{"product_id":"ghubar-e-khatir-غبار-خاطر","title":"GHUBAR E KHATIR  غبار خاطر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eہندوستان پر انگریزوں کے سیاسی اقتدار کے خلاف ہماری پچاس سالہ جدوجہد کا نقطہ عروج وہ تھا، جسے’’ ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک کہا گیا ہے۔ 8 اَگست1942ء کو انڈین نیشنل کانگریس کا خاص اجلاس بمبئی میں منعقد ہوا، جہاں یہ قرارداد منظور ہوئی کہ انگریز اس ملک کے نظم و نسق سے فوراً دست بردار ہو کر یہاں سے سدھاریں اور ہمیں اپنے حال پر چھوڑیں۔ اس لیے اس کے بعد جو تحریک شروع ہوئی، اس کا نام ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ پڑ گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس وقت دوسری عالمی جنگ اپنے پورے شباب پر تھی۔ انگریز بھلا ایسی قرارداد اور ایسی تحریک سے کیوںکر صرف نظر کر سکتا تھا۔ اخباروں میں اس طرح کی افواہیں پہلے سے چھپ رہی تھیں کہ کانگریس اس مفاد کی قرارداد منظور کرنے والی ہے۔ اس لیے حکومت نے حفظِ ماتقدم کے طور پر سب انتظام کر رکھے تھے۔ اس زمانے میں مولانا ابوالکلام آزاد کانگریس کے صدر تھے۔ 8اگست کی شب کو دیر تک یہ جلسہ ہوتا رہا جس میں یہ قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اسی رات کے آخری حصے میں یعنی9اگست کو علی الصباح حکومتِ وقت نے تمام سر کردہ رہنمائوں کو سوتے میں بستروں سے اٹھا کر حراست میں لے لیا اور ملک کے مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا۔ مولانا آزاد اور ان کے بعض دوسرے رفقا احمد نگر کے قلعے میں رکھے گئے تھے۔ مولاناآزاد کا یہ سلسلۂ قیدوبند کوئی تین برس تک رہا۔ اوّلاً، اپریل1945 ء میں وہ احمد نگر سے بانکوڑا جیل میں منتقل کر دیے گئے اور یہیں سے بالآخر 15جون1945ء کو رہا ہوئے ۔ اسی نظر بندی کے زمانے کا ثمرہ یہ کتاب’’غبارِ خاطر‘‘ ہے۔ غبارِ خاطر مولانا آزاد مرحوم کی سب سے آخری تصنیف ہے، جو ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ کہنے کو تویہ خطوط کا مجموعہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو ایک کو چھوڑ کر، ان میں سے مکتوب کی صفت کسی میں نہیں پائی جاتی۔ یہ دراصل چند متفرق مضامین ہیں جنھیں خطوط کی شکل دے دی گئی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم کچھ ایسی باتیں لکھنا چاہتے تھے جن کا آپس میں کوئی تعلق یا مربوط سلسلہ نہیں تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعین ممکن ہے کہ اس طرح کے مضامین لکھنے کا خیال ان کے دل میں شہرۂ آفاق فرانسیسی مصنف اور فلسفی چارلیس لوئی مونٹسکیو کی مشہور کتاب ’’فارسی خطوط‘‘ (1721ء) سے آیا ہو۔ اس کتاب میں دو فرضی ایرانی سیاح… اوزبک اور رجا… فرانس پر عموماً اور پیرس کی تہذیب و تمدن پر خصوصاً بے لاگ اور طنزیہ تنقید کرتے ہیں، اسلام اور عیسائیت پر آزادانہ اظہار خیال کرتے ہیں، جو اس عہد کی خصوصیت تھی۔ اس میں اور متعدد سیاسی اور مذہبی مسائل پر بھی زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ اس کتاب کا دوسری زبانوں کے علاوہ عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن وہ ان باتوں کو الگ الگ مضامین کی شکل میں بھی قلمبند نہیں کرنا چاہتے تھے کیوںکہ اس صورت میں باہمی تعلق کے فقدان کے باعث، بعد کو انھیں ایک شیرازے میں یکجا کرنا آسان نہ ہوتا۔ اس مشکل کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ انھیں کسی شخصِ واحد کے نام خطوں کی شکل میں مرتّب کر دیا جائے۔ اُن کے حلقۂ احباب میں صرف ایک ہستی ایسی تھی جو علم کی مختلف اصناف میں یکساں طور پر دلچسپی لے سکتی تھی۔ یہ نواب صدریار جنگ بہادر، مولانا حبیب الرحمٰن خان شروانی مرحوم کی ذات تھی۔ انھوں نے عالمِ خیال میں انھیں کو مخاطب تصوّر کر لیا، اور پھر جب کبھی، جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا، اسے بےتکلف حوالۂ قلم کرتے گئے۔ انھی مضامین یا خطوط کا مجموعہ یہ کتاب ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغبار خاطر کئی لحاظ سے بہت اہم کتاب ہے۔ مولانا کے حالات، بالخصوص ابتدائی زمانے کے، اتنی شرح و بسط سے کسی اور جگہ نہیں ملتے جتنے اس کتاب میں۔ ان کے خاندان، ان کی تعلیم اور اس کی تفصیلات، عادات، نفسیات، کردار، اَمیال و عواطف، ان کے کردار کی تشکیل کے محرّکات ان سب باتوں پر جتنی تفصیل سے انھوں نے ان خطوں میں لکھا ہے اور کہیں نہیں لکھا؛ اور ان کے سوانح نگار کے لیے اس سے بہتر اور موثّق تر اور کوئی ماخذ نہیں۔ پوری کتاب میں جواہر ریزے منتشر پڑے ہیں، اور یہ ان کی عام روش ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر مفکّر ہیں جیسا کہ انھوں نے خود کسی جگہ لکھا ہے، جو کچھ اسلاف چھوڑ گئے تھے، وہ انھوں نے ورثے میں پایا اور اس کے حصول اور محفوظ رکھنے میں انھوں نے کوتاہی نہیں کی، اور جدید کی تلاش اور جستجوکے لیے انھوں نے اپنی راہ خود بنا لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ذات علومِ قدیمہ و جدیدہ کا سنگم بن گئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا کہ ان پر غورو فکر کے دروازے کھل جاتے اور وہ ان راہوں سے ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے، اور یہی ہوا۔ یہ اقوال جو گویا ضرب الامثال کی حیثیت رکھتے اور انسانی تاریخ اور تجربے کا نچوڑ ہیں، اسی قران السّعدین کا نتیجہ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مالک رام\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48486905217209,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/691f0af46a7291763642100.jpg?v=1786056935","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/ghubar-e-khatir-%d8%ba%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d8%b7%d8%b1","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}