{"title":"Translations","description":"\u003cp\u003eتراجم کی بہترین کتابوں کا مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432283091129,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"yunani-asbaaq-greek-lessonsیونانی-اسباق","title":"YUNANI ASBAAQ (GREEK LESSONS) یونانی اسباق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eپیچ در پیچ اور نہایت لطیف ’’یونانی اسباق‘‘ زبان، جبر، غم و اندوہ اور قربت پر ایک غیرمعمولی مراقبہ ہے۔ ہان کانگ ایک منفرد مصنفہ ہیں۔ چند جملوں میں ہی وہ گویا مکمل انسانی تجربے کی وسعت کو سمیٹ لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیٹی کیتامورا، مصنفہ \"Intimacies\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ زبان، سیکھنے کے عمل، اور ربط کی امید کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ یہ ذہن اور جسم، ہمارے خیالات اور حواس— یعنی اس بات پر ہے کہ دنیا میں ایک انسان ہونا دراصل کیا مطلب رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—جولیا فِلپس، مصنفہ \"Disappearing Earth\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ کی کتاب پڑھنا ایک ایسا لطف ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ شاعرانہ بھی اور فکری طور پر گہری بھی، \"Greek Lessons\" انسانی ربط کی نازکی اور قوت کے بارے میں ایک خوبصورت اور دل میں اُتر جانے والی کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—اینجی کم، مصنفہ \"Miracle Creek\" اور \"Happiness Falls\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیران کر دینے والی ہان کانگ ہمیشہ سب سے زیادہ انکشافاتی مصنفہ رہی ہیں: وہ جذبات کے اُفق کو وسیع تر کر دیتی ہیں۔ بلاشبہ وہ میری پسندیدہ مصنفہ ہیں جن کے ساتھ پڑھنا، سوچنا اور دُنیا کو دیکھنا بےحد متاثر کن ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—میکس پورٹر، مصنف \"Grief Is The Thing With Feathers\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسی و روحانی بصیرت سے مالا مال اور عرفان سے معمور۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیتھی پارک ہانگ، مصنفہ \"Minor Feelings\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزبان کے اشتراک میں پائے جانے والے ناقابلِ بیان اعتماد کی ایک عکّاسی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—دی نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک غیرمعمولی ناول جو ہر بار پڑھنے پر نئی گہرائیوں سے آشکار کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—گارجین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ27 نومبر 1970ء کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگ جُو میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف کوریائی ادیب ہان سونگ وون کی صاحبزادی ہیں۔ 1993ء میں انھوں نے ادبی سفر کا آغاز اپنی نظم ’’ادب اور معاشرہ‘‘ کی اشاعت سے کیا۔ 1994ء میں اُن کی کہانی \"The Scarlet Anchor\" کو سیئول شِنمن کے سالانہ ادبی مقابلے میں منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد اُن کی تخلیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا، جن میں انسانی وجود، تنہائی، اداسی اور معنویت کی تلاش جیسے موضوعات غالب نظر آتے ہیں۔ ان کے ابتدائی کاموں میں کہانیوں کا مجموعہ \"A Love of Yeosu\" (1995) اور ناول \"Black Deer\" (1998) شامل ہیں۔ 1999ء میں ان کا ناول \"Baby Buddha\" کورین ناول لٹریچر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے ناول \"Mongolian Mark\" میں جسمانی خواہشات اور فنکارانہ لطافت کو اس مہارت سے ہم آہنگ کیا گیا ہے کہ یہ فن پارہ کوریائی عصری ادب کا ایک اہم سنگِ میل بن چکا ہے۔ اس ناول پر انھیں 2005ء میں یی سانگ ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہان کانگ کی عالمی شہرت کا آغاز 2016ء میں اُس وقت ہوا جب ان کا ناول \"The Vegetarian\" بُکر انٹرنیشنل پرائز جیتنے والا پہلا کوریائی ناول قرار پایا۔ اس ناول میں انھوں نے جسم، تشدد اور انکار کے پیچیدہ تعلق کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ 2024ء میں انھیں ادب کے شعبے میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی کوریائی مصنفہ اور پہلی ایشیائی خاتون ہیں۔ یہ اعزاز اُنھیں ان کے ادبی کمالات اور انسان دوست فکر کے اعتراف کے طور پر عطا کیا گیا۔ یہ امر نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہان کانگ اپنی حساسیت، فنی زبان، اور الم انگیز نقطۂ نظر کے باعث نہ صرف کوریائی ادب بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک منفرد اور مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ وہ نئی نسل کی خواتین اہلِ قلم کے لیے تخلیقی افق کی علامت بن چکی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیونس خان 15 مارچ 1964ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1987ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈبل میتھس اور انگلش میں گریجویشن مکمل کی۔ 1992ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی بی اے (آنرز) کیا اور 1994ء میں ایم بی اے شروع کیا، تاہم وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔ اس دوران پی ٹی سی ایل میں جاب کرتے رہے، مگر ادب سے رشتہ مسلسل مضبوط ہوتا گیا۔ 2014ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ لاہور میں سافٹ ویئر ہاؤس قائم کیا اور یوں عملی طور پر آئی ٹی کے شعبے سے بھی جڑ گئے۔ 2018ء میں انھوں نے تخلیقی تحریر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ڈویلپمنٹ اور ای کامرس مینجمنٹ جیسے جدید علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان کے تحقیقی و تجزیاتی مضامین اور تبصرے مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ فطرت اور بلندیوں سے شغف انھیں دنیا کی بلندترین چوٹیوں میں سے ایک ’’کے وَن‘‘ کے بیس کیمپ تک لے گیا، جس کی روداد سہ ماہی ’’لوح‘‘ میں شائع ہوئی۔ یونس خان عالمی ادب کی کئی اہم کتابوں کو اُردو میں منتقل کر چکے ہیں جن میں نوبیل انعام یافتہ مصنفہ ہان کانگ کا ناول ’’یونانی اسباق‘‘، کنفیوشس کی کتاب ’’سنگی کتابیں کاغذی پیراہن‘‘، سیمون دی بووا کا ناول ’’شعور کی عمر‘‘ اور اَینی اَرنو کی یادداشتیں ’’گمشدہ‘‘ شامل ہیں۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426362765497,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ca50506b30d1758089296.jpg?v=1785617665"},{"product_id":"chand-ko-gul-karen-to-hum-janen-3rd-edition-چاند-کو-گل-کریں-تو-ہم-جانیں-تیسرا-ایڈیشن","title":"CHAND KO GUL KAREN TO HUM JANEN (3RD EDITION)   چاند کو گل کریں تو ہم جانیں (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس ناول نے میرے اندرعجیب و غریب کیفیات برپا کیں۔ اس کا ماحول تاریک ہے اور قدرے بھیانک بھی۔ نہایت وسیع پھیلائو ہونےکے باوجود مصنف نے بہت مہارت سے اور قدرے اختصار کے ساتھ ماضی، حال اور مستقبل کے نسبتی سلسلوں کی بنت کاری کی ہے۔ اس تجربے کا ماحصل یہ لرزا دینے والا تصور ہے کہ بدی یعنی حرص اور تخریب کی جبلت انسان کی تقدیر ہے۔ نہایت فن کاری سے لکھا گیا یہ ناول تاریخ و ثقافت کے طویل ادوار کو اپنے پُراعتماد بیانیے سے ایسے یکجا کرتا ہے کہ ماضی اور حال کی تصاویر اتنی ہی جاندار نظر آتی ہیں جتنا مستقبل کا تصور۔ ناول یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ روز حاضر کے خوف آنے والے دنوں کے ہیبت ناک اندیشوں سے کچھ کم نہیں۔ علمیت اور ذہانت سے لبریز یہ تحریر پڑھنے والے کو لبھاتی بھی ہے اور ڈراتی بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شمس الرحمٰن فاروقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اپنے کسی ناول میں لکھا تھا کہ وقت ایک تسلسل کے ساتھ گزرتا جاتا ہے اور ہم ٹھہرے ہوتے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ وقت ہے جو تھم چکا ہے اور یہ ہم ہیں جو گزرتے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق کا ناول ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ پڑھتے ہوئے میں اس سراب کا شکار ہوا کہ وقت ٹھہر چکا ہے اور یہ اسامہ صدیق ہے جو اس میں گزرتا جاتا ہے۔ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی جانب ایک کھوجی کی مانند سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی تخلیقی قوت وقت کے نقشِ پا کو دریافت کرنے کبھی تو الٹے قدموں ماضی میں چلی جاتی ہے اور کبھی مستقبل کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔ ماضی کا سفر آسان ہوتا ہے کہ آپ تحقیق اور وجدان کو بروئے کار لا کر اسے زندہ کر سکتے ہیں، موجودہ زمانہ آپ کی آنکھوں میں عکس ہوتا جاتا ہے اور آپ اسے اپنے مشاہدے میں منتقل کر کے بیان کر جاتے ہیں لیکن مستقبل میں اترنے کے لیے اپنی جان دائو پر لگانی پڑتی ہے اور یہ صرف قوتِ متخیّلہ ہے جس کے زور پر آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی تصویرمیں کون سے کردار حرکت کریں گے۔ جیسے کچھ مہم جو گہرے غاروں کی تاریکی میں اتر جاتے ہیں اور نئی دُنیائیں دریافت کرتے ہیں ایسے ہی اسامہ اپنے تخیل کے سہارے مستقبل کے اجنبی اور نادریافت غاروں میں اترا ہے اور اَن دیکھی دُنیائوں کے باشندوں کو اپنے زورِ قلم سے زندہ کر دیا ہے۔ اسامہ جس آسانی اور قوت بھری روانی سے ماضی میں لوٹ جاتا ہے، پھر حال کا سفر اختیار کر کے مستقبل میں جا آباد ہوتا ہے، میرے لیے شدید حیرت کا باعث بنا۔ میں تو اپنے ناول ’’بہائو‘‘ کے کرداروں کی تلاش میں سرسوتی ندی کے سوکھتے ہوئے پانیوں تک جا پہنچا۔ موہنجوداڑو کی گلیوں کی مسافت اختیار کی۔ ان زمانوں میں واپس گیا تو بس وہیں رہ گیا، لوٹ آنا میرے بس میں نہ رہا اور اسامہ ہے کہ نہ صرف ماضی میں کچھ ایام بسر کرتا ہے، پھر حال کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کی وادیوں میں کوہ نوردی کرنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر ان مسافتوں کی تھکن ہی نہیں ۔ اس کی تحریر کی دل کشی اور دل ربائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ادب کے آسمان پر اسامہ ایک ایسے ماہتاب کی مانند ابھرا ہے جو کبھی بجھایا تو نہ جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُسامہ صدیق لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان بارہ سالوں کے علاوہ جو تحصیلِ علم اور ملازمت کے سلسلے میں لاہور سے دُور بیرونِ ملک گزارے، وہ باقی تمام عمر لاہور ہی سے جڑے رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک معلم، محقق، مصنّف، قانون دان اور پالیسی امور کے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے کیتھیڈرل ہائی سکول، کریسنٹ ماڈل سکول، گورنمنٹ کالج لاہور اور لمز (LUMS) سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفرڈ یونیورسٹی میں بطور Rhodes Scholar قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ برصغیر کی قانونی تاریخ پر ان کی کتاب \"Pakistan’s Experience with Formal Law: An Alien Justice\" جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے چھاپی ہے اب تک کئی انعامات جیت چکی ہے۔ اُن کا تاریخی ناول \"Snuffing Out the Moon\" سب سے پہلے پینگوئن رینڈم ہاؤس سے چھپا۔ عاصم بخشی نے اس ناول کا اُردو ترجمہ ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ کے نام سے کیا اور بک کارنر نے چھاپا۔ کتاب اور اس کا ترجمہ دونوں بہت معروف و مقبول ہوئے۔ ان کا اُردو کا پہلا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ بھی بک کارنر سے 2023ء میں شائع ہوا ہے۔ عالمی ادب، ہمارے خطے کے قصے، کہانیاں اور داستانیں، تاریخی تحقیق، سیاحت، قدیم کھنڈر، پُرانے درخت، اصلاحاتی کام اور بیش قیمت انسانی رشتے ان کی زندگی کی دل چسپیاں بھی ہیں، جستجو بھی اور حاصل بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر عاصم بخشی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے فکشن تراجم سہ ماہی جرائد آج، دنیا زاد، نقاط اور آن لائن جریدے جائزہ ڈاٹ کام پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علاوہ انھوں نے جوشوا ہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کے نان فکشن تراجم کے مجموعے ’نئی زمینوں کی تلاش‘ نے 2017ء میں اُردو سائنس بورڈ کی طرف سے بہترین کتاب کا اُردو سائنس ایوارڈ حاصل کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437342011577,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6983043d446ba1770193981_40eebc3c-f3ee-49aa-b89e-5b56181cc164.jpg?v=1785693616"},{"product_id":"ishq-nama-shah-hussain-2nd-edition-عشق-نامہ-شاہ-حسین","title":"ISHQ NAMA : SHAH HUSSAIN (2ND EDITION)  عشق نامہ : شاہ حسین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے مقدمے اور پیش لفظ میں بے شمار ایسے مقامات ہیں جو فرخ یار نے کچھ اس طرح بیان کیے ہیں، یوں ان کی کلید کھولی ہے کہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں، ان کے معانی کھلنے لگتے ہیں۔ یہ کتاب، تصوف، اس کی اصطلاحات اور شاہ حسین کے ساتھ حقیقی سیاق و سباق میں معاملہ کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے چالیس پچاس برسوں میں، پنجابی شاعری اور تصوف کے حوالے سے ایسی کتاب نہیں چھپی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار نے شاہ حُسین کی کافیوں کی ایک ایک سطر کا نہایت محویت کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ ’’عشق نامہ‘‘ ہند و پاک میں راگ راگنیوں کا جنم، ان کی کیفیات، شعری اور صوفیانہ روایات کی تفصیل کو پوری آب و تاب اور جمالیاتی احساس کے ساتھ بیان میں لاتی ہے۔ فرخ کی یہ سحربیانی ہم پر ایک ایسا عالمِ صحو و سکر طاری کرتی ہے جہاں رمزیں خودبخود کھُلتی چلی جاتی ہیں۔ کہیں بھور سمے کی رام کلی، کہیں تلنگ کی تپش تو کہیں سندھڑا کی گونج، کہیں دھناسری کی کوملتا اور کہیں بسنت کی چنچلتا۔ شاستر سنگیت، خسروی انگ اور پھربھگتی انگ کا رچاؤ ایک ترکیبی ثقافت کا آہنگ بن جاتا ہے۔ یہ کتاب استعاروں اور علامتوں کا دریا ہے جس کے بہاؤ کا کوئی انت نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسرمد صہبائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eملامتی صوفی سخن ور کی تشریح کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ پھر وہ حافظ شیرازی ہو یا شاہ حُسین! ہستی کی نفی اور بات ہے، مگر ہستی کی ملامت دُنیا کے بپھرے سمندر کے بیچ بھنور کا سا معاملہ ہے! فرخ یار اس تشریحِ عشقِ حسین کے بھنور میں خود بھی اتھاہ اترے ہوئے نظر آتے ہیں اور قاری کو بھی اس کی جانب کھینچتے ہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنور الہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ حُسین کی اصل حیثیت ان کا پیر یا مرید ہونا نہیں ہے، ان کا متصوفانہ جوہر اور شاعرانہ کمال جس بنیاد پر ایک ہوتا دکھائی دیتا ہے، وہ ہے صوفیانہ احوال کی جمالیاتی تشکیلِ نو۔ معنی کی جہت سے بھی اور اظہار کے پہلو سے بھی۔ اس بات کو ہمارے فاضل دوست نے تاریخی سیاق و سباق سے محققانہ انداز سے دیکھا اور دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ حسین کے کلام کا اتنا درست متن، مشکل الفاظ کے ایسے واضح معانی اور اتنا شستہ و رواں ترجمہ اور کہیں نہیں ملے گا۔ اگر اس شاہ کار کے کچھ اجزا یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہوں اور اسے کوئی اعلیٰ ایوارڈ دیا جائے تو یہ اس کی معمولی سی قدر شناسی ہو گی۔ فرخ یار کو کسی اچھی یونیورسٹی میں شاہ حسین کی زندگی، شاعری اور افکار و نظریات پر کوئی کورس پڑھانا چاہیے۔ بہترین نصابی کتاب تو وہ لکھ ہی چکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمعین نظامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعہدِ وسطیٰ کے برصغیر میں وسط ایشیائی مسلم تہذیبی اثرات اور مقامی تہذیب کے امتزاج سے جو ایک نئی ترکیبی، صلح کُل کی حامل تہذیب پیدا ہوئی، پنجاب میں اس کی نمائندگی کرنے والوں میں بابا فرید کے بعد دوسرا نام شاہ حُسین کا ہے۔ ان کی ملامت گہرے عرفانی اور اخلاقی اسباب کے باعث تھی مگر اسے ان کی شخصیت اور کلام کو مسخ کرنے کی بنیاد بنایا گیا۔ فرخ یار نے تصوف کی ارتقائی تاریخ کو محققانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے، تمام سلاسل، صوفیہ، بھگتی اور خصوصاً قلندریہ و ملامتی رجحانات، شاہد بازی کے عجمی ذوق کا تفصیلی تاریخی جائزہ لیا ہے۔ دیگر صوفی شعرا پر کام کرنے کے لیے اس کتاب کو بطورِ کینن استعمال کیا جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438469525689,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6894de09880291754586633.jpg?v=1785702635"},{"product_id":"dhoop-main-log-دھوپ-میں-لوگ","title":"DHOOP MAIN LOG  دھوپ میں لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eغسّان کنفانی 9 اپریل 1936ء کو شمالی فلسطین کے شہر عکّا میں پیدا ہوئے۔ 1948ء کی جنگ اور تباہی، ان کے لڑکپن کی یادوں کا ایک حصّہ بن گئی جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا۔ یہی وہ تجربہ ہے جس نے ان کی افسانوی کائنات کو رنگ روپ دیا۔ کچھ وقت دمشق میں رہنےکے بعد وہ کویت چلے گئے اور وہاں پڑھاتے رہے۔ 1959ء میں وہ بیروت آ گئے اور آزادیٔ فلسطین کے لیے کام کرنے والی جماعت ’’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پیلسٹائن‘‘(PFLP) کے ترجمان بن گئے۔ تبھی انھوں نے ’’الہدف‘‘ نامی روزنامہ اخبار کا اجرا کیا اور موت تک اس کے مدیرِ اعلٰی رہے۔ یہ دَور ان کی صحافت اور ادبی تخلیق کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے۔ 1961ء میں غسّان کی ملاقات ڈنمارک کی ایک استانی اینی ہوور سے ہوئی جو اپنے وطن سے فلسطینی پناہ گزینوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے آئی تھی۔ دو مہینے بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ وہ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ تاہم باہر کی دُنیا کے حالات غسّان کے لیے سازگار نہیں تھے۔ چونکہ ان کے پاس کسی ملک کا پاسپورٹ بھی نہیں تھا، وہ 1962ء کے اوائل میں ’’زیرِ زمین‘‘ جانے پر مجبور ہو گئے۔ روپوشی کے ان ایام کے دوران انھوں نے اپنا معرکہ آرا ناول ’’رجال فی الشمس‘‘ تحریر کیا اور اسے اپنی اہلیہ اینی کے نام منسوب کیا۔ جب اگلے سال اس کی اشاعت عمل میں آئی تو عربی ادب کی دُنیا میں تہلکہ مچ گیا اور غسّان کے لیے فوری اور وسعت گیر شہرت اور تعریف و تحسین کا باعث بنا۔ اب بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد اسے اس کی بہترین تخلیق قرار دیتی ہے۔ 1973ء میں مصری فلم ڈائریکٹر توفیق صالح نے غسّان کے اس ناول پر ’’المخدوعون‘‘ نامی فلم بنائی جس کی نمائش پر کئی عرب ممالک میں پابندی لگا دی گئی۔ 1978ء میں یہ ناول \"Men in the Sun\" کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ شاہد حمید نے اس کا اُردو ترجمہ ’’دُھوپ میں لوگ‘‘ کے عنوان سے کیا۔ یہ ترجمہ سب سے پہلے ’’محراب‘‘ لاہور میں شائع ہوا اور بعدازاں کتابی شکل میں بھی چَھپا۔ اس کا نیا ایڈیشن ’’بک کارنر‘‘ نے شائع کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغسّان کنفانی گزشتہ صدی کے اہم ترین عرب مصنّفین اور صحافیوں میں شامل ہیں۔ ان کے ناول، کہانیاں اور ادبی تحریریں عرب اور فلسطینی ثقافت میں رچی بسی ہیں۔ ان کے چھ ناول، کہانیوں کے پانچ مجموعے، تین ڈرامے اور فلسطینی ادب کے دو مطالعے شائع ہو چکے ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں، اخباروں کی ادارت، کالم نگاری، مصوّری و پوسٹر سازی اس کے علاوہ ہیں۔ ان کے مسودات میں سے ملنے والی کُل تصنیفات جو اَب تک چَھپ چکی ہیں ان کی تعداد 28 تک جا پہنچی ہے۔ ان کی تخلیقات کے بیس مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ کچھ کتابیں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے بعض ڈرامے عربی اور دیگر زبانوں میں تھیٹر اور ریڈیو کی زینت بن چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e8 جولائی 1972ء کی صبح غسّان کنفانی اپنی سترہ برس کی بھانجی لامیس نجم کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھے، جیسے ہی کار سٹارٹ ہوئی، ایک زوردار دھماکا ہوا، موساد کا فِٹ کیا ہوا پلاسٹک بم پھٹا اور عربی زبان کا عظیم کہانی کار، صحافی، قائد، مزاحمت کار، مصوّر اور عاشق غسّان کنفانی اپنی بھانجی کے ہمراہ ایک پُرشور انداز میں اپنی ہی دھج کے ساتھ جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445690904761,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66f525420086c1727341890.jpg?v=1785754863"},{"product_id":"tareek-raahon-kay-musafir-4th-edition-تاریک-راہوں-کے-مسافر","title":"TAREEK RAAHON KAY MUSAFIR (4TH EDITION)  تاریک راہوں کے مسافر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپسِ ورق:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدُنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار ہنری ڈی بالزاک (1799-1850ء) کی ایک عظیم تخلیق جو انقلابِ فرانس کے بعد فرانسیسی معاشرے میں ابھرنے والے نئے رحجانات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ بالزاک اس وجہ سے بھی خوش قسمت ادیب کہلا سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں میں انقلاب کی سُرخی لیے پیدا اور جوان ہوا۔ اگر نپولین ایک عام سپاہی سے ترقی کر کے فرانس کا مالک بن سکتا ہے تو پھر ہر شخص کچھ بھی کر کے ترقی کرسکتا ہے۔ اس سوچ نے فرانسیسی معاشرے کی شکل اور رُوح بھی بدل کر رکھ دی اور اسی انقلاب نے ایک بڑی ٹریجڈی کو جنم دیا۔ ایک خوبصورت، حسین، شرمیلی اور دیہاتی دوشیزہ یوجین کے عشق لاحاصل کی داستان جسے ایک روز پیرس سے آئے اپنے لٹے پٹے کنگال کزن سے محبت ہوگئی۔ یوجین نے ایک ایسی اذیت بھری زندگی کا انتخاب کیا جو ہر عاشق کی قسمت ہوتی ہے۔ ایک لڑکی کی کہانی جو برسوں اپنے گائوں کی حویلی میں اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ ہر شخص کی کڑوی باتیں برداشت کرتی رہی۔ باپ کے طعنے سنتی رہی۔ پورا گاؤں اس کے خلاف زہر اُگل رہا تھا لیکن یوجین محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ سات برس بعد جب یہ جان لیوا انتظار ختم ہوا تو ایک ٹریجڈی یوجین کی منتظر تھی۔