{"product_id":"hariyupiya-ہری-یوپیا","title":"HARIYUPIYA  ہری یوپیا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eازمنۂ قدیم میں آبا پرستی بعض عقائد کا جزولاینفک تھی، دورِجدید میں آبا فراموشی زندہ روایت۔ آبا پرستی اورآبا شناسی دو مختلف معاملات ہیں۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جس زمین میں آنول نال دفن ہوتی ہے، وہ زمین بندے کو تاحیات اپنی اور بلاتی رہتی ہے۔ جس دھرتی میں تہذیب ِ گزشتہ پنہاں ہو، جس زمین میں مدفون اپنے اجداد درختوں، پھولوں کی صورت اُبھر آتے ہوں، جس خاک پر متواترکئی نسلوں کے شجرے نمایاں ہوتے ہوں، وہ مٹّی اپنی اولا دکو آوازیں دیتی ہے، صدائیں بلند کرتی ہے۔ کم کم ،بہت کم، ان صداؤں کو سُن پاتے ہیں۔ یہ پکاریں دِل سے سنی جاتی ہیں اور یہ آوازیں دل کی دھڑکن اور بدن کی رگوں، شریانوں میں سفر کرتے لہو سے ہم آہنگ ہوکر وجود کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ شعور سے لاشعور میں ورود کر جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس دھرتی کی ایک بیٹی حنا جمشید نے ان صداؤں کو سُن لیا ہے۔ کیا خوش لحن ہے یہ گیت گاتی بیٹی، کیا مشاق وہنر مند ہیں اس کے ہاتھ جو اس مقدس مٹّی سے قدیم قیمتی طرز کے برتن ڈھالتے، من موہنی مُورتیاں تخلیق کرتے اور بام ودر بلند کرتے کرتے پوری تہذیب کے خالق ٹھیرتے ہیں۔ وہ اس تہذیب کی خالق ہے یا مخلوق، شاید دونوں۔ دریافت کنندہ ہے یا ایجاد کنندہ، شاید دونوں۔ بیٹی ہے یا ماں، شاید دونوں۔ ماں یوں کہ اُس نے تفکر و تدبر اور تحقیق و تخیّل کے ایّام سے گزر کر، تخلیق کا دردِزہ سہ کر ’’ہری یوپیا‘‘ کو جنم دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس تخلیق کو ایراوتی، سرسوتی، قدیم پانیوں اور امرت جل نے سیراب کیا ہے۔ اس کی زرخیز اور بارآور خود تراشیدہ صندلیں زبان اس کی اپنی ہے، اس کے پنکھی، مور، پکھی واس، موتی، منکے، ہاتھی دانت کے ہار، سُرمہ دانیاں، ابرق، کانسی اور تانبے کے بٹن، ہاتھ سے رنگی سُوتی پھول دار چادریں، آوے میں پکی سرخ پختہ اینٹیں، دھاتی مُورتیاں، بیل، گینڈے، شیر، مچھلی والی مہریں، مٹی کے گھگھو گھوڑے، معبد، پروہت، مقدس گیت، سنگیت، خاک اُڑاتے رتھ، شیش ناگ اور مقامی مٹی میں گندھے کردار حنا جمشید نے اپنے تخلیق کردہ سنسار کی بساط پر بچھائے ہیں، ایستادہ کیے ہیں اور متحرک کر دیے ہیں۔ اس فن پارے میں کہیں تخّیل تحقیق سے دو گام بڑھ جاتا ہے تو کہیں ہم قدم ہو جاتا ہے، وفور ِ اظہار کے چند پنچھی اس سنسار کے آکاش پر پنکھ پھیلائے حدِاعتدال کے اُس پار جا کر لوٹ آتے ہیں، سنہرے گگن پر تیرتے، جلد حقائق کی ہریالی زمین پر اُتر آتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبے شک ’’ہری یوپیا‘‘ کے زمان ومکان جُست جُو اور تصّور کی بھٹی میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ اس تخلیق کا اِک اِک حرف، ایک ایک لفظ، ہر ہر جملہ ارتکاز کی چھاننی سے گزرا، پریم کے دُودھیا نور میں دُھلا اور شیفتگی کے عود کی دھونی میں رچا ہوا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُردو ادب کو ایک نئی اور پُروقار آمد مبارک ہو۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عرفان جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہڑپا کے بارے میں معلومات کو رومان اور تخیل میں بھی گوندھ کر ڈاکٹر حنا جمشید ایک مختصر ناول لکھ سکتی تھیں مگر انھوں نے ہڑپا میوزیم یا کھنڈرات کی بار بار سلامی کو ایک طرف اپنی تہذیبی ریسرچ سے جوڑا اور دوسری طرف اس کے کینوس کو وسعت دی کہ ہری یوپیا کی تجارت مصر اور عراق سے تھی اور خود موجودہ پاکستان کے دیگر مراکز مہر گڑھ وغیرہ سے لین دین کا رابطہ تھا۔ ہری یوپیا کے لوگ اتنے متمدن تھے کہ وہ کپڑے کے استعمال سے واقف تھے، ان کے گھروں میں غسل خانے تھے مگر ان کا امن پسند اور سادہ کار ہونا انھیں قدرتی آفات یا معبدوں میں چوری یا سازش کرنے یا جھوٹی قسمیں کھانے والوں یا پہاڑی لوگوں کے نوکیلے ہتھیاروں کے مقابل سراسیمہ کر دیتا تھا، پھر موت کا رقص کرتی یہ مہذب بستی کیسے کھنڈر یا خرابے میں تبدیل ہوگئی، حنا جمشید کا قلم اس طرح جادوئی بن گیا کہ جیسے یہ آج کا پاکستان ہے، جو سیلاب کی زد میں ہے اور ہری یوپیا کی یہ بستی بھی ایک طرح سے امن کی خواہش کے ساتھ غرقاب ہوگئی ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحنا جمشید کے لیے قرۃ العین حیدر کا ’’آگ کا دریا‘‘ فیض رساں بنا، شمس الرحمٰن فاروقی، مستنصر حسین تارڑ، طاہرہ اقبال اور حمیرا اشفاق بھی اس فیض رسانی میں کہیں شامل رہے ہوں گے، مگر ساہیوال کی ہماری اس قابلِ فخر بیٹی کے اپنے بہت امتیازات ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر انوار احمد)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48483875848377,"sku":"BC SSH","price":850.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/636275654420e1667396965_07751eea-399c-495e-9fa9-21edee9337e5.jpg?v=1786041048","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/hariyupiya-%db%81%d8%b1%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c%d8%a7","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}