{"title":"Urdu Literature","description":"\u003cp\u003eاردو ادب کی بہترین کتابوں کا مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"bazar-ka-but-بازار-کا-بُت","title":"BAZAR KA BUT بازار کا بُت","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eاُردو افسانہ نگاری کے دورِ زرّیں میں بھی مجھے راجندر سنگھ بیدی سے بڑھ کر مشاہدے کی سچائی، گہرائی اور ہمہ گیری کم ہی کہیں ملی، مگر طاہرہ اقبال کے چند افسانے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ گہرے اور کھرے مشاہدے کے ذریعے اپنے افسانے کو مؤثر بنانے کا سلسلہ بیدی پر ختم نہیں ہو گیا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک بے خوفی اور اعتماد طاہرہ کی تحریروں میں برابر ملتا ہے۔ شہر کے مڈل کلاس لوگوں کی جھجک ان کی کہانی Grow کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے توانا بیانیے کے آگے کسی بھی طرح کی یہ جعلی Moralist ٹک نہیں سکتی، کیونکہ طاہرہ نے جو کچھ جتنا بھیانک دیکھا اور سمجھا وہ اپنا بے محابا اظہار چاہتا ہے۔ اگر طاہرہ اسپینش زبان میں لکھ رہی ہوتیں اور وسطی امریکی ریاستوں کے براعظم جنوبی امریکا کے پٹے ہوئے لوگوں کی بِپتا بیان کرتیں تو اس وقت دُنیا کی درجنوں زبانوں میں یہ کہانیاں ترجمہ ہو چکی ہوتیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e( اسد محمد خان)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے کا کمال یہ ہے کہ پورا ماحول جس قدر بھیانک ہے اس کے خلاف پیدا ہونے والا تاثر ایک سوال انگیز سرّیت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوبی ہے جس نے طاہرہ اقبال کو قابلِ داد افسانہ نگار بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد علی صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطاہرہ اقبال واقعتاً ایک خلاق افسانہ نگار ہیں۔ اُردو فکشن کا شاندار مستقبل جن چند افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر منحصر ہے، اُن میں طاہرہ اقبال سرِفہرست ہیں۔ مبدائے فیاض سے انھیں بےپناہ تخلیقی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اُن کی نگاہ باریک بیں ہے، مشاہدہ تیز ہے اور مطالعہ گہرا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(فتح محمد ملک)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385712062649,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6975f93fe1ac41769339199.jpg?v=1785281004"},{"product_id":"bikhri-hai-meri-dastaan-بکھری-ہے-میری-داستاں-copy","title":"INSAAN, AY INSAAN ! انسان اے انسان","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eحسن منظر اُردو کے ایک ایسے افسانہ و ناول نگار ہیں جو زندگی کو زمانۂ حال اور عہدِ ماضی کے تمام افسانہ نگاروں سے یک سر الگ انداز میں دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے مشاہداتِ حیات کو افسانے یا ناول کی صورت میں پیش کرتے ہیں تو یہ بات بالخصوص متاثر کرتی ہے کہ ان کے افسانے اور ناول کے بیانیے میں ان کی زندگی کا تجربہ اور اس کا تجزیہ شامل ہوتا ہے، لیکن وہ آپ کے خیالات کو منقلب کرنے کے آرزو مند نظر نہیں آتے، اس کے برعکس وہ معاشرتی اور تہذیبی حقیقت کو اپنے تجزیے کی روشنی میں اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ حقیقت کی جراحت یا بہجت آپ کو اپنی طرف متوجّہ کر لیتی ہے۔ حسن منظر کا نیا ناول ’’انسان، اے انسان‘‘ ان کے سابقہ ناولوں: ’’العاصفہ‘‘، ’’وبا‘‘ اور ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘ سے اِس لحاظ سے مختلف ہے کہ اِس میں اُنھوں نے مرکزی کردار تلمیذ الرحمٰن کو مثال بنا کر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے— ’’انسان اے انسان— آخر تُو کیا ہے؟‘‘ اور جواب کی جستجو میں حیاتیاتی واقعات، سانحات اور حالات کی قاشیں جمع کرنے کی بجائے تلمیذ کی پوری زندگی کو موضوع بنایا ہے۔ اِس ناول میں اُنھوں نے 1940ء سے لے کر 1960ء کے وسط تک کے معاشرتی عمل کو اپنے منفر د مشاہدات اور تلمیذ کے انفرادی اور رنگ بدلتے ردِّ عمل کے حوالے سے اِس طرح پیش کر دیا ہے که ناول زندگی کا مرقّع بن گیا ہے اور تاثر کی متنوّع کیفیات پیدا کرتا چلا جاتا ہے، اور انجام اتنا اچانک اور غیر متوقّع ہے کہ تلمیذ پھانسی کے تختے پر چڑھنے کی بجائے پھر زندگی کے میدان میں کود جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’انسان، اے انسان‘‘ ایک باشعور تخلیقی فن کار کا ناول ہے، جو حقیقت کو انوکھے زاویوں سے دیکھتا ہے اور انھیں اپنے فطری اسلوب میں احساسات کے جزر و مد کے ساتھ پیش کر دیتا ہے، لیکن قاری محسوس کرتا ہے کہ اس کی سوچ کو مہمیز کر دیا گیا ہے۔ فن کی اس بلندی پر اُردو کے جو ناول پہنچے ہیں، وہ انگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں، اور ان میں ’’انسان، اے انسان‘‘ بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور سدید)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48425935077561,"sku":"BC SSH","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c847f38086d1757956083.jpg?v=1785616278"},{"product_id":"sahib-e-awaz-e-dost-mukhtar-masood-صاحبِ-آواز-دوست-مختار-مسعود","title":"SAHIB E AWAZ E DOST MUKHTAR MASOOD  صاحبِ آواز دوست مختار مسعود","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48457412280505,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6787936ffe31785169811.jpg?v=1785835726"},{"product_id":"rasm-ul-khat-رسم-الخط","title":"RASM UL KHAT  رسم الخط","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈپٹی نذیر احمد کے اِس رسالے کا مقصد مبتدیوں کو نیز اُن کے اساتذہ کو اردو لکھاوٹ کے اصول سکھانا اور خوش نویسی کی مشق بہم کرانا ہے۔ یہ رسالہ اُس وقت لکھا گیا تھا جب ہندوستان میں ہندوؤوں نے اپنی زبان کے رسمِ خط کے لیے اردو کے مقابلے میں سیاسی تحریک اٹھا دی تھی حالانکہ مسئلہ زبان کا نہیں رسمِ خط کا تھا، اگرچہ بعد کے حالات نے یہی ثابت کیا کہ سر سید کی پالیسی درست تھی اور اردو اور ہندی کا آپسی تنازع ایک طرح سے لسانیاتی میکسکن سٹینڈآف (Mexican standoff) پر پہنچ چکا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرسم الخط کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد اردو حروفِ تہجی کو حروف کی خالی کشتیوں اور نقطوں میں تقسیم کرنے کے نظریے یعنی Ghost Character Theory (GCT) کے بنیاد گزار ہیں۔ اُن سے پہلے اردو حروفِ تہجی کی یہ والی تقسیم کسی مصنف کے ہاں نہیں ملتی کیونکہ اُن کا رسالہ اِس موضوع پر اردو میں پہلی باضابطہ مستقل تصنیف ہے۔ رسم الخط میں حروفِ تہجی کو وِند اور اوِندوا میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور اردو میں بھی تقسیم کیا گیا ہے تاکہ نہ صرف مبتدی بلکہ اساتذہ بھی اِن سے بننے والے الفاظ کے بارے میں جان سکیں کہ کون سا لفظ کس زبان کا ہے۔ رسم الخط میں ڈپٹی صاحب لکھائی کی مشقوں میں ایسے الفاظ لائے ہیں جن سے اساتذہ کو اُن کے معنی بتانا پڑیں اور طلبہ کو ہم آواز لیکن مختلف الاملا لفظوں (Homophones) میں فرق معلوم ہوسکے۔ تعلیمی نفسیات کا یہ شاندار حربہ نہ صرف طلبہ کو سبق میں محو رکھتا ہے بلکہ استاد کو مطالعے اور سمجھانے کی کاوش پر بھی آمادہ کرنے والا ہے۔ رسم الخط کی اصل غایت حروف کو جوڑ کر لفظ بنانے کا ڈھنگ سکھانا ہے کیونکہ لفظی اور ابجدی دونوں طرح کے نظامہائے تحریر کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے اردو تحریر کا ہر لفظ ایک مستقل فلمچے (Visual Gestalt) کے طور پر شناخت ہوتا ہے۔ رسم الخط کے مندرجات اور لکھائی کی مشقوں میں دیے گئے الفاظ کے بارے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ ڈپٹی صاحب نے اپنے رسالے کو ہر لحاظ سے سیکولر رکھا ہے تاکہ کسی بھی مذہب کا استاد اِسے پڑھا سکے اور کسی بھی مذہب کا طالبِ علم اِسے پڑھ سکے۔ مثال لیجیے کہ بعض ناموں کے ہجے سکھانے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤوں اور انگریزوں کے نام بھی لکھے گئے ہیں تاکہ غیریت دور ہوسکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحافظ صفوان محمد چوہان\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460102205625,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/616e8e230edb11634635299.jpg?v=1785854832"},{"product_id":"deputy-nazeer-ahmed-ki-kahani-kuch-un-ki-kuch-meri-zabani-ڈپٹی-نذیر-احمد-کی-کہانی-کچھ-ان-کی-کچھ-میری-زبانی","title":"DEPUTY NAZEER AHMED KI KAHANI: KUCH UN KI KUCH MERI ZABANI  ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی: کچھ ان کی کچھ میری زبانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eDeputy Nazir Ahmad Ki Kahani:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eKuch Un Ki Kuch Meri Zabani\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eby Mirza Farhatullah Baig\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eJhelum: Book Corner. 2020\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e168p.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1. Biography - Urdu Literature\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 978-969-662-257-4\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکون ہے جو ’’نذیر احمد کی کہانی، کچھ اُن کی کچھ میری زبانی‘‘ کو پڑھ کر مرزا فرحت اللہ بیگ کی ظرافت، ذہانت، اُن کے طرزِ ادا، اُن کی بے تکلفی اور آزادہ روی، محبت و خلوص سے متاثر ہوکر اُن کی داد نہ دے گا؟ مولانا نذیر احمد کے حالات پر بہت سے مضامین لکھے گئے مگر کہیں اُن کی زندگی اور سیرت، اخلاق و عادات، اُن کے اوقات و مشاغل اور پرائیویٹ لائف کا وہ نقشہ نظر نہیں آتا جو اِس کہانی میں ہے۔ اِس سچی بائیوگرافی سے گراں بہا فائدے آئندہ نسلوں کو پہنچ سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبابائے اردو مولوی عبدالحق\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمارے یہاں کئی مزاح نگار ایسے ہیں (جیسے شوکت تھانوی، عظیم بیگ چغتائی وغیرہ) جن کے متعلق مختلف لوگوں نے الگ الگ انداز سے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ فلاں مزاح نگار الفاظ سے مزاح پیدا کرتا ہے اور فلاں واقعات کی ترتیب سے اُسے ابھارتا ہے۔ مرزا فرحت اللّٰہ بیگ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اُن کے یہاں یہ دوئی مٹ گئی ہے۔ بیان کا اُسلوب اور واقعات کی ترتیب، یہ اُن کے یہاں یک جان نظر آتے ہیں۔ اُن کی عبارت پڑھ کر یہ احساس پیدا ہی نہیں ہوتا کہ کس مقام پر لفظوں کا کھیل ہے اور کہاں واقعات کے انوکھے پن نے مزاح کی تشکیل کی ہے، اور یہ بڑا کمال ہے اور اِس میں اُن کے شریک کم سے کم لوگ نکلیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرشید حسن خاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی- کچھ اُن کی کچھ میری زبانی‘‘ کا شمار اردو کے اعلیٰ ترین خاکوں ہی میں نہیں اردو کی بہترین تحریروں میں بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چالیس پینتالیس سال سے یہ خاکہ یا اِس کے اقتباسات سکولوں اور کالجوں کے مختلف نصابات میں شامل ہوتے آ رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خلیق انجم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460160336057,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5ed7bded9d7dd1591197165_1.jpg?v=1785855090"},{"product_id":"deputy-nazeer-ahmed-ahwal-o-asaar-ڈپٹی-نذیر-احمد-احوال-و-آثار","title":"DEPUTY NAZEER AHMED: AHWAL O ASAAR  ڈپٹی نذیر احمد: احوال و آثار","description":"","brand":"COOPERA","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460302680249,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60c7439a8bed31623671706.jpg?v=1785855711"},{"product_id":"delhi-ka-yadgar-mushaira-دہلی-کا-ایک-یادگار-مشاعرہ","title":"DELHI KA YADGAR MUSHAIRA  دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460317098169,"sku":"BC SSH","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5c4ef9abb24981548679595.jpg?v=1785855861"},{"product_id":"ganj-haye-giran-maya-گنج-ہائے-گراں-مایہ","title":"GANJ HAYE GIRAN MAYA  گنج ہائے گراں مایہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘ کے مضامین میں دو بڑے جذبے اُبھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک جذبۂ رفاقت ہے اور دوسرا احساسِ عظمت۔ یہ دونوں جذبے ’’گنج ہائے گراں مایہ‘‘ کے بنیادی عناصر ہیں اور رشید احمد کی عظمت کا ثبوت بھی انہی مضامین میں ملتا ہے۔ شاہ سلیمان اشرف اور ایوب پر جو مضامین ہیں اور اسی طرح درجہ بدرجہ جو دیگر مضامین ہیں وہاں بڑی بھرپور حقیقت نگاری کی ہے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سے تصویریں بنائی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سیّد عبد اللہ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو ادب کی دنیا میں آج کوئی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ رشید احمد صدیقی کو نہیں جانتا۔ وہ گنتی کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کو خالص انشا پرداز کہا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجنوں گورکھپوری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاچھی نثر وہ ہے جس میں جھول اور رخنہ نہ ہو جو ذہن اور جذبات دونوں کو اپیل کرے ، جس میں الفاظ ہر طور پر اور قطعیت کے ساتھ شیر و شکر ہوں اور سخت گیر نظم و ضبط کے باوجود شخصیت کی تابناکی، رنگ اور حرکت اس میں دہکتے ہوں۔ رشید صاحب کی نثر میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسلوب احمد انصاری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرشید احمد صدیقی کی تحریریں اُردو زبان و ادب کی آبرو ہیں۔ اُن کی کوئی سطحی تحریر یا چلتا ہوا مضمون میری نظر سے نہیں گزرا۔ اُن کا ہر مقالہ بلند پایہ ہوتا، وہ صاحبِ فکر اور صاحبِ طرز ادیب تھے۔ اپنے اندازِ فکر اور اسلوبِ نگارش میں منفرد۔ جو بات کہی سلیقہ کے ساتھ کہی۔ حُسنِ ابلاغ کے فن سے وہ پوری طرح واقف تھے، اسی لیے اُن کی تحریریں دل نشیں ہوتیں ؎\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو ’پڑھتا‘ ہے اُسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ماہر القادری)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھ سے اگر آج پوچھا جائے کہ تمھارے زمانے کے علی گڑھ نے اُردو نثر کو کیا دیا تو میں بے تکلف دو نام لوں گا— رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مختار مسعود)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506218610873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/694fc19baef8c1766834587.jpg?v=1785856249"},{"product_id":"dabastaan-e-lucknow-دبستان-لکھنؤ","title":"DABASTAAN-E-LUCKNOW  دبستان لکھنؤ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیادش بخیر، لکھنؤ .... عالم میں انتخاب ایک اور شہر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تہذیب، ایک روایت، ایک اسلوبِ حیات کہ مؤرخوں نے، شاعروں نے، اپنوں نے، غیروں نے، اس کے ایک ایک رُخ پر سو سو طرح سے روشنی ڈالی ہے۔ عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ایک پُرکشش اور سحر انگیز اور پُر ماجرا تاریخ۔ نوابین و شاہانِ اودھ کا یادگار دور کچھ ایسا ہی تھا کہ لکھنے والوں نے کبھی اس کو شیراز کا بدل قرار دیا تو کبھی اسے مشرقی تمدن کا آخری نمونہ کہا گیا کبھی اس کو پیرس کے مدِ مقابل رکھا گیا۔ عاشقان و فدایانِ لکھنؤ کی فہرست میں ایک بہت ممتاز اور مایۂ ناز نام سیّد محمد باقر شمسؔ، کہ جن کے تبحرِعلمی کا نہ صرف اُن کے معاصرین و مؤرخین میں اعتراف کیا جاتا تھا بلکہ عصرِ حاضر کے اکابرینِ علم و ادب میں بھی ان کے کام کو اسناد و اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ لکھنویات کے تمام گوشوں پر ان کی تحریریں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لکھنؤ کی تاریخ، لکھنؤ کی تہذیب، معاشرت و ثقافت، لکھنؤ کی زبان، شاعری، ادب و فنون، لکھنؤ کی عزاداری، گویا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا۔ کم شہر ایسے ہوں گے جن پر ایک جگہ اِتنا جامع مواد مہیّا کر دیا گیا ہے۔ خانوادۂ باقر شمسؔ قابلِ تحسین ہے کہ انھوں نے بکھرے ہوئے کام کو سامنے لانے کا اہتمام کیا۔ بک کارنر جہلم کے امر شاہد اور گگن شاہد نے کتاب کی دیدہ زیب و دلآویز طباعت میں اپنے معیار کو برقرار رکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شاعر و محقق، سابق صدر اکادمی ادبیات پاکستان، ادارۂ فروغِ قومی زبان، تمغۂ حسنِ کارکردگی، ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460328304825,"sku":"BC SSH","price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66d570a4924541725264036.jpg?v=1785856619"},{"product_id":"mawazna-anees-o-dabeer-موازنہ-انیس-و-دبیر","title":"MAWAZNA ANEES O DABEER  موازنہ انیس و دبیر","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460328829113,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a671dbb3b0511785142715.jpg?v=1785856730"},{"product_id":"yaran-e-kuhan-یاران-کہن","title":"YARAN E KUHAN  یاران کہن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاگر اس کتاب کے ہر مضمون میں آپ کو سالکؔ نظر آئے تو اس پر بدکنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تذکرہ ہی صرف اُن بزرگوں کا ہے، جن سے سالکؔ کے براہ راست روابط ہوئے۔ لہٰذا اس میں جا بجا ’’صیغۂ واحد متکلم‘‘ کا استعمال ناگزیر تھا۔ اس تذکرے سے ان بزرگوں کے سوانحِ حیات لکھنا یا ان کی تصانیف پر تبصرہ کرنا مقصود نہیں، صرف ان کی شخصیتوں کی ہلکی سی جھلک دکھانا منظور ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مقصد میں ناکام نہیں رہا۔ یہ کتاب آغاشورشؔ کے ’’توائی ڈالنے‘‘ کی وجہ سے صرف چند روز میں لکھی گئی ہے۔ اس لیے اگر اس میں کوئی ایسے اسقام نظر آئیں جو اہلِ ذوق کے نزدیک میرے اسلوبِ تحریر کے شایاں نہ ہوں تو ان کی ذمہ داری اُسی ’’بلائے بے درماں‘‘ کے سر ہے، جس کو شورشؔ کہتے ہیں اور جس کی کسی ضد سے میں سرتابی نہیں کر سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعبدالمجید سالک\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460329287865,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/619ddb3154c8e1637735217.jpg?v=1785856828"},{"product_id":"manto-kay-mazameen-منٹو-کے-مضامین","title":"MANTO KAY MAZAMEEN  منٹو کے مضامین","description":"","brand":"ILQA","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506228113593,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/9693521889.jpg?v=1785856980"},{"product_id":"manto-kay-murshad-bari-elagh-منٹو-کے-مرشد-باری-علیگ","title":"MANTO KAY MURSHAD BARI ELAGH  منٹو کے مرشد باری علیگ","description":"","brand":"Maktaba Jadeed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48506228900025,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fe86e2b9309f1609068075_4e357caa-3c7b-4e75-a283-04a12abf2cd4.jpg?v=1785857081"},{"product_id":"manto-kay-mutnaza-afsanay-premium-quality-منٹو-کے-متنازع-افسانے-ڈیلکس","title":"MANTO KAY MUTNAZA AFSANAY (PREMIUM QUALITY)  منٹو کے متنازع افسانے (ڈیلکس)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eوہ افسانے جن کی بنیاد پر منٹو صاحب معتوب ٹھہرائے گئے جو دراصل انسان کے جنسیاتی اور سماجی مسائل کے آئینہ دار تھے اب وہی افسانے اُردو ادب کے بڑے اور بہترین افسانے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان افسانوں کو مذہب اور تعصبات کی عینک اتار کر پڑھیے۔ ادبی اور فنی معیار سے جانچئے۔ یہ افسانے جنسی آسودگی و تسکین فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی ہماری اخلاقی قدروں کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ حقیقت کے عکاس ہیں۔ معاشرے میں چھپی غلاظت کی اندرونی تصویریں اور اس کا اعلانیہ اظہار ہیں۔ ان افسانوں کے مہ و سال ہٹا دیجئے اور ان کی تہہ میں چھپی باریکیوں کو دیکھیں تو گمان گزرے گا کہ جیسے یہ آج کے دَور کے لیے لکھی گئی ہوں۔ آج بھی منگو کوچوان قید میں ہے اور اس ملک کا داروغہ سوگندھی کی ہڈیاں بھنبھوڑتا ہے۔ سوگندھی، موذیل، سلطانہ، جانکی اور شاردہ آج بھی جیتے جاگتے کردار ہیں جوچند پیسوں کے لیے بِک جانے کو تیار ہیں۔ یہ افسانے عورت کی بے بسی اور استحصال کی رقت آمیز تصویریں ہیں۔ حرف آخر یہی کہ کتاب پڑھ کر واپس میز پر رکھ دینے سے کتاب ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ قاری کو ایک ٹھوس رائے قائم کرنی چاہیے۔ محض ” بس ٹھیک ہے“ کہہ دینا ہی کافی نہیں۔ کتاب اچھی ہے یا بری ہے، اگر اچھی ہے تو کیوں اچھی ہے؟ اور اگر بری ہے تو کیوں بری ہے ؟ اور اس کیوں کا جواب ہی اس کتاب کا حاصل ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر اگر آپ کا وضو ٹوٹتا ہے تو آپ کو اپنے تئیں پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں بلکہ بہترین درجے کے ایک معالج کی ضرورت ہے۔ کوئی دن کی بات ہے کہ دماغ کا خلل ظاہر ہو جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب میں شامل مضامین اور افسنوں کی فہرست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسعادت حسن منٹو (امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمقدمہ (محمد حمید شاہد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرضِ مرتب (ندیم احمد ندیم)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمضامین:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- لذت سنگ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- سفید جھوٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- پانچواں مقدمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- زحمت مہر درخشاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- عصمت فروشی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- افسانہ نگار اور جنسی مسائل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسانے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- پھاہا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- پہچان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e3- خوشیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e4- ہتک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e5- دس روپے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e6- وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e7- بلاؤز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e8- مس فریا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e9-بُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e10- دھواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e11- کالی شلوار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e12- چغد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e13- پڑھیے کلمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e14- بابو گوپی ناتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e15- میرا نام رادھا ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e16- جانکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e17- ٹھنڈا گوشت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e18- خورشٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e19- باسط\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e20- شاردا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e21- ننگی آوازیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22- شانتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e23- حامد کا بچہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24- لائسنس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e25- کتاب کا خلاصہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e26- تقی کاتب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e27- والد صاحب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e28- عورت ذات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e29- پری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e30- خود فریب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e31- برمی لڑکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e32- فوبھا بائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e33- ابجی ڈُڈُو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e34- ممی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e35- کھول دو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e36- شریفن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e37- ہرنام کور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e38- شاداں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e39- نطفہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e40- سڑک کے کنارے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e41- سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e42- سو کینڈل پاور کا بلب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e43- موذیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e44- صاحبِ کرامات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e45-اللہ دتا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e46- بچنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e47- سرکنڈوں کے پیچھے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e48-پھندنے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e49-دودا پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e50- اوپر، نیچے اور درمیان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e51- تانگے والے کا بھائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e52- بغیر اجازت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e53- قدرت کا اصول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e54- خوشبودار تیل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e55- خط اور اس کا جواب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e56- مائی جنتے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e57-بارش\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e58- بس اسٹینڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e59- قادرا قصائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e60- پشاور سے لاہور تک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e61- بجلی پہلوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e62- شلجم\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e63- انجام بخیر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e64- نواب سلیم اللہ خان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e65- راجو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e66- گھاٹے کا سودا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e67- صدقے اس کے\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460334989497,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/610ea00db0e791628348429.jpg?v=1785857161"},{"product_id":"manto-kay-roosi-trajam-منٹو-کے-روسی-تراجم","title":"MANTO KAY ROOSI TRAJAM  منٹو کے روسی تراجم","description":"","brand":"Maktaba Jadeed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48506233585849,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fec2e24471481609313828.jpg?v=1785857282"},{"product_id":"firdaus-e-bareen-فردوس-بریں","title":"FIRDAUS E BAREEN  فردوس بریں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاُنیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جن ادیبوں نے اُردو ادب کو مغربی اصناف اور اسالیبِ فن سے روشناس کرایا اُن میں عبدالحلیم شرؔر کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شہرت کا بڑا سبب تو دراصل اُن کے تاریخی ناول ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اُن کی شخصیت بڑی ہمہ رنگ اور اُن کی صلاحیتیں بڑی متنوّع تھیں۔ ناول کے علاوہ انھوں نے انشائیہ، ڈراما، شاعری، سوانح اور تاریخ میں بھی قابلِ قدر نگارشات یادگار چھوڑی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا عبدالحلیم شررؔ ۱۸۶۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضّل حسین اودھ کے آخری تاجدار واجد علی شاہ کے ملازم تھے۔ واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد وہ اُن کے ساتھ مٹیا برج چلے گئے اور وہیں اقامت اختیار کر لی۔ نو سال کی عمر میں عبدالحلیم شرؔر بھی مٹیابرج چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے والد اور بعض دوسرے علما سے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فنِ شاعری میں علی حیدر نظمؔ طباطبائی کے شاگرد ہوئے۔ اس کے بعد اُنھوں نے لکھنؤ اور دہلی میں مزید تعلیم حاصل کی اور انگریزی میں بھی اچھی دستگاہ پیدا کر لی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتعلیم کے ساتھ تصنیف و تالیف کا مشغلہ جاری تھا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ۱۸۸۰ء میں منشی نول کشور نے اُنھیں اودھ اخبار، کا نائب ایڈیٹر بنا دیا اور اس میں انھوں نے مختلف موضوعات پر متعدد مضامین لکھے جو مقبول ہوئے۔ ’’روح‘‘ کے موضوع پر ان کے ایک مضمون کی سرسیّد نے نہ صرف داد دی بلکہ اس کا ایک اقتباس اپنے مضمون میں نقل کیا۔ ۱۸۸۶ء میں انھوں نے بنکم چندر چٹرجی کے ایک تاریخی ناول’’درگیش نندنی‘‘ کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا اور پھر ۱۸۸۶ء میں جب انھوں نے اپنا رسالہ ’’دلگداز‘‘ جاری کیا تو اس میں اپنا پہلا تاریخی ناول ’’ملک العزیز ورجنا‘‘ قسط وار شائع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ’’حسن انجلینا‘‘ اور ’’منصور موہنا‘‘ لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۱۸۹۳ء میں شرؔر نواب وقار الملک کے لڑکے کے اتالیق ہو کر انگلستان چلے گئے۔ واپس آ کر وہ کچھ عرصہ حیدرآباد میں رہے اور پھر ۱۸۹۹ء میں لکھنؤ آ گئے۔ لکھنؤ پہنچ کر انھوں نے پھر ’’دلگداز‘‘ جاری کیا۔ ناول ’’فردوسِ بریں‘‘ انھوں نے قیامِ حیدر آباد کے زمانے میں ہی مکمل کیا تھا۔ اس کے پہلے ایڈیشن کی اشاعت کا حق انھوں نے منشی نثار حسین نثاؔر، مہتمم ’’پیام یار‘‘ کے ہاتھ فروخت کر ڈالا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلکھنؤ آ کر وہ پورے انہماک کے ساتھ تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔ سوانحی اور تاریخی تصانیف کے ساتھ انھوں نے کم و بیش پچاس ناول اور ڈرامے لکھے، ان میں سے کچھ تراجم بھی ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مضامین بھی آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ اپنے رسالہ’’دلگداز‘‘ میں شررؔ نے معرّا نظم کے نمونے بھی پہلی بار اُردو میں پیش کیے اور اُردو داں طبقہ کو انگریزی شعر و ادب کے نئے رجحانات سے متعارف کرایا۔ دسمبر۱۹۲۶ء میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا شرؔر کو تاریخ بالخصوص اسلامی تاریخ سے خاص دل چسپی تھی۔ اپنے بیشتر ناولوں کا مواد انھوں نے تاریخ سے ہی لیا ہے۔ ان کا تاریخ کا تصور بڑی حد تک اُن کے احیا پسندانہ خیالات کا تابع تھا۔ والٹراسکاٹ کی طرح شرؔر نے بھی اپنے تاریخی ناولوں میںمسلمانوں کے تہذیبی اور سیاسی عروج کی داستانیں سنا کر انھیں بیداری اور عمل کا پیغام دیا اور ان کی زندگی کو صحیح اسلامی شعائر سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشرؔر کے بیشتر تاریخی ناول عشق و محبت اور مسلمان جانبازوں کی جرأت و شجاعت کے واقعات سے معمور ہیں۔ دراصل وہ ایک طرح کے رومانی قصّے ہیں۔ جن کی کہانیوں اور کرداروں میں ایک باشعور قاری کو اکتا دینے والی یکسانیت محسوس ہوتی ہے۔ اپنے ناولوں میں وہ نہ تو ماضی کی معاشرت اور ماحول کو زندہ کرنے میں کامیاب ہو سکے اور نہ ہی ایسے جاندار اور غیر فانی کردار تخلیق ہو سکے جو مثلاً والٹراسکاٹ کے ناولوں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے ہیرو ہمیشہ جرأت، دلیری اور تہذیب و شائستگی کا مثالی نمونہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کی ہیروئن بھی مثالی نسوانی اوصاف کا مجسمہ ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں اسلام اور مسلمانوں کے کارناموں کو دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں انتہائی جانب داری اور مبالغہ آرائی سے پیش کرتے ہیں۔ ان وجوہ سے ان کے اکثر ناول واقعیت سے دور اور محض تخیّلی ہو کر فنی دل کشی سے محروم ہو گئے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کے ناولوں میں صرف ایک ’’فردوسِ بریں‘‘ ایسا ناول ہے جو فنی تکمیل کے اعتبار سے کامیاب کہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف ان کے بلکہ اُردو کے تمام تاریخی ناولوں میں نمایاں مقبولیت حاصل ہوئی اور کم و بیش تمام نقّادوں نے اس کے پلاٹ کی دل کشی اور کردارنگاری کو سراہا۔ اس ناول کی منظر نگاری اور ماحول کشی میں شرؔر کی صنّاعی درجۂ کمال پر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام کردار منفرد اور جاندار ہیں اور اس کے پلاٹ کی تعمیر انتہائی فطری اور متوازن ڈھنگ سے ہوئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تمام تخلیقی صلاحیتوں اور تاریخی شعور نے اپنے مکمل اظہار کے لیے اسی ناول کا انتخاب کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگزشتہ ستّر سال میں اس ناول کے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے۔ لیکن جیسا کہ ہمارے یہاں ہوتا ہے، پبلشر حضرات نے اسے شائع کرتے وقت کتابت اور طباعت میں بے پروائی برتی۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ہر نئے ایڈیشن میں غلطیوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ کہیں کہیں بے ربط عبارت دیکھ کر کاتب صاحبان نے اپنی طرف سے تحریف و اضافہ کر دیا۔ چنانچہ آج کل بازار میں اس ناول کے جو عام ایڈیشن مل رہے ہیں وہ متن کے اعتبار سے کسی طرح بھی قابلِ اعتبار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس صورتِ حال میںکوشش کی گئی ہے کہ ’’فردوسِ بریں‘‘ کا یہ ایڈیشن متن کی غلطیوں سے پاک ہو۔ اس ناول کا اوّلین ایڈیشن تو دستیاب نہیں ہو سکا لیکن تین قدیم اور مستند ایڈیشنوں سے موازنہ کرنے کے بعد اس نسخہ کا متن تیار کیا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ اہلِ نظر اس جدید ایڈیشن کو پسند کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر قمر رئیس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدہلی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460339052729,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f6220f9ca48c1600266489.jpg?v=1785857385"},{"product_id":"aik-chadar-maili-si-ایک-چادر-میلی-سی","title":"AIK CHADAR MAILI SI  ایک چادر میلی سی","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eراجندر سنگھ بیدی کا نام اب اُردو ادب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے ’سہج پکے سو میٹھا ہو‘ کے مصداق بہت دھیمی رفتار سے لکھا ہے لیکن ان کی ہر تحریر اہلِ ادب کے لیے باعثِ تکریم رہی ہے۔ ’’ایک چادر میلی سی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ یہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے کے افراد کی زندگی کا ایسا نقشہ ہے جس میں زندگی کی ساری حرارت دہکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ زندگی کی ساری تندی اور تیزی، دُکھ اور سُکھ، محبت اور نفرت، گناہ اور نیکی.... اس نقشے کی مختلف لکیریں ہیں جو مل کر ایک جال بُن جاتی ہیں جس میں اس ناول کے کردار جکڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کی شدّت سے بھرپور واقعات اور کرداروں کی اپنے ماحول کے ساتھ متحرک پیش کش .... جو قاری کی یادوں کا حصہ بن جاتی ہے.... جسم میں لہو کی چال اور ذہن میں سرعتِ خیال کو تیزتر کر دیتی ہے۔ حقیقت نگاری کا ایسا جچا تلا کمال اُردو ادب میں اس سے پہلے نایاب تھا۔ واقعہ ہے کہ یہ ناولٹ ہمارے ادب میں قابلِ قدر اضافہ ہے جس پر کلاسیک کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460342919353,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625ea9b0014fb1650370992.jpg?v=1785857456"},{"product_id":"london-ki-aik-raat-لندن-کی-ایک-رات","title":"LONDON KI AIK RAAT  لندن کی ایک رات","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسجاد ظہیر کی شخصیت ان کی تمام چیزوں پر بھاری تھی۔ تحریر کو اگر ہم ان کے سیاسی کارناموں کے مقابلے میں لیں تو مجھے ان کی تحریریں زیادہ دلکش نظر آتی ہیں۔ سجاد ظہیر نے اگرچہ لکھنے پر زیادہ زور نہیں دیا مگر ان کی تحریر مجھے زیادہ پسند ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— فراق گورکھپوری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنّے (سجاد ظہیر) کی شخصیت بڑی پہلودار اور تہ دار تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اتنی جامع بھی تھی کہ بہت جلد ان کی حیثیت ایک معروف، بےمثال اور صاحبِ امتیاز مظہر کی ہو گئی۔ سچ یہ ہے کہ میں جن لوگوں کو جانتا ہوں ان میں کٹرپن سے اتنا دُور کسی کو نہیں پایا جتنا بنّے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— فیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لندن کی ایک رات‘‘ سجاد ظہیر کا ایک ناولٹ ہے جس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ناول نویسی اور افسانہ نگاری کی طرف متوجّہ ہوتے تو اپنا ایک منفرد اسلوب پید اکرتے مگر افسوس کہ وہ ایسا نہ کر سکے۔ سیّد سجاد ظہیر کی نثر نہایت سادہ اور سلیس ہوتی ہے مگر اس سادگی اور سلاست میں بھی ایک پُراسرار ادبی شان ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— احمدندیم قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنّے بھائی نے ساری عمر روشن اور جگمگاتے خواب دیکھے۔ کتنے ہی ادھورے اور دھندلے رہ گئے۔ وہ ادیب بھی تھے اور شاعر بھی، مگر انھیں اس کا مطلق احساس نہیں تھا کہ ان کے ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ کا اپنا ایک واضح مقام ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عصمت چغتائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ اُردو کے غالباً پہلے ادیب ہیں، انھوں نے اپنے ناول ’’لندن کی ایک رات‘‘ میں شعور کے موج در موج بہائو کو قلم بند کرنے کا تجربہ کیا۔ ان کی تحریریں ذاتی تعصبات سے بالکل پاک ہوتی تھیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— سبط حسن\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48506253836473,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67f220c888a821743921352.jpg?v=1785857580"},{"product_id":"chaalay-aur-karvatein-چھالے-اور-کروٹیں","title":"CHAALAY AUR KARVATEIN  چھالے اور کروٹیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eقدوس صہبائی اُس افسانوی آرٹ سے بہت کچھ دُور ہیں جس میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں اور افسانہ کم، اکثر افسانہ نویس اس فنی مرض میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ شاید اسی لیے مجھے قدوس صہبائی کے افسانوں کی شدید افسانویت بہت پسند ہے۔ بس وہ کہانی کہتے چلے جاتے ہیں جس میں کردار حرکت کرتے ہیں... جسمانی اور مادی حرکت... محض ذہنی ورزش نہیں... قدوس صہبائی ’’گفتار و کردار‘‘ دونوں کے غازی ہیں۔ ایک ہندوستانی ریاست (بھوپال) کے باشندے ہیں اور اسی ریاستی رعایا کے جذبات و احساسات کے ترجمان بن کر جیل بھی جا چکے ہیں اور کبھی معافی مانگ کر جیل سے چُھوٹے بھی نہیں۔ روزمرہ زندگی میں کم باتیں کرتے ہیں اور وہ بھی صاف اور بےدھڑک، پھر طُرّہ یہ کہ پٹھان ہیں، کم گو ہیں لیکن فیصلہ دو ٹوک دیتے ہیں۔ آپ یہ تمام اوصاف اُن کی کہانیوں میں بھی دیکھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کرشن چندر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقدوس صہبائی کے افسانوں میں ایک خصوصیت یہ امتیازی درجہ رکھتی ہے کہ ایک ناقابلِ فہم فارم اور ذہنی اُلجھنوں میں ان کا قلم ان کے بعض ہم عصروں کی طرح اُلجھ اُلجھ کر افسانوں کو الفاظ کا ایک معمہ یا ایک فلسفیانہ خطبہ یا کسی پیشہ ور واعظ کی تقریر نہیں بنا دیتا، وہ تفصیلات لکھنے میں کم مشاق نہیں ہیں۔ نفسیاتی تحلیل کا بھی ان کے افسانوں میں مناسب حصہ موجود ہے لیکن قدیم افسانہ نویسی کی طرح ان کا افسانہ پلاٹ، واقعات نگاری اور نفسی تحلیل میں صحیح صحیح تکمیل تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا شاہکار بن جاتا ہے جو ترقی پسند ادب کے لیے بھی باعثِ فخر رہے گا اور اُردو دَوامی اَدب میں بھی یادگار رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(پروفیسر نجیب اشرف ندوی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460348227769,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68050ad6c91011745160918.jpg?v=1785857702"},{"product_id":"begmat-kay-aansu-بیگمات-کے-آنسو","title":"BEGMAT KAY AANSU  بیگمات کے آنسو","description":"","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460356026553,"sku":"BC SSH","price":420.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/643cf78c3118d1681717132.jpg?v=1785858021"},{"product_id":"anarkali-انارکلی","title":"ANARKALI  انارکلی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج معروف ڈراما نگار اور طنز و مزاح نگار تھے۔ بچپن ہی سے ڈرامے سے دلچسپی تھی، یہ ان کا خاندانی ورثہ تھا۔ ابھی تعلیم مکمل بھی نہیں کر پائے تھے کہ ایک ادبی رسالہ ’’کہکشاں‘‘ نکالنا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں ڈرامے کے فن نے کوئی خاص ترقی نہیں کی تھی ۔مگر اس کے باوجود عوام میں دلچسپی برقرار تھی۔ مرد عورتوں کا کردار ادا کرتے تھے اور پنڈال سے تالیوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ بائیس برس کی عمر میں امتیاز علی تاج نے ڈراما ’’انار کلی‘‘ لکھا جو آج بھی اُردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا، سحر بیانی ایسی کہ قاری کے ہوش غائب۔ ڈراما ’’انارکلی‘‘ لکھا تو جیسے طوفان آ گیا۔ ادب میں جو مقبولیت اس ڈرامے کو ملی وہ ایک مثال ہے۔ یہ ڈراما جہانگیر اور انارکلی کے فرضی معاشقے پر مبنی تھا اور یہ محض قیاس نہیں کہ کے- آصف نے مغل اعظم کی بنیاد رکھنے سے قبل اس ڈرامے کو ضرور پڑھا ہو گا ۔ امتیاز علی تاج نے ڈرامے میں ہر کردار کو زندہ جاوید بنا دیا۔ مکالمے ایسے کہ سیدھے دلوں میں اتر جائیں اور تماشا یہ کہ کم عمر میں شہزادے نے مقبولیت کے چاند کو چھو لیا۔ وہ فکر کیا تھی جس نے ڈراما ’’انارکلی‘‘کو لافانی زندگی دی ۔مت سہل ہمیں جانو۔ اس نے غلام ہندوستان سے علامتیں اور استعاروں کے نگینے قبول کیے اور تقدیر و تدبیر کی عظیم داستان ’’انار کلی‘‘ میں یہ نگینے جڑ دیے۔ ڈراما بغیر مکالموں کے نہیں کھیلا جاسکتا .... اور حقیقتاً انسانی قدروں کے ابلاغ کے اس مؤثر ذریعہ سے وہ واقف تھا اور آج کی تاریخ میں اس تاریخ کے ہزاروں شو ہو چکے ہیں۔ یہ ڈراما ہماری زندگی ، معاشرہ اور سیاست کا آئینہ دار ہے۔ برجستہ اور حسین مکالموں نے ڈراما ’’انارکلی‘‘ کو وہ مقبولیت دی کہ آج بھی ڈرامے کا سحر طاری ہے ۔ وہ تخیلاتی سفیر تھا۔ اس کی زندگی عشقِ اُردو کی تفسیر اور وہ اعتمادِ ذات سے نگینے تراشتا تھا ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامتیاز علی تاج کے فروغِ حسن سے دیے آج بھی روشن ہیں۔ اُردو ہمیشہ زندہ رہے گی اور دیے کی روشنی میں کبھی کمی نہ آئے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460356714681,"sku":"BC SSH","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6141b50fc29b81631696143.jpg?v=1785858119"},{"product_id":"chak-piran-ka-jassa-2nd-edition-چک-پیراں-کا-جسا","title":"CHAK PIRAN KA JASSA (2ND EDITION)  چک پیراں کا جسا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبلونت سنگھ، پیدائش جون 1921ء چک بہلول، گوجرانوالہ، پنجاب۔ والد فوجی سکول میں استاد۔ ابتدائی تعلیم گوجرانوالہ، میانوالی اور جالندھر، والد کے تبادلے کے باعث چھوٹی عمر میں پنجاب سے ہجرت۔ کیمبرج سکول دہرا دون سے میٹرک۔ 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری کا حصول۔ 1940ء میں پہلے افسانے ’’ڈنڈ‘‘ کی دلّی کے اخبار ’’پرتاپ‘‘ میں اشاعت۔ بی اے کے بعد کئی برس شہرِ ہزار رنگ لاہور میں اقامت، راجندر سنگھ بیدی کے ساتھ شب و روز رفاقت۔ 1943ء میں افسانوں کے پہلے مجموعے ’’جگّا‘‘ کی رونمائی اور پذیرائی۔ 1947ء تک مزید تین افسانوی مجموعوں کی اشاعت۔ تقسیمِ ہند کے وقت رونما ہوئے روح فرسا واقعات کے شاہد۔ جولائی 1948ء سے جنوری 1950ء تک دلّی کے رسائل ’’آج کل‘‘، ’’بساطِ عالم‘‘ اور ’’نونہال‘‘ میں ملازمت۔ 1948ء میں پہلی شادی اور ایک سال بعد ہی علیحدگی۔ 1950ء میں والد کی وفات کے بعد الٰہ آباد منتقلی اور والد کے قائم کردہ امپیریل ہوٹل کا نظم و نسق سنبھالنا۔ لفظوں کے شعبدہ ساز کو اعداد و شمار کا گورکھ دھندا راس نہ آیا۔ چند برس بعد ہوٹل بیچ کر خود کو فسانہ نگاری و فسانہ سازی کے لیے وقف کر دیا۔ 50 برس کی عمر میں خود سے 25 برس چھوٹی منجو سنگھ سے دوسری شادی۔ دو بچّوں کی پیدائش اور خوشگوار ازدواجی زندگی۔ ’’کالے کوس‘‘، ’’رات، چور اور چاند‘‘، ’’چک پیراں کا جسا‘‘ جیسے شاہکار ناول اور سیکڑوں بےمثال افسانے اس باکمال ادیب کی میراث۔ 27 مئی 1986ء کو الٰہ آباد میں انتقال۔ اتر پردیش، پٹیالہ اور مشرقی پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے ادبی اعزازات مگر اصل اعزاز تو وہ محبّت اور عقیدت ہے جو انھیں سرحد کے دونوں جانب حاصل ہوئی۔ شکیل عادل زادہ نے ان کا مختصر خاکہ کچھ یوں لکھا تھا، ’’بلونت سنگھ، اُردو کا ایک بانکا افسانہ نگار، بانکا، سجیلا، کٹیلا۔ پنجاب نے اُردو کو بلند مرتبت کہانی لکھنے والے دیے ہیں۔ بلونت، بیدی، منٹو، قاسمی، غلام عباس، کرشن جی، اشک، کس کس نام ور کا نام لیجیے، ایک طویل فہرست ہے۔ کہانی لکھنے کا بلونت کا اپنا ایک ڈھنگ ہے۔ تیز ، تند، بھڑکتا ہوا۔ بہت حُسن پرست ہے اور شیوه جیالوں اور جواں مردوں کا ہے۔ بلونت سنگھ نے بیشتر پنجاب کی کہانیاں لکھی ہیں اور اپنی مٹّی کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کی تحریروں میں پنجاب کی بے باکی، پنجاب کا جمال، پنجاب کی خوش بو رچی بسی ہوئی ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن رضا گوندل)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460367823033,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67360c3e96bdb1731595326.jpg?v=1785858712"},{"product_id":"raat-chor-aur-chaand-رات-چور-اور-چاند","title":"RAAT CHOR AUR CHAAND  رات چور اور چاند","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’رات، چور اور چاند‘‘ پنجاب کی عکاسی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہے، جس پنجاب میں بلونت سنگھ نے ایک مسکراتے ہوئے پنجاب کا تصور کیا تھا… ہیمنگ وے کی طرح بلونت سنگھ بھی انسان کی قوتِ برداشت، اس کے ضبط و تحمل، صبر و استقلال اور عزم و حوصلے کے قائل تھے۔ وہ انسانی خوبیوں کو اس کی ذات کی گوناگوں صفات میں تلاش کرتے تھے۔ ایک بڑے ناول کے دامن میں واقعات و حادثات کے جو سمندر ہوتے ہیں، وہ سب اس ناول میں موجود ہیں۔ محبت کی جولانیاں، نفرت کی شدت، جنگ، میلے، ٹھیلے، اکھاڑے، کشتی، ڈاکہ زنی، سانڈنیوں کا حملہ ڈاکوئوں کی زندگی ، انسانی فطرت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھرپور عکاسی ہے۔ دراصل بلونت سنگھ کہانی کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں جو ڈرامائی فضا کا عنصر پیدا ہوتا ہے، اس کا جواب نہیں!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473222250681,"sku":"BC SSH","price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e6a4acf2c2331584024271_12f14014-682a-43d3-bed5-911a55a9319a.jpg?v=1785946964"},{"product_id":"kalay-kos-کالے-کوس","title":"KALAY KOS  کالے کوس","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eآپ بلونت سنگھ کے ناول ’’کالے کوس‘‘ کا مطالعہ کریں گے تو انتظار حسین کی طرح کہہ اُٹھیں گے کہ پنجاب تو بس بلونت سنگھ کے ہاں ہی نظر آتا ہے؛ جیتا جاگتا پنجاب، سورمائوں اور الہڑ دوشیزائوں کا پنجاب۔ ایسا پنجاب جس میں محبت کی لازوال کہانیاں جنم لیتی ہیں__ اور وہ پنجاب بھی جس میں خون کی ندیاں بہنے لگی تھیں۔ ہندو سکھ ہوں یا مسلمان، ہجرت کرتے ہوئے بلوائیوں کا نشانہ ہوئے تو بلونت سنگھ کے قلم نے احتیاط اور انصاف سے ایک ایک وقوعہ لکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ صاف ستھری زبان اور ماجرائی اسلوب میں لکھا ہوا یہ ناول محبت کی لازوال کہانیوں اور فسادات کے زمانے میں انسان کے وحشی ہو جانے کے موضوع پر لکھے گئے فکشن کے باب کا اہم حصہ ہو گیا ہے۔ محض اہم نہیں، الگ اور نمایاں بھی۔ الگ اور نمایاں یوں کہ پنجاب کے دیہی منظر نامے سے جنم لینے والے فسادات کے زمانے کی رومان بھری کہانیوں کو ایک ناول میں جس دلکش اسلوب، رواں دواں سادہ مگر عمدہ بیانیے میں گوندھ لیا گیا ہے، ایسا قرینہ پنجاب کا البیلا ناول نگار بلونت سنگھ ہی برت سکتا تھا۔ قبل ازیں ’’بک کارنر،جہلم‘‘ نے اس باکمال فکشن نگار کا ناول ’’چک پیراں کا جسا‘‘ بہت اہتمام سے چھاپا تھا جس کی پذیرائی کے بعد وہ ’’کالے کوس‘‘ کی طرف متوجہ ہوئے اور اب یہ خوب صورت اور اہم ناول آپ کے ہاتھوں میں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473231556793,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69bb827d16a1785314178.jpg?v=1785947061"},{"product_id":"meri-yadon-ke-chinar-میری-یادوں-کے-چنار","title":"MERI YADON KE CHINAR  میری یادوں کے چنار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’یہ (میری یادوں کے چنار) کرشن چندر کی رُوح میں اترنے اور ان کے فن کی بلندی کو چھونے کے لیے ایک زینہ ہے۔ یادداشت اور افسانے کا حسین امتزاج ہے اور بےسبب عبارت آرائی سے پاک ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ- انصاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’میری یادوں کے چنار‘ اور ’مٹّی کے صنم‘ کرشن چندر کے سوانحی ناول ہیں۔ ان میں مذکورہ واقعات، سانحات اور تاثّرات مبنی بر حقائق ہیں۔ گو یہ دونوں تصنیفات افسانوی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ اس امر کی تصدیق کرشن چندر کے چھوٹے بھائی اوپندر ناتھ چوپڑہ نے راقم السطور سے ایک انٹرویو کے دوران بڑے واضح طور پر کی .... پھر جب بعد ازاں کرشن چندر نے اپنی ایک جامع سوانح حیات لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور سلمیٰ صدیقی نے اس کے بارے میں انھیں یاد دہانی کرائی تو انھوں نے جواب دیا: ’’یوں اگر سوچو تو ’مٹی کے صنم‘ اور ’میری یادوں کے چنار‘ بھی ایک طرح سے آپ بیتی ہی ہیں لیکن ان میں کہانی کا رنگ زیادہ ہے۔‘‘ .... اور یہ حقیقت ہے کہ ان تصنیفات کو روایتی معنوں میں آپ بیتی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محض متفرق یادیں ہیں، جھلکیاں ہیں، تاثرات ہیں، جن میں کوئی خاص ربط اور نظم نہیں، تاریخی تسلسل بھی نہیں.... لیکن ان کی دلچسپی اور جاذبیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان میں کرشن چندر کی زبان و بیان کی رنگینی، دل کشی اور شیرینی اپنی معراج پر ہے اور وہ قاری کی توجّہ کو بےطرح باندھے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجگدِیش چندر وَدھاون\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473254985913,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/644aacdf305931682615519.jpg?v=1785947183"},{"product_id":"ghaddaar-2nd-edition-غدار","title":"GHADDAAR (2ND EDITION)  غدار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر اُردو کا مقبول و محبوب، مجتہد اور منفرد فن کار ہے۔ انسان دوستی اور رجائیت اُس کا مشرب ہے۔ عوامی مسائل اور عوامی جدوجہد اُس کی تخلیقات کے موضوعات ہیں۔ اپنی گراں قدر تصانیف کی بدولت وہ عصرِحاضر کے مقتدر عالمی فنکاروں کی صفِ اوّل میں گنا جاتا ہے۔ اُس کی مقبولیت کا سبب جہاں عوام سے اس کی بے پناہ محبت ہے، جس کا اظہار وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں میں کرتا ہے، وہاں اُس کا منفرد اسلوب اور دلکش طرزِ بیان بھی ہے جس سے وہ اپنے قارئین کے دل موہ لیتا ہے۔ ”غدار“ کرشن چندر کا ایک اہم ناول ہے جسے ۱۹۶۰ء میں خاص اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اس ناول کا موضوع ۱۹۴۷ء کے فساداتِ پنجاب ہیں۔ اس سے قبل اس موضوع پر اس کی کہانیوں کا مجموعہ ”ہم وحشی ہیں“ شائع ہو کر اہلِ نظر سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبدقسمتی سے برصغیر کے دونوں طرف آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں، جن کے دِلوں میں نفرت کا ناگ کُنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ کرشن چندر انتظار کرتا رہا۔ وہ پورے تیرہ سال یہ آس لگائے بیٹھا رہا کہ اس ناگ کا پَھن آپ سے آپ کُچل دیا جائے گا لیکن اس طویل انتظار کے بعد جب اُس کی یہ آس نِراس میں تبدیل ہونے لگی، جب اُس نے دیکھا کہ ہر طرف ہم وجودیت (Co-Existence) کا دور دَورہ ہے، دُنیا کی بڑی سے بڑی قوتیں باہمی خیرسگالی اور تعاون، امن اور آشتی کی باتیں کرتی ہیں لیکن ان دونوں آزاد ملکوں کے لوگ جو کل تک ایک دوسرے کا گوشت پوست تھے، آج ایک دوسرے کو اس طرح گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں، جیسے اَزلی دشمن ہوں، تو اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اُس نے اس ناول کے رُوپ میں نفرت کے زہر کا تریاق پیش کیا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمواد اور اُسلوب کی مانند اس ناول کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جو ایک زبردست طنز پر مبنی ہے اور جو ناول کے پلاٹ کے پسِ منظر سے اُبھرا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا فساداتِ پنجاب سے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ فرقہ وارانہ فسادات پوری وحشت ناکی کے ساتھ بَرپا تھے تو انسانیت مسخ ہو کر رہ گئی تھی۔ زندگی کی اقدار جیسے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر کوئی فرزندِ اسلام، برادرانِ ملت سے کہتا تھا کہ ہندوئوں اور سکھوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ ہمسایہ کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرو۔ ان کے قتلِ عام سے باز رہو، تو نام نہاد ”رضا کار“ جھٹ فتویٰ داغ دیتے تھے کہ یہ ”سچا مسلمان“ نہیں۔ یہ تو لالوں کا ایجنٹ اور سکھوں کا وظیفہ خوار ہے۔ اس ”غدار“ کو گولی سے اُڑا دو۔ اسی طرح اگر کوئی سکھ یا ہندو اپنے دھرم کے بھائی بندوں سے اپیل کرتا تھا کہ سری گورو گرنتھ صاحب کے مہاوالیہ ”ایک پتا، ایکس کے ہم بارک“ (ہم سب اُس قادرِ مطلق کی اولاد ہیں) کے انوسار مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے خون سے ہاتھ نہ رنگو تو خود ساختہ ”جتھے دار“ اُس ”غدار“ ہندو یا سکھ کو اہلِ اسلام کا پِٹھو جتلا کر فی الفور ”جھٹکانے“ کا فرمان صادر کرتے تھے۔ چنانچہ اس دَورِ ابتلا میں بہت سے اس طرح کے مسلمان، سکھ اور ہندو ”غدار“ شہید کیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر کے اس ناول کا ہیرو بھی ایسا ہی غدار ہے۔ جب وہ ایک مسلمان کو ”جھٹکانے“ سے گریز کرتا ہے تو ”جتھے“ کا ”جتھے دار“ بُلّو آگے بڑھتا ہے اور ڈپٹ کر کہتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”او۔ کتے باہمن! تُو کیا لڑے گا، پرے ہٹ جا، غدار!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتو یہ ہے غدار،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبرعکس نہند نامِ زنگی کافور!