اس ناول میں جہاں آپ کو فرانسیسی معاشرے کے غلیظ، لالچی اور کنجوس کردار ملیں گے جن سے آپ نفرت محسوس کریں گے وہیں مادام گرینڈ، یوجین گرینڈ اور نائے نن جیسے خوبصورت کردار بھی ملیں گے جن کے لیے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں رُک سکیں گے۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ بالزاک کے اس دعوے کومان لیں گے کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا وہ میں ا پنے قلم سے کروں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمصنف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالزاک (1799-1850ء) ایک سرکاری ملازم کے گھر پیرس کے قریب گاؤں میں پیدا ہوا۔ بڑا ہوا تو پیرس چلا گیا جہاں اس نے ایک وکیل کے ہاں کلرک کی ملازمت کر لی ۔ 1820-1824ء کے درمیان نک نیم سے کئی ناولز لکھے۔ بات نہ بنی تو پبلشنگ اور پرنٹنگ کی طرف دھیان دیا۔ تیس سال کی عمر میں بہت مقروض ہو گیا تو دوبارہ ادب کی طرف لوٹ آیا اور پہلا ناول \"The Chouans\" اپنے نام سے لکھا۔ اگلے بیس برس میں اس نے نوے کے قریب ناولز اور شارٹ اسٹوریز لکھیں جن میں ’’بڈھا گوریو‘‘ سمیت کئی شاہکار ناولز شامل تھے۔ اپنی ان سب تحریروں کو اس نے ہیومین کامیڈی کا نام دیا ۔ بالزاک کے اٹھارہ برس سے پولینڈ کی ایک نواب زادی سے تعلقات تھے، اس سے شادی کے چند ماہ بعد اکاون برس کی عمر میں چل بسا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا نے اپنا سفر دُور دراز بستی جیسل کلاسرا کے ٹاٹ سکول سے شروع کیا۔ لیہ کالج سے انگریزی لٹریچر میں بیچلر آف آرٹس کیا۔ ایم اے انگریزی بہاء الدین یونیورسٹی ملتان سے کیا۔ گولڈ اسمتھ کالج، لندن یونیورسٹی سے پولیٹکل کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا۔ 1993ء میں اپنا صحافتی سفر ’’دی فرنٹ ایئر پوسٹ‘‘ ملتان سے اپرنٹس رپورٹر کے طور پر شروع کیا۔ پاکستان کے بڑے انگریزی اخبارات ڈان، دی نیوز، ایکسپریس ٹریبون میں رپورٹر کے طور پر پندرہ برس کام کیا۔ اس دوران انہیں APNS کے تین برس مسلسل سال کے بہترین رپورٹر کا انعام بھی ملا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے پانچ سکینڈلز پر از خود نوٹس لیے اور ذمے داروں کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ ’’دی نیوز‘‘ کے لیے لندن سے بھی رپورٹنگ کی۔پرنٹ کے بعد ٹی وی جرنلزم کا رُخ کیا۔ جیو، اے آر وائی اور ایکسپریس ٹی وی میں کام کیا۔ 92چینل میں عامر متین کے ساتھ پروگرام ”مقابل“ شروع کیا جو بہت مقبول ہوا۔ روزنامہ جنگ میں 2007ء سے کالم نگاری شروع کی۔ اب 2011ء سے دُنیا اخبار میں کالم لکھ رہے ہیں۔ جرنلزم میں ان کے کریڈٹ پر سینکڑوں ایکسکلُوسو خبریں، سکینڈلز اور سکوپ ہیں جو بریک کیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445859856569,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/667685513f2f31719043409.jpg?v=1785755877"},{"product_id":"bhook-بھوک","title":"BHOOK  بھوک","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eناروے کے ناول نگار کنوٹ ہامسن کا سب سے مشہور ناول ”بھوک“ 1890ء میں جب منظرِ عام پر آیا تو ناروے کے اَدبی اور سرکاری حلقوں میں ہنگامہ بپا ہو گیا۔ یہ ناول گھناؤنی سماجی زندگی پر ایک کاری ضرب تھا اور اس کے چَھپنے پر بہت لے دے ہوئی۔ تنقید کی بارش چاروں طرف سے برسنے لگی اور کنوٹ ہامسن کو ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اُن دنوں میں ہامسن کا پرستار بننے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت تھی۔ اس کی تحریر میں کچھ ایسی سرکشی اور بغاوت تھی کہ ہر شخص کے دل میں عناد کی آگ بھڑک اُٹھتی تھی۔ اس نے اپنے وقت کی سربرآوردہ اَدبی شخصیات کے بُت توڑ کر رکھ دیے۔ نقادوں کی مخالفت کے باوجود کنوٹ ہامسن ان پر ہنستا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔ آخرکار نقادوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ہامسن، تحریر کے تیکھے پن اور جاندار اُسلوب کے حوالے سے اپنا جواب نہیں رکھتا۔ ”بھوک“ کنوٹ ہامسن کا پہلا ناول ہے اور اس کا عظیم ترین کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں ہامسن کی ژرف نگاہی اپنی بلندی پر ہے۔ اُسے پوری انسانیت کے تاریک کونے کریدنے والا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جعل سازیوں اور غلاظتوں پر بے رحمی سے حملہ آور ہوتا ہے۔ ”بھوک“ ایک بھوکی رُوح کی دل دوز پکار ہے۔ آج جب کہ دیس دیس میں بھوک کو پھیلایا جا رہا ہے اور استحصالی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہوئے قحط پیدا کیے جا رہے ہیں، اس ناول کا مطالعہ نہ صرف دلچسپ ثابت ہو گا بلکہ بھوک کے جنم داتاؤں کے مکروہ چہروں پر سے نقاب بھی اُٹھائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکنوٹ پیڈرسن، جو کنوٹ ہامسن کے نام سے مشہور ہوئے، نارویجن مصنف ہیں جن کا کام انفرادیت پسندی کا انعکاس اور صنعتی تہذیب کی تردید کرتا ہے۔ ان کا اَدبی کیریئر ستر سال سے زائد عرصے پر محیط ہے اور ان کے موضوعات، تناظر و ماحول کے حوالے سے تنوع رکھتے ہیں۔ ہامسن نے ناولز کے علاوہ ایک شعری مجموعہ، کچھ افسانے و ڈرامے اور چند مضامین بھی لکھے۔ باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہ کی لیکن کرسٹیانا یونیورسٹی اوسلو میں داخل ہوئے اور صحافی بننے کا سوچنے لگے۔ تاہم جلد ہی امریکا چلے گئے اور وہاں مختلف پیشے اپنانے کے ساتھ ساتھ لکھتے بھی رہے۔ 1888ء میں واپس ناروے آئے اور اپنا سارا وقت لکھنے میں صَرف کرنے لگے۔ نوجوانی میں حقیقت پسندی اور فطرت پسندی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت پسند ادب کا مرکزی مقصد انسانی ذہن کی ژولیدگیاں ہونا چاہیے اور اہلِ قلم کا کام ”خون کی سرگوشیاں“ اور ”ہڈیوں کے گودے کی التجا“ بیان کرنا ہونا چاہیے۔ ہامسن کو بیسویں صدی کے آغاز پر نو رومانوی بغاوت کا قائد خیال کیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا پہلا ناول Hunger (1890) تھا، جس میں فاقہ زدگی کے نفسیاتی اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔ اس کے بعد دیگر ناول آئے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePan (1890)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eUnder the Autumn Star (1906)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA Wanderer Plays on Muted Strings (1909)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eChildren of the Age (1913)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGrowth of the Soil (1917)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمؤخر الذکر ناول ان کے بہترین کام میں شمار ہوتا ہے جس پر انہیں 1920ء میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ وہ زندگی بھر جمہوریت کے شدید مخالف رہے۔ دوسری عالمی جنگ میں ناروے پر جرمن حملے کی کُھلے عام حمایت کی۔ وہ ہٹلر سمیت اعلیٰ نازی افسروں سے ملتے جلتے رہے۔ پروپیگنڈا کے نازی وزیر جوزف گوئبلز نے اپنی ڈائری میں ان کے ساتھ ملاقات کے متعلق ایک طویل نوٹ لکھا۔ 1940ء میں ہامسن نے لکھا کہ جرمن لوگ ”ہمارے لیے لڑ رہے ہیں۔“ ہٹلر کی موت کے بعد اُنہوں نے تعزیت نامہ لکھا جس میں اُنہیں ”نوعِ انسانی کا جنگجو“ اور ”تمام اقوام کے لیے عدل کی انجیل کا مبلغ“ قرار دیا۔ 1946ء میں ان کے خلاف مقدمہ چلا کر 575000 کرونر جرمانے کی سزا دی گئی جسے ناروے کی سپریم کورٹ نے گھٹا کر 325000 کرونر کر دیا۔ اپنی حیات کے دوران اِن کے نظریات اہلِ ناروے کے لیے شدید دُکھ کا باعث رہے۔ 19 فروری 1952ء کو 92 سال کی عمر میں گریمستا (ناروے) میں انتقال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز 1937ء میں ہوا۔ انھوں نے متعدد قلمی ناموں سے ”تھرلر“ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اٹھایا۔ میخائیل شو لوخوف کے ”کنوارے کھیت“ اور ”اور ڈان بہتا رہا“ انھی کے فن ترجمہ کے شاہکار ہیں۔ نیکوس کیزنزاکیس کے ”زوربا یونانی“، میکسم گورکی کے ”دیوانہ ہے دیوانہ“ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہکار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ”جنگ اور امن“ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری 1979ء کو ہوا۔ کنوٹ ہامسن کے ناول ”بھوک“ کا ترجمہ اپنی زبان، اسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445911466169,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f892fdd67dd41602826205.jpg?v=1785756184"},{"product_id":"zorba-yunani-زوربا-یونانی","title":"ZORBA YUNANI  زوربا یونانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eآپ کے ہاتھوں میں اس وقت جو ناول ہے وہ دُنیا کے عظیم ترین ناولوں میں سے ہے۔ اس کے چھپتے ہی ساری دُنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا کہ ایک طویل مدت کے بعد ایسی کتاب لکھی گئی ہے جو قوموں کی زندگی اور تقدیر بدل دیتی ہے۔ اس ناول میں انسان کی نیکی اور ذہانت کے پھول ہیں۔ انسان کی بداعمالی اور شیطنت کے انگارے ہیں۔ شعلہ و گُل کے امتزاج سے یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس نے ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جس کو دوام حاصل ہو چکا ہے۔ دُنیا کی ہر زبان کے نامور ناقدوں نے اس ناول کو بے مثل اور عدیم النظیر قرار دیا ہے۔ دُنیا کی ہر زبان میں یہ ناول ترجمہ ہو چکا ہے۔ آج تک اس کی دس کروڑ جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اب اسے آپ کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ناول جہاں ایک دلکش، دلچسپ اور لذت آفرین افسانہ ہے وہاں ایک حیات آموز درس بھی ہے۔ دراصل یہ ناول ایک ایسا طرزِ حیات ہے جس کی پیروی ہم سب کو کرنی چاہیے۔ ایک اچھی کتاب ہمارے لیے رفیقِ تنہائی ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمیں زندگی گزارنے کا صحت مند شعور بھی بخشتی ہے۔ ایسا ایک ہی ناول پڑھنا ہزاروں رومانی، جاسوسی اور سطحی ناولوں سے قاری کو بے نیاز کر دیتا ہے۔ فرسودہ اور سستا ناول پڑھ کر آپ کا ذہن اور دل پراگندہ ہو جاتا ہے۔ مگر ایسا ناول پڑھ کر آپ کا ذہن و دل معطر ہو جاتا ہے۔ یہ ناول حقیقتاً بہترین تصورات کا مہکتا ہوا گلستان ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیکوس کیزنزاکیس (18 فروری 1883ء - 26 اکتوبر 1957ء) کریٹ جزیرے کے شہر ہراکلیون میں پیدا ہوئے جو اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے ماتحت تھا۔ وہ 1902ء میں ایتھنز آئے اور یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انھوں نے 1906ء میں آنرز کے ساتھ گریجویشن کی۔ 1907ء میں وہ پیرس چلے گئے اور وہاں فلسفے کی پڑھائی کی اور برگساں کے لیکچرز سنے۔ نیکوس کو بیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والا ادیب و فلسفی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ تاہم انہیں حقیقی شہرت اس وقت ملی جب 1964ء میں معروف فلم ساز اور ہدایت کار مائیکل کاکویانس نے ان کے ناول ”زوربا دِی گریک“ پر شاندار فلم بنائی۔ دی میسج، لارنس آف عریبیہ، لااسترادا اور لائن آف دی ڈیزرٹ جیسی بہترین فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ہالی ووڈ اداکار انتھونی کوئن نے 1964ء میں فلم ”زوربا دِی گریک“ میں اداکاری کے ذریعے عالمگیر شہرت حاصل کی اور ’زوربا‘ کے کردار کو اَمر کر دیا۔ اس فلم کی کامیابی ان کے کیریئر کا ایک شاندار لمحہ تھا جس کے نتیجے میں انہیں بہترین اداکاری پر آسکر کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔ 1988ء میں نیکوس کے ایک اور ناول ”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“ پر بنی فلم نے انھیں ایک بار پھر بھرپور شہرت دلائی۔ نیکوس کو اپنے عظیم اور اعلیٰ ادبی کاموں پر مختلف برسوں میں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا جاتا رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز 1937ء میں ہوا۔ انہوں نے متعدد قلمی ناموں سے ”تھرلر“ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اُٹھایا۔ میخائیل شولوخوف کے ”کنوارے کھیت“ اور ”اور ڈان بہتا رہا“ انھی کے فن ترجمہ کے شاہکار ہیں۔ کنوٹ ہامسن کی ”بھوک“، میکسم گورکی کی ”دیوانہ ہے دیوانہ“ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہکار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ”جنگ اور امن“ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری 1979ء کو ہوا۔ نیکوس کیزنزاکیس کے ناول ”زوربا یونانی“ کا ترجمہ اپنی زبان، اُسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445938499769,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f7b1ca309dd71601903779.jpg?v=1785756332"},{"product_id":"wuthering-heights-urdu-illustrated-edition-ودرنگ-ہائیٹس-مصور-ایڈیشن","title":"WUTHERING HEIGHTS (URDU) - ILLUSTRATED EDITION  ودرنگ ہائیٹس - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ عشق بلاخیز کی داستان ہے۔ پاگل کردینے والا عشق، جو مثبت اقدار کو دبا کر منفی اقدار کو نمایاں کرتا ہے، جو ایسا وحشی جذبہ بن کر سامنے آتا ہے کہ انسانوں کو ان کی سطح سے گرا کر وحشیوں اور جانوروں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جس کا سکہ ایک صدی سے زائد عرصے سے رائج ہے اور وقت کے گزرنے اور زمانے کی تبدیلیوں نے اس سکّے کو دھند لایا ہے نہ اسے بے وقعت بنایا ہے بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس سکّے کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کی عالمگیر کشش کو ہر قاری نے محسوس کیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار ٹی وی ڈرامے لکھے اور پیش کیے جاچکے ہیں۔ ریڈیو کے لیے اسے بار بار دُنیا بھر میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار فلمیں بن چکی ہیں، جن میں وہ فلم خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جس میں سرلارنس اولیور نے ہید کلف کا کردار ادا کیا تھا۔ شیکسپیئر کے بعض لازوال کرداروں کی طرح ہید کلف بھی ایک ایسا کردار ہے جسے دُنیا کے بڑے فنکار اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے اسے ادا کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ دُنیائے ادب کا عظیم تخلیقی کارنامہ ہے۔ یہ اس لیے بھی بڑا فن پارہ ہے کہ اس کی خالق نے بھی کرب ناک زندگی بسر کی تھی اور وہ سارا کرب اس ناول میں منتقل ہو جاتاہے۔ اس عشق میں وہ منفی قوتیں شامل ہوجاتی ہیں جنھوں نے ہید کلف کو وحشی بنا دیا۔ ایملی برانٹے کو زندگی نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ کوئی دوسرا ناول لکھ سکے۔ اس کا پہلا اور آخری ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ ہے اوراس ناول نے ہی اسے زندہ ٔجاوید کر دیا۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ مقامی لوگوں کی زبان میں اس جگہ کو کہتے تھے جہاں آندھیاں چلتی ہوں، ہوائیں چیختی ہوں، طوفان آتے ہوں۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ ناول بھی عشق کے طوفان اور عشق کی آندھی کا قصہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایملی جین برانٹے(30 جولائی 1818ء - 19 دسمبر1848ء) انگریزی کی مشہور ناول نگار اور شاعرہ، اپنے واحد ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کے لیے پوری دُنیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں پہچانی گئی۔ ابتدا میں ایلس بیل (Ellis Bell) کے قلمی نام سے لکھا۔ بعداز مرگ بڑی بہن شارلٹ برانٹے کے انکشاف سے کتابیں ایملی برانٹے کے اصل نام سے شائع ہوئیں۔ پیدائش بریڈفورڈ کے نواحی گاؤں تھونٹن میں ہوئی جہاں باپ مقامی گرجے کا پادری تھا۔ ایملی کا بچپن مشکل حالات میں گزرا۔ نوعمری میں ہی اپنی ماں اور دو بڑی بہنوں کی موت کا صدمہ سہنا پڑا۔ وبا پھیلی تو مختصر سی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ بیس سال کی عمر سےسکول میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ چار سال بعد فرنچ اور جرمن زبان سیکھنے کے لیے شارلٹ کے ہمراہ برسلز کا سفر کیا۔ مگر خالہ کی ناگہانی موت کے باعث وطن واپس لوٹنا پڑا۔ ایملی اور اس کی چھوٹی بہن این چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز دونوں کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ 1846ء میں پہلی بار تینوں برانٹے سسٹرز کی شاعری یکجا صورت میں ’’Poems by Currer, Ellis and Acton Bell ‘‘ کے ٹائٹل سے ان کے قلمی ناموں سے منظرِ عام پر آئی۔ اشاعت کے کئی ماہ تک اس کتاب کی صرف دو کاپیاں فروخت ہوسکیں، مگر ان بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ یوں شارلٹ نے ’’جین آئر‘‘، این نے ’’ایگنس گرے‘‘ اور ایملی نے ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسے لازوال ناول تخلیق کیے۔ ایملی نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت دُکھ سہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے جو کرب ناک زندگی بسر کی اس کا سارا کرب اپنے اس اکلوتے شاہکار ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ میں بھر دیا۔ ایملی کی زندگی ہمیشہ ایک معمہ رہی ہے کیونکہ اس کی زندگی کے حالات، ماسوائے اس کی بہن شارلٹ اور برسلز کے استاد کی زبانی، کہیں اور سے نہیں ملتے۔ پُراسرار اور شرمیلی ایملی اپنے باپ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ٹی بی کا شکار ہوگئی اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسا شاہکار چھوڑ کر تیس سال کی عمر میں اپنے ماں، باپ اور بہنوں کے پاس چلی گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445968908473,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60a60f665bf551621495654.jpg?v=1785756665"},{"product_id":"do-shahron-ki-kahani-a-tale-of-two-cities-illustrated-edition-دو-شہروں-کی-کہانی-مصور-ایڈیشن","title":"DO SHAHRON KI KAHANI (A TALE OF TWO CITIES) (ILLUSTRATED EDITION)  دو شہروں کی کہانی (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eچارلس ڈکنز کا نام آج ساری دُنیا میں ایک گھریلو نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ناول سارے عالم میں پڑھے جاتے ہیں۔ اس کی ناولوں کے تراجم دُنیا کی ہر زبان میں ہوئے، ان پر ڈرامے لکھے گئے اور انھیں سٹیج کیا گیا۔ ان پر فلمیں بنائی گئیں اور ٹی وی کے لیے ڈراموں کو ٹیلی پلے کی شکل دی گئی۔ وہ دُنیا کے چند بڑے اور مقبول ترین لکھنے والوں میں سے ایک ہے۔ رابرٹ مورسے نے اسے شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتا ہے کہ دانتے اور شیکسپیئر کی طرح ’’Dickens is everything for everyone. He has same thing for every body.‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے ناولوں میں اس کے قاری کو اپنے مطلب اور دلچسپی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جس کے حوالے سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا تخلیقی ناول کون سا ہے۔ ’پسند اپنی اپنی کی‘ کے معیار کی بات ہی تو ادب میں نہیں چلتی۔ یہاں تو ان تمام عناصر کو دیکھنا پڑتا ہے جن کی بدولت کوئی بڑی تخلیق قرار پاتی ہے اور پھر اس میں ایسے جراثیم کو بھی تلاش کرنا پڑتا ہے جو اسے ابد تک زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈکنز کے ناولوں میں ’’پک وِک پیپرز‘‘ کو دُنیا کے پُر لطف اور مزاحیہ کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’’Great Expectations‘‘، ’’Oliver Twist‘‘، ’’David Copperfield‘‘ اور ’’A Tale of Two Cities‘‘ ایسے ناول ہیں جن کی مقبولیت یکساں ہے اور جو ڈکنز کو زندہ رکھنے میں کبھی ناکام نہ رہیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈکنز کو اپنے زمانے میں جو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ وہ اس زمانے میں ابھرتے ہوئے متوسط طبقے کا ترجمان بن گیا تھا۔ وہ اپنے عہد کا نقّاد بھی تھا اور رہنما بھی۔ وہ سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا۔ کم سن بچوں پر ظلم وستم، کم سن بچوں کی ملازمت، قرضے کی ادائیگی نہ کرنے پر سزائے قید، پاگل خانوں اور ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کی حالت زار، غربت، قانونِ فوجداری کے نقائص اورسب سے بڑھ کر اس دور میں بچوں کی حالتِ زار، یہ ایسے موضوعات تھے جواس زمانے کے مسائل سے تعلق رکھتے تھے اور آج بھی عالمگیر تاثیر کے حامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈکنز کے ناولوں کی جڑیں اٹھارہویں صدی سے انگلستان کے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ چونکہ تیسری دُنیا کے مسائل آج بیسویں صدی میں بھی وہی ہیں، اس لیے اس کے ناولوں کی اپیل میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے باوجود ڈکنز بہت بڑا Entertainer بھی تھا۔ والٹر ایلن نے تو اسے فکشن کی دُنیا کا سب سے بڑا انٹرٹینر قرار دیا ہے۔ اس کی کوئی کتاب پڑھ لیجیے، اس میں مزاح کا ایک ایسا قوی اور جاندار عنصر شامل ہوتا جو اپنے قارئین کو بے انتہا محظوظ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈکنز ایک بڑے مصلح کی بھی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ اپنے ناولوں کے ذریعے سماجی اور معاشرتی اصلاح کا علمبردار تھا۔ اس میں یقیناً اسے بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے ناولوں کی دُنیا جہاں پر یوں کی کہانیوں کی دُنیا تھی وہاں دہشت ناک خوابوں کی بھی دُنیا تھی۔ اس کے بیشتر ناولوں میں کہانی بچے بیان کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی نگاہ سے ہمیں یہ دُنیا دکھاتا ہے۔ اس طرح اس دُنیا کی بدصورتیاں بچوں کی معصومیت سے ملوث ہوکر کہیں زیادہ خوفناک لیکن مؤثر صورت اختیار کر لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈکنز کے ناولوں کے کردار ایسے ہیں کہ وہ ناول کے واقعات پرحاوی ہو جاتے ہیں۔ ہم اس کے ناولوں کا پلاٹ بھول سکتے ہیں لیکن اس کے کرداروں کو اپنے حافظے سے باہر نہیں نکال سکتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماخذ ’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446016979129,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6819cd4b78e871746521419.jpg?v=1785756884"},{"product_id":"zikar-us-pari-vash-kaذکر-اس-پری-وش-کا","title":"ZIKAR US PARI-VASH KA ذکر اس پری وش   کا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجارج برنارڈ شا (پیدائش: 26 جولائی 1856ء، ڈبلن، آئرلینڈ- وفات: 2 نومبر 1950ء، ہرٹفورڈ شائر، انگلینڈ) آئرش نژاد مصنّف جسے ولیم شیکسپیئر کے بعد اہم ترین برطانوی ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ اس نے پچاس سے زائد سٹیج ڈرامے لکھے۔ وہ آئرش طنز نگار جوناتھن سوئفٹ کے بعد دوسرا نہایت کٹیلے پمفلٹ لکھنے والا شخص بھی تھا۔ اس کا باپ ایک ناکام تاجر تھا۔ ضروری تعلیم کے بعد شا نے سولہ برس کی عمر میں کلرکی شروع کی، بعد ازاں وہ خود ہی پڑھتا رہا۔ ماں باپ کی ازدواجی زندگی ناکام ہونے پر ماں اور بہنیں لندن چلی گئیں اور شا بھی 1876ء میں ان کے پاس چلا آیا۔ اگلا عشرہ مایوسی اور فلاکت سے بھرپور تھا۔ موسیقی پر تنقید اور نہ ہی ٹیلی فون کمپنی میں ملازمت زیادہ عرصہ تک چل سکی۔ نیز 1879-83ء کے درمیان شا کے تصنیف کردہ پانچ میں سے صرف دو ناول پبلشروں نے طباعت کے لیے قبول کیے: \"Cashel Byron’s Profession\" (1882ء) اور \"An Unsocial Socialist\" (1883ء)۔ 1880ء کی دہائی کے وسط میں شا کو کارل مارکس کی تصانیف پڑھنے کا اتفاق ہوا اور وہ سماجی مسائل اور تنقیدی صحافت کی جانب آیا۔ وہ نو قائم شدہ ’’فیبیئن سوسائٹی‘‘ (1884ء) کی روحِ رواں تھا جو برطانوی حکومت اور معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتی تھی۔ شا نے 1898ء میں شارلٹ پین ٹاؤن شینڈ سے شادی کی۔ اُس کا پہلا ڈراما \"Widowers’ Houses\" (1892ء) ابسن کے رومانویت پسندانہ انداز میں پابندیوں کا مضحکہ اُڑاتا ہے۔ چھ ڈراموں کا مجموعہ \"Plays, Pleasant and Unpleasant\" 1898ء میں شائع ہوا۔ اسے کوئی واضح کامیابی نہ ملی۔ اس کے بعد شا نے \"Man and Superman\" (1903ء) میں ڈان جوآن کی داستان کو ڈرامائی روپ دیا۔ دیگر ڈراموں میں درج ذیل شامل ہیں: \"The Doctor’s Dilemma\" (1906ء)، \"Getting Married\" (1908ء)، \"Fanny’s First Play\" (1911ء)، \"Androcles and the Lion\" (1913ء)، \"Pygmalion\" (1913ء)، \"Heartbreak House\" (1919ء)، \"Back to Methuselah\" (1921ء)، \"Saint Joan\" (1923ء) اور \"The Millionairess\" (1936ء)۔ ’’دی ملینیئریس‘‘ پر 1960ء میں فلم بنائی گئی، جس کی ہدایت کاری انتھونی اسکوئتھ نے کی تھی اور اس میں صوفیہ لورین اور پیٹر سیلرز نے اداکاری کی تھی۔ شا کو 1925ء میں ادب میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446055809209,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65d6008a97dcb1708523658.jpg?v=1785757093"},{"product_id":"1984-urdu-انیس-سو-چوراسی","title":"1984 (URDU)  انیس سو چوراسی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eایک قیامت تو خود ناول کا مصنف جارج آرول ہے۔ دوسری قیامت ابوالفضل صدیقی کو سمجھیے جنھوں نے اس کتاب کو اُردو میں پیش کیا ہے۔ صدیقی صاحب کا اصل افسوں تو ان کے افسانے ہیں، اس ترجمے کو زبان اور بیان کے اس سامری کی ادائے خاص جانیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1984ء بڑا خطرناک ناول ہے، اس میں نام بھی ہیں، مقام بھی اور کہانی بھی... لیکن یہ سب مل کر انسان کے بنائے ہوئے ظالمانہ نظام کی نئی داستان سناتے ہیں۔ اس کی اصل تو اصل ہے، طرزِ ادا کا جواب مشکل سے نکلے گا۔ اسے پڑھ کر آپ کا ردِعمل کیا ہو گا، یہ بتانا ناممکن ہے، ممکن ہے کہیں آپ کو غصہ آئے کہیں محبت، کہیں خوف، کہیں نفرت... لیکن آپ اسے ختم ضرور کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجارج آرول نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس اکہتر برس کے عرصے میں اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دُنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم آپ کو اصل ناول سے دُور رکھنا پسند نہیں کرتے۔ وزارت الفت کے دلچسپ احکام، کمرہ نمبر 101 کے اسرار، ’’خیال خواں‘‘ مشین کے انکشافات، 4انگلیوں کو 5گننے کے طریقے، انشراح قلب کے تھانوں کا حال اس ذکر سے زیادہ دلچسپ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کو سچ پوچھیے تو عاشقانہ کہہ سکتے ہیں نہ حسرت موہانی کی زبان میں ’’فاسقانہ‘‘۔ اس کے تخیل اور تصور سے انکار نہیں ہو سکتا، اس کا سماجی اور سیاسی طنز بھی نمایاں ہے، کہیں نرم، کہیں گرم۔ مجموعی حیثیت سے یہ کتاب انسانی آزادی اور انسانی زندگی کا کیا تصور پیش کرتی ہے اس کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں اور یہی فیصلہ صحیح بھی ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمارے عہد کے جید ادیب ابوالفضل صدیقی نے کیسی بے مثال کہانیاں لکھیں، ان کے ناول پڑھیے اور اَش اَش کیجیے۔ انھوں نے جارج آرویل کا شہرۂ آفاق ناول 1984 ترجمہ کیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ ناول انھوں نے 1957ء میں ترجمہ کیا۔ اس وقت انہیں شاید گمان بھی نہ ہوا ہو کہ 1958ء میں یہ عذاب ہمارے یہاں بھی نازل ہو گا۔ مطلق العنان جمہویت کی اندھیریاں ہماری آنکھوں پر چڑھا دی جائیں گی اور ہم کولہو کا بیل بن کر یہ نعرے لگاتے رہیں گے کہ جنگ امن ہے! آزادی غلامی ہے! جہالت طاقت ہے! 1984ء گزر گیا ہے، جارج آرویل کا یہ ناول ایک برس میں چالیس لاکھ فروخت ہو گیا تھا۔ ہمارے ہاں کسی ناول کو دس برس میں ہزار خریدار میسر آ جائیں تو لکھنے والا خوش نصیب سمجھا جاتا ہے۔ تبھی ہمارے مقدر میں لکھا گیا کہ ہم اپنی رُوح فروخت کرتے رہیں، جہالت کی طاقت پر اینڈتے پھریں اور غلامی کو آزادی فرض کریں... یہ سمجھنے والوں کو غلامی مبارک ہو!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e10نومبر 2020ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایرک آرتھر بلیئر جسے دُنیا جارج آرویل کے نام سے جانتی ہے، ایک انگریز صحافی، مضمون نگار اور ناول نگار تھا۔ 25 جون 1903ء میں بنگال کے شہر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہو گیا۔ اس نے ایٹن سکول سے تعلیم حاصل کی۔ انڈین امپیریل پولیس کی طرف سے برما میں پانچ سال (1922ء -1927ء) ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر پیرس چلا گیا جہاں اس نے کتابیں لکھنا شروع کیں۔ 1929-1935ء کے درمیانی عرصہ میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا رہا اور صحافت سے منسلک رہا۔ 1935ء واپس انگلستان آ گیا۔ کچھ عرصہ پولٹری فارم اور ہوٹل چلاتا رہا۔ پھر ایک سٹور پر کام کرنے لگا۔ 1936ء میں ایلین او شہوگنیسی نامی خاتون سے شادی کی اور سپین چلا گیا۔ ایک قاتلانہ حملے میں اسے گولی لگ گئی ۔ میڈیکلی اَن فٹ ہونے کی بنا پر دوسری جنگ عظیم میں نہ لڑ سکا۔ واپس انگلستان آیا اور بی بی سی انڈیا پر خبریں پڑھتا رہا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ ادب میں دوبارہ واپس آیا۔ اس نے ’اینیمل فارم‘‘ اور ’1984‘ ایسے ناول لکھے جنھوں نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ 21 جنوری 1950ء میں 46سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اسے اس کی وصیت کے مطابق انگلستان کے ایک گاؤں کے چرچ میں دفن کیا گیا۔ 1949ء میں لکھے اپنے شہرۂ آفاق ناول ’’1984‘‘ نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس سے پہلے کسی نے بھی ہندسوں پر مشتمل کوئی ناول نہیں لکھا تھا۔ وہ آنے والے زمانوں کا قصہ لکھ رہا تھا۔ ایک ایسا شہرِ آشوب جوکروڑوں انسانوں کی زندگی کا سچ ہونے والا تھا۔ اس ناول میں آرویل نے ایسے کئی جملے لکھے جو دُنیا کے بہت سے سوچنے اور غوروفکر کرنے والوں کی زندگی کا سچ بن گئے۔ اس نے لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی اقتدار پر اس لیے قابض نہیں ہوتا کہ کچھ دنوں میں وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائے گا۔70ء کی دہائی میں اسے امریکی صدر نکسن اور اس سے جڑے ہوئے واٹرگیٹ اسکینڈل کے تناظر میں دیکھا گیا۔ اس زمانے میں یہ ناول امریکا میں خوب خوب بکا۔ 1984 کا سال آیا تو چونکہ اس ناول کا نام اس برس سے منسوب تھا، یہی وجہ تھی کہ اس ایک برس کے دوران امریکیوں نے اس کی 40 لاکھ کاپیاں خریدیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابوالفضل صدیقی اُردو کے صف اوّل کے افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔ 4ستمبر 1908ء کو عارف پور نوادہ، بدایوں، اترپردیش میں ایک معزز زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان 1857ء کی جنگِ آزادی میں مجاہدین کی مدد کرنے کی پاداش میں معتوبینِ حکومت میں رہ چکا تھا۔ اس خاندان کے علم و شائستگی کا اتنا چرچا تھا کہ زمینداری کا روایتی رعب داب ان کی حویلی کے دروازے پر ہی کھڑا رہتا تھا، زمینداروں کے مظالم کی جگہ شاعرانہ حساسیت نے لے لی تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کے مزارع اپنے مالکوں پر جان چھڑکتے تھے۔ ابوالفضل صدیقی مشن سکول میں دو سال گزارنے کے بعد سینٹ جارجز کالج مسوری میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے جو اس وقت ہندوستانیوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ وہاں سے سینئر کیمبرج کر کے واپس آئے تو اپنی زمینداری سنبھالی۔ شکار، زراعت، باغات اور جانوروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا، غرض جنگل اور دیہات سے متعلق ان کا سارا علم کتابِ فطرت سے براہِ راست اکتساب کا نتیجہ تھا جو پھر ان کے لازوال افسانوں میں جھلکا اور ایک زمانے کو اپنا معترف بنا لیا۔ ابو الفضل صدیقی کا پہلا افسانوی مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا۔ انھی دنوں برصغیر میں نفرت کا جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ ابوالفضل اور ان کا خاندان چونکہ مسلم لیگی مشہور تھا، گھرانا بھی مسلم روایت پسند تھا، پھر ان کی حویلی اطراف کے دیہاتوں میں پھوٹ پڑنے والے خونی فسادات سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کی پناہ گاہ بن گیا تو گویا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ سازشی سازشوں کے جال بننے لگے، لیکن ابوالفضل اتنے حوصلہ مند اور ذکی تھے کہ نہایت حکمت و بصیرت سے ان سازشوں کے تاروپود بکھیرتے رہے۔ لیکن جب تقسیمِ ہند کے بعد حکومتِ ہند نے تنسیخ زمینداری کا قانون نافذ کر دیا جس سے بڑے بڑے زمیندار معاشی طور پر بدحال ہو گئے تو ابوالفضل صدیقی کا جی اتنا برا ہوا کہ بالآخر 1954ء میں پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی میں جیکب لائنز کے دو کمروں کے کوارٹر میں رہنے لگے۔ کہاں ایکڑوں پر پھیلی ہوئی حویلی اور نوکروں کی قطاریں اور کہاں یہ دو کمرے! کوئی اور ہوتا تو ماضی کی یادیں اوڑھ کر لیٹا رہتا لیکن انھوں نے نہ صرف پامردی سے حالات کا مقابلہ کیا بلکہ ساتھ ساتھ قلم سے افسوں بھی پھونکتے رہے۔ ایک کے بعد ایک ان کی لازوال کہانیاں آتی گئیں۔ ان کے موضوع بہت منفرد تھے۔ 1957ء میں جارج آرویل کے عظیم ناول ’’1984‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا۔ ابو الفضل صدیقی کی علمی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے افسانہ ’’چڑھتا سورج‘‘ پر 1957ء میں ان کو یونیسکو کا بین الاقوامی انعام دیا گیا۔ ناولٹ ’’گل زمین کی تلاش میں‘‘ پر 1983ء نقوش صدارتی ایوارڈ دیا گیا اور ناول ’’ترنگ‘‘ پر نیشنل بک کونسل ایوارڈ برائے 1989ء دیا گیا۔ ابوالفضل صدیقی کی 16 ستمبر 1987ء کو کراچی میں وفات ہوئی اور کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446092542137,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67fcacfe0773c1744612606.jpg?v=1785757338"},{"product_id":"animal-farm-urdu-اینمل-فارم","title":"ANIMAL FARM (URDU)  اینمل فارم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس دُنیا کو آج جس چیز کی ضرورت ہے، اس میں سے نصف آرویل میں موجود تھا۔ بقیہ نصف کی تلاش جاری ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(برٹرینڈ رسل، برطانوی فلسفی اور ادیب)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآپ کے ناول کا تاثّر واضح طور پر نفی کا ہے۔ ناول کے خنازیر دوسرے جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین بھی ہیں اس لیے فارم چلانے کے سب سے زیادہ حق دار وہی تو ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ٹی ایس ایلیٹ، شاعر، نقّاد اور ناشر۔ آرویل کے نام استردادی خط سے اقتباس)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہماری جدید تاریخ کے تاریک والے چہرے پر ایک عظیم طنز کی حیثیت سے ’’اینمل فارم‘‘ کی قدر برقرار ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(میلکم بریڈبری، معروف ناول نگار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اینمل فارم‘‘ خود پر ہر قسم کی تنقید سہ کر اسے خداحافظ کہہ چکا۔ یہ آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے جتنا ستّر سال پہلے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(رالف سٹیڈمین، برطانوی تصویر گر اور کارٹونسٹ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوی ایس پریچٹ اور دیگر نے جب آرویل کو معاصر پمفلٹ نگاروں میں سے سب سے بہتر کہا تھا تو وہ درُست تھے۔ ایک پمفلٹ یقینی طور پر جمالیاتی اہمیت بھی اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر برطانیہ عظمیٰ میں جہاں ملٹن، ڈیفو، سوئفٹ، ڈاکٹر جانسن، ولیم بلیک، شیلے، کارلائل، رسکن اور نیومین جیسے پمفلٹ نگاری کے استاد موجود رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ہیرلڈ بلوم، معروف امریکی نقّاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اینمل فارم‘‘ ایک اُداس کر دینے والی تمثیل ہے، اور یہ مسٹر آرویل کے عمدہ ہنر کی ایک نشانی ہے کہ یہ تمثیل واقعی اُداس کر دینے والی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(گراہم گرین، معروف برطانوی ناول نگار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ناول سٹالن اور اس کی جانب سے روسی انقلاب کو دھوکا دینے پر ایک تباہ کن حملہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سِرل کونولی، معروف برطانوی مصنّف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآرویل نے اپنے موضوع کو اس سادگی، ذہانت اور بے عیبی کے ساتھ پیش کیا ہے کہ وہ، فرانسیسی طنز نگار، لافونتین کے قریب جا پہنچے ہیں اور انھوں نے نثر ایسی لطیف اور کفایتی لکھی ہے اور یہ نثر ان کے مقصد کے لیے اتنی مناسب ہے کہ اگر اینمل فارم کا موازنہ والٹیئر اور سوئفٹ کے ساتھ بھی کیا جائے تو یہ قابلِ یقین لگتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ایڈمنڈ ولسن، امریکی نقّاد اور دانش ور)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446129373369,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/637cd454126c91669125204.jpg?v=1785757508"},{"product_id":"babel-ka-kutub-khana-بابل-کا-کتب-خانہ","title":"BABEL KA KUTUB KHANA  بابل کا کتب خانہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمصنف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخورخے لوئیس بورخیس (پیدائش: 24 اگست 1899ء بیونس آئرس، ارجنٹائن - وفات: 14 جون 1986ء جنیوا، سویٹزر لینڈ) افسانہ نگار، شاعر، نقاد اور مترجم۔ ابتدائی زندگی اپنے خاندان کے ساتھ یورپ کے مختلف شہروں میں گزارنے کے بعد بورخیس واپس ارجنٹائن لوٹے اور 1921ء میں ان جرائد سے اپنی کہانیوں کی اشاعت کا آغاز کیا جو ماورائے حقیقت، سری اور تجریدی ادب کے لیے مشہور تھے۔ ایک موروثی بیماری کے باعث وہ 1955ء تک مکمل طور پر نابینا ہو چکے تھے، لیکن بدستور بیونس آئرس کی نیشنل لائبریری میں ڈائریکٹر اور یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ بے حد وسیع مطالعہ رکھنے والے بورخیس کئی زبانوں پر مختلف درجے کی دسترس رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بینائی جاتی رہنے کے باعث بورخیس میں علامتی تخلیق نگاری کی صلاحیت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ مغربی ادب میں بورخیس کا مقام اس حد تک ہے کہ ان کا تقابل ہومر اور ملٹن کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کو اسپینوزا اور ورجل سے ایک مسلسل مکالمہ کہا گیا ہے۔ ان کی کہانیاں صنفی قید سے آزاد ہیں اور بیک وقت فلسفے، ریاضی، متعدد تہذیبی روایات اور قدیم اساطیر کی بھول بھلیاں ہیں۔ ساتھ ہی ان کی کہانیوں کی بُنت واقعہ نگاری اور کردار نگاری کے مروجہ اصولوں کو توڑتے ہوئے براہِ راست قاری کے تخیل کو اپنا ہدف بناتی ہے۔ وجودیاتی فلسفے میں ان سے بورخسی معمّے (Borgesian Conundrum) کی اصطلاح منسوب ہے جو دراصل اس مسئلے کا بیان ہے کہ آیا ادیب کہانی تخلیق کرتا ہے یا پھر کہانی اسے تخلیق کرتی ہے؟ بورخیس کی وفات 1986ء میں ہوئی لیکن ان کی کہانیوں کے تراجم کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ہو چکا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق بورخیس کے انگریزی مترجمین کی تعداد کم و بیش دو درجن ہے۔ بورخیس کی ان پچیس چھوٹی بڑی کہانیوں کے تراجم ایک سے زیادہ انگریزی تراجم کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہیں اور زیادہ تر کہانیوں کے بعد ان مآخذ کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر عاصم بخشی پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینئرنگ کی تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں۔ ان کے متعدد بین الاقوامی فکشن کے تراجم شائع ہو چکے ہیں جن میں دائی سیجی کا فرانسیسی ناول ’’بالزاک اور پری پیکر چینی درزن‘‘، بن یامین کا مالیالم ناول ’’بکر بیتی‘‘ ، آندرے زینوسکی کا پولش ناول ’’حیاتِ موش‘‘ اور ہنری فریڈرک بلانک کا فرانسیسی ناول ’’نیند کی راجدھانی‘‘ شامل ہیں۔ اسامہ صدیق کے انگریزی ناول کا ترجمہ ’’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘‘ بک کارنر جہلم سے شائع ہو چکا ہے۔ متفرق کہانیوں کے تراجم مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علاوہ انھوں نے فلسفے کی صنف میں جوشوا ہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ فلسفۂ سائنس سے متعلق مضامین کے مجموعۂ تراجم ’’نئی زمینوں کی تلاش‘‘ نے 2017ء میں اردو سائنس بورڈ کی طرف سے بہترین کتاب کا ’’اردو سائنس ایوارڈ‘‘ حاصل کیا۔ شاعری کا ایک مجموعہ ’’شاہراہِ شوق‘‘ 2015ء میں لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی طبع زاد نثری کاوش ’’دبدھا‘‘ نے 2022ء میں کراچی لٹریری فیسٹیول میں اردو نثر کی بہترین کتاب کا انعام حاصل کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446163026105,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a3472b1034d1721976619.jpg?v=1785757703"},{"product_id":"durr-e-shehwar-در-شہوار","title":"DURR-E-SHEHWAR  در شہوار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eخیر و شر کی طرح لالچ اور قناعت کا تضاد بھی انسان کے اندر ازل سے موجود ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان تضادات سے جنم لینے والی ایک عبرت اثر کہانی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنوبیل انعام یافتہ امریکی انشا پرداز ’’جان سٹین بَک‘‘ کے شاہ کار ناول ’’دی پرل‘‘ کا ترجمہ اُردو کی نام ور مصنفہ اور نقاد ’’ممتاز شیریں‘‘ نے کیا ہے !!\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446196351161,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625f97f0b44701650431984.jpg?v=1785757881"},{"product_id":"dozakhnama-دوزخ-نامہ","title":"DOZAKHNAMA  دوزخ نامہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eناول پڑھتے ہوئے یہ خواہش دل میں پیدا ہوئی کہ کاش یہ کسی اُردو ادیب کے تخیل کا کارنامہ ہوتا۔ ناول کے مرکزی کردار، غالب اور منٹو، اُردو ادب کی تاریخ کے بڑے نام ہیں۔ ایک کو فوت ہوئے ڈیڑھ سو برس اور دوسرے کو فوت ہوئے پینسٹھ سال ہو جائیں گے لیکن ان کی شہرت میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ناول کسی اُردو ادیب نے نہیں لکھا بلکہ یہ ایک بنگالی ادیب، ربی سنکربل، کے زورِ قلم کا نتیجہ ہے۔ اس ناول کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ معروف شاعر، انعام ندیم، نے اسے اُردو میں منتقل کیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ بنگلہ میں اصل متن کی کیا شان ہے۔ البتہ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انگریزی ترجمے کے مقابلے میں اُردو ترجمہ نہ صرف زیادہ جان دار ہے بلکہ موضوع کو مدِنظر رکھا جائے تو ترجمہ معلوم ہی نہیں ہوتا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ میں لکھے جانے اور انگریزی سے ترجمہ ہونے کے باوجود اسے اُردو ناول سمجھ لیا جائے تو مضائقہ نہیں۔ (محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ان سب سے زیادہ عجیب کتابوںمیں سے ایک ہے جس کے پڑھنے کا مجھے اتفاق ہوا ہے اور ذرا بھی تعجب نہیں کہ اس میں غالب موجودہیں اورمنٹو بھی۔ لیکن اب اس کو ترجمہ کہتے ہوئے میں ہچکچا رہا ہوں۔ کیسا ترجمہ اور کہاں کا ترجمہ؟ سرقہ تو پرانے شعرا نے کیا تھا جنھوں نے وہ مضامین چرالیے جو میرے نام سے رکھے گئے تھے، غالب نے تاویل پیش کی تھی۔ غالب کی سنّت پر عمل پیرا ہو کر میں یہ کہہ دوں کہ اصل میں یہ ناول اُردو میں لکھا گیا تھا اور آسمانوں پر لوحِ غیر محفوظ سے ربی سنکر بل نے اُڑا لیا، جیسے نسیمِ بہار زلف کی خوشبو چوری کرلیتی ہے، ترجمہ تو وہ تھا جو دوسری زبانوں میں شائع ہوا اور اصل ناول اب سامنے آرہا ہے۔ (آصف فرّخی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دوزخ نامہ‘‘ ان دو شخصیتوں کی زندگی کا مرقع ہے جو خود اپنے اپنے وقت میں ’ہندوستان‘ (برِصغیر پاک و ہند) قرار دیے جا سکتے ہیں۔ غالب اور منٹو اپنے اپنے عہد کی دانش کے عذاب سے باخبر تھے اور دونوں نے اسی لیے آشوبِ آگہی کے آگے خطِ ایاغ کھینچ لیا تھا۔ شاعر انعام ندیم نے دل سوزی سے ’’دوزخ نامہ‘‘ کو اُردو میں منتقل کیا ہے اور ایسی خوش سلیقگی کے ساتھ کہ کہیں سے بھی ترجمے کا شائبہ نہیں ہوتا۔ (افضال احمد سیّد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446227972281,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6730b415404101731245077.jpg?v=1785758086"},{"product_id":"milte-hain-august-main-until-august-ملتے-ہیں-اگست-میں","title":"MILTE HAIN AUGUST MAIN (UNTIL AUGUST)  ملتے ہیں اگست میں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قارئین کو یاد دلاتا ہے کہ کیوں گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نیو یارک ٹائمز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگارسیا مارکیز کا ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ جادوئی حقیقت نگاری کی فتح ہے، جس میں عمومیت اور غیر معمولی پن کا امتزاج ہے۔ ہر نیا صفحہ اُلٹنے کے ساتھ، قارئین ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں ناممکن ممکن ہو جاتا ہے، اور جہاں انسانی تجربے کا حُسن بے نقاب ہو کر سامنے آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(دی گارڈین)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگابریئل گارسیا مارکیز کا بعد از مرگ ناول ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ان کی پائیدار ذہانت کا منھ بولتا ثبوت ہے اور روشن کرداروں اور گہرے موضوعات سے بھری پیچیدہ کہانیاں تخلیق کرنے کی ان کی لاجواب لیاقت کو ایک بار پھر سامنے لاتا ہے۔ یہ کھویا ہوا خزانہ ادب کے لیے ایک تحفہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نوبیل انعام یافتہ ادیب ماریو ورگاس لوسا)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ایک انکشاف ہے جو گارسیا مارکیز کے ادبی مرتبے کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ یہ گمشدہ ناول زندگی کے جوہر کو اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ گرفت میں لانے والی ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور آخری صفحے کے بعد قارئین پر ایک انمٹ نشان چھوڑتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کولمبین ناول نگار خوان گیبریل واسکیز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول میں گارسیا مارکیز کے بیانیے کی مہارت نئی بلندیوں کو پہنچی ہے۔ وہ قارئین کو ایک ایسی دنیا کے سفر پر مدعو کرتے ہیں جہاں حقیقت اور تخیل بغیر کسی رکاوٹ کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ گمشدہ ناول بیسویں صدی کے عظیم ترین کہانی کاروں میں سے ایک کی پائیدار وراثت کا ثبوت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امریکی ادبی نقاد میچیکو کاکوتانی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446240424121,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/661b9bdca26ef1713085404.jpg?v=1785758283"},{"product_id":"andhay-log-اندھے-لوگ","title":"ANDHAY LOG  اندھے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’اندھے لوگ‘‘ سارا ماگو کے نئے دور کی کتاب ہے۔ یہ 1995ء میں شائع ہوئی اور جلد ہی خوب فروخت ہونے والی کتاب بن گئی۔ یہ ان لوگوں کی عجیب کہانی بیان کرتی ہے جو بڑی تیزی کے ساتھ اپنی بصارت گُم کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ پورا شہر اندھا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑا انتشار پیدا ہوتا ہے اور اندھے لوگوں کا ہجوم، اپنی مکروہ خواہشات کی وجہ سے اندھے ہو کر ہر قید و بند سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال واضح طور پر علامتی ہے اور اس کی مختلف تعبیریں کی جاسکتی ہیں۔ احمدمشتاق ہمارے لیے شاعر کی حیثیت سے معروف ہیں لیکن اس ناول کے لیے پسندیدگی نے ان کو مجبور کر دیا کہ اسے اُردو میں ترجمہ کر دیں۔ وہ ان مشکلات سے ناواقف تو نہیں ہوں گے جو اصل متن سے وفاداری نبھانے والے مترجمین کو درپیش آتی ہیں۔ بہت سارے ترجمے، اصل متن سے قربت کے نام پر اصل متن سے بھی اور اس زبان سے بھی جس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے، گڑبڑ پیدا کر دیتے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس اُردو میں خراب ترجموں کا ایک پورا ڈھیر موجود ہے۔ حیرت انگیز طور پر احمد مشتاق بڑی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں کہ سارا ماگو کے اسلوبِ تحریر سے وفاداری بھی نبھائیں، اس کے بیان کی فصاحت کو بھی برقرار رکھیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ڈان‘‘ کے کالم سے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپڑھنے والا کہانی کی زبردست رفتار اور زبان کی لطافت و خوبصورتی میں پوری طرح جکڑا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساراماگو ادیبوں میں سب سے زیادہ مشفق ادیب ہے ... وہ اشیا کا اعتراف ویسے ہی کرتا ہے جیسی کہ وہ ہیں ، وضاحت اور دردمندی کے ساتھ، ایک ایسی خوبی جسے سوائے دانائی کےاور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے جب ہمیں یہ اتنی فیاضی کے ساتھ مہیا کی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ نہایت اہم کتاب ہے... ایک ایسی کتاب جو اس صدی کی لرزہ خیزیوں کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اندھے لوگ‘‘ میں جو سبق ہے وہ اسے اس کی خوبصورتی عطا کرتا ہے۔ کبھی طنزیہ، کبھی مزاحیہ اور صاف گو؛ کہانی میں مصنف اور قاری کے درمیان پلک جھپک لگی رہتی ہے۔ یہ ناول ہمیں کافکا کی یاد دلاتا ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب وہ پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے اپنے دوستوں کو اپنی کہانیاں سنایا کرتا تھا...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اندھے لوگ‘‘ کا تاثرشدت کے ساتھ پڑھنے والے پر اثر کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی واشنگٹن پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساراماگو کا ماورائے حقیقت تمثیلی قصہ، بعید القیاس غیر منصفانہ حالات میں انسانی صلاحیت کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموضوعِ مطالعہ بناتا ہے۔ مگر اس بیانیے کو بھی ساراماگو نے کسی ماہرِ فن طرح\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک نرالے اسلوب میں نئی اختراع کے ساتھ پیش کیاہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی نیو یارکر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہایت شاندار... ایک پیچیدہ کہانی جو اثر پذیری اور قائل کر لینے کی عجیب قوت رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجوناتھن سویفٹ کی طرح ساراماگو بھی ہلکی پھلکی سیدھی سادی تفصیلات سے اپنےتمثیلی قصے کا فریم\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبناتا ہے، مگر سویفٹ کے برخلاف وہ اپنے قصے کو فولادی نزاکت کے تیر سے چھید دیتا ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کی دھیمی دھیمی نثر میں سے اچانک سفاکی اور نزاکت پھوٹ پڑتیں ہیں: تیروں کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیکایک آگ لگ جاتی ہے...مسحور کر دینے والا، بل کھاتا ہواقصہ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی لاس اینجلز ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اندھے لوگ‘‘ ایک ادبی استاد کا پاش پاش کر دینے والا کارنامہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی بوسٹن گلوب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجامع اور نہ بھولنے والے انداز میں خوبصورتی سے لکھا ہوا ...یہ اتھل پتھل کردینے والا،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالکل نیا کارنامہ سبھی کو پڑھنا چاہیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- لائبریری جرنل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاید اس ناول کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اشیا کے ڈھیر میں سے بظاہر عام سی چیز کود کر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیوں سامنے آتی ہے کہ ایک اسرار بن کر چمکنے لگتی ہے۔ہمارے روزمرہ کے اندھے پن میں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچھپا ہوا ایک معجزہ.... شاندار باتوں سے بھرا ایک ناول ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- دی سان ڈِیاگو یونین - ٹریبون\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک بالکل نئی اختراع...کسی اور زندہ مصنف کا خیال مشکل سے آتا ہے جس نے اتنا شاندار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور پُرپیچ کام ہمارے عہد میں تخلیق کیا ہو۔ یہ سوچ کر اس ناول کو مت ٹالیں کہ ساراماگو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکو تو نوبل انعام ملا ہے۔ یہ وہ مصنف ہے جو ہم سب کا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- برُوس ایلن (امریکی نقاد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446242390201,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6125f4aa58a231629877418.jpg?v=1785758553"},{"product_id":"alchemist-urdu-الکیمسٹ-اردو","title":"SISAKTY LOG  سسکتے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنفہ کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eارون دھتی رائے 24 نومبر 1961ء کو بھارتی ریاست میگھالیہ کے شہر شیلونگ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد راجب رائے چائے کے ایک باغ پر مینیجر تھے۔ ان کی والدہ میری رائے کا تعلق کیرالا کی شامی مسیحی برادری سے ہے اور انھوں نے راجب رائے سے محبت کی شادی کے کچھ عرصے بعد ان سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔ میری رائے اپنی بیٹی ارون دھتی کو ساتھ لیے کیرالا واپس آ گئیں جہاں انھوں نے ایک غیر روایتی سکول کھولا۔ ارون دھتی رائے نے بھی ابتدائی تعلیم اسی سکول میں حاصل کی۔ میری رائے نے بعد میں کیرالا کی مسیحی خواتین کے وراثت کے حق کے لیے ایک طویل عدالتی جنگ لڑی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ ارون دھتی رائے نے سولہ سال کی عمر میں اپنی والدہ کا گھر چھوڑ دیا۔ انھیں دہلی کے مشہور سکول آف پلاننگ اینڈ آرکی ٹیکچر میں داخلہ مل گیا اور وہ ایک کچی آبادی میں رہنے لگیں۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے آرکی ٹیکچر سکول میں اپنے ساتھی طالب علم اور دوست جیرارڈ ڈا کونہا سے شادی کر لی۔ دونوں پہلے دلّی اور پھر گوا میں ساتھ رہے اور چار سال بعد دونوں میں علاحدگی ہو گئی۔ جیرارڈ ڈا کونہا اب بھارت کے مشہور ماہرِ تعمیرات ہیں۔ 1984ء میں ارون دھتی رائے کی ملاقات فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ دونوں نے مل کر تین فلمیں بنائیں جن میں سے 1989ء کی فلم ’’In Which Annie Gives It Those Ones‘‘ کو اب کلٹ (Cult) کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم میں ارون دھتی رائے نے خود بھی مرکزی کردار ادا کیا جب کہ بعد میں بالی ووڈ پر راج کرنے والے اداکار شاہ رُخ خان نے اس فلم میں ایک طالب علم کا کردار ادا کیا جس نے صرف ایک مکالمہ بولا۔ ارون دھتی رائے اور پردیپ کرشن اب الگ الگ رہتے ہیں مگر ان کی شادی برقرار ہے۔ 1992ء میں ارون دھتی رائے نے اپنے ناول ’’The God of Small Things ‘‘ پر کام شروع کیا اور اسے 1996ء میں مکمل کیا۔ 1997ء میں اس ناول کو بُکر پرائز ملا تو ارون دھتی رائے کو یکایک عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی، تاہم اندرون ملک انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد ارون دھتی رائے نے فکشن کے بجائے سماجی مسائل پر زیادہ توجہ دی اور ذات پات کے نظام، ڈیموں کی تعمیر سے ہونے والے ماحولیاتی اور انسانی نقصان، عالمگیریت، ہندو انتہاپسندی، نکسل باڑی تحریک اور کشمیر سے متعلق کھل کر لکھا جس میں بھارتی مقتدرہ اور مذہبی انتہاپسندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارون دھتی رائے کشمیر کی آزادی کی حامی ہیں اور انھوں نے اس موضوع کو اپنے دوسرے ناول ’’The Ministry of Utmost Happiness‘‘ میں بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e8 اگست 1946ء کو شینہ باغ خورد ضلع اٹک میں پیدا ہونے والی پروین ملک علم و ادب اور صحافت کا ایک نمایاں نام بنیں اور دوسرے بہت سے ادبی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ 2016ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے پنجابی ادب کی خدمات پر تمغۂ امتیاز دیا گیا ۔ بی اے تک تعلیم اٹک سے اور ایم اے صحافت پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا ۔ روزنامہ آزاد اور ماہنامہ ماہ نو میں ادارت کے فرائض انجام دیے اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر کام کیا ۔ آج کل سیکریٹری پنجابی ادبی بورڈ ہیں۔ وہ پنجابی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے والوں میں ایک نمایاں حیثیت کی حامل ہیں۔ اپنی ذات میں خوبیوں کا مرقع پروین ملک نامور ادیب، براڈ کاسٹر، مدیر، مترجم، صدا کار عرض ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں کیہہ جاناں میں کون (کہانیاں)، نِکے نِکے دُکھ(کہانیاں)، آدھی عورت (ناول)، کَسّیاں دا پانی (خودنوشت)، پینڈے(سفرنامہ)، پاکستانی زباناں (مضامین)، کافیاں شاہ حسین(مرتب فرہنگ)، لمیاں واٹاں (ڈرامہ) اور جنج (ڈرامہ) شامل ہیں۔ ارون دھتی رائے کے ناول ’’The God of Small Things ‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’سسکتے لوگ‘‘ کے نام سے کیا۔ آپ کی تحریریں سیاست، معیشت، معاشرتی نا انصافی اور سماجی ناہمواریوں کو اپنا موضوع بناتی ہیں۔ ان کے لکھے افسانے انگریزی، اُردو، ہندی اور سربیئن زبانوں میں ترجمہ ہوئے ہیں اور گور مکھی رسم الخط میں متعدد تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446243668153,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61e058f66243e1642092790.jpg?v=1785759300"},{"product_id":"alchemist-urdu-الکیمسٹ-اردو-1","title":"ALCHEMIST (URDU)  الکیمسٹ (اردو)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ برازیلی جادوگر (پائولو کوئیلو) کتاب لکھتا ہے اور پھر وہ کتاب بک سٹورز سے غائب ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( نیویارک ٹائمز - امریکی اخبار )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالکیمسٹ ایک خوبصورت کتاب ہے۔ سحر، خوابوںاور خزانوں سے متعلق، جنھیں ہم تلاش کہیں اور کر رہے ہوتے ہیں مگر یہ موجود ہمارے پاس ہی ہوتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( میڈونا ۔ امریکی گلوکارہ )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’الکیمسٹ ‘‘ تمام سفر ناموں سے زیادہ جادوئی اور یادگار قصہ جسے میں ہر اس شخص کے لیے تجویز کروں گا جو اپنی منزل پر پہنچنے اور زندگی کے خوابوں کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( اینتھونی رابنز ۔ امریکی مصنف )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیری نظر میں پائولو کوئیلو کی کتاب ’’الکیمسٹ ‘‘ سے زیادہ سہل اور پُر اثر کتاب نہیں آئی جو قاری کو وقت سے آگے لے جاتی ہو۔ ایک ایسی خوبصورت کہانی جس میں نوجوان اپنی آپ بیتی بیان کرتا ہے جس میں قاری کے لیے ایک خاص پیغام چھپا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( جوزف گرزون - ’جوشوا‘ کے مصنف )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہر عمر کے قاری کے لیے مخصوص حکمت و دانائی سے بھرا ایک ایسا بدیسی قصہ جس میں پریوں کی داستانوں جیسا دلکش مزاح، ڈرامائی اتار چڑھائو اور نفسیاتی شدت موجود ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( پبلشر ویکلی ۔ امریکی ہفت روزہ )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآنتوان دَ سینت ایگزُوپیری کی ’دی لٹل پرنس‘ کی طرح یادگار اور بامقصد کہانی!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(آسٹن ایمیرکن-سٹیٹس مَین ۔ امریکی اخبار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسحر اور حکمت و دانائی سے بھری، مہم جوؤں کی ایک کہانی!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(روڈالفو انایا ۔ امریکی مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپائولو کوئیلو ادبی کیمیاگری کے راز سے واقف ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کنزابورو او - نوبیل انعام یافتہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکاروبار کا ایک ایسا عالمی اصول جسے ہم اپنی ذاتی زندگی میں استعمال کر سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سپینسر جانسن ۔ امریکی ڈاکٹر اور مصنف)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446244651193,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67e5347e6fa4d1743074430.jpg?v=1785759036"},{"product_id":"delhi-a-novel-دلی-ناول","title":"DELHI - A NOVEL  دلی (ناول)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں دِلّی کی طرف اُسی طرح واپس آتا ہوں جیسے غیر ممالک میں رنڈی بازی سے طبیعت سیر ہو جانے پر اپنی محبوبہ بھاگ متی کی طرف آتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان الفاظ کے ساتھ دِلی شہر کے بارے میں خوشونت سنگھ کا وسیع، شہوانی، غیر مؤدبانہ شاہکار شروع ہوتا ہے۔ چھ سو سال سے زائد عرصے پر محیط داستان کو بیان کرنے والا مرکزی کردار ایک ناشائستہ، عمر رسیدہ عیاش آدمی ہے جو دِلی سے بھی اُتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی ہیجڑا رنڈی بھاگ متی سے، جو مردوں اور عورتوں دونوں والی جنسی ندرتیں لیے ہوئے ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eداستان گو اپنے پیارے شہر کو ’دریافت‘ کرنے کی خاطر زمان و مکان اور تاریخ میں سفر کرتے ہوئے بے شمار لوگوں، شاعروں اور بادشاہوں، اولیا اور سلاطین، دل فریب عورتوں اور غداروں، شہنشاہوں اور ہیجڑوں سے ملتا ہے جنھوں نے دِلی کو بنانے اور پراسراریت عطا کرنے میں حصہ لیا یا تاریخی واقعات کو خود دیکھا۔ اور اِس داستانی سفر میں ہم اُس کے ہمراہ شہنشاہوں کے شہر کو اپنے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے منقلب ہوتے لافانی بنتے پاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48446246453433,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6268fc635c2951651047523.jpg?v=1785759522"},{"product_id":"majmua-asad-muhammad-khan-sheri-o-nasri-taraajim-مجموعہ-اسد-محمد-خاں-شعری-و-نثری-تراجم","title":"MAJMUA ASAD MUHAMMAD KHAN: SHERI-O-NASRI TARAAJIM  مجموعہ اسد محمد خاں: شعری و نثری تراجم","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاسد محمد خاں، دُبلے پتلے سادہ مزاج کے پٹھان، 26 ستمبر 1932ء کو شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ کچھ عرصہ لاہور میں رہے، پھر کراچی کو مسکن بنا لیا۔ بھوپال، لاہور اور کراچی کے مختلف اداروں سے تعلیم حاصل کی اور روزگار کے سلسلے میں متفرق شعبوں سے منسلک رہے۔ 1960ء کی دہائی میں شاعری سے ادبی کیرئیر کا آغاز کیا اور ’’انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند‘‘، ’’زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے‘‘، ’’تم سنگ نینا لاگے مانے نہیں جیارا‘‘ اور ’’موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا‘‘، جیسے مقبول گیت لکھے۔ بعدازاں کہانیاں لکھنے لگے اور اُردو ادب کو ’’باسودے کی مریم‘‘، ’’مئی دادا‘‘ اور ’’ترلوچن‘‘ سمیت درجنوں بے مثال کہانیاں اور لازوال کردار عطا کیے۔ ان کی بہت سی کہانیاں متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوئیں، معتبر انتخابات کی زینت بنیں اور ٹی وی چینلوں پر بھی دکھائی گئیں۔ اسد محمد خاں کو اُن کے طویل ادبی سفر کے دوران متعدد ادبی اعزازات دیے گئے جن میں پاکستان کا اعلیٰ سول ایوارڈ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ (2009ء) بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاَسد محمد خاں کا لکھا ہوا کمیّت کے حساب سے اتنا کثیر نہیں جتنا کیفیت اور قبولیت کے اعتبار سے بیش ہے۔ اپنی طرح کا لکھتے ہیں، اپنی چھاپ کا اور اِس کج کلاہانہ کوشش میں کہیں بھی مجہول تجریدیت کا شکار نہیں ہوئے۔ کہانی، گیت، نظم، ڈراما، خاکہ، سفرنامہ، خودنوشت، ترجمہ، مصوری، اسد محمد خاں نے سب میں اپنی یکتائی و زیبائی ثابت کی ہے۔ ’’مجموعہ اسد محمد خاں:شعری و نثری تراجم‘‘ اُن کے فن کا ایک نمونہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449703149753,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6726292aaca5e1730554154.jpg?v=1785779822"},{"product_id":"aalmi-tarajim-muntakhib-afsanay-عالمی-تراجم-منتخب-افسانے","title":"AALMI TARAJIM - MUNTAKHIB AFSANAY  عالمی تراجم ۔ منتخب افسانے","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449876525241,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b80a134d21785313290.jpg?v=1785780753"},{"product_id":"100-insani-tehzeeb-kay-mamar-2nd-edition-100-انسانی-تہذیب-کے-معمار","title":"INSANI TEHZEEB KAY 100 MAMAR (2ND EDITION)  100 انسانی تہذیب کے معمار","description":"\u003ch4 class=\"text-text-dark-blue\" style=\"text-align: right;\"\u003e \u003cspan\u003eوِل جیمز ڈیورانٹ (1885ء - 1981ء) امریکی فلسفی، تاریخ دان اور مؤرخ، اپنی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ (1898ء - 1981ء) کے ساتھ مل کر لکھی ہوئی ضخیم کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اُس نے انسانوں کے نقطہ ہائے نظر کی تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ وہ میساچوسٹس میں جوزف ڈیورانٹ اور میری ایلارڈ کے ہاں پیدا ہوا جو کیوبیک سے نقل مکانی کر کے امریکہ آئے تھے۔ 1900ء میں اس نے سینٹ پیٹرزبرگ سکول سے تعلیم مکمل کی اور پھر نیوجرسی کے سینٹ پیٹرز کالج چلا آیا۔ 1905ء میں وہ سوشلسٹ بن گیا اور دو سال بعد گریجوایشن کی۔ ایک جریدے میں 2 ڈالر فی ہفتہ تنخواہ پر نوکری کرنے کے بعد دیگر جرائد میں جنسی مجرموں پر مضامین لکھے۔ 1907ء میں سٹین ہارل یونیورسٹی نیوجرسی میں لاطینی، فرانسیسی، انگلش اور جیومیٹری پڑھانا شروع کی اور کالج میں لائبریرین بھی بنا۔ 1911ء میں فیرر ماڈرن سکول میں پڑھانے لگا۔ یہاں اُسے اپنے سے عمر میں تیرہ برس چھوٹی لڑکی Chaya Kofman عرف ایرئیل کے ساتھ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی اور ایک بیٹا گود بھی لیا۔ 1913ء میں ول نے پڑھانا ترک کر دیا اور پریسبی ٹیرئین چرچ میں دس ڈالر فیس پر لیکچر دینے لگا۔ ان لیکچرز کے نوٹس ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا نقطۂ آغاز بنے۔ 1917ء میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری پر کام کرتے ہوئے اس نے اپنی پہلی کتاب ’’فلاسفی اینڈ دی سوشل پرابلم‘‘ لکھی۔ ’’دی سٹوری آف فلاسفی‘‘ کا آغاز مزدوروں کے لیے لکھے ہوئے مختصر پمفلٹس کی صورت میں ہوا۔ 1926ء میں ایک بڑے امریکی پبلشر نے ان پمفلٹس کو کتاب کی شکل دی۔ کتاب کو ملنے والی پذیرائی نے ول ڈیورانٹ اور ایرئیل ڈیورانٹ کو مالی فراغت دی اور دنیا بھر میں سفر کرنے کے قابل بھی بنایا۔ تب وہ گیارہ جلدوں پر مشتمل شاہکار کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ لکھنے میں لگ گیا۔ ول اور ایرئیل ڈیورانٹ نے نسلِ انسانی کی ’’متحدہ تاریخ‘‘ پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ محققانہ نقطۂ نظر سے تاریخ لکھنے کے خلاف تھے۔ ان کا مقصد تہذیب کی سوانح لکھنا تھا جس میں جنگوں، سیاست اور فاتحین کی زندگیوں کے علاوہ ثقافت، آرٹ، فلسفہ، مذہب وغیرہ بھی شامل ہوں۔ ول ڈیورانٹ کی موت کے بعد اس کی دو کتابیں ’’Heroes of History‘‘ (2001ء) اور ’’The Greatest Minds and Ideas of All Time‘‘ (2002ء) شائع ہوئیں۔ اس کی متعدد کتب کے اُردو تراجم ہو چکے ہیں۔ ول اور ایرئیل نے مشترکہ خودنوشت میں ایک دوسرے کے ساتھ شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔ آخری ایام میں ول ہسپتال داخل ہوا تو ایرئیل نے کھانا چھوڑ دیا اور 25 اکتوبر 1981ء کو اس کی موت واقع ہو گئی۔ اگرچہ ان کی بیٹی ایتھل اور پوتے پوتیوں نے بیمار وِل سے ایرئیل کی موت کو چھپانے کی کوشش کی ، لیکن اسے خبر ہو گئی اور دو ہفتے بعد ہی وہ بھی چل بسا۔ اپنی 96 ویں سالگرہ کے دو دن بعد، 7 نومبر 1981ء کو ول ڈیورانٹ لاس اینجلس کے ویسٹ ووڈ ولیج میموریل پارک قبرستان میں ایرئیل کے پہلو میں دفن ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانسانی تہذیب کے معماروں یا ہیروز کی درجہ بندی اُن کے ’’اثرات‘‘ کے اعتبار سے کرنا بہت مشکل اور ایک لحاظ سے غیردرست بھی ہے۔ آپ علمی میدان میں کوئی تھیوری پیش کرنے والے کسی سائنس دان یا فلسفی کا موازنہ ایک موجد یا جنگجو کے ساتھ کیسے کر سکتے ہیں؟ یا پھر ایک خطے اور دَور میں کامیابی حاصل کرنے والے کسی ولی یا فاتح کا مقابلہ دوسرے خطے یا دَور سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اِس کے باوجود ہمیں ایک سو کے علاوہ پچاس یا دس عظیم کی فہرستوں پر مشتمل کتب بھی ملتی ہیں۔ دراصل یہ سبھی اپنے اپنے نقطۂ نظر سے تاریخی کرداروں کو دیکھنے کے بہانے ہیں۔ ان کا مقصد جہاں بہت سی شخصیات کو شامل کرنا ہے، وہاں بہت سی شخصیات کو تاریخ کے دھارے سے باہر نکالنا یا مسترد کرنا بھی ہے۔ یہی معاملہ اس کتاب کے ساتھ بھی ہے۔ ول ڈیورانٹ کی گیارہ جلدوں (14 ہزار سے زائد صفحات) پر مشتمل مشہور کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کو پڑھنے کے بعد میں نے اُن شخصیات کو منتخب کیا جو اس کتاب میں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں اس کی بیوی ایرئیل ڈیورانٹ نے اس کی متواتر مدد کی۔ اِس سے ہمیں تہذیب کے معماروں کی زندگی اور کام سے واقفیت ملنے کے ساتھ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ مصنف نے نصف صدی تک تحقیق و تصنیف سے کیا نتائج اخذ کیے ہیں؛ اُس کے خیال میں کون سے عہد، کون سے افراد اور کارنامے نمایاں ہیں۔ مثلاً وہ انسانی تاریخ میں عظیم ترین مفکروں میں کس کس کو شمار کرتا ہے؟ کون سے شاعر اس کے خیال میں واقعتاً عظیم ہیں؛ ایسے شاعر جن کے چھیڑے ہوئے نغمے سینکڑوں ہزاروں برس بعد بھی کانوں میں گونج رہے ہیں؟ یہ تمام مضامین زیرنظر کتاب میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ’’دی سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ کا عطر بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے۔ وِل ڈیورانٹ اپنی زندگی کے آخری دنوں (1981ء) میں خود یہ کام انجام دے رہے تھے۔ ایک طرح سے میں نے اُردو ترجمے میں اُن کے ارادہ کردہ منصوبے کو مکمل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48449993605305,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c17530c76331757508912_1.jpg?v=1785781815"},{"product_id":"waqt-ki-mukhtasar-tarikh-2nd-edition-وقت-کی-مختصر-تاریخ","title":"WAQT KI MUKHTASAR TARIKH (2ND EDITION)  وقت کی مختصر تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکیا وقت کا کوئی آغاز تھا؟ کیا وقت الٹا چل سکتا ہے؟ کیا کائنات لامتناہی ہے یا اس کی سرحدیں موجود ہیں؟ یہ سوالات اس بین الاقوامی شہرت یافتہ شاہکار کا موضوع ہیں۔ سـٹیـفـن ہاکـنـگ، نیـوٹـن سے لے کر آئـن سـٹائـن تک کائـنـات کی عـظـیـم تـھـیـوریـز کا جائزہ پیش کرنے کے بعد سپیس اور ٹائم کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کائنات کی سرحدوں کی طرف ایک سائنس دان کا دلیرانہ سفر‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-نیوز وِیک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فلکیاتی طبیعیات کی پیچیدگیوں کو مسحور کن صراحت اور ذہانت کے ساتھ واضح کرتا ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ ایک غیرمعمولی قوت کا حامل ذہین شخص ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- آبزرور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’عظیم سوالات سے پردہ اٹھانے والے ذہن کی قیادت میں آگے بڑھنا ایک پُرجوش تجربہ ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ہاکنگ فطری استادانہ صلاحیتوں کا مالک ہے۔ وہ آسان فہم، بذلہ سنج اور نہایت پیچیدہ تصورات کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eروزمرہ زندگی سے لی ہوئی مثالوں کے ساتھ پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حیران کن ذہنی صلاحیت کا مالک سٹیفن ہاکنگ تخلیق کے مخفی قلب میں گہرائیوں تک اُترتا جاتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- رِیڈرز ڈائجسٹ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450012610745,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67c01d3a31a141740643642.jpg?v=1785782082"},{"product_id":"cosmos-کاسموس","title":"COSMOS  کاسموس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ کتاب دل موہ لینے والی..... رنگوں سے بھرپور.... تخیل کو مہمیز دینے والی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیویارک ٹائمز بُک ریویو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اپنے موضوع میں وسیع اور خیالات کو برانگیختہ کرنے والی..... احساسِ تحیر سے جگمگاتی ہوئی۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیامی ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تفہیمِ عامہ کے قابل سائنس کی عمدہ کتاب جس میں تخیل اور بصیرت کی غیر معمولی مقدار بھی شامل ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسان ڈیاگو یونین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس زبردست، جرأت آزما ہے..... کتاب کی خوبیوں میں سے ایک موجودہ دَور کے علم اور سائنسی طریقۂ کار کی تاریخی جڑیں کھوجنا ہے۔ ڈاکٹر ساگان کی شاعرانہ بصیرت اور ادبی مہارت اِسے قابلِ مطالعہ ہونے کی نمایاں خصوصیات عطا کرتی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سائنس مانیٹر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کارل ساگان ہمارے عہد کے ذہین ترین سائنس دانوں میں سے ایک ہے۔ اُس نے سائنس کے ماضی، حال اور مستقبل پر غوروفکر کرتے ہوئے ایک شان دار تصنیف پیش کی ہے۔ وہ ذہن کو ورطۂ حیرت میں ڈال دینے والی کائناتی ہیبت سے نبرد آزما ہوتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسوی ایٹڈ پریس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ پُولِٹزر انعام یافتہ کارل ساگان نے ساری چمکتی دمکتی کائنات کو اِس واحد شان دار کتاب میں سمو دیا ہے۔ وہ سائنس اور فلسفے کو نغمے جیسی قوت کی حامل تحریر میں رچاتا ہے۔ ساگان ہماری بقا کے معجزے اور سپیس کی شاہانہ کہکشاؤں کے جلال سے ہمارے ذہن کو دنگ کر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکاسموپولیٹن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کاسموس ٹیلی وژن سیریز کے پروگراموں نے لاکھوں ناظرین کو نہ صرف سپیس کی حیرتوں سے متعارف کروایابلکہ دُنیا، زندگی، نوعِ انسان کی فطرت اور ماخذ کے حوالے سے عمیق ترین سائنسی سوالات سے بھی آگاہ کیا۔ کارل ساگان کی کتاب ’کاسموس‘ ٹیلی وژن سیریز کا سکرپٹ نہیں بلکہ سائنسی کارناموں میں عظیم انسانی کاوش کا ایک بھرپور اور زمانی ترتیب کے مطابق بیان ہے۔ ’کاسموس‘ قاری کو گہرائی میں غوروفکر کرنے کا موقع دیتی ہے.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرسچین سینچری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان چند سال کے اندر اندر ’مسٹر سائنس‘ بن گیا ہے۔ اُس نے سائنس کو عوامی تفہیم کی سطح پر لاتے ہوئے حیات کے مسالے اور تاریخ کو سپیس اور ابدیت کی وسعت سے منسلک کیا۔ یہ کام وہ اِس قدر خوب صورت اور جان دار انداز میں انجام دیتا ہے کہ آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اور کوئی بھی چیز اِس سے زیادہ جوش انگیز یا اہم نہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکاگو ٹریبیون\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان ایسا فلکیات دان ہے جس کی ایک آنکھ ستاروں پر اور دوسری تاریخ پر ہے، جبکہ اُس کے ذہن کی تیسری آنکھ انسانی معاملات پر لگی ہوئی ہے..... ہم اُس کی بلند عزمی اور فصاحت و بلاغت کے مداح ہیں؛ وہ کہیں کہیں شاعرانہ نفاست اختیار کر لیتا ہے اور اکثر ہمیں اپنی کائنات اور خود کے بارے میں حیرتوں سے بھر دیتا ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیوز ڈے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ساگان بخوبی جانتا ہے کہ عام قاری کے تخیل کو کیسے مہمیز دینی ہے اور پہلے سے آخری صفحے تک اُس کی دلچسپی کو کیسے باندھے رکھنا ہے..... ذہن کو وسعت دینے والی یہ کتاب ہمیں بحرِ کائنات کے نہایت مسحور کن سفر پہ لے کر جاتی ہے۔ یہ علم سے بھرپور، خوب صورت انداز میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ ہر ذہین قاری کو چاہیے کہ ساگان کی بیان کردہ کائناتی کہانی کو پڑھے، اچھی طرح غور کرے، سیکھے اور اِسے اپنی سوچ کا حصہ بنائے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجان برکھم ریویوز\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450029879481,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62b548fa8f33f1656047866.jpg?v=1785782316"},{"product_id":"roz-e-qiyamat-روز-قیامت","title":"ROZ E QIYAMAT  روز قیامت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر امریکی مصنفہ اور روحانی ماہر سِلویا سلیسٹی براؤن (1936ء تا 2013 ء) نے یہ کتاب 2008ء میں \"End of Days\" کے نام سے لکھی جو مختلف تہذیبوں اور مختلف ادوار میں کی جانے والی روزِ قیامت کی عالمی پیشین گوئیوں اور اُن کے تصورات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ مصنفہ نے اکیسویں صدی کے دوران ممکنہ سائنسی کمالات اور آفات کے بارے میں اپنی پیشین گوئیاں بھی دی ہیں۔ 2020ء کے آغاز میں دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے متعلق اُن کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں اِس کتاب کو نئی شہرت ملی اور عالمی سطح پر اِس کا چرچا ہوا۔ علاوہ ازیں، مشہور افراد کی جانب سے مشہور پیشین گوئیوں کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ نوسٹراڈیمس کی فرانس کے بادشاہ ہنری دوم کی ہلاکت، ہٹلر کی وجہ سے یورپ کی تباہی اور 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جہاز ٹکرانے کے حوالے سے پیشین گوئیاں، جبکہ ایچ جی ویلز نے اپنی تحریروں میں ایٹم بم، ٹینک، کمپیوٹر، وی سی آر، ٹیلی وژن کی ایجاد کے متعلق پہلے سے بتا دیا تھا اور ٹائم مشین کا تصور بھی پیش کیا۔ مختلف مذاہب کے مقدس صحائف اور پیغمبروں کی جانب سے روزِ قیامت کے متعلق کی گئی پیش گوئیاں خاص طور پر زیرِبحث لائی گئی ہیں کیونکہ ہمارے موجودہ عقائد اور نظریات کی بنیاد اُنھی پر ہے۔ اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے علاوہ ہندومت، بدھ مت، زرتشت مت، جین مت، اِنکا اور مایا کے تصورات بھی مختصر اور جامع انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنفہ کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ اور روحانی ماہر سِلویا سلیسٹی براؤن (1936ء تا 2013ء) نے کنساس سٹی، میسوری میں پرورش پائی۔ وہ پانچ سال کی عمر میں رویا (بشارتیں) دیکھنے لگی اور اُس کی نانی نے اُسے ان بشارتوں کا مفہوم سمجھنے میں مدد دی۔ سِلویا نے 1974ء میں روحانی محفلیں منعقد کرنا شروع کیں۔ 2008ء میں وہ بیس تا تیس منٹ کے ٹیلی فون سیشن کے لیے 750 ڈالر فیس لے رہی تھی۔ 1986ء میں اُس نے کیمبل، کیلی فورنیا میں ’ناسٹک کرسچن چرچ‘ کی بنیاد رکھی جسے Society of Novus Spiritus کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 2010ء میں سِلویا کے بزنس منیجر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سِلویا کی سالانہ آمدنی 30 لاکھ ڈالر تھی۔ اُس نے روحانی موضوعات پر چالیس سے زائد کتب تصنیف کیں۔ وہ Montel Williams Show اور Larry King Live سمیت کئی ٹیلی وژن اور ریڈیو کے پروگراموں میں تواتر سے آتی رہی اور ریڈیو پر ایک گھنٹے کے Hay House Radio شو کی میزبانی بھی کرتی تھی۔ اِن شوز کے دوران اکثر روحانی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ 1991ء میں اُس نے Haunted Lives: True Ghost Stories میں کام کیا۔ اس کے بعد 2006ء میں CBS ٹیلی وژن سوپ اوپیرا The Young and the Restless in December میں نمودار ہوئی۔ان پروگراموں کی بدولت اُس کو حقیقی روحانی عامل ماننے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ 2007ء میں ٹیلی فون کے ذریعے روحانی کیفیت جاننے کے خواہش مندوں کی فہرست چار سال طویل تھی۔ اُس کی متعدد کتب نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ میں شامل رہیں۔ سلویا برائون نے 20 نومبر 2013ء کو 77سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اُسے اپنی وفات کے سات سال بعد دوبارہ سے میڈیا کی بہت زیادہ توجہ ملی جب سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ اُس کی کتاب \"End of Days\" (2008ء) میں کورونا وائرس کے حوالے سے کی گئی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450079686841,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a67864b1aa4c1785169483.jpg?v=1785783030"},{"product_id":"banda-bashar-sappiens-بندہ-بشر","title":"BANDA BASHAR (SAPPIENS)  بندہ بشر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450096169145,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/634eb55002bc81666102608.jpg?v=1785783311"},{"product_id":"ahad-e-lord-mountbatten-عہد-لارڈ-ماؤنٹ-بیٹن","title":"AHAD E LORD MOUNTBATTEN  عہد لارڈ ماؤنٹ بیٹن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجولائی 1942ء میں یکایک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اسٹاف میں مجھے ایئر پبلک ریلیشنز آفیسر کا عہدہ مل گیا۔ اس کی و جہ غالباً یہ تھی کہ میں رائل ایئر فورس سروس میں کام کر چکا تھا۔ اس کے پندرہ ماہ کے بعد جب وہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے سپریم الائڈ کمانڈر نامزد ہوئے تو انھوں نے اپنی انٹر کمان اور انٹر ریکارڈ سیکشن کا سارا چارج مجھے دے دیا۔ انھوں نے مجھے اس جگہ پر صرف اس لیے نہیں لا بٹھایا تھاکہ سرکاری دستاویزات سے ان کے لیے اطلاعات فراہم کرتا رہوں، بلکہ وہ مجھے اپنی اونچی سطح کے جلسوں اور ہفتہ وار انٹرویو میں بھی شریک کرتے تاکہ پس منظر کے طور پر ان کو ریکارڈ دیا کروں۔ اسی اثنا میں ان کو وائسرائے ہند کے عہدے کی پیش کش ہوئی۔ میں چونکہ ماؤنٹ بیٹن کی مشین کے ایک پرزہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے اپنا پریس اتاشی بنا دیا۔ اتفاق کی بات اس سے پہلے ہندوستان میں جتنے بھی وائسرائے ہوئے، ان کے اسٹاف میں پریس اتاشی کا عہدہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اس کتاب کی بنیاد میں نے اپنے نوٹس، خطوط اور یادداشت پر رکھی ہے اور اس کا مقصد محض اس عہد کی ایک کہانی بیان کرنا ہے جس عہد میں ہندوستان کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ میں نے اپنی ڈائریوں میں مستقبل کی تاریخ کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے، ان میں تاریخ بیان نہیں کی ہے۔ ساتھ ہی یہ ڈائریاں ایک طرح کی عینی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں ہندوستان پر ’’دوسرا فیصلہ یا فتویٰ‘‘ صادر نہیں کیا گیا ہے۔ جن واقعات کے طوفانوں مَیں سے گزرا ہوں یا جن شخصیات کی صحبتیں میں نے اٹھائی ہیں وہ مجھ سے اتنی قریب ہیں کہ میں ان واقعات و شخصیات کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تجزیہ کا فائدہ اُس وقت پہنچ سکتا تھا اگر فضا سازگار ہوتی، اور جن آراکا ہم اظہار کرتے ان کو سراہا جاتا۔ اگر آپ ان ڈائریوں، میں میری عجلت پسندی محسوس کرتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ہمارے کام کی رفتار انتہائی تیز تھی اور اگر ان میں تسلسل اور ترتیب بھی نظر نہ آئے تو اس کے بنیادی اسباب وہ مسائل تھے جن کا جلد از جلد حل نکالنا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ایلن کیمبل جانسن )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایلن کیمبل جانسن (16جولائی1913ء -25جنوری 1998ء) کا کیریئر ابتدا سے ’تصنیف وتالیف، سیاست، صحافت اور تعلقاتِ عامہ‘ کی چار سطحوں پر محیط تھا۔ اس نے ویسٹ منسٹر سکول اور کرائسٹ چرچ آکسفرڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1937ءسے 1940ء کے دوران سر آرچی بالڈ سنکلیئر، لبرل رہنما کے پولیٹیکل سیکریٹری کے طور پر بھی کام کیا۔ اس دوران اس نے انتھونی ایڈن اور لارڈ ہیلی فیکس کی مفصل سوانح عمری بھی تحریر کیں۔ مؤخرالذکر تحریر پر اسے سرونسٹن چرچل سے داد وتحسین بھی ملی۔ جنگ عظیم دوئم (1939-45ء) کے دوران اس نے چار سال رائل ایئر فورس (RAF) میں گزارے۔ اس دوران وہ کمبائنڈ آپریشن کے دوران لارڈ مائونٹ بیٹن کے ہیڈکوارٹر ریکارڈ سٹاف کے سربراہ کے طور پر بھی تعینات رہا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا کمانڈ میں بھی انٹرالائیڈ ریکارڈز سیکشن کے آفیسرانچارج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس نے دو دفعہ سالسبری سے لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔ وہ ایک معروف براڈکاسٹر اور تعلقاتِ عامہ کے ایک مشاورتی ادارے کا بانی رکن اور مینیجنگ ڈائریکٹر بھی تھا۔ اس ادارے نے نمایاں برطانوی اور دیگر بین الاقوامی کاروباری حلقوں کو خدمات فراہم کیں۔ \"Mission with Mountbatten\" ایلن کیمبل جانس کی لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ تیسری مہم کے روزوشب کا احوال ہے جب وہ 1947ء سے ہندوستان کے آخری وائسرائے اور پہلے آئینی گورنرجنرل مائونٹ بیٹن کے پریس اتاشی کے عہدے پر فائز تھا۔ اسی دورانیے میں اپنی ڈائری میں درج یادداشتوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب کی گئی جو پہلی مرتبہ 1951ء میں منظرِ عام پر آئی۔ ایلن کیمبل نے 85 سال کی عمر میں 25 جنوری 1998ء کو برطانیہ میں انتقال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450121597113,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6780b50d56f1785168053.jpg?v=1785783809"},{"product_id":"punjab-punjabi-aur-punjabiyat-پنجاب-پنجابی-اور-پنجابیت","title":"PUNJAB, PUNJABI AUR PUNJABIYAT  پنجاب پنجابی اور پنجابیت","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکچھ کتاب کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پنجاب، پنجابی اور پنجابیت‘‘ خوشونت سنگھ کی پنجاب، پنجابیوں اور سکھوں سے متعلق انگریزی تحریروں کا مجموعہ ہے جسے ان کی صاحبزادی مالا دیال نے تین حصوں پر مشتمل کتاب کی صورت میں مرتب کیا۔ اس کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کتاب خطے کے لوگوں اور مختلف عوامل سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ حصہ اوّل پنجایبوں کی تاریخ، ثقافت، زبان اور سکھ ازم سے متعلق کھوج لگاتا ہے۔ حصہ دوم ان سلگتے ہوئے واقعات سے متعلق ہے جنہوں نے خوشونت سنگھ کی زندگی کے دوران ریاست کو متاثر کیا، جیسے تقسیم کا دُکھ، خالصہ تحریک، آپریشن بلیو سٹار، سکھ مخالف فسادات اور بہت کچھ۔ حصہ سوم معروف پنجابی شعرا، سیاستدانوں، کارکنوں، دوستوں اور خاندان کے افراد کے شخصی خاکوں پر مشتمل ہے۔ کتاب میں درج مواد خوشونت سنگھ کے آبائی وطن کے لوگوں کی ثقافت، عزم اور جذبوں کی داد دیتا ہوا نظر آتا ہے، وہ وطن جس کی شناخت انہوں نے بڑے دھیان، گیان کے بعد حاصل کی۔ یہ مجموعہ حقیقی معنوں میں پنجاب اور اس میں بسنے والوں کی لاجواب تصویر کشی کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوشونت سنگھ، پنجاب کے گائوں ہڈالی (ضلع خوشاب، پاکستان) میں 1915ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان کے معروف ترین اور وسیع حلقے میں پڑھے جانے والے مصنف اور اخبار نویس تھے۔ وہ ’یوجنا‘ کے بانی ایڈیٹر اور السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، دی ہندوستان ٹائمز اور نیشنل ہیرلڈ کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے 1947ء میں تقسیم ہند کا بہت قریب سے معائنہ کیا تھا اور اس واقعہ نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ اور مایہ ناز کتاب ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ لکھ ڈالی جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ہندی اور اُردو ناول، شاعری اور مختصر کہانیوں کے انگریزی ترجمے بھی کیے جن میں علامہ محمد اقبال کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘، مرزا محمد ہادی رسوا کا ’’امرائو جان ادا‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کا ’’اِک چادر میلی سی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ خوشونت سنگھ 1980ء سے 1986ء تک راجیہ سبھا (بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا) کے رکن رہے۔ انھیں 1974ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا جسے انہوں نے 1984ء میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا۔ انھیں 2007ء میں بھارت کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم و بھوشن سے نوازا گیا۔ خوشونت سنگھ 2014ء میں دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی چِتا کی راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی پاکستان لے جاکران کے آبائی علاقہ میں سپردخاک کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہدحمید کا تعلق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ پشاور کے معروف تعلیمی ادارے ایڈورڈز کالج سے گریجویشن مکمل کی جبکہ بعدازاں تاریخ کے مضمون میں ایڈیشنل گریجویشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ربع صدی سے میدان صحافت میں آبلہ پائی کررہے ہیں۔ شعبہ صحافت سے متعلق متعدد ورکشاپس، سیمیناروں اور مذاکروں میں شریک ہوچکے ہیں جبکہ شعبہ صحافت سے متعلق بدلتی ہوئی رتوں کے مطابق نئے تقاضوں سے ہم آہنگی حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات کا سفر کرچکے ہیں۔ لکھنے، لکھانے کا شوق شروع ہی سے تھا جس کے ذریعے جذبات کے اظہار کا خوب موقع میدانِ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد ملا۔ کتاب سے عشق ورثے میں ملا اور یہ سلسلہ بدستور قائم ہے۔ لکھنے لکھانے کا شوق کتابوں کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ڈھالنے کی طرف بھی لے آیا اور زیر مطالعہ کتاب اسی شوق کی عکاس ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450153251001,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e64abbc6f5741583655868.jpg?v=1785784385"},{"product_id":"masla-e-falasteen-مسئلہ-فلسطین","title":"MASLA E FALASTEEN  مسئلہ فلسطین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمصنّف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی مباحث... صیہونیت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آئی؟ یہودیوں نے اس کے فروغ کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے؟ مغربی سیاست دانوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھائے؟ نام نہاد لبرل دانشوروں، ناول نگاروں، شاعروں، مقالہ نویسوں، سفرناموں کے مصنفوں اور صیہونیت کے دیگر ہمدردوں نے کیسے فضا ہموار کی؟ خود صیہونیوں نے فلسطین میں آباد ہونے کے لیے کن کن جتنوں سے کام لیا اور اپنے دعاوی کو سچا ثابت کرنے کے لیے کن کن تاویلوں کا سہارا لیا؟ جب اسرائیل قائم ہو گیا تو فلسطینیوں کو کیسے ملک بدر کیا گیا؟ اور تمام تر دعووں کے باوجود انھیں آج تک کیسے درجہ دوم کے شہری بنائے رکھا گیا؟ فلسطینیوں نے تحریکِ آزادی کیسے منظم کی اور فلسطینی شاعروں، کہانی نویسوں، دوسرے ادیبوں، مصنفوں اور دانشوروں نے کیسے اس تحریک کے لیے زمین ہموار کی اور اس کی آبیاری کی؟ پی ایل او اور دوسری تحریکیں کیسے وجود میں آئیں؟ جنگ سڑسٹھ کے کیا نتائج مرتب ہوئے؟ کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے نے کیا گُل کِھلائے؟ فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے فلسطین کے مسئلے کا کیا حل ممکن ہے؟ وغیرہم... کو اپنی کتاب کا موضوع بنایا ہے اور ان پر جو سیر حاصل بحث کی ہے، وہ ہمیں اس مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے میں بہت مدد دیتی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس مسئلے کو پہلی مرتبہ صحیح انداز سے پیش کیا گیا ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی یہ کتاب صیہونیت کے اصل چہرے سے نقاب سرکانے اور اس ضمن میں مغرب کے نام نہاد لبرل سیاست دانوں اور دانش وروں نے جو مکروہ کردار ادا کیا ہے، اس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑنے کی غرض سے لکھی تھی۔ وہ اپنے اس مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صیہونیوں نے یہ کتاب ہی بازار سے غائب کرا دی، اب تو کسی خوش نصیب کو ہی دستیاب ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بیت المقدس اور مصر کے سکولوں میں حاصل کی، پھر وہ امریکا چلے آئے۔ بی اے انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں کیا۔ ایڈورڈ سعید نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اسی یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ یہاں انھوں نے Bowdoin انعام بھی حاصل کیا۔ 1974ء میں ایڈورڈ سعید ہارورڈ یونیورسٹی میں تقابلی ادب کے مہمان پروفیسر تھے۔ 1975-76ء میں انھوں نے سٹین فورڈ یونیورسٹی کے نفسیات اور کرداری علوم کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں فیلو کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ 1977ء میں انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں ادبی تنقید پر لیکچر دیے۔ 1979ء میں وہ ایک اور مشہور امریکی یونیورسٹی جان ہا پکنز کے شعبہ انسانیات میں مہمان پروفیسر تھے۔ بعدازاں وہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر رہے۔ انھیں مشہور ناول نگار کونریڈ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کی کتب آٹھ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور یورپ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں چھپ چکی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی نے اپنا پہلا سالانہ ٹریلنگ (Trilling)انعام انھیں ان کی کتاب ’’Beginnings: Intention \u0026amp; Method‘‘ پر دیا۔ 1978ء میں امریکا کے نیشنل بک کرٹکس سرکل ایوارڈ کے شعبۂ تنقید کے مقابلے میں ان کی کتاب ’’Orientalism‘‘ دوسرے نمبر پر آئی۔ ان کی دیگر کتب میں ’’Literature and Society‘‘ اور ’’Conrad and the Fiction of Autobiography‘‘ شامل ہیں۔ محمد حسن عسکری اور فیض احمد فیض نے ایڈورڈ سعید کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا ہے۔ خود ایڈورڈسعید نے بیروت میں فیض احمد فیض سے اپنی ملاقات کا ذکر بڑے پیار سے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے۔ یہ مضمون انگلستان کے ایک رسالے ’’گرانٹا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ فلسطینیوں کا پُرزور طریقے سے مؤقف پیش کرنے کی پاداش میں صیہونی ان پر زبانی ہی نہیں بلکہ جسمانی حملے بھی کر چکے ہیں۔ ایڈورڈ سعید فلسطینی قومی کونسل کے رُکن بھی رہے۔ اُن کی وفات 25ستمبر 2003ء کو نیویارک شہر میں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450162360505,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6048c84d593681615382605.jpg?v=1785784608"},{"product_id":"khuda-kay-liyay-jang-خدا-کے-لیے-جنگ","title":"KHUDA KAY LIYAY JANG  خدا کے لیے جنگ","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eکیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ 14 نومبر 1944ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ سترہ سال کی عمر میں سلسلہ یسوعیہ میں راہبہ بننے کے لیے داخل ہوئیں۔ راہبہ کے ان سات سالوں میں سخت جسمانی و ذہنی اذیتیں اٹھانے کے بعد انہوں نے اس روحانی سلسلے کو خیرباد کہا اور ایک آپ بیتی لکھی جس سے وہ بہت جلد دُنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ بعدازاں بی بی سی چینل فور کے لیے سینٹ پال پر ایک دستاویزی فلم بنائی جس دوران میں انہیں سامی مذاہب پر دلچسپی پیدا ہوئی۔ کیرن کی کتب کا موضوع و مقصد دُنیا بھر کے بڑے مذاہب خاص کر اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا ایسا مطالعہ پیش کرنا ہے جس سے ان مذاہب کے ماننے والوں کی آپس میں قربت پیدا ہو۔ انہیں مذہبی موضوعات پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والے مصنفہ کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ان کی اب تک 26 کتب شائع ہو چکی ہیں۔ کیرن کی بیسٹ سیلر کتاب ’خدا کے لیے جنگ‘ پر دی نیویارک ٹائمز کا یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ’’یہ کتاب یہودیت، عیسائیت اور اِسلام میں بنیاد پرست تحریکوں کے عروج کی تاریخ میں سب سے متاثر کن، لائق مطالعہ اور شاندار تحریروں میں سے ہے۔‘‘\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450170355897,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66064fc4ac9f81711689668.jpg?v=1785784787"},{"product_id":"meri-jaddojahd-میری-جدوجہد","title":"MERI JADDOJAHD  میری جدوجہد","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450188542137,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6721c897e0e1785143752.jpg?v=1785785185"},{"product_id":"suleiman-aali-shan-سلیمان-عالیشان","title":"SULEIMAN AALI-SHAN  سلیمان عالیشان","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامریکی مؤرخ، فلمی منظرنگار، افسانہ نگار اور ناول نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (1892 -1962ء) الپائن، نیوجرسی (امریکا) میں پیدا ہوئے۔کولمبیا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران ایشیا کی قوموں اور تاریخ میں دلچسپی لینا شروع کی۔ لیم نے شروع سے ہی اپنی تحریر کو ذریعۂ معاش بنایا۔ جلد ہی معروف ایڈونچر میگزین کے لیے لکھنا شروع کر دیا اور انیس سال تک اپنی افسانہ نگاری کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 1927ء میں چنگیزخان کی سوانح عمری تحریر کی جس کی کامیابی کے بعد اپنی توجہ افسانہ نگاری سے ہٹا کر دیگر اصناف پر مرکوز کردی۔ اپنی وفات تک انہوں نے بے شمار سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر ڈالیں۔ دو جلدوں پر مشتمل کتاب\"Crusades\"کی کامیابی سے متاثر ہو کر سیسل بی ڈی ملی نے لیم کو صلیبی جنگوں سے متعلق فلم کے لیے اپنا مشیر مقرر کیا اور دوسری کئی فلموں میں بطورسکرین رائٹر استعمال کیا۔ لیم فرانسیسی، لاطینی، فارسی اور عربی زبانیں روانی سے بول سکتے تھے۔ لیم کی نثر سادہ اور اس کے ہمعصر مصنّفین سے صریحاً مختلف تھی۔ کہانیاں گہری تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور تحریروں میں بسا اوقات ایسے حقیقی تاریخی کرداروں کی عکاسی ہوتی تھی جو ان کے مغربی قارئین کے لیے انوکھے ہوتے تھے۔ انہوں نے غیرملکی یا نامانوس ثقافتوں کی منفی خاکہ کشی کے سہل پسندانہ رجحان سے اجتناب کیا۔ ان کے بہت سے ہیرو منگول، ہندوستانی، رُوسی یا مسلمان تھے۔ مزیدبرآں وہ غیرملکی یا تہذیب سے ناآشنا تھے اور ان میں سے بیشتر ماہر شمشیرزن اور جنگجو تھے۔ پاک و ہند میں ہیرلڈ لیم کی کئی کتابوں کو اُردو زبان میں منتقل کیا گیا۔ صلاح الدین ایوبی، امیرتیمور، چنگیز خان، سکندراعظم، سلیمان عالیشان، بابر دی ٹائیگر، ہینی بال، نور محل، قسطنطنیہ، کورش اعظم، منگول اور ان کا سردار، تاتاریوں کی یلغار اور خلت قزاق شاندار اُردو تراجم کے باعث خاصی مشہور ہوئیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450201747641,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5feb080b4fc561609238539.jpg?v=1785785450"},{"product_id":"amir-temur-jiss-ne-dunya-hila-dali-امیر-تیمور-جس-نے-دنیا-ہلا-ڈالی","title":"AMIR TEMUR: JISS NE DUNYA HILA DALI  امیر تیمور، جس نے دنیا ہلا ڈالی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہیرلڈلیم کی مشہور کتاب ’’Tamerlane: The Earth Shaker‘‘ کا اُردو ترجمہ جب پہلی بار شائع ہوا تو، چونکہ لوگ اس مایہ ناز مؤرّخ کو اس کے افسانوی اندازِ بیان کی وجہ سے ناول نگار سمجھتے تھے، اس کتاب کو بھی ایک ناول سمجھا گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا ناول نہیں ہے جس کے واقعات کا تانا بانا تیمور کے گرد بُنا گیا ہو بلکہ یہ تاریخی ادب کا ایک غیرفانی شاہکار ہے۔ اس کے اوراق پر لرزندۂ جہاں، صاحبقراں، امیرتیمور گورگاں، فاتح ایشیا کی قلمی تصویر ہیرلڈلیم نے اس قدر چابکدستی سے کھینچی ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ اندازِ بیاں بےشک قصّہ گوئی کا سا ہے مگر ہر واقعہ پوری تصدیق اور چھان بین کے بعد لکھا ہے اور سونے پر سہاگا یہ ہے کہ اس کے مآخذ تیمور کے دور کی فارسی اور دیگر زبانوں کی تاریخیں یا تذکرے ہیں۔ یوں اس کتاب کو تیمور جیسی اہم تاریخی شخصیت کی ایک ایسی مستند سوانح حیات کا درجہ حاصل ہو گیا ہے جس میں مؤرخانہ اندازِ نگارش کی عمومی خشکی نہیں پائی جاتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eازبکستان کے ایک شہر ’سبز‘ میں 9مارچ 1346ء میں امیر تیمور کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ ایک بہت بڑا فاتح ہوگا جس نے دنیا کا مالک بننا چاہا۔ اُس نے جس کام میں ہاتھ ڈالا کامیابی اس کا مقدر بن گئی۔ آدھی دنیا سے زیادہ کو یکے بعد دیگرے مغلوب کر کے فتح حاصل کی از سر نو تعمیر کی۔اس بات کو تاریخ فراموش نہیں کرسکتی کہ دنیا کے بڑے فاتحین میں امیر تیمور سب سے آخری فاتح تھا۔ جتنی جنگیں ہوئیں ان میں فتح کامل حاصل کی صرف ایک بڑی سلطنت باقی رہ گئی تھی جسے فتح کرنے کا ارادہ تھا مگر موت نے اُسے مہلت نہ دی۔سر پرسی سائیلس تیمور کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تیمور نے جو کام کئے، وہ ایشیا کے فاتحوں میں سے کسی دوسرے سے تاریخی زمانے میں عمل میں نہیں آئے۔ اس لئے جو شہرت تیمور کو حاصل ہوئی اس کا مستحق کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ تیمور نے جو کچھ حاصل کیا وہ اس حد کے قریب پہنچا ہوا نظر آتا ہے جسے انسان کی قدرت سے بالا تر کہا جاتا ہے۔‘‘مولانا اشرف الدین لکھتے ہیں: ’’ہمت اور شجاعت نے تیمور کو تمام تاتار کی شہنشاہی پر ممتاز کیا اور اشیاء کو اس کے زیرنگیں کر دیا۔ جس قدر امور سلطنت پیش آئے اُس نے بذات خود انجام دئیے حتیٰ کہ ایک کیشئر تک نہیں رکھا، وہ ہر ایک کے حق میں فیاض تھا۔‘‘اس کتاب میں مصنف ہیر لڈلیم ہے۔ کتاب کا ترجمہ محترم محمد عنایت اللہ صاحب نے کیا ہے جس کے لئے وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جس مہارت سے قارئین کے سامنے کتاب پیش کی ہے۔ انہی کا خاصہ ہے۔ تحریر میں کہیں جھول نہیں۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لئے ایک عہد کی عکاسی کرانے میں کامیاب ہیں۔ تیمور کے بچپن کا جائزہ لیتے اور قدم قدم آگے بڑھتے ہوئے اس کے بعد کی مکمل تاریخ پیش کرتے ہیں۔ قاری کو لمحہ بھر کتاب سے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتے۔ کتاب کو ۳۳ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں تقریباً تیس (۳۰) نادر شاہکار تصاویر قارئین کی توجہ کی مرکز بنیں گی۔ تیمور کی زندگی سامنے عیاں ہوجائے گی۔ ناشران بک کارنر شو روم نے ایک نئی سج دھج کے ساتھ ادبی، تحقیقی حوالوں سے جو کتابیں شائع کی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اتنی خوب صورت کتابیں آپ کی نظر سے پہلے نہ گزری ہوں گی اس کتاب کو ضرور خریدیے، گھر کی زینت بنائیے۔ (صغیرہ بانو شیریں)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450214691001,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/628f80a65a84c1653571750.jpg?v=1785785621"},{"product_id":"dastan-e-harem-saraa-داستان-حرم-سرا","title":"DASTAN E HAREM SARAA  داستان حرم سرا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنشاط خانم جارجیا کے ایک مسلمان قبیلے کے سردار کی لڑکی تھی۔ خوبصورت، سمن بر، پری پیکر۔ اس کے جمال و رعنائی کو آسمان کے تارے جُھک جُھککر دیکھتے تھے۔ اس کی برنائی اور زیبائی کے سامنے چاند ماند تھا۔ وہ شہسوار تھی، قادر انداز تھی۔ وہ وادیوں کی سیر کرتی، کوہستانی علاقوں میں بُوئے گل کی طرح عنبر افشانی کرتی لیکن ایک روز اس کی شاندار حویلی پر قزاقوں نے حملہ کیا۔ وفادار اور جاںنثار خادمائوں اور غلاموں نے خون کے آخری قطرے تک حقِ وفا نبھایا۔ خود نشاط خانم آخر وقت تک بندوق اور پستول چلاتی رہی۔ آخر وہ گرفتار کر لی گئی۔ گرفتار ہو کر غلاموں کے بازار میں پہنچی، نیلام ہوا، اور سَو اشرفی میں وہ خرید لی گئی۔ وہ قسطنطنیہ لے جائی گئی جو خلافتِ عثمانیہ اور حکومتِ ترکیہ کا پایۂ تخت تھا۔ یہاں وہ حَرم سرا میں باندی کی حیثیت سے داخل ہوئی اور ایک روز سلطان عبدالحمید ثانی کی منظورِ نظر بن کر نہ صرف حَرم سرا کی ملکہ، بلکہ سارے مُلک کی فرماںروا بن گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقسمت کا کھیل! .....عثمانی سلطان اور اس کی حَرم سرا کے بارے میں افواہوں، سازشوں اور جھوٹ پر مبنی بہت سی داستانیں انگریزوں نے لکھی ہیں، جن کا ایک حرف بھی سچ نہیں۔ نشاط سلطانہ نے اپنی سرگزشتِ حیات \"My Harem Life\" کے نام سے لکھی ہے جو دلچسپ بھی ہے، سبق آموز بھی اور عبرت انگیز بھی! یہ ناول بھی ہے اور تاریخ بھی!.....ناول سے زیادہ دلچسپ اور تاریخ کی طرح مستند!.....اس میں محلات کی سازشیں، حَرم سرا کی زندگی، ترکوں میں آزادی اور استقلال کی تحریک، سلطان کی معزولی، نئی حکومت کے قیام اور نئی ترک عورت کی کہانی نشاط خانم نے لکھ کر قلم توڑ دیا ہے۔ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ شروع کرنے کے بعد ختم کیے بغیر چین نہیں آ سکتا۔ (رئیس احمد جعفری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعثمانی سلطنت کی شیرازہ بندی ٹوٹی تو کتنے ہی کردار بکھر کر رہ گئے۔ کچھ تاریخ کی سرخیوں میں آئے، کچھ کے ماتھوں پر ذلت رقم کر دی گئی اور چند بد نصیب ایسے بھی ٹھہرے جنھیں تاریخ نے اپنے صفحات میں جگہ بھی دینا مناسب نہیں سمجھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب کی مصنفہ عثمانی سلطنت کا ایسا ہی کردار ہے جو اپنی شناخت کھو کر طاقِ نسیان میں دھرا ہے۔ نشاط سلطانہ کی شناخت اس حد تک گُم ہوچکی ہے کہ اس کی لکھی خودنوشت \"My Harem Life\" کا بطور حوالہ بھی کسی کتاب میں ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط سلطانہ کون تھی، یہ تحقیق طلب مسئلہ ہے۔سرِدست اس کی اپنی خودنوشت کے مطالعے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ جارجیا کے کوہستانی علاقے کی رہنے والی تھی جسے رہزنوں نے اغوا کر کے استنبول کے بازارِ غلاماں میں لا بیچا اور یہاں اس کا خریدار کوئی اور نہیں بلکہ حرمِ عثمانیہ کے چیف خواجہ سرا قیزلر آغا کا معاون تھا، جس نے اسے حرمِ سلطانی کے لیے پیش کر دیا۔ یہ’ خرید ‘ والدۂ سلطان پرستو قادین کی نظر میں پسندیدہ ٹھہری اور انھوں نے نشاط کی شاہی آداب میں تربیت اور مختلف فنون و علوم سکھانے میں خصوصی دلچسپی لینا شروع کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنشاط جو اغوا کے بعد اپنے نصیب کی سیاہ بختی پر کُڑھتی و شاکی رہتی تھی، یک لخت اوجِ کمال کی سیڑھیاں چڑھنے لگی اور ترقی کے مختلف مدارج طے کرتے کرتے حرم سرا میں مناسبات کے شعبے کی انچارج بنا دی گئی؛ اب اس کی مرضی کے بغیر نہ تو حرم سرا سے کوئی گزارش باہر جا سکتی تھی، نہ کسی کی عرض داشت منظور ہو سکتی تھی۔ مستزاد یہ کہ سازشوں و رقابتوں سے رچے اس ماحول میں وہ اپنی صاف دلی کے سبب والدۂ سلطان کے بہت قریب ہوگئی، جو عثمانیوں کی حرم سرا میں سب سے مقتدر ہستی تھیں۔ والدۂ سلطان پرستو قادین نے نشاط کو اپنے لے پالک بیٹے اور چونتیسویں عثمانی سلطان، عبدالحمید ثانی کو پیش کیا جسے سلطان نے قبولیت بخشی۔ یہ نشاط سلطانہ کا اوج تھا... اونچائی کی وہ حد جس کے بعد زوال منہ کھولے کھڑا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلطان عبدالحمید ثانی کا آسان ترین تعارف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ عثمانی سلطنت کا اورنگ زیب عالمگیر تھا، یعنی اس کا آخری ’مقتدر‘ بادشاہ۔ افسردہ آنکھوں والا یہ سلطان جس پر بچپن سے ہی الم ناکی نے اپنا جالا بننا شروع کر دیا تھا کہ اس کی سگی ماں بچپن میں ہی چل بسی، سگے بہن بھائی بھی زندگی کی چند بہاروں سے زیادہ نہ دیکھ سکے اور جب تخت ملا تو پے در پے مشکلات نے سلطان کی اقتدار پر گرفت کمزور کر دی۔ پھسلتی ریت کو مُٹھی میں رکھنے کے لیے جتنا زور سلطان نے لگایا، اس نے سلطنت کی چولیں ہلا دیں۔ سیاسی حالات ایسےگنجلک ہوئے کہ سلطان کو معزول کر کے سالونیکا (Salonica) ’جلا وطن‘ کر دیا گیا اور نشاط سلطانہ، جس کا ستارہ اوجِ کمال پر پہنچا ہی تھا، یک لخت ڈوب گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ عرصہ قبل موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی اہلیہ کے اس بیان نے ترکی و یورپی پریس میں خاصی ہلچل مچائی کہ عثمانی سلاطین کی حَرم سرا ایک تعلیمی انسٹیٹیوشن اور اچھی چیز تھی۔ خاتونِ اوّل کا یہ بیان اس کتاب میں درج واقعات کی روشنی میں خاصا درست معلوم ہوتا ہے۔ اخبارات میں ہوئی تنقید کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یورپی مستشرقین نے عثمانیوں کی حَرم سرا کو اپنے تخیل کی قباحتوں سے خوب ’رنگین ‘ کیا ہے، جب کہ درحقیقت حرم سرا ایک ایسا عزلت خانہ تھا جس کے بارے میں استنبول کے باسی بھی زیادہ نہیں جانتے تھے، چہ جائیکہ سینکڑوں میل دُور یورپی دارالحکومتوں میں بیٹھے علما کو درست خبر مہیا ہوتی۔ یہ تو عام، سب کی دیکھی بھالی بات ہے کہ جس چیز کے بارے میں معلومات کم ہوں اور تجسس زیادہ ہو تو خبروں کےاس فقدان کو افواہ سازی و رنگین کاری سے پُر کیا جاتا ہے کہ کچھ تو گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ یہی ستم عثمانی حَرم سرا پر بھی ڈھایا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جو دانستہ یا نا دانستہ، مصدقہ یا غیر مصدقہ باتیں عثمانی حَرم سرا پر لکھی گئیں تھیں، امتدادِ زمانہ نے ان کو تاریخ کے مسند پر بٹھا کر سچ کی سند عطا کر دی ہے۔ حَرم سرا کا تاثر عوام میں کچھ اس ڈھب کا بن چکا ہے کہ جب بھی حَرم سرا کا ذکر ہو تو اس قصے کو سنجیدہ محفلوں میں دوہرایا نہیں جا سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۹۰۵ء میں سلطان عبدالحمید ثانی کے ہی دَور میں ترکی کی معاشرت پر خالد خلیل کی یادداشتیں \"The Diary of a Turk\" کے نام سے منظر عام پر آئی (اس کا اُردو ترجمہ بھی بک کارنر کے پلیٹ فارم سے جلد ہی ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے)، اس کتاب میںخالد خلیل نے حَرم سرا کا منظرنامہ کچھ ان الفاظ میں پیش کیا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ترکی میں وہ حصۂ مکان جہاں مستورات رہتی ہیں حرم کہلاتا ہے اور مردوں کے حصۂ مکان کو سلاملق کہتے ہیں جو کہ عام ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ گو مکان کی تمام مستورات کو مجموعی طور پر حَرم ہی کہتے ہیں تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ سب صاحبِ خانہ کی بیبیاں ہیں۔ ہر شخص کی زوجہ، والدہ، ہمشیرہ، دختر نیز وہ عورتیں جو شرعاً بلانقاب اس کے سامنے ہو سکتی ہوں، اس کے حرم میں داخل ہیں۔ ہر خاندان میں مفصلۂ ذیل اشخاص کو حرم سرا میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ صاحبِ خانہ، اس کے بیٹے، والد، خسر اور نسبتی بھائی۔ بڑے بڑے شہروں مثل قسطنطنیہ، سمرنا اور ادرنہ میں لوگ اپنے دُور کے رشتے داروں کو بھی اندر جانے کی اجازت دے سکتے ہیں اور جو کہ یورپین رسم و رواج اختیار کرتے ہیں، اپنے گہرے دوستوں کو بھی داخل کر سکتے ہیں، لیکن پرانی وضع کے خاندانوں میں جو کہ آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، صاحبِ خانہ کا کوئی مرد رشتے دار تیرہ یا چودہ برس کی عمر کے بعد حرم سرا میں نہیں جانے پاتا اگر اس سے اور دختر صاحبِ خانہ یا دوسری قابل نکاح لڑکیوں سے شادی ہونا ممکن ہو۔ یہ پابندیاں متمول اشخاص میں زیادہ تر ہیں۔ ایسے خاندانوں میں حرم سرا اور مردان خانہ میں ایک گھومنے والی الماری کے ذریعہ سے کاروبار عمل میں آتا ہے اور پارسل اور کھانے کے برتن منگائے یا بھیجے جاتے ہیں۔ یہ الماری اس دیوار میں سوراخ کر کے لگائی جاتی ہے جو کہ مردان خانہ کو حرم سرا سے جدا کرتی ہے۔ عورتوں کو مردوں کی نظر سے بچانے کے لیے ایک اور ترکیب یہ کی جاتی ہے کہ حرم سرا کی کھڑکیوں میں جالی لگاتے ہیں جس کا یہ منشا ہوتا ہے کہ عورتیں تو باہر کی ہر شے اس جالی کے پیچھے سے دیکھ سکتی ہیں، لیکن کوئی مرد قریب کی سڑکوں، باغوں اور مکانوں سے انھیں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو میں غالباً عثمانیوں کی شاہی حَرم سرا سے معنون کوئی بھرپور کتاب موجود نہیں۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی حیثیت بارش کے پہلے قطرے کی سی ہے جو تاریخ کی ’تحریف شدہ‘ زمین پر جب پڑے گا تو اسے صاف توکرے گا ہی، کیا پتا مذکورہ موضوع پر مزید تحقیق کا شوق ابھارنے میں بھی ثمر آور ثابت ہوسکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو اُردو میں جناب رئیس احمد جعفری مرحوم نے ترجمہ کیا ہے جو اپنی سند آپ ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ کتاب ۱۹۵۹ء میں ’’سلطانہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ ادارہ بک کارنر نے محنت، سلیقے اور خوب صورتی کے ساتھ بامقصد کتب کی اشاعت کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے اور کتاب کے اس ایڈیشن کو نایاب تصاویر سے مزین، تسہیل و تصحیح کے ساتھ اور رائج اُردو املا سے ہم آہنگ کر کے، مکمل حروف خوانی کے بعد خوب صورت طور پر شائع کر رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس کام میں ان کا معاون بن سکا۔ (سلمان خالد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450221473977,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b9fc955951785313788.jpg?v=1785785814"},{"product_id":"agar-mujhe-qatal-kia-gaya-اگر-مجھے-قتل-کیا-گیا","title":"AGAR MUJHE QATAL KIA GAYA  اگر مجھے قتل کیا گیا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبھٹو کی کتاب ’’اگر مجھے قتل کیا گیا....‘‘ کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ترجمے سے پہلے قارئین کرام میری چند ضروری معروضات کو ضرور پڑھ لیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصےسے اس کتاب کاشہرہ رہا ہے۔ یہ کتاب بھٹو مرحوم نے جیل کی اس کوٹھڑی میں لکھی جو اُن لوگوں کے لیےمخصوص کی ہوتی ہے جنھیں موت کی سزا دی جانی ہو۔ راولپنڈی جیل میں موت کی وہ کوٹھڑی جہاں شہید بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور یہ کتاب کاغذوں کو گھٹنوںپررکھ کر مکمل کی کہ انھیں وہاں لکھنے پڑھنےکی سہولتیں حاصل نہیں تھیں، مٹی اور اینٹوں سےبنی ہوئی وہ کوٹھڑی تو مارشل لا کے حکمران نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میںمسمار کروا دی۔ لیکن اس کوٹھڑی میں لکھی گئی یہ کتاب موت کی اس کوٹھڑی کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو اور غیرملکی زبانوں میں جیل میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد خاصی ہے اور ان میں سے بعض کو دائمی اہمیت اور شہرت بھی حاصل ہوئی ہے۔ حبسیات کے حوالےسے بھٹو مرحوم کی یہ کتاب ان زندہ رہنے والی کتابوں میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصے تک اس کتاب کو دبایا گیا۔ پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت جنرل ضیاء الحق کے حکم سے ممنوع قراردی گئی۔ اسے شائع کرناجرم تھا۔ اسے فوٹو سٹیٹ اور دستی نقل کی صورت میں رکھنا، پڑھنا اور تقسیم کرنا ایسا جرم تھا جس کی سزا کوڑے اور جیل کی کوٹھڑی ہو سکتی تھی۔ ایک دو ایسے پریس جہاں اسے شائع کرنے کی کوشش کی گئی وہاں چھاپے پڑے۔ ان کے مالکوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پریس بھی ضبط کرلیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیا کےمارشل لا کے دور میں مرحوم بھٹو کی زندگی میں ان کی کردار کشی اور سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کومتاثر کرنے کےلیے فوجی ٹولےنے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی حکومت کی طرف سےان کی اور ان کے حکومت کےخلاف وائٹ پیپر شائع کیے جائیں۔ یہ ایک گھنائونی چال تھی، جو جان لیوا دشمنی پر ہی مبنی نہیں تھی بلکہ اس کےذریعے سپریم کورٹ کے ججوں، پاکستان کے عوام اور عالمی رائےعامہ کو بھی گمراہ کرنامقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے شائع، جاری اور تقسیم کیے جانے والے دو وائٹ پیپرز کاجواب اس کتاب میں دیا ہے۔ اس کےبعد تین جلدیں مزیدشائع ہوئیں، جن کا جواب بھٹو مرحوم نہ دے سکے کیونکہ ان کی زندگی کی ڈوری پھانسی کے پھندے کے ذریعے کاٹ دی گئی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹومرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے مرتب کردہ ان وائٹ پیپرز کی دو جلدوں کا جواب سپریم کورٹ میں پیش کرنےکے لیے لکھاتھا۔ سپریم کورٹ نے اس اہم دستاویز کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ایساکیوں ہوا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس کے مضمرات بھی اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ بہرحال مارشل لا حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آگئی کہ بھٹو مرحوم کے اس جواب کو دبایا اور نیست و نابود کر دیا جائے۔ اپنی جگہ یہ طرزِ عمل کتنا گھنائونا ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قدم قدم پراسلام کانام لینے والے اور قرآنی آیات پڑھنے والے جنرل ضیاء الحق کو یہ سیدھا سادہ انسانی، اخلاقی، مذہبی اور قانونی اصول یادنہ رہا کہ ملزم کو جواب دینے کا ہرطرح کاحق حاصل ہوتا ہے اور اسے اس حق سےمحروم کرنے والا دین و دُنیا دونوں لحاظ سےخود بہت بڑا مجرم اور گناہ گار ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لیے پاکستانی عوام جدوجہد کرتے اور متجسس رہے۔ فوٹو سٹیٹ کاپیوں کی صورت میں یہ خفیہ طورپر پڑھی جاتی رہی۔ یہ فوٹو سٹیٹ کاپیاں نامکمل اور ناقص تھیں۔ دوسری طرف پڑوسی ملک بھارت میںاس کتاب کو موقع پرستوںاور تاجروںنےاپنے انداز میں استعمال کیا۔ اس اہم ترین تحریرکے ناقص اور نامکمل اردوترجمے ہوئے،انھیں بڑےناقص انداز میں شائع کیاگیا۔ انگریزی میںبھی اسے بہت سے ناشروں نے ادھورا ہی شائع کرکے پڑھنے والوں کے تجسس اور ذوق کامالی استحصال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی صورت میں پہلی بار بھٹو مرحوم کی اوریجنل تحریر کا مکمل اور پورا اُردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ مستندکتاب سے کیا گیا ہے، جو بھٹو مرحوم کی ہی اپنی تحریر تھی، اس میںکوئی شبہ نہیں کیاجاسکتا۔جب بھٹو مرحوم نے یہ تحریر راولپنڈی جیل کی موت کی کوٹھڑی میں لکھی اور اب جب اس کا پہلا ترجمہ آپ تک پہنچ رہا ہے تو وقت کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی تیزی سے بہہ چکاہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیاء الحق اپنے خوفناک انجام سے دوچار ہوچکا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی حکمرانی ہے اور بھٹو مرحوم کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کےہاتھوں میں ملک کی قیادت آچکی ہے۔یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ محترمہ بےنظیربھٹو کو پاکستان کی قیادت 1988ء میں ملی تواس وقت کاپاکستان 1970ء کے پاکستان سےبھی زیادہ شکستہ اور کمزور حالت میں ہے جب جناب بھٹو نےملک کی قیادت سنبھالی تھی۔ بہرحال یہ ایک عظیم چیلنج ہے، جس کاسامنا محترمہ بے نظیر بھٹو کو کرنا پڑ رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹو مرحوم کی اس آخری طویل اور مکمل تحریر کا ترجمہ بذاتِ خود ایک کربناک تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ قارئین بھی جب بھٹو مرحوم کی اس تحریرکوپڑھیں گے تو بہت کرب اور بے چینی محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیںگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اگرمجھے قتل کیا گیا....‘‘ ایک عہدِ تاریک کاآئینہ ہے۔ جس میںایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبیہوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ بھٹو مرحوم یہ کتاب لکھتے ہوئے کس کرب سے گزرے ہوں گے۔ لکھنےپڑھنے کی سہولتوں کے فقدان کے باوجود انھوںنے یہ کتاب جس انداز میںلکھی ہے، یہ اپنی جگہ بڑا اہم کارنامہ ہے۔ بھٹو مرحوم اپنے ہی الفاظ کےمطابق ہمیشہ سے ایک شاعر اور انقلابی تھے۔ یہ کتاب، اس کا طرزِ اسلوب، اس کی نثر ثابت کرتے ہیں کہ بھٹو واقعی ایک شاعر اور انقلابی ہے۔ اس کتاب میں شعریت اور انقلاب کا ایک ایسا امتزاج ملتاہے جس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ طرز ِاسلوب کسی مصنّف کی اصل پہچان اور رُوح ہوتا ہے۔ اس میں انفرادیت حاصل کرنا سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ بھٹو مرحوم اس کتاب کی نثر اور طرزِ اسلوب کےحوالے سے اس کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین دور کا تجزیہ ہے۔ اس سازش کا قصہ ہے جس نےایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس میںہمیں بہت سےچہرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چہرے جو اَب بساطِ ہستی سے غائب ہوچکے ہیں اور کچھ اب بھی موجود ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں جن کا مطالعہ لرزا دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کو ضیاء الحق کے دور میں اس لیے بڑی سختی سے دبایا گیا کہ بھٹو مرحوم نےجو انکشافات کیے تھے اس کا جواب نہیں دیاجاسکتاتھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بھٹو کی نابغیت پوری شان سے جھلکتی ہے۔ ان کا علم، تجربہ، بےپناہ حافظہ اور بات کہنے کا اسلوب پورے عروج پر ملتا ہے۔ ایک قانون دان اور عظیم عوامی سیاست دان کی حیثیت سے بھی یہ کتاب ان کا روشن پہلو ہمارے سامنےلاتی ہے۔ یہ کتاب ان کی بےپناہ ذہانت اور ذکا وت، ملک کے عوام کے ساتھ دردمندی کو ظاہر کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں، اس پر میں اس لیے کچھ نہیں کہوں گا کہ 1978ء میں لکھی جانے والی اس کتاب نے آج 1989ء تک بھٹو کے تجزیے اور بصیرت پر صداقت کی گئی مہریں ثبت کر دی ہیں۔ بھٹو مرحوم نے معروضیت کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ اپنی حکومت کی خامیاں بڑی دلیری سے پیش کی ہیں۔ خوداحتسابی کا اظہار بےباکی سےملتا ہے اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ ایک عظیم رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سچّے محبّ وطن پاکستانی کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔یہ کتاب سچّے واقعات اور کرداروں کا دلچسپ لرزہ خیزاظہار کرتی ہے۔ جب بھٹو عوامی اور فلسفیانہ دانش کے امتزاج سےطنز کرتے ہیں توان کی تحریر کا حُسن نکھر کر، سامنے آتا ہے۔ بھٹو کی طنز بڑی طاقتور ہے۔ کیونکہ یہ طنز حقائق پر مشتمل ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کا مطالعہ ایک بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت میں نے پوری کوشش کی ہے کہ بھٹو کا طرزِ اسلوب بھی جس حدتک ممکن ہو سکے اُردو میں منتقل کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے امورجو بعد میں سامنے آئےان کی وضاحت کردی گئی ہے، تاکہ قاری اس کتاب کے آئینے میں پوری تصویر دیکھ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس میں مجھے کس حدتک کامیابی ہوئی ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والے ہی کر سکیں گے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستّار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاہور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22 اپریل 1989ء\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450228617401,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6249ef4938e7d1649012553.jpg?v=1785785972"},{"product_id":"preshan-hona-choriyay-jeena-seekhiyay-پریشان-ہونا-چھوڑئیے-جینا-سیکھئے","title":"PRESHAN HONA CHORIYAY JEENA SEEKHIYAY  پریشان ہونا چھوڑئیے جینا سیکھئے!","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیل کارنیگی، پیدائش، 24 نومبر 1888ء، مِسوری امریکا۔ کئی عالمی لیڈروں کے پسندیدہ مشیر، امریکا کے ستر اخباروں میں مخصوص موضوعات پر لکھنے والے کالم نگار، ممتاز لیکچرار اور مصنف۔ سٹیٹ ٹیچرز کالج وارینزبرگ میں 1904ء سے لے کر 1908ء، امریکن اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس نیویارک میں 1911ء، کولمبیا یونیورسٹی گریجوایٹ سکول آف جرنلزم میں 1913ء اور نیو یارک یونیورسٹی جرنلزم سے 1914ء میں تعلیم حاصل کی۔ برسوں سے ڈیل کارنیگی کا نام احباب کو گرویدہ اور لوگوں کو متاثر کرنے کے سلسلے میں لیا جا رہا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیلزمین اور معروف لیکچرار کے طور پر نیویارک جاتے اورYMCA کے ارکان کو کمیونی کیشنز کی تعلیم دیتے۔ 1912ء میں بین الاقوامی سطح پر ’’ڈیل کارنیگی کورس‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ نیٹ ورک آج دُنیا کے ستر سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس میں تین ہزار سے زائد انسٹرکٹرز شامل ہیں۔ اس کورس کے ذریعے لوگوں نے اپنی پوشیدہ خوبیاں بروئے کار لا کر ازسرِ نور ایک حوصلہ مند، پُرمسرت اور کامیاب زندگی کا آغاز کیا۔ ڈیل کارنیگی کی شہرۂ آفاق کتاب \"How to Stop Worrying and Start Living\" کی دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں کروڑوں کی تعداد میں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں جسے پڑھ کر لوگ پریشان رہنے کی عادت پر قابو پا چکے ہیں۔ اِس کتاب میں ڈیل کارنیگی اُن عملی اُصولوں کا ایک مجموعہ پیش کرتے ہیں جو آج اکیسویں صدی کی برق رفتار دُنیا میں بھی قابلِ عمل ہے۔ یہ اُصول عمر کے ہر حصے میں فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ اس کتاب کے پبلشر ’’سائمن اینڈ شسٹر‘‘ اور نہ ہی ڈیل کارنیگی کو اس کے زیادہ فروخت ہونے کی توقع تھی لیکن وہ اس وقت حیران رہ گئے جب اس کتا ب نے را تو ں رات کچھ یوں مقبولیت حاصل کی کہ پریس کو عوا م کی بڑ ھتی ہو ئی طلب کو پو را کرنے کے لیے اس کتا ب کے ایڈیشن پر ایڈیشن چھاپنے پڑ گئے اور اس کتا ب نے پریس کی تاریخ میں بیسٹ سیلر کا اعزاز حا صل کر لیا۔ اُردو میں ڈیل کارنیگی کی کتابیں ’’پریشان ہونا چھوڑئیے جینا سیکھئے‘‘، ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘، ’’گفتگو تقریر ایک فن‘‘، کامیاب لوگوں کی دِلچسپ باتیں‘‘، ’’39 بڑے آدمی‘‘ اور ’’مانیں نہ مانیں‘‘ کے نام سے ترجمہ ہوئیں۔ ڈیل کارنیگی کی کتابوں کی 6کروڑ سے زائد کاپیاں دُنیا کی 38 زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ دُنیا بھر میں کروڑوں افراد اِن کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں اور ان اصو لو ں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو نہایت خوشگوار اور پُرسکون بنائے ہوئے ہیں۔ ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ اَب تک 16ملین سے زائد فروخت ہونے والی کتاب کا درجہ پا چکی ہے۔ ڈیل کارنیگی 66 برس کی عمر میں ہاجکن کا مرض لاحق ہونے سے انتقال کر گئے۔ انھیں یکم نومبر1955ء کو فارسٹ ہلز نیویارک میں دفن کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450237104313,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6723f74f8201785144311.jpg?v=1785786107"},{"product_id":"meethay-bol-may-jadu-hai-میٹھے-بول-میں-جادو-ہے","title":"MEETHAY BOL MAY JADU HAI  میٹھے بول میں جادو ہے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیل کارنیگی، پیدائش، 24 نومبر 1888ء، مِسوری امریکا۔ کئی عالمی لیڈروں کے پسندیدہ مشیر، امریکا کے ستر اخباروں میں مخصوص موضوعات پر لکھنے والے کالم نگار، ممتاز لیکچرار اور مصنف۔ سٹیٹ ٹیچرز کالج وارینزبرگ میں 1904ء سے لے کر 1908ء، امریکن اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس نیویارک میں 1911ء، کولمبیا یونیورسٹی گریجوایٹ سکول آف جرنلزم میں 1913ء اور نیو یارک یونیورسٹی جرنلزم سے 1914ء میں تعلیم حاصل کی۔ برسوں سے ڈیل کارنیگی کا نام احباب کو گرویدہ اور لوگوں کو متاثر کرنے کے سلسلے میں لیا جا رہا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیلزمین اور معروف لیکچرار کے طور پر نیویارک جاتے اورYMCA کے ارکان کو کمیونی کیشنز کی تعلیم دیتے۔ 1912ء میں بین الاقوامی سطح پر ’’ڈیل کارنیگی کورس‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ نیٹ ورک آج دُنیا کے ستر سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس میں تین ہزار سے زائد انسٹرکٹرز شامل ہیں۔ اس کورس کے ذریعے لوگوں نے اپنی پوشیدہ خوبیاں بروئے کار لا کر ازسرِ نور ایک حوصلہ مند، پُرمسرت اور کامیاب زندگی کا آغاز کیا۔ ڈیل کارنیگی کی شہرۂ آفاق کتاب \"How to Stop Worrying and Start Living\" کی دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں کروڑوں کی تعداد میں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں جسے پڑھ کر لوگ پریشان رہنے کی عادت پر قابو پا چکے ہیں۔ اِس کتاب میں ڈیل کارنیگی اُن عملی اُصولوں کا ایک مجموعہ پیش کرتے ہیں جو آج اکیسویں صدی کی برق رفتار دُنیا میں بھی قابلِ عمل ہے۔ یہ اُصول عمر کے ہر حصے میں فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ اس کتاب کے پبلشر ’’سائمن اینڈ شسٹر‘‘ اور نہ ہی ڈیل کارنیگی کو اس کے زیادہ فروخت ہونے کی توقع تھی لیکن وہ اس وقت حیران رہ گئے جب اس کتا ب نے را تو ں رات کچھ یوں مقبولیت حاصل کی کہ پریس کو عوا م کی بڑ ھتی ہو ئی طلب کو پو را کرنے کے لیے اس کتا ب کے ایڈیشن پر ایڈیشن چھاپنے پڑ گئے اور اس کتا ب نے پریس کی تاریخ میں بیسٹ سیلر کا اعزاز حا صل کر لیا۔ اُردو میں ڈیل کارنیگی کی کتابیں ’’پریشان ہونا چھوڑئیے جینا سیکھئے‘‘، ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘، ’’گفتگو تقریر ایک فن‘‘، کامیاب لوگوں کی دِلچسپ باتیں‘‘، ’’39 بڑے آدمی‘‘ اور ’’مانیں نہ مانیں‘‘ کے نام سے ترجمہ ہوئیں۔ ڈیل کارنیگی کی کتابوں کی 6کروڑ سے زائد کاپیاں دُنیا کی 38 زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ دُنیا بھر میں کروڑوں افراد اِن کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں اور ان اصو لو ں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو نہایت خوشگوار اور پُرسکون بنائے ہوئے ہیں۔ ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ اَب تک 16ملین سے زائد فروخت ہونے والی کتاب کا درجہ پا چکی ہے۔ ڈیل کارنیگی 66 برس کی عمر میں ہاجکن کا مرض لاحق ہونے سے انتقال کر گئے۔ انھیں یکم نومبر1955ء کو فارسٹ ہلز نیویارک میں دفن کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450243363001,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/622769af0cc171646750127.jpg?v=1785786292"},{"product_id":"39-baray-aadmi-39-بڑے-آدمی","title":"39 BARAY AADMI 39 بڑے آدمی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیل کارنیگی، پیدائش، 24 نومبر 1888ء، مِسوری امریکا۔ کئی عالمی لیڈروں کے پسندیدہ مشیر، امریکا کے ستر اخباروں میں مخصوص موضوعات پر لکھنے والے کالم نگار، ممتاز لیکچرار اور مصنف۔ سٹیٹ ٹیچرز کالج وارینزبرگ میں 1904ء سے لے کر 1908ء، امریکن اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹس نیویارک میں 1911ء، کولمبیا یونیورسٹی گریجوایٹ سکول آف جرنلزم میں 1913ء اور نیو یارک یونیورسٹی جرنلزم سے 1914ء میں تعلیم حاصل کی۔ برسوں سے ڈیل کارنیگی کا نام احباب کو گرویدہ اور لوگوں کو متاثر کرنے کے سلسلے میں لیا جا رہا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیلزمین اور معروف لیکچرار کے طور پر نیویارک جاتے اورYMCA کے ارکان کو کمیونی کیشنز کی تعلیم دیتے۔ 1912ء میں بین الاقوامی سطح پر ’’ڈیل کارنیگی کورس‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ نیٹ ورک آج دُنیا کے ستر سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس میں تین ہزار سے زائد انسٹرکٹرز شامل ہیں۔ اس کورس کے ذریعے لوگوں نے اپنی پوشیدہ خوبیاں بروئے کار لا کر ازسرِ نور ایک حوصلہ مند، پُرمسرت اور کامیاب زندگی کا آغاز کیا۔ ڈیل کارنیگی کی شہرۂ آفاق کتاب \"How to Stop Worrying and Start Living\" کی دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں کروڑوں کی تعداد میں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں جسے پڑھ کر لوگ پریشان رہنے کی عادت پر قابو پا چکے ہیں۔ اِس کتاب میں ڈیل کارنیگی اُن عملی اُصولوں کا ایک مجموعہ پیش کرتے ہیں جو آج اکیسویں صدی کی برق رفتار دُنیا میں بھی قابلِ عمل ہے۔ یہ اُصول عمر کے ہر حصے میں فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ اس کتاب کے پبلشر ’’سائمن اینڈ شسٹر‘‘ اور نہ ہی ڈیل کارنیگی کو اس کے زیادہ فروخت ہونے کی توقع تھی لیکن وہ اس وقت حیران رہ گئے جب اس کتا ب نے را تو ں رات کچھ یوں مقبولیت حاصل کی کہ پریس کو عوا م کی بڑ ھتی ہو ئی طلب کو پو را کرنے کے لیے اس کتا ب کے ایڈیشن پر ایڈیشن چھاپنے پڑ گئے اور اس کتا ب نے پریس کی تاریخ میں بیسٹ سیلر کا اعزاز حا صل کر لیا۔ اُردو میں ڈیل کارنیگی کی کتابیں ’’پریشان ہونا چھوڑئیے جینا سیکھئے‘‘، ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘، ’’گفتگو تقریر ایک فن‘‘، کامیاب لوگوں کی دِلچسپ باتیں‘‘، ’’39 بڑے آدمی‘‘ اور ’’مانیں نہ مانیں‘‘ کے نام سے ترجمہ ہوئیں۔ ڈیل کارنیگی کی کتابوں کی 6کروڑ سے زائد کاپیاں دُنیا کی 38 زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ دُنیا بھر میں کروڑوں افراد اِن کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں اور ان اصو لو ں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو نہایت خوشگوار اور پُرسکون بنائے ہوئے ہیں۔ ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ اَب تک 16ملین سے زائد فروخت ہونے والی کتاب کا درجہ پا چکی ہے۔ ڈیل کارنیگی 66 برس کی عمر میں ہاجکن کا مرض لاحق ہونے سے انتقال کر گئے۔ انھیں یکم نومبر1955ء کو فارسٹ ہلز نیویارک میں دفن کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجاوید شاہین، نام اختر جاوید اور تخلص شاہین۔ شاعر، ناول نگار، نقاد، مترجم۔ 