{"product_id":"agar-mujhe-qatal-kia-gaya-اگر-مجھے-قتل-کیا-گیا","title":"AGAR MUJHE QATAL KIA GAYA  اگر مجھے قتل کیا گیا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبھٹو کی کتاب ’’اگر مجھے قتل کیا گیا....‘‘ کا اُردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ترجمے سے پہلے قارئین کرام میری چند ضروری معروضات کو ضرور پڑھ لیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصےسے اس کتاب کاشہرہ رہا ہے۔ یہ کتاب بھٹو مرحوم نے جیل کی اس کوٹھڑی میں لکھی جو اُن لوگوں کے لیےمخصوص کی ہوتی ہے جنھیں موت کی سزا دی جانی ہو۔ راولپنڈی جیل میں موت کی وہ کوٹھڑی جہاں شہید بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور یہ کتاب کاغذوں کو گھٹنوںپررکھ کر مکمل کی کہ انھیں وہاں لکھنے پڑھنےکی سہولتیں حاصل نہیں تھیں، مٹی اور اینٹوں سےبنی ہوئی وہ کوٹھڑی تو مارشل لا کے حکمران نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میںمسمار کروا دی۔ لیکن اس کوٹھڑی میں لکھی گئی یہ کتاب موت کی اس کوٹھڑی کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو اور غیرملکی زبانوں میں جیل میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد خاصی ہے اور ان میں سے بعض کو دائمی اہمیت اور شہرت بھی حاصل ہوئی ہے۔ حبسیات کے حوالےسے بھٹو مرحوم کی یہ کتاب ان زندہ رہنے والی کتابوں میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک عرصے تک اس کتاب کو دبایا گیا۔ پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت جنرل ضیاء الحق کے حکم سے ممنوع قراردی گئی۔ اسے شائع کرناجرم تھا۔ اسے فوٹو سٹیٹ اور دستی نقل کی صورت میں رکھنا، پڑھنا اور تقسیم کرنا ایسا جرم تھا جس کی سزا کوڑے اور جیل کی کوٹھڑی ہو سکتی تھی۔ ایک دو ایسے پریس جہاں اسے شائع کرنے کی کوشش کی گئی وہاں چھاپے پڑے۔ ان کے مالکوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پریس بھی ضبط کرلیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیا کےمارشل لا کے دور میں مرحوم بھٹو کی زندگی میں ان کی کردار کشی اور سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کومتاثر کرنے کےلیے فوجی ٹولےنے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی حکومت کی طرف سےان کی اور ان کے حکومت کےخلاف وائٹ پیپر شائع کیے جائیں۔ یہ ایک گھنائونی چال تھی، جو جان لیوا دشمنی پر ہی مبنی نہیں تھی بلکہ اس کےذریعے سپریم کورٹ کے ججوں، پاکستان کے عوام اور عالمی رائےعامہ کو بھی گمراہ کرنامقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے شائع، جاری اور تقسیم کیے جانے والے دو وائٹ پیپرز کاجواب اس کتاب میں دیا ہے۔ اس کےبعد تین جلدیں مزیدشائع ہوئیں، جن کا جواب بھٹو مرحوم نہ دے سکے کیونکہ ان کی زندگی کی ڈوری پھانسی کے پھندے کے ذریعے کاٹ دی گئی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹومرحوم نے مارشل لا حکومت کی طرف سے مرتب کردہ ان وائٹ پیپرز کی دو جلدوں کا جواب سپریم کورٹ میں پیش کرنےکے لیے لکھاتھا۔ سپریم کورٹ نے اس اہم دستاویز کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ایساکیوں ہوا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس کے مضمرات بھی اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ بہرحال مارشل لا حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آگئی کہ بھٹو مرحوم کے اس جواب کو دبایا اور نیست و نابود کر دیا جائے۔ اپنی جگہ یہ طرزِ عمل کتنا گھنائونا ہے، اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قدم قدم پراسلام کانام لینے والے اور قرآنی آیات پڑھنے والے جنرل ضیاء الحق کو یہ سیدھا سادہ انسانی، اخلاقی، مذہبی اور قانونی اصول یادنہ رہا کہ ملزم کو جواب دینے کا ہرطرح کاحق حاصل ہوتا ہے اور اسے اس حق سےمحروم کرنے والا دین و دُنیا دونوں لحاظ سےخود بہت بڑا مجرم اور گناہ گار ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتمام تر پابندیوں کے باوجود بھٹو مرحوم کی اس آخری تحریر کے حصول کے لیے پاکستانی عوام جدوجہد کرتے اور متجسس رہے۔ فوٹو سٹیٹ کاپیوں کی صورت میں یہ خفیہ طورپر پڑھی جاتی رہی۔ یہ فوٹو سٹیٹ کاپیاں نامکمل اور ناقص تھیں۔ دوسری طرف پڑوسی ملک بھارت میںاس کتاب کو موقع پرستوںاور تاجروںنےاپنے انداز میں استعمال کیا۔ اس اہم ترین تحریرکے ناقص اور نامکمل اردوترجمے ہوئے،انھیں بڑےناقص انداز میں شائع کیاگیا۔ انگریزی میںبھی اسے بہت سے ناشروں نے ادھورا ہی شائع کرکے پڑھنے والوں کے تجسس اور ذوق کامالی استحصال کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی صورت میں پہلی بار بھٹو مرحوم کی اوریجنل تحریر کا مکمل اور پورا اُردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ مستندکتاب سے کیا گیا ہے، جو بھٹو مرحوم کی ہی اپنی تحریر تھی، اس میںکوئی شبہ نہیں کیاجاسکتا۔جب بھٹو مرحوم نے یہ تحریر راولپنڈی جیل کی موت کی کوٹھڑی میں لکھی اور اب جب اس کا پہلا ترجمہ آپ تک پہنچ رہا ہے تو وقت کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی تیزی سے بہہ چکاہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجنرل ضیاء الحق اپنے خوفناک انجام سے دوچار ہوچکا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی حکمرانی ہے اور بھٹو مرحوم کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کےہاتھوں میں ملک کی قیادت آچکی ہے۔یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ محترمہ بےنظیربھٹو کو پاکستان کی قیادت 1988ء میں ملی تواس وقت کاپاکستان 1970ء کے پاکستان سےبھی زیادہ شکستہ اور کمزور حالت میں ہے جب جناب بھٹو نےملک کی قیادت سنبھالی تھی۔ بہرحال یہ ایک عظیم چیلنج ہے، جس کاسامنا محترمہ بے نظیر بھٹو کو کرنا پڑ رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبھٹو مرحوم کی اس آخری طویل اور مکمل تحریر کا ترجمہ بذاتِ خود ایک کربناک تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ قارئین بھی جب بھٹو مرحوم کی اس تحریرکوپڑھیں گے تو بہت کرب اور بے چینی محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیںگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اگرمجھے قتل کیا گیا....‘‘ ایک عہدِ تاریک کاآئینہ ہے۔ جس میںایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبیہوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ بھٹو مرحوم یہ کتاب لکھتے ہوئے کس کرب سے گزرے ہوں گے۔ لکھنےپڑھنے کی سہولتوں کے فقدان کے باوجود انھوںنے یہ کتاب جس انداز میںلکھی ہے، یہ اپنی جگہ بڑا اہم کارنامہ ہے۔ بھٹو مرحوم اپنے ہی الفاظ کےمطابق ہمیشہ سے ایک شاعر اور انقلابی تھے۔ یہ کتاب، اس کا طرزِ اسلوب، اس کی نثر ثابت کرتے ہیں کہ بھٹو واقعی ایک شاعر اور انقلابی ہے۔ اس کتاب میں شعریت اور انقلاب کا ایک ایسا امتزاج ملتاہے جس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ طرز ِاسلوب کسی مصنّف کی اصل پہچان اور رُوح ہوتا ہے۔ اس میں انفرادیت حاصل کرنا سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ بھٹو مرحوم اس کتاب کی نثر اور طرزِ اسلوب کےحوالے سے اس کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین دور کا تجزیہ ہے۔ اس سازش کا قصہ ہے جس نےایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس میںہمیں بہت سےچہرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چہرے جو اَب بساطِ ہستی سے غائب ہوچکے ہیں اور کچھ اب بھی موجود ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں جن کا مطالعہ لرزا دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کو ضیاء الحق کے دور میں اس لیے بڑی سختی سے دبایا گیا کہ بھٹو مرحوم نےجو انکشافات کیے تھے اس کا جواب نہیں دیاجاسکتاتھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بھٹو کی نابغیت پوری شان سے جھلکتی ہے۔ ان کا علم، تجربہ، بےپناہ حافظہ اور بات کہنے کا اسلوب پورے عروج پر ملتا ہے۔ ایک قانون دان اور عظیم عوامی سیاست دان کی حیثیت سے بھی یہ کتاب ان کا روشن پہلو ہمارے سامنےلاتی ہے۔ یہ کتاب ان کی بےپناہ ذہانت اور ذکا وت، ملک کے عوام کے ساتھ دردمندی کو ظاہر کرتی ہے۔ حالات اور آنے والے دنوں کا جس انداز سے وہ تجزیہ کرتے ہیں، اس پر میں اس لیے کچھ نہیں کہوں گا کہ 1978ء میں لکھی جانے والی اس کتاب نے آج 1989ء تک بھٹو کے تجزیے اور بصیرت پر صداقت کی گئی مہریں ثبت کر دی ہیں۔ بھٹو مرحوم نے معروضیت کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ اپنی حکومت کی خامیاں بڑی دلیری سے پیش کی ہیں۔ خوداحتسابی کا اظہار بےباکی سےملتا ہے اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وہ ایک عظیم رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سچّے محبّ وطن پاکستانی کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔یہ کتاب سچّے واقعات اور کرداروں کا دلچسپ لرزہ خیزاظہار کرتی ہے۔ جب بھٹو عوامی اور فلسفیانہ دانش کے امتزاج سےطنز کرتے ہیں توان کی تحریر کا حُسن نکھر کر، سامنے آتا ہے۔ بھٹو کی طنز بڑی طاقتور ہے۔ کیونکہ یہ طنز حقائق پر مشتمل ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کا مطالعہ ایک بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت میں نے پوری کوشش کی ہے کہ بھٹو کا طرزِ اسلوب بھی جس حدتک ممکن ہو سکے اُردو میں منتقل کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ بعض ایسے امورجو بعد میں سامنے آئےان کی وضاحت کردی گئی ہے، تاکہ قاری اس کتاب کے آئینے میں پوری تصویر دیکھ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس میں مجھے کس حدتک کامیابی ہوئی ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والے ہی کر سکیں گے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستّار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاہور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e22 اپریل 1989ء\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48450228617401,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6249ef4938e7d1649012553.jpg?v=1785785972","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/agar-mujhe-qatal-kia-gaya-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}