی تصویریں ہیں، جنھیں صنوبر نے بڑی سہولت سے لکھا ہے۔ تکلیف دہ، الم انگیز، ناروا ... صنوبر کی تحریروں میں گاہے گاہے فریاد کی لَے تیز بھی ہوتی ہے اور لہجہ تلخ بھی ... انکار، احتجاج، تردید میں قلم دل کا ساتھ دیتا ہے کہ مصلحت اس کو راس نہیں آتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(افتخار عارف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآرٹ کی یا خالصتان کی تحریک پر صنوبر کا قلم روانی سے چلتا ہے، مذہب کی جنونیت اور غزہ، بلوچستان اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کی داستان لکھتے ہوئے صنوبر کے قلم میں خون بھر جاتا ہے۔ ـیہ تمام تحریریں پختگی کی عکاس ہیں، کبھی یہ موپاساں سے ہم کلام ہوتی ہیں تو کبھی مائیکل اینجلو سے۔ صنوبر کی مختلف موضوعات پر یہ تحریریں کچنار کی کلیوں کی طرح ہیں، انھیں پڑھتے ہوئے بہت سے ادیب یاد آئیں تو صنوبر کو مزید لکھتے رہنے کی دُعا دیجیے گا۔ ـ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ کہانی سننے کے شوقین ہیں، اگر آپ کو زبان و بیان کی دلکشی متاثر کرتی ہے، اگر آپ دوسروں کے غم پر دُکھی اور مسرت پر خوش ہو سکتے ہیں اور اگر آپ اپنے سماج، اپنے گرد و پیش کو خوب صورت بنانے کے خواب دیکھتے ہیں تو صنوبر کی کتاب آپ کی بہترین ساتھی ہو سکتی ہے۔ موضوعات کا تنوع، اسلوب کی شگفتگی، دردمندی اور اصلاحِ احوال کی تمنا صنوبر کی تحریر کے امتیازات ہیں۔ بظاہر ہلکی پھلکی یہ تحریریں گہرے معانی، مقاصد اور مضمرات سے پُر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نجیبہ عارف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسماج کی بے حسی ہو یا عورت اور بچیوں کے ساتھ اس پدرسری سماج کا رویہ! یا سیاست اور ریاست کی بدنمائی ہو، صنوبر کے انداز میں جذباتی نوحہ گری نہیں ہے۔ وہ اشک بہا کر کتھارسس نہیں کرتی، بلکہ وہ ہر داغ و زخم کی نشاندہی کرتی ہے۔ متوجہ کرتی ہے، سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ صنوبر کے مضامین پڑھتے ہوئے بارہا یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس کے اندر ایک اچھی افسانہ نگار بھی موجود ہے، جس کی انگلیاں سماج کی نبض پر رکھی ہیں۔ مجھے امید ہے صنوبر ناظر کی اگلی کتاب اس کے افسانوں کا مجموعہ ہوگی!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نور الہدیٰ شاہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457782001849,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66fcf4924817d1727853714.jpg?v=1785837418"},{"product_id":"qabar-ki-aaghosh-قبر-کی-آغوش","title":"QABAR KI AAGHOSH  قبر کی آغوش","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eراجہ انور غضب کا لکھاری ہے۔ اس کی تحریر میں بَلا کی رعنائی ہے اور ایسی گرفت کہ پڑھنے والا اس کے سحر سے نکل ہی نہیں سکتا۔ وہ نہایت عمدہ خاکہ نگار بھی ہے۔ کہیں کہیں وہ شگفتگی سے کام لیتا ہے تاکہ پُلِ چرخی کے تذکرے سے قاری کے اعصاب نہ چٹخنے لگیں اور کہیں اُس کی تحریر میں ایسا درد بھر جاتا ہے کہ قاری کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ___ عرفان صدیقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیسے راجہ انور کی زندگی کا رنگ ڈھنگ مختلف ہے اسی طرح اس کا ڈکشن بھی مختلف ہے۔ کریکٹرائزیشن ایسے غضب کی کہ جو ہمارے بڑے سے بڑے ڈراما رائٹرز کو بھی نصیب نہیں۔ اس کی تحریر سادگی اور برجستگی سے عبارت ہے ___ حسن نثار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی معروضیت ہے۔ راجہ انور نے انتہائی مہارت اور اختصار کے ساتھ اپنے ساتھی قیدیوں کے خاکے لکھے ہیں۔ اس کتاب کی مدد سے موجودہ افغانستان کے مسائل کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ شاید ہی کوئی کتاب ایسی جامعیت کا دعویٰ کر سکے ___ امجد اسلام امجد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی زبان اور اس کا طرزِ بیان آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی بڑے ادیب نے ہالی وُڈ کی فلم کا سکرپٹ لکھا ہو۔ اگر یہ کتاب انگریزی میں ترجمہ ہو کر کسی ہالی وُڈ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ہاتھ لگتی تو یہ بھی فرانسیسی ادیب ڈوما کے شاہکار ناول ’’دی کائونٹ آف مائونٹی کرسٹی‘‘ کی طرح پردۂ سکرین پر تہلکہ مچادیتی ___ رؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب عبرت سرائے دہر کی ایک تصویر ہے۔ اس میں آنسو بھی ہیں اور آہیں بھی۔ یہ کتاب ایسے جانکاہ اَلمیوں کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان محوِ حیرت ہونے لگتا ہے۔ ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ سے ’’قبر کی آغوش‘‘ تک راجہ انور کا سفر صلیبوں پر اپنی خواہشات قربان کرنے کی داستان ہے ___ ڈاکٹر امجد ثاقب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب کسی حد تک اُن کی آپ بیتی اور خود نوشت سوانح حیات ہے جس میں اُن کی دربدری اور افغانستان میں اسیری کے ماہ وسال کی غم انگیز تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ واقعات کی معجز نما رنگ آمیزی اور تلخ و شیریں حوادث کی تمام تر جزئیات کے ساتھ مؤثر تصویر کشی میں راجہ انور کی مہارت نے ’’قبر کی آغوش‘‘ کو ایک دلچسپ اور سچّے واقعات پر مبنی مؤثر ناول کے درجے پر پہنچا دیا ہے ___ ڈاکٹر معین نظامی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458033299641,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65af808b518911706000523.jpg?v=1785838640"},{"product_id":"black-white-بلیک-اینڈ-وائٹ","title":"BLACK \u0026 WHITE  بلیک اینڈ وائٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار کی تحریر اور اس کی گفتگو مجھے سعادت حسن منٹو کی یاد دلاتے ہیں۔ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتا تھا کہ حسن نثار اُردو صحافت کا سعادت حسن منٹو ہے، لیکن ایک تو یہ اندازِ بیان مبالغہ آمیز ہوتا، دوسرے انتہائی روایتی۔ اس صورت میں مجھے مبالغہ آمیزی پہ تو شاید نہیں، البتہ روایتی ہونے کی بنا پر منٹو کی رُوح اور حسن نثار دونوں سے شرمندہ ہونا پڑتا۔ منٹو کی طرح حسن نثار بھی معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو ملفوف اور ڈھکے چھپے انداز میں پیش کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہمارے مرض کا کوئی روایتی علاج ممکن نہیں اور ہمارے زخموں کو ایک سفاک سرجن کی ضرورت ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ان زخموں کا دوا اور بعض اوقات دُعا کے ذریعے علاج تجویز کرتے ہوئے دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔ حسن نثار دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو، جیسا بھی وہ ہے، سمجھے اور تسلیم کیے بغیر، اپنے دُکھوں اور مسائل کا کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکتے۔ ماضی کی تفہیم کا یہ سفر ہی اس کے نزدیک خود شناسی کا سفر ہے۔ جان جوکھوں کا یہ سفر کوئی معمولی یا آسان سفر نہیں۔ اس سفر کا مسافر جب حیرت افروز دریافتوں اور ناقابلِ یقین انکشافات سے مالا مال دامن لے کر واپس لوٹتا ہے تو وہ مصلحت، منافقت اور مداہنت کے ان رائج الوقت سکوں سے بے نیاز ہو چکا ہوتا ہے جو وہ ابتدائے سفر میں اپنی جیب میں ساتھ لے کر نکلا ہوتا ہے۔ حسن نثار کے کھردرے لفظ، دو ٹوک لہجہ اور بلند آہنگ اسلوب .... یہ سب ہمیں اس کے اسی سفر کی کہانی سناتے ہیں۔ حسن نثار کے دوسرے بے شمار ناقدین کی طرح مجھے بھی حسن نثار کی سوچ اور بعض خیالات سے اکثر اختلاف رہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ میں انھیں مکمل طور پہ نا درست سمجھتا ہوں، بلکہ اس لیے کہ یہ میرے دل کو نہیں بھاتے، یا یوں کہہ لیجیے کہ ان کی تائید میرے بس میں نہیں۔ حسن نثار کو سنتے اور پڑھتے ہوئے مجھے اکثر ایک خاص طرح کی جھنجھلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چنانچہ میں ان دونوں کاموں سے ممکنہ حد تک گُریز کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ حسن نثار ہی کیوں نہ ہو کہ جس سے میری رفاقت کی عمر پچاس برس سے زیادہ پر محیط ہے، میرے تصوّرات کے سکوں زار (Comfort Zone)میں مخل ہو ۔