{"title":"Urdu Calssics","description":null,"products":[{"product_id":"chehra-ba-chehra-roo-ba-roo-چہرہ-بچہرہ-روبرو","title":"CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ\/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد حمید شاہد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eقرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔\u003cbr\u003e(اسامہ صدیق)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eروہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔\u003cbr\u003e(محمد علی صدیقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔ \u003cbr\u003e(سراج منیر)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432285155513,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1443.jpg?v=1785192590"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436930117817,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432313106617,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69708a458e0251768983109.jpg?v=1785200140"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-paperback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ-copy","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK PAPERBACK EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے پیپربیک ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432313139385,"sku":null,"price":4500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d79351e3f8b1775735633.jpg?v=1785201268"},{"product_id":"aap-beeti-jag-beeti-آپ-بیتی-جگ-بیتی","title":"AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔ \u003cbr\u003eبک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔ \u003cbr\u003eفنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔\u003cbr\u003e(طاہرہ اقبال)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386020540601,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69392b684d5f11765354344.jpg?v=1785286071"},{"product_id":"kai-chand-the-sar-e-asman-3rd-edition-کئی-چاند-تھے-سر-آسماں","title":"KAI CHAND THE SAR-E ASMAN (3RD EDITION)  کئی چاند تھے سر آسماں","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انھیں ’’پدم شری‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور، مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنھوں نے اپنے فن پارے کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی 15 جنوری 1936ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے 1953ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’’شعر شور انگیز‘‘، ’’تفہیمِ غالب‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اُردو غزل کے اہم موڑ‘‘، ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’قبضِ زماں‘‘ اور زیرِ نظر شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کے مصنف ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e----\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمدتوں بعد اُردو میں ایک ایسا ناول آیا ہے جس نے ہند و پاک کی ادبی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیا اس کا مقابلہ اس ہلچل سے کیا جائے جو ’’امرائو جان ادا‘‘ نے اپنے وقت میں پیدا کی تھی؟ اور یہ ناول ایک ایسے شخص کے قلم سے ہے جسے اوّل اوّل ہم نقاد اور محقق کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے بطور ناول نگار خود کو منکشف کیا ہے اور محقق فاروقی یہاں پر ناول نگار فاروقی کو پوری پوری کمک پہنچا رہا ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ تحقیق و تنقید اور تخلیق کا کوئی ساتھ نہیں۔ لیکن زیرِ نظر ناول کو اس بات کی، جسے قاعدئہ کلی کے طور پر دیکھا گیا ہے، استثنائی صورت سمجھنا چاہیے۔ یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے رُوپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں لہٰذا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کچھ الگ طرح کا ناول ہے۔ ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کو جزئیات پر مکمل مہارت ہے۔ انھوں نے وزیر خانم کی زندگی کو اس درجہ لطافت، نزاکت اور تمام باریک جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری تہذیب، جسے ہند مسلم تہذیب کہیے اور اس کے آخری دنوں میں اس کی چمک دمک اور برگ وبار کا پورا نقشہ آجاتا ہے.... اور وزیر خانم کا کردار بھی کیا کردار ہے کہ وہ تنہا اپنی ذات میں اس تہذیب کا مجسم وجود معلوم ہوتی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eانتظار حسین\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437295677625,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64ede6dee1dfa1693312734.jpg?v=1785693329"},{"product_id":"kulyate-habib-jalib-3rd-edition-کلیات-حبیب-جالب-تیسرا-ایڈیشن","title":"KULYATE HABIB JALIB (3RD EDITION)  کلیات حبیب جالب (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکلیات حبیب جالب آپ کے سامنے ہے۔ یہ چھے شعری کتابوں اور تازہ کلام کا مجموعہ ہے جسے پہلی مرتبہ ایک جلد میں یکجا کیا گیا ہے۔ بے شک، یہ حبیب جالب کے کروڑوں چاہنے والوں کے لیے نیا تحفہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاعر اپنی زندگی میں زمانی ترتیب سے کلام کو شائع کرواتا ہے۔ نئی کتاب میں اپنے مدّاحین یا کبھی اپنے پبلشر کے اصرار پر معروف اور مقبول کلام کی مکرر اشاعت بھی بعض اوقات لازم ٹھہرتی ہے۔ حبیب جالب کا کلام اب تک پاکستان و ہندوستان کے مختلف پبلشرز سے شائع ہوتا رہا ہے۔ کچھ منتخب کلام پر مبنی مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں ’’حرفِ حق‘‘ اور ’’حرفِ سرِدار‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ’’حرفِ سرِدار‘‘، اس مجموعے کا تو نام بھی مشتاق احمد یوسفی کا تجویز کردہ تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب جبکہ حبیب جالب کے تمام تر کلام کے حقوق بک کارنر جہلم کو تفویض ہو چکے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ حبیب جالب کی صاحبزادی ’’طاہرہ حبیب جالب‘‘ نے ادارے کے اشاعتی معیار کو سراہتے ہوئے حبیب جالب کے تمام تر مجموعۂ کلام کو یکجا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ادارہ اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اس مجموعے کی اشاعت کو بھی بہت ذمہ داری سے شائع کرنے کا خواہاں ہے۔ لہٰذا اب تک حبیب جالب کے جتنے بھی شعری مجموعے شائع ہوئے انھیں جمع کرنا شروع کیا گیا۔ اس معاملے میں ہم حبیب جالب کے پہلے پبلشر ’’مکتبۂ دانیال‘‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر حُوری نورانی صاحبہ کے بھی شکرگزار ہیں، جنھوں نے اپنے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوں کے ذاتی اور آخری نسخے فراہم کیے۔ چند گوہرِنایاب کی دستیابی میں لاہور سے محترم باقر علی شاہ نے اہم کردار ادا کیا۔ خاص کر کتاب ’’ذکر بہتے خون کا‘‘ وہ فراہم نہ کرتے تو یہ کلیات منہ بسورتی رہ جاتی۔ خدا انھیں سلامت رکھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکلیات کی ترتیب شروع ہوئی۔ فیصلہ کیا کہ حبیب جالب کی کتابوں کو زمانی ترتیب کے ساتھ مجموعہ میں شامل کیا جائے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ ہر کتاب جو اپنی شہرت میں مثال تھی اور جس کا نام آج تک لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے، زندہ رہے گا۔ دوسرا یہ کہ، ابتدا میں ہر کتاب پر لکھا گیا دیباچہ، مقدمہ یا پیش لفظ بھی کتاب کا حصہ ہو گیا جن میں احمد ندیم قاسمی، سبطِ حسن، زاہدہ حنا، مخدوم علی خان اور ڈاکٹر عندلیب شادانی جیسے نامور ادیبوں کی تحریریں شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ ترتیب کوشش کی گئی ہے، جہاں ایک غزل، نظم یا قطعہ دو جگہ شائع ہوا ہے اسے پہلی کتاب میں رکھ کر باقی کتابوں سے نکال دیا گیا ہے تاکہ صفحات کی زیادتی سے قارئین پر قیمت کا بوجھ نہ بڑھے۔ مشہور زمانہ نظم ’’دستور‘‘ کا مصرعہ ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘‘ کتابوں میں دو مختلف طریقوں سے لکھا گیا ہے۔ ایک ویڈیو کلپ میں یہ نظم جب حبیب جالب کی اپنی آواز میں سنی گئی تو یہاں ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘ سنائی دیا، لہٰذا اسے یوں ہی لکھا گیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اس شہرِخرابی میں‘‘ ۱۹۸۷ء میں شائع ہوئی تو یہ حبیب جالب کا آخری شعری مجموعہ ثابت ہوا۔ اس کتاب کے بعد، لگ بھگ ۱۹۹۰ء کے قریب ایک کتاب ’’کلیات حبیب جالب‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جسے منتخب کلام کا مجموعہ تو کہا جا سکتا ہے، کلیات ہر گز نہیں۔ لہٰذا ’’حرفِ حق‘‘ اور ’’حرفِ سرِدار‘‘ سمیت اِن تین مجموعوں میں تمام کتابوں سے کلام منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ ’’تازہ کلام‘‘ بھی اضافہ کیا جاتا رہا جو اِس سے قبل کسی کتاب میں شامل نہ تھا۔ ہم نے اس سارے کلام کو یکجا کر کے موجودہ کلیات میں ’’کلامِ تازہ‘‘ کے عنوان سے ہی ایک باب کی صورت میں اکٹھا کر دیا ہے۔ بلاشبہ یہ تازہ کلام ہی تھا جو آخری چھے سالوں میں لکھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحبیب جالب فلم نگری میں بھی اپنا آپ منوا چکے تھے۔ ’’اِس شہرِ خرابی میں‘‘ شائع ہوئی تو یہ واحد کتاب تھی جس میں منتخب فلمی گیت بھی شامل کیے گئے۔ حبیب جالب کی وفات کے بعد ان کی رفیقۂ حیات محترمہ ممتاز بیگم نے گیتوں کا ایک الگ مجموعہ ’’رقصِ زنجیر‘‘ کے نام سے شائع کروا دیا۔ لہٰذا اس پوری کتاب کو ’’گیت‘‘ کے باب میں آخر میں شامل کر دیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصاحبو!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ اس کلیات کو شائع کر کے ہم کوئی قرض چکا رہے ہیں۔ بات قرض چکانے کی نہیں فرض ادا کرنے کی ہے۔ اب اگر یہ کلام یکجا نہ کیا جاتا تو اُردو ادب کی تاریخ میں ایک بڑا خلا رہ جاتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعوام کے محبوب اور انقلابی شاعر حبیب جالب کی کیا تعریف کروں، جب بڑے بڑے لکھ گئے تو ہمارا کہا کون سا الگ ہو گا۔ بھلا ہو ہمارے بزرگ دوست نندکشور وکرم کا، جنھوں نے حبیب جالب پر ایسا کام کیا جس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ اُن کی ادارت میں دہلی سے شائع ہونے والا ’’عالمی اُردو ادب‘‘ کا خاص شمارہ، جلد نمبر ۹، ’’حبیب جالب، شخصیت اور شاعری‘‘ (اشاعت۱۹۹۴ء ) ایک خاصے کی چیز ہے۔ اس خاص شمارے کی مدد سے نامور ادیبوں کے اعترافات کو مختصراً مختصراً اس کلیات کے آغاز میں سجا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد حبیب جالب کی شخصیت اور کلام کے بارے میں اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش کم ہی رہ گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحبیب جالب کے کلام کی جمع آوری میں وقت تو خاصا لگ گیا۔ مگر ابھی شاید کچھ کلام رہ گیا ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ مزید کچھ کلام دستیاب ہو گیا تو اگلے ایڈیشن میں شامل کر دیا جائے گا۔ قارئین سے بھی ملتمس ہوں کہ اگر کوئی کلام جو اس کلیات میں شائع ہونے سے رہ گیا ہو تو براہِ کرم اس کی عکسی نقل یا حوالے مجھے بھجوا دیجیے گا، میں شکرگزار ہوں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھے امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح ہماری اس کاوش کو بھی آپ کی پسندیدگی اور پذیرائی حاصل رہے گی۔ اپنی آراء سے ضرور آگاہ کرتے رہیے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخدا آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیراندیش\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامر شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437475868857,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697b4b3cb2f4a1769687868.jpg?v=1785694127"},{"product_id":"deputy-nazeer-ahmed-ki-kahani-kuch-un-ki-kuch-meri-zabani-ڈپٹی-نذیر-احمد-کی-کہانی-کچھ-ان-کی-کچھ-میری-زبانی","title":"DEPUTY NAZEER AHMED KI KAHANI: KUCH UN KI KUCH MERI ZABANI  ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی: کچھ ان کی کچھ میری زبانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eDeputy Nazir Ahmad Ki Kahani:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eKuch Un Ki Kuch Meri Zabani\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eby Mirza Farhatullah Baig\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eJhelum: Book Corner. 2020\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e168p.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1. Biography - Urdu Literature\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 978-969-662-257-4\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکون ہے جو ’’نذیر احمد کی کہانی، کچھ اُن کی کچھ میری زبانی‘‘ کو پڑھ کر مرزا فرحت اللہ بیگ کی ظرافت، ذہانت، اُن کے طرزِ ادا، اُن کی بے تکلفی اور آزادہ روی، محبت و خلوص سے متاثر ہوکر اُن کی داد نہ دے گا؟ مولانا نذیر احمد کے حالات پر بہت سے مضامین لکھے گئے مگر کہیں اُن کی زندگی اور سیرت، اخلاق و عادات، اُن کے اوقات و مشاغل اور پرائیویٹ لائف کا وہ نقشہ نظر نہیں آتا جو اِس کہانی میں ہے۔ اِس سچی بائیوگرافی سے گراں بہا فائدے آئندہ نسلوں کو پہنچ سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبابائے اردو مولوی عبدالحق\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمارے یہاں کئی مزاح نگار ایسے ہیں (جیسے شوکت تھانوی، عظیم بیگ چغتائی وغیرہ) جن کے متعلق مختلف لوگوں نے الگ الگ انداز سے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ فلاں مزاح نگار الفاظ سے مزاح پیدا کرتا ہے اور فلاں واقعات کی ترتیب سے اُسے ابھارتا ہے۔ مرزا فرحت اللّٰہ بیگ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اُن کے یہاں یہ دوئی مٹ گئی ہے۔ بیان کا اُسلوب اور واقعات کی ترتیب، یہ اُن کے یہاں یک جان نظر آتے ہیں۔ اُن کی عبارت پڑھ کر یہ احساس پیدا ہی نہیں ہوتا کہ کس مقام پر لفظوں کا کھیل ہے اور کہاں واقعات کے انوکھے پن نے مزاح کی تشکیل کی ہے، اور یہ بڑا کمال ہے اور اِس میں اُن کے شریک کم سے کم لوگ نکلیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرشید حسن خاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی- کچھ اُن کی کچھ میری زبانی‘‘ کا شمار اردو کے اعلیٰ ترین خاکوں ہی میں نہیں اردو کی بہترین تحریروں میں بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چالیس پینتالیس سال سے یہ خاکہ یا اِس کے اقتباسات سکولوں اور کالجوں کے مختلف نصابات میں شامل ہوتے آ رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خلیق انجم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460160336057,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5ed7bded9d7dd1591197165_1.jpg?v=1785855090"},{"product_id":"delhi-ka-yadgar-mushaira-دہلی-کا-ایک-یادگار-مشاعرہ","title":"DELHI KA YADGAR MUSHAIRA  دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460317098169,"sku":"BC SSH","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5c4ef9abb24981548679595.jpg?v=1785855861"},{"product_id":"meri-dastan-میری-داستان","title":"MERI DASTAN  میری داستان","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُردو کے نامور نثر نگار مرزا فرحت اللہ بیگ کی یہ خودنوشت ’’میری داستان‘‘ دراصل ایک ’’دفتربیتی‘‘ ہے جو آپ بیتی کے تمام پہلوؤں کی بجائے صرف ایک پہلو یعنی ان کی دفتری زندگی اور کارناموں پر محیط ہے۔ مرزا صاحب نے انسانی زندگی کو ایک قید سے تعبیر کیا ہے اور اس قید کے پانچ حصے کیے ہیں۔ حصہ اوّل ماں کا پیٹ۔ دوسرا حصہ بڑے بوڑھوں کی قید۔ سوم حصہ مدرسے کی قید۔ چوتھا حصہ نوکری کی قید اور آخری حصہ قبر کی قید۔ یہ تقسیم ان کی بڑی خوش طبعی پر مبنی ہے۔ ’’میری داستان‘‘ اپنے تمام کرداروں کے صحیح تشخص کے باوجود ایک زبردست عوامی میلہ ہے جس میں قہقہے ہیں، چہچہے ہیں، بھیڑ بھاڑ ہے، آدمی پر آدمی گر رہا ہے، ہنڈولے جھول رہے ہیں، چرخ جھوم رہے ہیں، حلوائیوں کی دُکانوں پر مٹھائی کے تھال سجے ہیں، کڑھاؤ چڑھے ہیں، پوریاں تلی جا رہی ہیں، کہیں ناچ گانا ہو رہا ہے، کہیں بھنڈی کی دھوم دھام ہے۔ یہ حسنِ بیان، ذہانت، انشاء پردازی اور ادب عالیہ کا شاہ کار ہیں۔ وفات سے تین سال پہلے یہ روداد مکمل ہو گئی تھی۔ تینتیس برس بعد اشاعت کی نوبت آئی مگر چَھپی نہیں بلکہ چُھپی رہی۔ معدودے چند لوگوں کی نظر سے گزری۔ اکثر لوگ اس کے وجود سے ناواقف تھے۔ نئی اشاعت سے یہ عام پڑھنے والوں تک پہنچ جائے گی اور مرزا صاحب کی زندگی کا اہم حصہ نظروں کے سامنے آ جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460322603193,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6009949bd19e41611240603.jpg?v=1785856113"},{"product_id":"ganj-haye-giran-maya-گنج-ہائے-گراں-مایہ","title":"GANJ HAYE GIRAN MAYA  گنج ہائے گراں مایہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘ کے مضامین میں دو بڑے جذبے اُبھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک جذبۂ رفاقت ہے اور دوسرا احساسِ عظمت۔ یہ دونوں جذبے ’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘ کے بنیادی عناصر ہیں اور رشید احمد کی عظمت کا ثبوت بھی انہی مضامین میں ملتا ہے۔ شاہ سلیمان اشرف اور ایوب پر جو مضامین ہیں اور اسی طرح درجہ بدرجہ جو دیگر مضامین ہیں وہاں بڑی بھرپور حقیقت نگاری کی ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سے تصویریں بنائی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سیّد عبد اللہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو ادب کی دنیا میں آج کوئی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ رشید احمد صدیقی کو نہیں جانتا۔ وہ گنتی کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کو خالص انشا پرداز کہا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجنوں گورکھپوری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاچھی نثر وہ ہے جس میں جھول اور رخنہ نہ ہو جو ذہن اور جذبات دونوں کو اپیل کرے ، جس میں الفاظ ہر طور پر اور قطعیت کے ساتھ شیر و شکر ہوں اور سخت گیر نظم و ضبط کے باوجود شخصیت کی تابناکی، رنگ اور حرکت اس میں دہکتے ہوں۔ رشید صاحب کی نثر میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسلوب احمد انصاری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرشید احمد صدیقی کی تحریریں اُردو زبان و ادب کی آبرو ہیں۔ اُن کی کوئی سطحی تحریر یا چلتا ہوا مضمون میری نظر سے نہیں گزرا۔ اُن کا ہر مقالہ بلند پایہ ہوتا، وہ صاحبِ فکر اور صاحبِ طرز ادیب تھے۔ اپنے اندازِ فکر اور اسلوبِ نگارش میں منفرد۔ جو بات کہی سلیقہ کے ساتھ کہی۔ حُسنِ ابلاغ کے فن سے وہ پوری طرح واقف تھے، اسی لیے اُن کی تحریریں دل نشیں ہوتیں ؎\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو ’پڑھتا‘ ہے اُسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ماہر القادری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھ سے اگر آج پوچھا جائے کہ تمھارے زمانے کے علی گڑھ نے اُردو نثر کو کیا دیا تو میں بے تکلف دو نام لوں گا— رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مختار مسعود)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506218610873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/694fc19baef8c1766834587.jpg?v=1785856249"},{"product_id":"kala-pani-کالا-پانی","title":"KALA PANI  کالا پانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیڑھ سو برس قبل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2 مئی 1864ء کو عدالت میں جج کی آواز گونجی:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتم بہت عقلمند، ذی علم اور قانون دان، اپنے شہر کے نمبردار اور رئیس ہو، تم نے اپنی ساری عقلمندی اور قانون دانی کو سرکار کی مخالفت میں خرچ کیا۔ تمہارے ذریعے سے آدمی اور روپیہ سرکار کے دشمنوں کو جاتا تھا۔ تم نے سوائے انکار بحث کے کچھ حیلتاً بھی خیرخواہی سرکار کا دَم نہیں بھرا اور باوجود فہمائش کے اس کے ثابت کرانے میں کچھ کوشش نہ کی۔ اس واسطے تم کو پھانسی دی جاوے گی۔ میں تم کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر نے بے خوف کہا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’جان لینا اور دینا خدا کا کام ہے، آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ رب العزت قادر ہے کہ میرے مرنے سے پہلے تم کو ہلاک کر دے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ گواہ ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفرؒ کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور جج اگلے چند روز میں دنیا سے سدھار گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1۔15 دسمبر1864ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچیف کورٹ… کا فیصلہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھانسی کی سزا حبسِ دوام بعبور دریائے شور میں تبدیل ہو گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کس کو سزا حبس دوام دی گئی؟ یہ کس قافلے کا رہرو تھا؟ کس تحریک کا امین تھا؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ تحریک سیّد احمد شہیدؒ، جہاد اور تجدید، احیائے دین کی لے کر اُٹھے جس میں سرفروش اپنی گردنیں اپنی ہتھیلیوں پر لیے پھرتے تھے۔ سیّد احمد شہیدؒ نے طاغوت اور لرزتی کانپتی دم توڑتی سکھا شاہی حکومت کے خلاف تلواریں نیام سے نکال کر وقت کے پہیّے کو گھمایا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان شدید ابتلاء و آزمائش میں تھے۔ زندگیاں اجیرن، مساجد اور اسلامی شعائر کی اعلانیہ بے حرمتی کا دور دورہ تھا۔ جہاد کا اصل مقصد، ہدف، منزل حکومت الٰہیہ کا قیام تھا۔ وہ غلامی کی زنجیریں کاٹنے اپنے قافلہ کے ساتھ بالاکوٹ تک پہنچے۔ لیکن زمین پر میرجعفر از بنگال، میر صادق از دکن ننگ دین ننگ ملت ایسے انگریزوں اور سکھوں کے کاسۂ لیس، مسلمانوں کی صفوں میں خیمہ زن تھے۔ انہوں نے اپنے پیادے، وزیر، گھوڑے، مہرے، بساط سیاست پر ترتیب دیے اور چال چلی…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24 ذیقعدہ 1425ھ (6 مئی 1831ء) تاریخ کا وہ روشن دن ہے جس نے سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کو سرفروشوں سمیت جامِ شہادت نوش کرتے دیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیّد احمد شہیدؒ کی تحریک پر قلم رواں ہو تو کہیں پڑاؤ ملے نہ سانس لوں اور میں لکھتا چلا جاؤں، لیکن…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبڑی طویل کہانی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر کبھی اے دوست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے قاری نے 1800ء میں سیّد احمد شہیدؒ کے ساتھ سانس لینا ہے اور اپنی سانسوں میں پاکیزگی رواں رکھنی ہے تو مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ کی ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ کی جلد ششم (حصہ اوّل، دوم) مطالعہ کر لے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا جعفر تھانیسریؒ، سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک کے وہ امین ہیں جنہوں نے اپنی مکمل زندگی، بیوی بچے، اپنا مال اسباب، اپنا آرام، اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکوہِ استقامت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ نے ورق الٹے تو میں نے ایک سو ترپّن سال بعد جانا، جیسے یہ کل کی بات ہے۔ یہ قصہ پارینہ نہیں، بلکہ ورق تازہ ہے جس پر لہو کے چھینٹوں سے نقش گری کی گئی ہے۔ صعوبت اور سختیاں جھیل کر اس ورق تازہ کی جلد بندی ہوئی ہے۔ یہ ضلع انبالہ ہے۔ میں قصبہ تھانیسر میں ہوں۔ میاں جیون ا رائیں قبیلے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپؒ نے اپنے بیٹے کانام جو 1838ء میں پیدا ہوا، محمد جعفر تجویز کیا۔ محمد جعفر کے والد کا جلد انتقال ہو گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولاناؒ کا کہنا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں نے دس برس کی عمر تک کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ اپنے باپ کے فوت ہو جانے کے بعد جبکہ میری عمر دس بارہ برس کی تھی اور میرا چھوٹا بھائی چھ مہینے کا تھا، ہم اپنی والدہ کی سرپرستی میں تربیت پانے لگے۔ میری والدہ بالکل ناخواندہ تھیں۔ انہیں کوئی مذہبی تعلیم نہ دی گئی تھی۔ لڑکپن میں مَیں نے تعلیم کی طرف مطلق توجہ نہ کی اور آزاد پھرتا رہا۔ مجھے تھوڑی سی عقل آ گئی تو تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہی محمد جعفر، میں عرض کر رہا تھا، چشم فلک نے نظارہ دیکھا… سورج کی طرح طلوع ہوا اور تاریخ کے صفحات پر نصف النہار ہو گیا۔ قرآن کریم کے تین پارے حفظ کرنے اور سیکڑوں احادیث مبارکہ قلب میں محفوظ کر لینے والے نمازِ تہجد کے عادی مولوی محمد جعفر تھانیسریؒ نے مروّجہ تعلیم کی تکمیل کے بعد عرائض نویسی شروع کی اور اس میں مہارت کی چوٹی چھو لینے پر وکلاء، عرائض نویس قانون اور اُس کے ضابطوں کے بارے اُن سے رجوع کرنے لگے اور شہرت کو چاند لگنے لگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآزادی کا سفر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم یوں ہی آزاد نہیں ہو گئے۔ 1947ء تک کا سفر بڑا کٹھن، جان لیوا اور اَن گنت سر کٹانے والے سرفروشوں اور مجاہدین کے لہو سے مزیّن ہے۔ وہ جو دار و رسن پر کھینچے گئے اُن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایک مغل شہنشاہ کی بیٹی کے علاج کے سلسلہ میں آنے والا انگریز ڈاکٹر جس نے چوہے کی طرح نہر میں سوراخ کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی سوراخ سے شگاف تک کے مرحلے ٹاپتی ہندوستان پر قابض ہو گئی۔ اس شگاف کو پاٹنے میں جہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے اپنا حق ادا کیا، نواب سراج الدولہ سے علامہ اقبالؒ تک، یہ شاہراہ سرخ کارپٹ سے سجی تو ہم نے آزادی کا سانس لیا… جو قومیں اپنے محسنین کو یاد نہیں رکھتیں، وہ دنیا کے نقشے سے معدوم ہو جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجس قافلے، جس آزادی کایہ قصہ ہے، اس قصے میں مولانا جعفر تھانیسریؒ کا روشن اور تابناک نام قیامت تک دمکتا رہے گا۔ مجاہدین نے کیسے اپنی زندگیاں وار دیں۔ اپنا آرام، عیش، گھر بار، بیوی بچے، اپنا دیار، اپنی مٹی، اپنی زمین تج دی۔ پابجولاں وہ ہنستے رہے اور سرِدار کھینچے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکالا پانی… کالا پانی ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان تک سفر کی اوگھٹ گھاٹیوں میں سے گزرنا اتنا آسان تھا کیا۔آ… میرے عہد کے انسان! تو بھی پابجولاں بھوکا پیاسا، یہ سفر کاٹ! تو بھی اٹھارہ برس اپنی مٹی سے بچھڑ کر اپنے پیاروں سے جدا ہو کر دیکھ…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسامنے دیکھ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک آواز سنائی دی ہے، پانیوں پر سے سرکتی کُرلاتی تلاش کرتی آواز! جب بحری جہاز، انڈمان کے کنارے لگا تو ساحل پر بیسیوں مولوی اور منشی منتظر تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کیا مولوی محمد جعفر اور مولوی یحییٰ علی صاحب بھی اس جہاز پر آئے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں بھی وہیں تھا اُسی جزیرہ پر، میں بھی قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہا تھا، آواز دینے والوں میں مولوی احمد اللہؒ کے ساتھ میں بھی صف میں شامل تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیچے اتر کر ہم کو یہاں معلوم ہوا کہ مولوی احمد اللہ صاحب ہم سے ایک برس بعد پٹنہ میں قید ہو کر 15جون 1865ء کو ہم سے چھ مہینے پہلے پورٹ بلیر میں پہنچ گئے اور ایک دوسرے جہاز کے قیدیوں سے جو ہم سے اوّل اسی جیل تھانہ سے چل کر فقط دو روز پہلے ہم سے پہنچے تھے، ہماری آمد کا حال معلوم کر کے مولوی صاحب ہمارے منتظر تھے اور یہ سب لوگ انہیں کے اشارے ہمارے لینے کو گھاٹ پر آئے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر ہم لوگ بوٹ سے اتر کر اسی مجمع کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کرتے ہوئے اپنے چالان کے قیدیوں سے جدا ہو کر منشی غلام نبی صاحب محرر مرین ڈیپارٹمنٹ کے مکان پر پہنچے۔ وہاں مولوی احمد اللہ صاحب اور دوسرے اکثرمعزز لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور اسی مکان میں ہم تینوں آدمی رہنے لگے۔ اسی دم ہماری بیڑی کٹوا دی اور عمدہ لباس جوہمارے واسطے تیارکر کے رکھا تھا ہم کو پہنایا گیا اورتمام جلسہ کے ساتھ ہم نے دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھایااور اس تاریخ سے تاریخ رہائی تک ہم نے پھر بارک یا لباس یا کھانا قیدیوں کا کبھی نہیں دیکھا۔ گو اُسی تاریخ سے ہم قید سے رہا ہو گئے۔ گواٹھارہ برس تک مثل ملزمان کالے پانی میں رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسی شام سے گھرگھرہماری دعوتیں ہونے لگیں اور وہ وہ نفیس اور عمدہ کھانے ہم کوکھلائے گئے کہ ہند میں مجھ کو تو کبھی ایسے کھانے نصیب بھی نہ ہوئے تھے۔ وہ ہمارا خیال کہ اب ہم کو ساری عمر صرف جیل کا کھانا کھانا پڑے گا، اس قادرِ مطلق نے اس نعم البدل کے ہمارے دل سے قلع قمع کرا دیا اور اپنی قدرت کو دکھلا دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ہم اس جزیرے میں پہنچے ہزاروں مرد عورت قیدیوں کو دیکھا کہ ماتھا ان کا کھود کر پیشانی پر ان کا نام اور جرم اور لفظ دائم الحبس لکھا ہواہے کہ وہ نوشت مثل نوشتہ تقدیر کے تمام عمر نہیں مٹتی۔ مگر یہ تائید الٰہی سنیے کہ ہمارے پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے وہ حکم ماتھا کھودنے کا تمام عملداری سرکار سے ہمیشہ کے واسطے موقوف ہوگیاتھا۔ اس سبب سے اس داغِ دائم الحبس سے بھی ہم محفوظ رہے۔ ‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوبی۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتواریخ العجائب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک شخص کی خود نوشت نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ایمانیات کے درجہ میں ترتیب پانے لائق ہے۔ اس کے مطالعہ سے میں نے جانا کہ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا ربّ کریم پر ایمان اتنا پختہ اور غیر متزلزل تھا کہ کہیں ان کے پاؤں نہیں ڈگمگائے۔ وہ جس ابتلاء میں مبتلا ہوئے، رب کریم نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انہیں اس مشکل سے نکال لیا۔ تکالیف میں ان کے لیے آسانیوں کے دروازے کھول دیے۔ مولاناؒ نے اپنی خود نوشت میں اللہ رب العزت کے اس انعام اور شانِ کریمی کا ذکر تسلسل سے کیا ہے۔ یہ خود نوشت قاری کے دل میں موجود ایمان پر برگ و بار لاتی ہے اور انسان کا دل اس رب کریم کی رحمتوں پر پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ میں نے اپنے قلب پر واضح اس کتاب کے روحانی ثمرات محسوس کیے ہیں۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ عالم باعمل کی تحریر بھی اس کی صحبت کی مثل ہوتی ہے جس کی خوشبو دل و روح میں سرایت کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ واقعی تواریخ عجیب ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب مولانا جعفر تھانیسریؒ اٹھارہ برس کی جلاوطنی کاٹ کر وطن لوٹے تو ہر شخص کی خواہش تھی کہ اُن پتھریلے سیاہ جزائر کے بارے میں جانے جہاں انگریزوں نے عقوبت خانے تیار کیے اور باغیوں کو اُن میں مقید کر دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان خلیج بنگال کے مشرق کو 92 درجہ 470 دقیقہ طول شرقی اور 11 درجہ 43 دقیقہ عرض شمالی پر کلکتہ سے قریب چھ سو میل کے واقع ہیں۔ یہ مجموعہ جزائر 1746 میل کے گھیرے میں، جس میںقریب ایک ہزار جزیرے شامل ہیں، بنام انڈمان مشہور ہے۔ علم طبقات الارض کے محققوں کا یہ قول ہے کہ یہ جزائر کسی زمانہ میں براعظم ایشیا سے ملے ہوئے تھے۔ پھر زمانے کے پھیر پھار اور سمندر کی موجوں سے کٹتے کٹتے اوّل یہ ٹکڑا بر اعظم ایشیا سے علیحدہ ہو گیا تھااور پھر آخر کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہوتے چھوٹے چھوٹے جزیرے ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہاں سے پانچ روز میں کلکتہ سے اگن بوٹ پہنچتاہے اور تین روز میں رنگون سے مولین یہاں سے تین سو میل مشرق وشمال اور سنگا پور چار سو میل گوشہ مشر ق و جنوب میں اور پنانگ تین سو پچاس میل مشرق میں اور نکوباریاننکوڑی اسّی میل جنوب میں اور مدراس آٹھ سو میل مغرب اور لنکا آٹھ سومیل گوشہ مغرب و جنوب میں واقع ہیں۔ یہ جزائر سب پہاڑ ہیں، ہموار زمین بہت کم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقریب سوبرس کے ہوئے سب سے اوّل لیفٹیننٹ بلیر ایک جہازی سردار نے یہاں آکر لنگر ڈالا تھا۔ اسی سبب سے پورٹ بلیر اس جزیرے کا نام ہوا۔ انہیں ایام میں جس کو سو برس ہوئے سرکار نے پہلے بھی قیدیانِ حبس بعبور دریائے شور کا رکھنا تجویز کیا تھا۔ مگر ناموافقی آب و ہوا کے سبب سے 1796ء میںیہ جزیرہ آباد ہو کر پھر اُجڑ گیا تھا۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد سرکار کو پھر اس کی ضرورت ہوئی اور مارچ 1858ء سے گویا دوبارہ اس کی آبادی شروع ہوئی اور پہلے پہل بغاوت کے قیدی یہاں لاکر رکھے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشروع آبادی میں مدت تک جنگلی لوگ سخت مخالف رہے۔ چنانچہ دومرتبہ انہوںنے ڈاکٹر واکر صاحب سپرنٹنڈنٹ اوّل کے عہد میں بڑی بھاری جنگلیوں کی فوج جمع کر کے ایک دفعہ ہدو پر دوسری بار ابرڈین پر حملہ کیا۔ آخر ملایمی اور حکمتِ عملی سرکار سے وہ فرمانبردار ہوگئے اور اب جنگل یا بستی میں جہاں کہیں وہ ملتے ہیں تو نہایت خاطر داری سے پیش آتے ہیں، گو شروع آبادی میں ان وحشیوں نے بہت خون خرابے کیے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ چار فٹ سے پانچ انچ تک اونچے مثل حبشیوں کے سیاہ فام، گول سر، آنکھیں ابھری ہوئیں، سر پر بھیڑ کے سے بال مگر نہایت مضبوط اور قوی ہوتے ہیں۔ ان کل جزائر انڈمان میں ان کی بارہ ذاتیں ہیں، ایک ذات کی زبان دوسری قوم سے بہت کم ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ جنگلی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا آسمان میں رہتا ہے، وہی خالق ہر شے کا ہے اور سب سے بڑا ہے۔ وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا محل بہت عمدہ اور نفیس آسمان میں ہے اس کوکوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کے گھر سے پانی برستا ہے، بجلی کا شعلہ اور کڑک بھی اسی کے پاس سے آتی ہے، موت بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ بھلائی اور روزی بھی وہی دیتاہے۔ مسماۃ چانا پالک ایک اس کی جورو بھی ہے اس کی جورو کو بھی فنا نہیں اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوئی۔ مگر اس کا درجہ خدا سے کم ہے۔ اس کا کام ہے کہ سمندر میں مچھلیاں پیدا کرے، وہی مچھلیوں کو آسمان سے گراتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ شیطان کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب برے کام شیطان کراتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ شیطان دو ہیں، ایک زمین کا شیطان جس کا نام اِرم چوگلا ہے۔ جب زمین پر کوئی ناگہانی موت سے مر جاتا ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ارم چوگلا نے مار ڈالا ہے۔ ایک سمندر کا شیطان ہے جس کا نام جورو ونڈا ہے۔ جب کوئی آدمی ڈوب کر مر جاتا ہے توکہتے ہیں کہ اس کو جورو ونڈا نے مار ڈالا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ فرشتوں کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مرد عورت دونوں جنس سے ہیں اور جنگل میں رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھوت پریت کے بھی قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ ان کو کچھ اختیار نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا یا غیر خدا کی کسی چیز کی پوجا نہیں کرتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ طوفانِ نوح کے بھی قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک بار زمین پرایساطوفان آیا تھا کہ ساری دنیا ڈوب گئی تھی اور ان جنگلیوں کے بزرگ ایک کشتی بنا کر اس پرسوار ہو گئے تھے اور ایام طوفان میں بہت دنوں تک اس کشتی میں سوار رہے۔ جب طوفان رفع ہوا تو وہ کشتی کسی پہاڑ منجملہ کوہ ہائے جزائر انڈمان کے ٹھہری تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم سے طبع شدہ ’’کالا پانی‘‘ کے نسخہ کی انفرادیت و اہمیت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم کی خواہش تھی کہ ہمارے ادارہ سے کالا پانی (تواریخ عجیب) کا صحیح ترین نسخہ شائع ہو۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ تگ و دو کی۔ ہری پور سے محبی زاہد کاظمی کی معاونت بھرپور رہی اور ’بک کارنر‘ جہلم کے ڈائریکٹر امر شاہد نے ذاتی دلچسپی لے کر اس کتاب کے متعدد نسخے فراہم کیے۔ یہ اُن ہی کی معاونت کا ثمر ہے کہ مجھے صحیح ترین نسخہ تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن بہت چھوٹے سائز پر شائع ہوا تھا، جس میں کوئی ذیلی سرخی نہ تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد ایوب قادری کا کہنا ہے، ’’کالا پانی کا پہلا ایڈیشن ہمیں مفتی انتظام اللہ شہابی کے ذخیرہ علمیہ سے دستیاب ہوا۔ اب یہ کتاب آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس (کراچی) کی لائبریری میں موجود ہے۔‘‘ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کراچی کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری مرحوم نے چھان پھٹک کے بعد انہی دو ایڈیشنوں کو سامنے رکھ کر اصل متن کی صحت کو جانچا پرکھا، اور ادارہ یادگارِغالب نے یہ کتاب 2015ء میں شائع کی۔ اسی تلاش کے سفر میں دوسرے نسخہ کی فائل دستیاب ہوئی اور اطمینان ہو گیا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیجیے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمطالعہ کیجیے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ کی سیر سے لطف اندوز ہوں اور دل و روح کو سرشار کیجیے کہ مطالعہ ہی زندگی، مطالعہ ہی سانسوں کا تسلسل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حامد سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخانقاہ سراجیہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچشمہ بیراج، ضلع میانوالی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460324602041,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6750fa7ba751785155834.jpg?v=1785856367"},{"product_id":"dastaan-e-lucknow-داستان-لکھنؤ","title":"DASTAAN-E-LUCKNOW  داستان لکھنؤ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیادش بخیر، لکھنؤ .... عالم میں انتخاب ایک اور شہر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تہذیب، ایک روایت، ایک اسلوبِ حیات کہ مؤرخوں نے، شاعروں نے، اپنوں نے، غیروں نے، اس کے ایک ایک رُخ پر سو سو طرح سے روشنی ڈالی ہے۔ عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ایک پُرکشش اور سحر انگیز اور پُر ماجرا تاریخ۔ نوابین و شاہانِ اودھ کا یادگار دور کچھ ایسا ہی تھا کہ لکھنے والوں نے کبھی اس کو شیراز کا بدل قرار دیا تو کبھی اسے مشرقی تمدن کا آخری نمونہ کہا گیا کبھی اس کو پیرس کے مدِ مقابل رکھا گیا۔ عاشقان و فدایانِ لکھنؤ کی فہرست میں ایک بہت ممتاز اور مایۂ ناز نام سیّد محمد باقر شمسؔ، کہ جن کے تبحرِعلمی کا نہ صرف اُن کے معاصرین و مؤرخین میں اعتراف کیا جاتا تھا بلکہ عصرِ حاضر کے اکابرینِ علم و ادب میں بھی ان کے کام کو اسناد و اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ لکھنویات کے تمام گوشوں پر ان کی تحریریں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لکھنؤ کی تاریخ، لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت و ثقافت، لکھنؤ کی زبان، شاعری، ادب و فنون، لکھنؤ کی عزاداری، گویا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا۔ کم شہر ایسے ہوں گے جن پر ایک جگہ اِتنا جامع مواد مہیّا کر دیا گیا ہے۔ خانوادۂ باقر شمسؔ قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے کام کو سامنے لانے کا اہتمام کیا۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد اور گگن شاہد نے کتاب کی دیدہ زیب و دلآویز طباعت میں اپنے معیار کو برقرار رکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاعر و محقق، سابق صدر اکادمی ادبیات پاکستان، ادارۂ فروغِ قومی زبان، تمغۂ حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460327125177,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66d570b1cc54b1725264049.jpg?v=1785856482"},{"product_id":"dabastaan-e-lucknow-دبستان-لکھنؤ","title":"DABASTAAN-E-LUCKNOW  دبستان لکھنؤ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیادش بخیر، لکھنؤ .... عالم میں انتخاب ایک اور شہر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تہذیب، ایک روایت، ایک اسلوبِ حیات کہ مؤرخوں نے، شاعروں نے، اپنوں نے، غیروں نے، اس کے ایک ایک رُخ پر سو سو طرح سے روشنی ڈالی ہے۔ عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ایک پُرکشش اور سحر انگیز اور پُر ماجرا تاریخ۔ نوابین و شاہانِ اودھ کا یادگار دور کچھ ایسا ہی تھا کہ لکھنے والوں نے کبھی اس کو شیراز کا بدل قرار دیا تو کبھی اسے مشرقی تمدن کا آخری نمونہ کہا گیا کبھی اس کو پیرس کے مدِ مقابل رکھا گیا۔ عاشقان و فدایانِ لکھنؤ کی فہرست میں ایک بہت ممتاز اور مایۂ ناز نام سیّد محمد باقر شمسؔ، کہ جن کے تبحرِعلمی کا نہ صرف اُن کے معاصرین و مؤرخین میں اعتراف کیا جاتا تھا بلکہ عصرِ حاضر کے اکابرینِ علم و ادب میں بھی ان کے کام کو اسناد و اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ لکھنویات کے تمام گوشوں پر ان کی تحریریں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لکھنؤ کی تاریخ، لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت و ثقافت، لکھنؤ کی زبان، شاعری، ادب و فنون، لکھنؤ کی عزاداری، گویا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا۔ کم شہر ایسے ہوں گے جن پر ایک جگہ اِتنا جامع مواد مہیّا کر دیا گیا ہے۔ خانوادۂ باقر شمسؔ قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے کام کو سامنے لانے کا اہتمام کیا۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد اور گگن شاہد نے کتاب کی دیدہ زیب و دلآویز طباعت میں اپنے معیار کو برقرار رکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاعر و محقق، سابق صدر اکادمی ادبیات پاکستان، ادارۂ فروغِ قومی زبان، تمغۂ حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460328304825,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66d570a4924541725264036.jpg?v=1785856619"},{"product_id":"mawazna-anees-o-dabeer-موازنہ-انیس-و-دبیر","title":"MAWAZNA ANEES O DABEER  موازنہ انیس و دبیر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460328829113,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a671dbb3b0511785142715.jpg?v=1785856730"},{"product_id":"yaran-e-kuhan-یاران-کہن","title":"YARAN E KUHAN  یاران کہن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاگر اس کتاب کے ہر مضمون میں آپ کو سالکؔ نظر آئے تو اس پر بدکنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تذکرہ ہی صرف اُن بزرگوں کا ہے، جن سے سالکؔ کے براہ راست روابط ہوئے۔ لہٰذا اس میں جا بجا ’’صیغۂ واحد متکلم‘‘ کا استعمال ناگزیر تھا۔ اس تذکرے سے ان بزرگوں کے سوانحِ حیات لکھنا یا ان کی تصانیف پر تبصرہ کرنا مقصود نہیں، صرف ان کی شخصیتوں کی ہلکی سی جھلک دکھانا منظور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مقصد میں ناکام نہیں رہا۔ یہ کتاب آغاشورشؔ کے ’’توائی ڈالنے‘‘ کی وجہ سے صرف چند روز میں لکھی گئی ہے۔ اس لیے اگر اس میں کوئی ایسے اسقام نظر آئیں جو اہلِ ذوق کے نزدیک میرے اسلوبِ تحریر کے شایاں نہ ہوں تو ان کی ذمہ داری اُسی ’’بلائے بے درماں‘‘ کے سر ہے، جس کو شورشؔ کہتے ہیں اور جس کی کسی ضد سے میں سرتابی نہیں کر سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعبدالمجید سالک\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460329287865,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/619ddb3154c8e1637735217.jpg?v=1785856828"},{"product_id":"manto-kay-mazameen-منٹو-کے-مضامین","title":"MANTO KAY MAZAMEEN  منٹو کے مضامین","description":"","brand":"ILQA","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506228113593,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/9693521889.jpg?v=1785856980"},{"product_id":"manto-kay-murshad-bari-elagh-منٹو-کے-مرشد-باری-علیگ","title":"MANTO KAY MURSHAD BARI ELAGH  منٹو کے مرشد باری علیگ","description":"","brand":"Maktaba Jadeed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48506228900025,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fe86e2b9309f1609068075_4e357caa-3c7b-4e75-a283-04a12abf2cd4.jpg?v=1785857081"},{"product_id":"manto-kay-mutnaza-afsanay-premium-quality-منٹو-کے-متنازع-افسانے-ڈیلکس","title":"MANTO KAY MUTNAZA AFSANAY (PREMIUM QUALITY)  منٹو کے متنازع افسانے (ڈیلکس)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eوہ افسانے جن کی بنیاد پر منٹو صاحب معتوب ٹھہرائے گئے جو دراصل انسان کے جنسیاتی اور سماجی مسائل کے آئینہ دار تھے اب وہی افسانے اُردو ادب کے بڑے اور بہترین افسانے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان افسانوں کو مذہب اور تعصبات کی عینک اتار کر پڑھیے۔ ادبی اور فنی معیار سے جانچئے۔ یہ افسانے جنسی آسودگی و تسکین فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی ہماری اخلاقی قدروں کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ حقیقت کے عکاس ہیں۔ معاشرے میں چھپی غلاظت کی اندرونی تصویریں اور اس کا اعلانیہ اظہار ہیں۔ ان افسانوں کے مہ و سال ہٹا دیجئے اور ان کی تہہ میں چھپی باریکیوں کو دیکھیں تو گمان گزرے گا کہ جیسے یہ آج کے دَور کے لیے لکھی گئی ہوں۔ آج بھی منگو کوچوان قید میں ہے اور اس ملک کا داروغہ سوگندھی کی ہڈیاں بھنبھوڑتا ہے۔ سوگندھی، موذیل، سلطانہ، جانکی اور شاردہ آج بھی جیتے جاگتے کردار ہیں جوچند پیسوں کے لیے بِک جانے کو تیار ہیں۔ یہ افسانے عورت کی بے بسی اور استحصال کی رقت آمیز تصویریں ہیں۔ حرف آخر یہی کہ کتاب پڑھ کر واپس میز پر رکھ دینے سے کتاب ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ قاری کو ایک ٹھوس رائے قائم کرنی چاہیے۔ محض ” بس ٹھیک ہے“ کہہ دینا ہی کافی نہیں۔ کتاب اچھی ہے یا بری ہے، اگر اچھی ہے تو کیوں اچھی ہے؟ اور اگر بری ہے تو کیوں بری ہے ؟ اور اس کیوں کا جواب ہی اس کتاب کا حاصل ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر اگر آپ کا وضو ٹوٹتا ہے تو آپ کو اپنے تئیں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں بلکہ بہترین درجے کے ایک معالج کی ضرورت ہے۔ کوئی دن کی بات ہے کہ دماغ کا خلل ظاہر ہو جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب میں شامل مضامین اور افسنوں کی فہرست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسعادت حسن منٹو (امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمقدمہ (محمد حمید شاہد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرضِ مرتب (ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمضامین:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- لذت سنگ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- سفید جھوٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- پانچواں مقدمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- زحمت مہر درخشاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- عصمت فروشی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- افسانہ نگار اور جنسی مسائل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- پھاہا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- پہچان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- خوشیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- ہتک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- دس روپے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e7- بلاؤز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e8- مس فریا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e9-بُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e10- دھواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e11- کالی شلوار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e12- چغد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e13- پڑھیے کلمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e14- بابو گوپی ناتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e15- میرا نام رادھا ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e16- جانکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e17- ٹھنڈا گوشت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e18- خورشٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e19- باسط\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e20- شاردا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e21- ننگی آوازیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22- شانتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e23- حامد کا بچہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24- لائسنس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e25- کتاب کا خلاصہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e26- تقی کاتب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e27- والد صاحب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e28- عورت ذات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e29- پری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e30- خود فریب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e31- برمی لڑکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e32- فوبھا بائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e33- ابجی ڈُڈُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e34- ممی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e35- کھول دو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e36- شریفن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e37- ہرنام کور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e38- شاداں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e39- نطفہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e40- سڑک کے کنارے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e41- سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e42- سو کینڈل پاور کا بلب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e43- موذیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e44- صاحبِ کرامات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e45-اللہ دتا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e46- بچنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e47- سرکنڈوں کے پیچھے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e48-پھندنے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e49-دودا پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e50- اوپر، نیچے اور درمیان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e51- تانگے والے کا بھائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e52- بغیر اجازت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e53- قدرت کا اصول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e54- خوشبودار تیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e55- خط اور اس کا جواب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e56- مائی جنتے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e57-بارش\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e58- بس اسٹینڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e59- قادرا قصائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e60- پشاور سے لاہور تک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e61- بجلی پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e62- شلجم\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e63- انجام بخیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e64- نواب سلیم اللہ خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e65- راجو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e66- گھاٹے کا سودا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e67- صدقے اس کے\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460334989497,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/610ea00db0e791628348429.jpg?v=1785857161"},{"product_id":"manto-kay-roosi-trajam-منٹو-کے-روسی-تراجم","title":"MANTO KAY ROOSI TRAJAM  منٹو کے روسی تراجم","description":"","brand":"Maktaba Jadeed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48506233585849,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fec2e24471481609313828.jpg?v=1785857282"},{"product_id":"firdaus-e-bareen-فردوس-بریں","title":"FIRDAUS E BAREEN  فردوس بریں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُنیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جن ادیبوں نے اُردو ادب کو مغربی اصناف اور اسالیبِ فن سے روشناس کرایا اُن میں عبدالحلیم شرؔر کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شہرت کا بڑا سبب تو دراصل اُن کے تاریخی ناول ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اُن کی شخصیت بڑی ہمہ رنگ اور اُن کی صلاحیتیں بڑی متنوّع تھیں۔ ناول کے علاوہ انھوں نے انشائیہ، ڈراما، شاعری، سوانح اور تاریخ میں بھی قابلِ قدر نگارشات یادگار چھوڑی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا عبدالحلیم شررؔ ۱۸۶۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضّل حسین اودھ کے آخری تاجدار واجد علی شاہ کے ملازم تھے۔ واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد وہ اُن کے ساتھ مٹیا برج چلے گئے اور وہیں اقامت اختیار کر لی۔ نو سال کی عمر میں عبدالحلیم شرؔر بھی مٹیابرج چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے والد اور بعض دوسرے علما سے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فنِ شاعری میں علی حیدر نظمؔ طباطبائی کے شاگرد ہوئے۔ اس کے بعد اُنھوں نے لکھنؤ اور دہلی میں مزید تعلیم حاصل کی اور انگریزی میں بھی اچھی دستگاہ پیدا کر لی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتعلیم کے ساتھ تصنیف و تالیف کا مشغلہ جاری تھا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ۱۸۸۰ء میں منشی نول کشور نے اُنھیں اودھ اخبار، کا نائب ایڈیٹر بنا دیا اور اس میں انھوں نے مختلف موضوعات پر متعدد مضامین لکھے جو مقبول ہوئے۔ ’’روح‘‘ کے موضوع پر ان کے ایک مضمون کی سرسیّد نے نہ صرف داد دی بلکہ اس کا ایک اقتباس اپنے مضمون میں نقل کیا۔ ۱۸۸۶ء میں انھوں نے بنکم چندر چٹرجی کے ایک تاریخی ناول’’درگیش نندنی‘‘ کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا اور پھر ۱۸۸۶ء میں جب انھوں نے اپنا رسالہ ’’دلگداز‘‘ جاری کیا تو اس میں اپنا پہلا تاریخی ناول ’’ملک العزیز ورجنا‘‘ قسط وار شائع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ’’حسن انجلینا‘‘ اور ’’منصور موہنا‘‘ لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۸۹۳ء میں شرؔر نواب وقار الملک کے لڑکے کے اتالیق ہو کر انگلستان چلے گئے۔ واپس آ کر وہ کچھ عرصہ حیدرآباد میں رہے اور پھر ۱۸۹۹ء میں لکھنؤ آ گئے۔ لکھنؤ پہنچ کر انھوں نے پھر ’’دلگداز‘‘ جاری کیا۔ ناول ’’فردوسِ بریں‘‘ انھوں نے قیامِ حیدر آباد کے زمانے میں ہی مکمل کیا تھا۔ اس کے پہلے ایڈیشن کی اشاعت کا حق انھوں نے منشی نثار حسین نثاؔر، مہتمم ’’پیام یار‘‘ کے ہاتھ فروخت کر ڈالا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلکھنؤ آ کر وہ پورے انہماک کے ساتھ تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔ سوانحی اور تاریخی تصانیف کے ساتھ انھوں نے کم و بیش پچاس ناول اور ڈرامے لکھے، ان میں سے کچھ تراجم بھی ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مضامین بھی آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ اپنے رسالہ’’دلگداز‘‘ میں شررؔ نے معرّا نظم کے نمونے بھی پہلی بار اُردو میں پیش کیے اور اُردو داں طبقہ کو انگریزی شعر و ادب کے نئے رجحانات سے متعارف کرایا۔ دسمبر۱۹۲۶ء میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا شرؔر کو تاریخ بالخصوص اسلامی تاریخ سے خاص دل چسپی تھی۔ اپنے بیشتر ناولوں کا مواد انھوں نے تاریخ سے ہی لیا ہے۔ ان کا تاریخ کا تصور بڑی حد تک اُن کے احیا پسندانہ خیالات کا تابع تھا۔ والٹراسکاٹ کی طرح شرؔر نے بھی اپنے تاریخی ناولوں میںمسلمانوں کے تہذیبی اور سیاسی عروج کی داستانیں سنا کر انھیں بیداری اور عمل کا پیغام دیا اور ان کی زندگی کو صحیح اسلامی شعائر سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشرؔر کے بیشتر تاریخی ناول عشق و محبت اور مسلمان جانبازوں کی جرأت و شجاعت کے واقعات سے معمور ہیں۔ دراصل وہ ایک طرح کے رومانی قصّے ہیں۔ جن کی کہانیوں اور کرداروں میں ایک باشعور قاری کو اکتا دینے والی یکسانیت محسوس ہوتی ہے۔ اپنے ناولوں میں وہ نہ تو ماضی کی معاشرت اور ماحول کو زندہ کرنے میں کامیاب ہو سکے اور نہ ہی ایسے جاندار اور غیر فانی کردار تخلیق ہو سکے جو مثلاً والٹراسکاٹ کے ناولوں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے ہیرو ہمیشہ جرأت، دلیری اور تہذیب و شائستگی کا مثالی نمونہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کی ہیروئن بھی مثالی نسوانی اوصاف کا مجسمہ ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں اسلام اور مسلمانوں کے کارناموں کو دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں انتہائی جانب داری اور مبالغہ آرائی سے پیش کرتے ہیں۔ ان وجوہ سے ان کے اکثر ناول واقعیت سے دور اور محض تخیّلی ہو کر فنی دل کشی سے محروم ہو گئے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کے ناولوں میں صرف ایک ’’فردوسِ بریں‘‘ ایسا ناول ہے جو فنی تکمیل کے اعتبار سے کامیاب کہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف ان کے بلکہ اُردو کے تمام تاریخی ناولوں میں نمایاں مقبولیت حاصل ہوئی اور کم و بیش تمام نقّادوں نے اس کے پلاٹ کی دل کشی اور کردارنگاری کو سراہا۔ اس ناول کی منظر نگاری اور ماحول کشی میں شرؔر کی صنّاعی درجۂ کمال پر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام کردار منفرد اور جاندار ہیں اور اس کے پلاٹ کی تعمیر انتہائی فطری اور متوازن ڈھنگ سے ہوئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تمام تخلیقی صلاحیتوں اور تاریخی شعور نے اپنے مکمل اظہار کے لیے اسی ناول کا انتخاب کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگزشتہ ستّر سال میں اس ناول کے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے۔ لیکن جیسا کہ ہمارے یہاں ہوتا ہے، پبلشر حضرات نے اسے شائع کرتے وقت کتابت اور طباعت میں بے پروائی برتی۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ہر نئے ایڈیشن میں غلطیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ کہیں کہیں بے ربط عبارت دیکھ کر کاتب صاحبان نے اپنی طرف سے تحریف و اضافہ کر دیا۔ چنانچہ آج کل بازار میں اس ناول کے جو عام ایڈیشن مل رہے ہیں وہ متن کے اعتبار سے کسی طرح بھی قابلِ اعتبار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس صورتِ حال میںکوشش کی گئی ہے کہ ’’فردوسِ بریں‘‘ کا یہ ایڈیشن متن کی غلطیوں سے پاک ہو۔ اس ناول کا اوّلین ایڈیشن تو دستیاب نہیں ہو سکا لیکن تین قدیم اور مستند ایڈیشنوں سے موازنہ کرنے کے بعد اس نسخہ کا متن تیار کیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ اہلِ نظر اس جدید ایڈیشن کو پسند کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر قمر رئیس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدہلی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460339052729,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f6220f9ca48c1600266489.jpg?v=1785857385"},{"product_id":"aik-chadar-maili-si-ایک-چادر-میلی-سی","title":"AIK CHADAR MAILI SI  ایک چادر میلی سی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eراجندر سنگھ بیدی کا نام اب اُردو ادب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے ’سہج پکے سو میٹھا ہو‘ کے مصداق بہت دھیمی رفتار سے لکھا ہے لیکن ان کی ہر تحریر اہلِ ادب کے لیے باعثِ تکریم رہی ہے۔ ’’ایک چادر میلی سی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ یہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے کے افراد کی زندگی کا ایسا نقشہ ہے جس میں زندگی کی ساری حرارت دہکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ زندگی کی ساری تندی اور تیزی، دُکھ اور سُکھ، محبت اور نفرت، گناہ اور نیکی.... اس نقشے کی مختلف لکیریں ہیں جو مل کر ایک جال بُن جاتی ہیں جس میں اس ناول کے کردار جکڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کی شدّت سے بھرپور واقعات اور کرداروں کی اپنے ماحول کے ساتھ متحرک پیش کش .... جو قاری کی یادوں کا حصہ بن جاتی ہے.... جسم میں لہو کی چال اور ذہن میں سرعتِ خیال کو تیزتر کر دیتی ہے۔ حقیقت نگاری کا ایسا جچا تلا کمال اُردو ادب میں اس سے پہلے نایاب تھا۔ واقعہ ہے کہ یہ ناولٹ ہمارے ادب میں قابلِ قدر اضافہ ہے جس پر کلاسیک کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460342919353,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625ea9b0014fb1650370992.jpg?v=1785857456"},{"product_id":"london-ki-aik-raat-لندن-کی-ایک-رات","title":"LONDON KI AIK RAAT  لندن کی ایک رات","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسجاد ظہیر کی شخصیت ان کی تمام چیزوں پر بھاری تھی۔ تحریر کو اگر ہم ان کے سیاسی کارناموں کے مقابلے میں لیں تو مجھے ان کی تحریریں زیادہ دلکش نظر آتی ہیں۔ سجاد ظہیر نے اگرچہ لکھنے پر زیادہ زور نہیں دیا مگر ان کی تحریر مجھے زیادہ پسند ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— فراق گورکھپوری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنّے (سجاد ظہیر) کی شخصیت بڑی پہلودار اور تہ دار تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اتنی جامع بھی تھی کہ بہت جلد ان کی حیثیت ایک معروف، بےمثال اور صاحبِ امتیاز مظہر کی ہو گئی۔ سچ یہ ہے کہ میں جن لوگوں کو جانتا ہوں ان میں کٹرپن سے اتنا دُور کسی کو نہیں پایا جتنا بنّے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— فیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لندن کی ایک رات‘‘ سجاد ظہیر کا ایک ناولٹ ہے جس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ناول نویسی اور افسانہ نگاری کی طرف متوجّہ ہوتے تو اپنا ایک منفرد اسلوب پید اکرتے مگر افسوس کہ وہ ایسا نہ کر سکے۔ سیّد سجاد ظہیر کی نثر نہایت سادہ اور سلیس ہوتی ہے مگر اس سادگی اور سلاست میں بھی ایک پُراسرار ادبی شان ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— احمدندیم قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنّے بھائی نے ساری عمر روشن اور جگمگاتے خواب دیکھے۔ کتنے ہی ادھورے اور دھندلے رہ گئے۔ وہ ادیب بھی تھے اور شاعر بھی، مگر انھیں اس کا مطلق احساس نہیں تھا کہ ان کے ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ کا اپنا ایک واضح مقام ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عصمت چغتائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ اُردو کے غالباً پہلے ادیب ہیں، انھوں نے اپنے ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ میں شعور کے موج در موج بہائو کو قلم بند کرنے کا تجربہ کیا۔ ان کی تحریریں ذاتی تعصبات سے بالکل پاک ہوتی تھیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— سبط حسن\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506253836473,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67f220c888a821743921352.jpg?v=1785857580"},{"product_id":"chaalay-aur-karvatein-چھالے-اور-کروٹیں","title":"CHAALAY AUR KARVATEIN  چھالے اور کروٹیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eقدوس صہبائی اُس افسانوی آرٹ سے بہت کچھ دُور ہیں جس میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں اور افسانہ کم، اکثر افسانہ نویس اس فنی مرض میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ شاید اسی لیے مجھے قدوس صہبائی کے افسانوں کی شدید افسانویت بہت پسند ہے۔ بس وہ کہانی کہتے چلے جاتے ہیں جس میں کردار حرکت کرتے ہیں... جسمانی اور مادی حرکت... محض ذہنی ورزش نہیں... قدوس صہبائی ’’گفتار و کردار‘‘ دونوں کے غازی ہیں۔ ایک ہندوستانی ریاست (بھوپال) کے باشندے ہیں اور اسی ریاستی رعایا کے جذبات و احساسات کے ترجمان بن کر جیل بھی جا چکے ہیں اور کبھی معافی مانگ کر جیل سے چُھوٹے بھی نہیں۔ روزمرہ زندگی میں کم باتیں کرتے ہیں اور وہ بھی صاف اور بےدھڑک، پھر طُرّہ یہ کہ پٹھان ہیں، کم گو ہیں لیکن فیصلہ دو ٹوک دیتے ہیں۔ آپ یہ تمام اوصاف اُن کی کہانیوں میں بھی دیکھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کرشن چندر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقدوس صہبائی کے افسانوں میں ایک خصوصیت یہ امتیازی درجہ رکھتی ہے کہ ایک ناقابلِ فہم فارم اور ذہنی اُلجھنوں میں ان کا قلم ان کے بعض ہم عصروں کی طرح اُلجھ اُلجھ کر افسانوں کو الفاظ کا ایک معمہ یا ایک فلسفیانہ خطبہ یا کسی پیشہ ور واعظ کی تقریر نہیں بنا دیتا، وہ تفصیلات لکھنے میں کم مشاق نہیں ہیں۔ نفسیاتی تحلیل کا بھی ان کے افسانوں میں مناسب حصہ موجود ہے لیکن قدیم افسانہ نویسی کی طرح ان کا افسانہ پلاٹ، واقعات نگاری اور نفسی تحلیل میں صحیح صحیح تکمیل تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا شاہکار بن جاتا ہے جو ترقی پسند ادب کے لیے بھی باعثِ فخر رہے گا اور اُردو دَوامی اَدب میں بھی یادگار رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(پروفیسر نجیب اشرف ندوی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460348227769,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68050ad6c91011745160918.jpg?v=1785857702"},{"product_id":"begmat-kay-aansu-بیگمات-کے-آنسو","title":"BEGMAT KAY AANSU  بیگمات کے آنسو","description":"","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460356026553,"sku":"BC SSH","price":420.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/643cf78c3118d1681717132.jpg?v=1785858021"},{"product_id":"anarkali-انارکلی","title":"ANARKALI  انارکلی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج معروف ڈراما نگار اور طنز و مزاح نگار تھے۔ بچپن ہی سے ڈرامے سے دلچسپی تھی، یہ ان کا خاندانی ورثہ تھا۔ ابھی تعلیم مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ ایک ادبی رسالہ ’’کہکشاں‘‘ نکالنا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں ڈرامے کے فن نے کوئی خاص ترقی نہیں کی تھی ۔مگر اس کے باوجود عوام میں دلچسپی برقرار تھی۔ مرد عورتوں کا کردار ادا کرتے تھے اور پنڈال سے تالیوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ بائیس برس کی عمر میں امتیاز علی تاج نے ڈراما ’’انار کلی‘‘ لکھا جو آج بھی اُردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا، سحر بیانی ایسی کہ قاری کے ہوش غائب۔ ڈراما ’’انارکلی‘‘ لکھا تو جیسے طوفان آ گیا۔ ادب میں جو مقبولیت اس ڈرامے کو ملی وہ ایک مثال ہے۔ یہ ڈراما جہانگیر اور انارکلی کے فرضی معاشقے پر مبنی تھا اور یہ محض قیاس نہیں کہ کے- آصف نے مغل اعظم کی بنیاد رکھنے سے قبل اس ڈرامے کو ضرور پڑھا ہو گا ۔ امتیاز علی تاج نے ڈرامے میں ہر کردار کو زندہ جاوید بنا دیا۔ مکالمے ایسے کہ سیدھے دلوں میں اتر جائیں اور تماشا یہ کہ کم عمر میں شہزادے نے مقبولیت کے چاند کو چھو لیا۔ وہ فکر کیا تھی جس نے ڈراما ’’انارکلی‘‘کو لافانی زندگی دی ۔مت سہل ہمیں جانو۔ اس نے غلام ہندوستان سے علامتیں اور استعاروں کے نگینے قبول کیے اور تقدیر و تدبیر کی عظیم داستان ’’انار کلی‘‘ میں یہ نگینے جڑ دیے۔ ڈراما بغیر مکالموں کے نہیں کھیلا جاسکتا .... اور حقیقتاً انسانی قدروں کے ابلاغ کے اس مؤثر ذریعہ سے وہ واقف تھا اور آج کی تاریخ میں اس تاریخ کے ہزاروں شو ہو چکے ہیں۔ یہ ڈراما ہماری زندگی ، معاشرہ اور سیاست کا آئینہ دار ہے۔ برجستہ اور حسین مکالموں نے ڈراما ’’انارکلی‘‘ کو وہ مقبولیت دی کہ آج بھی ڈرامے کا سحر طاری ہے ۔ وہ تخیلاتی سفیر تھا۔ اس کی زندگی عشقِ اُردو کی تفسیر اور وہ اعتمادِ ذات سے نگینے تراشتا تھا ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج کے فروغِ حسن سے دیے آج بھی روشن ہیں۔ اُردو ہمیشہ زندہ رہے گی اور دیے کی روشنی میں کبھی کمی نہ آئے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460356714681,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6141b50fc29b81631696143.jpg?v=1785858119"},{"product_id":"chak-piran-ka-jassa-2nd-edition-چک-پیراں-کا-جسا","title":"CHAK PIRAN KA JASSA (2ND EDITION)  چک پیراں کا جسا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبلونت سنگھ، پیدائش جون 1921ء چک بہلول، گوجرانوالہ، پنجاب۔ والد فوجی سکول میں استاد۔ ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ، میانوالی اور جالندھر، والد کے تبادلے کے باعث چھوٹی عمر میں پنجاب سے ہجرت۔ کیمبرج سکول دہرا دون سے میٹرک۔ 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری کا حصول۔ 1940ء میں پہلے افسانے ’’ڈنڈ‘‘ کی دلّی کے اخبار ’’پرتاپ‘‘ میں اشاعت۔ بی اے کے بعد کئی برس شہرِ ہزار رنگ لاہور میں اقامت، راجندر سنگھ بیدی کے ساتھ شب و روز رفاقت۔ 1943ء میں افسانوں کے پہلے مجموعے ’’جگّا‘‘ کی رونمائی اور پذیرائی۔ 1947ء تک مزید تین افسانوی مجموعوں کی اشاعت۔ تقسیمِ ہند کے وقت رونما ہوئے روح فرسا واقعات کے شاہد۔ جولائی 1948ء سے جنوری 1950ء تک دلّی کے رسائل ’’آج کل‘‘، ’’بساطِ عالم‘‘ اور ’’نونہال‘‘ میں ملازمت۔ 1948ء میں پہلی شادی اور ایک سال بعد ہی علیحدگی۔ 1950ء میں والد کی وفات کے بعد الٰہ آباد منتقلی اور والد کے قائم کردہ امپیریل ہوٹل کا نظم و نسق سنبھالنا۔ لفظوں کے شعبدہ ساز کو اعداد و شمار کا گورکھ دھندا راس نہ آیا۔ چند برس بعد ہوٹل بیچ کر خود کو فسانہ نگاری و فسانہ سازی کے لیے وقف کر دیا۔ 50 برس کی عمر میں خود سے 25 برس چھوٹی منجو سنگھ سے دوسری شادی۔ دو بچّوں کی پیدائش اور خوشگوار ازدواجی زندگی۔ ’’کالے کوس‘‘، ’’رات، چور اور چاند‘‘، ’’چک پیراں کا جسا‘‘ جیسے شاہکار ناول اور سیکڑوں بےمثال افسانے اس باکمال ادیب کی میراث۔ 27 مئی 1986ء کو الٰہ آباد میں انتقال۔ اتر پردیش، پٹیالہ اور مشرقی پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے ادبی اعزازات مگر اصل اعزاز تو وہ محبّت اور عقیدت ہے جو انھیں سرحد کے دونوں جانب حاصل ہوئی۔ شکیل عادل زادہ نے ان کا مختصر خاکہ کچھ یوں لکھا تھا، ’’بلونت سنگھ، اُردو کا ایک بانکا افسانہ نگار، بانکا، سجیلا، کٹیلا۔ پنجاب نے اُردو کو بلند مرتبت کہانی لکھنے والے دیے ہیں۔ بلونت، بیدی، منٹو، قاسمی، غلام عباس، کرشن جی، اشک، کس کس نام ور کا نام لیجیے، ایک طویل فہرست ہے۔ کہانی لکھنے کا بلونت کا اپنا ایک ڈھنگ ہے۔ تیز ، تند، بھڑکتا ہوا۔ بہت حُسن پرست ہے اور شیوه جیالوں اور جواں مردوں کا ہے۔ بلونت سنگھ نے بیشتر پنجاب کی کہانیاں لکھی ہیں اور اپنی مٹّی کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کی تحریروں میں پنجاب کی بے باکی، پنجاب کا جمال، پنجاب کی خوش بو رچی بسی ہوئی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن رضا گوندل)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460367823033,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67360c3e96bdb1731595326.jpg?v=1785858712"},{"product_id":"raat-chor-aur-chaand-رات-چور-اور-چاند","title":"RAAT CHOR AUR CHAAND  رات چور اور چاند","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’رات، چور اور چاند‘‘ پنجاب کی عکاسی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہے، جس پنجاب میں بلونت سنگھ نے ایک مسکراتے ہوئے پنجاب کا تصور کیا تھا… ہیمنگ وے کی طرح بلونت سنگھ بھی انسان کی قوتِ برداشت، اس کے ضبط و تحمل، صبر و استقلال اور عزم و حوصلے کے قائل تھے۔ وہ انسانی خوبیوں کو اس کی ذات کی گوناگوں صفات میں تلاش کرتے تھے۔ ایک بڑے ناول کے دامن میں واقعات و حادثات کے جو سمندر ہوتے ہیں، وہ سب اس ناول میں موجود ہیں۔ محبت کی جولانیاں، نفرت کی شدت، جنگ، میلے، ٹھیلے، اکھاڑے، کشتی، ڈاکہ زنی، سانڈنیوں کا حملہ ڈاکوئوں کی زندگی ، انسانی فطرت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھرپور عکاسی ہے۔ دراصل بلونت سنگھ کہانی کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں جو ڈرامائی فضا کا عنصر پیدا ہوتا ہے، اس کا جواب نہیں!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473222250681,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e6a4acf2c2331584024271_12f14014-682a-43d3-bed5-911a55a9319a.jpg?v=1785946964"},{"product_id":"kalay-kos-کالے-کوس","title":"KALAY KOS  کالے کوس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eآپ بلونت سنگھ کے ناول ’’کالے کوس‘‘ کا مطالعہ کریں گے تو انتظار حسین کی طرح کہہ اُٹھیں گے کہ پنجاب تو بس بلونت سنگھ کے ہاں ہی نظر آتا ہے؛ جیتا جاگتا پنجاب، سورمائوں اور الہڑ دوشیزائوں کا پنجاب۔ ایسا پنجاب جس میں محبت کی لازوال کہانیاں جنم لیتی ہیں__ اور وہ پنجاب بھی جس میں خون کی ندیاں بہنے لگی تھیں۔ ہندو سکھ ہوں یا مسلمان، ہجرت کرتے ہوئے بلوائیوں کا نشانہ ہوئے تو بلونت سنگھ کے قلم نے احتیاط اور انصاف سے ایک ایک وقوعہ لکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ صاف ستھری زبان اور ماجرائی اسلوب میں لکھا ہوا یہ ناول محبت کی لازوال کہانیوں اور فسادات کے زمانے میں انسان کے وحشی ہو جانے کے موضوع پر لکھے گئے فکشن کے باب کا اہم حصہ ہو گیا ہے۔ محض اہم نہیں، الگ اور نمایاں بھی۔ الگ اور نمایاں یوں کہ پنجاب کے دیہی منظر نامے سے جنم لینے والے فسادات کے زمانے کی رومان بھری کہانیوں کو ایک ناول میں جس دلکش اسلوب، رواں دواں سادہ مگر عمدہ بیانیے میں گوندھ لیا گیا ہے، ایسا قرینہ پنجاب کا البیلا ناول نگار بلونت سنگھ ہی برت سکتا تھا۔ قبل ازیں ’’بک کارنر،جہلم‘‘ نے اس باکمال فکشن نگار کا ناول ’’چک پیراں کا جسا‘‘ بہت اہتمام سے چھاپا تھا جس کی پذیرائی کے بعد وہ ’’کالے کوس‘‘ کی طرف متوجہ ہوئے اور اب یہ خوب صورت اور اہم ناول آپ کے ہاتھوں میں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473231556793,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69bb827d16a1785314178.jpg?v=1785947061"},{"product_id":"meri-yadon-ke-chinar-میری-یادوں-کے-چنار","title":"MERI YADON KE CHINAR  میری یادوں کے چنار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ (میری یادوں کے چنار) کرشن چندر کی رُوح میں اترنے اور ان کے فن کی بلندی کو چھونے کے لیے ایک زینہ ہے۔ یادداشت اور افسانے کا حسین امتزاج ہے اور بےسبب عبارت آرائی سے پاک ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ- انصاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’میری یادوں کے چنار‘ اور ’مٹّی کے صنم‘ کرشن چندر کے سوانحی ناول ہیں۔ ان میں مذکورہ واقعات، سانحات اور تاثّرات مبنی بر حقائق ہیں۔ گو یہ دونوں تصنیفات افسانوی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ اس امر کی تصدیق کرشن چندر کے چھوٹے بھائی اوپندر ناتھ چوپڑہ نے راقم السطور سے ایک انٹرویو کے دوران بڑے واضح طور پر کی .... پھر جب بعد ازاں کرشن چندر نے اپنی ایک جامع سوانح حیات لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور سلمیٰ صدیقی نے اس کے بارے میں انھیں یاد دہانی کرائی تو انھوں نے جواب دیا: ’’یوں اگر سوچو تو ’مٹی کے صنم‘ اور ’میری یادوں کے چنار‘ بھی ایک طرح سے آپ بیتی ہی ہیں لیکن ان میں کہانی کا رنگ زیادہ ہے۔‘‘ .... اور یہ حقیقت ہے کہ ان تصنیفات کو روایتی معنوں میں آپ بیتی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محض متفرق یادیں ہیں، جھلکیاں ہیں، تاثرات ہیں، جن میں کوئی خاص ربط اور نظم نہیں، تاریخی تسلسل بھی نہیں.... لیکن ان کی دلچسپی اور جاذبیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان میں کرشن چندر کی زبان و بیان کی رنگینی، دل کشی اور شیرینی اپنی معراج پر ہے اور وہ قاری کی توجّہ کو بےطرح باندھے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجگدِیش چندر وَدھاون\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473254985913,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/644aacdf305931682615519.jpg?v=1785947183"},{"product_id":"ghaddaar-2nd-edition-غدار","title":"GHADDAAR (2ND EDITION)  غدار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر اُردو کا مقبول و محبوب، مجتہد اور منفرد فن کار ہے۔ انسان دوستی اور رجائیت اُس کا مشرب ہے۔ عوامی مسائل اور عوامی جدوجہد اُس کی تخلیقات کے موضوعات ہیں۔ اپنی گراں قدر تصانیف کی بدولت وہ عصرِحاضر کے مقتدر عالمی فنکاروں کی صفِ اوّل میں گنا جاتا ہے۔ اُس کی مقبولیت کا سبب جہاں عوام سے اس کی بے پناہ محبت ہے، جس کا اظہار وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں میں کرتا ہے، وہاں اُس کا منفرد اسلوب اور دلکش طرزِ بیان بھی ہے جس سے وہ اپنے قارئین کے دل موہ لیتا ہے۔ ”غدار“ کرشن چندر کا ایک اہم ناول ہے جسے ۱۹۶۰ء میں خاص اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اس ناول کا موضوع ۱۹۴۷ء کے فساداتِ پنجاب ہیں۔ اس سے قبل اس موضوع پر اس کی کہانیوں کا مجموعہ ”ہم وحشی ہیں“ شائع ہو کر اہلِ نظر سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبدقسمتی سے برصغیر کے دونوں طرف آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں، جن کے دِلوں میں نفرت کا ناگ کُنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ کرشن چندر انتظار کرتا رہا۔ وہ پورے تیرہ سال یہ آس لگائے بیٹھا رہا کہ اس ناگ کا پَھن آپ سے آپ کُچل دیا جائے گا لیکن اس طویل انتظار کے بعد جب اُس کی یہ آس نِراس میں تبدیل ہونے لگی، جب اُس نے دیکھا کہ ہر طرف ہم وجودیت (Co-Existence) کا دور دَورہ ہے، دُنیا کی بڑی سے بڑی قوتیں باہمی خیرسگالی اور تعاون، امن اور آشتی کی باتیں کرتی ہیں لیکن ان دونوں آزاد ملکوں کے لوگ جو کل تک ایک دوسرے کا گوشت پوست تھے، آج ایک دوسرے کو اس طرح گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں، جیسے اَزلی دشمن ہوں، تو اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اُس نے اس ناول کے رُوپ میں نفرت کے زہر کا تریاق پیش کیا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمواد اور اُسلوب کی مانند اس ناول کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جو ایک زبردست طنز پر مبنی ہے اور جو ناول کے پلاٹ کے پسِ منظر سے اُبھرا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا فساداتِ پنجاب سے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ فرقہ وارانہ فسادات پوری وحشت ناکی کے ساتھ بَرپا تھے تو انسانیت مسخ ہو کر رہ گئی تھی۔ زندگی کی اقدار جیسے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر کوئی فرزندِ اسلام، برادرانِ ملت سے کہتا تھا کہ ہندوئوں اور سکھوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ ہمسایہ کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرو۔ ان کے قتلِ عام سے باز رہو، تو نام نہاد ”رضا کار“ جھٹ فتویٰ داغ دیتے تھے کہ یہ ”سچا مسلمان“ نہیں۔ یہ تو لالوں کا ایجنٹ اور سکھوں کا وظیفہ خوار ہے۔ اس ”غدار“ کو گولی سے اُڑا دو۔ اسی طرح اگر کوئی سکھ یا ہندو اپنے دھرم کے بھائی بندوں سے اپیل کرتا تھا کہ سری گورو گرنتھ صاحب کے مہاوالیہ ”ایک پتا، ایکس کے ہم بارک“ (ہم سب اُس قادرِ مطلق کی اولاد ہیں) کے انوسار مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے خون سے ہاتھ نہ رنگو تو خود ساختہ ”جتھے دار“ اُس ”غدار“ ہندو یا سکھ کو اہلِ اسلام کا پِٹھو جتلا کر فی الفور ”جھٹکانے“ کا فرمان صادر کرتے تھے۔ چنانچہ اس دَورِ ابتلا میں بہت سے اس طرح کے مسلمان، سکھ اور ہندو ”غدار“ شہید کیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر کے اس ناول کا ہیرو بھی ایسا ہی غدار ہے۔ جب وہ ایک مسلمان کو ”جھٹکانے“ سے گریز کرتا ہے تو ”جتھے“ کا ”جتھے دار“ بُلّو آگے بڑھتا ہے اور ڈپٹ کر کہتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”او۔ کتے باہمن! تُو کیا لڑے گا، پرے ہٹ جا، غدار!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتو یہ ہے غدار،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبرعکس نہند نامِ زنگی کافور!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کی کہانی ۱۹۴۷ء کے شرمناک فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس میں اُلجھاوے نہیں، گرہیں نہیں، اس کی شاید ضرورت بھی نہیں۔ مصنف فی الحقیقت کہانی کی وساطت سے ہمیں ایک فلسفہ سمجھانا چاہتا ہے۔ انسانیت، نیک کرداری، امن اور اخوت کا فلسفہ! کہانی مختصراً یُوں ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”بیج ناتھ (ناول کا ہیرو) راوی کے اُس پار ضلع گورداسپور کے موضع کوٹلی سُودکاں کے ایک کھاتے پیتے برہمن گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ وہ فسادات کے طوفان میں گِھر کر موج ہائے خون کے تھپیڑے کھاتا ہوا لاہور پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان دوست وہاں کی مسموم فضا سے بخیریت بچ نکلنے میں اُس کی اِعانت کرتا ہے۔ پھر وہ قتل و غارت کے کبھی نہ ختم ہونے والے خونیں مراحل سے گزر کر گرتا پڑتا راوی کے کنارے پر پہنچ کر جان بچانے کے لیے اُس میں کود پڑتا ہے اور تَیر کر دوسرے کنارے اس پار پہنچتا ہے۔ اس طرف بھی مذہبی جنون کے صدقے حیوانیت، بربریت اور بہیمیت کا ننگا ناچ اُسے دیکھنے کو ملا۔ جب اُسے پتا چلا کہ فسادیوں کے ہاتھوں اُس کے خاندان کے کچھ افراد قتل اور اُس کی بہن اغوا کر لی گئی (وہ اعِزّہ واقارب سے بچھڑ کر تن تنہا ”پاکستان“ سے ”ہندوستان“ پہنچا تھا) تو وہ بھی مشتعل ہو گیا اور مسلمانوں کے قاتلوں میں شریک ہو گیا لیکن اس کا یہ اشتعال بالکل عارضی تھا۔ بہت جلد اُس نے اپنی کمزوری پر قابو پا لیا۔ فرقہ وارانہ نفرت اور مخاصمت کی لمبی، خوفناک اور دُکھ بھری رات کا اَنت ہوا اور راوی کے کنارے اَمن، اخوت، انسانیت اور آس کا سویرا جگمگا اُٹھا!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساری کہانی میں کہیں اُکتاہٹ نہیں بلکہ قاری جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر پُرامن شہریوں کے قتلِ عام اور مجسمۂ عصمت خواتین کے اغوا اور عصمت دَری کے دلدوز اور رُوح فرسا واقعات کا دِل تھام کر مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس سحرکاری کا ایک سبب تو مصنف کا دِلفریب پیرایۂ اظہار ہے اور دوسرے وہ حکمت (Tact) ہے جس سے کام لے کر پلاٹ میں سانحاتِ فسادات کی تلخی کے ساتھ محبّت اور رُومان کی چاشنی بھی شامل کر دی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرازؔ سنتوکھ سری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473278873785,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6781da8238d1785168346.jpg?v=1785947299"},{"product_id":"dosri-baraf-bari-say-pehle-3rd-edition-دوسری-برف-باری-سے-پہلے","title":"DOSRI BARAF BARI SAY PEHLE (3RD EDITION)  دوسری برف باری سے پہلے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e”دوسری برف باری سے پہلے“ اُردو کے لاکھوں شائقین کی طرح میرا بھی پسندیدہ ناول ہے۔ یہ جہاں پست انسانی جذبات، حرص، ہوس، لالچ، جاہ پسندی اور انتقام کی داستان ہے وہاں اعلیٰ ترین انسانی اوصاف انس، پیار، محبت، ہمدردی اور انسان دوستی کا مرقع بھی ہے۔ انسانی فطرت کے انتہائی قریب جس میں ایک ایک لفظ سچائی کی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول میں مختلف طبقاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے جو ایک جیسی جاہ پسندی، لالچ اور حرص و ہوس کا شکار ہیں۔ ہر قیمت پر آگے بڑھنے کی ہوس کے لیے وہ اپنی عصمتوں کو بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ ان میں سے ایک خانہ بدوش اور ان پڑھ عورت درشنا ہے جس نے اپنی آنکھوں میں محل دو محلوں کے خواب سجا رکھے ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے اپنی محبت اور اپنے محبوب خاوند کی زندگی کو بھی دائو پر لگا دیتی ہے۔ جب خاوند (ٹھاکر سنگھ) کو اپنی زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں تو یہ جفا پیشہ راضی خوشی راجے کے محل میں جا براجمان ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدوسری اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے خاندان کی عورت ہے، جس کا نام عظیمہ ہے۔ اس کا خاوند ایک اعلیٰ افسر ہے۔ عظیمہ کی خواہش ہے کہ اس کا خاوند صوبے کا پہلا ہندوستانی چیف کمشنر بنے۔ اس کے لیے یہ اپنے جسم کو سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے صوبے کے گورنر سے اپنے خاوند کے لیے یہ عہدہ حاصل کر لیتی ہے۔ ایک دن خاوند اِن کو ہمبستری کی حالت میں دیکھ کر گولی مار دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزندگی کیا کیا امتحان لیتی ہے۔ کس کس طرح سے سفلی خواہشات انسانوں کو قتل کرواتی آئی ہیں۔ عورت ترقی کرنا چاہتی ہے، بعض اوقات ترقی کرنے کے لیے اپنے خاوند کے سینے پر پائوں رکھ کر ترقی کا زینہ چڑھ جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر لکھتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”اولوالعزم عورتیں جو زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں اپنی جنس سے وہی کام لیتی ہیں، جو مرد اپنی عقل سے لیتے ہیں۔ عورت اپنی جنس سے ایک ہتھیار کا کام لیتی ہے، جو کام ان پڑھ درشنا نے کیا، وہی کام پڑھی لکھی عظیمہ کر گزری۔“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر نے ان دونوں عورتوں کی جاہ پسندی، حرص و ہوس کو اس چابک دستی اور ہُنرمندی سے بیان کیا ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سبھی کچھ ہمارے سامنے ہی وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ان دونوں بے وفا عورتوں کے خاوند (ٹھاکر سنگھ اور گورگانی)، جو اَب سماج کے راندئہ درگاہ اور قانون کو مطلوب ہیں، بھاگ کر جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور حُسنِ اتفاق سے وہاں آپس میں مل جاتے ہیں۔ پھر بڑی ہمت، حوصلے کے ساتھ جنگلی جانوروں، پہاڑوں، برف زاروں، بارشوں اور آب شاروں کے درمیان زندگی کے دن بسر کرنے لگتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسودا سلف لانے کے ایک سفر کے دوران ان کو ایک تنہا لاوارث بچی مل جاتی ہے۔ گورگانی اس کی بیٹیوں کی طرح پرورش کرتا ہے۔ یہ اس ناول کا تیسرا نسوانی کردار ہے اور اس کا نام دیپالی ہے۔ دیپالی فطرت کی آغوش میں ایک خودرو جنگلی پودے کی طرح بڑھنے لگتی ہے لیکن اسے اپنی جسمانی تبدیلیوں اور فطری تقاضوں کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدوسری برف باری سے پہلے کے ایام شروع ہوتے ہی شکاری ٹھاکر سنگھ اپنے جسم و جاں میں ایک تڑپ ایک پکار کو محسوس کرتا ہے۔ اس کے جسمانی فطری تقاضے اسے سونے نہیں دیتے اور سرما کی طویل راتوں میں تنہائی، ذہنی کرب اور کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے لیکن خود پر جبر کرتا ہے، خود کو اذیت دیتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ جب کہ دیپالی کو بھی پہلی بار تنہائی میں یہ فطری جسمانی اور جبلی تقاضے اپنی طرف بلاتے ہیں اور راتوں کو چین نہیں لینے دیتے، وہ بار بار بستر سے اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ پیاس سے اس کا گلا خشک ہو جاتا ہے۔ آخر ایک رات وہ اپنی جسمانی پکار سے ہار کر مجبور ہو جاتی ہے اورپھر...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ناول اسی جذباتی کشمکش، ذہنی کرب اور مناظر فطرت کی تصویرکشی ہے جس کو بڑی فنّی مہارت اور کمال دسترس کے ساتھ کرشن چندر نے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر کا حقیقت پسندانہ بے باک قلم کیا کیا کرشمے دکھاتا ہے۔ معاشرے کے کون کون سے چھپے گوشے عریاں کر کے پڑھنے والوں کے روبرو پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ناول ہی نہیں لاکھوں محروم انسانوں کا نوحہ بھی ہے۔ معاشرے کے کچلے ہوئے انسانوں کی سسکتی ہوئی چیخ و پکار بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرا یہ دعویٰ ہے کہ زندگی کے وسیع کینوس پر ایسی انوکھی تحریر آپ نے اس سے قبل نہ پڑھی ہو گی۔ دلی جذبات و کیفیات کے تانے بانے سے بُنے گئے کرشن چندر کے اس ناول کو آپ شروع کر کے ایک ہی نشست میں ختم کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ آزمائش شرط ہے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473476726969,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64b6989cd24de1689688220.jpg?v=1785947922"},{"product_id":"kitab-ka-kafan-کتاب-کا-کفن","title":"KITAB KA KAFAN  کتاب کا کفن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر نے اُردو افسانہ نِگاری میں جو رنگ پیدا کیا ہے وہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ اور شاید اس وقت کرشن سے زیادہ کامیاب افسانہ نِگار کوئی نہیں۔ اس کے افسانوں میں ہمیں رومان و حقیقت کا امتزاج مِلتا ہے جو ہندوستانیوں کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی فطرتاً تخیّل پرست اور رومانی ہیں۔ لیکن وقت اور ماحول کے تقاضوں نے ان کو حقیقت پرست اور واقعیت پسند بھی بنا دیا ہے۔ وہ اپنے انفرادی اور شخصی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کسی اجتماعیت کو ساتھ لے کر نہیں چلتے۔ فنّی اعتبار سے وہ اُردو کا بہت بڑا افسانہ نِگار ہے۔ اس نے افسانہ اور سکیچ کے امتزاج سے اُردو افسانہ نِگاری میں بالکل ایک نئی راہ نکالی ہے جو خود زندگی سے زیادہ قریب ہے۔ اس کے بعض افسانے تو بالکل سکیچ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی حیرت خیز صنّاعی ان میں بھی افسانویت کی ایسی جھلکیاں دکھاتی ہے جن کا کہانیوں میں بھی ملنا مُشکل ہے۔ اس قسم کے افسانوں کے ہر اشارے اور ہر کنائے میں ایک کہانی ہوتی ہے۔ کرشن کا اسلوبِ بیان اور طرزِ ادا دِل کش ہے اور شاید ایسی پیاری زبان اور شعریت سے اتنا بھرپور اسلوبِ بیان اُردو کے بہت کم افسانہ نِگاروں کو نصیب ہوا ہے۔ وہ بذاتِ خود اُردو افسانہ نِگاری کا ایک اسکول ہے جس کی بُنیاد اس نے خود ہی ڈالی اور جس کو وہ خود ہی پروان چڑھا رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر عبادت بریلوی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر اُردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگاروں میں ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ سب سے اچھے افسانہ نِگار ہیں اور اس قول کو آسانی سے رَد نہ کیا جا سکے گا۔ ان کے افسانوں میں تازگی اور شگفتگی، شادابی اور رعنائی ہے، زبان کی لطافت، تشبیہوں کی جدّت، اُسلوب کی ندرت، موضوع اور طرزِ بیان کی ہم آہنگی، موضوع اور مواد کی سماجی اہمیت، انسانیت کا درد اور اس کی ترقّی کی اُمید، یہ باتیں جس افسانہ نِگار میں اکٹھی ہو جائیں، وہی ساحری کر سکتا ہے۔ کرشن چندر اس لحاظ سے ساحر ہیں اگر وہ کبھی کبھی یہ احساس نہ دلائیں کہ حُسن صرف پہاڑوں اور وادیوں میں ہے۔ ان کے افسانوں سے یہ ترغیب نہ پیدا ہو کہ ’’فطرت‘‘ بذاتِ خود حسین اور مکمّل ہے تو شاید تخیُّلی حیثیت سے بھی ان کے جادو پر شک نہ کیا جا سکے۔ کرشن چندر کے افسانے پڑھے جانے کا اور ان کا فن مطالعہ اور غوروفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(پروفیسر احتشام حسین)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473616187577,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/644e32515fb461682846289.jpg?v=1785948542"},{"product_id":"jab-khayt-jaagay-2nd-edition-جب-کھیت-جاگے","title":"JAB KHAYT JAAGAY (2ND EDITION)  جب کھیت جاگے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپیش نظر مختصر ناول ”جب کھیت جاگے“ اس اعتبار سے کرشن کی سب سے اہم کہانی ہے کہ اس میں پندرہ سولہ سال کے بعد وہ کسان نئی شان سے واپس آیا ہے جس نے انتہائی بے چارگی کے عالم میں پریم چند کے ناول ”گئودان“ میں دم توڑا تھا۔ اب یہ بے بس اور مصیبت زدہ کسان نہیں ہے۔ بلکہ وہ بہادر چھاپہ مار ہے جو اپنی اور تمام کسانوں کی بے بسی اور مصیبت کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ باشعور، ہوش مند اور منظم کسان ہے جو دھرتی کی کوکھ سے ایک تناور اور مضبوط درخت کی طرح اُگا ہے اور انقلاب و بغاوت کی تیز و تند ہوائوں میں جھوم جھوم کر گیت گا رہا ہے۔ آپ جب اس کہانی کو پڑھیں گے تو راگھورائو کی رُوح آپ کے سینے میں آ جائے گی۔ یہی اثر آفرینی ہے اور کرشن اس فن کا سب سے بڑا جادوگر ہے۔ آج کے ادیب کا کام یہ ہے کہ وہ ظالموں کی بزدلی کی گواہی اور مجاہدوں کی عظمت اور شہیدوں کی پاکیزگی کی شہادت دے اور کرشن نے اپنے فرض کو بڑی دیانتداری سے پورا کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی سردار جعفری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473685622969,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64ba311f43a121689923871.jpg?v=1785948851"},{"product_id":"bawan-pattay-باون-پتے","title":"BAWAN PATTAY  باون پتے","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48508917285049,"sku":"BC SSH","price":720.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0c16d1bfcdb1779177169.jpg?v=1785948966"},{"product_id":"dil-ki-wadiyan-so-gayin-دل-کی-وادیاں-سو-گئیں","title":"DIL KI WADIYAN SO GAYIN  دل کی وادیاں سو گئیں","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473746571449,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/612ccc79668c41630325881_1383b99e-790e-44c0-841f-ad2f3a0320be.jpg?v=1785949238"},{"product_id":"raseedi-ticket-3rd-edition-رسیدی-ٹکٹ","title":"RASEEDI TICKET (3RD EDITION)  رسیدی ٹکٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eرسیدی ٹکٹ کا جس وقت ہندی اور انگریزی میں ترجمہ ہو رہا تھا، میرے کئی ماہ اس کی پکڑ میں رہے۔ اس لیے کئی حصے نئے لکھے گئے جو اِن زبانوں کے تراجم میں تو شامل ہو گئے لیکن پنجابی میں، اس کتاب کے چھپ چکنے کے باعث رہ گئے۔ وہ نئے اوراق اب اس نئے ایڈیشن میں شامل کر رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچتی تھی، نظموں کو بھی ان کے وقتِ تصنیف اور محرک کے تذکرہ کے ساتھ شامل کر سکوں لیکن پھر رسیدی ٹکٹ کو چھاپ سکنا میرے بس سے باہر ہو جاتا۔ اس لیے اس خیال کو مَیں نے دو مزید حصص میں تقسیم کر دیا۔ ’’میں جمع میں‘‘ اور ’’مَیں جمع دُنیا‘‘ میں، جن میں سے ایک جلد میں صرف وہ نظمیں ہیں (محرک واقعہ اور وقت سمیت) جو ایک ہستی کے متعلق ہیں، یعنی میرے ’’تم‘‘ سے اور دوسری جلد میں صرف وہ جو دُنیا میں پیش آ رہے ہیں، واقعات سے منسلک ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مَیں‘‘ کے بغیر نہ ’’تم‘‘ کے معنی نکلتے ہیں، نہ دُنیا کے۔ یہ ’’مَیں‘‘ کے آگے ’’تم‘‘ کا سفر ہوتا ہے اور ’’تم‘‘ کے آگے اپنی کائنات کا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدونوں حالتوں میں یہ ’’مَیں‘‘ کی وسعت کا سفر ہوتا ہے۔ وہ کتاب ’’میں جمع میں‘‘ (سمیت میں جمع دُنیا کے) علیحدہ سے چھپی ہے اور یہ رسیدی ٹکٹ الگ ہے لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتاپریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473762267321,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/655f394ccf63c1700739404.jpg?v=1785949356"},{"product_id":"surkh-dhaage-ka-rishta-سرخ-دھاگے-کا-رشتہ","title":"SURKH DHAAGE KA RISHTA  سرخ دھاگے کا رشتہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اس زندگی میں دو بار محبت کی ہے۔ پہلی ساحر سے، اور دوسری امروز سے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساحر کو میں نے آج سے تقریباً پینتالیس برس پہلے، پریت نگر ضلع امرتسر کے ایک مشاعرے میں دیکھا تھا۔ میں نے اپنی کتاب ’’ رسیدی ٹکٹ ‘‘ میں اس ملاقات کا ذکر لکھا ہوا ہے کہ اگلے روز جب ہم سب نے پریت نگر سے واپس لاہور پہنچنا تھا، اور ہم کو جو بس ملی تھی، وہ ایک نزدیکی گاؤں لوپوکی سے ملنی تھی، جہاں تک ہم سب نے پیدل چل کر جانا تھا۔ اور وہ راستہ چلتے ہوئے میں کتنا ہی فاصلہ اس جگہ پر چلتی رہی، جہاں ساحر کے جسم کا ایک لمبا سایہ پڑ رہا تھا۔ اور اس کے بعد .... برسوں تک مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ہمیشہ اس کے سائے میں چلتی رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ اس زندگی کی وہ حقیقت تھی، جو میں نے بسر کی تھی، اور لکھی تھی۔ لیکن یہ کس جنم کا سایہ تھا، اب جس سائے میں مَیں چل رہی تھی، یہ نہیں جانا۔ یہ میں نے 1983ء کی 5 جنوری کی رات کو جانا، جب گزشتہ جنم کو دیکھتے، میں نے اس محل کے راجے کی صورت میں ساحر کو دیکھا، جہاں 8 مارچ والے دن اس کی بیوی کی صورت میں مَیں نے قدم رکھا تھا، اور 29 دسمبر والے دن مجھے ایک عورت نے زہر کا پیالہ دے کر مروا دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473766461625,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/636f36937270d1668232851.jpg?v=1785949537"},{"product_id":"pinjar-پنجر","title":"PINJAR  پنجر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eایک بے بس عورت کی کہانی… امرتاپریتم کی زبانی… عورت جو انتقام کا شکار ہوئی، جو اپنے بیٹے کو ماں کا پیار نہ دے سکی… ساری عمر اپنے گھر، اپنے کنبے اور اپنے منگیتر کو نہ بھلا سکی… اس نے تقسیم کی خوں ریزی میں خود کو خطرے میں ڈالا اور دوسری عورتوں کی عصمت و عفت کی حفاظت کی… لیکن خود اپنے کنبے، اپنی عزت کے گہوارے سے دُور رہی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48509093249209,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/680dd4e744c131745736935.jpg?v=1785949710"},{"product_id":"unchas-din-انچاس-دن","title":"UNCHAS DIN  انچاس دن","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473780027577,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6087fa805cf731619524224.jpg?v=1785949837"},{"product_id":"kaghazi-hai-pairhan-2nd-edition-کاغذی-ہے-پیرہن","title":"KAGHAZI HAI PAIRHAN (2ND EDITION)  کاغذی ہے پیرہن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسچ بات یہ ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ عصمت چغتائی کی ’’یادوں کی بارات‘‘ ہے۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنی یادداشت اور خاندان کے لوگوں کی زبانی سنی سنائی باتوں کو جیسے جیسے انھیں یاد آتا جائے گا، جیسا ان کا جی چاہے گا قلم بند کرتی جائیں گی اور انھوں نے یہی کیا۔ نہ تسلسل کی پروا کی نہ اسے ناول بنانے کی اور یہ بھی ان کے حق میں اچھا ہی ہوا۔ دراصل اس کتاب کاپورا مواد خود نوشت ہی کے لیے مناسب ہے۔ اسے ناول بتائے جائیں تو ناول تو بنتا نہیں اور خودنوشت بھی ہاتھ سے نکل جاتی۔ عصمت ہماری بہت مقبول، بہت مشہور، ایک جغادری مصنفہ ہیں۔ لیکن ان کی صحیح قدر آج بھی پہچانی نہیں جاتی۔ دقیانوسی ادیبوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جو آج بھی انھیں محض ’’لحاف‘‘ اور ’’تل‘‘ کی مصنفہ کے طور پرجانتا ہے۔ وہ ان کی بے باکی اور بغاوت سے خوش نہیں ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اُردو تنقید نے ان پر وہ توجہ نہیں کی جس توجہ کی وہ مستحق تھیں۔ انھیں ایک بھی ایسا معتبر نقّاد نہیں ملا جو انھیں سمجھ اور سمجھا سکے اور ان کے فن کی بلندیوں کا احاطہ کر سکے۔ میرا خیال ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ کی کتابی صورت میں اشاعت سے عصمت کی شخصیت میں ایک نئی دلچسپی کا آغاز ہو گا اور اگر اس کا مطالعہ صحیح ڈھنگ سے کیا گیا تو ان کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہو جائے گا کیوںکہ ان صفحات سے عصمت کا جو کردار ابھرتا ہے وہ اپنے پیروں پر آپ کھڑی ہونے والی، جدید تعلیم یافتہ عورت کا کردار ہے جو مردانہ برتری کے تعصّبات، عورت کی طرف مذہبی تنگ نظری کی زائیدہ افترا پردازیوں، دقیانوسیت لکیر کی فقیری، رسم و رواج کی غلامی، جہالت، غربت او رتوہمات کی ماری ہوئی ہماری دیمک زدہ زندگی کے کسی ایک پہلو سے بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوارث علوی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473843957945,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6511426f533201695629935.jpg?v=1785951039"},{"product_id":"masooma-معصومہ","title":"MASOOMA  معصومہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب کمزور دل افراد کے لیے نہیں لکھی گئی تھی.... چُبھنے والے غصے اور کاٹ دار حقیقت نگاری کے ساتھ باریک بین آنکھ نے صرف بمبئی سینما کی اندھیر نگری کی ہی تصویر کشی نہیں کی بلکہ نام نہاد شرافت کے کلچر کا نقاب بھی نوچا ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(رخشندہ جلیل)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473848840377,"sku":"BC SSH","price":490.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/612737cc956fb1629960140.jpg?v=1785951209"},{"product_id":"aik-qatra-khoon-ایک-قطرہ-خون-واقعہ-کربلا","title":"AIK QATRA KHOON  ایک قطرہ خون (واقعہ کربلا)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیوں تو دُنیا میں کیا نہیں ہوتا پر وہ سب کچھ نہیں ہو سکتا جو کربلا کے میدان میں ہوا۔ خلافتِ اسلامیہ پر ایک حادثہ عظیمہ جس پر آسمان خون کے آنسو رویا۔ اس کتاب میں لفظوں کی چاشنی، تصویرکشی اور زبان اس قدر اچھی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ پڑھتے ہی چلے جائیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"MISC","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48473862209721,"sku":"BC SSH","price":950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/611e1a827c0211629362818.jpg?v=1785951434"},{"product_id":"terhi-lakir-ٹیڑھی-لکیر","title":"TERHI LAKIR  ٹیڑھی لکیر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجب ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ شائع ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا میں نے ایک جنسی مزاج اور بیمار ذہنیت والی لڑکی کی سرگزشت لکھی ہے۔ علم نفسیات کو پڑھیے تو یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون بیمار ہے اور کون تندرست۔ ایک پارسا ہستی جنسی بیمار ہو سکتی ہے اور ایک آوارہ اور بدچلن انسان صحت مند ہو سکتا ہے۔ جنسی بیمار اور تندرست میں اتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے کہ فیصلہ دشوار ہے مگر جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی ہیروئن نہ ذہنی بیمار ہےاور نہ جنسی۔ جیسے ہر زندہ انسان کو گندے ماحول اور آس پاس کی غلاظت سے ہیضہ، طاعون ہو سکتا ہے اسی طرح ایک بالکل تندرست ذہنیت کا مالک بچہ بھی اگر غلط ماحول میں پھنس جائے تو بیمار ہوجاتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمگر شمن زندہ ہی نہیں ہے جاندار بھی ہے۔ اس پر مختلف حملے ہوتے ہیں لیکن ہر حملے کے بعد وہ پھر ہمت باندھ کر سلامت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ہر امتحان سے گزر کر پُر سکون انداز میں اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے اور ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرنے کے بعد دوسرا قدم اٹھاتی ہے۔ یہ اس کا قصور نہیں ہے کہ وہ بے حد حساس اور ہر چوٹ پر منہ کے بل گرتی ہے مگر پھر سنبھل جاتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں سے ٹکر لے کر وہ انہیں جھٹلا دیتی ہے۔ ہر طوفان سر سے گزر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمن کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا، وہ پیار کی محبت اور دوستی کی بھوکی ہے اور انھی نعمتوں کی تلاش میں بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ اس کا دوسرا عیب ہے ضد ____ یا شاید یہی اس کی خوبی ہے۔ ہتھیار ڈال دینا اس کی طبیعت نہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ میری آپ بیتی ہے۔ مجھے خود یہ آپ بیتی لگتی ہے۔ میں نے اس ناول کو لکھتے وقت بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ میں نے شمن کے دل میں اترنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ آنسو بہائے ہیں او رقہقہے لگائے ہیں۔ اس کی کمزوریوں سے جل بھی اٹھی ہوں، اس کی ہمت کی داد بھی دی ہے۔ اس کی نادانیوں پر رحم بھی آیا ہے اور شرارتوں پر پیار بھی آیا ہے۔ اس کے عشق و محبت کے کارناموں پر چٹخارے بھی لیے ہیں اور حسرتوں پر دکھ بھی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ یہ میری آپ بیتی ہے تو کچھ زیادہ مبالغہ تو نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور جگ بیتی اور آپ بیتی میں بھی تو بال برابر کا فرق ہے۔ جگ بیتی اگر اپنے آپ پر بیتی محسوس نہ کی ہو تو وہ انسان ہی کیا؟ اور بغیر پرائی زندگی کو اپنائے ہوئے کوئی کیسے لکھ سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمن کی کہانی کسی ایک لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے۔ اس دور کی لڑکیوں کی کہانی ہے جب وہ پابندیوں اور آزادی کے بیچ ایک خلا میں لٹک رہی تھیں اور میں نے ایمانداری سے ان کی تصویر ان صفحات میں کھینچ دی ہے، تاکہ آنے والی لڑکیاں ا س سے ملاقات کر سکیں اور سمجھ سکیں کہ ایک لکیرکیوں ٹیڑھی ہوئی ہے اور کیوں سیدھی ہو جاتی ہے اور اپنی بچیوں کے راستے کو الجھانے کے بجائے سلجھا سکیں اور بجائے تنبیہ الغافلین کے اپنی بیٹیوں کے دوست اور رہنما بن سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعصمت چغتائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبمبئی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473875873977,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6783a4c720d1785168804.jpg?v=1785951519"},{"product_id":"ghalib-a-novel-غالب-ناول","title":"GHALIB - A NOVEL  غالب ۔ ناول","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاللہ بھلا کرے شکیل عادل زادہ صاحب کا جن کی معرفت قاضی عبدالستار کی کہانیاں ’’سب رنگ‘‘ میں پڑھنا شروع کیں اور پھر یاد پڑتا ہے ہر دفعہ ’’سب رنگ‘‘ کے شمارے میں قارئین بٹھل کے لاڈلے بابر زمان کو بازی گر میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے جبکہ میری کوشش ہوتی کہ فہرست میں دیکھوں قاضی عبدالستار اور ابوالفضل صدیقی کی کہانیاں شامل ہیں یا نہیں۔ ان دونوں بڑے ادیبوں کی زبان وبیان اور کہانی پر جو گرفت ہے وہ آپ کو اور کہیں نہیں ملتی۔ میرے بک کارنر سے تعارف کی وجہ ہی قاضی عبدالستار تھے، جب فیس بک پر بک کارنر جہلم کو ان کی کتابوں کا آرڈر کیا تھا۔ یہ شاید 2012ء کی بات ہے اور کتابیں اسی وقت منگوا لی تھیں۔ اب قاضی عبدالستار کا غالب پر ناول دیکھا تو لگا اس سے بہتر کیا لکھا جائے گا۔ قاضی عبدالستار کا جادو یہاں بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ قاضی عبدالستار نے ہر کہانی میں قلم اور قارئین کے ساتھ انصاف کیا ہے.... یا یوں کہیں، غالب کے ساتھ انصاف تین لوگوں نے ہی کیا ہے ۔قاضی عبدالستار نے ناول لکھ کر کیا ہے تو گلزارؔ نے غالب پر فلم\/سیزن بنا کر اور نصیرالدین شاہ نے غالب کا کردار ادا کر کے.... غالب بھی ان سب کو دُعائیں دیتے ہوں گے۔ ویسے سوچتا ہوں غالب کو اجڑی دلّی میں اگر بک کارنر جہلم جیسا کوئی پبلشر یا گلزار جیسا فلم میکر، قاضی عبدالستار جیسا ان پر لکھنے والا ادیب اور نصیرالدین شاہ جیسا اداکار دستیاب ہو جاتا تو یقین کریں شاید انہیں انگریزسرکار کو اپنی پنشن کے لیے سینکڑوں خطوط نہ لکھنے پڑتے، نہ قانونی جنگ لڑنا پڑتی اور نہ ہی قرض خوروں کی وجہ سے گھر میں چھپ کر رہنا پڑتا اور نہ ہی کسمپرسی کی حالت میں اس دُنیا سے یہ اُداس گیت گاتے رُخصت ہوتے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر سوچتا ہوں اگر یہ سب لوگ غالب کو اس وقت دلّی میں میسّر ہوتے تو پھر ہمیں آج لیجنڈ غالب کہاں ملتا....!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475175977145,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/603788df8f4e81614252255.jpg?v=1785962044"},{"product_id":"shab-gazeedah-شب-گزیدہ","title":"SHAB GAZEEDAH  شب گزیدہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُردو کے ایک یک سر مختلف، منفرد فسانہ نگار، قاضی عبد الستار، سخن ایجاد، ستم طراز۔ کم لکھا ہے لیکن کم لکھنا ایک انبارِرائیگاں سے بڑی کوتاہی نہیں ہے یا یوں کچھ کم نظر آتا ہے کہ اُنھوں نے اشتیاق ہی ایسا سِوا کر دیا ہے۔ بہت مختصر مدّت میں اُن کا نام اُردو کے واجبِ احترام، محترم المقام کہانی کاروں کی فہرست میں نقش ہو چکا تھا۔ ناول دارا شکوہ کے بعد اُنھوں نے محبوب کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ قاضی صاحب اپنے رنگ ڈھنگ کے داستان گو ہیں۔ وہ دھواں دیتے ہوئے بام و در، کِرم خوردہ دہلیزوں، اپنے آپ سے شرم سار، اپنا سینہ کُھرچتے اور اپنا چہرہ کھسوٹتے ہوئے آدم زادوں کے نوحہ گر ہیں۔ خود قاضی صاحب، زندگی سے دوچار، ڈیڑھ سو سال سے ہانپتی ہوئی مسلم تہذیب کے کردار ہیں۔ اُن کے لہجے کی شدّت اور اُن کے سوز و گداز کا سبب بھی کچھ یہی ہے کہ وہ بھی اُنھی جاں سوختگاں میں شامل ہیں جن کی کہانیاں وہ لکھتے ہیں۔ قاضی صاحب اپنی زبان اور لہجے سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ خوبی وَلے کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ صرف لفظ برتنے کا ہنر، زبان و بیان کا تیور اور عبارت کی تمکنت ہی نہیں، کہانی کار یا خیال کار بھی وہ اتنے ہی ممتاز ہیں۔ بیان کا سلیقہ، بےباکی و بےساختگی، دھیمی دھیمی گرج، پھبن، کھنک اور مختصراً ایک تہذیبی رویّہ اُن کی تحریر کا خاصہ ہے۔ وہ اپنے مخصوص انداز سے ایک خاص فضا پیدا کرتے ہیں اور اُسلوب پر اتنا اصرار نہیں کرتے کہ کہانی کہیں گُم ہو جائے جیساکہ بعض شہ زور انشاپرداز کہانی سنانے والوں کا شیوہ یا خامی ہے۔ قاضی صاحب کی کہانی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ کہیں کہانی کو بیان کرنے کے شکوہ سے مدد ملتی ہے تو کہیں کہانی خود بیان کی شدّت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ اُن کے قارئین کے خیال میں قاضی صاحب کی تحریریں دو آتشے کا لطف دیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475721629881,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/612a62ae955e41630167726.jpg?v=1785962331"},{"product_id":"pehla-aur-akhiri-khat-پہلا-اور-آخری-خط","title":"PEHLA AUR AKHIRI KHAT  پہلا اور آخری خط","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475776778425,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6023cccaabe741612958922.jpg?v=1785962592"},{"product_id":"dara-shikoh-داراشکوہ","title":"DARA SHIKOH  داراشکوہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشہنشاہوں کی تاریخ، فوج، کنیزیں، اصیلیں، مغلانیاں، قلمقانیاں، باندیاں، لونڈیاں، نوکر چاکر، مصاحب .... ان کی داستاں کوئی لکھ سکتا تھا تو وہ قاضی صاحب تھے۔ بادشاۂ وقت، تیور بھی شاہانہ رکھتے تھے۔ محاورہ ہے کہ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا۔ نواب سے ملنے والا آیا تو وقت رُخصتی خالی ہاتھ کیسے جانے دیں۔ پیتل کا گھنٹہ دے دیا۔ ان پر لکھنے کو دُنیا بھر کی کتابیں اور کہانیاں ہیں۔ مگر آج قاضی صاحب کے صرف ایک ناول ’’دارا شکوہ‘‘ پر اکتفا کروں گا۔ ’’دارا شکوہ‘‘ پڑھتے ہوئے لگتا ہے، شاہجہاں کا پانچواں بیٹا، جس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی یہ رُوداد رقم کر رہا ہے۔ یہ ماضی کا قصّہ نہیں، یہ آج کا قصّہ ہے۔ لکھنے والے قاضی صاحب.... تاریخ کے محافظ قاضی صاحب.... اور اس دَور کے عینی شاہد قاضی صاحب.... وہ حقیقت میں بادشاہ تھے.... جلال و جمال کی شاہانہ مثال.... ’’دارا شکوہ‘‘ کسی جادو سے کم نہیں۔ جی چاہتا ہے، شاہجہاں کے کردار میں قاضی صاحب کو دیکھوں.... قاضی صاحب سے کئی ملاقاتیں رہیں، ہر ملاقات یادگار۔ کافی پہلے انھوں نے کہا تھا، افسانہ چاول پر قُلْ هُوَ اللّٰہ لکھنے کا نام ہے۔ ان کے ناول اور افسانے پڑھنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ وہ کہانیوں کے بادشاہ تھے۔ جب تک جیے شان سے جیے۔ وہ نمائش کے لیے افسانہ نہیں لکھتے تھے۔ وہ غیب کی صداؤں کو زنبیل سے نکالتے اور لفظوں کا انتخاب کرتے۔ انھوں نے جو بھی لکھا، کسی شاہکار سے کم نہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475803320505,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6029416a710ae1613316458.jpg?v=1785962741"},{"product_id":"khuda-ki-basti-special-edition-خدا-کی-بستی-سپیشل-ایڈیشن","title":"KHUDA KI BASTI (SPECIAL EDITION)  خدا کی بستی (سپیشل ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشوکت صدیقی پیدائش، 20 مارچ 1923ء، لکھنؤ، 1946ء، سیاسیات میں ایم اے، 1950ء، کراچی آمد۔ مختصر کہانیوں اور ناولوں کے مایہ ناز قلم کار اور ممتاز صحافی۔ 1944ء میں عملی زندگی کا آغاز ماہنامہ ’’ترکش‘‘ سے کیا، کئی انگریزی اور اُردو اخبارات سے وابستہ، روزنامہ ’’مساوات‘‘ کراچی کے بانی مدیر، روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر اور عرصے تک ہفت روزہ ’’الفتح‘‘ کراچی کے سربراہ رہے۔ اُن کے متعدد ساتھی کارکن آج ملک کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، صحافت میں اُنھیں اپنا معلّم سمجھتے اور بابائے صحافت کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ شوکت صدیقی پاکستان رائٹرز گِلڈ کے جنرل سیکرٹری اور انجمن ترقی پسند مصنّفین کے صدر رہے۔ اُردو کے بڑے ناول نگاروں کی کوئی فہرست اُن کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ناول نگاری کی ابتدا 1945ء میں ’’کمین گاہ‘‘ سے کی ۔ دوسرا اور معرکہ آرا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ 1958ء میں منصہ شہود پر آیا اور وجۂ شہرت بنا۔ 1960ء میں اس کی مقبولیت کے باعث شوکت صدیقی کو پہلا آدم جی ادبی انعام ملا۔ 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ یہ اُردو زبان کا واحدناول ہے جس کے 42زبانوں میں تراجم ہوئے۔ انگریزی میں ڈیوڈ میتھیوز نے“God's Own Land: A Novel of Pakistan”کے نام سے ترجمہ کیا۔ بنگلا میں اس ناول کے ترجمے کو حبیب بینک انعام سے نوازا گیا۔ بچپن کی یادوں پر مشتمل تیسرا ناول ’’کوکا بیلی‘‘ 1962ء میں شائع ہوا۔ اسے ازسرِنو تحریر کیا اور 1990ء میں ’’چار دیواری‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ چوتھا اور آخری ناول ’’جانگلوس‘‘ طویل عرصے تک سب رنگ ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ بعد میں تین جلدوں پر محیط کتابی شکل میں چھپا۔ اس ناول کو پنجاب کی الف لیلہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن پر بھی پیش کیا گیا، لیکن ٹیلی وژن کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے اسے مکمل نشر نہ کیا جا سکا۔ شوکت صدیقی کی دیگر تصانیف میں افسانوں کے مجموعے ’’تیسرا آدمی‘‘(1952ء)، ’’اندھیرا اور اندھیرا‘‘ (1955ء)، ’’راتوں کا شہر‘‘ (1956ء)، ’’کیمیاگر‘‘ (1984ء) اور سیاسی و تاریخی مضامین کے مجموعے ’’طبقاتی جدوجہد اور بنیادپرستی‘‘ (1988ء)، ’’گمشدہ اوراق‘‘ (2011ء) اور ’’جُہدِ قلم‘‘ (2024ء) شامل ہیں۔ ’’جانگلوس‘‘ لکھنے پر حکومتِ پاکستان نے اُنھیں 1997ء میں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا اور 2003ء میں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے 2002ء میں کمالِ فن ایوارڈ اور 2004ء، دوحہ (قطر) میں عالمی فروغِ اُردو ادب کے ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ وہ 18 دسمبر، 2006ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 20 مارچ 2023ء کو دُنیا کے مختلف ملکوں میں شوکت صدیقی کا صد سالہ یومِ ولادت جوش و عقیدت سے منایا گیا۔ اس موقع پر بک کارنر جہلم نے بھی اُن کے ناول ازسرِنو کتابت کروائے اور تمام تر اہتمام سے شائع کیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475857944761,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67472aa9cb00c1732717225.jpg?v=1785962903"},{"product_id":"jangloos-vol-3-جانگلوس-جلد-سوم","title":"JANGLOOS (VOL: 3)  جانگلوس (جلد سوم)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیاد آتی ہیں، اُس زمانے کی باتیں۔ سب رنگ 90 فیصد کہانیوں کا رسالہ تھا۔ دل چسپ اور اعلیٰ درجے کی کہانیوں کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے جاتے۔ شمالی ناظم آباد میں اُردو کے چند مقبول ترین ناولوں میں ایک ’’خدا کی بستی‘‘ کے خالق شوکت صدّیقی گھر سے دو تین گلیاں پیچھے رہتے تھے۔ تین چار سال مغرب بعد ہفتے میں دو تین مرتبہ خدمت میں حاضری لازم قرار دی تھی کہ ’’خدا کی بستی‘‘ جیسا کوئی ناول یا سرگزشت لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ثقہ فسانہ نگار، ڈائجسٹ رسالوں میں اپنی تحریروں کی اشاعت سے گریزاں رہتے تھے۔ کچھ ایسی شہرت ہو گئی تھی کہ ڈائجسٹ تیسرے چوتھے درجے کی تحریریں چھاپتے ہیں اور لوگوں کو بگاڑنے، توہمّ پرستی کی تلقین کا سبب بن رہے ہیں۔ شروع شروع میں، خصوصاً کراچی کے ڈائجسٹوں میں جادو ٹونے یا جن بھوت، پریوں، دم، اور ماورائی، دیو مالائی قسم کے قصّے کثرت سے شائع ہوتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشوکت صدّیقی، ایک نہایت خوش طبع، خوش وضع ادیب، صحافی اور بنیادی طور پر کہانی کار تھے۔ دل پر اثر کرنے والی حقیقی زندگی کی کہانیوں کی تخلیق میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کی مجلس میں بہت کچھ حاصل ہوتا تھا، کیا حکمت آموز، بصیرت افروز، دنیا جہاں کی باتیں وردِ زباں رہتیں۔ سیاست، معیشت، سماجی اقدار اور ادب کے تذکرے۔ ادیبوں کے حال احوال، جو غیبتوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ غیبتوں کا بھی اپنا ایک مزہ ہے۔ محفلیں گرم، شاد آباد رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر، اپنا مقصد تو اُن کی جناب میں پیشی کا ایک ہی تھا، سب رنگ کے لیے لکھنے پر تیّار کرنا۔ طرح طرح کی رَغبتوں سے انھیں مہمیز کرنے، اکسانے کی کوشش جاری رہی۔ صاف انکار بھی نہیں کر پاتے تھے، سُن کے مسکراتے کہ ہاں ہاں ضرور، پر کیا بتاؤں اِن دنوں کچھ عجب حالت ہے، لکھنے لکھانے کا موڈ ہی نہیں بن پا رہا۔ خاطر تواضع میں پیش پیش بھابھی صاحبہ بھی کبھی ہماری محفل میں شریک ہو جاتیں۔ متعدد بار اُن سے بھی سفارش کروائی۔ آخر تین چار سال کی منّتِ شاقہ کے بعد حضرت قبلہ سے ہتھیار ڈلوا دیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُن کی مرضی کا معاوضہ پیش کیا گیا، جو یقیناً اُردو اخبار و رسائل میں کسی فسانہ نگار کو دیے جانے والے معاوضے میں پہلی مثال تھا۔ سب رنگ میں شائع ہونے والا اُن کا طویل ناول ’’جانگلوس‘‘ ایسا پسند کیا گیا کہ ٹی وی والوں نے سیریز بنانے کی ٹھان لی لیکن مزاجِ خسروی پر یہ کلامِ تند و ترش بار ہونا چاہیے تھا، سو چند قسطوں کے بعد اسے ناتمام کر دیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں ’’جانگلوس‘‘ کو اس کے متن اور رُوح کے مطابق فلمانے کی مہم سرزد کر لی جائے تو ایک بڑا واقعہ ہو گا، جانے کتنے آئینہ خانے، شیش محل زد پر آجائیں گے۔ بہرحال یہ کیا کم ہے کہ شوکت صدّیقی کو کاغذوں پر ’’جانگلوس‘‘ ایک دستاویزی ناول محفوظ کرنے کا موقع مل گیا اور یہ کیا کم ہے کہ وہ خود بھی محفوظ و مامون رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ماخوذ ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ جلد ہشتم)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475948974265,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/678269139edd41736599827.jpg?v=1785963190"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/urdu-calssics.oembed?page=3","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}