{"product_id":"jaan-ke-dushman-جان-کے-دشمن-بچوں-کے-لیے-کہانیاں","title":"JAAN KE DUSHMAN  جان کے دشمن (بچوں کے لیے کہانیاں)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eایک بڑے ادیب کی جانب سے بچوں کے لیے سوغات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتصویری کتاب، پیپر بیک اشاعت، فرہنگ کے ساتھ!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e====== کتاب کی کہانی ======\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب یہ کہانیاں پہلی بار چھپی تھیں اُس وقت کے ان کو پڑھنے والے اب اس لائق ہو گئے ہیں کہ کبھی کبھی مجھ سے گفتگو میں ان کا ذکر لے آتے ہیں، اور بعض اپنے چھوٹے بہن بھائی کا مجھ سے تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’چاہیں تو ان سے اپنی ___کہانی سن لیجیے‘‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے بچہ ذہین ہے۔ اور اکثر ایسے بال سفید ہوتے ہوئے بچے مجھے یوں داد دیتے ہیں کہ آپ کی کتاب ’’جان کے دشمن‘‘ میں نے خود پڑھی اور بچوں کو بھی پڑھ کر سنائی، کیا بات ہے!‘‘ اس بات کو وہ گول کر جاتے ہیں کہ میر ی جو کتاب اُن کے لیے تھی وہ بھی انھوں نے پڑھی یا نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفکشن یعنی کہانی... جس نوعیت کی بھی ہو، پلے، ناول یا افسانہ لکھنے والا اپنے لیے نہیں لکھتا ہے۔ اس کی محنت کے لیے یہ کہنا کہ عبادت ہوتی ہے، غلط ہے۔ عبادت خدا کی کی جاتی ہے، جس کا صلہ بولنے اور لکھنے میں نہیں، آنے والے وقت میں عبادت کرنے والے کو ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکہانی لکھنے والا چاہتا ہے اس نے جو لکھا ہے، کچھ تو پتا چلے اس کا پڑھنے والے پر کیا اثر ہوا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے پڑھنے والے نے کسی غیر اہم چیز کے اشتہار کی طرح پڑھا اور پڑھ کر یہ تک بھول گیا کہ کس چیز کا اشتہار تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں بچوں کے لیے لکھوں یا بڑوں کے لیے، کوشش میری یہی ہوتی ہے کہ کہانی کی ’’تھیم‘‘ کو نہ دہراؤں... نہ اپنی نہ کسی اور کی لکھی ہوئی کو۔ میری لکھی ہوئی کہانی، جیسی بھی ہو، میری اپنی ہوتی ہے۔ اگر کسی پشت ہا پشت چلی آنے والی کہانی کا اس میں جوڑ ہو تو میں اسے ’’بازگوئی‘‘ لکھتا ہوں کہ دوبارہ اپنے طریقے سے سنا رہا ہوں، جیسے ’’دیو کا باپ‘‘۔ خدا جانے کب کی سنی یا پڑھی ہوئی دو کہانیوں کا ملاپ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک موقع پر جب بچوں کے لیے کتابیں لکھنے والی ایک خاتون نے قدرے تعجب سے کہا تھا، ’’تو کیا آپ کی بچوں کی کہانیاں بھی آپ کی اپنی تخلیق ہوتی ہیں!‘‘ یعنی مشہورِ زمانہ قصوں پر مبنی نہیں، تو ان کا یہ جملہ میرے لیے کلاس میں فرسٹ پوزیشن لینے کی خوشی سے کم نہیں تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eادیبوں اور لکھے ہوئے ادب کی قیمت کو پرکھنے والوں کی میری فکشن کے بارے میں جو بھی رائے ہو اُس کی نسبت میرے لیے وہ رائے سچی خوشی کا باعث ہوتی ہے جو کسی عام پڑھنے والے کی زبان سے نکلے... وہ بچہ ہو یا بڑا اور گفتگو میں میری کہانی کا حوالہ دے بیٹھے: اس کا کہنا، ’’آپ نے جو لکھا ہے...