ہاں ایک آدھ بار ایسا ضرور ہوا کہ میرے دل نے چاہا کہ میں حسن نثار کو اس کے بعض خیالات پر سرِعام چیلنج کروں، محفل میں اس کی گفتگو کے دوران در آنے والے کمزور لمحوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کسی سوچی سمجھی دلیل کی مدد سے اسے چاروں شانے چت کردوں، لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ عین اس لمحے، میں خوف کا شکار ہوگیا اور میرا ارادہ ماند پڑ گیا۔ ایسے ہر موقعے پر میں نے دیکھا کہ حسن نثار تنہا نہ تھا۔ تاریخ اپنے ناقابلِ تردید حقائق سمیت اس کے ساتھ کھڑی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب بن عزیز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458109812921,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62767f8e227d81651933070.jpg?v=1785839060"},{"product_id":"adamkhor-nizam-ka-nauha-آدم-خور-نظام-کا-نوحہ","title":"ADAMKHOR NIZAM KA NAUHA  آدم خور نظام کا نوحہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار کو میں نے 1990ء کی دہائی میں پڑھنا شروع کیا جب انھوں نے ’’خبریں‘‘ میں کالم شروع کیا اور پھر پڑھتا ہی چلا گیا اور آج تک پڑھ رہا ہوں بلکہ اب تو سنتا ہوں اور دیکھتا بھی۔ ان کی تحریروں میں موجود نئے باغی نے مجھے متاثر کیا جو سب کے خلاف اکیلا تلوار تھام کر کھڑا ہوگیا تھا۔ حسن نثار نے جس طرح ہمارے معاشرے کی تاریخی، سماجی اور کلچرل منافقتوں کا بہادری سے پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ ایسا کام ہے جس کی مثال جدید اُردو صحافت اور کالم نگاری میں ملنا مشکل ہے۔ افسانہ نگاری میں جس طرح منٹو نے پورے معاشرے کو ننگا کیا وہی کام جدید اُردو کالم نگاری میں حسن نثار نے کیا ہے۔ حسن نثار نے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی۔ اگر انھوں نے کسی کے ساتھ رعایت کی کوشش بھی کی تو ان کے قلم نے ساتھ نہیں دیا اور وہی لکھا جو سچ تھا۔ وہ ہرگز نہیں گھبرائے کہ آپ یا میں ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم کیا رائے رکھتے ہیں۔ انھوں نے وہی لکھا اور بولا جو اُن کے خیال میں لکھا یا بولا جانا چاہیے تھا۔ آپ بے شک اعتراض کرتے رہیں انھیں کبھی پرواہ نہیں رہی۔ حسن نثار نے جس طرح پاکستانی تاریخ کو نئے سرے سے لکھا وہ ایک کمال ہے۔ پاکستانی معاشرے میں سچ لکھنا اور دھڑلے سے لکھنا کبھی آسان نہ تھا لیکن حسن نثار کو پڑھ اور سن کر لگتا ہے اتنا مشکل بھی نہ تھا۔ وہ ہرگز نہیں گھبرائے کہ ان کی تحریروں یا بولنے سے برسوں کی محنت سے مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں تراشے قدیم بُت ٹوٹ رہے تھے یا ہمارے ہیرو زیرو ہو رہے ہیں۔ لٹیروں کو ہیرو نہیں لکھا، لٹیرا ہی لکھا۔ کئی لڑائیاں لڑیں اور اب تک لڑ رہے ہیں لیکن میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں۔ کئی تنازعات میں گھرے لیکن کھڑے رہے۔ اس ڈر سے کمپرومائز نہیں کیا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ خبط عظمت میں مبتلا ماضی پرست قوم اور معاشرے کو اس کی اوقات یاد دلانے میں بھی کمی نہ چھوڑی کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ نہ حملہ آوروں کو تاج پہنائے نہ وہ کسی سے مرعوب ہوئے۔ ہاں جہاں جس کا کریڈٹ بنتا تھا اسے دینے میں بھی نہ گھبرائے۔ کون سا موضوع ہے جس پر وہ لکھیں اور کمال نہ کریں۔ فلم ہو،آرٹ ہو، تاریخ، مذہب، سیاست یا ہمسایہ ملکوں سے تعلقات یا عالمی سیاست اور سب سے بڑھ کر ناسٹیلجیا.... ماضی سے رومانس کو وہ ایک اور لیول تک لے گئے۔ جب وہ ہمیں اپنے شاندار ماضی میں لے کر جاتے ہیں تو آپ کا دل چاہتا ہے وہ اس سے کبھی نہ نکلیں اور آپ کے لیے شاہکار کہانیاں لکھتے رہیں۔ اپنے ماضی کی کہانیاں سناتے وقت وہ نہ صرف خود افسردہ ہوتے ہیں بلکہ آپ کو بھی اُداس کردیتے ہیں۔شہرت کی بلندی پر پہنچ کر بھی انھوں نے اپنا ماضی کبھی نہ چھپایا۔ جو زندگی میں محنت اور مشقت کی اسے اپنی کمزوری بنانے کی بجائے اپنی طاقت بنایا۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنھیں غصہ یا attitude اچھا لگتا ہو یا ان پر سجتا ہو۔ حسن نثار پر غصیلا یا جارحانہ انداز سُوٹ کرتا ہے۔ حسن نثار کو برسوں سے پڑھتے پڑھتے ایک دن مجھے اچانک احساس ہوا وہ پاکستانی میڈیا کے اس طرح کے ’’اینگری ینگ مین‘‘ ہیں جیسے کبھی امتیابھ بچن بھارتی فلموں کا اینگری ینگ مین تھا جس نے بھارتی سینما کو نئی بلندی عطا کی۔ حسن نثار بھی پاکستانی میڈیا کا وہ اینگری ینگ مین ہے جو نہ کسی سے ڈرا، نہ جھکا نہ ہی مرعوب ہوا۔ آپ حسن نثار کو پسند کریں یا نہ کریں، اسے اچھا سمجھیں یا بُرا لیکن یہ طے ہے آپ حسن نثار کو نظر انداز نہیں کرسکتے جس نے ہمیشہ طوفانی ہوائوں کے مخالف کھڑے ہونے کو ترجیح دی اور دریا کی تیز و تند لہروں کے مخالف تیرنے کو ترجیح دی۔ وہ ایک ایسا لیڈ فلمی کردار ہے جو برسوں سے ہٹ فلمیں دے رہا ہے۔ اس کے ٹی وی شوز کی ریٹنگز ہے۔ اسے دیکھا جاتا ہے۔ سنا جاتا ہے۔ اس کی بڑی فین فالونگ ہے۔ آج بھی ہر بڑا ٹی وی چینل اسے اپنی سکرین پر دکھانے اور منہ مانگے پیسے دینے کے لیے تیار بلکہ بے چین ہے۔ آج برسوں بعد بھی میرے جیسے قارئین اس کی تحریروں کا انتظار کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458379886777,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62c1a612a2b6a1656858130.jpg?v=1785840040"},{"product_id":"pothohar-khitta-e-dil-rubaa-2nd-edition-پوٹھوہار-خطۂ-دل-ربا","title":"POTHOHAR: KHITTA-E-DIL-RUBAA (2ND EDITION)  پوٹھوہار : خطۂ دل ربا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپوٹھوہار قدیم تاریخ کے دامن میں ایک ایسا جھلملاتا خطہ ہے جس کی چمک دمک کو زمانے کا اُلٹ پھیر بھی کم نہ کر سکا۔ یہ اونچے نیچے ٹیلوں، سرسبز کھیتوں، شاداب درختوں اور آزاد ہواؤں کا دل رُبا خطہ ہے جہاں ہر موڑ پر تاریخ کے نیلم ومرجان بکھرے ہوئے ہیں۔ میں پوٹھوہار کی انھی سحر انگیز ہواؤں میں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے حُسن کا اسیر ہو گیا۔ یہ کتاب محض تحریروں کا مجموعہ نہیں بلکہ راولپنڈی اور پوٹھوہار سے میرے عشق اور جنون کا احوال ہے۔ یہ ان گلی، کوچوں، عمارتوں، قلعوں، حویلیوں اور دل بروں کی کہانیاں ہیں جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔ یہ راولپنڈی اور پوٹھوہار کے ان سربستہ گوشوں کا احوال ہے جن کے طلسم نے مجھے اپنا اسیر بنا لیا اور جنھیں دیکھنے کا تجسس ایک بے انت تلاش میں بدل گیا۔ یہ تاریخ کی کتاب نہیں، ان منظروں کا بیان ہے جنھیں میری آنکھوں نے دیکھا اور جن کا لمس میری روح نے محسوس کیا۔ کہتے ہیں حیرت کا یہ سفر ہے کہ ختم ہی ہونے میں نہیں آتا۔ کتنے ہی اَن دیکھے، اَن چھوئے مقام اپنی بانہیں پھیلائے مجھے اپنی طرف بلا رہے ہیں اور مجھے ان کی پکار پر جانا ہے۔ مجھے پوٹھوہار کے آسمانوں میں بکھرے خوش نما رنگوں کو کشید کرنا ہے۔ ان فضاؤں میں پھیلے طلسمات کو دل و جاں میں اتارنا ہے۔ اس مٹی کے ذروں میں بکھرے تاریخ کے لعل و مرجان کو سمیٹنا ہے۔ یہ پوٹھوہار کی مٹی کا مجھ پر قرض ہے جس کی سحر انگیز فضاؤں نے مجھے پروان چڑھایا اور جس کی مہکتی مٹی میں مجھے ہمیشہ کے لیے سو جانا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد صدیقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458509058233,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65e17667b710f1709274727.jpg?v=1785841461"},{"product_id":"niralay-log-nirali-kahaniyan-نرالے-لوگ-نرالی-کہانیاں","title":"NIRALAY LOG NIRALI KAHANIYAN  نرالے لوگ نرالی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب میں برسوں سے لکھنا چاہ رہا تھا۔ بڑے لوگوں کی کہانیاں سب لکھتے ہیں لیکن مجھے عام لوگوں کی کہانیاں لکھنے اور سننے کا شوق ہے۔ میں نے سندھی اداکار گلاب چانڈیو اور بھارتی اداکار شکتی کپور سے سیکھا تھا کہ آپ جتنے مرضی مشہور ہو جائیں تو بھی آپ نے عام انسان کو کیسے عزت دینی ہے۔ ایک بار چڑیا گھر میں ہاتھی کے مہاوت نے مجھے بےوقوف اور بہادر کے فرق کو ایک سکینڈ میں سمجھا دیا تھا۔ ملتان کے اس ہیڈ ماسٹر کی کہانی بھی آپ کے دلوں کو گرمائے گی جو سکول میں صرف قابل اور ذہین بچوں کو پڑھانا چاہتا تھا اور ایک دن میرا اُس سے ٹاکرا ہوگیا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم جیسے آنرایبل انسان کی کہانی جو اڈیالہ جیل میں قید ایک مظلوم اجنبی نوجوان کی ضمانت کے لیے اپنی بیٹی کو ضامن کے طور پر راولپنڈی کی عدالت میں لے گیا تھا جس کی پورے شہر میں ضمانت دینے کو کوئی تیا رنہ تھا۔ ایک سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی ڈائری سے چرائے چند اوراق پڑھ کر آپ دہل جائیں گے۔ اس ڈائری میں ایک کہانی سابق وزیراعلیٰ پنجاب نواب صادق قریشی کی ہے کہ کیسے انھوں نے 1970ء کی دہائی میں ڈپٹی کمشنر ملتان کے ان کو کیے گئے انکار کا بدلہ لیا تھا، وہ آپ کو ششدر کر دے گا۔ ایک طاقتور سیاسی حکمران اور مزاحمت پر اترے بیوروکریٹ کی اَنا کی جنگ کا انجام آپ کو یقیناً پسند آئے گا۔ 1979ء میں بھٹو صاحب کی پھانسی سے قبل آخری خواہش بھی آپ کو زندگی کا نیا رخ دکھائے گی۔ پھانسی کے چودہ برس بعد اس آخری خواہش کا میری اپنی زندگی سے ایک گہرا تعلق نکل آیا تھا۔ رومی کی پارسائی اور شمس تبریز اور طوائف کی کہانی آپ کے بدن میں سنسنی پیدا کردے گی۔ اور بلوچستان کی پانچ لڑکیوں کی دردناک کہانی پڑھ کر آپ کیسے سو سکیں گے جنھیں صحرا میں زندہ درگور کر دیا گیا۔ ان پانچ معصوموں کی کہانی لکھنا سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ کالو قصائی کی سچی کہانی بھی آپ کو یقین دلائے گی کہ انسانی کردار اور عزتِ نفس کا غربت یا امارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے گائوں کا کالو قصائی وہ کردار تھا جس سے میں آج تک متاثر ہوں۔ بات متاثر ہونے کی نکلی ہے تو پھر آپ اس کتاب کے سرورق کی کہانی پڑھ کر اپنے آنسو روک سکیں یا احتراماً کھڑے نہ ہوں، تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ مظلوم باپ کی چار بچیوں کے لیے دی گئی قربانی آپ کو انسانی کردار کی عظمت کا قائل کر دے گی۔ بعض دفعہ درندوں کی بستی میں انسان بھی مل جاتے ہیں۔ اس کتاب میں کئی ہیروز اور ولن قید ہیں جو آپ کو اپنی اپنی کہانیاں سنانے کو بے چین ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458541629625,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/679f9409daf451738511369.jpg?v=1785842067"},{"product_id":"junagadh-ka-qazi-deccan-ka-molvi-جوناگڑھ-کا-قاضی-دکن-کا-مولوی","title":"JUNAGADH KA QAZI, DECCAN KA MOLVI  جوناگڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں غیر معمولی لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہر نئے باب میں ایک نئی کتاب چُھپی ہے۔ نہرو اور جوش صاحب کی شام کی محفلوں کا احوال جب ہندوستان کا وزیراعظم جوش کے لیے شراب تک کا بندوبست خود کرتا تھا۔ سلطان محمد خوارزم کے حیران کن بلکہ احمقانہ فیصلے نے نہ صرف پوری سلطنت تباہ کرا دی بلکہ سلطان کی ماں سمیت پورے شاہی خاندان کی خوبصورت لڑکیاں منگول اُٹھا کر لے گئے۔ خوارزم شاہی خاندان کے نوجوان لڑ کے قتل کر دیے گئے۔ سلطان کی ماں اور خوبصورت پوتیوں اور نواسیوں کا منگولوں کے ہاتھوں درد ناک انجام آپ کو رُلا دے گا کہ کیسے راتوں رات تقدیر آپ کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ سلطنتوں کے عروج و زوال اور ان بادشاہوں کی کہانیاں جو اپنے عروج کے وقت خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے جبکہ زوال قلعے کی فصیلیں پھلانگ کر اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کتاب کو لکھتے وقت کئی جگہوں پر میرے اپنے آنسو بہہ نکلے۔ رونگٹے کھڑے ہوئے۔ بدن میں سنسنی پھیلی۔ چِین کے بےرحم صحرا سے اٹھنے والے وہ منگول جنھوں نے ثمرقند سے بغداد تک مسلمان سلطنتیں تباہ کر کے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔ ہندوستان، سینٹرل ایشیا، قدیم یورپ، بغداد اور انگریزوں کی سلطنت تک کے انسانی المیہ کی دردناک کہانیاں۔ دلی کے تین سو سالہ اقتدار میں 33 مسلمان بادشاہ جن میں سے صرف تین بادشاہ نیک نکلے۔ دکن کا مولوی اور جونا گڑھا کا قاضی وہ دو کردار ہیں جو اپنی ریاستیں چھوڑ کر پاکستان پہنچے تو ان پر کیا گزری۔ اس کتاب کے ان پچاس ابواب میں درجنوں کتابیں چُھپی ہیں جو آپ کو کہیں رلائیں گی تو کہیں ہنسائیں گی۔ وبا کے دنوں میں محبّت کی داستان کئی روز تک آپ کا دل گرماتی رہے گی۔ ایک مظلوم شاعر کی داستانِ عبرت جسے آخری مغل بادشاہ کا کردار ادا کرنا تھا۔ بادشاہت سے زیادہ ابراہیم ذوقؔ اور اسداللہ غالبؔ کی کمپنی کا شوق تھا۔ اس بدنصیب بادشاہ کا نیا قصّہ جسے دفن ہونے کے لیے کُوئے یار میں دو گز زمین بھی نہ ملی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458544152761,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65b24f598bd1b1706184537.jpg?v=1785842166"},{"product_id":"shah-jamal-ka-mujawir-شاہ-جمال-کا-مجاور","title":"SHAH JAMAL KA MUJAWIR  شاہ جمال کا مجاور","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبچپن سے ہی ہم سب شاہ جمال دربار اور وہاں موجود ایک مجاور کو دیکھتے دیکھتے بڑے ہوئے۔ اس بستی کے قریب بزرگوں کے دو ہی دربار تھے۔ ایک شاہ جمال اور دوسرا مالدے شہید کا دربار۔ دونوں کی الگ الگ کہانیاں، الگ الگ کرامات کے قصے۔ ان بزرگوں کا سایہ دریائے سندھ اور تھل صحرا کے درمیان واقع اس چھوٹے سے گائوں کے مکینوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ اس گائوں کے باسیوں کی خوشی اور غم ان بزرگوں کے دربار سے جڑے ہوئے تھے۔ ان دونوں دربار کے ساتھ کئی کہانیاں جڑی ہوئی تھیں ۔ کئی دھاگے، کئی اُمیدیں ، منتیں ترلے، ناکام عاشقوں کی محبتوں کے سلسلے بندھے ہوئے تھے ۔ شاہ جمال دربار کے اس مجاور کی یہ کہانی سچّی ہے۔ اس کہانی کا میں خود عینی شاہد ہوں ۔ اس مجاور کے غیرمعمولی کردار پر پورا ناول لکھا جاسکتا تھا۔ یہ کہانی ہمیشہ سے میرے ذہن میں تھی ۔ اب برسوں بعد جب میں نے بزرگ شاہ جمال کے اس مجاور پر لکھنے کا فیصلہ کیا تو میرا خیال تھا وہ بہت بوڑھا یا پھر شاید وفات پا چکا ہوگا۔ لیکن پتہ چلا وہ بوڑھا مجاور ابھی بھی اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ تھا ۔ میں حیرت اور خوشی سے اُچھل پڑا ۔ میرا اس مجاور سے برسوں بعد رابطہ ہوا اور میں نے اس کی زبانی پوری کہانی سنی ۔ ایک ایسا کردار جسے بزرگ شاہ جمال نے اس کے خواب میں آ کر خود اپنا مجاور مقرر کیا تھا ۔ برسوں تک سب کچھ ٹھیک چلتا رہا لیکن پھر ایک دن نئی ٹریجڈی نے جنم لیا، جب اس گائوں میں مجاور کو ہٹا کر اس کی جگہ نیا مجاور لانے کی سازش تیار کی گئی ۔گائوں کے چند کرداروں کو لگا مجاور بہت طاقتور ہوگیا تھا۔ اس کی طاقت کو توڑنا ضروری ہوگیا تھا۔ دربار کی کمائی پر سب کی آنکھیں لگ گئی تھیں ۔ مجاور کو بھی محسوس ہوا، بزرگ شاہ جمال اور اس کے درمیان برسوں سے قائم تعلق کا امتحان شروع ہوچکا ہے۔ دونوں کا بہت کچھ دائو پر لگ چکا تھا۔ جہاں گائوں کی تاریک گلیوں میں اس مجاور کے اُبھرتے اثر و رُسوخ کے خلاف ایک خاموش سازش جنم لے رہی تھی وہیں شاہ جمال اور مجاور کے درمیان پیدا ہونے والی کشمکش بھی ایک نیا موڑ لے رہی تھی ۔ ایک تنہا، مایوس اور سازشوں میں گھرا مجاور اپنے بزرگ شاہ جمال سے بھی شاکی ہوچلا تھا۔ ایک دل برداشتہ مجاور کو ان سازشوں کے درمیان یوں لگا جب اسے شاہ جمال کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدریائے سندھ اور تھل صحرا کے درمیان واقع ایک دُور دراز گائوں میں برسوں پہلے جنم لینے والی اس غیر معمولی کہانی کا مرکزی کردار ایک مجاور ہے جس کے بزرگ شاہ جمال کے ساتھ روحانی تعلق اور محبّت کے امتحان کی یہ غیرمعمولی داستان آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458548379833,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/603f4226d4b651614758438.jpg?v=1785842324"},{"product_id":"aik-qatal-jo-na-ho-saka-ایک-قتل-جو-نہ-ہو-سکا","title":"AIK QATAL JO NA HO SAKA  ایک قتل جو نہ ہو سکا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ میری زندگی کی پہلی کتاب تھی جو میں نے ایک رات میں مکمل کی۔ ‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب سڈل (ڈی جی انٹیلیجنس بیورو)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعجب کتاب ہے۔ ایک جہانِ حیرت میں آپ گُم ہو جاتے ہیں اور آخری پیرا پڑھ چکتے ہیں تو حیرت باقی رہتی ہے۔ یقین آتا ہے کہ حقیقت افسانےسے بہت زیادہ دلچسپ ہوتی ہے۔ چھ ماہ قبل جب اس نے داستان سنائی کہ وہ اسے ایک ناول میں ڈھالے گا تو میں نے سوچا کہ اسے روکنے کی کوشش کروں۔ آخر سات سو خفیہ دستاویزات کو کہانی میں وہ کیسے پرو سکے گا۔ کتاب چھپ کر آئی تو دو راتوں میں پڑھ ڈالی۔ یہ ایک چھوٹی سی خبر سے جنم لینے والی داستان ہے، جس کی روشنی میں آپ اس سماج کے خدوخال دیکھتے ہیں، آئے دن جو ایک نئے بحران سے دو چار ہوتا ہے۔ ستمبر2009ء کو ایک معروف اخبار نویس نے خبر دی کہ صدر زرداری، گورنر سلمان تاثیر اور وزیرِ قانون بابر اعوان نے پنجاب کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لاہور کے گورنر ہائوس میں سیل قائم ہے اور بارہ بدنام مجرموں سے ان کا رابطہ ہے۔ طوفان اٹھا۔ انکشاف یہ تھا کہ 27اگست کو جسٹس خواجہ شریف اندرونِ لاہور اپنے آبائی گھر پہ میلاد شریف میں قتل کر ڈالے جائیں گے۔ رؤف کلاسرا کی اس کتاب ’’ایک قتل جوہو نہ سکا‘‘ میں اور بھی انکشافات ہیں۔ مثلاً اندرونِ لاہور کا قبضہ مافیا، کرائے کے قاتل، اغوا برائے تاوان اور ان جرائم پیشہ گروہوں کی تفصیل بھی۔ جس انہماک اور سلیقہ مندی سے رؤف کلاسرا نے یہ کتاب لکھی ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک ایسا سنسنی خیز پلاٹ سامنے آتا ہے جو شہرۂ آفاق ناولسٹوں جیسے جیفری آرچر کی تھرلر کہانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ جائے۔ اس کہانی میںآپ کو ماریو پزو کے عظیم ناول ’’گاڈ فادر‘‘ پر مبنی فلم کی آمیزش بھی نظر آئے گی کہ کیسے پولیس والے قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر پیسے بناتے ہیں۔ سیاست دانوں، جرائم پیشہ افراد اور انتظامیہ میں کس طرح کا گٹھ جوڑ ہے۔ اس میں جیمز بانڈ کی پھرتیوں سے لے کر ایجنسیوں کی Mr. Bean جیسی نالائقیاں بھی نظر آئیں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر متین\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458558636217,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6278ea785f96f1652091512.jpg?v=1785842449"},{"product_id":"gumnaam-gaon-ka-akhri-mazar-5th-edition-گمنام-گاؤں-کا-آخری-مزار","title":"GUMNAAM GAON KA AKHRI MAZAR (5TH EDITION)  گمنام گاؤں کا آخری مزار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجواہر لعل نہرو نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ اپنے بارے میں لکھنا دُنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ آپ اپنی تعریف کرتے ہیں تو لوگوں کا دِل دُکھتا ہے اور اگر آپ اپنی تعریف نہیں کرتے تو آپ کا اپنا دل دُکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں بھی اس وقت اسی کشمکش کا شکار ہوں۔ میں اپنی تعریف تو ہرگز نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اپنی کچھ تحریروں پر بات ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں ہر ادیب کو اپنی تمام تحریریں اپنے سبھی بچوں کی طرح اچھی لگتی ہیں۔ جیسے آپ بچوں میں کوئی فرق نہیں کر سکتے کہ کون زیادہ پسند ہے، ایسے ہی آپ کو اپنی تحریروں کے بارے میں لگتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپ یقیناً سوچیں گے کہ ان تحریروں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ آپ جیب سے پیسے خرچ کر کے خریدیں اور پڑھیں۔ یہ تو عام لوگوں کی کہانیاں ہیں، ان میں ایسا کیا خاص ہو گا؟ اس کتاب کو پڑھنے کی یہی تو بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کی کہانیاں ہیں جن سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور یہی عام لوگ ہی آپ کو خاص لگیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں اس معاشرے کے کُچلے ہوئے گُمنام سے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یقین جانیے یہ سب سچّی ہیں۔ میرے لیے بڑا آسان تھا میں بڑے لوگوں کی کہانیاں آپ کو سُناتا جو سب لوگ خوشی سے سنتے کیونکہ ہم سب بڑے لوگ بننا چاہتے ہیں اور مجھ سے شاید کچھ متاثر بھی ہوتے۔ ہم وہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جو امیر اور بڑے لوگ گزارتے ہیں۔ ان کا لائف اسٹائل ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے دُنیا بھر میں بڑے لوگوں کی آٹوبائیوگرافیز زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ لوگ پڑھتے ہیں کہ وہ بڑا آدمی کیسے بنا کہ شاید ان کتابوں میں کوئی ایسا نسخہ کیمیا مل جائے کہ وہ بھی اس کی طرح بڑے لوگ بن جائیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہو سکتا ہے بعض لوگ اسے انسپائریشن کا نام دیں کہ کامیاب لوگوں کو پڑھ کر آپ کے اندر بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ آسمان کو چُھو سکتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ لیکن یہ طے ہے کہ کسی دوسرے انسان کی زندگی کے طریقے استعمال کر کے آپ اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب آپ نے اپنے ہی فارمولے سے ہونا ہے۔ لیکن وہی بات کہ کامیاب لوگوں کی باتیں پڑھ کر آپ کو اچھا لگتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن اس کتاب میں کسی بڑے آدمی کی کوئی کہانی نہیں ہے۔ اس میں کسی وزیرِ اعظم، وزیر، سفیر یا سرکاری بابوؤں یا ارب پتیوں سے دوستیوں یا ان سے میل ملاپ کی کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ عام سے لاچار اور بے بس انسانوں کی داستانیں ہیں۔ اس لیے اس کتاب کا ہیرو میرے گاؤں کا کمہار چاچا میرو ہے جس کی کہانی لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں کئی دفعہ آنسو آئے اور کافی دیر تک کچھ نہ لکھا گیا، حتیٰ کہ مجھے اپنا قلم چھوڑنا پڑا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیہ کی حسینہ بی بی ہو، ڈرائیور الطاف ہو، یا پھر سکول ماسٹر اسلم کی بیٹی کا المیہ۔ ان معصوم لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ ادیب بھی کسی ٹریجڈی سے اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا اسے عام پڑھنے والا۔ میرا خیال تھا ادیب بے حِس ہوتے ہوں گے، سخت دِل، وہ خود نہیں روتے، وہ دوسروںکو رُلاتے ہیں۔ لیکن جب میں نے خود لکھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا اگر آپ خود حسّاس انسان نہیں ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان ہیں اور نہ ہی اچھے لکھاری۔ اگر آپ اپنی کسی تحریر کو لکھتے وقت نہیں روئے تو آپ کا قاری کیسے روئے گا۔ جب تک آپ دوسروں کے دُکھوں پر وہی تکلیف یا درد محسوس نہیں کرتے جو آپ اپنے کسی قریبی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں تو پھر آپ نہ اچھے انسان بن سکتے ہیں نہ ہی ادیب۔ ادیب اور لکھاری تو بنتے ہی وہ لوگ ہیں جو بہت حسّاس ہوتے ہیں۔ وہی اچھے انسان اور ادیب بن سکتے ہیں جو دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپ کا کیا خیال ہے آپ میرے گاؤں کے چاچا خدا بخش قصائی کے دُکھوں پر افسردہ نہیں ہوں گے؟ بوڑھے میاں بیوی جن کا جوان بیٹا کچھ دن پہلے فوت ہو چکا ہے، میں ان کے گھر تعزیت کے لیے جاتا ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر اپنے جوان بیٹے کی موت کو بھول جاتے ہیں اور وہ مجھ سے اپنا نیا دُکھ شیئر کرتے ہیں۔ اب ان کی بیوہ بہو اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو لے کر وہ گھر چھوڑنا چاہتی ہے۔ بوڑھے میاں بیوی میری منتیں کر رہے ہیں کہ میں انہیں روک لوں۔ وہ اپنے مرحوم بیٹے کی نشانیاں اپنے سامنے رکھ کر زندگی کے باقی دن گزارنا چاہتے ہیں۔ گیبرئل گارشیا مارکیز جیسا ادیب ہوتا تو اس انسانی المیے پر عظیم ناول لکھتا۔ یا پھر ملتان کے ذوالکفل بخاری کی کہانی جو سعودی عرب میں ایک حادثے میں فوت اور وہیں دفن ہوا۔ اس بوڑھے باپ کی داستان جسے ایک دن یتیم پوتوں نے کہا، وہ باپ کی قبر پر مکہ مکرمہ جانا چاہتے ہیں۔ جب بوڑھا دادا اور دو چھوٹے پوتے قبر ڈھونڈنے پاکستان سے جاتے ہیں تو وہاں صرف دو پتھر رکھے ملتے ہیں۔ کوئی اشارہ کرتا ہے یہ رہا تمہارا باپ اور بیٹا۔ اس دُکھ کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟ بوڑھا باپ پاکستان سے سعودی عرب پوتوں کے ساتھ مرحوم بیٹے کی قبر کی تلاش میں گیا ہے اور وہاں صرف دو پتھر رکھے دیکھے...!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eملتان کے چار درویش ایسے درویش تھے کہ جن کی محفلوں نے مجھے محبّت کی نئی منزلوں سے آشنا کرایا۔ باقر شاہ کا اپنے بچوں کو کہنا کہ میرا دل چاہتا ہے رؤف کو بھی اپنے بچوں کی طرح جائیداد میں حصہ دوں یا چودھری نیاز جیسا عظیم اور درویش انسان جو رات کو عشا کی نماز سے گھر واپسی پر اپنے بیٹے کی گاڑی میں سے ٹیپ چوری کرتے چور کو اندر سے پیچ کَس لا دے کہ اس سے کھول لو بیٹا۔ چور ڈر جائے تو اسے تسلّی دے اور کہے، کوئی بات نہیں آپ کو اس کی ضرورت ہو گی۔ چودھری نیاز جیسی معصومانہ مسکراہٹ میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ یا اس سولہ سالہ بیٹی کی کہانی جب اچانک اسے پتا چلا کہ اس کا باپ تو مافیا کے لیے لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ ہمارے ہاں ایسے بچے کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ یہ کہانی بھی آپ کو ہلا کر رکھ دے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eادارہ ’’بک کارنر‘‘ جہلم کے مالک شاہد حمید صاحب اس کتاب کا مسودہ پڑھ رہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے کسی موقع پر رُک کر انہوں نے اپنے بیٹے گگن شاہد کو میرا کہا کہ انہیں کہیے گا، ”اس کتاب میں نعیم بھائی کے بارے پڑھ کر وہ ان کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں۔“ ہمارا نعیم بھائی تھا ہی ایسا، جو اُن سے ملا اُن سے محبّت کیے بغیر نہ رہ سکا، پھر بھلا شاہد حمید کیسے اس کے طلسم سے بچ پاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو تحریر لکھتے ہوئے میں سارا وقت آنسوؤں سے بھیگا رہا وہ The Kite Runner ہے۔ یا پھر 1970ء کی دہائی کے ہندوستان کے ایک ڈپٹی کمشنر کی بیوی کی کہانی جو آپ کا ایمان تازہ کر دے گی، جس نے اپنے خاوند کو کہا تھا کہ تم ہندوستان کی طاقتور ترین وزیراعظم اندرا گاندھی سے مت ڈرنا اور وہی کرنا جو انصاف کہتا ہے، چاہے وہ تم پر آسمان ہی کیوں نہ گرا دے۔ آپ یہ کہانی پڑھ کر حیران ہوں گے کہ کیا دُنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے؟ یا پھر جنگِ عظیم دوم میں جرمنی میں جنم لینے والے ایک انسانی المیہ کی کہانی جب ایک خاتون گارڈ اس جرم کی عمر قید بھگتنے پر تیار ہوجاتی ہے جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن وہ راز ججوں کو نہیں بتا سکتی جو اسے رہائی دلا سکتے تھے۔ اسے اپنی عزتِ نفس اور جیل میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور اس نے جیل کا انتخاب کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے میانوالی کے بوڑھے دوست ڈاکٹر شیر افگن کے وہ لفظ برسوں بعد بھی دِل پر تِیر بن کر چُبھے ہوئے ہیں، جب انہیں بتایا گیا کہ وہ اب چند دنوں کے مہمان ہیں تو انہوں نے کہا، ”میرے پیارے پھر مجھے میرے گھر لے چلو، میں اپنے دوستوں کے درمیان مرنا چاہتا ہوں۔“ یا ملتان کا وہ نیک جیلر جس نے درجنوں بھارتی قیدیوں کو قتل ہونے سے بچا لیا تھا اور اگر اس رات وہ بھارتی قیدی ملتان کی جیل میں مارے جاتے تو شاید نوے ہزار پاکستانی فوجی جو اکہتر کی جنگ کے بعد بھارتی قید میں تھے، ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتیں۔ ایک گمنام ہیرو کی کہانی آپ کو رُلا دے گی کہ کیسے بھارتی قیدیوں کی جانیں بچانے کے لیے جیلر تنی ہوئی بندوقوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیصل آباد کے ضیاء کی کہانی بھی آپ کو کافی دیر تک افسردہ رکھے گی۔ ایک ایسے باپ کی داستانِ غم جو مجھے اس وقت ملا جب اس کی زندگی کی سانسیں ٹوٹ رہی تھیں اور وہ جینے کا سہارا ڈھونڈ رہا تھا۔ جب اسے سہارا ملا، تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ ملتانی کینٹین بوائے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے جو کبھی کبھار مجھے رات کو بے چین کر کے بستر سے اُٹھا کر بٹھا دیتی ہے۔ یا پھر آپ میرے عزیز طارق چودھری کا پہاڑ جیسا غم کیسے بھلا پائیں گے جسے ایک اور دریا کا سامنا تھا۔ لورالائی بلوچستان کے ایک ہندو گھرانے کی دُکھی داستان بھی انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ انسانی بربریت سے نفرت کرے اور انسان کے اندر چھپی انسانیت سے محبّت کرے۔ آپ کو بلوچستان کے سُرخ، چٹیل اور بے رحم پہاڑوں میں جنم لینے والی اس دُکھ بھری کہانی میں جہاں خونخوار بھیڑیے ملیں گے وہیں محبت بھرے کردار بھی۔ اگر ایک لمحے آپ کا انسانیت سے اعتبار اُٹھے گا تو دوسرے لمحے آپ انسانیت سے پیار کرنے لگ جائیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں سب عام کہانیاں ہیں۔ آپ اگر بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں ہے۔ اس کتاب میں، مَیں نے عام انسانوں کے دُکھوں اور غموں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے ہیرو عام لوگ ہیں، وہی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے خود اپنے ماں باپ کو ایک دُور دراز گاؤں میں اسی طرح مشکلات اور دُکھوں میں گھرے دیکھا۔ انہیں ساری عمر جدوجہد اور محنت کرتے دیکھا، انہیں مسلسل آزمائشوں کا شکار دیکھا، اس لیے شروع سے ہی میرے ہیرو وہی لوگ تھے۔ میں کسی بڑے آدمی سے متاثر نہ ہو سکا یا یوں کہہ لیں کہ ذِلتوں کے مارے لوگ ہی میری انسپائریشن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب میں نے گاؤں کے ایک کمہار چاچا میرو کے نام کیا ہے جس پر لکھی گئی ایک طویل کہانی آپ کو کئی دن چین سے نہیں سونے دے گی۔ یہ کہانی میری زندگی میں اتنی اہم ہے کہ اسی پہ کتاب کا نام رکھ دیا ہے۔ اس کتاب میں شامل ہر کہانی سچی ہے، یہ انسانی المیوں، دُکھوں اور غموں کی ایسی داستانیں ہیں جو ضرور آپ کے دل کو گداز کر دیں گی اور ہو سکتا ہے کہ کئی بار آپ کی آنکھیں بھی بھیگ جائیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے برسوں پہلے کتابیں لکھنا چھوڑ دی تھیں۔ صحافت ہی میرا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ شاید آخری کتاب نو سال پہلے 2011ء میں لکھی تھی۔ اب اتنے برس بعد میں ”بک کارنر جہلم“ والوں کے ہاتھ لگ گیا۔ میں بک کارنر کی چھپی کتابیں تو 2012ء سے پڑھ رہا ہوں جب کہ شاہد حمید صاحب اور ان کے صاحبزادوں سے ملاقات 2018ء میں ہوئی تھی۔ باپ اور بیٹے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سے دُور ایک شہر جہلم میں بیٹھ کر جس طرح کی اعلیٰ اور معیاری کتابیں شائع کر رہے ہیں اس پر مجھے چھوڑیں شکیل عادل زادہ جیسا مسٹر پرفیکٹ بھی داد دیے بغیر نہیں رہ سکا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان دونوں بھائیوں گگن شاہد اور امر شاہد نے میرے اندر کے سوئے ہوئے لکھاری کو دوبارہ جگا دیا ہے اور بڑی محبّت اور لاڈ کے ساتھ جگایا ہے۔ گگن شاہد کی ایک بات اندر تک اثر کر گئی کہ کتابیں چھاپنا پہلے ہمارا شوق ہے، عشق ہے، جنون ہے... کاروبار بعد میں ہے۔ ان کی محبّت اور جنون ان کی کتابوں پر کی گئی محنت اور معیار میں نظر آتا ہے۔ وہ دراصل کتاب نہیں چھاپتے بلکہ لگتا ہے دونوں بھائی پہلے کتاب کو معشوق کا درجہ دیتے ہیں، پھر اس کی ایک ایک ادا محبّت سے، توجہ کے ساتھ پرکھتے ہیں۔ ایک محبوبہ کی طرح اس کے نخرے اُٹھاتے ہیں، بناؤ سنگھار سے سنوارتے ہیں، پھر کتابی مواد کو مدِّنظر رکھ کر ایسا پُرکشش سرورق بناتے ہیں جسے دیکھ کر کتاب کا نفسِ مضمون صاف جھلکتا نظر آتا ہے۔ آخر میں اس دل کش اور دل ربا کتاب کو خوب صورت گیٹ اَپ کے ساتھ یہ کہہ کر آپ کے سپرد کر دیتے ہیں کہ ؎\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسپردم بہ تو مایۂ خویش را\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتو دانی حساب کم و بیش را\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسی کتابیں اگر عشق اور جنون میں لکھی جاتی ہیں تو یقین کریں چھاپی بھی اسی محبّت اور جنون کے ساتھ جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(رؤف کلاسرا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458566009017,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66f02201b57271727013377.jpg?v=1785842760"},{"product_id":"zangaar-زنگار","title":"ZANGAAR  زنگار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی سے میری ایک یادگار ملاقات ترکی میں ہوئی تھی، جہاں ہم چند دوسرے اہلِ قلم کے ساتھ ایک تنظیم کی طرف سے مدعو کیے گئے تھے۔ میرا ایک عجیب خیال ہے جو کبھی غلط اور کبھی درست نکلتا ہے کہ ’’سوکھے سڑے‘‘ لوگ عموماً چڑچڑے اور زندگی بیزار ہوتے ہیں جبکہ موٹے صحت مند لوگوں کی سوچیں اور رویے مثبت ہوتے ہیں۔ عامر خاکوانی کے جثے کو دیکھ کر میں نے پہلے ہی ان کی شخصیت کا اندازہ لگا لیا تھا، یہ اندازہ دورانِ سفر درست نکلا اور اب جب میں نے ان کے منتخب کالموں کا مطالعہ کیا ہے تو جی چاہتا ہے کہ ان سے باقاعدہ دوستی کی جائے۔ عامر کے سبھی کالموں سے کبھی مجھے اتفاق ہوا ہے اور نہ عامر میرے سبھی کالموں سے اتفاق کی غلطی کر سکتا ہے۔ تاہم میں نے ان کے منتخب کالم جو وقتی موضوعات پر نہیں بلکہ ابدی موضوعات کے حامل ہیں، پڑھے تو مجھے ہر کالم ’’جہانِ دگر‘‘ نظر آیا۔ ادب، فلم، حالات سے مایوسی کے بجائے جدوجہد پر یقینِ کامل، یعنی وہی ایک مثبت شخص ان کے کالموں میں نظر آیاجس کا اندازہ میں نے انہیں ایک نظر دیکھ کر لگا لیا تھا۔سب سے خوب صورت بات ان کی تحریر ہے۔ ثقیل سے ثقیل موضوعات پر لکھی ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے ان کے قارئین آدھے راستے میں ’’خداحافظ‘‘ کہتے نظر نہیں آتے بلکہ خود کو آخر تک ساتھ چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یار عامر خاکوانی ! تمہارے ان منتخب کالموں سے میں ’’جیلس‘‘ ہوگیا ہوں۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعطاء الحق قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2012ءمیں شائع ہونے والی اپنی کتاب کے دیباچے میں عرض کیا تھا: عامر خاکوانی میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں ،اب بھی ہیں۔ اگرچہ کچھ تنقیدی نکات ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ جس انشراح سے عامر خاکوانی لکھتے ہیں عصری صحافت میں اس کی مثال کم ہو گی۔ سوچ سمجھ کر طے کیا گیا مؤقف، رواں اور بے ریا لہجہ۔ غیر جانبداری مگر دکھاوے کی نہیں۔ نقطۂ نظر اور عقیدہ رکھتے ہیں مگر لازماً کسی گروہ کے حامی یا مخالف نہیں۔ آزادمصنف کی روش یہی ہوتی ہے۔ یہ تحریر یں پڑھتے ہوئے والٹیئر یاد آتا ہے ، جس نے کہا تھا، \"Every word of a writer is an act of generosity\" لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے ۔ جی جان سے ، خلوصِ قلب سے کی جانے والی عنایت ۔ شرط یہ کہ وہ دل صداقت کا مسکن ہو ، تلاشِ حق کا آرزومند!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی ان لکھنے والوں میں سے ہیں جن کا میں شروع ہی سے مداح رہا ہوں اور سچّی بات یہ ہے کہ ان کے کالم کا میں ہمیشہ انتظار کرتا ہوں۔ ان کے لیے میرے ذہن میں یہی تاثر ہے کہ یہ شخص بیش بہا پڑھتا ہے اور پڑھنے کے بعد اسے اتنے اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ کمال ہوجاتا ہے۔ یہی عامر خاکوانی کی تحریر کا حُسن ہے۔ میں کبھی کبھی کوشش کرتا ہوں کہ کاش میں بھی ایسی خوب صورتی کے ساتھ لکھ سکتا اور اتنے اختصار کے ساتھ اتنی زیادہ معلومات قارئین تک پہنچا سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاوریا مقبول جان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتعارف مصنف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی کو صحافت میںپچیس برس کا عرصہ ہو چکا۔ اُردو ڈائجسٹ سے سفر کا آغاز کیا۔ ساڑھے تین سال بعد روزنامہ جنگ کا نیوز رُوم جائن کر لیا، وہاں تین سال کام کیا۔ روزنامہ ایکسپریس کی پنجاب اور کے پی کے سے اشاعت کا آغاز 2002ء میں ہوا۔ عامر خاکوانی انچارج ایکسپریس میگزین سیکشن کے طور پر اخبار کی بانی ٹیم کا حصہ تھے۔ یہیں پر 2004ءکے اوائل میں ’’زنگار‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے، یہ سفر تاحال جاری ہے۔ دس سال ایکسپریس میں کام کرنے کے بعد اگست 2012ء میں بطور میگزین ایڈیٹر\/ کالم نگار روزنامہ دُنیا کی بانی ٹیم کا حصہ بنے۔ دُنیا ہی میں ڈائجسٹ ایڈیشن کا تجربہ کیا جس کی پیروی بعد میں کئی اخبارات نے کی۔ پانچ سال دُنیا اخبار میں کام کرنے کے بعد 2017ء میں روزنامہ 92 نیوز کی بانی ٹیم میںشامل ہوئے۔ پچھلے تین برسوں سے 92 نیوز اخبار ہی میں بطور میگزین ایڈیٹر \/ کالم نگار کام کر رہے ہیں۔ عامرخاکوانی نے کالم نگاری میں کئی تجربات کیے اور اُردو کالم کے کینوس کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ کرنٹ افیئرز پر کالم لکھے، مگر خود کو یہاں تک محدود نہیں کیا اور بہت سے مستقل موضوعات پر کالم لکھے جن کا تازہ پن اور شگفتگی برسوں بعد بھی برقرار ہے۔ وہ کتابوں سے محبت کے دعوے دار ہیں، اپنے کالموں میں کتابوں اور مطالعہ کے ذوق کو فروغ دینے کے لیے مسلسل مساعی کی۔ ادب، تاریخ، تصوف، روحانیت، سیاست اور سماجی ایشوز سے لے کر سپورٹس اور موٹیویشنل موضوعات پر کالم لکھے۔ زیر نظر کتاب ’’ زنگار ‘‘ انھی کالموں کا انتخاب ہے۔ عامر خاکوانی کے مطابق انھوں نے آٹھ نو سو کالموں میں سے صرف اسی بیاسی کالم منتخب کیے، جن کی تازگی اور مہک آج بھی پہلے جیسی ہے۔ عامرخاکوانی کے کالموں کی پہچان ان کا معتدل اور متوازن اندازِ بیان اور غیرجانبداری سے ایشو ٹو ایشو رائے دینا ہے۔ عامر خاکوانی کی اس کتاب میں دانستہ طور پر صرف وہی تحریریں شائع کی گئی ہیں جو پڑھنے والوں کی سوچ، طرزِزندگی اور تقدیر بدل سکیں۔ ایسے کالم جو مثبت سوچ اور اُمید کی نئی توانائی آپ میں بھر دیں۔ ایسی تحریریں جو بار بار پڑھنے کے باوجود باسی نہ لگیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458573709497,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fcb93164f9e61607176982.jpg?v=1785843338"},{"product_id":"zindagi-se-darte-ho-زندگی-سے-ڈرتےہو","title":"ZINDAGI SE DARTE HO  زندگی سے ڈرتےہو","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458589634745,"sku":"BC SSH","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a084550939071778926928.jpg?v=1785844073"},{"product_id":"nagahani-ta-nagahani-ناگہانی-تا-ناگہانی","title":"NAGAHANI TA NAGAHANI  ناگہانی تا ناگہانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ کاظمی اپنے کٹیلے کالموں کے لیے مشہور ہیں جن میں معاشرے میں مردوں کی بالادستی اور عورتوں کی فرومائیگی کو اس نشترانہ مہارت سے بیان کیا گیا ہے کہ بہت سے پڑھنے والوں کو آگ لگ جاتی ہے۔ سماج میں مردوں اور عورتوں کے درمیان جو، کبھی خفیہ کبھی برملا، رزم آرائی جاری رہتی ہے اسے وہ اپنے بےباک قلم سے چاک کرتی رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا فکشن ان بنیادی موضوعات سے دور تو نہیں ہٹتا لیکن اُس میں کالموں سے زیادہ پائیداری ہے۔ ’’ناگہانی تا ناگہانی‘‘ نامی ناولٹ میں، جسے اُردو میں لکھے ہوئے اچھے ناولٹوں میں شمار کیا جاسکتا ہے، کووڈ کے دنوں میں ایک امریکی ایئرپورٹ پر برپا اضطراب، جھنجلاہٹ، بےبسی اور انسانی فطرت میں رچی بسی ہوس کا جس طرح احاطہ کیا گیا ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو افسانے مجموعے میں شامل ہیں وہ بھی متاثر کرتے ہیں۔ ان میں جاری و ساری طیش، ہمدردی، محرومی اور حیرت دل کو کہیں نہ کہیں چھو لیتی ہے۔ یہ فکشن متاثر کن ہے، بشرطے کہ اسے پڑھتے وقت ظن کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458606903481,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/693d3de159d1a1765621217.jpg?v=1785844568"},{"product_id":"sochte-hain-2nd-edition-سوچتے-ہیں","title":"SOCHTE HAIN (2ND EDITION)  سوچتے ہیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبہت برس پہلے اتفاق سے ایک نثر پارے پر نظر پڑی اور ٹھہر گئی۔ کسی نے اپنے استاد اور نابغہ روزگار کہانی کار احمد ندیم تونسوی کو ہدیہ تبریک پیش کیا تھا مگر مدح میں عجز بیان کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا۔ جملے میں ایسی سلاست اور لفظ کا ایسا موزوں انتخاب کہ اسے بھول جانا ممکن نہیں تھا۔ تعجب رہا کہ یہ کون گدڑی کا لعل ہے۔ کچھ عرصے بعد حسنین جمال سے ربط ہوا تو ندیم تونسوی صاحب والی تحریر کے مصنف سے بھی تعارف ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ تحریر ہی نہیں، صاحبِ تحریر بھی نستعلیق ہیں، شائستہ لب و لہجہ، آداب اطوار میں وکٹورین عہد کا کوئی بھٹکا ہوا سفارت کار، جامہ زیب، مزاج میں شگفتگی اور علمی انکسار کا نادر امتزاج۔ روایت نبھانا ہوتی تو یہاں انشا اللہ خان کا ”اہل درد کو پنجابیوں نے لُوٹ لیا“ والا ٹکڑا ٹکا دیا ہوتا۔ مگر صاحب حسنین جمال خالی خولی پنجابی نہیں ہیں۔ خاک کے اس پتلے کا ایک انگ ناگ پور سے آیا ہے اور دوسری پرت پشاور کی خاک سے اٹھی ہے۔ کچھ کل پرزے ملتان کی صناعی ہیں۔ پاؤں کی گردش میں کوچہ و بازار کی صحبت بھی اٹھائی، کوہستان و صحرا میں تمیز بھی روا نہیں رکھی۔ اب آپ نے جانا کہ یہ دانہ گندم چکی کے کن پاٹوں میں پس کر سُرمۂ چشم ہوا ہے۔ جن دنوں ہماری دوستی ہوئی، برادرم حسنین جمال مشکل نگاری کا تجربہ کر رہے تھے۔ دبے دبے لفظوں میں بندہ خدا سے گزارش کی کہ نگارش کی رنگینی ابلاغ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ پھر خود ہی سوچ لیا کہ ہنر کی دیوی کو میٹھا برس لگتا ہے تو چھب گات کی داد چاہتی ہے۔ ایک مختصر سا وقفہ تھا، گزر گیا۔ پھر تو یار عزیز نے ایسے ایسے ٹکڑے نکالے کہ درویش ایک طرف، اساتذہ تک کو غبطہ ہوا۔ قلم کی تاثیر پر بھروسا بڑھا تو دقیق لغت نے ایسی سادہ بیانی شعار کی کہ محمد حسین آزاد یاد آ گئے۔ ”رنگ لایا ہے دوپٹہ ترا میلا ہو کر“ ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحکایت دراز ہوئی جاتی ہے مگر کیسے کہوں کہ یارِ من حسنین جمال کی کہانی ہے۔ اس دوران، ہم دونوں ”ہم سب“ پر بہت دن جزوقتی ہم کار بھی رہے۔ ”ہم سب“ کی رسائی اور امکان محدود تھے۔ حسنین جمال کے عزائم لامکاں کی خبر لاتے تھے۔ ایک روز لاہور میں جمے جمائے روزگار کا بستر لپیٹا اور اسلام آباد میں نئی ذمہ داریاں قبول کر لیں۔ ’’حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند‘‘ کشائشِ رزق کی صورت بھی نکلی اور پڑھنے والوں کی پذیرائی ایسی کہ موجودہ نسل میں شاید ہی کسی نثر لکھنے والوں کو اس مختصر مدت میں تعداد اور تحسین کے اعتبار سے اتنے پڑھنے والے نصیب ہوئے ہوں۔ ہم دونوں بھائیوں کے صحافتی تصور میں البتہ ’’ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ والا بال آ گیا کہ حسنین جمال نے سیاست، معیشت اور تمدن جیسے موضوعات سے ہاتھ اٹھا لیا۔ زبان و بیان کی خوبیاں وہی جو ابتدا ہی سے ہویدا تھیں۔ مگر اب توسن خیال کو روزمرہ زندگی کے ایسے پہلوؤں کی طرف موڑ دیا جو اپنی جگہ اہم تھے لیکن افتادگان خاک کی پلکوں پر گراں بار بنیادی سوالات سے گریز پائی کی چغلی کھاتے تھے۔ ’’آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم \/ اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ‘‘ حسنین بھائی کا یہ گمنام دوست تھامس مان کے اس قول کا قتیل ہے، In our times the destiny of man is defined in political terms۔ ایک طرف میرا ضمیر ہے دوسری طرف دوست۔ افلاطون کا معروف قول اپنی جگہ لیکن مجھے اپنے دوست کے لیے اس طرح کھڑے ہونا ہے جیسے ای ایم فاسٹر نے دوست کو تین تالیوں کا اعزاز بخشا تھا۔ حسنین جمال، ڈٹے رہو۔ وہی لکھو جو تمھیں خوشی دے۔ دوستی کی دیانت کا تقاضا تھا کہ میں اپنا اختلاف بیان کروں۔ آپ کے احترام، مرتبے اور مقام سے انکار ممکن نہیں۔ دعا ہے کہ آپ کے قلم کی رفتار میں رکاوٹ نہ آئے اور آپ کی تخلیقی صلاحیت کا سرچشمہ ہمیشہ مثبت سوچ، صاف گوئی اور انسانی ہمدردی کے موتیوں سے لبریز رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوجاہت مسعود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسنین جمال نے بس چند ہی سالوں میں ، بلکہ کہنا چاہیے کہ ہمارے دیکھتے دیکھتے مقبولیت حاصل کی ہے۔ انھوں نے غالباً لکھنا دیر سے شروع کیا مگر وہ خاصے عرصے سے ادب، تاریخ اور کلچر کا مطالعہ کررہے تھے۔ ان کی تحریروں کی خوبیاں اور خصوصیات ہی ان کی مقبولیت کے اسباب ہیں۔ وہ اپنے زمانے، اس زمانے کی روزمرہ کی سچائیوں، مسائل، عام آدمی کی عام الجھنوں، کبھی کبھی سامنے کی عام سی مگر ضروری باتوں کو اپنے انداز میں لکھتے ہیں۔ ان کا انداز یکسر غیررسمی، بات چیت کا ہے۔ جیسا کہ بلاگ کا ہونا چاہیے۔ غالب نے خط کو مکالمہ بنایا تھا۔ حسنین جمال نے بلاگ کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ وہی روزمرہ کی زبان جس میں کوڈ مکسنگ، کوڈ سوئچنگ مسلسل ہوتی رہتی ہے۔ پنجابی، اُردو، انگریزی کے الفاظ و تراکیب سلیقے سے مگر فطری انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس غیر رسمی انداز کی تہ میں ادب و تاریخ و معاصر عہد کی صورتِ حال کا وسیع مطالعہ جھلکتا ہے۔ طنز سے زیادہ شوخی اور مزاح سے کام لیتے ہیں۔ وہ زمانے کو ایک روشن خیال، انسان دوست، شناختوں کی سیاست سے بالاتر ادیب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ سب انھیں معاصر غیرافسانوی ادب میں اہم بناتا ہے۔ ’’داڑھی والا‘‘ کی مانند یہ کتاب بھی بلاشبہ ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458607591609,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/685d0dfbd22911750928891.jpg?v=1785844713"},{"product_id":"manto-kay-mazameen-منٹو-کے-مضامین","title":"MANTO KAY MAZAMEEN  منٹو کے مضامین","description":"","brand":"ILQA","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506228113593,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/9693521889.jpg?v=1785856980"},{"product_id":"manto-kay-mutnaza-afsanay-premium-quality-منٹو-کے-متنازع-افسانے-ڈیلکس","title":"MANTO KAY MUTNAZA AFSANAY (PREMIUM QUALITY)  منٹو کے متنازع افسانے (ڈیلکس)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eوہ افسانے جن کی بنیاد پر منٹو صاحب معتوب ٹھہرائے گئے جو دراصل انسان کے جنسیاتی اور سماجی مسائل کے آئینہ دار تھے اب وہی افسانے اُردو ادب کے بڑے اور بہترین افسانے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان افسانوں کو مذہب اور تعصبات کی عینک اتار کر پڑھیے۔ ادبی اور فنی معیار سے جانچئے۔ یہ افسانے جنسی آسودگی و تسکین فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی ہماری اخلاقی قدروں کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ حقیقت کے عکاس ہیں۔ معاشرے میں چھپی غلاظت کی اندرونی تصویریں اور اس کا اعلانیہ اظہار ہیں۔ ان افسانوں کے مہ و سال ہٹا دیجئے اور ان کی تہہ میں چھپی باریکیوں کو دیکھیں تو گمان گزرے گا کہ جیسے یہ آج کے دَور کے لیے لکھی گئی ہوں۔ آج بھی منگو کوچوان قید میں ہے اور اس ملک کا داروغہ سوگندھی کی ہڈیاں بھنبھوڑتا ہے۔ سوگندھی، موذیل، سلطانہ، جانکی اور شاردہ آج بھی جیتے جاگتے کردار ہیں جوچند پیسوں کے لیے بِک جانے کو تیار ہیں۔ یہ افسانے عورت کی بے بسی اور استحصال کی رقت آمیز تصویریں ہیں۔ حرف آخر یہی کہ کتاب پڑھ کر واپس میز پر رکھ دینے سے کتاب ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ قاری کو ایک ٹھوس رائے قائم کرنی چاہیے۔ محض ” بس ٹھیک ہے“ کہہ دینا ہی کافی نہیں۔ کتاب اچھی ہے یا بری ہے، اگر اچھی ہے تو کیوں اچھی ہے؟ اور اگر بری ہے تو کیوں بری ہے ؟ اور اس کیوں کا جواب ہی اس کتاب کا حاصل ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر اگر آپ کا وضو ٹوٹتا ہے تو آپ کو اپنے تئیں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں بلکہ بہترین درجے کے ایک معالج کی ضرورت ہے۔ کوئی دن کی بات ہے کہ دماغ کا خلل ظاہر ہو جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب میں شامل مضامین اور افسنوں کی فہرست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسعادت حسن منٹو (امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمقدمہ (محمد حمید شاہد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرضِ مرتب (ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمضامین:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- لذت سنگ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- سفید جھوٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- پانچواں مقدمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- زحمت مہر درخشاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- عصمت فروشی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- افسانہ نگار اور جنسی مسائل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- پھاہا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- پہچان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- خوشیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- ہتک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- دس روپے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e7- بلاؤز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e8- مس فریا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e9-بُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e10- دھواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e11- کالی شلوار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e12- چغد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e13- پڑھیے کلمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e14- بابو گوپی ناتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e15- میرا نام رادھا ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e16- جانکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e17- ٹھنڈا گوشت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e18- خورشٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e19- باسط\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e20- شاردا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e21- ننگی آوازیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22- شانتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e23- حامد کا بچہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24- لائسنس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e25- کتاب کا خلاصہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e26- تقی کاتب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e27- والد صاحب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e28- عورت ذات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e29- پری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e30- خود فریب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e31- برمی لڑکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e32- فوبھا بائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e33- ابجی ڈُڈُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e34- ممی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e35- کھول دو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e36- شریفن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e37- ہرنام کور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e38- شاداں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e39- نطفہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e40- سڑک کے کنارے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e41- سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e42- سو کینڈل پاور کا بلب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e43- موذیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e44- صاحبِ کرامات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e45-اللہ دتا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e46- بچنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e47- سرکنڈوں کے پیچھے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e48-پھندنے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e49-دودا پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e50- اوپر، نیچے اور درمیان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e51- تانگے والے کا بھائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e52- بغیر اجازت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e53- قدرت کا اصول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e54- خوشبودار تیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e55- خط اور اس کا جواب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e56- مائی جنتے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e57-بارش\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e58- بس اسٹینڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e59- قادرا قصائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e60- پشاور سے لاہور تک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e61- بجلی پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e62- شلجم\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e63- انجام بخیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e64- نواب سلیم اللہ خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e65- راجو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e66- گھاٹے کا سودا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e67- صدقے اس کے\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460334989497,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/610ea00db0e791628348429.jpg?v=1785857161"},{"product_id":"aik-chadar-maili-si-ایک-چادر-میلی-سی","title":"AIK CHADAR MAILI SI  ایک چادر میلی سی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eراجندر سنگھ بیدی کا نام اب اُردو ادب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے ’سہج پکے سو میٹھا ہو‘ کے مصداق بہت دھیمی رفتار سے لکھا ہے لیکن ان کی ہر تحریر اہلِ ادب کے لیے باعثِ تکریم رہی ہے۔ ’’ایک چادر میلی سی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ یہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے کے افراد کی زندگی کا ایسا نقشہ ہے جس میں زندگی کی ساری حرارت دہکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ زندگی کی ساری تندی اور تیزی، دُکھ اور سُکھ، محبت اور نفرت، گناہ اور نیکی.... اس نقشے کی مختلف لکیریں ہیں جو مل کر ایک جال بُن جاتی ہیں جس میں اس ناول کے کردار جکڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کی شدّت سے بھرپور واقعات اور کرداروں کی اپنے ماحول کے ساتھ متحرک پیش کش .... جو قاری کی یادوں کا حصہ بن جاتی ہے.... جسم میں لہو کی چال اور ذہن میں سرعتِ خیال کو تیزتر کر دیتی ہے۔ حقیقت نگاری کا ایسا جچا تلا کمال اُردو ادب میں اس سے پہلے نایاب تھا۔ واقعہ ہے کہ یہ ناولٹ ہمارے ادب میں قابلِ قدر اضافہ ہے جس پر کلاسیک کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460342919353,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625ea9b0014fb1650370992.jpg?v=1785857456"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/short-stories.oembed?page=3","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}