{"product_id":"dara-shikoh-داراشکوہ","title":"DARA SHIKOH  داراشکوہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eشہنشاہوں کی تاریخ، فوج، کنیزیں، اصیلیں، مغلانیاں، قلمقانیاں، باندیاں، لونڈیاں، نوکر چاکر، مصاحب .... ان کی داستاں کوئی لکھ سکتا تھا تو وہ قاضی صاحب تھے۔ بادشاۂ وقت، تیور بھی شاہانہ رکھتے تھے۔ محاورہ ہے کہ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا۔ نواب سے ملنے والا آیا تو وقت رُخصتی خالی ہاتھ کیسے جانے دیں۔ پیتل کا گھنٹہ دے دیا۔ ان پر لکھنے کو دُنیا بھر کی کتابیں اور کہانیاں ہیں۔ مگر آج قاضی صاحب کے صرف ایک ناول ’’دارا شکوہ‘‘ پر اکتفا کروں گا۔ ’’دارا شکوہ‘‘ پڑھتے ہوئے لگتا ہے، شاہجہاں کا پانچواں بیٹا، جس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہی یہ رُوداد رقم کر رہا ہے۔ یہ ماضی کا قصّہ نہیں، یہ آج کا قصّہ ہے۔ لکھنے والے قاضی صاحب.... تاریخ کے محافظ قاضی صاحب.... اور اس دَور کے عینی شاہد قاضی صاحب.... وہ حقیقت میں بادشاہ تھے.... جلال و جمال کی شاہانہ مثال.... ’’دارا شکوہ‘‘ کسی جادو سے کم نہیں۔ جی چاہتا ہے، شاہجہاں کے کردار میں قاضی صاحب کو دیکھوں.... قاضی صاحب سے کئی ملاقاتیں رہیں، ہر ملاقات یادگار۔ کافی پہلے انھوں نے کہا تھا، افسانہ چاول پر قُلْ هُوَ اللّٰہ لکھنے کا نام ہے۔ ان کے ناول اور افسانے پڑھنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ وہ کہانیوں کے بادشاہ تھے۔ جب تک جیے شان سے جیے۔ وہ نمائش کے لیے افسانہ نہیں لکھتے تھے۔ وہ غیب کی صداؤں کو زنبیل سے نکالتے اور لفظوں کا انتخاب کرتے۔ انھوں نے جو بھی لکھا، کسی شاہکار سے کم نہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمشرف عالم ذوقی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48475803320505,"sku":"BC SSH","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6029416a710ae1613316458.jpg?v=1785962741","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/dara-shikoh-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%b4%da%a9%d9%88%db%81","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}