{"product_id":"aap-beeti-jag-beeti-آپ-بیتی-جگ-بیتی","title":"AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔ \u003cbr\u003eبک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔ \u003cbr\u003eفنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔\u003cbr\u003e(طاہرہ اقبال)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386020540601,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69392b684d5f11765354344.jpg?v=1785286071","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/aap-beeti-jag-beeti-%d8%a2%d9%be-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c-%d8%ac%da%af-%d8%a8%db%8c%d8%aa%db%8c","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}