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کی کہانی ۱۹۴۷ء کے شرمناک فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس میں اُلجھاوے نہیں، گرہیں نہیں، اس کی شاید ضرورت بھی نہیں۔ مصنف فی الحقیقت کہانی کی وساطت سے ہمیں ایک فلسفہ سمجھانا چاہتا ہے۔ انسانیت، نیک کرداری، امن اور اخوت کا فلسفہ! کہانی مختصراً یُوں ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”بیج ناتھ (ناول کا ہیرو) راوی کے اُس پار ضلع گورداسپور کے موضع کوٹلی سُودکاں کے ایک کھاتے پیتے برہمن گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ وہ فسادات کے طوفان میں گِھر کر موج ہائے خون کے تھپیڑے کھاتا ہوا لاہور پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان دوست وہاں کی مسموم فضا سے بخیریت بچ نکلنے میں اُس کی اِعانت کرتا ہے۔ پھر وہ قتل و غارت کے کبھی نہ ختم ہونے والے خونیں مراحل سے گزر کر گرتا پڑتا راوی کے کنارے پر پہنچ کر جان بچانے کے لیے اُس میں کود پڑتا ہے اور تَیر کر دوسرے کنارے اس پار پہنچتا ہے۔ اس طرف بھی مذہبی جنون کے صدقے حیوانیت، بربریت اور بہیمیت کا ننگا ناچ اُسے دیکھنے کو ملا۔ جب اُسے پتا چلا کہ فسادیوں کے ہاتھوں اُس کے خاندان کے کچھ افراد قتل اور اُس کی بہن اغوا کر لی گئی (وہ اعِزّہ واقارب سے بچھڑ کر تن تنہا ”پاکستان“ سے ”ہندوستان“ پہنچا تھا) تو وہ بھی مشتعل ہو گیا اور مسلمانوں کے قاتلوں میں شریک ہو گیا لیکن اس کا یہ اشتعال بالکل عارضی تھا۔ بہت جلد اُس نے اپنی کمزوری پر قابو پا لیا۔ فرقہ وارانہ نفرت اور مخاصمت کی لمبی، خوفناک اور دُکھ بھری رات کا اَنت ہوا اور راوی کے کنارے اَمن، اخوت، انسانیت اور آس کا سویرا جگمگا اُٹھا!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساری کہانی میں کہیں اُکتاہٹ نہیں بلکہ قاری جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر پُرامن شہریوں کے قتلِ عام اور مجسمۂ عصمت خواتین کے اغوا اور عصمت دَری کے دلدوز اور رُوح فرسا واقعات کا دِل تھام کر مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس سحرکاری کا ایک سبب تو مصنف کا دِلفریب پیرایۂ اظہار ہے اور دوسرے وہ حکمت (Tact) ہے جس سے کام لے کر پلاٹ میں سانحاتِ فسادات کی تلخی کے ساتھ محبّت اور رُومان کی چاشنی بھی شامل کر دی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرازؔ سنتوکھ سری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473278873785,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6781da8238d1785168346.jpg?v=1785947299"},{"product_id":"dosri-baraf-bari-say-pehle-3rd-edition-دوسری-برف-باری-سے-پہلے","title":"DOSRI BARAF BARI SAY PEHLE (3RD EDITION)  دوسری برف باری سے پہلے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e”دوسری برف باری سے پہلے“ اُردو کے لاکھوں شائقین کی طرح میرا بھی پسندیدہ ناول ہے۔ یہ جہاں پست انسانی جذبات، حرص، ہوس، لالچ، جاہ پسندی اور انتقام کی داستان ہے وہاں اعلیٰ ترین انسانی اوصاف انس، پیار، محبت، ہمدردی اور انسان دوستی کا مرقع بھی ہے۔ انسانی فطرت کے انتہائی قریب جس میں ایک ایک لفظ سچائی کی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول میں مختلف طبقاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے جو ایک جیسی جاہ پسندی، لالچ اور حرص و ہوس کا شکار ہیں۔ ہر قیمت پر آگے بڑھنے کی ہوس کے لیے وہ اپنی عصمتوں کو بھینٹ چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ ان میں سے ایک خانہ بدوش اور ان پڑھ عورت درشنا ہے جس نے اپنی آنکھوں میں محل دو محلوں کے خواب سجا رکھے ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے اپنی محبت اور اپنے محبوب خاوند کی زندگی کو بھی دائو پر لگا دیتی ہے۔ جب خاوند (ٹھاکر سنگھ) کو اپنی زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں تو یہ جفا پیشہ راضی خوشی راجے کے محل میں جا براجمان ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدوسری اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بڑے خاندان کی عورت ہے، جس کا نام عظیمہ ہے۔ اس کا خاوند ایک اعلیٰ افسر ہے۔ عظیمہ کی خواہش ہے کہ اس کا خاوند صوبے کا پہلا ہندوستانی چیف کمشنر بنے۔ اس کے لیے یہ اپنے جسم کو سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے صوبے کے گورنر سے اپنے خاوند کے لیے یہ عہدہ حاصل کر لیتی ہے۔ ایک دن خاوند اِن کو ہمبستری کی حالت میں دیکھ کر گولی مار دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزندگی کیا کیا امتحان لیتی ہے۔ کس کس طرح سے سفلی خواہشات انسانوں کو قتل کرواتی آئی ہیں۔ عورت ترقی کرنا چاہتی ہے، بعض اوقات ترقی کرنے کے لیے اپنے خاوند کے سینے پر پائوں رکھ کر ترقی کا زینہ چڑھ جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر لکھتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”اولوالعزم عورتیں جو زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں اپنی جنس سے وہی کام لیتی ہیں، جو مرد اپنی عقل سے لیتے ہیں۔ عورت اپنی جنس سے ایک ہتھیار کا کام لیتی ہے، جو کام ان پڑھ درشنا نے کیا، وہی کام پڑھی لکھی عظیمہ کر گزری۔“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر نے ان دونوں عورتوں کی جاہ پسندی، حرص و ہوس کو اس چابک دستی اور ہُنرمندی سے بیان کیا ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سبھی کچھ ہمارے سامنے ہی وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ان دونوں بے وفا عورتوں کے خاوند (ٹھاکر سنگھ اور گورگانی)، جو اَب سماج کے راندئہ درگاہ اور قانون کو مطلوب ہیں، بھاگ کر جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور حُسنِ اتفاق سے وہاں آپس میں مل جاتے ہیں۔ پھر بڑی ہمت، حوصلے کے ساتھ جنگلی جانوروں، پہاڑوں، برف زاروں، بارشوں اور آب شاروں کے درمیان زندگی کے دن بسر کرنے لگتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسودا سلف لانے کے ایک سفر کے دوران ان کو ایک تنہا لاوارث بچی مل جاتی ہے۔ گورگانی اس کی بیٹیوں کی طرح پرورش کرتا ہے۔ یہ اس ناول کا تیسرا نسوانی کردار ہے اور اس کا نام دیپالی ہے۔ دیپالی فطرت کی آغوش میں ایک خودرو جنگلی پودے کی طرح بڑھنے لگتی ہے لیکن اسے اپنی جسمانی تبدیلیوں اور فطری تقاضوں کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدوسری برف باری سے پہلے کے ایام شروع ہوتے ہی شکاری ٹھاکر سنگھ اپنے جسم و جاں میں ایک تڑپ ایک پکار کو محسوس کرتا ہے۔ اس کے جسمانی فطری تقاضے اسے سونے نہیں دیتے اور سرما کی طویل راتوں میں تنہائی، ذہنی کرب اور کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے لیکن خود پر جبر کرتا ہے، خود کو اذیت دیتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ جب کہ دیپالی کو بھی پہلی بار تنہائی میں یہ فطری جسمانی اور جبلی تقاضے اپنی طرف بلاتے ہیں اور راتوں کو چین نہیں لینے دیتے، وہ بار بار بستر سے اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ پیاس سے اس کا گلا خشک ہو جاتا ہے۔ آخر ایک رات وہ اپنی جسمانی پکار سے ہار کر مجبور ہو جاتی ہے اورپھر...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ ناول اسی جذباتی کشمکش، ذہنی کرب اور مناظر فطرت کی تصویرکشی ہے جس کو بڑی فنّی مہارت اور کمال دسترس کے ساتھ کرشن چندر نے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر کا حقیقت پسندانہ بے باک قلم کیا کیا کرشمے دکھاتا ہے۔ معاشرے کے کون کون سے چھپے گوشے عریاں کر کے پڑھنے والوں کے روبرو پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ناول ہی نہیں لاکھوں محروم انسانوں کا نوحہ بھی ہے۔ معاشرے کے کچلے ہوئے انسانوں کی سسکتی ہوئی چیخ و پکار بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرا یہ دعویٰ ہے کہ زندگی کے وسیع کینوس پر ایسی انوکھی تحریر آپ نے اس سے قبل نہ پڑھی ہو گی۔ دلی جذبات و کیفیات کے تانے بانے سے بُنے گئے کرشن چندر کے اس ناول کو آپ شروع کر کے ایک ہی نشست میں ختم کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ آزمائش شرط ہے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473476726969,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64b6989cd24de1689688220.jpg?v=1785947922"},{"product_id":"kitab-ka-kafan-کتاب-کا-کفن","title":"KITAB KA KAFAN  کتاب کا کفن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر نے اُردو افسانہ نِگاری میں جو رنگ پیدا کیا ہے وہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ اور شاید اس وقت کرشن سے زیادہ کامیاب افسانہ نِگار کوئی نہیں۔ اس کے افسانوں میں ہمیں رومان و حقیقت کا امتزاج مِلتا ہے جو ہندوستانیوں کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی فطرتاً تخیّل پرست اور رومانی ہیں۔ لیکن وقت اور ماحول کے تقاضوں نے ان کو حقیقت پرست اور واقعیت پسند بھی بنا دیا ہے۔ وہ اپنے انفرادی اور شخصی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ کسی اجتماعیت کو ساتھ لے کر نہیں چلتے۔ فنّی اعتبار سے وہ اُردو کا بہت بڑا افسانہ نِگار ہے۔ اس نے افسانہ اور سکیچ کے امتزاج سے اُردو افسانہ نِگاری میں بالکل ایک نئی راہ نکالی ہے جو خود زندگی سے زیادہ قریب ہے۔ اس کے بعض افسانے تو بالکل سکیچ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی حیرت خیز صنّاعی ان میں بھی افسانویت کی ایسی جھلکیاں دکھاتی ہے جن کا کہانیوں میں بھی ملنا مُشکل ہے۔ اس قسم کے افسانوں کے ہر اشارے اور ہر کنائے میں ایک کہانی ہوتی ہے۔ کرشن کا اسلوبِ بیان اور طرزِ ادا دِل کش ہے اور شاید ایسی پیاری زبان اور شعریت سے اتنا بھرپور اسلوبِ بیان اُردو کے بہت کم افسانہ نِگاروں کو نصیب ہوا ہے۔ وہ بذاتِ خود اُردو افسانہ نِگاری کا ایک اسکول ہے جس کی بُنیاد اس نے خود ہی ڈالی اور جس کو وہ خود ہی پروان چڑھا رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر عبادت بریلوی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر اُردو کے صفِ اوّل کے افسانہ نگاروں میں ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ سب سے اچھے افسانہ نِگار ہیں اور اس قول کو آسانی سے رَد نہ کیا جا سکے گا۔ ان کے افسانوں میں تازگی اور شگفتگی، شادابی اور رعنائی ہے، زبان کی لطافت، تشبیہوں کی جدّت، اُسلوب کی ندرت، موضوع اور طرزِ بیان کی ہم آہنگی، موضوع اور مواد کی سماجی اہمیت، انسانیت کا درد اور اس کی ترقّی کی اُمید، یہ باتیں جس افسانہ نِگار میں اکٹھی ہو جائیں، وہی ساحری کر سکتا ہے۔ کرشن چندر اس لحاظ سے ساحر ہیں اگر وہ کبھی کبھی یہ احساس نہ دلائیں کہ حُسن صرف پہاڑوں اور وادیوں میں ہے۔ ان کے افسانوں سے یہ ترغیب نہ پیدا ہو کہ ’’فطرت‘‘ بذاتِ خود حسین اور مکمّل ہے تو شاید تخیُّلی حیثیت سے بھی ان کے جادو پر شک نہ کیا جا سکے۔ کرشن چندر کے افسانے پڑھے جانے کا اور ان کا فن مطالعہ اور غوروفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(پروفیسر احتشام حسین)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473616187577,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/644e32515fb461682846289.jpg?v=1785948542"},{"product_id":"jab-khayt-jaagay-2nd-edition-جب-کھیت-جاگے","title":"JAB KHAYT JAAGAY (2ND EDITION)  جب کھیت جاگے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپیش نظر مختصر ناول ”جب کھیت جاگے“ اس اعتبار سے کرشن کی سب سے اہم کہانی ہے کہ اس میں پندرہ سولہ سال کے بعد وہ کسان نئی شان سے واپس آیا ہے جس نے انتہائی بے چارگی کے عالم میں پریم چند کے ناول ”گئودان“ میں دم توڑا تھا۔ اب یہ بے بس اور مصیبت زدہ کسان نہیں ہے۔ بلکہ وہ بہادر چھاپہ مار ہے جو اپنی اور تمام کسانوں کی بے بسی اور مصیبت کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ باشعور، ہوش مند اور منظم کسان ہے جو دھرتی کی کوکھ سے ایک تناور اور مضبوط درخت کی طرح اُگا ہے اور انقلاب و بغاوت کی تیز و تند ہوائوں میں جھوم جھوم کر گیت گا رہا ہے۔ آپ جب اس کہانی کو پڑھیں گے تو راگھورائو کی رُوح آپ کے سینے میں آ جائے گی۔ یہی اثر آفرینی ہے اور کرشن اس فن کا سب سے بڑا جادوگر ہے۔ آج کے ادیب کا کام یہ ہے کہ وہ ظالموں کی بزدلی کی گواہی اور مجاہدوں کی عظمت اور شہیدوں کی پاکیزگی کی شہادت دے اور کرشن نے اپنے فرض کو بڑی دیانتداری سے پورا کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی سردار جعفری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473685622969,"sku":"BC SSH","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64ba311f43a121689923871.jpg?v=1785948851"},{"product_id":"bawan-pattay-باون-پتے","title":"BAWAN PATTAY  باون پتے","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48508917285049,"sku":"BC SSH","price":720.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0c16d1bfcdb1779177169.jpg?v=1785948966"},{"product_id":"dil-ki-wadiyan-so-gayin-دل-کی-وادیاں-سو-گئیں","title":"DIL KI WADIYAN SO GAYIN  دل کی وادیاں سو گئیں","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473746571449,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/612ccc79668c41630325881_1383b99e-790e-44c0-841f-ad2f3a0320be.jpg?v=1785949238"},{"product_id":"raseedi-ticket-3rd-edition-رسیدی-ٹکٹ","title":"RASEEDI TICKET (3RD EDITION)  رسیدی ٹکٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eرسیدی ٹکٹ کا جس وقت ہندی اور انگریزی میں ترجمہ ہو رہا تھا، میرے کئی ماہ اس کی پکڑ میں رہے۔ اس لیے کئی حصے نئے لکھے گئے جو اِن زبانوں کے تراجم میں تو شامل ہو گئے لیکن پنجابی میں، اس کتاب کے چھپ چکنے کے باعث رہ گئے۔ وہ نئے اوراق اب اس نئے ایڈیشن میں شامل کر رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچتی تھی، نظموں کو بھی ان کے وقتِ تصنیف اور محرک کے تذکرہ کے ساتھ شامل کر سکوں لیکن پھر رسیدی ٹکٹ کو چھاپ سکنا میرے بس سے باہر ہو جاتا۔ اس لیے اس خیال کو مَیں نے دو مزید حصص میں تقسیم کر دیا۔ ’’میں جمع میں‘‘ اور ’’مَیں جمع دُنیا‘‘ میں، جن میں سے ایک جلد میں صرف وہ نظمیں ہیں (محرک واقعہ اور وقت سمیت) جو ایک ہستی کے متعلق ہیں، یعنی میرے ’’تم‘‘ سے اور دوسری جلد میں صرف وہ جو دُنیا میں پیش آ رہے ہیں، واقعات سے منسلک ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مَیں‘‘ کے بغیر نہ ’’تم‘‘ کے معنی نکلتے ہیں، نہ دُنیا کے۔ یہ ’’مَیں‘‘ کے آگے ’’تم‘‘ کا سفر ہوتا ہے اور ’’تم‘‘ کے آگے اپنی کائنات کا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدونوں حالتوں میں یہ ’’مَیں‘‘ کی وسعت کا سفر ہوتا ہے۔ وہ کتاب ’’میں جمع میں‘‘ (سمیت میں جمع دُنیا کے) علیحدہ سے چھپی ہے اور یہ رسیدی ٹکٹ الگ ہے لیکن دونوں ایک دوسری کی تکمیل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتاپریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473762267321,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/655f394ccf63c1700739404.jpg?v=1785949356"},{"product_id":"surkh-dhaage-ka-rishta-سرخ-دھاگے-کا-رشتہ","title":"SURKH DHAAGE KA RISHTA  سرخ دھاگے کا رشتہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اس زندگی میں دو بار محبت کی ہے۔ پہلی ساحر سے، اور دوسری امروز سے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساحر کو میں نے آج سے تقریباً پینتالیس برس پہلے، پریت نگر ضلع امرتسر کے ایک مشاعرے میں دیکھا تھا۔ میں نے اپنی کتاب ’’ رسیدی ٹکٹ ‘‘ میں اس ملاقات کا ذکر لکھا ہوا ہے کہ اگلے روز جب ہم سب نے پریت نگر سے واپس لاہور پہنچنا تھا، اور ہم کو جو بس ملی تھی، وہ ایک نزدیکی گاؤں لوپوکی سے ملنی تھی، جہاں تک ہم سب نے پیدل چل کر جانا تھا۔ اور وہ راستہ چلتے ہوئے میں کتنا ہی فاصلہ اس جگہ پر چلتی رہی، جہاں ساحر کے جسم کا ایک لمبا سایہ پڑ رہا تھا۔ اور اس کے بعد .... برسوں تک مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ہمیشہ اس کے سائے میں چلتی رہی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ اس زندگی کی وہ حقیقت تھی، جو میں نے بسر کی تھی، اور لکھی تھی۔ لیکن یہ کس جنم کا سایہ تھا، اب جس سائے میں مَیں چل رہی تھی، یہ نہیں جانا۔ یہ میں نے 1983ء کی 5 جنوری کی رات کو جانا، جب گزشتہ جنم کو دیکھتے، میں نے اس محل کے راجے کی صورت میں ساحر کو دیکھا، جہاں 8 مارچ والے دن اس کی بیوی کی صورت میں مَیں نے قدم رکھا تھا، اور 29 دسمبر والے دن مجھے ایک عورت نے زہر کا پیالہ دے کر مروا دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامرتا پریتم\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473766461625,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/636f36937270d1668232851.jpg?v=1785949537"},{"product_id":"pinjar-پنجر","title":"PINJAR  پنجر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eایک بے بس عورت کی کہانی… امرتاپریتم کی زبانی… عورت جو انتقام کا شکار ہوئی، جو اپنے بیٹے کو ماں کا پیار نہ دے سکی… ساری عمر اپنے گھر، اپنے کنبے اور اپنے منگیتر کو نہ بھلا سکی… اس نے تقسیم کی خوں ریزی میں خود کو خطرے میں ڈالا اور دوسری عورتوں کی عصمت و عفت کی حفاظت کی… لیکن خود اپنے کنبے، اپنی عزت کے گہوارے سے دُور رہی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48509093249209,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/680dd4e744c131745736935.jpg?v=1785949710"},{"product_id":"unchas-din-انچاس-دن","title":"UNCHAS DIN  انچاس دن","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473780027577,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6087fa805cf731619524224.jpg?v=1785949837"},{"product_id":"kaghazi-hai-pairhan-2nd-edition-کاغذی-ہے-پیرہن","title":"KAGHAZI HAI PAIRHAN (2ND EDITION)  کاغذی ہے پیرہن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسچ بات یہ ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ عصمت چغتائی کی ’’یادوں کی بارات‘‘ ہے۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنی یادداشت اور خاندان کے لوگوں کی زبانی سنی سنائی باتوں کو جیسے جیسے انھیں یاد آتا جائے گا، جیسا ان کا جی چاہے گا قلم بند کرتی جائیں گی اور انھوں نے یہی کیا۔ نہ تسلسل کی پروا کی نہ اسے ناول بنانے کی اور یہ بھی ان کے حق میں اچھا ہی ہوا۔ دراصل اس کتاب کاپورا مواد خود نوشت ہی کے لیے مناسب ہے۔ اسے ناول بتائے جائیں تو ناول تو بنتا نہیں اور خودنوشت بھی ہاتھ سے نکل جاتی۔ عصمت ہماری بہت مقبول، بہت مشہور، ایک جغادری مصنفہ ہیں۔ لیکن ان کی صحیح قدر آج بھی پہچانی نہیں جاتی۔ دقیانوسی ادیبوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جو آج بھی انھیں محض ’’لحاف‘‘ اور ’’تل‘‘ کی مصنفہ کے طور پرجانتا ہے۔ وہ ان کی بے باکی اور بغاوت سے خوش نہیں ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اُردو تنقید نے ان پر وہ توجہ نہیں کی جس توجہ کی وہ مستحق تھیں۔ انھیں ایک بھی ایسا معتبر نقّاد نہیں ملا جو انھیں سمجھ اور سمجھا سکے اور ان کے فن کی بلندیوں کا احاطہ کر سکے۔ میرا خیال ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ کی کتابی صورت میں اشاعت سے عصمت کی شخصیت میں ایک نئی دلچسپی کا آغاز ہو گا اور اگر اس کا مطالعہ صحیح ڈھنگ سے کیا گیا تو ان کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہو جائے گا کیوںکہ ان صفحات سے عصمت کا جو کردار ابھرتا ہے وہ اپنے پیروں پر آپ کھڑی ہونے والی، جدید تعلیم یافتہ عورت کا کردار ہے جو مردانہ برتری کے تعصّبات، عورت کی طرف مذہبی تنگ نظری کی زائیدہ افترا پردازیوں، دقیانوسیت لکیر کی فقیری، رسم و رواج کی غلامی، جہالت، غربت او رتوہمات کی ماری ہوئی ہماری دیمک زدہ زندگی کے کسی ایک پہلو سے بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوارث علوی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473843957945,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6511426f533201695629935.jpg?v=1785951039"},{"product_id":"masooma-معصومہ","title":"MASOOMA  معصومہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب کمزور دل افراد کے لیے نہیں لکھی گئی تھی.... چُبھنے والے غصے اور کاٹ دار حقیقت نگاری کے ساتھ باریک بین آنکھ نے صرف بمبئی سینما کی اندھیر نگری کی ہی تصویر کشی نہیں کی بلکہ نام نہاد شرافت کے کلچر کا نقاب بھی نوچا ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(رخشندہ جلیل)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473848840377,"sku":"BC SSH","price":490.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/612737cc956fb1629960140.jpg?v=1785951209"},{"product_id":"terhi-lakir-ٹیڑھی-لکیر","title":"TERHI LAKIR  ٹیڑھی لکیر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eجب ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ شائع ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا میں نے ایک جنسی مزاج اور بیمار ذہنیت والی لڑکی کی سرگزشت لکھی ہے۔ علم نفسیات کو پڑھیے تو یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون بیمار ہے اور کون تندرست۔ ایک پارسا ہستی جنسی بیمار ہو سکتی ہے اور ایک آوارہ اور بدچلن انسان صحت مند ہو سکتا ہے۔ جنسی بیمار اور تندرست میں اتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے کہ فیصلہ دشوار ہے مگر جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی ہیروئن نہ ذہنی بیمار ہےاور نہ جنسی۔ جیسے ہر زندہ انسان کو گندے ماحول اور آس پاس کی غلاظت سے ہیضہ، طاعون ہو سکتا ہے اسی طرح ایک بالکل تندرست ذہنیت کا مالک بچہ بھی اگر غلط ماحول میں پھنس جائے تو بیمار ہوجاتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمگر شمن زندہ ہی نہیں ہے جاندار بھی ہے۔ اس پر مختلف حملے ہوتے ہیں لیکن ہر حملے کے بعد وہ پھر ہمت باندھ کر سلامت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ہر امتحان سے گزر کر پُر سکون انداز میں اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے اور ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرنے کے بعد دوسرا قدم اٹھاتی ہے۔ یہ اس کا قصور نہیں ہے کہ وہ بے حد حساس اور ہر چوٹ پر منہ کے بل گرتی ہے مگر پھر سنبھل جاتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں سے ٹکر لے کر وہ انہیں جھٹلا دیتی ہے۔ ہر طوفان سر سے گزر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمن کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا، وہ پیار کی محبت اور دوستی کی بھوکی ہے اور انھی نعمتوں کی تلاش میں بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ اس کا دوسرا عیب ہے ضد ____ یا شاید یہی اس کی خوبی ہے۔ ہتھیار ڈال دینا اس کی طبیعت نہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ میری آپ بیتی ہے۔ مجھے خود یہ آپ بیتی لگتی ہے۔ میں نے اس ناول کو لکھتے وقت بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ میں نے شمن کے دل میں اترنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ آنسو بہائے ہیں او رقہقہے لگائے ہیں۔ اس کی کمزوریوں سے جل بھی اٹھی ہوں، اس کی ہمت کی داد بھی دی ہے۔ اس کی نادانیوں پر رحم بھی آیا ہے اور شرارتوں پر پیار بھی آیا ہے۔ اس کے عشق و محبت کے کارناموں پر چٹخارے بھی لیے ہیں اور حسرتوں پر دکھ بھی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ یہ میری آپ بیتی ہے تو کچھ زیادہ مبالغہ تو نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور جگ بیتی اور آپ بیتی میں بھی تو بال برابر کا فرق ہے۔ جگ بیتی اگر اپنے آپ پر بیتی محسوس نہ کی ہو تو وہ انسان ہی کیا؟ اور بغیر پرائی زندگی کو اپنائے ہوئے کوئی کیسے لکھ سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمن کی کہانی کسی ایک لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے۔ اس دور کی لڑکیوں کی کہانی ہے جب وہ پابندیوں اور آزادی کے بیچ ایک خلا میں لٹک رہی تھیں اور میں نے ایمانداری سے ان کی تصویر ان صفحات میں کھینچ دی ہے، تاکہ آنے والی لڑکیاں ا س سے ملاقات کر سکیں اور سمجھ سکیں کہ ایک لکیرکیوں ٹیڑھی ہوئی ہے اور کیوں سیدھی ہو جاتی ہے اور اپنی بچیوں کے راستے کو الجھانے کے بجائے سلجھا سکیں اور بجائے تنبیہ الغافلین کے اپنی بیٹیوں کے دوست اور رہنما بن سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعصمت چغتائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبمبئی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473875873977,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6783a4c720d1785168804.jpg?v=1785951519"},{"product_id":"ghalib-a-novel-غالب-ناول","title":"GHALIB - A NOVEL  غالب ۔ ناول","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاللہ بھلا کرے شکیل عادل زادہ صاحب کا جن کی معرفت قاضی عبدالستار کی کہانیاں ’’سب رنگ‘‘ میں پڑھنا شروع کیں اور پھر یاد پڑتا ہے ہر دفعہ ’’سب رنگ‘‘ کے شمارے میں قارئین بٹھل کے لاڈلے بابر زمان کو بازی گر میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے جبکہ میری کوشش ہوتی کہ فہرست میں دیکھوں قاضی عبدالستار اور ابوالفضل صدیقی کی کہانیاں شامل ہیں یا نہیں۔ ان دونوں بڑے ادیبوں کی زبان وبیان اور کہانی پر جو گرفت ہے وہ آپ کو اور کہیں نہیں ملتی۔ میرے بک کارنر سے تعارف کی وجہ ہی قاضی عبدالستار تھے، جب فیس بک پر بک کارنر جہلم کو ان کی کتابوں کا آرڈر کیا تھا۔ یہ شاید 2012ء کی بات ہے اور کتابیں اسی وقت منگوا لی تھیں۔ اب قاضی عبدالستار کا غالب پر ناول دیکھا تو لگا اس سے بہتر کیا لکھا جائے گا۔ قاضی عبدالستار کا جادو یہاں بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ قاضی عبدالستار نے ہر کہانی میں قلم اور قارئین کے ساتھ انصاف کیا ہے.... یا یوں کہیں، غالب کے ساتھ انصاف تین لوگوں نے ہی کیا ہے ۔قاضی عبدالستار نے ناول لکھ کر کیا ہے تو گلزارؔ نے غالب پر فلم\/سیزن بنا کر اور نصیرالدین شاہ نے غالب کا کردار ادا کر کے.... غالب بھی ان سب کو دُعائیں دیتے ہوں گے۔ ویسے سوچتا ہوں غالب کو اجڑی دلّی میں اگر بک کارنر جہلم جیسا کوئی پبلشر یا گلزار جیسا فلم میکر، قاضی عبدالستار جیسا ان پر لکھنے والا ادیب اور نصیرالدین شاہ جیسا اداکار دستیاب ہو جاتا تو یقین کریں شاید انہیں انگریزسرکار کو اپنی پنشن کے لیے سینکڑوں خطوط نہ لکھنے پڑتے، نہ قانونی جنگ لڑنا پڑتی اور نہ ہی قرض خوروں کی وجہ سے گھر میں چھپ کر رہنا پڑتا اور نہ ہی کسمپرسی کی حالت میں اس دُنیا سے یہ اُداس گیت گاتے رُخصت ہوتے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر سوچتا ہوں اگر یہ سب لوگ غالب کو اس وقت دلّی میں میسّر ہوتے تو پھر ہمیں آج لیجنڈ غالب کہاں ملتا....!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرؤف کلاسرا\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475175977145,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/603788df8f4e81614252255.jpg?v=1785962044"},{"product_id":"dara-shikoh-داراشکوہ","title":"DARA SHIKOH  داراشکوہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشہنشاہوں کی تاریخ، فوج، کنیزیں، اصیلیں، مغلانیاں، قلمقانیاں، باندیاں، لونڈیاں، نوکر چاکر، مصاحب .... ان کی داستاں کوئی لکھ سکتا تھا تو وہ قاضی صاحب تھے۔ بادشاۂ وقت، تیور بھی شاہانہ رکھتے تھے۔ محاورہ ہے کہ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا۔ نواب سے ملنے والا آیا تو وقت رُخصتی خالی ہاتھ کیسے جانے دیں۔ پیتل کا گھنٹہ دے دیا۔ ان پر لکھنے کو دُنیا بھر کی کتابیں اور کہانیاں ہیں۔ مگر آج قاضی صاحب کے صرف ایک ناول ’’دارا شکوہ‘‘ پر اکتفا کروں گا۔ ’’دارا شکوہ‘‘ پڑھتے ہوئے لگتا ہے، شاہجہاں کا پانچواں بیٹا، جس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی یہ رُوداد رقم کر رہا ہے۔ یہ ماضی کا قصّہ نہیں، یہ آج کا قصّہ ہے۔ لکھنے والے قاضی صاحب.... تاریخ کے محافظ قاضی صاحب.... اور اس دَور کے عینی شاہد قاضی صاحب.... وہ حقیقت میں بادشاہ تھے.... جلال و جمال کی شاہانہ مثال.... ’’دارا شکوہ‘‘ کسی جادو سے کم نہیں۔ جی چاہتا ہے، شاہجہاں کے کردار میں قاضی صاحب کو دیکھوں.... قاضی صاحب سے کئی ملاقاتیں رہیں، ہر ملاقات یادگار۔ کافی پہلے انھوں نے کہا تھا، افسانہ چاول پر قُلْ هُوَ اللّٰہ لکھنے کا نام ہے۔ ان کے ناول اور افسانے پڑھنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ وہ کہانیوں کے بادشاہ تھے۔ جب تک جیے شان سے جیے۔ وہ نمائش کے لیے افسانہ نہیں لکھتے تھے۔ وہ غیب کی صداؤں کو زنبیل سے نکالتے اور لفظوں کا انتخاب کرتے۔ انھوں نے جو بھی لکھا، کسی شاہکار سے کم نہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475803320505,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6029416a710ae1613316458.jpg?v=1785962741"},{"product_id":"khuda-ki-basti-special-edition-خدا-کی-بستی-سپیشل-ایڈیشن","title":"KHUDA KI BASTI (SPECIAL EDITION)  خدا کی بستی (سپیشل ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشوکت صدیقی پیدائش، 20 مارچ 1923ء، لکھنؤ، 1946ء، سیاسیات میں ایم اے، 1950ء، کراچی آمد۔ مختصر کہانیوں اور ناولوں کے مایہ ناز قلم کار اور ممتاز صحافی۔ 1944ء میں عملی زندگی کا آغاز ماہنامہ ’’ترکش‘‘ سے کیا، کئی انگریزی اور اُردو اخبارات سے وابستہ، روزنامہ ’’مساوات‘‘ کراچی کے بانی مدیر، روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر اور عرصے تک ہفت روزہ ’’الفتح‘‘ کراچی کے سربراہ رہے۔ اُن کے متعدد ساتھی کارکن آج ملک کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، صحافت میں اُنھیں اپنا معلّم سمجھتے اور بابائے صحافت کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ شوکت صدیقی پاکستان رائٹرز گِلڈ کے جنرل سیکرٹری اور انجمن ترقی پسند مصنّفین کے صدر رہے۔ اُردو کے بڑے ناول نگاروں کی کوئی فہرست اُن کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ناول نگاری کی ابتدا 1945ء میں ’’کمین گاہ‘‘ سے کی ۔ دوسرا اور معرکہ آرا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ 1958ء میں منصہ شہود پر آیا اور وجۂ شہرت بنا۔ 1960ء میں اس کی مقبولیت کے باعث شوکت صدیقی کو پہلا آدم جی ادبی انعام ملا۔ 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ یہ اُردو زبان کا واحدناول ہے جس کے 42زبانوں میں تراجم ہوئے۔ انگریزی میں ڈیوڈ میتھیوز نے“God's Own Land: A Novel of Pakistan”کے نام سے ترجمہ کیا۔ بنگلا میں اس ناول کے ترجمے کو حبیب بینک انعام سے نوازا گیا۔ بچپن کی یادوں پر مشتمل تیسرا ناول ’’کوکا بیلی‘‘ 1962ء میں شائع ہوا۔ اسے ازسرِنو تحریر کیا اور 1990ء میں ’’چار دیواری‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ چوتھا اور آخری ناول ’’جانگلوس‘‘ طویل عرصے تک سب رنگ ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ بعد میں تین جلدوں پر محیط کتابی شکل میں چھپا۔ اس ناول کو پنجاب کی الف لیلہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن پر بھی پیش کیا گیا، لیکن ٹیلی وژن کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے اسے مکمل نشر نہ کیا جا سکا۔ شوکت صدیقی کی دیگر تصانیف میں افسانوں کے مجموعے ’’تیسرا آدمی‘‘(1952ء)، ’’اندھیرا اور اندھیرا‘‘ (1955ء)، ’’راتوں کا شہر‘‘ (1956ء)، ’’کیمیاگر‘‘ (1984ء) اور سیاسی و تاریخی مضامین کے مجموعے ’’طبقاتی جدوجہد اور بنیادپرستی‘‘ (1988ء)، ’’گمشدہ اوراق‘‘ (2011ء) اور ’’جُہدِ قلم‘‘ (2024ء) شامل ہیں۔ ’’جانگلوس‘‘ لکھنے پر حکومتِ پاکستان نے اُنھیں 1997ء میں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا اور 2003ء میں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے 2002ء میں کمالِ فن ایوارڈ اور 2004ء، دوحہ (قطر) میں عالمی فروغِ اُردو ادب کے ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ وہ 18 دسمبر، 2006ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 20 مارچ 2023ء کو دُنیا کے مختلف ملکوں میں شوکت صدیقی کا صد سالہ یومِ ولادت جوش و عقیدت سے منایا گیا۔ اس موقع پر بک کارنر جہلم نے بھی اُن کے ناول ازسرِنو کتابت کروائے اور تمام تر اہتمام سے شائع کیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475857944761,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67472aa9cb00c1732717225.jpg?v=1785962903"},{"product_id":"jangloos-vol-3-جانگلوس-جلد-سوم","title":"JANGLOOS (VOL: 3)  جانگلوس (جلد سوم)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیاد آتی ہیں، اُس زمانے کی باتیں۔ سب رنگ 90 فیصد کہانیوں کا رسالہ تھا۔ دل چسپ اور اعلیٰ درجے کی کہانیوں کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے جاتے۔ شمالی ناظم آباد میں اُردو کے چند مقبول ترین ناولوں میں ایک ’’خدا کی بستی‘‘ کے خالق شوکت صدّیقی گھر سے دو تین گلیاں پیچھے رہتے تھے۔ تین چار سال مغرب بعد ہفتے میں دو تین مرتبہ خدمت میں حاضری لازم قرار دی تھی کہ ’’خدا کی بستی‘‘ جیسا کوئی ناول یا سرگزشت لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ثقہ فسانہ نگار، ڈائجسٹ رسالوں میں اپنی تحریروں کی اشاعت سے گریزاں رہتے تھے۔ کچھ ایسی شہرت ہو گئی تھی کہ ڈائجسٹ تیسرے چوتھے درجے کی تحریریں چھاپتے ہیں اور لوگوں کو بگاڑنے، توہمّ پرستی کی تلقین کا سبب بن رہے ہیں۔ شروع شروع میں، خصوصاً کراچی کے ڈائجسٹوں میں جادو ٹونے یا جن بھوت، پریوں، دم، اور ماورائی، دیو مالائی قسم کے قصّے کثرت سے شائع ہوتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشوکت صدّیقی، ایک نہایت خوش طبع، خوش وضع ادیب، صحافی اور بنیادی طور پر کہانی کار تھے۔ دل پر اثر کرنے والی حقیقی زندگی کی کہانیوں کی تخلیق میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کی مجلس میں بہت کچھ حاصل ہوتا تھا، کیا حکمت آموز، بصیرت افروز، دنیا جہاں کی باتیں وردِ زباں رہتیں۔ سیاست، معیشت، سماجی اقدار اور ادب کے تذکرے۔ ادیبوں کے حال احوال، جو غیبتوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ غیبتوں کا بھی اپنا ایک مزہ ہے۔ محفلیں گرم، شاد آباد رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر، اپنا مقصد تو اُن کی جناب میں پیشی کا ایک ہی تھا، سب رنگ کے لیے لکھنے پر تیّار کرنا۔ طرح طرح کی رَغبتوں سے انھیں مہمیز کرنے، اکسانے کی کوشش جاری رہی۔ صاف انکار بھی نہیں کر پاتے تھے، سُن کے مسکراتے کہ ہاں ہاں ضرور، پر کیا بتاؤں اِن دنوں کچھ عجب حالت ہے، لکھنے لکھانے کا موڈ ہی نہیں بن پا رہا۔ خاطر تواضع میں پیش پیش بھابھی صاحبہ بھی کبھی ہماری محفل میں شریک ہو جاتیں۔ متعدد بار اُن سے بھی سفارش کروائی۔ آخر تین چار سال کی منّتِ شاقہ کے بعد حضرت قبلہ سے ہتھیار ڈلوا دیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُن کی مرضی کا معاوضہ پیش کیا گیا، جو یقیناً اُردو اخبار و رسائل میں کسی فسانہ نگار کو دیے جانے والے معاوضے میں پہلی مثال تھا۔ سب رنگ میں شائع ہونے والا اُن کا طویل ناول ’’جانگلوس‘‘ ایسا پسند کیا گیا کہ ٹی وی والوں نے سیریز بنانے کی ٹھان لی لیکن مزاجِ خسروی پر یہ کلامِ تند و ترش بار ہونا چاہیے تھا، سو چند قسطوں کے بعد اسے ناتمام کر دیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں ’’جانگلوس‘‘ کو اس کے متن اور رُوح کے مطابق فلمانے کی مہم سرزد کر لی جائے تو ایک بڑا واقعہ ہو گا، جانے کتنے آئینہ خانے، شیش محل زد پر آجائیں گے۔ بہرحال یہ کیا کم ہے کہ شوکت صدّیقی کو کاغذوں پر ’’جانگلوس‘‘ ایک دستاویزی ناول محفوظ کرنے کا موقع مل گیا اور یہ کیا کم ہے کہ وہ خود بھی محفوظ و مامون رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ماخوذ ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ جلد ہشتم)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475948974265,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/678269139edd41736599827.jpg?v=1785963190"},{"product_id":"jangloos-vol-2-جانگلوس-جلد-دوم","title":"JANGLOOS (VOL: 2)  جانگلوس (جلد دوم)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eیاد آتی ہیں، اُس زمانے کی باتیں۔ سب رنگ 90 فیصد کہانیوں کا رسالہ تھا۔ دل چسپ اور اعلیٰ درجے کی کہانیوں کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے جاتے۔ شمالی ناظم آباد میں اُردو کے چند مقبول ترین ناولوں میں ایک ’’خدا کی بستی‘‘ کے خالق شوکت صدّیقی گھر سے دو تین گلیاں پیچھے رہتے تھے۔ تین چار سال مغرب بعد ہفتے میں دو تین مرتبہ خدمت میں حاضری لازم قرار دی تھی کہ ’’خدا کی بستی‘‘ جیسا کوئی ناول یا سرگزشت لکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ثقہ فسانہ نگار، ڈائجسٹ رسالوں میں اپنی تحریروں کی اشاعت سے گریزاں رہتے تھے۔ کچھ ایسی شہرت ہو گئی تھی کہ ڈائجسٹ تیسرے چوتھے درجے کی تحریریں چھاپتے ہیں اور لوگوں کو بگاڑنے، توہمّ پرستی کی تلقین کا سبب بن رہے ہیں۔ شروع شروع میں، خصوصاً کراچی کے ڈائجسٹوں میں جادو ٹونے یا جن بھوت، پریوں، دم، اور ماورائی، دیو مالائی قسم کے قصّے کثرت سے شائع ہوتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشوکت صدّیقی، ایک نہایت خوش طبع، خوش وضع ادیب، صحافی اور بنیادی طور پر کہانی کار تھے۔ دل پر اثر کرنے والی حقیقی زندگی کی کہانیوں کی تخلیق میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کی مجلس میں بہت کچھ حاصل ہوتا تھا، کیا حکمت آموز، بصیرت افروز، دنیا جہاں کی باتیں وردِ زباں رہتیں۔ سیاست، معیشت، سماجی اقدار اور ادب کے تذکرے۔ ادیبوں کے حال احوال، جو غیبتوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ غیبتوں کا بھی اپنا ایک مزہ ہے۔ محفلیں گرم، شاد آباد رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر، اپنا مقصد تو اُن کی جناب میں پیشی کا ایک ہی تھا، سب رنگ کے لیے لکھنے پر تیّار کرنا۔ طرح طرح کی رَغبتوں سے انھیں مہمیز کرنے، اکسانے کی کوشش جاری رہی۔ صاف انکار بھی نہیں کر پاتے تھے، سُن کے مسکراتے کہ ہاں ہاں ضرور، پر کیا بتاؤں اِن دنوں کچھ عجب حالت ہے، لکھنے لکھانے کا موڈ ہی نہیں بن پا رہا۔ خاطر تواضع میں پیش پیش بھابھی صاحبہ بھی کبھی ہماری محفل میں شریک ہو جاتیں۔ متعدد بار اُن سے بھی سفارش کروائی۔ آخر تین چار سال کی منّتِ شاقہ کے بعد حضرت قبلہ سے ہتھیار ڈلوا دیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُن کی مرضی کا معاوضہ پیش کیا گیا، جو یقیناً اُردو اخبار و رسائل میں کسی فسانہ نگار کو دیے جانے والے معاوضے میں پہلی مثال تھا۔ سب رنگ میں شائع ہونے والا اُن کا طویل ناول ’’جانگلوس‘‘ ایسا پسند کیا گیا کہ ٹی وی والوں نے سیریز بنانے کی ٹھان لی لیکن مزاجِ خسروی پر یہ کلامِ تند و ترش بار ہونا چاہیے تھا، سو چند قسطوں کے بعد اسے ناتمام کر دیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں ’’جانگلوس‘‘ کو اس کے متن اور رُوح کے مطابق فلمانے کی مہم سرزد کر لی جائے تو ایک بڑا واقعہ ہو گا، جانے کتنے آئینہ خانے، شیش محل زد پر آجائیں گے۔ بہرحال یہ کیا کم ہے کہ شوکت صدّیقی کو کاغذوں پر ’’جانگلوس‘‘ ایک دستاویزی ناول محفوظ کرنے کا موقع مل گیا اور یہ کیا کم ہے کہ وہ خود بھی محفوظ و مامون رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ماخوذ ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ جلد ہشتم)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475954938041,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6782695eea5751736599902.jpg?v=1785963314"},{"product_id":"faqeer-basti-mei-tha-3rd-edition-فقیر-بستی-میں-تھا","title":"FAQEER BASTI MEI THA (3RD EDITION)  فقیر بستی میں تھا","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cspan\u003eمحمد حسین آزاد کی کہانی میری زبانی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمَیں دسویں جماعت میں تھا، اپنے گائوں میں رہتا تھا۔ گھر کے سامنے ایک پانی کا نالہ بہتا تھا اور نالے پر ٹاہلیوں کے بےشمار چھائوں بھرے درخت تھے۔ اُن کے نیچے بان کی چارپائی بچھا کر اکثر کتابیں پڑھتا تھا۔ ایک دن میرے ہاتھ ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی کتاب’’ مباحث‘‘ آ گئی۔ مختلف مضامین کی دلچسپ کتاب تھی۔ اُسی میں ایک مضمون ’’مَیں اور میرؔ‘‘ بھی تھا۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ نے مولوی محمد حسین آزاد پر جرح کی تھی کہ اُس نے ’’ آبِ حیات‘‘ میں میرؔ صاحب کے کردار کو متنازع بنا ڈالا۔ میرؔ کو مبالغہ کی حد تک خودپسند ثابت کیا۔ مجھے اِس مضمون میں دیے گئے دلائل بہت عجیب اور متضاد لگے۔ مضمون پڑھ کر اُلٹا مَیں آزاد کے لیے تڑپ اُٹھا۔ جلد مولوی آزاد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کو ڈھونڈنے نکلا۔ اوکاڑہ شہر میں کسی دُکان پر ’’آبِ حیات‘‘ نہیں تھی۔ اُسی دن ریلوے اسٹیشن پر آیا، ایک بجے کی ریل پر بیٹھا اور لاہور پہنچ گیا۔ اُردو بازار لاہور سے ’’آبِ حیات‘‘ خریدی اور شام کی ٹرین سے اپنے شہر نکل لیا۔ راستے میں کتاب کا بے صبری سے مطالعہ شروع کر دیا۔ پھر بہت عرصہ یہ کتاب میری حرزِجان رہی اور مَیں مولانا کا عاشق ہو گیا۔ پھر جہاں سے جو کچھ بھی آزاد کے حوالے سے ملا، پڑھ ڈالا۔ لاہور میں آزاد کے ٹھکانوں کو تلاش کیا۔ جب دہلی گیا تو وہاں بھی آزاد کے پُرانے گھر اور کھجور والی مسجد کو ڈھونڈا۔ آزاد کے رشتے داروں کو ڈھونڈا۔ اُن میں ایک آغا سلمان باقر ملے، اُنھوں نے مجھے آزاد کے متعلق بہت مالا مال کر دیا، خدا اُنھیں سلامت رکھے۔ حتیٰ کہ آزاد کے بارے میں میری معلومات دہلی، لکھنؤ، لاہور اور دیگر مقامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہو گئیں۔ بعض معلومات اتنی دلچسپ، بالکل نئی اور ہمہ رنگ تھیں کہ پہلے تحریر میں نہیں آئی تھیں اور مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب دستِ غیبی ہے۔ قدرت چاہتی ہے کہ یہ اُن قارئین تک پہنچایا جائے جو اُردو ادب اور مولانا محمد حسین آزاد سے محبّت کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک وقت آیا کہ میں نے آزاد پر قلم اٹھایا اور یہ کتاب ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ وجود میں آئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اِس کتاب کے سرورق کے عنوان سے لے کر ابواب کے تمام عنوانات تک اُسی میرؔ کے مصرعوں سے لیے گئے ہیں۔ وہی میرؔ جس کے متعلّق سیّد عبداللہ کا اپنے مضمون میں دعویٰ تھا کہ اُس کے ساتھ مولوی آزاد نے انصاف نہیں کیا۔ لیکن مَیں کہوں گا کہ بخدا خود قاضی عبدالودود سے لے کر سیّد عبد اللہ اور وہاں سے آج تک کے تمام نقّادوں نے مولوی آزاد کے ساتھ انصاف نہیں کیا جنھیں مَیں نے اِس کتاب میں ظاہر کیا ہے۔ چلیے اب آپ اِس کتاب کو پڑھیے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476014739641,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63e34fe0b3eab1675841504.jpg?v=1785966407"},{"product_id":"rajinder-singh-bedi-muntakhib-afsanay-راجندر-سنگھ-بیدی-منتخب-افسانے","title":"RAJINDER SINGH BEDI - MUNTAKHIB AFSANAY  راجندر سنگھ بیدی (منتخب افسانے)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476074344633,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6778bd929d31785166013.jpg?v=1785967406"},{"product_id":"ghulam-abbas-muntakhib-afsanay-غلام-عباس-منتخب-افسانے","title":"GHULAM ABBAS - MUNTAKHIB AFSANAY  غلام عباس (منتخب افسانے)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476078178489,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5c4ef94f0b1061548679503_d6d810b1-2995-47e1-b0cb-c6403cbf4f6f.jpg?v=1785967871"},{"product_id":"justuju-guftugu-جستجو-گفتگو","title":"JUSTUJU GUFTUGU  جستجو گفتگو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eآپ کچھ سوالات لے کرآئے ہیں اور ایک‘‘زوردار’’مکالمے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مکالمہ زوردار ہوگا یا نہیں، میں نہیں جانتا، تاہم اتنا جانتا ہوں کہ ادیب جس کائنات میں رہتا ہے ، اُسے قدم قدم پر حیرت سے دیکھتا ہے۔ دیکھتا ہے اور چونکتا ہے۔ اس سے اُلجھتا ہے اور اپنے باطن میں ایک اُبال کو اُٹھنے دیتا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہی باطنی ردعمل اس کے ہاں تخلیقی عمل کو مہمیز لگاتا ہے،بالکل یوں جیسے کوئی سوار اپنی ایڑی کے کانٹے سے گھوڑے کو ایڑ دیتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایسے میں اس ساری تندی اور تانت کو،جس نے اس کے باطن میں معجزہ دِکھانا تھا، اسے ہی اپنے خارج میں برت بھگت لیتا ہے اورمشتعل ہوکر شدید ردعمل کا اظہار کر دیتا ہے،تو یہ استفراغی عمل اس کے باطن میں موجودتخلیقی عمل کے رواں ہونے کے امکانات کو تلف کر دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصاحب!رہا میرا معاملہ تویوں ہے کہ میری محبوب صنف افسانے نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ میں اپنی بات کو، اپنے رد عمل کو، اپنے غصے کو اپنے اندر روک لوں، سہار لوں ، اوراسے ایک کیمیائی عمل سے گزرنے دوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفکشن لکھنے والے جانتے ہیں کہ محض اور صرف واقعہ لکھتے چلے جانے سے فکشن کا بیانیہ نہیں بنتا، لکھتے ہوئے اس صورت حال، اس کردار، اس منظر اور اس فضا میں پوری طرح اترنا ہوتا ہے؛ یوں کہ سب کچھ لکھنے والے کے اپنے وجود پر بیتنے لگتا ہے۔ اپنے مشاہدے،تجربے اور معلومات کو محض قلم کی نوک سے سیاہی کے ساتھ اُگل دینے والے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ محض وقائع نویسی فکشن نہیں ہے۔ یہاں تو ٹھہر ٹھہر کراور رُک رُک کرلکھنا ہوتاہے؛ آوازوں کو،جذبوں اور احساس کی چھوٹی چھوٹی لہروں کو لفظوں کے اندر یا سطروں کے درمیان رکھتے ہوئے، سنبھالتے ہوئے اور سہتے ہو ئے لکھنا ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک گفتگو سے مقتبس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزندگی خود اتنا بڑا موضوع ہے کہ جس پر لکھنے والے لکھتے چلے آ رہے ہیں مگر تشنگی باقی رہتی ہے۔ اس تشنگی کی بقا میں ہمارے تخلیقی مزاج کی بقا ہے۔ جس روز زندگی پر لکھنے کو کچھ نہ بچا ،جانیے وہی دن ہماری تخلیقی صلاحیتیوں ، بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا آخری دِن ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی اسی تخلیقی جوہر اور اس باب کی بے پناہ تشنگی سے جڑی ہوئی ہے ۔ مجھے آپ کے سوال کے جواب میں کہنا یہ ہے کہ میرا موضوع فقط ایک ہے انسانی زندگی ، سو اسی کو لکھتا رہا ہوں مگر جتنا لکھتا ہوں تشنگی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک مکالمے سے مقتبس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک تخلیق کار تخلیقی عمل سے جڑے ہونے کے باعث، تنقیدی سوالات کے مقابل ہوتے ہوئے اس جانب بھی متوجہ کرلیا کرتا ہے جو بالعموم ناقدین کے ہاں کچھ زیادہ اہم نہیں ہوتے ۔ فکشن کی تنقید کا زیادہ سرمایہ ہمارے ہاں موضوعات اوراس باب کے مباحث پر مشتمل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ تخلیقی عمل کے بھید سمجھنے اور اپنے قاری کو سجھانے کی اہمیت کو اس شدت سے محسوس نہیں کیا گیا جس شدت سے اس کا واسطہ ایک تخلیق کار کو اس سے پڑتا ہے۔ میں تنقید کی طرف تخلیقی عمل کو سمجھنے اور مختلف حالات کے اندر، یا پھر مختلف مزاج رکھنے والے تخلیق کاروں کے ہاں یہ کیسے کام کرتا ہے اسے سمجھنے کے لیے تنقید کی طرف آیا تھا۔ یہ ایسا بھید بھرا علاقہ ہے کہ جوں جوں آگے جاتا ہوں ایک استقبالیہ قالین کی طرح میرے سامنے کھلتا چلا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک مکالمے سے مقتبس\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483266756793,"sku":"BC SSH","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a69b98c367a01785313676.jpg?v=1786038567"},{"product_id":"manto-aaj-bhi-zinda-hai-منٹو-آج-بھی-زندہ-ہے","title":"MANTO AAJ BHI ZINDA HAI  منٹو آج بھی زندہ ہے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eلائق شکر یہ بات ہے کہ تم نے میرے بارے میں جو بحث انگیز باتیں کی ہیں ان سے میرے ذہن کو مہمیز لگی ہے اور میں نے ’’افسانے کی حمایت میں‘‘کی ایک اور قسط لکھ لی ہے.... اور لطف یہ کہ تمھارا لہجہ بھی نہایت شگفتہ.... خوب بہت خوب۔ (شمس الرحمٰن فاروقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمارے ہاں تنقید میں جو گروہ بندی اور تنگ نظری عام ہو رہی ہے وہ اُردو ادب اور تنقید کے لیے نیک فال نہیں ہے۔ جب تک نقاد حضرات محمد حمید شاہد صاحب کی سی وسیع الظفرفی اور وسیع النظری سے کام نہیں لیں گے، اپنے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے۔ (احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاپنے سلسلہ مضامین میں محمد حمید شاہد نے مختلف تنقیدی مباحث کے ذریعے منٹو کے مطالعے کو ایک نیا رُخ عطا کر دِیا ہے۔ اُنھوں نے منٹو کی بات کو آج کے افسانے کے درمیان لاکر رکھ دِیا ہے۔ اس لیے یہ مختصر سی کتاب معنی خیز بھی ہے اور معنی افروز بھی۔ (آصف فرخی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد نے یوسا کی زقندوں کے ضمن میں منٹو کے افسانے ’’کھول دو‘‘ کی جیسی دُور رَس اور نکتہ رِیز تشریح کی ہے اس پر میری طرح آپ بھی اُن کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اِس ادب سے بے گانہ دور میں ، میری طرح آپ بھی اُن کی ادب سے شدید لگن کا خیر مقدم کریں ۔ (محمد عمر میمن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسعادت حسن منٹو کے حوالے سے ایک اور کتاب۔ مگر یہ منٹو کے حوالے سے محض ایک کتاب نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کے وسیلے سے منٹو فہمی کا ایک نیا دریچہ کھلتا ہے۔ یہ افسانہ نگار محمد حمید شاہد کے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے فن کو جاننے اور منٹو کو اس کے متن کے وسیلے سے سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ (انور سن رائے )\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483331113145,"sku":"BC SSH","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5ffb1204c4d531610289668.jpg?v=1786038853"},{"product_id":"intikhab-ghazliyat-e-meer-انتخاب-غزلیات-میر","title":"INTIKHAB GHAZLIYAT E MEER  انتخاب غزلیات میر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیرؔ پر بہت لکھا گیا۔ جعفر علی خان اثر، عبدالباری آسی، خواجہ احمد فاروقی، نثار احمد فاروقی، محمد حسن عسکری، ناصر کاظمی، عبادت بریلوی، گوپی چند نارنگ اور بہت اہم لوگ میرؔ پر لکھنے والوں میں ہیں مگر ہمارے زمانے میں شمس الرحمٰن فاروقی کی کتاب ’’شعر شور انگیز ‘‘ میریات کے ضمن میں سب سے اہم کتاب تسلیم کی گئی ہے۔ ’’شعرشور انگیز‘‘ کی چار جلدوں میں میرؔ کے سارے دواوین سے اشعار کا انتخاب ہوا جس کی تشریح میں جدید و قدیم شعریات کے امتزاج کا عملی استعمال و اطلاق شمس الرحمٰن فاروقی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ایک بہت بڑا کام محمد حمید شاہد نے سر انجام دیاہے۔ فاروقی نے منتخب اشعار کو ’’شعر شور انگیز‘‘ میں شامل کیا تھا مگر محمدحمیدشاہد نے ان تمام غزلوں کا انتخاب کرکے میرؔ کے عشاق کے لیے یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ دیکھ سکیں کہ زمانے کے بڑے نقاد نے جس پوری غزل سے ایک شعر منتخب کیا ہے تو کیوں اور کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ بعض اچھے شعر رہ گئے ہوں یا ان کی وضاحت کی ضرورت ہی نہ ہو۔ آج کے افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد اور ماضی کے گمشدہ نظم نگارمحمد حمید شاہد نے بہت محنت سے میرؔ کے تمام دواوین سے ان غزلیات کی جمع آواری کی جن کے کچھ اشعار ’’شعر شور انگیز‘‘ کا حصہ ہوئے تھے۔ محمد حمید شاہد نے ایک زبردست کام یہ کیا کہ اس انتخاب کے آخر میں نئے زمانے کے قارئین کے لیے فرہنگ مہیا کر دی ہے۔اس فرہنگ کا مطالعہ قاری کو اس لسانی فضا کے قریب تر کر دے گا جس میں میرؔ اپنے زمانے میں رہ رہے تھے۔ انتخاب کے مفصل مقدمہ کے ساتھ ایک اور خاصے کی چیز کتابیات کی فہرست ہے جس سے محمد حمید شاہد نے استفادہ کیا اور جو میریات کا بنیادی حوالہ ہیں۔ ’’انتخاب غزلیاتِ میر‘‘ کو ہماری مصورہ بیٹی سمیعہ سعد نے اپنی بنائی ہوئی تصویروں سے مزین کیا ہے۔ محمد حمید شاہد نے جس محنت اور قرینے سے یہ انتخاب مرتب کیا ہے اور بک کارنر کے گگن شاہد اور امر شاہد نے جس محبت اور سلیقے سے طباعت کا اہتمام کیا اس مشترکہ مساعی نے اس کتاب کو میر تقی میر کے عشاق کے لیے ایک قیمتی دستاویز بنا دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483365060793,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/61497e3f103da1632206399.jpg?v=1786038979"},{"product_id":"khuli-tarikh-کھلی-تاریخ","title":"KHULI TARIKH  کھلی تاریخ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیں ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے پاکستانی اُردو ادب کی مختصر کہانیوں، ناولوں اور شاعری میں جھلکتی پاکستانی تاریخ کی حقیقی و شفاف ترجمانی کے لیے، نوتاریخی طریقہ کار اور تکنیک کو انتہائی تخلیقی اور قابلِ ستائش انداز میں استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں ہماری تاریخ کا ایسا بصیرت انگیز اور غیر جانبدارانہ مطالعہ سامنے آیا ہے جو پاکستان، اس کی عوام اور اس کی شب و روز بدلتی سیاست کے ابعاد کو سمجھنے میں تفہیم کی نئی راہیں کھولے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر اشتیاق احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنئی تنقیدی تھیوری کے بڑے مفسرین کے نقطۂ نظر کے بر عکس اس کتاب میں لاشعوری اور غیر شخصی محرکات کو حرفِ آخر نہیں بنایا گیا۔ یہ حنا جمشید کی اپنی مہارت ہے کہ اس نے پاکستان کی تاریخ کی پیچیدہ گرہوں کو کھول کر اس کا فیصلہ قاری کے سپرد کر دیا ہے۔ اس کتاب میں آپ پڑھیں گے کہ نوتاریخیت ادیب کی ذہنی زندگی پر دباؤ ڈالنے والے محرکات، اداروں اور قوتوں کا سراغ لگاتی ہے، جو ایک بھرپور طاقت کی صورت اس کی تحریر پر اثرانداز ہوتے ہیں، مثلاً خاندانی روایات، مذہبی و نیم مذہبی عقائد، ثقافت، رسوم و رواج، حکومتِ وقت کے سخت گیر رویے وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ کہ کس طرح یہ تمام قوتیں ایک دوسرے کی طاقت میں اضافہ بھی کرتی جاتی ہیں اور خود کو قطعی غیر مبدل خیال کرتی ہیں، جیسے فقط وہ ہی فطری ہوں اور اس طرح ان کے مدِ مقابل جو بھی کھڑا ہو جائے یا ان کی نشاندہی کرے تو وہ اسے اپنا دشمن تعبیر کرتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر انوار احمد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر حنا جمشید نے اہم مگر مشکل موضوع کا انتخاب کیا ، انھوں نے آزادی اور اس کے بعد کے پاکستانی ادب کا نو تاریخی مطالعہ جس محنت، توجہ اور ذہانت سے کیا ہے، وہ داد طلب ہے۔ ان کا عمومی نقطہ ٔنظر ترقی پسندانہ ہے، جو اِس مطالعے میں بھی جھلکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ترقی پسندی کو ایک جامد نظریہ نہیں سمجھتیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی کلاسیکی مارکسی تصور کی حتمیت پر اصرار نہیں کرتیں جس پر فرینکفرٹ سکول نے خاصی تنقید کی ہے۔ نوتاریخیت میں سماج کا تصور معاشی یا طبقاتی نہیں ہے، لیکن وہ طاقت کے تصورات (جو کئی طرح کے ہیں)کو ضرور اہمیت دیتی ہیں، کیونکہ طاقت جہاں بھی ہوتی ہے وہاں سماج بٹ جاتا ہے کہ ہر طاقت کو اپنا معروض چاہیے۔ سماجی و قومی سانحات، طاقت کے اندھے استعمال ہی کی شکلیں ہیں جنھیں حناجمشید نے اس بسیط مطالعے میں بہ طور خاص اہمیت دی ہے اور ان میں اُردو ادب اور ہماری مقامی تاریخ کے نئے رشتے دریافت کیے ہیں۔ اُمید ہے اہلِ نظر اس کام کو تحسین کی نظر سے دیکھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483997974713,"sku":"BC SSH","price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6501959e9f1fb1694602654.jpg?v=1786041378"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/urdu-literature.oembed?page=2","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}