{"title":"World Fiction in Urdu","description":null,"products":[{"product_id":"matilda-illustrated-مٹیلڈا","title":"MATILDA (ILLUSTRATED) مٹیلڈا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e’مٹیلڈا‘‘ ایک غیرمعمولی ذہانت کی حامل بچی کی کہانی ہے جسے اپنے والدین کی جانب سے بےاعتنائی اور سکول میں اپنی ہیڈ مسٹریس مس ٹرنچ بُل کی جانب سے بےجا سختی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ اپنی مقبولیت کی بِنا پر اس کتاب کو مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا گیا ہے، جس میں اداکارہ جولی رچرڈسن، مریم مارگولیس اور کیٹ ونسلیٹ کی آڈیو ریڈنگ بھی شامل ہے۔ مشہور اداکار ڈینی ڈویٹو کی ہدایت کاری میں 1996 کی فلم Matilda پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں دو حصوں پر مشتمل بی بی سی 4 کا ریڈیو پروگرام، لندن کے ویسٹ اینڈ پر پیش کیا گیا۔ 2022 میں تھیٹر میوزیکل پر ترتیب دی گئی فلم Matilda the Musical ریلیز ہوئی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2003 میں ’’مٹیلڈا‘‘ کو بی بی سی کی جانب سے مرتب کردہ سو بہترین برطانوی ناولوں کے ایک جائزے The Big Read میں 74ویں نمبر پر رکھا کیا گیا۔ 2012 میں اسے امریکی ماہانہ سکول لائبریری جرنل کی طرف سے ترتیب کردہ جائزے میں بچوں کے بہترین ناولوں میں 30 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ٹائم میگزین نے اپنی ’’بچوں کی 100 بہترین کتابیں‘‘ نامی فہرست میں ’’مٹیلڈا‘‘کا نام دیا۔ 2012 میں برطانیہ کی رائل میل نے مٹیلڈا ورم ووڈ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ پرجاری کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب شائع ہونے کے اگلے ہی سال ’’مٹیلڈا‘‘کو 1989 کا ریڈ ہاؤس چلڈرن بک ایوارڈ دیا گیا۔ 2000 میں، اسے بلیو پیٹر بک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ ٹاپ 100 میں رولڈ ڈال کی چار کتابوں میں پہلی کتاب تھی، یہ تعداد کسی بھی دوسرے مصنف سے زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں اس کتاب کی فروخت 17 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور 2016 کے بعد سے مٹیلڈا نے فروخت میں رولڈ ڈال کی دیگر تمام کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرولڈ ڈال کو بخوبی یاد تھا کہ بچوں کی دنیا میں رہنا کیسا ہوتا ہے اور اس نے مٹیلڈا لکھتے وقت ایسے حالات کو مدنظر رکھا۔ رولڈ ڈال سے منسوب ایک قول کے مطابق زندگی کو بچوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہو گا اور اپنے اوپر بڑوں کی طرف دیکھنا ہو گا، جو ہر وقت آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی سخت گیر بڑوں پر مٹیلڈا کے کردار کی فتح اسی نظریہ پر مبنی ہے۔ مٹیلڈا نے 1988 میں چلڈرن بک ایوارڈ جیتا اور 1999 میں اسے سات سے گیارہ سال کی عمر کے 15,000 بچوں پر مشتمل ورلڈ بک ڈے سروے میں بچوں کی سب سے مقبول کتاب قرار دیا گیا۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432287908025,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a44a803505a51782884355.jpg?v=1785194581"},{"product_id":"the-giver-urdu-دی-گیور-اردو","title":"THE GIVER - URDU دی گیور - اردو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eایک زبردست اور ذہن کو جھنجوڑ دینے والا ناول۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہایت مہارت سے بُنی ہوئی کہانی، جس میں یوٹوپیائی معاشرے کا کھوکھلا پن اور ہو لناکی بتدریج ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک فکر انگیز ناول۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— کرکس رِیویوز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری ایک بار پھر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ وہ بے شمار سوالات اٹھاتی ہیں مگر جواب کم دیتی ہیں، متجسس قارئین کے لیے پرت در پرت آشکار ہوتی کہانی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری کی نثر کی سادگی اور سلاست قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— بُک لسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤر ی نے ایک خوبصورت اور فکر انگیز سائنس فکشن ناول لکھ ڈالا ہے۔ کہانی مہارت سے بُنی گئی ہے؛ اورایک اَن دیکھی بے چینی کی فضا دھیرے دھیرے کہانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور آزادی اور تحفظ کے درمیان توازن کا موضوع نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ہارن بُک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دی گیور‘‘ ایسی باتیں کرتا ہے جنھیں بار بار دہرایا نہیں جا سکتا اور مجھے امید ہے کہ بہت سے نوجوان اِن باتوں پر توجہ دیں گے۔ ایک تنبیہ کہانی کے روپ میں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— واشنگٹن پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤری (پیدائش: 20 مارچ 1937ء) ایک معروف امریکی مصنفہ ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، جو اکثر ڈسٹوپیا، یادداشت اور انسانی تعلقات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاؤری کو سب سے زیادہ ان کی ’’دی گیور‘‘ (The Giver) سیریز کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر پہلی کتاب دی گیور) 1993ء( کے لیے جو ایک کنٹرولڈ معاشرے کی کہانی ہے۔ ان کی تخلیقات کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں، جن میں دو نیوبیری میڈلز بھی شامل ہیں۔ پہلا ’’نمبر دی سٹارز‘‘ (1989ء) کو دیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں ایک تاریخی ناول ہے اور دوسرے میڈل سے ’’دی گیور‘‘ کو نوازا گیا۔ لوئس لاؤری کی تحریریں نوجوان قارئین کو نہ صرف داستان گوئی سے محظوظ کراتی ہیں، بلکہ انھیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید دور کی سب سے مؤثر اور بااثر مصنّفین میں شمار ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسماء حسین کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پاکستان سٹڈیز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد کے گورنمنٹ کالجز اور ایک امریکن یونیورسٹی میں بطور اُردو لیکچرر تدریس کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی عالمی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل کتاب ’’تین درویش‘‘، نوبیل انعا م یافتہ ادیبہ ہان کانگ کے مشہور ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’شاکاہاری‘‘ اور مشہور اسرائیلی ادیب کی مختصر کہانیوں کے تراجم ’’پائپس اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’ خانہ روشن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانوں کے تراجم اور ان کے اپنے افسانے مختلف آن لائن جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسماء حسین آج کل ڈنمارک میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48432410034361,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d0bd991dec41775287705.jpg?v=1785249865"},{"product_id":"sahar-e-bangal-bangaladeshi-adab-ki-muntakhab-kahaniyan-سحر-بنگال-بنگلہ-دیشی-ادب-کی-منتخب-کہانیاں","title":"SAHAR-E-BANGAL: BANGALADESHI ADAB KI MUNTAKHAB KAHANIYAN سحر بنگال: بنگلہ دیشی ادب کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eقوتِ تحریر بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ محمد خالد اختر کا اسلوب ایسا تھا کہ ان کی طبع زاد تحریر، ترجمہ لگتی تھی۔ حنا جمشید کا ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں طبع زاد تحریر کا ذائقہ ہے۔ رواں، سلیس، باغ کے درمیان بہتی ہوئی آہستہ رَو ندی کی طرح! \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان بنگلا دیشی کہانیوں کا تعلق ہمارے ساتھ صرف عالمی ادب کے حوالے سے نہیں ہے۔ یہ اُس سرزمین کی کہانیاں ہیں جو کبھی ہمارے جسم کا حصہ تھی۔ اِن کہانیوں کے لکھنے والے اور اِن کہانیوں کے اندر چلنے پھرنے والے ہمارے ماں جائے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارا جسم دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ مترجم نے ان دو ٹکڑوں کو پھر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ میری رائے میں اس کی کوشش کامیاب رہی ہے۔ دنیا کو یہ دو ٹکڑے اب بھی الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جب آپ اِن کہانیوں کو پڑھیں گے تو محسوس کریں گے کہ یہ کہانیاں آپ کے اپنوں کی ہیں۔ یہ درد کتھا تقسیمِ ہند سے شروع ہوتی ہے، پھر تقسیمِ پاکستان سے ہوتی ہوئی آج کے بنگلا دیش تک پہنچتی ہے۔ ان کہانیوں میں آسام بھی ہے، جو کبھی ایک تھا، آج تین ٹکڑوں میں منقسم ہے اور اس کا چوتھا ٹکڑا بنگلا دیش میں ہے۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ انسان پر ظلم تاریخ ہی نے نہیں، جغرافیے نے بھی کیے ہیں۔ مگر یہ بات، کہانیاں، بلند آواز میں نہیں، سرگوشی میں بتاتی ہیں اور یہ حنا جمشید کا کمال ہے کہ اس نے چیخ کو سرگوشی بنا کر پیش کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد اظہارالحق)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432492380345,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69ad294193b181772955969.jpg?v=1785252279"},{"product_id":"pat-jhar-ka-tufan-پت-جھڑ-کا-طوفان","title":"PAT JHAR KA TUFAN پت جھڑ کا طوفان","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e1955 — زمانۂ تحریر: ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘، ۔ زبان: ہسپانوی۔ نام: لا ہوخاراسکا (La hojarasca)، مصنف: گابریئل گارسیا مارکیز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1955 — یہ ناول پہلی مرتبہ کولمبیا کے پبلشر Ediciones S.L.B. (Bogotá, Colombia) نے شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1972 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ گریگری رباسا (Gregory Rabassa) نے “Leaf Storm” کے عنوان سے کیا۔ پہلی اشاعت میں مارکیز کی چند ابتدائی کہانیاں بھی شامل تھیں، اس لیے کتاب کا عنوان “Leaf Storm and Other Stories” رکھا گیا تھا۔ رباسا ایک ممتاز امریکی مترجم تھے جو ہسپانوی اور پرتگالی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے گابریئل گارسیا مارکیز سمیت کئی لاطینی امریکی ادیبوں کی تخلیقات کو انگریزی میں منتقل کر کے عالمی قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارکیز نے ایک بار کہا تھا کہ وہ رباسا کے انگریزی تراجم کو پڑھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اصل ہسپانوی متن سے بھی بہتر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب، شاعر اور مترجم انعام ندیم نے گریگری رباسا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل مارکیز کا گمشدہ ناول “Until August” اور ان کی تمام کہانیاں بھی اُردو میں منتقل کر چکے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ مارکیز کا پہلا ناول ہے۔ تنہائی مارکیز کے نزدیک ایک بنیادی اہمیت کی حامل شے ہے۔ تنہائی انسانی وجود کا ناگزیر سفر ہے۔ تنہائی کے اس موضوع کو مارکیز نے پہلی بار اس ناول میں پیش کیا ہے۔ ناول میں مارکیز نے اپنے شہرۂ آفاق مگر خیالی قصبے ماکوندو کا بیان کیا ہے۔ ماکوندو کی ویرانی کو جس ہولناک مگر بے حد اچھوتے انداز میں اس ناول میں پیش کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بعد مارکیز نے ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘ اور ’’منحوس وقت‘‘ نام سے دو ناول اور لکھے مگر دراصل ’’تنہائی کے سو سال‘‘ وہ ناول ہے جس میں ہر اعتبار سے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بیج پنہاں ہیں۔ وہی انسان کی ازلی تنہائی اور وہی ویران قصبہ ماکوندو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں پوری شدت کے ساتھ ابھر کر آیا۔ میرے خیال میں ہر اس قاری کو جو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ پڑھ چکا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے، پہلے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے اس اعتبار سے بھی کہ یہ اس زمانے میں لکھا گیا جب مارکیز کے معاشی حالات خراب تھے۔ وہ جس ہوٹل میں آکر ٹھہرتا تھا، کبھی کبھی اس کے کمرے کا کرایہ دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ ہوٹل کے مالک کے پاس ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مسودہ بطور ضمانت رکھوا دیا کرتا تھا اور ہوٹل کا مالک اس بات سے واقف تھا کہ مارکیز کے لیے ان کاغذوں کی بہت اہمیت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارکیز کا مخصوص اسلوب یا تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری اس ناول میں بھی موجود ہے، مگر اتنی نہیں جتنی ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں نظر آتی ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں جادوئی حقیقت نگاری سے زیادہ حقیقت کا جادو نظر آتا ہے، جو اور بھی بڑی بات ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم ہمارے عہد کے نمایاں ترین اور بےحد اہم شاعر ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ناقابلِ یقین حد تک ایک اعلیٰ درجے کے مترجم بھی ہیں۔ اس ناول سے پہلے وہ مارکیز کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بالزاک کے مشہور ناول ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ اور ربی سنکربل کے ناول ’’دوزخ نامہ‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ میورئیل موفروئے کے ناول کا بھی ’’دخترِ رومی‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ فکشن اور بالخصوص عالمی فکشن پر انعام ندیم کی نظر بہت گہری ہے اور وہ فکشن کے بہترین پارکھ ہیں۔ اسی لیے ان کے ترجموں کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ کسی بھی مترجم کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متن میں پوشیدہ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے کس طرح دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد الفاظ یا جملے اور ان کی ساخت نہیں ہے، نہ ہی ثقافتی پس منظر ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد لفظوں کی مخصوص گونج، لَے، لہجہ اور ان کے حسی ارتعاشات ہیں۔ کسی بھی متن میں معنی اتنے اہم نہیں ہوتے (کہ ان تک تو ٹیڑھا میڑھا ترجمہ کر کے بھی پہنچا جاسکتا ہے)، بلکہ معنی تک پہنچنے والے راستے اہم ہوتے ہیں اور مارکیز کے یہاں تو سب سے زیادہ اہمیت ان راستوں ہی کی ہے۔ اس کے فکشن کا سارا جوہر یا رمز لفظوں کی انھیں گونج، احساس اور لَے میں پوشیدہ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں ان بظاہر ناقابلِ ترجمہ عناصر کو جس خوبی کے ساتھ انعام ندیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ترجمے کا مطلب ایک زبان ہی نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک کلچر اور ایک روایت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہے۔ گویا ایک دنیا کو دوسری دنیا میں لے جانا۔ انعام ندیم نے یہ مشکل کام بھی کر کے دکھایا ہے، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ترجمہ ہمیشہ اصل تخلیق کے برابر کے معیار کا ہونا چاہیے اور ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ جس بلند معیار کا حامل ناول ہے، انعام ندیم کا ترجمہ بھی اسی بلند معیار کا ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کے باوصف انعام ندیم نے دراصل اُردو زبان کے نئے امکانات بھی منکشف کیے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ ترجمہ ایک نئی تخلیق بھی کہا جا سکتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں انعام ندیم کو ان کے اس کارنامے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432874291385,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aed45f9b38c1773065311.jpg?v=1785254042"},{"product_id":"sholokhov-chekhov-saltykov-choti-bari-kahaniyan-شولوخوف-چیخوف-سلتیخوف-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"SHOLOKHOV, CHEKHOV, SALTYKOV: CHOTI BARI KAHANIYAN شولوخوف، چیخوف، سلتیخوف : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eذکی نقوی 1987ء میں صحرائے تھل کی ایک بستی عباس پور (کوٹ شاکر) میں پیدا ہوئے۔ وہ اُردو ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے گریجوایٹ ہیں۔ عملی زندگی کی ابتدا میں فوجی تھے، اب مدرّس ہیں۔ اُردو کہانی اور عالمی ادب ان کے دلچسپی کے مشاغل رہے ہیں۔ خود بھی کہانیاں لکھتے ہیں، ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’دیار و دشت‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جسے سال 2025ء کا آصف فرخی علم و آگہی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کے نزدیک روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو روسی ادب، عالمی ادب میں سب سے بڑا ادب ہے، اسی والہانہ شوق سے انھوں نے یہ تراجم کیے ہیں۔ شولوخوف کی ’’تقدیر‘‘ کا ترجمہ ’’تسطیر‘‘ میں شائع ہوا تو سنجیدہ قارئین نے اس کی روانی اور اسلوب کو بہت سراہا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48386114060473,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6955035f744961767179103.jpg?v=1785286500"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-زیر-زمیں-سرگوشیاں","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN زیر زمیں سرگوشیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e1864ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386189426873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1785286992"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-1-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-1","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 1) سب رنگ کہانیاں (والیم 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eزیر نظر کتاب سب رنگ میں شائع ہونے والی غیر ملکی کہانیوں کی پہلی جلد ہے اور بھی جلدیں زیر ترتیب ہیں، سو احوالِ درون و زبوں کی گُل افشانی کے مواقع آتے رہیں گے۔ عام ایک شکوہ تھا کہ پرانے شمارے آسانی سے نہیں ملتے اور فرمایش تھی، کیوں نہ سب رنگ کی تحریریں کتابی صورت میں شائع کردی جائیں۔ طے یہ ہوا کہ پہلے مرحلے میں سمندر پار کی کہانیوں کو ترجیح دی جائے۔ اِن کہانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کئی ذرائع سے ان کا حصول ممکن ہو پاتا تھا۔ اولاً، اِدھراُدھر، ملک بھر سے یا سب رنگ کے چند خاص ترجمہ نگاروں کے ذریعے۔ دوسرے، عالمی افسانوی ادب پر گہری نظر رکھنے والے احباب اور قارئین کے توسّط سے۔ ہماری درخواست پر یہ صاحبان اپنی پسندیدہ غیرملکی کہانیوں کی نشان دہی میں ہماری معاونت کرتے تھے۔ تیسرے، کہانیوں کی تلاش کے لیے باقاعدہ مقرّر و مامور رفیقوں کی کاوشوں سے۔ اِن حضرات کا کام اُردو میں شائع ہونے والی ملکی وغیر ملکی کہانیوں کے بھولے بسرے مجموعے اور رسالے کھنگالتے رہنا تھا..... اور یہ سراغ رساں یا کھوجی ناکام نہیں ہوتے تھے۔ چوتھا ذریعہ خاصے مقابلے کا اور بڑا دل چسپ تھا۔ بیرون ملک مقیم سب رنگ کے شیدائی یورپ اور امریکا سے چھپنے والی کہانیوں کے تازہ ترین مجموعوں اور رسالوں کی تاک میں رہتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ اِدھر کوئی نئی کتاب یا رسالہ بازار میں وارد ہو، اُدھر دیگر ڈائجسٹوں کے ہاتھ لگنے سے پہلے سب رنگ کو رسا ہو جائے۔ اس آخری ذریعے سے بھی نادرکہانیاں مل جایا کرتی تھیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eانھی غیر ملکی کہانیوں کا یہ مجموعہ آپ کی نذر ہے۔ یہ انتخاب در انتخاب ہے۔ دیکھیے کیسے کیسے موضوعات پر مغرب میں یہ دل نشیں، اثر آفریں، زندگی آمیز اور زندگی آموز کہانیاں تخلیق کی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395393859769,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68d664e45bb121758880996.jpg?v=1785366939"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-2-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-2","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 2) سب رنگ کہانیاں (والیم 2)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eسب رنگ میں شائع ہونے والی عالمی کہانیوں کی یہ دوسری جلد ہے۔ ناشرین کا کہنا ہے، وہ ایک مدّت سے مختلف موضوعات پر کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ٹھیک مہینے بھر بعد کسی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت لازم ہو گئی ہو۔ بک کارنر کے امر شاہد اور گگن شاہد کے لیے یہ فخر و انبساط کی بات ہے تو حسن رضا گوندل اور مجھ کم ترین کے لیے بھی۔ جہاں جہاں پہلی جلد گئی، سبھی نے اس کے کاغذ، طباعت، مجموعی خوش نمائی اور متن کی دل آویزی و دل افروزی پر تحسینی کلمات سے نوازا ہے۔ متعدد کالم اور مضامین لکھے گئے اور برقی میڈیا پر بے تابی کا اظہار کیا گیا کہ دوسری جلد کب شائع ہو گی۔ یہ دوسری جلد انھی کہانیوں پر مشتمل ہے جو سب رنگ میں شائع ہوئی ہیں۔ وہی سب رنگ، خوب تر کی جستجو جس کا مشن تھی، جو اسی پر قائم رہا اور اسی پر تمام ہو گیا۔ پہلی جلد کے سلسلے میں لکھے گئے مضامین اور کالموں میں مجھ بے مایہ کے لیے بہت کچھ کہا گیا ہے۔ بار بار آئینہ دیکھنا پڑا اور شرمندہ ہوتا رہا۔ جانے کس کا مصرع ہے... ع میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395395563705,"sku":null,"price":0.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30fcca4ae51738739660.jpg?v=1785367424"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-2-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-2-copy","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 3) سب رنگ کہانیاں (والیم 3)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395395825849,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30fadbd9881738739629.jpg?v=1785367819"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-4-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-4-copy","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 4) سب رنگ کہانیاں (والیم 4)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eسب رنگ ڈائجسٹ داستان گوئی کا ایک پورا دَور تھا۔ مگر دراصل یہ شکیل عادل زادہ ہی تھے جو سب رنگ کے بھیس میں الف لیلہ و لیلہ کی شہرزاد کی طرح داستان در داستان قاری کو متحیر و مسحور کرتے چلے گئے۔ شکیل عادل زادہ نے ہزار راتیں مکمل کرکے اپنے قاری کو جہاں چھوڑا تھا، وہ قاری آج بھی اسی جگہ مبہوت بیٹھا ہے!سب رنگ میں عالمی ادب کی کہانیوں کے معیاری انتخاب کو اُردو کے رنگ میں ڈھال کر قاری کے ادبی ذوق کی جس طرح تربیت کی گئی، وہ تو قابلِ تعریف ہے ہی، لیکن شکیل عادل زادہ نے ان کہانیوں کے تراجم اور اپنے لکھے اداریہ کے ذریعے اُردو زبان کے حُسن و بیان سے اُس قاری کو بھی متعارف کروایا جو اُردو زبان سے صرف بولنے کی حد تک آگاہ تھا۔ سب رنگ ڈائجسٹ کے ہر شمارے میں شکیل عادل زادہ کے لکھے اداریے خود ایک ادبی شاہکار ہیں، جو علیحدہ سے مجموعے کی صورت میں سامنے آنے چاہییں اور سب رنگ میں شہرزاد کی سی قصہ گوئی کے وہ سحر انگیز اور محیرالعقول سلسلہ وار قصے جن کے ہر اختتام سے ایک نیا قصہ پھوٹ نکلتا تھا، داستانِ الف لیلہ و لیلہ کا ایک جدید رنگ و روپ تھا گویا، جس نے قاری کو سب رنگ کا عاشق اور سب رنگ میں رنگے ’’انکا‘‘ جیسے کرداروں کو معشوقہ بنا دیا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ سب رنگ کے صفحات میں پوشیدہ معشوق کا نام دراصل شکیل عادل زادہ ہی ہے اور ان کا قاری آج بھی ان کا عاشق ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ نے جب سب رنگ ڈائجسٹ کی ابتدا کی تو اُس زمانے کے بڑے سے بڑے ادبی پرچوں نے اسے نہ تو اپنا حریف تصور کیا نہ ہی اسے اہمیت دی۔ اُن کی نظر میں ڈائجسٹ میں چھپنے والا نہ تو ادب ہوتا ہے نہ اس کی زندگی ہوتی ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا شکیل عادل زادہ ادب میں کن تصورات کے ساتھ پلا بڑھا ہے۔ پھر سب نے دیکھا سب رنگ ڈائجسٹ نے دُنیا کی تاریخ میں ادبی پرچے کی حیثیت سے حیرت انگیز طور پر اپنی اشاعت کا نیا ریکارڈ قائم کیا اور لائبریریوں میں اونگھتی ہوئی کہانیوں کو ہر خاص و عام کی زندگی میں شامل کر لیا۔ مزید بڑا کام حسن رضا گوندل نے کیا کہ اس عظیم سرمائے کو مستقل حیثیت میں جمالیاتی ذوق کے ساتھ محفوظ کر لیا ہے۔ ایک طرح سے یہ شکیل عادل زادہ کو شاندار انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرنا بھی ہے اور ہر طرح کے قاری کی تربیت کا وسیلہ پیدا کرنا بھی۔ حسن رضا گوندل نے یہ کام عشق سمجھ کر کیا ہے۔ یہ کام محنت اور کاوش سے انجام نہیں ہوا کرتے، یہ کام صرف عشق سے مکمل ہوا کرتے ہیں۔ شکیل عادل زادہ اور حسن رضا گوندل نے اُردو زبان کے آنگن کو اور وسیع کر دیا ہے۔ جنھوں نے تراجم کیے ہیں وہ سب بھی انسانی تجربوں کے شیدائی تھے۔ جنھوں نے بظاہر اکہری زندگی کو اتنی بےشمار تہوں اور سطحوں پر متعارف کرا دیا ہے۔ یہ کہانیاں صرف لذتِ مطالعہ تک محدود نہیں رہتیں، یہ کہانیاں انکشاف کرتی ہیں اور یہی انکشاف علم بھی ہے اور انسان کا باطن بھی ہے۔ میں شکیل عادل زادہ کو اُستاد کی جگہ درجہ دیتا ہوں۔ کئی معنوں میں وہ جگت استاد ہیں تو دوسری طرف حسن رضا گوندل گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا طالب علم رہا ہے۔ تو استاد اور شاگرد دونوں پر میں بجا طور پر فخر کر سکتا ہوں۔ کہانی کی شاخیں ہمیشہ ہری رہتی ہیں اور یہ دونوں شخصیتیں بھی ہری بھری رہیں گی۔ ہمیشہ....!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغرندیم سیّد\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395396382905,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30f403a17d1738739520.jpg?v=1785368078"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-5-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-5-copy-2","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 5) سب رنگ کہانیاں (والیم 5)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eحسن رضا ’’سب رنگ‘‘ والے ____سب جانتے ہیں کہ رب العالمین مسبب الاسباب ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا شعور ہے کہ اللہ ہی ’’مسبب الکتاب‘‘ بھی ہے۔ خوب صورت خیال بھی رزق ہی کا حصہ ہے جو صرف خوب صورت لوگوں کو ہی عطا ہوتا ہے۔ عمدہ، انوکھے خیال کا نزول کسی سائنس دان پر ہو یا صوفی پر، مصور پر ہو یا کسی قلم کار پر.... خالق و مالک و رازق کی خاص عطا کا درجہ رکھتا ہے اور خاص لوگوں کو ہی عطا ہوتا ہے۔ گوندلوں کا قابلِ رشک فرزند، میرا تھوڑا سا ہم نام حسن رضا گوندل بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے۔ یہ وہ مجنوں ہے جسے لیلیٰ ملے نہ ملے، صحرا میں جنت کاشت کرتا رہے گا۔ یہ وہ خفیہ کہانی زادہ ہے جو قسط وار، پہر بہ پہر طلوع ہو رہا ہے، جس کا آسمان شکیل عادل زادہ ہے جس نے اس معاشرے میں کہانی کو نیا جنم دیا۔ سورج اور چاند کی مجبوری ہے کہ وہ طلوع و غروب کے قیدی ہیں۔ کہانی پرست ہمیشہ شکیل عادل زادہ اور حسن رضا گوندل کے ممنون رہیں گے کہ کبھی کبھی سائے جسموں سے بھی لمبے ہوجاتے ہیں۔ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو لوگ معشوق شکیل عادل زادہ کو تو شاید بھول جائیں، عاشق حسن رضا کو کبھی نہ بھلا پائیں گے لیکن شاید میں کچھ بہک گیا ہوں کیونکہ لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال کو لوگ تو جُدا کر سکتے ہیں.... وقت نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسن نثار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنوری 1970ء میں اردو ادب کے افق پر ’’سب رنگ‘‘ کا پرچہ ہلال کے مانند نمودار ہوا تھا۔ نوّے کی دہائی نے اسے ماہِ کامل بنا دیا تھا۔ پھر یہ ہرسُو روشنیاں بکھیرتا ماہتاب کہانیوں کے دیوانوں کو اپنی کِرنوں میں نہلاتا گھٹتے گھٹتے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ڈوب گیا۔ اس کے چاہنے والے تو سکتے کی سی کیفیت میں تھے کہ وہ تو ان کی شہرزاد تھی جو اپنے شہر یاروں کے لیے ہر ماہ دنیا کے، انجانے دیسوں، اجنبی ملکوں، کہیں دُورافتادہ سمندروں کے سینوں پر اُبھرے قطعوں اور زمینی و فلکی دُنیاؤں سے اُن کے لیے رنگارنگ ثقافتوں، مختلف النوع تہذیبوں، تمدنوں اور کائناتی اسرار کی تحیر میں ڈوبی ہوئی عجیب و غریب سی کہانیاں لے کر آتی۔ اس کے عاشقان اس کا انتظار کِسی دلنواز محبوبہ کی طرح کرتے۔ اس کی آمد کے تسلسل تک تو معاملہ ٹھیک تھا مگر جب رخنے پڑنے لگے تو اضطراب پیدا ہو گیا۔ کیوں؟ کا سوال عاشقوں کے ہونٹوں پر مچلتا شکیل عادل زادہ تک بھی یقیناً پہنچتا۔ پھر کبھی کبھی آمد ہونے لگی۔ ’’سب رنگ‘‘ آ گیا ہے کی ندائے دل نواز سنتے ہی حصول کے لیے طوفان کھڑا ہو جاتا۔ پھر اُمید کا یہ شوروغوغا بھی دم توڑ گیا اور ’’سب رنگ‘‘ ایک الم ناک یاد کی صورت اس کے عشّاق کے دلوں میں زندہ رہا۔ ’’سب رنگ‘‘ کہانیوں کی کتابی صورت میں اشاعت نے دیرینہ محبت کی اس شمع کو پھر روشن کردیا ہے جو عشاق کے دلوں میں فروزاں ہے۔ حسن رضا گوندل نے اپنے اس اثاثے کی جس محبت، محنت اور لگن سے ترتیب و تدوین کی ہے دنیائے ادب کے قارئین ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ امر شاہد اور گگن شاہدکے بھی شکر گزار ہیں کہ اُن کا محبوب سجا سنورا ایک نئی سج دھج سے انھیں پھر ملا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395400609977,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30ed6b1c531738739414.jpg?v=1785368309"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-6-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-6-copy","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 6) سب رنگ کہانیاں (والیم 6)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eاُردو صحافت اور ادب کی تاریخ میں شکیل عادل زادہ کا نقش دائمی ہے۔ آسانی سے زمانہ جسے مٹا نہ سکے گا۔ سہولت سے گردشِ لیل و نہار جسے بھلا نہ سکے گی۔ شکیل عادل زادہ نے داستان آرائی کے فن سے محبت کی، اُردو زبان سے اور حُسنِ بیان سے۔ ظاہر اور باطن میں ایک مہذّب آدمی ہی مستقل یہ قرینہ اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی وارفتگی اور والہانہ پن کے ساتھ کہ ذاتی زندگی کی ہر رونق اور روئیدگی ان کی نذر کر دی۔ عشّاق کے بغیر اجتماعی حیات میں جمال کی کوئی جہت پروان نہیں چڑھتی۔ کوئی تہذیب اور کوئی زبان بالیدگی نہیں پا سکتی۔ اُردو زبان کی تاریخ بھی اہلِ ایثار کی ریاضت سے ثمر بار ہے، اس لیے کہ یہ مسلم برِّصغیر کی بڑی ہی اہم متاع ہے۔ اَن گنت پھولوں کو پرونے والا دھاگا۔ اہلِ دل کے اس قافلے میں شکیل عادل زادہ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ مجھ سے عام قاری نہیں، نقّاد اور ہم عصر نہیں، یہ فیصلے تاریخ صادر کرتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eمثالیت پسند شکیل عادل زادہ نے کہانی سے عشق پالا تودنیا کا کونا کونا چھان مارا۔ کتنے ہی کرداروں اور کردار سازوں کا کھوج لگایا۔ ہر کہیں سے ہیرے ڈھونڈے۔ پھر اس طرح چمکایا اور تراشا کہ ان میں ابدیت لَو دینے لگی۔ کہانی صرف کہانی نہیں ہوتی۔ نوع در نوع بکھری یہ انسانی فطرت کے تنوّع اور جبلّتوں کی باہمی کشمکش میں سے پھوٹتی ہے۔ پایاب پانیوں میں موتیوں کی تلاش میں مصنف مدّ و جزر میں ڈوبتا ہے، کبھی اُبھرتا ہے اور کبھی خود سے سوال کرتاہے: دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک۔ کم لکھنے والے اس راز سے آشنا ہوتے ہیں کہ مصرعے کی طرح جملے کا ایک وزن ہوتا ہے۔ الفاظ کے خاندان، رشتے ناتے اور قبیلے ہوا کرتے ہیں۔ آہنگ پیدا کرنے کے لیے ساز ہی نہیں، سوز بھی درکار ہوتا ہے۔ شکیل عادل زادہ یہ بھید جانتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگھنیرے بادل... سیلی بارشیں...برفیلے راستے... خاموش گلیاں... اندھے موڑ... اونچی حویلیاں... پُرانے دروازے... لمبی چِق ڈلی کھڑکیاں... دھوپ میں نہائے روشن دان... طویل ٹھنڈے برآمدے... اندھیری غلام گردشیں... اجنبی مکین... نازک لب... پری چہرے... ہانپتے تانگے... بھاگتی مال گاڑیاں... دُھند اور کہرے میں ڈوبے ویران ریل اسٹیشن... حیران سنّاٹے... اونگھتی روشنیاں... نادان دوست، دانا دشمن... سیاہ دل حبیب، سفید رُو رقیب...اور ایسے ہی جانے کتنے حیرت کدے، کتنے طلسم اس ایک ’’سب رنگ‘‘ کے صفحوں میں چھپے ملتے تھے۔ اور یہ سارا سحر استادِ محترم شکیل عادل زادہ صاحب کے منتروں کا طاری کردہ تھا کہ جیسے وہ بارشیں سب رنگ کے صفحوں پر نہیں میرے دل کے اندر کہیں برستی تھیں۔ وہی ویرانے اور سنّاٹے میری روح کو عطا ہوئے اور وہ برفیلے موسم میں نے اپنی جان پر جھیلے ہیں۔ میری آخری گاڑی ایسے ہی کسی دُھند میں ڈوبے ویران ریلوے اسٹیشن سے چھوٹی تھی اور میرا دل انھی حویلیوں کی کسی غلام گردش میں آج بھی کھویا ہوا ہے۔ ’’سب رنگ‘‘ کا لکھاری صرف کہانی بھلا کب لکھتا تھا، وہ تو میری آپ بیتی سناتا تھا، جو رفتہ رفتہ جگ بیتی میں ڈھل جاتی تھی۔ گویا صفحوں پر کئی خواب سے بکھرے ہوں... اور اب حسن رضا گوندل نے انھی بکھرے خوابوں کو پھر سے ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی صورت یکجا کرنے کا سہرا اپنے سر پر سجایا ہے، جس کے لیے وہ یقینی طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ حسن رضا جیسے خواب گر اب زمانے میں کم ہی ملتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہاشم ندیم\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395417452729,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30ea3f410d1738739363.jpg?v=1785368644"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-7-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-7-copy","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 7) سب رنگ کہانیاں (والیم 7)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003e’سب رنگ کہانياں‘‘ تراجم کے مشہورِ عالم سلسلے کی کڑی ہے جو فکشن کے دل داده قارئين کے دل و دماغ پر ايک انوکھا نقش جماچکی ہے اور جس کی کاميابی کا سہرا ہمارے دوست شکيل عادل زاده کے سر سجتا ہے۔ اِس نے صرف فکشن کے قاری ہی کو اپنا گرويده نہيں بنايا ہے بلکہ ہمارے افسانہ نگاروں کو بھی بيرون ملکی افسانوں کی وسعت، گہرائی اور تازگی کی فکر انگيزی سے روشناس کيا ہے اور ايسا لگتا ہے جيسے دنيا سمٹ اور سُکڑ کر ايک ايسے شہر ميں تبديل ہو چکی ہے، سارے کے سارے ممالک جس کے اندر محلّوں کی شکل ميں آباد ہو گئے ہيں۔ ادب اپنے ملک کی تہذيب و تمدن کا آئينہ دار ہوتا ہے جبکہ يہاں ساری کی ساری عالمی تہذيبيں بغل گير بلکہ گتھم گتھا ہوگئی ہيں۔ ملکوں کی ساری دورياں مٹ گئی ہيں اور افسانہ نگاری کا فن ايک نئے پن سے لُطف اندوز ہورہا ہے اور جس نے افسانے کے ساتھ ساتھ ديگر فنونِ لطيفہ کو بھی اس طرح متاثر کيا ہے کہ ايک فرحت آميز کشادگی کا احساس چاروں طرف پھيل گيا ہے۔ تراجم اس قدر سليس اور شگفتہ ہيں کہ تراجم لگتے ہی نہيں۔ شکيل عادل زاده بجاطور پر اس تاريخی اور انقلاب آفريں کارنامے پر مبارک باد کے مستحق ہيں اور حسن رضا گوندل کے لیے بھی نعرۂ تحسین کہ وہ اس خزینے کو کتابی صورت میں محفوظ کر رہے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eظفر اقبال\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقیامِ پاکستان کے پہلے بیس برس تک عالمی ادب کے اُردو تراجم کا کام ہوا تو مگر کم بہت ہی کم۔ البتہ ستر کی دہائی کے آغاز میں سب رنگ کے ذریعے ہر ماہ غیر ملکی افسانوں کے تراجم کے ایک شاندار سلسلے کا آغاز ہوا یعنی ...^ میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا۔ اس پس منظر کی موجودگی میں گزشتہ نصف صدی کے دوران میں لکھے گئے اُردو افسانے کی صورت گری میں ’سب رنگ‘ اور اس جیسے چند ایک اور جرائد کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ’سب رنگ‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اُردو پڑھنے والوں کے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ اُردو لکھنے والوں کی غیر ملکی لٹریچر تک رسائی کا سامان بھی بہم کرتا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُردو جرائد کے مدیران میں سے کسی کو اس طرح کا اعزاز کم ہی ملا ہو گا۔ شکیل عادل زادہ اس بنا پر یقیناً خوش قسمت ہیں، لیکن ان کی یہ خوش قسمتی بھی کسی اعتبار سے کم نہیں کہ انھیں سب رنگ کے عشاق میں حسن رضا گوندل کی شکل میں ایک دیوانے کی ہمرہی میسّر آئی ہے۔ حسن رضا گوندل، جس نے ادب و آگہی کے اس چراغ کو ماضی کی گپھاؤں میں گُم ہونے سے بچانے کا بیڑا اٹھایا، جسے شکیل عادل زادہ نے برسوں اپنے خونِ جگر سے فروزاں کیے رکھا۔ یہ وہ کام تھا جسے سود و زیاں سے ماورا کوئی دیوانہ ہی انجام دے سکتا تھا۔ صلہ و ستائش سے بے نیاز حسن رضا کی طرح کا کوئی شخص، جس کی دیوانگی میں ہوشیاری اور سرمستی کے وہ تمام اجزا شامل ہوں جو ایسے جاں گسل کاموں کے آغاز کا حوصلہ اور تکمیل کی لگن کا سبب بنتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشعیب بن عزیز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ہمیشہ یہ بات کرتی رہی ہوں کہ بچّہ جب چھوٹا ہو تو والدین اسے رات کو کہانی سنائیں۔ جب پڑھنے کے قابل ہو تو کہانی کی کتاب ہاتھ میں تھما دیں۔ پھر کتاب اس کے ہاتھ سے نہیں چھوٹے گی، نہ یہ کہانیاں پڑھنے کی عادت ختم ہو گی۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے، سفر میں وقت گزارنے کے لیے مجھے کہانی کا ساتھ چاہیے۔ سو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُردو اور انگریزی میں جتنی کہانیاں میسّر آئیں، پڑھ ڈالیں۔ دنیا کی بہترین کہانیوں کے انگریزی تراجم کی پینگوئن سیریز تلاش کرتی پھرتی تھی۔ اس مشقّت سے مجھے سب رنگ نے بچایا، جب اس میں دنیا کی بہترین کہانیوں کا انتخاب شائع ہونے لگا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب رنگ کا انتظار اس محبوب کی طرح کیا جاتا جو تحائف سے لدا پھندا آتا۔ اس میں چھپنے والی ہر کہانی خواہ ہماری اپنی زبان کی ہو یا انگریزی سے ترجمہ شدہ، نادر و نایاب ہوتی۔ سب رنگ میں تعطّل آتا تو اس کی کمی محسوس ہوتی، پھر یہ ڈائجسٹ جس نے ڈائجسٹوں کا امیج بھی بلند کیا تھا اور اعلیٰ ادب کو عام لوگوں کے گھروں میں بھی داخل کر دیا تھا، بند ہو گیا۔ ہماری نسل تو اس سے مانوس رہی، بعد کی نسل اور اس میں فاصلہ اجنبیت کی سرحد کو نہ چُھو لے، اس سے پہلے حسن رضا گوندل نے بڑا کام کر ڈالا۔ سب رنگ کے تمام شمارے نہ صرف ڈیجیٹلائز کر کے محفوظ کیے، بلکہ کہانیوں کی کتابی شکل میں اشاعت کے لیے ان کے انتخاب اور ترتیب و تالیف جیسی کٹھن مشق بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ پھر یہ بک کارنر جیسے معیاری اشاعتی ادارے سے پے در پے چھے جلدوں میں شائع ہوئیں۔ شکیل عادل زادہ کی نفاست طبع کا ساتھ گگن اور امر شاہد جیسے پبلشر ہی دے سکتے تھے۔ حسن رضا گوندل نے انگریزی کہانیوں کے تراجم کی سات جلدوں کا انتخاب مکمل کر لیا ہے مگر پائے تمنّا ابھی دشتِ امکاں میں ہے۔ ان کا ارادہ دیگر کہانیوں کے انتخاب کے لیے مستحکم نظر آرہا ہے۔ ان کی پُر خلوص محنت کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ ہمیں سب رنگ میں شائع ہونے والی دیگر زبانوں کی کہانیوں کے ترجمے اور اُردو کہانیاں بھی کتابی شکل میں ملتی رہیں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر فاطمہ حسن\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395429347513,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30e8f0bbd81738739343.jpg?v=1785368826"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-8-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-8-copy-2","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 8) سب رنگ کہانیاں (والیم 8)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan\u003e’کہانیوں کے ایک کھوجی کو برمنگھم میں خیال آیا کہ 1970ء سے 1990ء کی دہائی تک شکیل عادل زادہ کی اُردو نژاد انگلیوں سے سلجھنے والی کہانیوں کی زلفیں اب اکیسویں صدی کی آغوش میں آنکھ کھولنے والے لڑکوں لڑکیوں کے شانوں پر بھی بکھرنی چاہییں۔ کھوجی تو کھوج لگا ہی لیتے ہیں۔ عشق سچا ہو تو دنیا بھی نئی مل جاتی ہے۔ یہ کہانیاں بہت نخرے والی نکلیں، پہلے تو شکیل عادل زادہ کے ناز سہے، پھر حسن رضا گوندل ان زلفوں کے اسیر ہو گئے۔ کراچی اور برمنگھم کے درمیان کتنے دشت، کتنے جنگل، کتنے نگر آباد ہیں۔ دریا، ندیاں، شاہراہیں، ان سب پر کہانیاں اپنے بال بکھرائے گھومتی رہتی ہیں۔ پیرہن بھی خود چنتی ہیں۔ آنچل کے رنگوں پر کوئی سمجھوتا نہیں، بے ذوقوں کو قریب نہیں پھٹکنے دیتیں۔ دلہنیں تیار ہو رہی ہیں۔ آرائشِ خمِ کاکل کہانیوں کی، اندیشہ ہائے دُور دراز مرتّب کے، تجوری جہلم والوں کی۔ اُردو کی فصلیں لہلہا رہی ہیں، پک رہی ہیں۔ دنیا بھر میں کہانیوں کے عشاق جھولیاں بھر بھر لے کر جا رہے ہیں۔ سب رنگ کہانیاں، تین صدیوں کی بلندئ خیال، کئی براعظموں کا ذہنی تنوع، اجنبی زبانوں کی ہم آہنگی، لوح و قلم، کی پیڈ، برقی اختلاط، بے تار رابطوں کی ایک مجسم شکل ہیں۔ نئی نسل جو حرف خوانی سے زیادہ حرف بینی میں الجھ گئی تھی، وہ پنجاب کے دو آبوں میں ہو، سندھ کے ریگ زاروں میں، بلوچستان کے دشت و صحرا میں، کے پی کے کی وادیوں میں یا سات سمندرپار اُردو کی نئی بستیوں میں، حرفِ مطبوعہ اس نسل کو پھر کتاب کے لمس کا اسیر بنا رہا ہے۔\u003cbr\u003e(محمود شام)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eہم جیسے لوگوں کی اُردو ادب یا اُردو تحریروں سے کبھی واقفیت ایسی نہ رہی جیسی ہونی چاہیے تھی۔ اب آ کے کچھ چیزیں پتا چل رہی ہیں اور اسی ضمن میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک سب رنگ کی دنیا ہوا کرتی تھی اور اس کے نگہبان شکیل عادل زادہ ہوتے تھے۔ دیس دیس کی کہانیوں کو اکٹھا کرنا اور پھر اُن پر ترجمے کی چھاپ ایسی لگانی کہ پڑھنے والوں کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہو گیا جو بے تابی سے ہر شمارے کا انتظار کرتا تھا۔ اسے انگریزی میں labour of love کہتے ہیں، یہ عشق کی مزدوری تھی جو اَب بھی حسن رضا گوندل کی کاوشوں سے جاری ہے۔ کیا حیرانی کی بات ہے کہ بیٹھے برمنگھم میں ہیں اور وہاں یہ معرکہ تنہائی میں جاری کیے ہوئے ہیں۔ وہیں سے سب رنگ کی کہانیوں کو یکجا کرنے کا کٹھن کام اس دل جمعی اور خوب صورتی سے کر رہے ہیں کہ ایک خزانہ جو گم ہو سکتا تھا اُسے کتابی صورت میں چھاپ کر آئندہ وقتوں کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ جہلم کے شاہد برادران کو بھی داد دینی پڑتی ہے کہ ہر ایڈیشن جو نکل رہا ہے ایک شاہکار معلوم ہوتا ہے۔ اُردو زبان کے لیے یہ بہت بڑی خدمت ہے۔\u003cbr\u003e(ایاز امیر)\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395692212409,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67a30e18342441738739224.jpg?v=1785369011"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-9-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-9-copy","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 9) سب رنگ کہانیاں (والیم 9)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eبہت سے لوگ مجھ سے اکثر یہ سوال کرتے تھے کہ کیا سب رنگ دوبارہ آ سکتا ہے؟ میرا جواب یہی ہوتا کہ وہ وقت اب گزر چکا، سب رنگ کا اپنا وقت اور دَور تھا۔ سب رنگ کے احیا کی کئی بار کوششیں بھی ہوئیں لیکن بارآور نہ ہو سکیں۔ بہرحال سب رنگ تو پھر شروع نہ ہوا مگر ’’سب رنگ کہانیاں‘‘ کی اشاعت سے ایک بہت بڑا کام بلکہ کارنامہ ہوا ہے۔ اور یہ کارنامہ سب رنگ اور شکیل عادل زادہ کے عاشقِ صادق حسن رضا گوندل نے تنِ تنہا کیا ہے۔ سب رنگ کے وہ پرچے جو زمانے کی دست برد کا شکار ہو کر کب کے معدوم ہو چکے تھے، شکیل عادل زادہ کا وہ کام جس کا ایک زمانہ مدّاح ہے، وقت کی گرد میں کھو جانے کو تھا کہ برادرم حسن رضا گوندل نے اسے کتابی صورت میں پیش کردیا۔ حیرت کیجیے کہ انگلستان میں بیٹھ کر وہ اتنے انہماک، دل جمعی اور تسلسل سے یہ کام کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک دو دن کا کام نہیں تھا۔ اُنھوں نے جو مسلسل محنت کی ہے اس پر وہ خلوصِ دل سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح سب رنگ کی وجہ سے شکیل عادل زادہ امر ہو گئے ہیں، اسی طرح سب رنگ کہانیاں کی وجہ سے حسن رضا گوندل امر ہو گئے ہیں، زندۂ جاوید۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e(انور شعور)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکہانی کہنا اور کہانی سننا ہر عہد کے مزاج کا حصّہ ہے۔ کہانی چاہے کہیں بھی لکھی گئی، نسلِ انسانی کا اجتماعی ورثہ ہے۔ کہانیاں ایک ایسا روزن ہے جس کے ذریعے ہم گھر بیٹھے ساری دنیا دیکھ سکتے ہیں۔ رنگ، نسل، عقیدہ مختلف ہو سکتا ہے لیکن دل کی کیفیات ایک جیسی ہیں۔ ایثار، قربانی، محبّت، وفا۔ مکر، فریب، لالچ، حسد۔ بہادری، جاں فشانی، جہدِ مسلسل اور جستجو۔ شکیل عادل زادہ کی بدولت ہمیں دنیا بھر کے فکشن تک رسائی ہوئی۔ ہر عہد کی کہانی، ہر انسان کی کہانی۔ اور پھر کیا ہوا کہ یہ تمام کہانیاں اور ان کے بہت سے کردار میری شخصیت کا حصّہ بن گئے۔ میرے مزاج میں ڈھل گئے۔ غالب نے کہا تھا، ’’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘‘۔ تعمیر میں مضمر یہ خرابی کہاں سے آتی ہے؟ میں نے سب رنگ میں لاڈلا، کورا اور استاد بٹھل کو ہی نہیں پایا، چیخوف، موپساں، ایڈگر ایلن پو کے تراشیدہ پیکر بھی چنے ہیں۔ گئی عمر میں مَیں ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، سیکھتا، گرتا اور پھر اٹھ کے کھڑا ہو جاتا۔ ان تمام کہانیوں کو الگ سے کتابی شکل میں پاکے میری کھوئی ہوئی دنیا پھر سے لوٹ آئی ہے۔ حسن رضا گوندل کی ’’سب رنگ‘‘ سے بے مثل محبّت کے باعث وہ سارے لوگ پھر سے میرے ہمراہ ہیں جو کبھی میرے دوست تھے، میں جن کے ساتھ مل کے یہ دنیا بدلنا چاہتا تھا۔ شکریہ شکیل عادل زادہ کہ تم کمالِ فن کی تصویر ہو۔ شکریہ حسن رضا گوندل کہ تم جادوگر ہو۔\u003cbr\u003e(ڈاکٹر امجد ثاقب)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395692900537,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ab5d8c8c0c71756061068.jpg?v=1785369408"},{"product_id":"sab-rang-kahaniyan-vol-9-سب-رنگ-کہانیاں-والیم-9-copy-1","title":"SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 10) سب رنگ کہانیاں (والیم 10)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 15px; font-weight: 400;\"\u003eجس طرح پاکستان میں ہم لوگوں کو جمہوریت کا انتظار رہتا ہے، وہ آتی ہے پھر طویل عرصے کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کو سب رنگ ڈائجسٹ کا انتظار رہتا تھا، وہ آتا تھا اور پھر غائب ہو جاتا تھا۔ باہر کے لکھنے والوں کی بات تو رہنے دیں یہاں کے لوگ اندر کے لکھنے والوں کو نہیں جانتے، مگر سب رنگ نے پڑھنے والوں کو دنیا بھر کے رنگ سمندر پار ادیبوں کی لکھی ہوئی کہانیوں میں دکھائے۔ ’’سب رنگ‘‘، ڈائجسٹ نہیں تھا ایک کتاب تھی۔ یہاں چوبیس کروڑ کی آبادی میں تین چار لوگ رہ گئے ہیں جن سے مل کر مزید زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے ان میں سے ایک شکیل عادل زادہ صاحب ہیں۔ بہت کچھ جانتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔ ان کا شاہکار ڈائجسٹ ’’سب رنگ‘‘ بھی بہت عرصہ ہوا خاموش ہوگیا تھا مگر خوش قسمتی سے سب رنگ کی ساری کہانیاں اب کتابی شکل میں موجود ہیں، شکریہ حسن رضا گوندل صاحب، جیتے رہیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e\u003cspan\u003e(انور مقصود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’سب رنگ‘‘ ادب و نثر میں میرا استاد ہے۔ اپنے تمام اساتذہ کو ہم ’سر‘ کہہ کر مخاطب اور یاد کرتے ہیں۔ ’سر سب رنگ‘ بچپن ہی سے میرا پسندیدہ استاد بن گیا۔ ’سر سب رنگ‘ کی پسندیدگی سے مجھے نثر اور ادب سے گہرا لگاؤ اور محبت پیدا ہو گئی۔ کئی کئی ماہ بعد ’سر سب رنگ‘ کا دیدار ہوتا۔ جوں ہی ’سر سب رنگ‘ کی صحبت مجھے میسّر آتی میرا حال دیکھنے والا ہوتا۔ وصال کی کیفیت میں ’سر سب رنگ‘ استاد سے زیادہ میری محبوبہ بن جاتا۔ میں اس کے سرورق پر موجود حسینہ کی رعنائیوں میں کھو جاتا۔ سب سے پہلے ’’بازی گر‘‘ یا ’’امبربیل‘‘ کی باری آتی جن میں حسن و عشق کے اسباق تو دل پذیر ہوتے ہی تھے، لڑائیاں اور مقابلے بھی اس قدر دلچسپ ہوتے کہ لڑائی کے ایک ایک داؤ پر داد دینے کو دل چاہتا۔ ان اقساط کے بعد اُردو ادب کے عطر کی باری آتی۔ شکیل عادل زادہ کے ہر حاشیے میں وہ ذائقہ ہوتا کہ ان کے اقوال آج تک ذہن میں تازہ ہیں۔ پھر تراجم شدہ دنیا بھر کی کہانیاں پڑھی جاتیں۔ ’سر سب رنگ‘ کو ہم سے روٹھے کئی سال ہو گئے مگر وہ ہمارے دل اور ذہن میں ادب اور تجسّس کی لت لگا گیا ہے۔ شکیل عادل زادہ نے اُردو کو جو بے مثل و بے مثال ’استاد‘ عطا کیا، ہمارے برادر حسن رضا گوندل نے سب رنگ کہانیاں کو محفوظ کر کے اس ’استاد‘ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سہیل وڑائچ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395702403257,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/693beddce72441765535196.jpg?v=1785369795"},{"product_id":"mitro-marjani-مترو-مرجانی","title":"MITRO MARJANI مترو مرجانی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eکرشنا سوبتی (18، فروری 1925ء — 25، جنوری 2019ء) ہندی زبان ہی کی نہیں برصغیر اور دنیا بھر میں لکھنے والی اہم عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ پنجابی تھیں اور ہندی میں لکھتی تھیں۔ وہ کہانی کار، ناول نگار اورمضمون نگار تھیں۔ انھیں اُن کے ناول ’’زندگی نامہ‘‘ پر 1980ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ 1996ء میں انھیں ساہتیہ فیلوشپ حاصل ہوئی، اسے اکادمی کا سب سے بڑا اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی ادب کی خدمت کے سلسلے میں انھیں 2017ء میں گیان پیٹھ انعام سے نوازا گیا۔ کرشنا سوبتی کا شاہ کار ان کا 1966ء میں لکھا گیا ناول ’’مترو مرجانی‘‘ ہے۔ اس کی اشاعت کے ساتھ ہی ہندی ادب کے قارئین کو کرشنا سوبتی سے پیار ہو گیا۔ اس ناول کو ایک جوان اور شادی شدہ عورت کی جنسی زندگی کی ایسی تصویر قرار دیا جاتا ہے جو نام نہاد مہذب تو مہذب، غیر مہذب سماج میں بھی ناقابلِ معافی تصور کی جاتی ہے۔ کرشنا سوبتی کی ولادت تقسیم سے قبل پاکستان کے گجرات میں ہوئی۔ تعلیم کے سلسلے میں لاہور بھی رہیں۔ ان کے دوسرے ناولوں میں ’’ڈار سے بچھڑی‘‘، ’’سورج مکھی اندھیرے کے‘‘، ’’یاروں کا یار‘‘ اور ’’دل و دانش‘‘ شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’نفیسہ‘‘، ’’سکہ بدل گیا‘‘ اور ’’بادلوں کے گھیرے‘‘ اہم قرار دیے گئے۔ ’’دل و دانش‘‘ کا 2005ء میں ریما آنند اور میناکشی سوامی نے انگریزی ترجمہ کیا، اس ترجمے کو کراس ورڈ اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی تخلیقات کے کئی غیر ملکی اور ہندوستانی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ 2022ء میں ہندی کے لیے پہلا بُکر عالمی انعام حاصل کرنے والی گیتانجلی شری انھیں اپنا گرو مانتی ہیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ دو ناولوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے گیتانجلی شری کے ناول ’’ریت سمادھی‘‘، محمود درویش، ایڈونس اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو میں منتقل کیا۔ ان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ان کا ابتدائی بچپن ریاست بہاولپور اور پنجاب میں گزرا اور گیارہ سال کی عمر سے کراچی میں ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور 2015ء میں بی بی سی اُردو سے ریٹائر ہوئے۔ اس سے پہلے وہ اُردو کے بڑے اخبارات سے بھی منسلک رہے لیکن وہ زیادہ اہم اُن چار روزناموں کو سمجھتے ہیں جن کے وہ بنیاد گزار ایڈیٹر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی اور ایسی صاف ستھری صحافت سے متعارف کرایا کہ کراچی میں ان کا نکالا ہوا اخبار خواتین ہاکر بھی فروخت کرنے لگیں۔ 1976ء سے وہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48395750015161,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6930171e8e5671764759326.jpg?v=1785371327"},{"product_id":"yunani-asbaaq-greek-lessonsیونانی-اسباق","title":"YUNANI ASBAAQ (GREEK LESSONS) یونانی اسباق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eپیچ در پیچ اور نہایت لطیف ’’یونانی اسباق‘‘ زبان، جبر، غم و اندوہ اور قربت پر ایک غیرمعمولی مراقبہ ہے۔ ہان کانگ ایک منفرد مصنفہ ہیں۔ چند جملوں میں ہی وہ گویا مکمل انسانی تجربے کی وسعت کو سمیٹ لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیٹی کیتامورا، مصنفہ \"Intimacies\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ زبان، سیکھنے کے عمل، اور ربط کی امید کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ یہ ذہن اور جسم، ہمارے خیالات اور حواس— یعنی اس بات پر ہے کہ دنیا میں ایک انسان ہونا دراصل کیا مطلب رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—جولیا فِلپس، مصنفہ \"Disappearing Earth\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ کی کتاب پڑھنا ایک ایسا لطف ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ شاعرانہ بھی اور فکری طور پر گہری بھی، \"Greek Lessons\" انسانی ربط کی نازکی اور قوت کے بارے میں ایک خوبصورت اور دل میں اُتر جانے والی کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—اینجی کم، مصنفہ \"Miracle Creek\" اور \"Happiness Falls\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیران کر دینے والی ہان کانگ ہمیشہ سب سے زیادہ انکشافاتی مصنفہ رہی ہیں: وہ جذبات کے اُفق کو وسیع تر کر دیتی ہیں۔ بلاشبہ وہ میری پسندیدہ مصنفہ ہیں جن کے ساتھ پڑھنا، سوچنا اور دُنیا کو دیکھنا بےحد متاثر کن ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—میکس پورٹر، مصنف \"Grief Is The Thing With Feathers\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسی و روحانی بصیرت سے مالا مال اور عرفان سے معمور۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیتھی پارک ہانگ، مصنفہ \"Minor Feelings\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزبان کے اشتراک میں پائے جانے والے ناقابلِ بیان اعتماد کی ایک عکّاسی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—دی نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک غیرمعمولی ناول جو ہر بار پڑھنے پر نئی گہرائیوں سے آشکار کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—گارجین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ27 نومبر 1970ء کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگ جُو میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف کوریائی ادیب ہان سونگ وون کی صاحبزادی ہیں۔ 1993ء میں انھوں نے ادبی سفر کا آغاز اپنی نظم ’’ادب اور معاشرہ‘‘ کی اشاعت سے کیا۔ 1994ء میں اُن کی کہانی \"The Scarlet Anchor\" کو سیئول شِنمن کے سالانہ ادبی مقابلے میں منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد اُن کی تخلیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا، جن میں انسانی وجود، تنہائی، اداسی اور معنویت کی تلاش جیسے موضوعات غالب نظر آتے ہیں۔ ان کے ابتدائی کاموں میں کہانیوں کا مجموعہ \"A Love of Yeosu\" (1995) اور ناول \"Black Deer\" (1998) شامل ہیں۔ 1999ء میں ان کا ناول \"Baby Buddha\" کورین ناول لٹریچر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے ناول \"Mongolian Mark\" میں جسمانی خواہشات اور فنکارانہ لطافت کو اس مہارت سے ہم آہنگ کیا گیا ہے کہ یہ فن پارہ کوریائی عصری ادب کا ایک اہم سنگِ میل بن چکا ہے۔ اس ناول پر انھیں 2005ء میں یی سانگ ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہان کانگ کی عالمی شہرت کا آغاز 2016ء میں اُس وقت ہوا جب ان کا ناول \"The Vegetarian\" بُکر انٹرنیشنل پرائز جیتنے والا پہلا کوریائی ناول قرار پایا۔ اس ناول میں انھوں نے جسم، تشدد اور انکار کے پیچیدہ تعلق کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ 2024ء میں انھیں ادب کے شعبے میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی کوریائی مصنفہ اور پہلی ایشیائی خاتون ہیں۔ یہ اعزاز اُنھیں ان کے ادبی کمالات اور انسان دوست فکر کے اعتراف کے طور پر عطا کیا گیا۔ یہ امر نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہان کانگ اپنی حساسیت، فنی زبان، اور الم انگیز نقطۂ نظر کے باعث نہ صرف کوریائی ادب بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک منفرد اور مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ وہ نئی نسل کی خواتین اہلِ قلم کے لیے تخلیقی افق کی علامت بن چکی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیونس خان 15 مارچ 1964ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1987ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈبل میتھس اور انگلش میں گریجویشن مکمل کی۔ 1992ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی بی اے (آنرز) کیا اور 1994ء میں ایم بی اے شروع کیا، تاہم وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔ اس دوران پی ٹی سی ایل میں جاب کرتے رہے، مگر ادب سے رشتہ مسلسل مضبوط ہوتا گیا۔ 2014ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ لاہور میں سافٹ ویئر ہاؤس قائم کیا اور یوں عملی طور پر آئی ٹی کے شعبے سے بھی جڑ گئے۔ 2018ء میں انھوں نے تخلیقی تحریر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ڈویلپمنٹ اور ای کامرس مینجمنٹ جیسے جدید علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان کے تحقیقی و تجزیاتی مضامین اور تبصرے مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ فطرت اور بلندیوں سے شغف انھیں دنیا کی بلندترین چوٹیوں میں سے ایک ’’کے وَن‘‘ کے بیس کیمپ تک لے گیا، جس کی روداد سہ ماہی ’’لوح‘‘ میں شائع ہوئی۔ یونس خان عالمی ادب کی کئی اہم کتابوں کو اُردو میں منتقل کر چکے ہیں جن میں نوبیل انعام یافتہ مصنفہ ہان کانگ کا ناول ’’یونانی اسباق‘‘، کنفیوشس کی کتاب ’’سنگی کتابیں کاغذی پیراہن‘‘، سیمون دی بووا کا ناول ’’شعور کی عمر‘‘ اور اَینی اَرنو کی یادداشتیں ’’گمشدہ‘‘ شامل ہیں۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426362765497,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ca50506b30d1758089296.jpg?v=1785617665"},{"product_id":"qilaقلعہ","title":"QILA قلعہ","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e1922 — زمانۂ تحریر ’’قلعہ‘‘، زبان: جرمن، اصل عنوان: Das Schloss (داس شلوس)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1926 — کافکا نے یہ ناول 1922ء میں لکھنا شروع کیا تھا، مگر یہ ادھورا رہ گیا۔ 1924ء میں کافکا کی وفات کے بعد اُن کے قریبی دوست اور ادبی ورثے کے نگران میکس براڈ نے اُن کی وصیت کے برخلاف اسے شائع کیا۔ یوں یہ ناول 1926ء میں میونخ (جرمنی) کے پبلشر \"Kurt Wolff Verlag\" سے پہلی بار منظرِ عام پر آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1930 — اس ناول کا پہلا انگریزی ترجمہ ’’دی کاسل‘‘ (The Castle) کے عنوان سے وِلا میوئر (Willa Muir) نے اپنے شوہر ایڈوِن میوئر (Edwin Muir) کے ساتھ مل کر کیا جو 1930ء میں لندن اور نیو یارک سے پہلی بار شائع ہوا۔ وِلا میوئر (1890–1970) سکاٹ لینڈ کی ایک معروف مترجم، ناول نگار اور نقاد تھیں۔ وہ خاص طور پر جرمن سے انگریزی میں تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ ان کا بڑا کارنامہ فرانز کافکا اور ہرمن ہیسے جیسے جرمن ادیبوں کے کاموں کو انگریزی قارئین تک پہنچانا ہے۔ ایڈون میوئر (1887–1959) سکاٹ لینڈ کے شاعر، ناقد اور مترجم تھے۔ دونوں نے کافکا کے ناولوں کو انگریزی ادب میں متعارف کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2007 — معروف ترجمہ نگار طارق عزیز سندھو نے ایڈوِن اور وِلا میوئر کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کو ’’قلعہ‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں منتقل کیا۔ پہلی اشاعت 2007ء میں جبکہ دوسری اشاعت 2021ء میں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ نیا ایڈیشن نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426416079033,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c175701ccc81757508976.jpg?v=1785617886"},{"product_id":"naujavan-werther-ki-dastan-e-ghamنوجوان-ورتھر-کی-داستان-غم","title":"NAUJAVAN WERTHER KI DASTAN-E-GHAM نوجوان ورتھر کی داستان غم","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکہا جاتا ہے کہ جرمن زبان میں آج تک ’’ورتھر‘‘ جیسی شہرت و مقبولیت اور کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور نہ کسی ملک کی کسی ادبی تصنیف نے آج تک اتنی جلدی عظیم الشان شہرت پائی۔ نوجوانوں کا یہ حال ہو گیا تھا کہ انھوں نے ورتھر کی مفروضہ پوشاک یعنی نیلا کوٹ، پیلی واسکٹ اور پیلی پتلون پہننا شروع کر دیا تھا اور بقول مادام دی اسٹائل کتنوں نے ورتھر کی طرح دردمند اور دل فگار بن کر خودکشی بھی کر لی۔ کتنی بیویاں اپنے خشک مزاج شوہروں سے تنگ آکر کسی رنگین مزاج ورتھر کی دل نواز صحبتوں سے لطف اُٹھانے کی آرزوئیں کرنے لگیں۔ ادب میں بھی ورتھریت بُری طرح سرایت کر گئی۔ ورتھر اور شارلوٹے پر نظمیں لکھی گئیں جنھیں عوام سڑکوں پر گاتے پھرتے تھے۔ جرمنی میں یہ تو سب ہوتا رہا مگر یورپ کے دوسرے ملکوں میں اس کی شہرت بہت جلد ہو گئی۔ فرانس میں اس کا شان دار خیر مقدم کیا گیا اور انگلستان میں اس کا پہلا ترجمہ فرانسیسی سے شائع ہوا۔ اطالوی زبان میں بھی اس کا ترجمہ اسی زمانے میں شائع ہوا۔ چینی فنکاروں نے شیشے پر شارلوٹے اور ورتھر کی تصویر بنائی۔ غرض کہ تھوڑے دنوں میں گوئٹے یورپی ادب کی ایک نہایت ممتاز اور قابلِ احترام ہستی تسلیم کیا جانے لگا اور مدتوں وہ صرف ’’ورتھر‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے مشہور رہا لیکن ’’ورتھر‘‘ کو صرف اٹھارہویں صدی کی خیال پرستی کا آئینہ ہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ’’ورتھر‘‘ ایک زخمی دل کی پُکار ہے جو خیال پرستی کا عہد ختم ہو جانے کے بعد بھی آج ہماری توجہ کو کاوش و اضطراب کے ساتھ اپنی طرف جذب کرتی ہے۔ کون ہے جس کی آہوں سے افسانۂ سوز وگداز نہ نکلا ہو اور کون ہے جو حادثاتِ زمانہ کے بے رحم ہاتھوں سے محفوظ رہا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426470768825,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68b1dbdc9a9111756486620.jpg?v=1785618131"},{"product_id":"aik-tees-saala-auratایک-تیس-سالہ-عورت","title":"AIK TEES SAALA AURAT ایک تیس سالہ عورت","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eتعارف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1832ء زمانۂ تحریر: ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘، زبان: فرانسیسی، اصل عنوان: La Femme de trente ans\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1842ء یہ ناول پہلی مرتبہ بالزاک کے مرتب کردہ ناولوں کی سیریز ’’دی ہیومن کامیڈی‘‘ (La Comédie humaine) کے پہلے باضابطہ ایڈیشن کا حصہ بنا اور تیسری جلد میں کہانی نمبر 111 کے طور پر شامل کیا گیا۔ یہ سیریز پیرس کے تین پبلشرز Furne، J.-J. Dubochet اور Hetzelکی شراکت سے شائع ہوئی۔ تاہم اس کے بعد یہ ناول کئی صورتوں میں شائع ہوتا رہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1900ء ایلن میرج(Ellen Marriage)نے اس ناول کو \"A Woman of Thirty\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ انگریزی ادب میں بالزاک کے سب سے اہم مترجمین میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے تراجم نے پہلی بار بالزاک کو مکمل اور باضابطہ طور پر انگریزی قارئین تک پہنچایا۔ ایلن میرج نے اکثر اپنے اصل نام سے ترجمے کیے، لیکن حساس تحریروں کے لیے \"James Waring\" کے قلمی نام کا استعمال کیا۔ ان کے کام نے بالزاک کو عالمی شہرت دلائی اور انگریزی ادب میں ان کے مقام کو مستحکم بنایا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025ء ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب و شاعر انعام ندیم نے اس ناول کا ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ کے نام سے انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا۔ وہ اِس سے قبل گابریئل گارسیا مارکیز، ربی سنکر بل اور میورئیل موفروئے کی کتابوں کے ترجمے کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور سکیچز سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانیسویں صدی کے ممتاز فرانسیسی ناول نگار، اونورے دَ بالزاک (20 مئی 1799ء - 18 اگست 1850ء) کا شمار دنیا کے عظیم لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ جزئیات کا باریک بین مشاہدہ اور سماج کی غیر مرصع عکاسی بالزاک کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات ہیں، جن کی بنیاد پر انھیں یورپی ادب میں حقیقت نگاری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نہایت زود نویس، اگرچہ ناہموار، لکھنے والے تھے، اور ان کی تخلیقات کا وسیع اور نامکمل مجموعہ ’’دی ہیومن کامیڈی‘‘ (La Comédie humaine) اس ارادے سے لکھا گیا تھا کہ بحالیِ شاہی (1815ء - 1830ء) اور جولائی بادشاہت (1830ء - 1848ء) کے زمانے میں فرانسیسی سماج کا ایک ہمہ گیر اور کثیرالجہتی نقشہ پیش کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالزاک فرانس کے علاقے اندر-اے-لُوآر کے شہر تور (Tours) میں ایک خوشحال بورژوا خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فرانسیسی انقلاب کے دوران ایک علاقائی منتظم تھے۔ بالزاک نے ابتدائی تعلیم واندوم کے سخت گیر ادارے ’’کالج آف دی اوریٹورینز‘‘ میں حاصل کی، اور پھر 1816ء سے پیرس میں تعلیم جاری رکھی، جہاں انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایک وکیل کے دفتر میں کلرک کے طور پر بھی کام کیا۔ جلد ہی وہ صحافت کی طرف مائل ہو گئے اور نئے ادبی اور فکری رسائل میں لکھنے لگے۔ صحافت کی ابتدائی تربیت نے ان کی نثر کو غیرمعمولی حد تک فصیح، اختصار کی حامل اور عام زندگی کے روزمرہ پر مرکوز بنا دیا۔ اس اعتبار سے بالزاک ایک ایسے مصنف تھے جو ’’جدیدیت‘‘ کی اصطلاح کے رائج ہونے سے پہلے ہی جدید طرزِ اظہار کے حامل تھے۔ 1829ء میں ان کی کہانیوں کامجموعہ ’’نجی زندگی کے مناظر‘‘ (Scènes de la vie privée) کے عنوان سے شائع ہوا، جس نے قارئین اور نقادوں دونوں کی توجہ حاصل کی۔ یہ وہ کہانیاں تھیں جو ایک صحافی کی نگاہ سے بیان کی گئی تھیں— ایسی کہانیاں جو جدید زندگی کا تانا بانا بیان کرتی تھیں اور سماجی و سیاسی حقیقتوں سے منہ نہیں موڑتی تھیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بالزاک کی منفرد آواز ابھر کر سامنے آئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس سے پہلے وہ ناشروں کے ایما پر سر والٹر سکاٹ اور این ریڈکلف کے انداز میں تاریخ پر مبنی کمزور ناول لکھ چکے تھے، لیکن وہ سب فرضی ناموں کے تحت شائع ہوئے تھے۔ تاہم، 1829ء میں شائع ہونے والے ناول ’’آخری شوآن‘‘ (Le dernier Chouan) کے ساتھ وہ سنجیدہ اور طویل فکشن کے مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے۔ بالزاک نے اپنے اگلے بڑے ادبی کارنامے ’’بڈھا گوریو‘‘ (Le père Goriot—1835) میں ولیم شیکسپیئر کے مشہور المیے ’’کنگ لیئر‘‘ کی کہانی کو 1820ء کی دہائی کے پیرس میں منتقل کر دیا تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ جدید دنیا میں اب صرف ’’اثر و رسوخ‘‘ اور ’’تعلقات‘‘ ہی اصل قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے تمام ناول ایک ایسی دنیا کا مشترکہ تصور پیش کرتے ہیں جہاں قدیم بادشاہی نظام کی سماجی و سیاسی درجہ بندیاں ختم ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ اقربا پروری، سرپرستی، اور تجارتی دولت کی حامل ایک جعلی اشرافیہ نے لے لی ہے— اور جہاں منظم مذہب کے زوال کے بعد مال دار طبقے نے ایک نئی ’’روحانی پیشوائی‘‘ کا کردار سنبھال لیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاپنے مختصر افسانوں اور ناولٹوں کے ساتھ ساتھ، بالزاک نے کئی طویل اور یادگار ناول بھی لکھے جن میں ’’کھوئی ہوئی خوش فہمیاں‘‘ (Les Illusions Perdues—1843)، ’’طوائف کی شان و شوکت اور ذلت‘‘ (Splendeurs et misères des courtisanes—1847) ’’عم زاد پونس‘‘ (Le Cousin Pons—1847) اور ’’عم زاد بیت‘‘ (La Cousine Bette—1848) نمایاں ہیں۔ اسی طرح دیہاتی زندگی پر مبنی ناولوں میں ’’پادری تور‘‘ (Le curé de Tours—1832)، ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘، (Eugénie Grandet —1833)، ’’سنہری آنکھوں والی لڑکی‘‘ (La Fille aux yeux d'or—1835)، ’’اُرسول میروے‘‘ (Ursule Mirouet —1842) اور ’’مودیست مینیوں‘‘ (Modeste Mignon —1844) کو بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کی تخلیقی رفتار بے مثال تھی، لیکن اس قدر زودنویسی میں ناہمواری فطری بات تھی۔ ہر کامیابی انھیں مزید وسیع منصوبوں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، یہاں تک کہ 1847ء کے قریب ان کی صحت جواب دینے لگی۔ 1849ء میں جب ان کی صحت بگڑ چکی تھی، بالزاک پولینڈ گئے تاکہ ایویلین ہانسکا نامی ایک دولت مند پولش خاتون سے ملاقات کریں جن سے وہ پندرہ برس سے خط و کتابت کر رہے تھے۔ 1850ء میں ان دونوں نے شادی کی، لیکن بالزاک صرف تین ماہ بعد ہی وفات پا گئے۔ انھیں پیرس کے معروف قبرستان پیر لاشیز (Père Lachaise) میں دفن کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالزاک نے انسانی نفسیات اور سماج کے مشاہدے میں نہایت گہرائی اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا جس کا اثر بعد کے ادیبوں پر اس قدر گہرا ہے کہ اس کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دنیا بھر کے متعدد عظیم ناول نگار— چاہے وہ روس کے لیو ٹالسٹائی اور دستوئیفسکی ہوں، امریکا کے ارنسٹ ہیمنگوے اور ٹام وولف، فرانس کے مارسل پروست، یا جرمنی کے رابرٹ موزل— سبھی بالزاک کی فن اور سچائی سے وابستگی کے مقروض رہے ہیں، اور اس کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم 1967ء میں شہداد پور، سندھ میں پیدا ہوئے، وہ ایک متنوع ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ 2023ء میں ان کی غزلوں کا مجموعہ ’’درِ خواب‘‘ اور 2025ء میں نظموں کا مجموعہ ’’تصویر میں چلتا آدمی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، تاہم بعد ازاں اپنے یکے بعد دیگرے شائع ہونے والے ادبی تراجم کی بدولت انھوں نے اُردو کے معروف اور ممتاز مترجمین کی صفِ اوّل میں جگہ بنا لی۔ انھوں نے متعدد ادبی متون، بالخصوص فکشن کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کے قابلِ ذکر ترجموں میں عمر شاہد حامد کے ناول “The Prisoner”، ربی سنکر بل کے دو ناولوں “Dozakhnama” اور “A Mirrored Life” اور میورئیل موفروئے کے “Rumi’s Daughter” کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ ہسپانوی ادیب گابریئل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول “Until August” کا اُردو ترجمہ شامل ہے۔ انعام ندیم نے مارکیز کی کُل کہانیوں کا بھی اُردو میں ترجمہ کیا جو ’’ساری کہانیاں‘‘ کے عنوان سے 2025ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں مارکیز کی تمام کہانیاں ایک ہی جلد میں، ان کی ہسپانوی زبان میں اصل اشاعت کی زمانی ترتیب کے مطابق شائع کی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے آصف فرخی کے بارے میں ایک انتھالوجی، ذکیہ مشہدی کی منتخب کہانیاں، شاعر اکبر معصوم کی کلیات اور پاکستان میں اُردو نثری نظموں کا ایک انتخاب بھی مرتب کیا ہے۔ انھوں نے مشہور ہندی افسانہ نگار بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا بھی ترجمہ کیا، ان کا یہ انتخاب بعد ازاں دسویں یو بی ایل لٹریچر اینڈ آرٹس ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم کو متعدد ادبی اعزازات سے نوازا گیا جن میں ان کے پہلے شعری مجموعے ’’درِ خواب‘‘ پر ملنے والا عکس خوشبو ایوارڈ، “A Mirrored Life” کے اُردو ترجمے ’’آئینہ سی زندگی‘‘ پر ملنے والا یو بی ایل لٹریری ایوارڈ 2021ء برائے ترجمہ اور “Rumi’s Daughter” کے ترجمے ’’دُخترِ رومی‘‘ پر ملنے والا ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2024 ءبرائے ترجمہ شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاعر، ادیب ، مترجم اور مرتب کی حیثیت سے انعام ندیم کی ایک درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ وہ کراچی میں مقیم ہیں اور درس و تدریس سے منسلک ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426521886905,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ad72b91a4ba1756197561_5fc70200-eaec-4690-b0a1-16cbf2bc77f7.jpg?v=1785618432"},{"product_id":"gabriel-garcia-marquez-saari-kahaniyan-گابریئل-گارسیا-مارکیز-ساری-کہانیاں","title":"GABRIEL GARCIA MARQUEZ: SAARI KAHANIYAN گابریئل گارسیا مارکیز: ساری کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eگابریئل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کی عظیم ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ ادیب، صحافی اور ادب میں نوبیل انعام یافتہ تھے۔ گارسیا مارکیز 6 مارچ 1927ء کو کولمبیا کے ایک چھوٹے سے قصبے اراکٹاکا میں پیدا ہوئے اور17 اپریل 2014ء کو میکسیکو سٹی، میکسیکو میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگارسیا مارکیز نے کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ ان کا اصل میدان ادب ہے۔ انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز شعبۂ صحافت سے کیا اور کولمبیا کے علاوہ مختلف بین الاقوامی اخبارات کے لیے کام کیا۔ اس تجربے نے انھیں لاطینی امریکا کے سماجی اور سیاسی منظرنامے کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کی جو بعد میں ان کی فکشن نگاری میں ان کے بہت کام آئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارکیز کو سب سے بڑی ادبی کامیابی اس وقت ملی جب 1967ء میں ان کا شاہکار ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ شائع ہوا، اس نے مارکیز کو بین الاقوامی شہرت دلائی اور انھیں لاطینی امریکی ادب کی سب سے اہم شخصیت تسلیم کیا گیا۔ ان کی دیگر قابلِ ذکر تصنیفات میں ’’وبا کے دنوں میں محبت‘‘، ’’ایک پیش گفتہ موت کی روداد‘‘ اور ’’سردار کا زوال‘‘ شامل ہیں۔ ان کا آخری ناول ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ان کی وفات کے دس سال بعد 6 مارچ 2024ء کو مارکیز کی عین سالگرہ کے موقع پر شائع ہوا جس کا اُردو ترجمہ اگلے ہی مہینے 17 اپریل کو مارکیز کی عین دسویں برسی کے موقع پر ’’بک کارنر‘‘ نے شائع کیا۔ ناولوں کے علاوہ مارکیز نے متعدد کہانیاں بھی لکھیں جن کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1982ء میں مارکیز کو ادب کا نوبیل انعام دیا گیا، جس سے وہ کولمبیا کے پہلے اور لاطینی امریکا کے اُن چند مصنّفین میں سے ایک بن گئے جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اپنی زندگی کے آخری دس برسوں میں، مارکیز متعدد بیماریوں سے نبرد آزما رہے لیکن انھوں نے لکھنا جاری رکھا۔ مارکیز نے عالمی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی وراثت نہ صرف ان کی ادبی تحریریں ہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے وہ اَن گنت ادیب بھی جو اُن سے متاثر ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم 1967ء میں شہداد پور، سندھ میں پیدا ہوئے، وہ ایک متنوع ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، تاہم بعد ازاں اپنے یکے بعد دیگرے شائع ہونے والے ادبی تراجم کی بدولت انھوں نے اُردو کے معروف اور ممتاز مترجمین کی صفِ اوّل میں جگہ بنالی۔ ایک شاعر، ادیب ، مترجم اور مرتب کی حیثیت سے وہ دس سے زائد قابلِ ذکر کتابوں کے حامل ہیں جن میں غزلوں کا ایک دلکش مجموعہ ’’درِخواب‘‘ بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے متعدد ادبی متون، بالخصوص فکشن کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی قابلِ ذکر کتابوں میں عمر شاہد حامد کا ناول “The Prisoner”، ربی سنکر بل کے دو ناولوں “Dozakhnama” اور “A Mirrored Life” اور میورئیل موفروئے کی “Rumi’s Daughter” کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ ہسپانوی ادیب گابریئل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول “Until August” کا اُردو ترجمہ شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے آصف فرخی کے بارے میں ایک انتھالوجی، ذکیہ مشہدی کی منتخب کہانیاں، شاعر اکبر معصوم کی کلیات اور پاکستان میں اُردو نثری نظموں کا ایک انتخاب بھی مرتب کیا ہے۔ انھوں نے مشہور ہندی افسانہ نگار بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا بھی ترجمہ کیا، ان کا یہ انتخاب بعد ازاں دسویں یو بی ایل لٹریچر اینڈ آرٹس ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم کو متعدد ادبی اعزات سے نوازا گیا جن میں ان کے پہلے شعری مجموعے ’’درِ خواب‘‘ پر ملنے والا عکس خوشبو ایوارڈ، “A Mirrored Life” کے اُردو ترجمے ’’آئینہ سی زندگی‘‘ پر ملنے والا یو بی ایل لٹریری ایوارڈ 2021ء برائے ترجمہ اور “Rumi’s Daughter” کے ترجمے ’’دُخترِ رومی‘‘ پر ملنے والا ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2024 ءبرائے ترجمہ شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48428188172473,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687237e6bc0dd1752315878_010f3d9f-0169-4121-a22b-2ed2ae014024.jpg?v=1785629223"},{"product_id":"wohi-naam-saare-وہی-نام-سارے","title":"WOHI NAAM SAARE وہی نام سارے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو 16 نومبر 1922ء کو پرتگال کے صوبہ ربیٹجو کے ایک چھوٹے سے گاؤں ازینہاگا میں پیدا ہوئے اور پُرتگال میں بے زمین ہاریوں کے ایک غریب گھرانے میں افلاس و عسرت کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے زندگی بسر کی۔ ساراماگو کو سکول کی تعلیم کے فوراً بعد گاڑیوں کی مرمت کی ورکشاپ میں دو سال کام کرنا پڑا۔ مختلف شعبوں میں مزدوری اور نوکریوں کے بعد ایک اشاعتی ادارے سے وابستہ ہو گئے لیکن نومبر 1975ء میں سیاسی بحران کی وجہ سے یہ ملازمت بھی چھوڑ دی۔ اِس سے پہلے وہ 1969ء میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ اُنھوں نے سیاست میں باضابطہ حصہ لیا۔ واضح اور دو ٹوک سیاسی رائے رکھتے تھے جس کا کاٹ دار اظہار وہ ہمیشہ اپنی مختلف تحریروں میں کرتے رہے۔ ساراماگو کا پہلا ناول 1947ء میں شائع ہوا، مگر اس کے بعد وہ طویل عرصے تک ادبی طور پر خاموش رہے۔ 1966ء میں اُن کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا، اور پھر ادبی و تنقیدی مضامین، اخباری کالم اور دوسری زبانوں کے معاصر ادب کے تراجم کا ایک سلسلہ چل پڑا جس نے ان کو بے حد فعال ادبی شخصیت بنا دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1982ء میں شائع ہونے والے ناول \"Baltasar and Blimunda\" نے اُنھیں عالمی شہرت دلائی اور یہ ناول پین کلب ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہا۔ تاہم 1995ء میں شائع ہونے والا ان کا شہرۂ آفاق ناول \"Blindness\" اُن کے ادبی مقام کو مزید مستحکم کر گیا۔ ممتاز شاعر اور مترجم احمد مشتاق نے اس ناول کا ’’اندھے لوگ‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا، جو اُردو داں طبقے میں نہایت مقبول ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو اپنی تحریر میں کثرت سے تشبیہات کا استعمال کرتے ہیں، اورمنتشر خیال عناصر کے ذریعے معاشرے پر تفصیلی اور تنقیدی نظر ڈالتے ہیں۔ ساراماگو کے اسلوب کی ایک خصوصیت مکالموں اور بیانیہ کی آمیزش ہے، جس میں کم رموز والے طویل جملے ہوتے ہیں جو کئی صفحات پر محیط بھی ہو سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے سارا ماگو فاؤنڈیشن نے اکتوبر 2011ء میں ان کے ایک گم شدہ ناول \"Skylight\" کی اشاعت کا اعلان کیا۔ یہ ناول 1950ء کی دہائی میں لکھا گیا تھا اور ایک ناشر کی محفوظ شدہ دستاویزات میں رہا جس کو یہ مخطوطہ بھیجا گیا تھا۔ ساراماگو اپنی موت تک اس کام کے بارے میں خاموش رہے۔ اس ناول کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو اپنی زندگی کے آخری برسوں میں افریقی ساحل کے قریب واقع جزائر کناریہ (Canary Islands) میں رہائش پذیر ہو گئے اور اسی جزیرے میں 18 جون، 2010ء کو 87 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1998ء میں حوزے ساراماگو کو ادب کا نوبیل انعام اس دلیل کے ساتھ دیا گیا تھا، ’’وہ شخص جو تخیل، ہمدردی اور ستم ظریفی کے واسطے سے دستیاب تمثیلوں کے ساتھ ہمیں ایک بار پھر ایک گمراہ کن حقیقت کو سمجھنے کا اہل بناتا ہے۔‘‘ ادب کے نوبیل انعام سے نوازے جانے سے قبل وہ ایک شدید تنازع کا اُس وقت شکار ہو گئے تھے جب حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی پر مبنی ناول کو پُرتگالی حکومت نے ادبی انعام کے لیے نامزد ہونے سے روک دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنوبیل انعام برائے ادب 1998ء کے علاوہ حوزے سارا ماگو کو ملنے والے انعامات و اعزازت کی طویل فہرست ہے۔ 1995ء میں وہ پُرتگالی زبان کی نثر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانے والے سب سے نمایاں ادیب قرار پائے اور انھیں کاموئیش ایوارڈ (Camões Award) سے نوازا گیا جو پُرتگالی زبان کا سب سے بڑا ادبی انعام سمجھا جاتا ہے۔ 24 اگست 1985ء کو انھیں ’’آرڈر ملٹری آف سینٹیاگو دَ ایسپیڈا‘‘ کا کمانڈر بنایا گیا اور 3 دسمبر 1998ء کو انھیں اسی آرڈر کا سب سے اعلیٰ درجہ ’’گرانڈے کولار‘‘ دیا گیا جو عموماً صرف سربراہانِ مملکت کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ 2004ء میں انھیں بین الاقوامی ادبی اعزاز ’’امریکا ایوارڈ برائے ادب‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد فتح محمد (پیدائش 1945ء) افسانہ نگار، ناول نویس، مترجم، نقاد اور تجزیہ نگار ہیں۔ ان کا خاندان ماڑی بوچیاں، ضلع گورداس پور، مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے قلعہ جے سنگھ، ضلع گوجرانوالا میں آباد ہوا۔ تب وہ زندگی کے اُس مرحلے پر تھے جہاں نوجوان اپنے مستقبل کی طرف پرواز لیتے ہیں، دورانِ تعلیم ہی وہ عساکرِ پاکستان کی ملازمت کے لیے منتخب کر لیے گئے اور اگلے پچّیس برس ملک کے مختلف خطوں میں بشمول مشرقی پاکستان اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل رہے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد 1993ء میں لکھنے کا آغاز کیا۔ 1998ء میں پہلی کہانی ’’اماں نیلی ‘‘لکھی اور اُس کے بعد ایک چو مکھی جنگ کا آغاز ہوا۔ زندگی کی دیگر مصروفیات کے ساتھ لکھنے کے لیے وقت نکالتے اور مطالعے کو لکھنے سے بھی زیادہ ترجیح دیتے۔ یہ تینوں کام آج بھی اُتنی ہی تن دہی سے کیے جا رہے ہیں جتنا کہ تیس برس پہلے۔ وقت نے اُن کے جذبے اور ہمت پر اوس نہیںڈالی۔ مشرقی پاکستان کے مشاہدوں پر مبنی ناول ’’خلیج‘‘ ان کی وجۂ شہرت بنا۔ ان کے تخلیقی سرمائے میں 12 اُردو اور 2 پنجابی ناولوں سمیت 8افسانوی مجموعے شامل ہیں۔ وہ فیودور دستوئیفسکی، حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے تراجم بھی کر چکے ہیں۔ایک سہ ماہی ادبی رسالے ’’ادراک‘‘ کے بانی مدیر ہیں۔ خالد فتح محمد اپنے خاندان کے ساتھ 1993ء سے گوجرانوالا چھاؤنی میں رہائش پذیر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1997 — زمانۂ تحریر ’’وہی نام سارے‘‘، زبان: پُرتگیزی، اصل عنوان: Todos os Nomes (تودوس اوز نامیز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1997 — پہلی بار یہ ناول لزبن (پُرتگال) کے مشہور اشاعتی ادارے ’’کامینہو‘‘ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1999 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ مارگریٹ جل کوسٹا (Margaret Jull Costa) نے \"All the Names\"کے عنوان سے کیا۔ وہ ایک برطانوی ادبی مترجم ہیں جو پُرتگالی اور ہسپانوی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے عالمی شہرت رکھتی ہیں۔ اس ترجمے کو آکسفرڈ وَائیڈن فیلڈ ٹرانسلیشن پرائز سے نوازا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے مارگریٹ جل کوسٹا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’وہی نام سارے‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل فیودور دستوئیفسکی، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے حوزے ساراماگو کی اہلیہ پیلار دَ رِئیو (Pilar del Río) اور صاحبزادی ویولانتے ساراماگو ماتوش (Violante Saramago Matos) سے باضابطہ تحریری معاہدے کے تحت اس ترجمے کے اشاعتی حقوق حاصل کیے ہیں اور اس ناول کو ’’بک کارنر ورلڈ وائیڈ کلاسِکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسویڈش اکیڈمی نے اُس کے ناولوں کوتخیل ،ہمدردی اور استہزا سے بھرپور تماثیل قرار دیا ہے۔ یہ بیانیہ اُس کے تازہ ترین ناول کی مکمل تصویر ہے — دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمیں ساراماگو جیسی گہری، مختلف اور وسیع دانش کی ضرورت ہے — جان برگر، دی گارجین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدل چسپ اور ساتھ ہی پریشان کن جو شاید ادب ِ عالیہ کی نشانی ہے — انتھونی ڈینئیلز، سنڈے ٹیلی گراف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجناب حوزے کی صورت میں مصنف نے جدید ادب میں ایک غیرمعمولی کردار تخلیق کیا ہے،کچھ نقادوں نے، کسی بھی طرح یہ مبالغہ نہیںہے، اُسے میلوائل کے پُراسرار کردار بارتلیبی کے متوازی رکھا ہے — میرسیڈیس مومانے، اَل پائس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتجسّس کو اُبھارتا،متحرک اور ایذارسا ںناول، جو استعاراتی بھول بھلیاں اور گمراہ کن نشانوں کو اپنے جلو میں لیے ہو ئے ہے — دی ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ زندوں اورمرتے ہوؤں کا ملاپ ہے جو حوزے ساراماگو کی تحریرکا خاصا ہے — دی نیو سٹیٹس مین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک ماورائی،مخفی حُسن۔ آشکار سے نجات، نظریاتی لیکن لاتعلق، انتہائی پُر سکون ماحول اور پُرکشش مزاح پیش کرتا ہے — لٹریری ریویو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم ایک بار پھر ماہر قصہ گو اور اُس کے سحر انگیز کہانی بننے کے جوہر کے شکر گزار ہیں — رچرڈ اے پرَیتو، ورلڈ لٹریچر ٹوڈے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساراماگو کے فکشن کی جڑیں بہت گہری ہیں،جو یورپ کے مثالی فکشن کو چھوتی ہیں جس میں انسانی رُوح، یلغار کرتی ہوئی غیر انسانی اشرافیائی طاقتوں کے سامنے مدافعت کرتی ہے۔ ’’وہی نام سارے‘‘ حوزے ساراماگو کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول ’’اندھے لوگ‘‘ کا ایک قابلِ تعریف جانشین ہے — لیزا جاردئین، دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک خائف کلرک کی عمدہ کہانی جو اپنے طاقت ور مالک کی طاقت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا دل کو چھوتا ہوا مزاح ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کو للکارتا ہے جہاں کند ذہنوں کی معرفت محبت اور موت کی ایسی قطعی طور پر فہرست تیار کی جاتی ہے جو اِس کتاب کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے — کرس ڈولان، گلاسگو ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسارا ماگو کی آواز ایک چمکتا ہوا تنوع سامنے لاتی ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑتا۔ یہ ایک عمدہ تحفہ ہے، اور جیسے جیسے ساراماگو عمر رسیدہ ہوتا ہے، وہ اِسے ایسے طریقوں میں استعمال کرنے کے لیے آمادہ نظر آتا ہے جو مزید سہل بھی ہیں، ایک کلرک کی کہانی بارش کے ایک دِن، بے رنگ شہر میں، اُس کی خواہش اور علم تک ہی محدود ہے، وہ ایسی ایسی کہانیاں نکالتا ہے جو گہرائی میں جاتی ہیں، اِ س کہانی کی طرح — مائیکل پائی، سکاٹس مین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو کے ’’وہی نام سارے‘‘ نے ہمیں یاد دلایا کہ اُس نے اُس سال کا نوبیل انعام کیوں جیتا۔ یہ ایک کلرکی غلطی کے دنیا کی زندگی پر اثرات کو تلاش کرتا ہے، یہ دونوں نامعلوم اور سنگین، واضح اور سادہ ہیں۔ ایک دل کش مہم، نامعلوم عورت کی تلاش، ایسے فقروں کے اوپر تیرتی ہے جو کہ لہروں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر گرتے ہیں — رابرٹ وائینڈر، نیو سٹیٹس مین\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48428352897209,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ef57d6122231760516054.jpg?v=1785630874"},{"product_id":"sunehri-ankhon-wali-larki-سنہری-آنکھوں-والی-لڑکی","title":"SUNEHRI ANKHON WALI LARKI سنہری آنکھوں والی لڑکی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس ناول میں بالزاک نے جس بے رحمانہ طریقے سے پیرس کا پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ کلاسیک ہے۔ پیرس کے بے رحم لوگوں کا جو نقشہ بالزاک نے کھینچا ہے اس سے آپ کو خوف آنے لگتا ہے۔ آج کے جدید دَور کا انسان لرز جاتا ہے کہ دو سو سال پہلے پیرس واقعی ایسا تھا جہاں غربت، لالچ، حسد، اس سطح پر پہنچے ہوئے تھے کہ بالزاک نے پیرس کو ایک جہنم قرار دے دیا۔ بالزاک کی ایک اور خوبی دیکھیں وہ اپنی تحریروں میں جج، جیوری یا جلّاد بننے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ ہر کردار کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود کو جیسے چاہے کہانی کے پلاٹ میں لے کر چلے۔ بعض اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ بالزاک خود ایک تماشائی کی طرح اپنی کہانی کے کرداروں کو چپ چاپ بیٹھا انجوائے کر رہا ہے۔ وہ کردار خود ہی اپنی کہانی لکھتے ہیں، خود ہی سازشیں کرتے، آپس میں لڑتے جھگڑتے یا محبّت کرتے ہیں۔ بالزاک صرف اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے، باقی سب کچھ کردار خود ہی کرتے ہیں۔ یہ ناول انسانی جذبات، حسد، شک، فریب اور محبّت کی کہانی ہے جس میں فرانس کے ایک امیرزادے ہنری کو ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی ’’پاکٹویا‘‘ سے محبّت ہو جاتی ہے لیکن درمیان میں وہی شک اور حسد، نفرت کے بیج بو دیتے ہیں اور ایک المیہ جنم لیتا ہے یہ ناول اسی ٹریجڈی کی کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیا چند سکوں کے عوض ایک ماں سے اس کی مامتا اور اس کے جذبات خریدے جا سکتے ہیں؟ پیرس میں ہر کوئی برائے فروخت ہے ، جہاں وفا کی کوئی قدروقیمت نہیں؟ جہاں محبت بھی بکتی ہے؟ انسانی جذبات کے سوداگر جیب میں سونے کے سکے لیے پھرتے ہیں اور مزے کی بات ہے اس سودے کے گاہک بھی میسر ہیں۔ان سب سوالوں کے جواب آپ بالزاک کے اس ناول میں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436693074105,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69f20c3ea32d51777470526.jpg?v=1785689397"},{"product_id":"dukhtar-e-rumi-2nd-edition-دختر-رومی-دوسرا-ایڈیشن","title":"DUKHTAR E RUMI (2ND EDITION) دختر رومی (دوسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیورئیل موفروئے اپنی تخلیقات میں روحانیت کی کھوج کے لیے شہرہ رکھتی ہیں۔ مختلف ثقافتوں اور ان کی روایات کے بارے میں گہرے تجسّس نے انھیں ایک ایسی ادیبہ کے طور پر متعارف کروایا ہے جو اپنی کہانیوں میں روحانیت کی خوبصورت آمیزش کرنا جانتی ہیں۔ اگرچہ ان کا نسبی تعلّق فرانس سے ہے لیکن وہ انگریزی میں لکھتی ہیں اور ممتاز ادیبہ ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکا سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا جس کے بعد وہ بی بی سی لندن سے بطور صحافی اور ریڈیو پروڈیوسر منسلک ہوگئیں۔ 1997ء میں بی بی سی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی کتاب ‘‘Breathing Truth’’ عظیم فارسی شاعر مولانا جلال الدین رُومی کے اقوال اور حکایات کا مجموعہ تھی۔ بعدازاں ان کا اوّلین ناول ‘‘Rumi’s Daughter’’ شائع ہوا۔ 2004ء میں شائع ہونے والی یہ دلکش کتاب قارئین کو مشہور فارسی شاعر اور صوفی جلال الدین رُومی کی لے پالک بیٹی ’کیمیا خاتون‘ سے متعارف کراتی ہے۔ اس ناول کے ذریعے میورئیل نے عرفانِ ذات کی پیچیدگیوں اور روشن خیالی سے مملو روحانیت کو نہایت مہارت سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے بڑی چابک دستی کے ساتھ تاریخ کے تحقیقی مواد کو اپنی تخیلاتی کہانی کے ساتھ ہم آمیز کر کے ایک واضح اور مستند بیانیہ تخلیق کیا ہے۔ اس ناول کا نو زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ زیرِ نظر اُردو ترجمہ اس کتاب کا دسواں ترجمہ ہے۔ فارسی شعروادب سے اپنی دلچسپی برقرار رکھتے ہوئے، میورئیل نے اس کے بعد اپنا دوسرا ناول ‘‘The Garden of Hafez’’ لکھا، جس کا تانا بانا مشہور شاعر حافظ شیرازی کی حیات اور ان کی شاعری کے گرد بُنا گیا ہے۔ میورئیل موفروئے کی دیگر کتابوں میں ‘‘On the Other Side of Love’’بھی شامل ہے۔ اپنے شاندار تعلیمی پس منظر کے ساتھ، میورئیل نے سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریقن سٹڈیز سے فارسی زبان میں فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ بی اے کی ڈگری لی ہے۔ وہ اسلامی تصوف کی پُرشوق قاری اور پُرجوش وکیل ہیں اور اکثر اس موضوع پر مکالمہ کرتی رہتی ہیں۔ میورئیل موفروئے اِن دنوں لندن میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم اُردو کے شاعر اور مترجم ہیں۔ ان کی پیدائش 2 اپریل 1967ء کوسندھ کے ایک قصبے شہدادپور میں ہوئی۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے پہلے معاشیات اور پھر اُردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگریاں لیں۔ 1990ء کے ابتدائی عشرے میں شاعری کا آغاز کیا اور 2003ء میں ان کا پہلاشعری مجموعہ ’’درِ خواب‘‘ شائع ہوا جو غزلوں پر مشتمل ہے۔ اسی برس اس شعری مجموعے کو ’’عکسِ خوشبو‘‘ ادبی اعزاز دیا گیا۔ انعام ندیم نے متعدد انگریزی ناولوں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں عمر شاہد حامد کا ناول ‘‘The Prisoner’’ اور ربی سنکر بل کے دو ناول ‘‘Dozakhnama’’ اور ‘‘A Mirrored Life’’ شامل ہیں۔ ان کے دیگر تراجم میں شیاؤ ہونگ کا ناول ‘‘Tales of Hulan River’’ بھی شامل ہے۔ مشہور ہندی ادیب بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا ترجمہ بھی کیا جو ’’امرتسر آگیا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس ترجمے کو 2022ء میں یوبی ایل ادبی ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا۔ انعام ندیم نے متعدد کتابیں بھی مرتّب کی ہیں جن میں آصف فرخی کی یاد میں مضامین کی ایک کتاب ’’اُس آدمی کی کمی‘‘ شامل ہے جو 2021ء میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے معروف ہندوستانی افسانہ نگار ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا ایک انتخاب ’’بڑی حویلی کی بیبیاں‘‘ کے عنوان سے کیا۔ انعام ندیم نے کاشف حسین غائر کے ساتھ مل کر معروف شاعر اکبر معصوم کی کلیات ’’گُلِ معانی‘‘ بھی مرتّب کی۔ انھوں نے پاکستان میں لکھی جانے والی نثری نظم کا ایک جامع انتخاب بھی مرتّب کیا جو 2022ء میں اکادمی ادبیات اسلام آباد سے شائع ہوا۔ شاعری اور تراجم کے علاوہ انعام ندیم موسیقی کے بارے میں مضامین بھی لکھتے ہیں۔ وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436752515257,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69ea00c426bc81776943300.jpg?v=1785689662"},{"product_id":"dukhtar-e-rumi-2nd-edition-دختر-رومی-دوسرا-ایڈیشن-copy","title":"JANE EYRE - URDU جین آئر - اردو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعام طور پر ہر ناول کے واقعات ایک خاص کلائمکس کی طرف تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کلائمکس پر ناول کی دلچسپی اپنے انتہا پر پہنچی ہوتی ہے اور قاری اس میں پوری طرح ڈوبا ہوتا ہے۔ لیکن ’’جین آئر‘‘ میں محض ایک کلائمکس نہیں۔ اس میں تین واضح کلائمکس ہیں جو قاری کی توجہ اور استغراق پر پوری کمانڈ رکھتے ہیں۔ایسا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور یہ مہارت بہت کم مصنّفین کو حاصل ہوئی ہے۔ جین آئر سے پہلے شارلٹ برانٹے کا لکھا ہوا ایک مسودہ انگلستان کے ایک ممتاز پبلشر کی توجہ حاصل نہ کر سکا کیونکہ مصنفہ ایک ’گمنام‘ لڑکی تھی۔ لیکن جب ’’جین آئر‘‘ کا مسودہ اُس کے پاس پہنچا تو اگرچہ اُس نے بےدلی سے پڑھنا شروع کیا لیکن وہ اس میں اس حد تک ڈوب گیا کہ اس نے اگلے چوبیس گھنٹوں کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور ایک ہی نشست میں پورا ناول پڑھ ڈالا۔ نتیجۃً یہ لافانی شاہکار شائع ہوا اور شارلٹ برانٹے گمنامی سے نکل کر شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی۔ پھر اس کا وہ ناول بھی طمطراق سے شائع ہوا جو پہلے پبلشر کو پسند نہ آیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سیّد قاسم محمود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب تک شاندار انداز میں لکھے گئے ناولوں میں سے ایک!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سارہ واٹرز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول کےآخر میں ہم شارلٹ برانٹے کی قابلیت، شدتِ جذبات اور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغیر منصفانہ روّیوں پر اس کی برہمی میں ڈوب جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- ورجینیا وُولف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفکشن کی دُنیا میں ’’جین آئر‘‘واحد اعلیٰ ترین کردار ہے۔ ذرا دیکھیے تو، اگرچہ وہ جین نام کی طرح سیدھی سادی ہے مگر اسے اپنی قدروقیمت، ذہانت اور قوتِ فیصلہ کا مکمل ادراک ہے۔ وہ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار رکھتی ہے۔ اتنی جرأت مند ہے کہ جبر اور ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی غلط کام کرنے کی بجائے وہ بیابانوں میں اکیلے چلے جانے اور موت قبول کرنے کوبھی تیار ہے۔ کیا شاندار ناول ہے ! کیاشاندار لڑکی ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سُوزن آئزک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیتیم جین کا بچپن خوش گوار نہیں ہے مگر اس کے کردار کی مضبوطی اور جرأت اسے ظالم ممانی اور سخت گیر سکول کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت دیے رکھتے ہیں۔ تاہم اس کی زندگی کا سب سے سخت مرحلہ ابھی آنا باقی ہے۔ ایک پُراسرار گھر میں گورنس کی نوکری کے بعد گھر کے مالک سے جذباتی وابستگی بالآخر جین کو مجبور کرتی ہے کہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ اپنے نظریات اور جذبات میں سے کسی ایک کو قربان کر دے....کیا جین کو محبّت کی خاطر اپنے حالات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسے سمجھوتا کرلینا چاہیے؟ یا اپنے ماضی کی طرح اب بھی وہ حالات سے مقابلہ جاری رکھے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ایڈیٹر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشارلٹ برانٹے (21 اپریل 1816ء - 31 مارچ 1855ء) مشہور برطانوی مصنفہ، اپنے ناول ’’جین آئر‘‘ کی وجہ سے عالمی شہرت کی حامل، برانٹے سسٹرز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں سب سے بڑی بہن، باپ پیٹرک برانٹے پادری تھا، ماں بچپن میں ہی گزر گئی، پرورش باپ اور خالہ( الزبتھ) نے مل کر کی۔ 1824ء میں لنکاشائر کے ایک سکول میں اپنی بہنوں کے ہمراہ داخلہ لیا۔ یہی سکول بعد میں ’’جین آئر‘‘ میں مذکور ’’لوؤڈ سکول‘‘ کی بنیاد بنا۔ ایک سال بعد وبا پھیلی تو سکول چھوڑ کر واپس یارک شائر میں اپنے گاؤں ہاوَرتھ چلی آئی جہاں والد نے گھر پر ہی بچیوں کی تعلیم کا انتظام کر دیا۔ یوں برانٹے سسٹرز کے مل کر پڑھنے اور کہانیاں لکھنےکا آغاز ہوا۔ 1825ء میں دوبڑی بہنوں (ماریا اور الزبتھ) کا وبا کے باعث انتقال ہو گیا۔ وبا ختم ہوئی تو شارلٹ کو رَوہیڈ کے سکول میں بھیجا گیا جہاں کچھ عرصہ بعد اس نےبطور ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا مگر سکول میں حفظانِ صحت کے ناقص حالات نے جلد ہی اسے سخت بیمار کر دیا اور یوں ملازمت ترک کرنی پڑی۔ بھائی برانوَل نے اپنے آرٹ کے شوق اور نشے کی لت میں برانٹے گھرانے کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا، مجبوراً شارلٹ کو ایک جگہ گورنس کا کام کرنا پڑا اور برانٹے سسٹرز کا اپنا سکول بنانے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔ خالہ کو جب علم ہوا تو اپنی تمام جمع پونجی اس کام کے لیے پیش کر دی۔ سکول کی خشتِ اوّل کے طور پر شارلٹ اور ایملی، فرنچ اور جرمن زبانیں سیکھنے برسلز پہنچیں۔ اس قیام کے دوران شارلٹ کو صحیح معنوں میں اپنی ذات کی شناخت کا موقع ملا جس کا نتیجہ بعد ازاں ’’جین آئر‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ وطن واپسی ہوئی، سکول کا آغاز کیا مگر چھوٹا قصبہ ہونے کے باعث سکول بند کرنا پڑا، یوں برانٹے سسٹرز کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شارلٹ کی بہنیں چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز ان کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ جس کےبعد تینوں برانٹے سسٹرز نے اپنا شعری مجموعہ فرضی ناموں سے شائع کروایا۔ یہ شعری مجموعہ بھی سکول کی طرح ناکام ہوگیا۔ مگران بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی جانب متوجہ ہوئیں۔ یوں 1847ء میں ’’جین آئر‘‘ کا ظہور ہوا جو چھپنے کے فوراً بعد زبردست مقبول ہوگیا۔ مگر اس ناول کی اشاعت کے بعد شارلٹ کی زندگی میں خوشیاں کم ہی رہیں۔ جوان بھائی برانوَل کی موت ہوئی تو تین ماہ بعد جوان بہن ایملی بھی بھائی کے پیچھے چل دی۔ اگلے سال سب سے چھوٹی بہن این بھی گزر گئی۔ شارلٹ تو بالکل تنہا رہ گئی۔ رشتوں سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر ایک سیدھے سادے شخص کےساتھ اپنی پسند کی شادی میں منسلک ہو گئی۔ کچھ ماہ بعد ناول ’’ایما‘‘ کا آغاز کیا، مگر قدرت کو اس ناول کی تکمیل منظور نہ تھی۔ شارلٹ دورانِ زچگی اپنی 39ویں سالگرہ سے تین ہفتے پہلے اس دُنیا سے رخصت ہو گئی۔ ’’جین آئر‘‘ کے علاوہ ’’شرلی‘‘،’’وِیلیٹ‘‘،’’دِی پروفیسر‘‘ اور نامکمل ناول ’’ایما‘‘ شارلٹ کی یادگاریں ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436787118265,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e254ac5e41b1776440492.jpg?v=1785690009"},{"product_id":"chand-ko-gul-karen-to-hum-janen-3rd-edition-چاند-کو-گل-کریں-تو-ہم-جانیں-تیسرا-ایڈیشن","title":"CHAND KO GUL KAREN TO HUM JANEN (3RD EDITION)   چاند کو گل کریں تو ہم جانیں (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس ناول نے میرے اندرعجیب و غریب کیفیات برپا کیں۔ اس کا ماحول تاریک ہے اور قدرے بھیانک بھی۔ نہایت وسیع پھیلائو ہونےکے باوجود مصنف نے بہت مہارت سے اور قدرے اختصار کے ساتھ ماضی، حال اور مستقبل کے نسبتی سلسلوں کی بنت کاری کی ہے۔ اس تجربے کا ماحصل یہ لرزا دینے والا تصور ہے کہ بدی یعنی حرص اور تخریب کی جبلت انسان کی تقدیر ہے۔ نہایت فن کاری سے لکھا گیا یہ ناول تاریخ و ثقافت کے طویل ادوار کو اپنے پُراعتماد بیانیے سے ایسے یکجا کرتا ہے کہ ماضی اور حال کی تصاویر اتنی ہی جاندار نظر آتی ہیں جتنا مستقبل کا تصور۔ ناول یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ روز حاضر کے خوف آنے والے دنوں کے ہیبت ناک اندیشوں سے کچھ کم نہیں۔ علمیت اور ذہانت سے لبریز یہ تحریر پڑھنے والے کو لبھاتی بھی ہے اور ڈراتی بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شمس الرحمٰن فاروقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اپنے کسی ناول میں لکھا تھا کہ وقت ایک تسلسل کے ساتھ گزرتا جاتا ہے اور ہم ٹھہرے ہوتے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ وقت ہے جو تھم چکا ہے اور یہ ہم ہیں جو گزرتے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق کا ناول ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ پڑھتے ہوئے میں اس سراب کا شکار ہوا کہ وقت ٹھہر چکا ہے اور یہ اسامہ صدیق ہے جو اس میں گزرتا جاتا ہے۔ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی جانب ایک کھوجی کی مانند سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی تخلیقی قوت وقت کے نقشِ پا کو دریافت کرنے کبھی تو الٹے قدموں ماضی میں چلی جاتی ہے اور کبھی مستقبل کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔ ماضی کا سفر آسان ہوتا ہے کہ آپ تحقیق اور وجدان کو بروئے کار لا کر اسے زندہ کر سکتے ہیں، موجودہ زمانہ آپ کی آنکھوں میں عکس ہوتا جاتا ہے اور آپ اسے اپنے مشاہدے میں منتقل کر کے بیان کر جاتے ہیں لیکن مستقبل میں اترنے کے لیے اپنی جان دائو پر لگانی پڑتی ہے اور یہ صرف قوتِ متخیّلہ ہے جس کے زور پر آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی تصویرمیں کون سے کردار حرکت کریں گے۔ جیسے کچھ مہم جو گہرے غاروں کی تاریکی میں اتر جاتے ہیں اور نئی دُنیائیں دریافت کرتے ہیں ایسے ہی اسامہ اپنے تخیل کے سہارے مستقبل کے اجنبی اور نادریافت غاروں میں اترا ہے اور اَن دیکھی دُنیائوں کے باشندوں کو اپنے زورِ قلم سے زندہ کر دیا ہے۔ اسامہ جس آسانی اور قوت بھری روانی سے ماضی میں لوٹ جاتا ہے، پھر حال کا سفر اختیار کر کے مستقبل میں جا آباد ہوتا ہے، میرے لیے شدید حیرت کا باعث بنا۔ میں تو اپنے ناول ’’بہائو‘‘ کے کرداروں کی تلاش میں سرسوتی ندی کے سوکھتے ہوئے پانیوں تک جا پہنچا۔ موہنجوداڑو کی گلیوں کی مسافت اختیار کی۔ ان زمانوں میں واپس گیا تو بس وہیں رہ گیا، لوٹ آنا میرے بس میں نہ رہا اور اسامہ ہے کہ نہ صرف ماضی میں کچھ ایام بسر کرتا ہے، پھر حال کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کی وادیوں میں کوہ نوردی کرنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر ان مسافتوں کی تھکن ہی نہیں ۔ اس کی تحریر کی دل کشی اور دل ربائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ادب کے آسمان پر اسامہ ایک ایسے ماہتاب کی مانند ابھرا ہے جو کبھی بجھایا تو نہ جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُسامہ صدیق لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان بارہ سالوں کے علاوہ جو تحصیلِ علم اور ملازمت کے سلسلے میں لاہور سے دُور بیرونِ ملک گزارے، وہ باقی تمام عمر لاہور ہی سے جڑے رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک معلم، محقق، مصنّف، قانون دان اور پالیسی امور کے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے کیتھیڈرل ہائی سکول، کریسنٹ ماڈل سکول، گورنمنٹ کالج لاہور اور لمز (LUMS) سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفرڈ یونیورسٹی میں بطور Rhodes Scholar قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ برصغیر کی قانونی تاریخ پر ان کی کتاب \"Pakistan’s Experience with Formal Law: An Alien Justice\" جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے چھاپی ہے اب تک کئی انعامات جیت چکی ہے۔ اُن کا تاریخی ناول \"Snuffing Out the Moon\" سب سے پہلے پینگوئن رینڈم ہاؤس سے چھپا۔ عاصم بخشی نے اس ناول کا اُردو ترجمہ ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ کے نام سے کیا اور بک کارنر نے چھاپا۔ کتاب اور اس کا ترجمہ دونوں بہت معروف و مقبول ہوئے۔ ان کا اُردو کا پہلا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ بھی بک کارنر سے 2023ء میں شائع ہوا ہے۔ عالمی ادب، ہمارے خطے کے قصے، کہانیاں اور داستانیں، تاریخی تحقیق، سیاحت، قدیم کھنڈر، پُرانے درخت، اصلاحاتی کام اور بیش قیمت انسانی رشتے ان کی زندگی کی دل چسپیاں بھی ہیں، جستجو بھی اور حاصل بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر عاصم بخشی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے فکشن تراجم سہ ماہی جرائد آج، دنیا زاد، نقاط اور آن لائن جریدے جائزہ ڈاٹ کام پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علاوہ انھوں نے جوشوا ہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کے نان فکشن تراجم کے مجموعے ’نئی زمینوں کی تلاش‘ نے 2017ء میں اُردو سائنس بورڈ کی طرف سے بہترین کتاب کا اُردو سائنس ایوارڈ حاصل کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437342011577,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6983043d446ba1770193981_40eebc3c-f3ee-49aa-b89e-5b56181cc164.jpg?v=1785693616"},{"product_id":"jise-raat-le-uri-hawa-5th-edition-جسے-رات-لے-اڑی-ہوا-copy","title":"KARAMAZOF BRADARAAN (3RD EDITION)  کرامازوف برادران","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’کرامازوف برادران‘‘(1880ء) دستوئیفسکی کا آخری ناول ہے، جسے دُنیا کے ہر نقاد نے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا ہے۔ ناول کا ہیرو الیوشا رُوسی قوم، رُوسی مذہب اور مذہبیت کی اعلیٰ ترین پیداوار ہے اور اسے اپنی سرزمین اور ماحول سے بہت گہرا اور سچا لگائو ہے۔ اس کی سیرت اور وہ اصول جن پر وہ تعمیر کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دستوئیفسکی بغاوت، انکار اور شک کے تمام مراحل طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا ناول وہ طوفان برپا کر دیتا ہے، جس سے پرانی دُنیا بگڑتی اور نئی دنیا بنتی ہے۔ 1958ء میں ہالی ووڈ نے اس ناول پر فلم بھی بنائی جس میں یوئل برینر نے میٹسا کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا، لیکن اپنی اس موت سے پہلے بھی دستوئیفسکی ایک بار موت کا مزہ چکھ چکا تھا اور تجربہ اتنا انوکھا اور دُور رَس نتائج کا حامل تھا کہ اس کے اثرات دستوئیفسکی کے شاہکار ناولوں پر واضح طور سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دستوئیفسکی کو اُردو میں منتقل کرنا بطور خاص مشکل کام ہے لیکن کسی کو ہمت تو کرنی تھی۔ یہ سوچ کر مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم شاہد حمید نے اس عظیم ناول کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انھوں نے اِس ضخیم ناول کے ترجمے پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اپنے عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن اُن سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو رُوس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آ گئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اِس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول اُن کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری، جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِ لسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گاؤں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقّاد مظفر علی سیّد فرسٹ ایئر سے سِکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ شاہد حمید نے دورانِ تعلیم بطور صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا، پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پُرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالبِ علمی ہی میں ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا، پھر لیو طالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بِیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنتِ شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلۂ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبّر اور تعصّب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘، غسّان کنفانی کی ’’دُھوپ میں لوگ‘‘ اور جوسٹین گارڈر کی بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ مراکش کے ادیب محمد مرابط کے افسانوں کا انتخاب ’’بڑا آئینہ‘‘ بھی ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصّہ صَرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب و روز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقّاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیر معمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ ممتاز فکشن نگار نیّر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ نامور شاعر افتخار عارف نے ’’کرامازوف برادران‘‘ کی جدید طباعت دیکھ کر کہا، ’’دستوئیفسکی کا شمار دُنیا کے عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ طالسطائی، گورکی، جین آسٹن، مارکیز، یوسا کی صف میں بھی وہ نمایان نظر آتے ہیں۔ دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ان کے تراجم کیے گئے ہیں۔ اُردو ترجمہ شاہد حمید مرحوم نے کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اُردو تراجم کی تاریخ میں یہ ترجمہ بہ لحاظ صحتِ متن اور رُوسی زبان کی فضا کو برقرار رکھنے کی ہنروری کے سبب تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بک کارنر جہلم کے عزیزم گگن شاہد اور امر شاہد نے اس کتاب کو شائع کر کے بڑا کام کیا ہے۔ اِس عالمی اہمیت کے ناول کی اشاعتِ جدید ایک واقعے سے کم نہیں۔‘‘ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29 جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسرورق مصور:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوسیلی پیروف (1834ء-1882ء): 1870ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں پیروف کی مصوری نے رُوس کی عظیم ثقافت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ 1872ء میں اس نے دستوئیفسکی کی یہ تصویر مکمل کی۔ یہ دستوئیفسکی کا ادبی کام تھا جس نے پیروف کو اس طرح متاثر کیا کہ اس نے انیسویں صدی کے رُوس کی پریشان حال سیاسی، سماجی اور روحانی فضا میں انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھائیں۔ اس جدید طباعت کے سرورق پر دی گئیں دونوں تصاویر پیروف ہی کے موئے قلم کے شاہکار ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438475915449,"sku":"BC SSH","price":3400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68863a237df111753627171.jpg?v=1785703182"},{"product_id":"jurm-o-sazaa-crime-and-punishment-illustrated-edition-جرم-و-سزا-مصور-ایڈیشن","title":"JURM O SAZAA (CRIME AND PUNISHMENT) (ILLUSTRATED EDITION)  جرم و سزا (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eدستوئیفسکی کے دئیے ہوئے خیالی پیکر ہمیں پسند ہوں یا ناپسند، بہرحال نہ وہ کٹھ پُتلیاں ہیں، نہ موم کے پُتلے ___ کیوں کہ ان میں غضب کی شدّت ہوتی ہے۔ تراشنے والا اُن میں اپنے لہو کی گردش اور سینے کی آگ کچھ اس طرح بانٹ دیتا ہے کہ وہ خود پگھل کر گُم نہیں ہوتے، ہمیں پگھلا دیتے ہیں۔ صفِ اوّل سے زیادہ صفِ دوم کے، بظاہر معمولی (مگر ’’ابنارمل‘‘) کرداروں میں یہ شدّت اور بھی بڑھی ہوتی ہے اور وہی اس کے خیالات کی ترجمانی خوب کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک خاصیت تھی جس نے دستوئیفسکی کا سایہ اس کے قد سے لمبا کر دیا۔ روسی زبان نے عالمی ادب کو ایک وقت میں تین بڑے ناول دئیے (1867-70) ترگینف کا ’’باپ اور بیٹے‘‘، ٹالسٹائی کا ’’جنگ اور امن‘‘ اور دستوئیفسکی کا ’’جرم و سزا‘‘۔ ایک نے سماجی کشمکش کے تانے بانے دکھائے، دوسرے نے تاریخی باب کے لہوترنگ ورق پھیلائے، مگر دستوئیفسکی نے فرد کا باطن، جرم کی نفسیات، جبر و اختیار کی رسّہ کشی میں ’’مجھے سب کچھ جائز ہے‘‘ کا انجام دانائی اور دیوانگی کا متوازی عمل اور پھر نئی زندگی تک پہنچنے کا حوصلہ سب کھوند ڈالا، سب کا رس یکجان کر دیا۔ بعضوں کی نظر میں یہ ناول ایکشن اور اندرونی ہلچل کے تلازمے میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ کوئی کسی نظر سے دیکھے، آج یہ عالم ہے کہ کوئی ترقّی یافتہ زبان اس کے ترجموں سے خالی نہیں، اور اُسے پڑھے بغیر کوئی شخص عالمی ادب کا طالب علم نہیں۔ (ظ - انصاری)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں-\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438790914233,"sku":"BC SSH","price":2100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62375959877e81647794521.jpg?v=1785704429"},{"product_id":"idiot-illustrated-edition-ایڈیٹ-مصور-ایڈیشن","title":"IDIOT (ILLUSTRATED EDITION)  ایڈیٹ (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور دستوئیفسکی (1821-81ء) روسی نثر کے دورِ عروج کی پیداوار ہے؛ سیاسی اور سماجی خلفشار کے زمانے کا بہترین ترجمان ہے۔ اپنے زمانے کی اہم تحریکوں کے گہرے مطالعے اور تحریروں میں انھیں ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے فرد کے باطن کا دشوار سفر کیا اور ہمیں انسانی فطرت کی بے تابیوں اور تضادوں کا شعور بخشا۔ آج هم اس کے نظریوں، نعروں، استعاروں اور پیش گوئیوں سے چاہے کتنا ہی اختلاف کر لیں، لیکن دکھی آتماؤں کا درد جاننے، انسان کی دکھتی رگ ٹٹولنے میں، مستقبل کے خطروں اور خوابوں سے آگاہ کرنے میں وہ ہمارے زمانے کے بہترین ادب کا پیش رو ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس نے صرف روسی زبان یا صرف یورپ کو نہیں، پورے عالمی ادب کو چند شاهکار افسانے اور ناول دیے ہیں۔ مغرب میں جب اس کی تصانیف کی دھوم مچی تو نطشے اور فرائڈ سے لے کر لوکاچ اور سارتر تک نے اسے دنیا کا ایک عظیم ناول نگار اور آدم شناسی کا بلند مینار تسلیم کیا۔ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ تخلیقی ادب کا زمانی فاصله شیکسپیئر کے بجائے دستوئیفسکی سے ناپنا چاہیے یعنی یوں که دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور اس کے بعد کا ادب۔ کیونکہ اس ایک قلم نے افسانے اور ناول کا پچھلا تصور یکسر قلم زد کردیا ہے۔ اس نے دنیا کو پہلی بار فلسفیانہ ناول دیے ہیں اور دُور تک خواب و حقیقت کی متوازی لائنیں بچھائی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر ناول ’’ایڈیٹ‘‘ (The Idiot) کم و بیش ڈیڑھ سال کی مدّت (1867-68ء) اور دو قسطوں میں لکھا گیا جب مصنف اپنی بیوی کے ساتھ جنیوا میں پیسے پیسے کو محتاج زندگی بسر کر رها تھا، بار بار ناول کی بساط بچھاتا، پھر الٹ پلٹ دیتا۔ پردیس کی بےکسی، مفلسی اور مرگی کی بیماری کے باوجود اسے یہ لگن تھی کہ نئی قسم کا ناول اور اپنے آدرش کا ایک صاف ستھرا هیرو دنیائے ادب کو پیش کرے۔ 12 جنوری 1868ء کے ایک خط میں اپنے پبلشر دوست مائیکوف کو لکھتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’...بڑی مدّت سے ایک خیال مجھے ستا رہا ہے۔ مگر میں اسے ناول میں ڈھالتے ڈرتا ہوں۔ کیونکه خیال نہایت نازک اور دشوار ہے۔ میں اسے سنبھال نہیں پاؤں گا، اگر چه دل اسی میں اٹکا ہوا ہے اور مجھے پسند بہت ہے۔ آئیڈیا یه که ایک مثالی انسان کی بھرپور تصویر کشی کی جائے؛ میرا اندازہ هے که اس سے زیادہ دشوار اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا، خصوصاً ہمارے زمانے میں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کا کہنا تھا کہ اوروں نے بھی اپنے اپنے طور پر ایسے ایک لاجواب انسان کی تصویرکشی کی ضرور ہے، لیکن تھوڑی بہت، بھرپور کسی کے ہاں نہیں۔ اور جن حالات میں ہم جی رہے ہیں، ان میں اگر کوئی ایک نیک نفس، راست باز، صاف گو، صاف دل، بے ریا اور بے غرض فرد اعلیٰ انسانی آدرشوں کے ساتھ سماج میں اتر آئے تو اس کا کیا حشر ہوگا، یہ دیکھنا چاہیے۔ دستوئیفسکی نے بار بار پلان بدلے، سخت ذهنی اور جسمانی اذیت سہی، تب جا کے اس ہیرو نے یہ آخری شکل پائی جو ناول میں موجود ہے اور جسے اپنے ارد گرد کی دنیا سے ’’ایڈیٹ‘‘ یا گاؤدی کا خطاب ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه مرکزی کردار ایک خاندانی آدمی ہے، موروثی رئیس زاده لیکن ماں باپ کے سائے سے محروم۔ لڑکپن سے ہی کسی ذهنی بیماری کے کارن اپنے خاندانی ماحول اور وطن سے دُور سوئٹزر لینڈ بھیج دیا جاتا ہے، علاج کے لیے۔ وہ بیماریوں، ہمدردیوں، قدرتی منظروں اور چھل کپٹ سے دور معصوم بچوں کی دنیا میں برسوں رہ کر جوانی میں وطن واپس آتا ہے۔ بڑی تمنائیں لیے ہوئے آتا ہے؛ ماضی کا درد، مستقبل کے خواب، انجانی دنیا کی تلاش، بھلمنساهت سے پیار، وہ جہاں جس محفل میں بیٹھتا ہے، دل اس کی طرف کھنچتے ہیں، لیکن وہ کہیں بھی پوری طرح فٹ نہیں ہوتا؛ جہاں اس کی عزت کی جاتی ہے وہیں مذاق بھی اڑتا ہے، دنیا جسے هوشیاری اور دنیاداری کہتی ہے، وہ اسے نہیں آتی، نتیجه یه که هر جگہ بالآخر اسے ایک احمق اور اناڑی شمار کیا جاتا ہے۔ اور صورت سوال سوسائٹی کے منظر سے خالی ہاتھ گم ہو جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه هیرو هے پرنس میشکن۔ روسی زبان کا لفظ ’’کنیاز‘‘، جسے ہم نے ’’پرنس‘‘ لکھا، اس کے اعلیٰ خاندان کی نشان دہی کرتا ہے اور بس۔ دکھی، بد نصیب، آبرو باخته اور مجرمانہ ذہنیت کے مرد و زن کو وہ غیر نہیں سمجھتا، انھیں اپناتا ہے اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ آدم کی گم شدہ جنت آدمی کے حوالے کرنے میں اسے کسی حیلے حوالے سے عار نہیں اور ایسا آدمی طبقوں، فتنوں، سازشوں میں کٹے پھٹے سماج کو درکار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه هیرو، یه ناکام اور ستم زده شهری میشکن دستوئیفسکی کا مثالی آدمی ہے جس کا پیکر اس نے بڑے چاؤ سے، بڑی نزاکت اور احتیاط سے تراشا ہے اور جس کی قسمت میں پسپائی لکھ دی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eهمارے زمانے کے ایک اہم سوویت مصنف فیدن نے لکھا هے که :\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’...بچپن میں بےکس، تنہا اور مریض لڑکے کی زندگی بتاکر یه پرنس خود اپنے تجربے سے جان گیا هے کہ بے رخی اور بےعزتی کے ہاتھوں انسان کیا کیا دکھ جھیلتا ہے۔ اب وہ هر ایک دکھیا اور ستم زدہ شخص کا دکھ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ مصنف نے هیرو (میشکن) کی زبان سے اس غیرانسانی برتاؤ کے خلاف آواز بلند کی ہے جو مجرم، آبرو باخته عورت، روگی اور بچے کے ساتھ سوسائٹی روا رکھتی هے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیشکن کے پردے میں دستوئیفسکی نے زبان کھولی اور وہ خیالات جن پر بعد میں آکر ٹھہرا، پہلی بار یہیں ظاہر ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب یه ناول 1868ء اور 1869ء کے دوران رسالے میں قسط وار چھپا تو دستوئیفسکی دور پردیس میں بیٹھا اہلِ وطن کی توجہ اور قدردانی کا سخت آرزومند تھا، مگر یہاں بھی ناکامی رہی۔ ناول نے فوری مقبولیت نہیں پائی۔ پیٹرزبرگ اور ماسکو ، دو بڑے ادبی مرکزوں میں جو نظریاتی نزاع چل رہا تھا، اس میں ’’ایڈیٹ‘‘ نه پوری طرح اِس فریق کے آرکسٹرا میں کھپ سکتا تھا، نه اُس فریق کے اکسٹراز میں۔ یوں بھی مصنف کی نازک مزاجی، بلکه بددماغی نے اپنے ہمسروں سے بگاڑ مول لے رکھا تھا۔ پھر ناول میں کئی واقعات خود مصنف کی ذاتی زندگی اور واقعی تجربوں سے نکل کر آئے تھے۔ (مثلاً پھانسی کے تختے پر چڑھنے کے وقت کی ذہنی حالت یا مرگی کا دورہ جسے لفظوں کا جامہ پہنانے میں دستوئیفسکی نے کمال کر دیا ہے، پھر اس کے ان سیاسی، سماجی خیالات کی جھلک، جو اپنے وقت کے انقلابیوں کو اسی طرح ناگوار گزرے جس طرح مغربی تہذیب کے دل دادہ حلقوں کو۔) اور یه ناول اپنی بناوٹ میں ڈرامائی ایکشن اور معمول کی دلچسپ رومانی روش سے بھی ہٹا ہوا تھا۔ غرض کہ پٹ گیا... اور دستوئیفسکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیکھ کر طرزِ تپاک اهلِ دنیا، جل گیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے لیے قدردانی کے دروازے دیر سے کھلے جب وہ ان سے بے نیاز ہوچکا تھا اور ابھی انیسویں صدی کا آخری کیلنڈر پرانا نہیں ہوا تھا کہ ’’ایڈیٹ‘‘ کے ٹائپ کو ’’ڈان کیخوتے‘‘ (Don Quixote) اور ’’پک وک پیپرز‘‘ کا عہدِ آفریں همسر مان لیا گیا۔ مصنف کے ہم عصر لیوٹالسٹائی نے اسے جوہری کی نظر میں بیش قیمت هیرا قرار دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ سماج، جس کی جھلکیاں دستوئیفسکی کے ناولوں، خصوصاً زیر نظر ناول میں دکھائی دیتی ہیں، روس کی موجودہ نسل کے لیے اجنبی اور کہیں دور پار کی سنی سنائی بات معلوم ہوتا ہے۔ لیکن هم هندوستانیوں کے لیے جانا پہچانا ہے، اور شہریت کے پورے حقوق لیے شان سے دندناتا پھر رہا ہے۔ یه بھی ایک وجه هے که دستوئیفسکی کی آواز اور الفاظ ہمیں کسی غیر ملکی ساز کا تاثر نہیں دیتے۔ اس کے تاثرات میں بھی ہمیں اپنا پن ملتا ہے۔ اس اپنے پن کے سہارے هم انیسویں اور بیسویں صدی کے بعض تاریک سماجی گوشوں میں جھانک لیتے ہیں اور انسان کی ته در ته کیفیت کو ہمدردی سے سمجھنے میں ہمارے شعور کو روشنی ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمه براهِ راست روسی متن سے کیا گیا ہے اور اس پہلو کا خاص خیال رکھا گیا هے که اُردو عبارت اتنی سلیس، رواں اور بامحاوره نه هونے پائے کہ مصنف کی اصل عبارت کے مدّھم اور پنچم سُر، ہلکے اور تیز رنگ، پیچیدہ اور سلیس جملے، سب کے سب خلط ملط ہو جائیں، اصل کا مزہ ہی جاتا رہے۔ عبارت کو بنانا سجانا تورگینف کا ہنر تھا اور دستوئیفسکی اور تورگینف کی کبھی نہیں بنی۔ نہ ان کے آرٹ کی آج تک بنی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس سے پہلے دستوئیفسکی کے ناول ’’بےچارے لوگ‘‘، ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ اور تین ناولٹ ’’کہانیاں‘‘ کے نام سے براہِ راست روسی سے اُردو کا لباس اختیار کر کے ماسکو سے شائع ہو چکے ہیں۔ یه چوتھا ہے اور اسی کے انجام پر باقی دو اہم ناولوں کی تقدیر کا مدار بھی ہے۔ فقط۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماسکو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1980ء\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438830301369,"sku":"BC SSH","price":2100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/662d1623f0b1e1714230819.jpg?v=1785704651"},{"product_id":"bechaare-log-2nd-edition-بےچارے-لوگ","title":"BECHAARE LOG (2ND EDITION)  بےچارے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کی زندگی ایک بڑی ہستی کی درد بھری کہانی ہے جسے انسانیت کے مصائب نے مار رکھا تھا۔ اس کی جینئس (ذکاوت) نے سماجی خرابیوں اور انسانی درد و غم کا بھاری پتّھر اٹھایا اور خود اس کے بوجھ میں پس گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء) ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والد شہر کے کسی خیراتی ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ 1843ء میں دستوئیفسکی سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویٹ ہوا اور انجینئرنگ وزارت میں ڈیزائن تیار کرنے کے کام پر ملازم ہو گیا۔ اپنی ملازمت سے وہ مطمئن نہ ہو سکا۔ 1844ء میں اس نے استعفا دے دیا اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کا پہلا کارنامہ یہی ناول تھا— ’’بے چارے لوگ‘‘— جس نے اسے شہرت عطا کی۔ یہ ناول ان دبے کچلے لوگوں کے نام معنون ہے جنھیں مصنّف نے اس دردمندی سے اس شدّتِ احساس سے یہاں پیش کیا ہے۔ اس میں سب سے نمایاں کردار ماکار الیکسئی وچ دے وشکن ایک نہایت خستہ حال اور خود کو ہیچ پوچ سمجھنے والا کلرک ہے جسے زندگی کے مصائب نے اس درجہ کچل ڈالا ہے کہ اس میں یہ بھی مان لینے کی ہمت نہیں رہی کہ وہ ستم زدہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب خطوط کے ایک سلسلے کے طور پر لکھی گئی ہے جس میں گویا مصنّف نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا اور اس کی وجہ سے مصنّف کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ہیرو کی ذہنیت کی انتہائی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ وہ ذہنیت جو گاہے گاہے مضحکہ خیز بلکہ قابلِ رحم تک ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگوگول اور بیلینسکی کے معتقد کی حیثیت سے دستوئیفسکی نے ابتدا میں ادب کی بہترین روایات کو مد نظر رکھا۔ مگر دستوئیفسکی کی روحانی نشوونما بہت بُری طرح کچلی گئی۔ ایک ترقی پسند سیاسی حلقے سے واسطہ رکھنے کے جرم میں اس پر مقدمہ چلا۔ سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا، لیکن بعد میں اس سزا میں تخفیف کرکے اسے جلاوطنی بھگتنی پڑی۔ یہ اس وقت جب کہ مصنّف کچی پھانسی کی ذلت انگیز سزا کاٹ چکا تھا۔ جلا وطنی کے دس برس کاٹ کر وہ ملک میں واپس آیا اور واپسی کے بعد اتنا بدل چکا تھا کہ مقدمے سے پہلے کے دستوئیفسکی میں اور اس میں بڑا بل آگیا۔ اس کا ’’انسان کی فطرت‘‘ پر سے ہی اعتماد اُٹھ گیا۔ بالآخر اس نے مذہب کے دامن میں پناہ لی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول ’’بےچارے لوگ‘‘ کا مصنّف اس درد بھری مسیحی محبّت کی راہ پر کھڑا نظر آتا ہے جس کے بارے میں روس کے انقلابی ڈیموکریٹ ہرتسین نے لکھا تھا، ’’انفعالی محبّت بہت جاندار بھی ہوسکتی ہے، وہ روتی ہے، وہ بولتی ہے، اپنے آنسو پونچھتی ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ وہ کچھ کرتی نہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنی نوعِ انسان پر سے اعتماد اٹھ جانے کی وجہ سے دستوئیفسکی میں یہ بات آگئی کہ جہاں وہ سماجی ناانصافیوں کو بے نقاب کرتا ہے وہیں کئی رجعت پرست خیالات کا اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ انسان کو برائی کے ایک مجہول تصور میں اور سماجی پستی میں دھکیلتا ہے۔ تاہم اس کی تصنیفات کی صداقت آج بھی زندہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438912188601,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/616a83589e9161634370392.jpg?v=1785704923"},{"product_id":"bel-ami-بیل-آمی","title":"BEL AMI  بیل آمی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کو بہت کم وقت ملا، صرف 43 سال، اور اس کا ادبی سفر صرف دس برسوں پر محیط ہے۔ 1880ء سے 1890ء تک۔ ان دس برسوں میں اس نے چھ ناول لکھے اور 300 مختصر کہانیاں۔ اُس کا ایک ناول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بیل آمی‘‘ اُردو داں طبقے میں خاصا معروف ہے۔ اس ناول سے اس نے خوب پیسا کمایا۔ اس دولت سے شہر کے فیشن ایبل علاقے میں فلیٹ لیا۔ یہاں ایک گوشۂ راز و نیاز ترتیب دیا۔ محققین کے بہ قول اس گوشے میں پیرس کی خوش اندام خواتین کا اجتماع رہتا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک کتاب کے دیباچے میں موپاساں نے ادبی ضابطے کی وضاحت کی ہے۔ اُس کے بیان کے مطابق، عام اور غیرڈرامائی واقعات کے لیے سادہ بیانی ہی بہتر طریق کار ہے۔ وہ سادہ لفظیات کا حامی ہے اور بیان کی زیبائش اور آرائش سے پرہیز کرتا ہے۔ موقع محل کی نسبت سے اُسے موزوں تر لفظ کے انتخاب میں ملکہ حاصل تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ لکھنے والے کو معروضی اور غیرجذباتی انداز اختیار کرنا چاہیے اور خود کو داخل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ موپاساں کا بیشتر کام اُداسی اور قنوطیت کی ایک فضا بناتا ہے۔ اُس کے کردار عموماً سطحی، لالچی، نکمّے، کمینے، شیخی خورے اور کنجوس ہیں۔ وہ خیر و شر کے فیصلے صادر نہیں کرتا۔ جس قماش کے وہ لوگ ہیں، اُن کے دُکھ سُکھ سب کچھ وہ جُوں کا تُوں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس نے کِسانوں اور تاجروں کی خاکہ کشی خُوب کی ہے اور وہ صرف انہی کرداروں تک محدود نہیں رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں نے آخری دن بہت آزمائش میں گزارے۔ 34 سال کی عمر میں وہ اعصابی تناؤ کا مریض ہو گیا تھا۔ 1891ء میں اسے مکمّل جنون کی حالت میں پیرس کے شفاخانے میں داخل کر دیا گیا اور کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اِسی ذہنی اِختلال نے 6 جولائی 1893ء کو اُس کی جان لے لی۔ مگر یہ تو اس کی ظاہری دُوری تھی، وہ آج بھی ہمارے درمیان بہ تمام و کمال بہ ہمہ نفس موجود ہے۔ اِس سے بڑی زندگی اور کیا ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438932734137,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69f74ad3d86c91777814227.jpg?v=1785705036"},{"product_id":"zillaton-kay-maaray-log-ذلتوں-کے-مارے-لوگ","title":"ZILLATON KAY MAARAY LOG  ذلتوں کے مارے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کا جلاوطنی سے واپسی کے بعد لکھا گیا یہ پہلا بڑا ادبی کام تھا۔ یہ ناول پہلی بار 1861ء میں رسالہ ’’وَریمیہ‘‘ (وقت) میں ’’ذلتوں کے مارے لوگ: ایک ناکام ادیب کی ڈائری سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جسے مصنف نے اپنے بڑے بھائی میخائل دستوئیفسکی کے نام معنون کیا تھا۔ یہ رسالہ خود مصنف اور اُس کے بھائی میخائل کی ادارت میں جاری ہوا۔ رسالے کے مواد کو مکمل کرنے کے لیے، دستوئیفسکی کو ایک طویل ناول لکھنے کی ضرورت پیش آئی جسے قسط وار شائع کیا جا سکے۔ ناول کا بڑا حصہ مصنف نے رسالے کے اگلے شمارے کی ڈیڈ لائن کے مطابق قسط وار لکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کا تصور دستوئیفسکی کو 1857ء ہی میں آ گیا تھا۔ 1860ء میں سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہونے کے بعد، اس نے فوراً اس خیال کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ جولائی 1861ء میں اس ناول کی آخری قسط منظرِ عام پر آئی، اور اُسی سال یہ ایک علیحدہ اشاعت کی صورت میں سینٹ پیٹرزبرگ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول کے چند مقامات پر مصنف، ایوان پترو وِچ کے ذریعے، اپنے پہلے ناول ’’بے چارے لوگ‘‘ کی قسمت کا ذکر کرتا ہے، جو 1846ء میں ’’پیٹرزبرگ کولیکشن‘‘ میں شائع ہوا اور بے حد کامیاب رہا۔ خاص طور پر نقاد بیلنسکی (جسے ناول میں نقاد ’’ب‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے) نے اس کی بہت تعریف کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ دراصل اُن لوگوں کی کہانی ہے، جو سماج کے کناروں پر زندہ ہیں __ بے بس، مگر انسانی عظمت کے خواب سے جڑے ہوئے۔ یہ ناول، نہ صرف درد کی داستان ہے بلکہ محبت، قربانی، اور سماجی انصاف کی ایک خاموش پکار بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438973268153,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68639e2234df81751359010.jpg?v=1785705282"},{"product_id":"chacha-ka-khawab-چچا-کا-خواب","title":"CHACHA KA KHAWAB چچا کا خواب","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439004659897,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6865482b101c11751468075.jpg?v=1785705403"},{"product_id":"gambler-گیمبلر","title":"GAMBLER  گیمبلر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439052632249,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/686616dce28401751520988.jpg?v=1785705563"},{"product_id":"nihayat-afsos-naak-waqia-نہایت-افسوس-ناک-واقعہ","title":"NIHAYAT AFSOS-NAAK WAQIA  نہایت افسوس ناک واقعہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ نامی چھوٹی سی کہانی (1862ء) میں دستوئیفسکی نے اسی زمانے کے مسائل یعنی ساتویں دہائی کے واقعات اور مسائل کو لیا ہے۔ دستوئیفسکی اس کو اس طرح شروع کرتے ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یہ افسوس ناک واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب ہمارے وطن عزیز کا نوجیون بےپناہ جوش و خروش اور سادہ و پُرکار ہیجان کے ساتھ شروع ہوا.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کہانی میں اعتدال پرستوں پر طنز ہے۔ کہانی کے ہیرو، راجدھانی کے ’’ترقی پسند‘‘ جنرل پرالینسکی کے زندگی کے سطحی نظریے، خود پسندی اور مقبولیت کے لیے دوڑ دھوپ کو نمایاں طور پر پیش گیا ہے۔ ’’اونچے لوگوں‘‘ پر تیز طنز کے ساتھ ’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ میں، غریبوں، بھک منگوں، پیٹرزبرگ کے غریب محلوں کی زندگی اور انسانی تعلقات کے رکیک پہلوؤں کے المیے کو بھی عریاں کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439079796921,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/686835f61322d1751660022.jpg?v=1785705688"},{"product_id":"safed-raatein-سفید-راتیں","title":"SAFED RAATEIN سفید راتیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’سفید راتیں‘‘، روسی عنوان: Белые ночи (بیلیے نوچی)، زمانۂ تحریر 1848ء۔ یہ ناول دستوئیفسکی نے اپنے ابتدائی دورِ تخلیق یعنی ستمبر تا نومبر 1848ء کے دوران لکھا۔ 31 اکتوبر 1848ء کو سینٹ پیٹرزبرگ کی سینسر کمیٹی سے اس کہانی کو شائع کرنے کی اجازت ملی اور پہلی مرتبہ رسالہ ’’اوچیست وینیے زاپسکی‘‘ (وطن کی یادداشتیں) کے شمارہ نمبر 12 میں شائع ہوئی۔ کتابی شکل میں یہ کہانی پہلی بار 1865ء میں ایک علیحدہ مطبوعہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوئی۔ اس وقت روس میں مختصر کہانیوں کو الگ سے کتابچے کی صورت میں بھی شائع کیا جاتا تھا۔ مصنف نے اسے ’’ف ستیلووسکی پریس‘‘، سینٹ پیٹرزبرگ سے شائع کروایا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء میں کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) نے پہلی مرتبہ اس ناول کو \"White Nights\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ ان کے تراجم نے دستوئیفسکی کی تحریروں کو پہلی بار انگریزی قارئین کے سامنے پیش کیا، اگرچہ بعد میں آنے والے مترجمین نے زیادہ معیاری اور مکمل ترجمے پیش کیے۔ 2010ء میں رونلڈ مائیر (Ronald Meyer) کا ترجمہ \"White Nights\" ہی کے عنوان سے پینگوئن کلاسکس سیریز میں شائع ہوا اور اپنی روانی و ادبی حسن کی بنا پر بہت سراہا گیا۔ مائیر ایک امریکی مترجم اور روسی ادب کے ماہر ہیں۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور دوستوئیفسکی، ٹالسٹائی اور دیگر روسی ادیبوں کے تراجم کے لیے معروف ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب کے معروف کہانی کار اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے رونلڈ مائیر کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’سفید راتیں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہی نہیں، اس اشاعت میں دوستوئیفسکی کی ایک چونکا دینے والی طلسماتی کہانی ’’بوبوک‘‘ بھی شامل ہے، جو پہلی بار ’’ڈائری آف اے رائٹر‘‘ کے حصے کے طور پر فروری 1873ء میں اخبار ’’گراژدینین‘‘ (Citizen in Russia) میں شائع ہوئی تھی۔ مترجم اِس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس مجموعے کو بک کارنر کی ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا گیا ہے۔ یہ اشاعت کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف کے ساتھ دل کش سرورق اور مصوری سے آراستہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439111123129,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68b317da306961756567514.jpg?v=1785705833"},{"product_id":"anna-karenina-modern-illustrated-edition-اینا-کریننا-ماڈرن-مصور-ایڈیشن","title":"ANNA KARENINA (MODERN) - ILLUSTRATED EDITION  اینا کریننا (ماڈرن) - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی، لیو نکولائی وِچ: تخلیق کار، ادیب، داستاں گو، مفکّر، معلّم اور کسان۔ 1828ء، خاندانی ریاست، یَسنایا پولیانا، رُوس میں پیدائش، ایک امیر زادے، جاگیر دار، بہت بڑی ریاست کے مالک، سخت کوش، آوارہ مزاج، درد مند اور حقیقت شعار۔ نَو برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ جوانی، جوانی کی طرح گزاری۔ عمر کے بیسویں سال کازان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ترک کر دی۔ 1849ء میں اپنی جاگیر میں کاشت کاروں کے بچّوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔ ناکام ہو جانے پر سیر سپاٹے میں جی لگایا، ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے، دُنیا سے کھیلنے لگے۔ 1851ء میں ایک ملازمت مل گئی۔ قلم کاری کا جوہر خلقی تھا۔ ملازمت کے دوران اپنی سوانح ’’بچپن، لڑکپن اور جوانی‘‘ کی پہلی جلد ’’بچپن‘‘ رقم کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1852ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اِس عہد کے تجربے اُن کے شاہ کار ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کی بنیاد بنے۔ فوج کی ملازمت بھی جلد ہی ترک کر دی۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ کبھی ماسکو کا رُخ کرتے، کبھی اپنی جاگیر پر واپس آ جاتے۔ ماسکو میں ’’باپ اور بیٹے‘‘ کے مصنّف جلیل القدر اِیوان ترگینف اور دوسرے ہم عصر ادیبوں سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ ہم ذوقوں، ہم فکروں کی صحبتوں میں ذوق و فکر کی نمو تیز ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی تو، بہ قولِ فیض، لوح و قلم کی پرورش ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ کم عمری ہی میں اُنھوں نے ایک فکر انگیز قلم کار کی حیثیت سے سارے روس میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ وہ بڑی سنجیدہ تحریریں تخلیق کرنے لگے تھے، لیکن اُن کی زندگی اور زندگی کے معاملات و معمولات کچھ الگ تھے۔ نہ ایسی سنجیدگی، نہ اخلاقی اقدار کا ایسا پاس و لحاظ، جو اُن کی تحریروں کا خاصّہ تھا، جن تحریروں سے اُن کے خالق کی ایک تصویر بنتی تھی۔ وہ خوش اندام، لالہ فام نازنینوں کے شیدائی تھے۔ مست اَلست، خوب شراب لنڈھاتے تھے اور خوب خلوتیں آباد کیا کرتے تھے۔ اُدھر مقبوضہ علاقوں کے دشمن سپاہیوں سے اُن کا ربط ضبط رہتا تھا تو اِدھر سینٹ پیٹرز برگ کی کلیسائی قلم رَو میں اُنھوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ ایک دیہی دوشیزہ سے راز و نیاز اِس انتہا سے دوچار ہوئے کہ وہ اُن کے بچّے کی ماں بن بیٹھی۔ یہ قصّہ کسی نہ کسی طور ناخوشگوار انجام سے دوچار ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1857ء سے 1861ء تک اُنھوں نے مغربی یورپ کا دورہ کیا۔ جدید تہذیب کا یہ براہِ راست مشاہدہ اُن کے فکری و نظری سفر میں مہمیزی کا باعث ہوا۔ 1862ء میں، عمر 34 سال ہو گئی تھی اور بہت زندگی کھیل لی، بہت رنگ جما لیا تھا کہ کچھ قرار آیا۔ اپنے دوست کی 18 سالہ بیٹی سوفیا بہرس پر جا کے نظر ٹھیری اور شادی کر لی اور مسلسل پندرہ سال اپنی جاگیر پر نہایت شادماں، نہایت بھرپور زندگی گزاری۔ 26 سالہ ازدواجی رفاقت میں سوفیا 13 بچّوں کی ماں بنی۔ دونوں میں بڑی یک جائی تھی۔ شوہر کے بیش تر تخلیقی کام سوفیا کی اعانت کے مرہونِ منّت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1870ء ٹالسٹائی کے لیے فکری گرداب کا سال تھا۔ شک اور ابہام کی آلودگی سے وہ اپنے خاص فکر و نظر کی تقطیر کرنے اور انسانی زندگی کے ایک صاف اور سیدھا راستہ ڈھونڈ لینے کا یقین حاصل کرنے کے مراحل سے گزرا کیے اور اُنھوں نے کُھلے عام اپنے نظریات کی تلقین و تبلیغ شدّ و مد سے شروع کر دی۔ جمہوریت، مساوات، اخوّت اور انسان دوستی، اب یہی اُن کی زندگی کے مقاصد تھے۔ 1879ء میں اُنھوں نے رُوس کے سرکاری کلیسا سے اپنا ناتا توڑ لیا اور خود اپنے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ سوفیا نے اُن کی مخالفت کی اور تب اُنھیں ایسا لگا کہ شادی اُن کے عزائم کی راہ میں دیوار بن چکی ہے۔ 1888ء میں اُنھوں نے سوفیا کو آزاد کر دیا، یا یوں کہا جائے کہ خود آزاد ہو گئے۔ 1901ء میں اُن کے ناول ’’حیاتِ نو‘‘ پر روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اُن سے مقاطعہ کر لیا۔ ٹالسٹائی کی انقلابی فکر روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگی تھی۔ اپنی مدلّل اور مؤثر تحریروں کی وجہ سے روس میں اُن کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاثر و رسوخ اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ روسی حکومت کو اُن کی باغیانہ سرگرمیوں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی ایک سچّے اور کھرے تخلیق کار تھے۔ ناول ’’اینا کریننا‘‘ یا ’’جنگ اور امن‘‘ ہی نہیں، اُن کے دیگر قلمی کام بھی کارناموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا سارا تخلیقی کام، مقالات اور خطوط پر مشتمل نوّے جلدوں کے مساوی ہے۔ اُنھوں نے اپنی ساری جاگیر اور دولت خاندان کے افراد، اپنے مزارعوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی تھی اور خود کو بالکلّیہ قلم کاری اور اپنے ’اِزم‘ کی ترویج و توسیع کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اپنی ڈائری میں اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ جارج ایلیٹ، ہومر، شیکسپیئر، تھیکیرے، پُشکن، ڈکنز، سروینٹیس، کانٹ، بودلیئر، گوئٹے اور روسی ہم عصر ترگینف اور دستوئیفسکی کی تحریروں نے اُن کی زندگی اور کام پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ خود ٹالسٹائی کی تحریروں نے نسلیں متاثر کی ہیں۔ گاندھی، مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر اور بے شمار نام وَروں نے ٹالسٹائی کی فکر سے اکتساب کیا ہے۔ وہ بہت پُرنویس، پُرخیال ادیب تھے۔ خود اُن کا اصرار تھا کہ اُنھیں محض قصّہ گو کی حیثیت سے شناخت نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسات سال زندگی اور مل جاتی تو اپنے خوابوں کی تعبیر 1917ء کا انقلاب بھی دیکھ لیتے۔ 1910ء میں ٹالسٹائی کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وقت کہاں ختم ہوا، ٹالسٹائی تو بہت زندہ ہیں۔ اِتنا منفرد، اِتنا کثیر اور فکرانگیز ترکہ چھوڑ جانے والا کیسے ختم ہو سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحریر: شکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439380345017,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64c91f47505d71690902343.jpg?v=1785707014"},{"product_id":"anna-karenina-classical-illustrated-edition-اینا-کریننا-کلاسیکل-مصور-ایڈیشن","title":"ANNA KARENINA (CLASSICAL) - ILLUSTRATED EDITION  اینا کریننا (کلاسیکل) - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی، لیو نکولائی وِچ: تخلیق کار، ادیب، داستاں گو، مفکّر، معلّم اور کسان۔ 1828ء، خاندانی ریاست، یَسنایا پولیانا، رُوس میں پیدائش، ایک امیر زادے، جاگیر دار، بہت بڑی ریاست کے مالک، سخت کوش، آوارہ مزاج، درد مند اور حقیقت شعار۔ نَو برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ جوانی، جوانی کی طرح گزاری۔ عمر کے بیسویں سال کازان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ترک کر دی۔ 1849ء میں اپنی جاگیر میں کاشت کاروں کے بچّوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔ ناکام ہو جانے پر سیر سپاٹے میں جی لگایا، ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے، دُنیا سے کھیلنے لگے۔ 1851ء میں ایک ملازمت مل گئی۔ قلم کاری کا جوہر خلقی تھا۔ ملازمت کے دوران اپنی سوانح ’’بچپن، لڑکپن اور جوانی‘‘ کی پہلی جلد ’’بچپن‘‘ رقم کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1852ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اِس عہد کے تجربے اُن کے شاہ کار ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کی بنیاد بنے۔ فوج کی ملازمت بھی جلد ہی ترک کر دی۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ کبھی ماسکو کا رُخ کرتے، کبھی اپنی جاگیر پر واپس آ جاتے۔ ماسکو میں ’’باپ اور بیٹے‘‘ کے مصنّف جلیل القدر اِیوان ترگینف اور دوسرے ہم عصر ادیبوں سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ ہم ذوقوں، ہم فکروں کی صحبتوں میں ذوق و فکر کی نمو تیز ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی تو، بہ قولِ فیض، لوح و قلم کی پرورش ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ کم عمری ہی میں اُنھوں نے ایک فکر انگیز قلم کار کی حیثیت سے سارے روس میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ وہ بڑی سنجیدہ تحریریں تخلیق کرنے لگے تھے، لیکن اُن کی زندگی اور زندگی کے معاملات و معمولات کچھ الگ تھے۔ نہ ایسی سنجیدگی، نہ اخلاقی اقدار کا ایسا پاس و لحاظ، جو اُن کی تحریروں کا خاصّہ تھا، جن تحریروں سے اُن کے خالق کی ایک تصویر بنتی تھی۔ وہ خوش اندام، لالہ فام نازنینوں کے شیدائی تھے۔ مست اَلست، خوب شراب لنڈھاتے تھے اور خوب خلوتیں آباد کیا کرتے تھے۔ اُدھر مقبوضہ علاقوں کے دشمن سپاہیوں سے اُن کا ربط ضبط رہتا تھا تو اِدھر سینٹ پیٹرز برگ کی کلیسائی قلم رَو میں اُنھوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ ایک دیہی دوشیزہ سے راز و نیاز اِس انتہا سے دوچار ہوئے کہ وہ اُن کے بچّے کی ماں بن بیٹھی۔ یہ قصّہ کسی نہ کسی طور ناخوشگوار انجام سے دوچار ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1857ء سے 1861ء تک اُنھوں نے مغربی یورپ کا دورہ کیا۔ جدید تہذیب کا یہ براہِ راست مشاہدہ اُن کے فکری و نظری سفر میں مہمیزی کا باعث ہوا۔ 1862ء میں، عمر 34 سال ہو گئی تھی اور بہت زندگی کھیل لی، بہت رنگ جما لیا تھا کہ کچھ قرار آیا۔ اپنے دوست کی 18 سالہ بیٹی سوفیا بہرس پر جا کے نظر ٹھیری اور شادی کر لی اور مسلسل پندرہ سال اپنی جاگیر پر نہایت شادماں، نہایت بھرپور زندگی گزاری۔ 26 سالہ ازدواجی رفاقت میں سوفیا 13 بچّوں کی ماں بنی۔ دونوں میں بڑی یک جائی تھی۔ شوہر کے بیش تر تخلیقی کام سوفیا کی اعانت کے مرہونِ منّت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1870ء ٹالسٹائی کے لیے فکری گرداب کا سال تھا۔ شک اور ابہام کی آلودگی سے وہ اپنے خاص فکر و نظر کی تقطیر کرنے اور انسانی زندگی کے ایک صاف اور سیدھا راستہ ڈھونڈ لینے کا یقین حاصل کرنے کے مراحل سے گزرا کیے اور اُنھوں نے کُھلے عام اپنے نظریات کی تلقین و تبلیغ شدّ و مد سے شروع کر دی۔ جمہوریت، مساوات، اخوّت اور انسان دوستی، اب یہی اُن کی زندگی کے مقاصد تھے۔ 1879ء میں اُنھوں نے رُوس کے سرکاری کلیسا سے اپنا ناتا توڑ لیا اور خود اپنے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ سوفیا نے اُن کی مخالفت کی اور تب اُنھیں ایسا لگا کہ شادی اُن کے عزائم کی راہ میں دیوار بن چکی ہے۔ 1888ء میں اُنھوں نے سوفیا کو آزاد کر دیا، یا یوں کہا جائے کہ خود آزاد ہو گئے۔ 1901ء میں اُن کے ناول ’’حیاتِ نو‘‘ پر روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اُن سے مقاطعہ کر لیا۔ ٹالسٹائی کی انقلابی فکر روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگی تھی۔ اپنی مدلّل اور مؤثر تحریروں کی وجہ سے روس میں اُن کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاثر و رسوخ اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ روسی حکومت کو اُن کی باغیانہ سرگرمیوں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی ایک سچّے اور کھرے تخلیق کار تھے۔ ناول ’’اینا کریننا‘‘ یا ’’جنگ اور امن‘‘ ہی نہیں، اُن کے دیگر قلمی کام بھی کارناموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا سارا تخلیقی کام، مقالات اور خطوط پر مشتمل نوّے جلدوں کے مساوی ہے۔ اُنھوں نے اپنی ساری جاگیر اور دولت خاندان کے افراد، اپنے مزارعوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی تھی اور خود کو بالکلّیہ قلم کاری اور اپنے ’اِزم‘ کی ترویج و توسیع کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اپنی ڈائری میں اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ جارج ایلیٹ، ہومر، شیکسپیئر، تھیکیرے، پُشکن، ڈکنز، سروینٹیس، کانٹ، بودلیئر، گوئٹے اور روسی ہم عصر ترگینف اور دستوئیفسکی کی تحریروں نے اُن کی زندگی اور کام پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ خود ٹالسٹائی کی تحریروں نے نسلیں متاثر کی ہیں۔ گاندھی، مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر اور بے شمار نام وَروں نے ٹالسٹائی کی فکر سے اکتساب کیا ہے۔ وہ بہت پُرنویس، پُرخیال ادیب تھے۔ خود اُن کا اصرار تھا کہ اُنھیں محض قصّہ گو کی حیثیت سے شناخت نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسات سال زندگی اور مل جاتی تو اپنے خوابوں کی تعبیر 1917ء کا انقلاب بھی دیکھ لیتے۔ 1910ء میں ٹالسٹائی کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وقت کہاں ختم ہوا، ٹالسٹائی تو بہت زندہ ہیں۔ اِتنا منفرد، اِتنا کثیر اور فکرانگیز ترکہ چھوڑ جانے والا کیسے ختم ہو سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحریر: شکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439421960377,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64c91c346463c1690901556.jpg?v=1785707305"},{"product_id":"anna-karenina-classical-illustrated-edition-اینا-کریننا-کلاسیکل-مصور-ایڈیشن-copy","title":"HAJI MURAD  حاجی مراد","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مُراد‘‘ ٹالسٹائی کا آخری ناول ہے۔ انقلابِ رُوس سے پہلے کےوسطی ایشیا کے علاقے کاکیشیا میں ٹالسٹائی نے اپنی زندگی کے کچھ ایام بسر کیے تھے۔ اس علاقے میں صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں، ان کی تاریخ، رسم و رواج اور تمدّن سے ٹالسٹائی بےحد متاثر ہوا۔ وسطی ایشیا کا یہ علاقہ رُوس کے بڑے ادیبوں کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ پشکن نے بھی اس علاقے کے مسلمان لیجنڈری ہیرو پر ایک ناول ’’کپتان کی بیٹی‘‘ لکھا تھا۔ ٹالسٹائی نے ’’حاجی مُراد‘‘ کو چُنا۔ حاجی مراد کا کردار انسان کی عظمتوں، خامیوں اور نازک جذبات کا جیتا جاگتا مجسمہ بن کر ٹالسٹائی کے تخلیق کیے ہوئے کرداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ حاجی مُراد حریت پسند ہے، وہ انا کا شکار ہے.... وہ انا جو اسے امام شامل سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیتی ہے، وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے تڑپتا ہے، ان کی زندگی کے لیے وہ سفید رُوسیوں کے بادشاہ ’’زارِ رُوس‘‘ سے بھی مفاہمت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے.... لیکن اپنی مذہبی جذباتیت، عقیدے کی سچائی اور رُوس دشمنی، جو آزادی کی علامت ہے، سے دستبردار نہ ہو سکا۔ یہ اس کردار کی وہ پیچیدگی ہے جس نے ٹالسٹائی جیسے عظیم ناول نگار کو متاثر کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیّد قاسم محمود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں آپ کو صرف یہ بتانے کےلیے لکھ رہا ہوں کہ مجھے آپ کا ہم عصر ہونے پر کس قدر خوشی محسوس ہوتی ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور ایک آخری پُرخلوص درخواست ہے: میرے دوست! لکھنے کی طرف لوٹ آؤ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبسترِ مرگ سے ایوان ترگینف کا خط، ٹالسٹائی کے نام\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شخص فن کا دیوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور دستوئیفسکی - رُوسی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے ’’حاجی مراد‘‘ پڑھا تواندازہ ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس سے ہمیں سیکھنا چاہیے۔ جب دوبارہ پڑھا تو میں دنگ رہ گیا.... میں نہیں سمجھتا کہ مجھ میں اتنی اہلیت ، اتنی طاقت، یا اتنی خواہش ہے کہ میں اتنی جزئیات نگاری کر سکوں جیسی ٹالسٹائی نے کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ٹالسٹائی کا پیروکار ہوں مگر میں اس جیسا کبھی نہیں لکھ سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسحاق بابِیل - رُوسی ادیب و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مراد‘‘ میرے لیے ادبِ عالیہ کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ یہ دُنیا کی بہترین کہانی ہے.... یا یوں کہہ لیجیے کہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب تک میں نے جتنی کہانیاں پڑھی ہیں ان میں سب سے اعلیٰ کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیرلڈ بلُوم - امریکی نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی اپنے کرداروں میں دیوتاؤںکی طرح رُوح پھونک دیتا ہے۔ ’’حاجی مراد‘‘ بھی اس سےمستثنیٰ نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجارج سٹائنر - امریکی نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مراد‘‘ ٹالسٹائی کی آخری،سب سے نکھری ہوئی کہانیوں میں سے ایک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجان بیلی - برطانوی نقاد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439470325945,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60f6d67e76a0c1626789502.jpg?v=1785707529"},{"product_id":"tolstoy-aik-sawaneh-ٹالسٹائی-ایک-سوانح","title":"TOLSTOY: AIK SAWANEH  ٹالسٹائی: ایک سوانح","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48440259838137,"sku":"BC SSH","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64d9d7071dd2e1691997959.jpg?v=1785707747"},{"product_id":"maa-ماں","title":"MAA  ماں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e1906ء میکسم گورکی نے ناول ’’ماں‘‘ روسی زبان میں تحریر کیا۔ یہ تصنیف روس میں جاری انقلابی ہلچل کے پس منظر میں لکھی گئی، مگر اُس زمانے کی سخت سنسرشپ کے باعث ناول کو روس میں شائع کرنے کی اجازت نہ ملی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1907ء ناول کی پہلی مکمل اشاعت انگریزی ترجمے کی صورت میں امریکا میں ہوئی۔ یہ ابتدا میں نیویارک کے جریدے Appleton’s Magazine میں قسط وار شائع ہوا۔ بعد ازاں D. Appleton \u0026amp; Company نے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔ انگریزی ترجمہ Isabel F. Hapgood نے کیا اور پیش لفظ امریکی صحافی Charles Edward Russell نے تحریر کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1907ء ’’ماں‘‘ کا مکمل روسی متن پہلی بار برلن سے شائع ہوا۔ یہ ایڈیشن روسی مہاجر پبلشر J. Ladyschnikow Verlag نے شائع کیا۔ اُس وقت روس میں اس کی آزاد اشاعت ممکن نہ تھی، اور مکمل متن کی اشاعت بیرونِ ملک ہی ممکن ہوئی۔ روس میں اسے شائع کرنے کی اجازت 1917ء کے انقلاب کے بعد ملی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1956ء سیّد محمد مہدی نے ناول کا براہِ راست روسی سے اُردو ترجمہ کیا، جسے ماسکو سے ’’بدیسی کتابوں کا اشاعت گھر‘‘ نے شائع کیا۔ اس ایڈیشن میں ’’کوکرینکسی‘‘ (Kukryniksy) کی تخلیق کردہ تصاویر شامل تھیں۔ کوکرینکسی دراصل سوویت دور کے تین معروف مصوروںMikhail Kupriyanov، Porfiry Krylov اور Nikolai Sokolovکا مشترکہ قلمی نام تھا جو ایک ہی دستخط کے ساتھ کام کرتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1987ء ’’پس لفظ‘‘ کے اضافے کے ساتھ اس کا چوتھا اور نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن ماسکو کے ’’رادوگا اشاعت گھر‘‘ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2022ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کےتحت شائع کیا۔ اس جدید اشاعت کو کوکرینکسی کی بنائی گئی تصویروں اور کتاب، مصنف و مترجم کے تعارف سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439547723961,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d5b815efa01771920257.jpg?v=1785707865"},{"product_id":"teen-rahi-تین-راہی","title":"TEEN RAHI  تین راہی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبڑا سا بھورا ٹوٹا پھوٹا مکان جو شہری کاریگروں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا ___ غربت کا ہر طرف راج تھا ___ زبردست کمزور کو مارتا تھا، بڑا چھوٹے کو خوب زوروں سے پیٹتا تھا ایسا کہ کبھی کبھی لوگ مر بھی جاتے تھے ___ یہاں تین دوستوں کا بچپن اور جوانی گزرتی ہے ____ یہ ہیں ہٹاکٹا دیہاتی جوان ایلیا لونیف جو ناول کا ہیرو ہے، خاموش اور بے زبان یاکوف فلیمونوف اور لوہار کا آزاد اور لڑاکو بیٹا پاویل گراچیوف ___ ایک عظیم مصور کی مہارت کے ساتھ گورکی نے انسانی زندگی کی تباہی کی تصویر کشی کی ہے، ویرا اور اولم پیادا نامی لڑکیوں کے بارے میں، ایلیا لونیف کے المیہ انجام، یاکوف فلیمونوف کی قبل از وقت موت کے بارے میں لکھا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح پاویل گراچیوف نے نئے دوست بنانے اور ان کے ساتھ مل کر زندگی کی نئی حقیقتوں سے آشنا ہوا ___\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439582884025,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/620e4e8d8af871645104781.jpg?v=1785708041"},{"product_id":"aur-don-behta-raha-2nd-edition-اور-ڈان-بہتا-رہا","title":"AUR DON BEHTA RAHA (2ND EDITION)  اور ڈان بہتا رہا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپس ورق:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعظیم رُوسی مصنف میخائیل شولوخوف کا نوبل انعام یافتہ ناول ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ پوری دُنیا میں معروف و مقبول ہے۔ اس ناول میں بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کے رُوس کی ثقافت و معاشرت اور اجتماعی و انفرادی نفسیات کا بےمثال فن کارانہ بیان ہے۔ ناول کی کہانی دریائے ڈان کے کنارے آباد رُوسی کاسکوں کے گِرد گھومتی ہے۔ دل کش منظر کشی، جزئیات نگاری، کردار نگاری اور دل نشیں اسلوبِ نگارش کے باعث یہ ناول قاری کی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہاں سماجی حقیقت نگاری (Social Realism) کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ حقیقت افسانے سے بڑھ کر تحیر خیز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جوں جوں ناول پڑھتے جاتے ہیں اس کے کردار ہمارے ارد گرد چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ یہی ایک غیر معمولی ادبی شہ پارے کی نشانی ہوتی ہے۔ پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۹۱۸ء) اور بالشویک انقلاب (۱۹۱۷ء) کے تفصیلی ادبی بیان نے اس ناول کو بےحد اہم بنا دیا ہے۔ مصنف نے انقلاب کے حالات اور کرداروں کی جس طرح لفظی تصویر کشی کی ہے وہ کسی فنی معجزے سے کم نہیں ہے۔ انقلابِ رُوس کے تعلق سے بےپناہ ادب تخلیق ہوا لیکن زیرِنظر ناول جیسی فن کارانہ دیانت، غیر جانب داری، بےباکی اور انسان دوستی شاید ہی کسی اور ناول میں نظر آئے۔ یہاں انسان نظریے سے اہم تر دکھائی دیتا ہے۔ امن، جنگ، انقلاب اور خانہ جنگی کا احوال بیان کرتے ہوئے ناول نگار کی چابک دستی اور بیان پر گرفت داد سے بالا ہے۔ مخمور جالندھری نے جس محنت، مہارت اور ہمہ گیری سے ناول کا اردو ترجمہ کیا اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ اس اعلیٰ درجے کے ناول کا ترجمہ بھی اتنا ہی اعلیٰ درجے کا ہوا ہے۔ مترجم کی اُردو زبان پر تخلیقی گرفت اور مناسب ترین الفاظ کا چناؤ قابلِ تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ نہ صرف رُوسی بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک شہ کار ہے۔ بڑا ادب پڑھنے کے شوقین افراد کے لیے یہ ناول ایک سوغات سے کم نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیخائیل شولوخوف ۱۹۰۵ء میں ویشانسکایا، رُوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ۱۹۱۸ء میں محض تیرہ سال کی عمر میں شولوخوف کو تعلیم چھوڑ کر روسی خانہ جنگی میں شامل ہونا پڑا۔ وہ بالشویکوں کی فوج میں شامل ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے افسانے لکھنے شروع کر دیے تھے۔ ۱۹۲۲ء میں وہ صحافی بننے کی امید لیے ماسکو چلے گئے جہاں وہ گزر اوقات کے لیے مزدوری بھی کرنے لگے۔ جلد ہی وہ اپنے آبائی علاقے میں پلٹ آئے اور خود کو تصنیف و تالیف کے لیے وقف کردیا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا عرصۂ تخلیق ۱۹۲۶ء تا ۱۹۴۰ء ہے۔ اس ناول کو ان کی تمام تصانیف میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اسی ناول نے ان کو سٹالن پرائز اور نوبیل پرائز سے سرفراز کیا ۔ ان کے ایک اور ناول کو لینن پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی کتابیں ۴۷ زبانوں میں ترجمہ اور ۴۵ ملکوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ میخائیل شولوخوف کا انتقال ۱۹۸۴ء میں ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۳۷ء میں ہوا۔ انہوں نے متعدد قلمی ناموں سے ’’تھرلر‘‘ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اٹھایا۔ میخائیل شو لوخوف کے ’’کنوارے کھیت‘‘ اور ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ انھی کے فن ترجمہ کے شاہ کار ہیں۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ نٹ ہیمسن کی ’’بھوک‘‘، میکسم گورکی کی ’’دیوانہ ہے دیوانہ‘‘ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہ کار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری ۱۹۷۹ء کو ہوا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا ترجمہ اپنی زبان، اسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439599136953,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6437c73054ab91681377072.jpg?v=1785708717"},{"product_id":"yeh-soorma-hamara-یہ-سورما-ہمارا","title":"YEH SOORMA HAMARA یہ سورما ہمارا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیخائل لیرمونتوف کا یہ ناول ’’اے ہیرو آف آور ٹائم‘‘ 1840ءمیںشائع ہوا۔ لیرمونتوف نے اسے 1838ء میں لکھنا شروع کیا اور1839ء میں اسے تکمیل تک پہنچا دیا۔ اس ناول کی اشاعت رُوس میں خاصی تہلکہ خیز ثابت ہوئی۔ اس کا شمار دُنیا کی بڑی تخلیقات میں کیوں کیا جاتا ہے؟ اس میں ایسی کون سی انفرادیت ہے جس نے اسے ڈیڑھ سو برس سے زندہ رکھا ہے اور ڈیڑھ صدی میں اسے اَن گنت لوگوں نے مختلف زبانوںمیں پڑھا ہے؟ تواس کا سیدھا سادا جواب میرے پاس یہ ہے کہ جہاں اس ناول کا اسلوب بےحد جاندار ہے، وہاں اس کامرکزی کردار پچورین عالمی ادب کا ایک ایسا کردار ہے جو ہمیشہ اپنے پڑھنے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا رہے گا۔ پچورین ایک ایسا کردارہے جسے ابدیت کی روشنائی سے تحریر کیا گیا ہے۔ ہر دَور میں یہ کردار زندہ رہے گا۔ ہر دَور کے لوگ اسے اپنے عہد کاہیرو سمجھیں گے کیونکہ اس میںبعض ایسی انسانی خوبیاں اور ایسی صداقتیں جمع کر دی گئی ہیں جوہر انسان کے لیے معنی بھی رکھیں گی اور کشش بھی۔ اصل میں یہ پچورین ہی ہے جسے اس دَور میں سمجھا نہ جا سکا اور جو اتنا عمیق گہرا اور تہہ در تہہ کردار ہے کہ ہر دَور اس کی پرت اتارے گا لیکن اس کو پوری طرح دیکھ نہ پائے گا۔ (ستار طاہر)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو ادب کی تاریخ میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ پانچ بہنیں ہوں اور سب کی سب اُردو زبان و ادب میں بڑا نام بنائیں۔ شاہدہ زیدی، صابرہ زیدی، زاہدہ زیدی، ساجدہ زیدی اور خدیجہ زیدی (خدیجہ عظیم) ایسی ہی پانچ بہنوں کے نام ہیں، جن میں سے ہر ایک کی اپنی منفرد شناخت ہے۔ ان سب کی والدہ بیگم مختار فاطمہ زیدی خود ایک شاعرہ تھیں اور تاریخ ادب اُردو کی عظیم خاتون صالحہ عابد حسین کی سگی بہن تھیں، جن کا سلسلۂ نسب خواجہ الطاف حسین حالیؔ تک پہنچتا ہے۔ خدیجہ عظیم اپنی بہنوں میں سب سے چھوٹی اور مایہ ناز افسانہ نگار اور مترجم انور عظیم کی اہلیہ تھیں۔ انھیں اُردو، انگریزی کے ساتھ ساتھ رُوسی زبان پر بھی گہری گرفت حاصل تھی۔ انھوں نے انور عظیم کے ساتھ ماسکو میں پانچ سال قیام کے دوران بہت سے رُوسی فن پاروں کو اُردو میں منتقل کیا اور پھر وہاں سے واپس آنے کے بعد ساہتیہ اکادمی دہلی سے وابستہ ہو کر متعدد ترجمے کیے۔ ان کے دیگر تراجم میں ٹالسٹائی کے مشہور زمانہ ناول ’’آنا کارینینا‘‘ اور ’’کزاک‘‘، ولادیمیر کرالنکو کی خودنوشت ’’نابینا موسیقار‘‘، پاول کولینتکسی کا ناول ’’پہاڑوں کی بیٹی‘‘، الیگزینڈر پشکن کا ناول ’’کپتان کی بیٹی‘‘، ایوان ترگینف کا ناول ’’سحر ہونے تک‘‘، روویم فرائیر مان کا ناول ’’جنگلی کتا ڈنگو، داستان پہلی محبت کی‘‘، پوستووسکی کی کہانیاں ’’وقت کی اُڑان‘‘ اور الیگزینڈر کوپرین کی کہانیوں کا مجموعہ ’’یاقوتی کنگن‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے متعدد کتابوں کے ترجمے کیے اور تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے۔ بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور کتھک رقص کی ماہر نیلیما عظیم ان کی صاحبزادی اور فلمی دُنیا کا چمکتا ستارہ شاہد کپور ان کا حقیقی نواسہ ہے۔ خدیجہ عظیم کا انتقال جمعرات کی دوپہر 16 جنوری 2020ء کو ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439600709817,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6167e39b52fa51634198427.jpg?v=1785708908"},{"product_id":"baap-aur-betay-illustrated-edition-باپ-اور-بیٹے-مصور-ایڈیشن","title":"BAAP AUR BETAY (ILLUSTRATED EDITION)  باپ اور بیٹے (مصور ایڈیشن)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439603101881,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60367b1b4c7671614183195.jpg?v=1785709080"},{"product_id":"mera-daghestan-graphic-edition-3rd-edition-میرا-داغستان-مصور-ایڈیشن-تیسرا-ایڈیشن","title":"MERA DAGHESTAN | GRAPHIC EDITION | 3RD EDITION  میرا داغستان | مصور ایڈیشن | تیسرا ایڈیشن","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eبڑی کتابیں تجربہ کار عورتوں کی طرح ہوتی ہیں۔ جب تک آپ کا تجربہ اُن کے ہم پلّہ نہیں ہوتا،آپ انھیں نہیں سمجھ سکتے۔ میں رسول حمزاتوف کا اسیر ہو گیا تھا۔ میں اُس کے داغستان اور مٹی کی محبت میں قید ہو گیا۔ وہ مجھے اپنے پنجاب کے قریب لے آیا تھا۔ وہ مجھے اُس کے ایک ایک درخت، ہر موسم، ہر جوہڑ اور ہر داستان کے قریب لے آیا تھا۔ میں نے کبھی سوہنی کے حُسن یا ہیر کے رانگلے پلنگ یا صاحباں کے جنس بھرے عشق پر غور نہیں کیا تھا۔ رسول نے مجھے اپنے بےتوقیر اور بےبس ادیب ہونے کا احساس دلایا۔ میرا دامن اُس کی نسبت سے کہیں زیادہ پُرکشش اور ہیرے موتیوں سے مالا مال تھا لیکن میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا... اور ایک ندامت بھی تھی، میں رسول جیسا ایک صفحہ بھی لکھنے پر قادر نہیں تھا۔ جن چار پانچ کتابوں نےمیری زندگی پہ بہت گہرا اثر کیا ہے اور جو میری ذات کا ایک حصہ بن گئی ہیں بلکہ سوچ سوچ کے جو کچھ میں نے لکھا ، اس میں ان کی مہک ضرور شامل ہے۔ جب میں نے ’’میرا داغستان‘‘ پڑھی تو یہ اُن چار پانچ کتابوں میںشامل ہوگئی جو میری تخلیقی حس تھی، اس کا ایک حصہ بن گئیں تھیں۔ مَن تُو شُدم، تُو مَن شُدی والا سلسلہ ہے کہ مجھ میں اور اُن میں کوئی فرق نہ رہا۔ (مستنصر حسین تارڑ\u003cspan\u003e)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439622467769,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/684a95ac373121749718444.jpg?v=1785710003"},{"product_id":"nikolai-gogol-choti-bari-kahaniyan-نکولائی-گوگول-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"NIKOLAI GOGOL : CHOTI BARI KAHANIYAN نکولائی گوگول : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنکولائی گوگول 20 مارچ 1809ء کو یوکرین میں پیدا ہوا۔ بچپن میں ہی اس نے یوکرین کے فوک ادب اور کرداروں سے گہری واقفیت پیدا کر لی تھی۔ یوکرین ہی میں اس نے تعلیم حاصل کی۔ وہ اٹھارہ برس کا تھا کہ اس نے پیٹرز برگ کا رُخ کیا۔ تب اس کا ارادہ سٹیج اداکار بننے کا تھا، لیکن اس میں وہ ناکام رہا اور نتیجے میں اسے کلرکی کرنی پڑی۔ کچھ عرصہ ایک سکول میں بھی پڑھاتا رہا مگر اپنی ملازمتوںسے غیر مطمئن تھا۔ اس زمانے میں اس نے ایک نظم لکھی جو اس کے نام کے بغیر شائع ہوئی۔ اس کی ہمت بندھ گئی۔ گوگول کی شہرت کا آغاز کہانیوں سے ہوتا ہے۔ جب اس کی کہانیوں کا مجموعہ ’’دیكانكا كے پاس گائوں كی شامیں‘‘ شائع ہوا تو بطور ادیب اور کہانی کار اس کی لازوال شہرت کا آغاز ہوا۔ انہی کہانیوں کی وجہ سے وہ رُوس کے عظیم شاعر اور جدید رُوسی ادب کے بانی پُشکن کی قربت میں پہنچا۔ وہ پُشکن کا مداح بن گیا۔ اس کا زیادہ تر وقت پُشکن کی رفاقت میں بسر ہوتا۔ گوگول جہاں بحیثیت انسان بہت عجیب و غریب شخص تھا وہاں وہ بعض لازوال تخلیقات کی وجہ سے بھی ساری دُنیا کے لیے اب تک دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس نے یوکرین کے علاقے اور اس کے لوگوں، ثقافت اور رسم و رواج کو زندۂ جاوید کر دیا۔ عالمی ادب کا کون سا ایسا طالبِ علم ہے جس نے گوگول کے شاہکار ’’تاراس بلبا‘‘ کو نہ پڑھا ہو۔ ایک ایسی طویل کہانی یا ناولٹ جس نے اپنی اشاعت کے دور سے لے کر اب تک ساری دُنیا کو متاثر کیا ہے۔ دُنیا کے شاہکار افسانوں کی جب بھی فہرست بنے گی اس میں ’’اوورکوٹ‘‘ کا نام بھی شامل ہو گا۔ اس عظیم کہانی کا ترجمہ دُنیا کی ہر زبان میں ہوچکا ہے۔ گوگول کی آخری تخلیق ’’ڈیڈسولز‘‘ تھی۔ 2 جون1842ء کو اس کا پہلا حصہ شائع ہوا۔ اسے خاصی شہرت ملی، لیکن یہ گوگول کی توقع سے بہت کم تھی۔ تاہم اسے یقین تھا کہ اس ناول کے بعد میں لکھے جانے والے حصے پورے رُوس کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ دوسرے حصے میں گوگول رُوس کی روح کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کے معمے کو بھی حل کرنا چاہتا تھا۔ تیسرے حصے میں وہ اس ناول کے حوالے سے رُوس کونجات کا راستہ دکھانے کا خواہاں تھا، لیکن اب وہ ذہنی علالت کے اس درجے پر تھا کہ اس سے کچھ لکھا نہ جارہا تھا۔ جون 1845ء میں اس نے ’’ڈیڈ سولز‘‘ کے اس دوسرے حصے کو خود نذرِ آتش کردیا جتنا کہ اس نے اسے اب تک لکھا تھا۔ یہ واقعہ 24 فروری1852ء کی رات کو پیش آیا اور اس کا اسے گہرا صدمہ ہوا۔ اپنی عظیم تخلیق کو اپنے ہاتھ سے جلا دینے کے غم نے اسے ہمیشہ کے لیے بستر سے لگا دیا۔ غذا کو ہاتھ لگانا چھوڑ دیا اوراسی فاقہ کشی کے عالم میں اپنے مسوّدے کو نذرِ آتش کرنے کے نو دن بعد 4 مارچ 1852ء کو گوگول چل بسا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ سے ماخوذ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439627972793,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/678e57b9273351737381817.jpg?v=1785710353"},{"product_id":"maupassant-choti-bari-kahaniyan-موپاساں-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"MAUPASSANT : CHOTI BARI KAHANIYAN  موپاساں : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eموپاساں وہ شخص ہے جس کی نظر انسانی زندگی کے تاریک نہاں خانوں تک پہنچتی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور وہ اس مقام سے انسانیت کی کشمکش کی تشریح کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- لیو ٹالسٹائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں روحانی کرب کا شکار ہے، نہ صرف اس مادی دنیا کی نامعقولیت سے، اس میں خوبصورتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکی غیرموجودگی سے، بلکہ دنیا میں سچی محبت کی عدم فراوانی سے دل گرفتہ ہے۔ میں نے آج تک کسی شخص کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدل شکستگی میں اتنی مایوس کن آہ و فغان نہیں سنی جسے اپنی تنہائی کا ادراک ہو... یہ صرف موپاساں ہی ہے جو اپنی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکہانیوں میں اپنے دکھ کا بیان کرتا ہے۔ یہ لکھاری ایک مخصوص صلاحیت کا حامل ہے جسے جوہر کہتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ جوہر اس قابلیت پر مشتمل ہے جو اسے کسی بھی موضوع پر ایسی نگاہ ڈالنے کے قابل بناتا ہے ،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجو اسے اس موضوع میں وہ کچھ دکھاتا ہے جو کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھ پاتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- لیو ٹالسٹائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں پیدائشی لکھاری ہے۔ اپنے ہم عصروں میں سمجھدار ترین اور توانا ترین سوچ کا حامل کہانی نویس...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- ایمیل زولا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتوانائی، لچک، توازن... اس قدآور اور ماہر کہانی نویس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کا جوش و ولولہ دانستہ ہے اور اس کا فن کامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- اناطول فرانس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں تاریخ کی کسی بھی صدی سے ناآشنا ہوں جس میں کسی ایک مقام پر اتنے نفیس نفسیاتی تجسس سے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھرپور اذہان پائے جاتے ہوں جتنے اس وقت پیرس میں موجود ہیں۔ اگر ان میں بلند فکر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقدوقامت کے حامل کسی ایک شخص کا نام لینا چاہوں تو وہ موپاساں ہو گا...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- فریڈرک نیطشہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کا مطالعہ کبھی بے کیف نہیں ہوتا... وہ ماہر ترین قصّہ گو ہے... وہ اپنے کرداروں کے ساتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبیک وقت سنگدلی اور شفقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے اندیشوں اور ان کی حرکات و سکنات کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمذمت نہیں کرتا... وہ ان کی مشکلات سے نفرت نہیں کرتا۔ اپنے کرداروں کی ابتلا، دھوکے اور اضطراب کو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیکھتے ہوئے مجھے اس کی نگاہوں میں گہرے ترحم کا احساس ہوتا ہے... لیکن وہ ان سب کو دیکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ دیکھتا ہے اور اپنا چہرہ دوسری جانب نہیں موڑتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- جوزف کانریڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں نے دیکھا کہ ہماری فطرت کی بنیاد حیوانی جذبات پر قائم ہے... اور یوں وہ اکثر انسانی زندگی کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیوانی جہت کی عکاسی میں جتا رہا۔ شاید ہی کسی دوسرے کہانی نویس نے اتنے استدلالی انداز میں،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاتنے علم و تجربے کے ساتھ اور اپنے فن میں اتنی کامل چابکدستی کے ساتھ ایسا لکھا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- آرتھر سِمنز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچیخوف کے ساتھ موپاساں کا شمارعالمی ادب میں مختصر کہانیوں میں دنیا کے عظیم ترین ناموں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ہوتا ہے۔ وہ زولا کی طرح فطرت پسند نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی تحریروں میں انسانوں پر ان کے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماحول کا اثر نمایاں ہے، تاہم اس کے نزدیک انسانی محرکات کی بنیاد نفسیاتی عوامل پر ایستادہ نہیں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کی فطرت پسندی میں شوپنہاؤر کی قنوطیت عیاں ہے اور یوں انسانی سرشت کی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتصویر کشی میں وہ اکثر سنگدلی اور سختی کا مظاہرہ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- پروفیسر کورنیلئے کواس\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48444759048377,"sku":"BC SSH","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/625114a21c41b1649480866.jpg?v=1785749163"},{"product_id":"nanha-shahzada-pictorial-edition-ننھا-شہزادہ-مصور-ایڈیشن","title":"NANHA SHAHZADA (PICTORIAL EDITION)  ننھا شہزادہ (مصور ایڈیشن)","description":"","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445027483833,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/643fbb22e0c451681898274.jpg?v=1785750648"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/collections\/world-fiction-in-urdu.oembed?page=3","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}