{"title":"World Classics in Translation","description":null,"products":[{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/altaf-fatima\"\u003eALTAF FATIMA\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/alberto-manguel\"\u003eALBERTO MANGUEL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 236\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369154031801,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"ulysses-vol-1-یولیسس-جلد-1","title":"ULYSSES (VOL. 1) یولیسس (جلد 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/james-joyce\"\u003eJAMES JOYCE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwer-sen-roy\"\u003eANWER SEN ROY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 582\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369721082041,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0a0274071e61779040884.jpg?v=1785193243"},{"product_id":"matilda-illustrated-مٹیلڈا","title":"MATILDA (ILLUSTRATED) مٹیلڈا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/roald-dahl\"\u003eROALD DAHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’مٹیلڈا‘‘ ایک غیرمعمولی ذہانت کی حامل بچی کی کہانی ہے جسے اپنے والدین کی جانب سے بےاعتنائی اور سکول میں اپنی ہیڈ مسٹریس مس ٹرنچ بُل کی جانب سے بےجا سختی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ اپنی مقبولیت کی بِنا پر اس کتاب کو مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا گیا ہے، جس میں اداکارہ جولی رچرڈسن، مریم مارگولیس اور کیٹ ونسلیٹ کی آڈیو ریڈنگ بھی شامل ہے۔ مشہور اداکار ڈینی ڈویٹو کی ہدایت کاری میں 1996 کی فلم Matilda پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں دو حصوں پر مشتمل بی بی سی 4 کا ریڈیو پروگرام، لندن کے ویسٹ اینڈ پر پیش کیا گیا۔ 2022 میں تھیٹر میوزیکل پر ترتیب دی گئی فلم Matilda the Musical ریلیز ہوئی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2003 میں ’’مٹیلڈا‘‘ کو بی بی سی کی جانب سے مرتب کردہ سو بہترین برطانوی ناولوں کے ایک جائزے The Big Read میں 74ویں نمبر پر رکھا کیا گیا۔ 2012 میں اسے امریکی ماہانہ سکول لائبریری جرنل کی طرف سے ترتیب کردہ جائزے میں بچوں کے بہترین ناولوں میں 30 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ٹائم میگزین نے اپنی ’’بچوں کی 100 بہترین کتابیں‘‘ نامی فہرست میں ’’مٹیلڈا‘‘کا نام دیا۔ 2012 میں برطانیہ کی رائل میل نے مٹیلڈا ورم ووڈ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ پرجاری کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب شائع ہونے کے اگلے ہی سال ’’مٹیلڈا‘‘کو 1989 کا ریڈ ہاؤس چلڈرن بک ایوارڈ دیا گیا۔ 2000 میں، اسے بلیو پیٹر بک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ ٹاپ 100 میں رولڈ ڈال کی چار کتابوں میں پہلی کتاب تھی، یہ تعداد کسی بھی دوسرے مصنف سے زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں اس کتاب کی فروخت 17 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور 2016 کے بعد سے مٹیلڈا نے فروخت میں رولڈ ڈال کی دیگر تمام کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرولڈ ڈال کو بخوبی یاد تھا کہ بچوں کی دنیا میں رہنا کیسا ہوتا ہے اور اس نے مٹیلڈا لکھتے وقت ایسے حالات کو مدنظر رکھا۔ رولڈ ڈال سے منسوب ایک قول کے مطابق زندگی کو بچوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہو گا اور اپنے اوپر بڑوں کی طرف دیکھنا ہو گا، جو ہر وقت آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی سخت گیر بڑوں پر مٹیلڈا کے کردار کی فتح اسی نظریہ پر مبنی ہے۔ مٹیلڈا نے 1988 میں چلڈرن بک ایوارڈ جیتا اور 1999 میں اسے سات سے گیارہ سال کی عمر کے 15,000 بچوں پر مشتمل ورلڈ بک ڈے سروے میں بچوں کی سب سے مقبول کتاب قرار دیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370028413113,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a44a803505a51782884355.jpg?v=1785194581"},{"product_id":"the-giver-urdu-دی-گیور-اردو","title":"THE GIVER - URDU دی گیور - اردو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/lois-lowry\"\u003eLOIS LOWRY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Asma Hussain\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 174\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eایک زبردست اور ذہن کو جھنجوڑ دینے والا ناول۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہایت مہارت سے بُنی ہوئی کہانی، جس میں یوٹوپیائی معاشرے کا کھوکھلا پن اور ہو لناکی بتدریج ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک فکر انگیز ناول۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— کرکس رِیویوز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری ایک بار پھر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ وہ بے شمار سوالات اٹھاتی ہیں مگر جواب کم دیتی ہیں، متجسس قارئین کے لیے پرت در پرت آشکار ہوتی کہانی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری کی نثر کی سادگی اور سلاست قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— بُک لسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤر ی نے ایک خوبصورت اور فکر انگیز سائنس فکشن ناول لکھ ڈالا ہے۔ کہانی مہارت سے بُنی گئی ہے؛ اورایک اَن دیکھی بے چینی کی فضا دھیرے دھیرے کہانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور آزادی اور تحفظ کے درمیان توازن کا موضوع نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ہارن بُک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دی گیور‘‘ ایسی باتیں کرتا ہے جنھیں بار بار دہرایا نہیں جا سکتا اور مجھے امید ہے کہ بہت سے نوجوان اِن باتوں پر توجہ دیں گے۔ ایک تنبیہ کہانی کے روپ میں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— واشنگٹن پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤری (پیدائش: 20 مارچ 1937ء) ایک معروف امریکی مصنفہ ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، جو اکثر ڈسٹوپیا، یادداشت اور انسانی تعلقات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاؤری کو سب سے زیادہ ان کی ’’دی گیور‘‘ (The Giver) سیریز کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر پہلی کتاب دی گیور) 1993ء( کے لیے جو ایک کنٹرولڈ معاشرے کی کہانی ہے۔ ان کی تخلیقات کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں، جن میں دو نیوبیری میڈلز بھی شامل ہیں۔ پہلا ’’نمبر دی سٹارز‘‘ (1989ء) کو دیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں ایک تاریخی ناول ہے اور دوسرے میڈل سے ’’دی گیور‘‘ کو نوازا گیا۔ لوئس لاؤری کی تحریریں نوجوان قارئین کو نہ صرف داستان گوئی سے محظوظ کراتی ہیں، بلکہ انھیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید دور کی سب سے مؤثر اور بااثر مصنّفین میں شمار ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسماء حسین کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پاکستان سٹڈیز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد کے گورنمنٹ کالجز اور ایک امریکن یونیورسٹی میں بطور اُردو لیکچرر تدریس کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی عالمی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل کتاب ’’تین درویش‘‘، نوبیل انعا م یافتہ ادیبہ ہان کانگ کے مشہور ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’شاکاہاری‘‘ اور مشہور اسرائیلی ادیب کی مختصر کہانیوں کے تراجم ’’پائپس اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’ خانہ روشن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانوں کے تراجم اور ان کے اپنے افسانے مختلف آن لائن جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسماء حسین آج کل ڈنمارک میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380644720825,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d0bd991dec41775287705.jpg?v=1785249865"},{"product_id":"sahar-e-bangal-bangaladeshi-adab-ki-muntakhab-kahaniyan-سحر-بنگال-بنگلہ-دیشی-ادب-کی-منتخب-کہانیاں","title":"SAHAR-E-BANGAL: BANGALADESHI ADAB KI MUNTAKHAB KAHANIYAN سحر بنگال: بنگلہ دیشی ادب کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Hina Jamshed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 216\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eقوتِ تحریر بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ محمد خالد اختر کا اسلوب ایسا تھا کہ ان کی طبع زاد تحریر، ترجمہ لگتی تھی۔ حنا جمشید کا ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں طبع زاد تحریر کا ذائقہ ہے۔ رواں، سلیس، باغ کے درمیان بہتی ہوئی آہستہ رَو ندی کی طرح! \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان بنگلا دیشی کہانیوں کا تعلق ہمارے ساتھ صرف عالمی ادب کے حوالے سے نہیں ہے۔ یہ اُس سرزمین کی کہانیاں ہیں جو کبھی ہمارے جسم کا حصہ تھی۔ اِن کہانیوں کے لکھنے والے اور اِن کہانیوں کے اندر چلنے پھرنے والے ہمارے ماں جائے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارا جسم دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ مترجم نے ان دو ٹکڑوں کو پھر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ میری رائے میں اس کی کوشش کامیاب رہی ہے۔ دنیا کو یہ دو ٹکڑے اب بھی الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جب آپ اِن کہانیوں کو پڑھیں گے تو محسوس کریں گے کہ یہ کہانیاں آپ کے اپنوں کی ہیں۔ یہ درد کتھا تقسیمِ ہند سے شروع ہوتی ہے، پھر تقسیمِ پاکستان سے ہوتی ہوئی آج کے بنگلا دیش تک پہنچتی ہے۔ ان کہانیوں میں آسام بھی ہے، جو کبھی ایک تھا، آج تین ٹکڑوں میں منقسم ہے اور اس کا چوتھا ٹکڑا بنگلا دیش میں ہے۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ انسان پر ظلم تاریخ ہی نے نہیں، جغرافیے نے بھی کیے ہیں۔ مگر یہ بات، کہانیاں، بلند آواز میں نہیں، سرگوشی میں بتاتی ہیں اور یہ حنا جمشید کا کمال ہے کہ اس نے چیخ کو سرگوشی بنا کر پیش کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد اظہارالحق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48381115302073,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69ad294193b181772955969.jpg?v=1785252279"},{"product_id":"pat-jhar-ka-tufan-پت-جھڑ-کا-طوفان","title":"PAT JHAR KA TUFAN پت جھڑ کا طوفان","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/gabriel-garcia-marquez-1\"\u003eGABRIEL GARCIA MARQUEZ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Inaam Nadeem\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 158\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1955 — زمانۂ تحریر: ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘، ۔ زبان: ہسپانوی۔ نام: لا ہوخاراسکا (La hojarasca)، مصنف: گابریئل گارسیا مارکیز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1955 — یہ ناول پہلی مرتبہ کولمبیا کے پبلشر Ediciones S.L.B. (Bogotá, Colombia) نے شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1972 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ گریگری رباسا (Gregory Rabassa) نے “Leaf Storm” کے عنوان سے کیا۔ پہلی اشاعت میں مارکیز کی چند ابتدائی کہانیاں بھی شامل تھیں، اس لیے کتاب کا عنوان “Leaf Storm and Other Stories” رکھا گیا تھا۔ رباسا ایک ممتاز امریکی مترجم تھے جو ہسپانوی اور پرتگالی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے گابریئل گارسیا مارکیز سمیت کئی لاطینی امریکی ادیبوں کی تخلیقات کو انگریزی میں منتقل کر کے عالمی قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارکیز نے ایک بار کہا تھا کہ وہ رباسا کے انگریزی تراجم کو پڑھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اصل ہسپانوی متن سے بھی بہتر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب، شاعر اور مترجم انعام ندیم نے گریگری رباسا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل مارکیز کا گمشدہ ناول “Until August” اور ان کی تمام کہانیاں بھی اُردو میں منتقل کر چکے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ مارکیز کا پہلا ناول ہے۔ تنہائی مارکیز کے نزدیک ایک بنیادی اہمیت کی حامل شے ہے۔ تنہائی انسانی وجود کا ناگزیر سفر ہے۔ تنہائی کے اس موضوع کو مارکیز نے پہلی بار اس ناول میں پیش کیا ہے۔ ناول میں مارکیز نے اپنے شہرۂ آفاق مگر خیالی قصبے ماکوندو کا بیان کیا ہے۔ ماکوندو کی ویرانی کو جس ہولناک مگر بے حد اچھوتے انداز میں اس ناول میں پیش کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بعد مارکیز نے ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘ اور ’’منحوس وقت‘‘ نام سے دو ناول اور لکھے مگر دراصل ’’تنہائی کے سو سال‘‘ وہ ناول ہے جس میں ہر اعتبار سے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بیج پنہاں ہیں۔ وہی انسان کی ازلی تنہائی اور وہی ویران قصبہ ماکوندو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں پوری شدت کے ساتھ ابھر کر آیا۔ میرے خیال میں ہر اس قاری کو جو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ پڑھ چکا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے، پہلے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے اس اعتبار سے بھی کہ یہ اس زمانے میں لکھا گیا جب مارکیز کے معاشی حالات خراب تھے۔ وہ جس ہوٹل میں آکر ٹھہرتا تھا، کبھی کبھی اس کے کمرے کا کرایہ دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ ہوٹل کے مالک کے پاس ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مسودہ بطور ضمانت رکھوا دیا کرتا تھا اور ہوٹل کا مالک اس بات سے واقف تھا کہ مارکیز کے لیے ان کاغذوں کی بہت اہمیت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارکیز کا مخصوص اسلوب یا تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری اس ناول میں بھی موجود ہے، مگر اتنی نہیں جتنی ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں نظر آتی ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں جادوئی حقیقت نگاری سے زیادہ حقیقت کا جادو نظر آتا ہے، جو اور بھی بڑی بات ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم ہمارے عہد کے نمایاں ترین اور بےحد اہم شاعر ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ناقابلِ یقین حد تک ایک اعلیٰ درجے کے مترجم بھی ہیں۔ اس ناول سے پہلے وہ مارکیز کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بالزاک کے مشہور ناول ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ اور ربی سنکربل کے ناول ’’دوزخ نامہ‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ میورئیل موفروئے کے ناول کا بھی ’’دخترِ رومی‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ فکشن اور بالخصوص عالمی فکشن پر انعام ندیم کی نظر بہت گہری ہے اور وہ فکشن کے بہترین پارکھ ہیں۔ اسی لیے ان کے ترجموں کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ کسی بھی مترجم کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متن میں پوشیدہ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے کس طرح دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد الفاظ یا جملے اور ان کی ساخت نہیں ہے، نہ ہی ثقافتی پس منظر ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد لفظوں کی مخصوص گونج، لَے، لہجہ اور ان کے حسی ارتعاشات ہیں۔ کسی بھی متن میں معنی اتنے اہم نہیں ہوتے (کہ ان تک تو ٹیڑھا میڑھا ترجمہ کر کے بھی پہنچا جاسکتا ہے)، بلکہ معنی تک پہنچنے والے راستے اہم ہوتے ہیں اور مارکیز کے یہاں تو سب سے زیادہ اہمیت ان راستوں ہی کی ہے۔ اس کے فکشن کا سارا جوہر یا رمز لفظوں کی انھیں گونج، احساس اور لَے میں پوشیدہ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں ان بظاہر ناقابلِ ترجمہ عناصر کو جس خوبی کے ساتھ انعام ندیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ترجمے کا مطلب ایک زبان ہی نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک کلچر اور ایک روایت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہے۔ گویا ایک دنیا کو دوسری دنیا میں لے جانا۔ انعام ندیم نے یہ مشکل کام بھی کر کے دکھایا ہے، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ترجمہ ہمیشہ اصل تخلیق کے برابر کے معیار کا ہونا چاہیے اور ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ جس بلند معیار کا حامل ناول ہے، انعام ندیم کا ترجمہ بھی اسی بلند معیار کا ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کے باوصف انعام ندیم نے دراصل اُردو زبان کے نئے امکانات بھی منکشف کیے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ ترجمہ ایک نئی تخلیق بھی کہا جا سکتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں انعام ندیم کو ان کے اس کارنامے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48381395566777,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aed45f9b38c1773065311.jpg?v=1785254042"},{"product_id":"sholokhov-chekhov-saltykov-choti-bari-kahaniyan-شولوخوف-چیخوف-سلتیخوف-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"SHOLOKHOV, CHEKHOV, SALTYKOV: CHOTI BARI KAHANIYAN شولوخوف، چیخوف، سلتیخوف : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/mikhail-sholokhov-1\"\u003eMIKHAIL SHOLOKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Zaki Naqvi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTag: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anton-chekhov\"\u003eANTON CHEKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 124\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذکی نقوی 1987ء میں صحرائے تھل کی ایک بستی عباس پور (کوٹ شاکر) میں پیدا ہوئے۔ وہ اُردو ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے گریجوایٹ ہیں۔ عملی زندگی کی ابتدا میں فوجی تھے، اب مدرّس ہیں۔ اُردو کہانی اور عالمی ادب ان کے دلچسپی کے مشاغل رہے ہیں۔ خود بھی کہانیاں لکھتے ہیں، ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’دیار و دشت‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جسے سال 2025ء کا آصف فرخی علم و آگہی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کے نزدیک روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو روسی ادب، عالمی ادب میں سب سے بڑا ادب ہے، اسی والہانہ شوق سے انھوں نے یہ تراجم کیے ہیں۔ شولوخوف کی ’’تقدیر‘‘ کا ترجمہ ’’تسطیر‘‘ میں شائع ہوا تو سنجیدہ قارئین نے اس کی روانی اور اسلوب کو بہت سراہا۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48386114060473,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6955035f744961767179103.jpg?v=1785286500"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-زیر-زمیں-سرگوشیاں","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN زیر زمیں سرگوشیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fyodor-dostoevsky\"\u003eFYODOR DOSTOEVSKY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Khalid Fateh Muhammad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 159\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386189426873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1785286992"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/world-classics-in-translation.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}