28 اکتوبر 1932ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد خاندان نقلِ وطن کر کے ضلع سیالکوٹ میں آباد ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور پھر لاہور ہی کے ہوکر رہ گئے۔ جاوید شاہین خُوب رُو تو تھے ہی، جوانی میں ان پر بھی فلمی ہیرو بننے کا بھوت سوار ہوا اور بمبئی چل پڑے۔ وہاں ساحر لدھیانوی کے مہمان بنے اور کیفی اعظمی، شاہد لطیف، یش چوپڑا اور گرودت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن کا احوال انھوں نے اپنی آپ بیتی ’’میرے ماہ و سال‘‘ میں بیان کیا ہے۔ لیکن زبان میں لُکنت کی وجہ سے انھیں فلم میں کام نہ مل سکا۔ گورنمنٹ کالج میں تعلیم کے دوران جاوید شاہین کو مظفر علی سید، حنیف رامے اور شہزاد احمد کی صحبت نصیب ہوئی۔ حنیف رامے نے ان سے ڈیل کارنیگی کی کتابیں ترجمہ کرائیں۔ روس کے انقلابی لیڈر لیون ٹراٹسکی کی سوانح عمری \"My Life\" کا اُردو ترجمہ اُن کا ایک اہم کارنامہ تھا۔ کلیئرنس ڈے کی مشہور زمانہ کتاب \"Life with Father\" کا ترجمہ ’’ذاتِ گرامی‘‘ کے عنوان سے کیا۔ شاعری میں جاوید شاہین نے نظم پر زیادہ توجہ دی، غزل کو ثانوی حیثیت دی۔ بعد میں وہ نثری نظم کے ایک اہم نمائندے اور علم بردار بن کر اُبھرے اور کار زارِ ادب میں کئی معرکوں کے مرکزی کردار بنے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’زخمِ مسلسل کی ہری شاخ‘‘، ’’صبح سے ملاقات‘‘، ’’محراب میں آنکھیں‘‘، ’’دیر سے نکلنے والا دن‘‘، ’’نیکیوں سے خالی شہر‘‘ اور ’’ہوا کا وعدہ‘‘ شامل ہیں۔ 1993ء میں ان کی شعری کلیات شائع ہوئی تو اسے ’’عشق تمام‘‘ کا معنی خیز عنوان دِیا۔ ان کی دیگر تخلیقات میں ’’ایک دیوار کی دوری‘‘ (ناول)، ’’میرے ماہ وسال‘‘ (خودنوشت سوانح عمری)، ’’آٹھ غزل گو‘‘ (تنقید) اور ’’ہندو کش کے قبائل‘‘ شامل ہیں۔ جاوید شاہین کو محکمہ بلدیات میں ملازمت ملی اور ضلعی افسر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ ان کی ادبی حیثیت کے اعتراف میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ جاوید شاہین 23 اکتوبر 2008ء کو اسلام آباد میں وفات پا گئے اور لاہور کے قبرستان میانی صاحب میں سپردِ خاک ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450249588921,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6437a16a5e11e1681367402.jpg?v=1785786501"},{"product_id":"pur-asar-logon-ki-chay-aadaat-پر-اثر-لوگوں-کی-چھ-عادات","title":"PUR ASAR LOGON KI CHAY AADAAT  پر اثر لوگوں کی چھ عادات","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003ePur Asar Logon Ki Chay Aadaat\u003cbr\u003eAn authorised Urdu translation of “The Six Value Medals”\u003cbr\u003eby Edward De Bono\u003cbr\u003eTans. by Muhammad Hamid Rana\u003cbr\u003eJhelum: Book Corner. 2020\u003cbr\u003e224p.\u003cbr\u003e1. Character Building - Self Help\u003cbr\u003eISBN: 978-969-662-266-6\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eایڈورڈ ڈِی بونو 19 مئی 1933ء کو مالٹا میں پیدا ہوئے۔ وہ ہمارے عہد کے مقبول ترین مصنّفین میں سے ایک ہیں۔ طب کے ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ PHD اور MD ہیں۔ وہ ماہرِنفسیات، فلسفی، موجد اور مفکر کے طور پر معروف ہیں۔ وہ ذہن کو سوچنے کی تربیت دینے میں خاص شہرت رکھتے ہیں۔ دُنیا بھر میں انہیں لیکچرز کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ذہنِ انسانی کی مفکرانہ اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ڈاکٹر ڈی بونو نے عملی اور سادہ طریقے دریافت کیے ہیں۔ ان کی کتابیں دُنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں (Best Sellers) میں شامل ہیں۔ بونو کو سب سے زیادہ مقبولیت ان کی کتاب \"Six Thinking Hats\" سے ملی جس کا ترجمہ ’’سوچ کے نرالے ڈھنگ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اپنی اس کتاب \"The Six Value Medals\"میں انہوں نے ایسا طریقہ دیا ہے جس سے ہم اشیا اور مظاہر کی تمام اقدار (Values) سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اُردو قالب میں منتقل کرتے ہوئے اس کتاب کا نام ’’پُراثر لوگوں کی سات عادات‘‘ رکھا گیا ہے اور ان چھ تمغوں (Six Medals)کو آسان پیرائے میں سمجھایا ہے کہ کامیاب اور پُراثر لوگ کیسے چیزوں کو ان کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈی بونو کا خیال ہے کہ سوچنے کا عمل ایک مہارت کے طور پر سیکھا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ وہ اس خیال کے بھی حامی ہیں کہ ’’سوچ کے ڈھنگ‘‘ بطورِمضمون سکولوں میں پڑھایا جائے۔ سوچنے کی سرگرمی کو منظم و منضبط کر کے سائنسی خطوط پر استوار کرنے میں ڈاکٹر ڈی بونو کا کام اساسی نوعیت کا ہے۔ انہیں اس اہم کام کی وجہ سے دُنیابھر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ڈی بونو نومبر 2003ء میں دو روزہ دورے پر پاکستان بھی آ چکے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eپیش لفظ\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eزندگی میں ہمارا واسطہ کئی طرح کی اشیا سے پڑتا ہے۔ اِسی طرح کوئی فیصلہ کرتے وقت کئی اقسام کے مختلف نکات ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ اِن اشیا یا نکات کی قدر و قیمت (Value) ایک جیسی یا ایک جتنی نہیں ہوتی۔ پھر یہ قدر و قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ عام طور پر ہم اشیا اور نکات کو تو پیشِ نظر رکھ لیتے ہیں لیکن ہر شے یا نکتے کی الگ الگ قدر (Value) کو مدِّنظر نہیں رکھ پاتے۔ اسی لیے ڈاکٹر ایڈورڈ ڈی بونو نے اپنی کتاب \"The Six Value Medals\"میں ایسا طریقہ دیا ہے جس سے ہم اشیا اور مظاہر کی تمام اقدار (Values) سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔\u003cbr\u003eایک مثال پر غور کریں !\u003cbr\u003eایک بےروزگار نوجوان شخص کو کسی دُور دراز شہر میں نوکری ملتی ہے۔ اُسے یہ نوکری طویل انتظار کے بعد ملی ہے۔ ظاہر ہے اس نوجوان کے لیے نوکری کی قدر (Value) بہت زیادہ ہے، لہٰذا غالب امکان ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر دُور دراز کے شہر میں جاکر نوکری جائن کر لے گا۔ دوسری طرف ایک ادھیڑ عمر شخص ہے جس کے بچے جوان ہو رہے ہیں، اُس کا گھر میں رہنا خاندان کے لیے مفید ہے۔ وہ اپنے شہر میں رہ کر نوکری کرنا پسند کرے گا تاکہ شام کو بچوں اور بیوی کے پاس گھر آ سکے۔ ظاہر ہے اس کے نزدیک گھر میں رہنے کی ویلیو، نوکری سے بڑھ کر ہے۔ اب اگر یہی شخص گھر کے اخراجات پورے نہ کر پا رہا ہو تو وہ دُور دراز بھی نوکری کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ اس صورت میں گھر کے اخراجات کے لیے کمانا، بچوں کے پاس رہنے سے زیادہ قدر کا حامل ہو گا۔ اس صورت میں اس کی Value Judgement مختلف ہوگی۔ دراصل ہر شخص مختلف قدروں (Values) کو اپنے حساب سے دیکھتا ہے۔\u003cbr\u003eایک اور مثال دیکھیں!\u003cbr\u003eکسی ہائوسنگ سوسائٹی میں اگر ایک بہت بڑا دیدہ زیب فوارہ نصب کر دیا جائے اور ایک جھیل بنادی جائے تو ان چیزوں کے اضافے سے پوری کالونی کی Value بڑھ جائے گی۔ مکینوں کو تفریح کے شاندار مواقع ملیں گے، ساتھ ہی ساتھ کالونی کے مکانوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ اس عمل کو اصطلاح میں Value Addition کہتے ہیں۔\u003cbr\u003eایڈورڈ ڈی بونو نے ہمیں مختلف اشیا، مظاہر، فیصلوں اور منصوبوں کے اقداری جائزے سے آگاہ کیا ہے تاکہ ہم مختلف طرح کے فوائد اور اہمیتوں سے آگاہ ہوکر چیزوں کی صحیح قدروقیمت (Value) جان سکیں۔ کئی بار ہم کسی ایک پہلو کو ضرورت سے زیادہ قدروقیمت دے بیٹھتے ہیں، حالاںکہ وہ پہلو اہم ہونے کے باوجود اتنی زیادہ قدر و قیمت کا اہل نہیں ہوتا۔ اس ’’غلط بخشی‘‘ سے ہمیں نقصان بھی ہو سکتا ہے۔\u003cbr\u003eایڈورڈ ڈی بونو نے مختلف اقسام کی اقدار (Values) کے لیے الگ الگ میٹریل (Material) سے بنے میڈلز (Medals) کی علامتیں استعمال کی ہیں۔ اس سے اقداری پیمانے سمجھنے سے بہت مدد ملتی ہے۔ مثلاً سونے کا تمغا (Gold Medal) اعلیٰ انسانی قدروں کے لیے اور چاندی کا تمغا تنظیمی و ادارہ جاتی امور میں روپے پیسے سے متعلق ہے۔ ظاہر ہے آمدن اور منافع کے بغیر بھی ادارے اور زندگی نہیں چلتی۔ دیگر میڈلز (تمغے) بھی اسی طرح دوسری اقدار کی علامتیں ہیں۔\u003cbr\u003eمیں نے اِس کتاب پر نظر ثانی کی ہے۔ بعض جگہوں پر ترجمے کو سہل، رواں اور واضح کرنے کی خاطر تبدیلیاں بھی کیں۔ میں نے اس کتاب کو بےحد مفید پایا۔ دراصل ترجمے کا کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کام ایک تہذیب کی علمی ترقی دوسری تہذیب تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ اُردو کے قارئین کا بھی حق ہے دوسرے ملکوں کی جدید علمی و سماجی ترقی سے فائدہ اٹھائیں۔\u003cbr\u003eاسی لیے اُردو قالب میں منتقل کرتے ہوئے اس کتاب کا نام ’’پُراثر لوگوں کی سات عادات‘‘ رکھا گیا ہے اور ان چھ تمغوں (Six Medals)کو آسان پیرائے میں سمجھایا ہے کہ کامیاب اور پُراثر لوگ کیسے چیزوں کو ان کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر ایڈورڈ ڈی بونو نے ذہنی استعداد بڑھانے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ تنظیمی صلاحیتوں میں اضافے اور فیصلہ سازی کو آسان کرنے میں خاطر خواہ کام کیا ہے۔ ترجمہ نگار محمدحامدرانا نے یہ ترجمہ خوبی اور مہارت سے کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین اس کتاب سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنے کاروباری، سماجی، ذاتی منصوبوں میں اقدار کی اہمیت کے مطابق فیصلے کر سکتے ہیں۔ میں نے خود بھی ڈی بونو کی ایک کتاب \"Six Thinking Hats\"کا اُردو ترجمہ ’’سوچ کے نرالے ڈھنگ‘‘ کے عنوان پر کیا ہے جسے ’’بک کارنر‘‘ نے بہت خوبصورتی سے شائع کیا ہے۔ اس بنا پر بلاخوفِ تردید یہ کہہ سکتا ہوں کہ ڈی بونو کا کام اساسی نوعیت کا ہے اور اس سے دُنیا بھر میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔\u003cbr\u003eزیرِ نظر کتاب میں مصنّف نے جابجا مفید مثالیں دیں تاکہ بات سمجھ میں آسکے۔ میں قارئین سے التماس کرتا ہوں کہ کتاب کو غور سے پڑھیں اور اپنی زندگیوں میں اقداری جائزے (Value Assessment) کو شامل کریں۔ اس سے ہر چیز اپنی درُست افادیت کے ساتھ ہمارے سامنے آئے گی۔ میں کتاب کے مترجم برادرم محمد حامد رانا کے ساتھ ساتھ ادارہ بک کارنر کی بھی تحسین کرتا ہوں کہ انھوں نے یہ علمی کام سر انجام دیا۔\u003cbr\u003eادارہ بک کارنر (جہلم) کے امر شاہد اور گگن شاہد علمی خزانوں کی طباعت و اشاعت کا ایک خاص سلیقہ رکھتے ہیں۔ دوسری زبانوں کی مفید اور اہم علمی و ادبی کتابوں کا اُردو ترجمہ شائع کرنے میں بھی اس ادارے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ اس طرح علم و ادب کے متوالوں کے لیے معیاری اور خوش نما کتابوں کی اشاعت ہوتی رہے۔ بک کارنر، امر شاہد، گگن شاہد اور محمد حامد رانا کے لیے حرفِ تحسین پیش کرتا ہوں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمیجر (ر) شہزاد نیر\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450258272441,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5ed7bcc70ed731591196871.jpg?v=1785786784"},{"product_id":"khoobsurat-zehan-خوبصورت-ذہن","title":"KHOOBSURAT ZEHAN  خوبصورت ذہن","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eKhoobsurat Zehan\u003cbr\u003eAn authorised Urdu translation of\u003cbr\u003e“How to Have A Beautiful Mind”\u003cbr\u003eby Edward De Bono\u003cbr\u003eTans. by Laiba Khan\u003cbr\u003eJhelum: Book Corner. 2020\u003cbr\u003e296p.\u003cbr\u003e1. Mind Sciences - Self Help\u003cbr\u003eISBN: 978-969-662-268-0\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eہم اپنے جسم کو مزید پُرکشش بنانے کے لیے لباس، کاسمیٹکس، غذا اور ورزش…\u003cbr\u003eحتیٰ کہ سرجری پر بھی اپنی دولت کا اچھا خاصا حصہ صَرف کر دیتے ہیں۔ تاہم ایک\u003cbr\u003eخوبصورت ذہن ایسی انمول دولت ہے جسے ہم بہت کم خاطر میں لاتے ہیں مگر یہ ہر خاص و عام\u003cbr\u003eکی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے، جب کہ خوبصورت ذہن کو اپنے حصول کے لیے نہ تو کسی رقم\u003cbr\u003eکی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر خوبصورت ترین\u003cbr\u003eشخص بھی خوبصورت ذہن کے بغیر اپنی ساری دلکشی کھو دیتا ہے۔ آپ خواہ کتنی ہی\u003cbr\u003eچونکا دینے والی شخصیت کے مالک ہوں، لیکن اگر آپ کا ذہن یکسانیت کا\u003cbr\u003eشکار ہے تو اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی کہ آپ کسی بھی\u003cbr\u003eصورتِ حال میں دوسروں کو متاثر کر پائیں گے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eخوبصورت ذہن کے حصول کے لیے اعلیٰ آئی کیو (IQ)، علم کے ذخیرے یا عظیم\u003cbr\u003eشخصیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی ضرورت تو صرف تخلیقی صلاحیت، تخیل اور ہمدردی ہے…\u003cbr\u003eیہ تمام ایسی تکنیکیں ہیں جنھیں عام آدمی بھی سیکھ سکتا ہے۔ ایڈورڈ ڈِی بونو پوری دُنیا میں لوگوں\u003cbr\u003eکے سوچنے کے انداز کو تبدیل کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اس کتاب میں وہ آپ کو واضح اور\u003cbr\u003eعملی زبان میں لوگوں کو آسان گفتگو سے متاثر کرنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکیا آپ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے؟\u003cbr\u003eاگر ایسا ہے تو ڈِی بونو کے مشورے پر عمل کریں: جب تک آپ اسے آزمائیں گے نہیں\u003cbr\u003eآپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ آپ کی زندگی میں کتنا بڑا انقلاب لا سکتا ہے!!\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003cbr\u003eلائبہ خان شعبۂ تعلیم میں بحیثیت استاد اور ٹرینر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی ادب کے علاوہ ایم ایڈ اور لسانیات میں ڈپلومہ کر رکھا ہے۔ وہ نہ صرف ملکی و غیر ملکی تحریروں کی پُرشوق قاری ہیں بلکہ خود بھی لکھنے کے فن سے شغف رکھتی ہیں۔ اگرچہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے پیش نظر وہ بہت کم لکھتی ہیں لیکن ان کی تحریریں مختلف سوشل میڈیا یا فورمز بشمول ’’ممتاز مفتی آن لائن فورم‘‘ اور معروف ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ سیلف ہیلپ لٹریچر کی بہت بڑی مدّاح ہیں۔ ترجمہ نگاری میں انھوں نے ترجیحاً سہل اسلوب اختیار کیا ہے اور پوری کوشش کی ہے کہ اصل متن کا حسن قائم رہے تاکہ قاری اور مصنف دونوں کا حق ادا کیا جاسکے۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450268201145,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5ed7bb740bd0d1591196532.jpg?v=1785786925"},{"product_id":"firdausi-فردوسی","title":"FIRDAUSI  فردوسی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eلاہور کے زمانۂ قیام میں ایک روز معظمی سیّد غلام عباس صاحب قبلہ سے فردوسی کا ذکر آگیا۔ موصوف نے مجھ سے فردوسی کے سوانح حیات پر کوئی افسانوی کتاب لکھنے کی فرمائش کی اور اپنی تحقیق کے مطابق بہت سی باتیں نوٹ کرائیں۔ ہندوستان پہنچ کر میں نے اس سلسلہ کی کئی کتب کا مطالعہ کیا اور واقعات میں راویوں کا اس قدر اختلاف پایا کہ قوتِ فیصلہ جواب دینے لگی۔ بالآخر علامہ شبلی کی ’’شعرالعجم‘‘ کو رہبر بنانا پڑا مگر بعض مقامات پر عقل نے علامہ مرحوم کی رائے سے اتفاق نہ کیا۔ اس لیے خود فردوسی کی قیادت کی ضرورت محسوس ہوئی اور شاہنامہ کے چیدہ چیدہ اشعار سے داستان مرتب کرنا پڑی۔ جہاں تک شاہنامہ کی ابتدا کا تعلق ہے بلاشک و شبہ وہ طُوس میں ہوئی۔ ایرانیوں کی وطنیت اور فردوسی کا مذاقِ سلیم اس کا محرک ہوا۔ آغازِ تصنیف کا سال قرائن سے 365 ہجری قرار پایا ہے۔ کیونکہ فردوسی نے اپنے قول کے مطابق اَسّی سال کی عمر اور 400 ہجری میں شاہنامہ مکمّل کیا اور تصنیف میں پینتیس سال صَرف ہوئے۔ سلطان محمود غزنوی کی تخت نشینی 388ہجری میں ہوئی اور ظاہر ہے کہ اس کے تخت پر بیٹھتے ہی اس قدر شہرت نہ ہوئی ہو گی کہ فردوسی غزنی کا عازم ہو جاتا۔ دو چار سال بعد جب جود و سخا کا آوازہ گونجا تو فردوسی نے بھی ادھر کا رُخ کیا۔ اس لیے فردوسی کی طوس سے روانگی 390 ہجری یا اس کے بعد ہوتی ہے اور شاہنامہ مکمّل ہونے کے فوری بعد اس نے غزنی کو چھوڑ دیا لہٰذا اس کا زمانۂ قیام دس سال سے زائد سمجھ میں نہیں آتا۔ واقعات کے بارے میں نتیجہ اخذ کر کے قلم اُٹھایا تو یہ دشواری سامنے آئی کہ افسانوی کردار اس انداز سے کھیارے جائیں کہ حقائق مسخ نہ ہونے پائیں۔ اس ضمن میں مَیں نے جتنی احتیاط کی ہے اس کا اندازہ تاریخ داں حضرات کر سکیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوحشی محمود آبادی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460361498809,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61950763f34631637156707.jpg?v=1785858422"},{"product_id":"pinjar-پنجر","title":"PINJAR  پنجر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eایک بے بس عورت کی کہانی… امرتاپریتم کی زبانی… عورت جو انتقام کا شکار ہوئی، جو اپنے بیٹے کو ماں کا پیار نہ دے سکی… ساری عمر اپنے گھر، اپنے کنبے اور اپنے منگیتر کو نہ بھلا سکی… اس نے تقسیم کی خوں ریزی میں خود کو خطرے میں ڈالا اور دوسری عورتوں کی عصمت و عفت کی حفاظت کی… لیکن خود اپنے کنبے، اپنی عزت کے گہوارے سے دُور رہی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48509093249209,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/680dd4e744c131745736935.jpg?v=1785949710"},{"product_id":"aik-sawaal-ایک-سوال","title":"AIK SAWAAL  ایک سوال","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپورے گیارہ سال کی نہیں تھی جب ماں فوت ہوئی، ماں کی زندگی کا آخری دن چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کے ساتھ میری یاد میں محفوظ ہے۔ ’’ایک سوال‘‘ ناول میں ناول کا ہیرو جگدیپ مر رہی ماں کے بستر کے پاس جس طرح کھڑا ہے، اسی طرح میں اپنی مر رہی ماں کے بستر کے پاس کھڑی تھی اور میں نے جگدیپ کی مانند دل اور ذہن کی یکسوئی کے ساتھ خدا سے کہا تھا، ’’میری ماں کو نہ مارنا‘‘ اور مجھے بھی اس کی طرح یقین ہوگیا تھا کہ اب میری ماں نہیں مرے گی کیونکہ خدا بچوں کا کہا نہیں ٹالتا… لیکن ماں مر گئی تھی اور میرا بھی جگدیپ کی طرح خدا پر سے اعتقاد اٹھ گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور جس طرح جگدیپ اس ناول میں ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی اور ایک طاق پر رکھی ہوئی دو سُوکھی روٹیوں کو اپنے پاس سنبھال کر رکھ لیتا ہے، ان روٹیوں کو تھوڑا تھوڑا کرکے کئی دن کھاؤں گا، اسی طرح میں نے ان سُوکھی روٹیوں کو پیس کر ایک شیشی میں ڈال لیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۵ مئی ۱۹۷۳ء کو جب دہلی یونیورسٹی نے آنریری ’ڈی لٹ‘ کی ڈگری عطا کی تو گھر آنے پر دیویندر نے اپنی جیب میں کچھ چھپا کر کہا، ’’دیدی! آج کوئی من آئی کرنے کو جی چاہتا ہے، ناراض نہ ہونا۔‘‘ مَیں جواب میں ہنس پڑی تھی، ’’ارے! تیری من آئی جو بھی ہو گی اچھی ہوگی۔‘‘ اور دیویندر نے جیب سے ایک ریشمی رومال، مصری اور اکیس روپے نکال کر کہا، ’’دیدی!آپ کا کوئی باپ یا بھائی ہوتا، کوئی شگن کرتا، یہ شگن ان کی طرف سے۔‘‘ آنکھیں بھر بھر آئیں اور یاد کیا ’’ایک سوال‘‘ ناول میں جب ناول کا ہیرو اپنے باپ کی موت کے بعد اپنی بھرپور جوان سوتیلی ماں کی اپنے ہاتھ سے اس کی من چاہی شادی کر لیتا اور وہ پُر شباب لڑکی تھالی میں روٹی پروس کر کہتی، آؤ ماں بیٹا مل کر کھائیں، تو وہ روٹی کا پہلا لقمہ توڑتے ہوئے کہتا ہے، ’’پہلے یہ بتاؤ کہ تم میری ماں لگتی ہو یا بہن لگتی ہو یا میری بیٹی لگتی ہو؟‘‘ تب ناول کا یہ حصہ لکھتے ہوئے دیویندر میرے سامنے نہیں تھا لیکن چودہ سال بعد جب دیویندر نے وہ رومال اور وہ مصری اور وہ روپے میری جھولی میں ڈالے تو میرے دل میں آیا، بول بعینہ وہی تھا، ’’ارے! پہلے یہ بتا، ’’تُو میرا باپ لگتا ہے یا میرا بھائی کہ میرا بیٹا…؟؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنئی دہلی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473822429369,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a67814f739881785168207.jpg?v=1785950542"},{"product_id":"mei-jama-tu-میں-جمع-تو","title":"MEI JAMA TU  میں جمع تو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامروز کے لفظوں میں اگر کوئی امرتا کی تمام تخلیقات، نظمیں، کہانیاں، ناول ترتیب وار سامنے رکھ کر پڑھے تو وہ امرتا کی پوری زندگی کو جان سکتا ہے۔ اگر کوئی چاہے تو اس کی بنیاد پر اس کی سوانح لکھ سکتا ہے اور میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں، اسی لیے میں نے ”رسیدی ٹکٹ“ کے شروع میں لکھا تھا ”جو کچھ پیش آیا وہ سب کا سب نظموں اور ناولوں کے حوالے ہوگیا، پھر باقی کیا بچا۔ اس کے باوجود کچھ سطریں لکھ رہی ہوں، اس طرح جس طرح زندگی کے حساب کتاب کے کاغذوں پر ایک چھوٹا سا رسیدی ٹکٹ لگا رہی ہوں، نظموں اور ناولوں کے حساب کتاب کی کچی رسید کو پکی رسید بنانے کے لیے۔“ ”رسیدی ٹکٹ“ میرے من کی تاریخ ہے، میری تخلیقات کا پس منظر، میری تخلیق کی جنم بھومی، لیکن اگر میں اس میں ترتیب سے ان تخلیقات کے زمانے کو بھی جوڑنے لگتی ان تخلیقات سمیت تو مجھ میں انھیں شائع کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔ اب بھی ناولوں اور کہانیوں کو ایک طرف رکھ کر صرف نظموں کو سامنے رکھا ہے اور وہ بھی صرف ان نظموں کو جن کا تعلق میری نجی زندگی سے ہے۔ حالانکہ لوگوں کے درد کو میں اپنے درد کا ہی حصہ مانتی ہوں۔ میرے مفہوم میں تمام لوگ میرے وجود کی وسعت ہیں لیکن یہاں میں ”نجی زندگی“ کے لفظ کو بڑے محدود معنوں میں، اکہرے معنوں میں صرف ان نظموں کا انتخاب کر رہی ہوں جو کسی خاص شخص کی یعنی ”تو“ کی میری زندگی میں آمد سے متعلق ہیں۔میری زندگی میں پہلی آمد خلا کی تھی جس میں جو کچھ چاہ لیا، جو کچھ تصور کر لیا وہی سوچ گھڑی بھر کے لیے من کی حالت ہوگئی۔ یہ ایک حقیقت کا ایک تصور کے گلے لگ کے باتیں کرنے کا وقت تھا۔ اس عہد کی کچھ نظمیں ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473823248569,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fbfc767627811606403943.jpg?v=1785950626"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/translations.oembed?page=2","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}