‘‘ یہ سن کر جھوٹ نہیں بولوں گا، خوشی کے مارے میرا دماغ ساتویں آسمان پر ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافسوس یہ کہانیاں اپنے بڑوں کو نہیں سنا سکتا ہوں۔ سب اللّٰہ کو پیارے ہوئے، والدہ اور پرنانی تو کیا بڑی بہن ماظرہ بھی۔ زندگی کی ساتھی طاہرہ نے یہ کہانیاں لکھے جانے کے فوراً بعد پڑھی تھیں اور ان کی رائے نے کہانیوں کو بہتر بنایا تھا۔ نیا ایڈیشن ان کے نام بھی ہے، افسوس ہے وہ اسے نہیں پڑھ سکیں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب ایک دریا کی طرح ہوتی ہے، اس کے بھی دو کنارے ہوتے ہیں، ایک پر اس کا لکھنے والا کھڑا ہوتا ہے، دوسرے پر اسے چھاپنے والا۔ دونوں ہی کی ہمت افزائی کرنے والے بھی ہوتے ہیں، جن تک پڑھنے والوں کی نظر کم ہی جاتی ہے بلکہ اکثر نہیں جاتی۔ ’’جان کے دشمن‘‘ کے میری طرف والے کنارے پر میری دو چھوٹی بہنیں بھی کھڑی ہیں... ناہید ارشاد (پارو) اور تہمینہ صابر امتیاز (رولا)۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ہم صدی بھر پہلے کی چھپی ہوئی اردو کلاسیکل ادب کی کوئی کتاب مثلاً ’’توبۃ النصوح‘‘ پڑھتے ہیں تو پتا چلتا ہے، اُس زمانے میں کتاب کے اخیر میں باقاعدہ مشکل الفاظ کے معنی، واقعات اور بیان کی ترتیب سے دیے جاتے تھے۔ وہ طریقہ نامعلوم کس عاقل ہستی نے غیرضروری سمجھ کر ختم کر دیا اور پڑھنے والوں کا یہ عالم ہوا کہ ’’کالعدم‘‘ کو ’’کالا آدم‘‘ سمجھ کر پڑھتے رہے اور ایسے کتنے ہی الفاظ، محاورے اور روزمرہ سننے میں آنے والے جملے تھے جو وقت کے ساتھ بول چال سے گم ہوتے جاتے رہے ہیں، اب کہاں سب کی سمجھ میں آتے ہوں گے اور ان کے کیا معنی آج کل کے بچے، بڑے لیتے ہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور اب بیس، پچّیس برس سے تو وہ زمانہ ہے کہ نئی ترکیبیں سننے میں آتی ہیں: ’’میں یہ کتاب انھیں سینڈ کروں گی‘‘، ’’یہ کام کروں گا نہیں‘‘، ’’میں آپ کو کل فون کرتا ہوں‘‘۔ میسج save کیے جاتے ہیں اور ایک کی بات دوسرے سے text کی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eطلبہ جب میری طرف ’’سر جی‘‘ کر کے رجوع کرتے ہیں تو میں حیران ہوتا ہوں وہ جو دو لفظ تھے ’’محترم‘‘، ’’محترمہ‘‘ اور ’’مکرمی‘‘، ’’مکرمہ‘‘ کیا وقت کے ریگستان میں گم ہوگئے جو یہ دو زبانوں کا مہمل مشتق وجود میں آیا ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھے خوشی ہے کہ اس گمراہی کو میری کتاب ’’داخلے کا دن‘‘ کے پبلشر جناب امر شاہد نے صائمہ رضا کے تعاون سے دور کیا اور کتاب میں مشکل الفاظ کے معنی دیے۔ اور یہی کارِ احساں برخورد و کلاں پبلشر اور لغت نویسہ ’’جان کے دشمن‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں برقرار رکھ رہے ہیں۔ دونوں کا شکریہ کم عمر پڑھنے والوں کی طرف سے میں ادا کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامید ہے ان کہانیوں کے پڑھنے والوں کو ان کے بعض سین تصویروں کی شکل میں یاد رہیں گے جنھیں میری فرمائش پر فاطمہ راحی نے بنایا ہے۔ مجھے تو پسند آئی ہیں۔ بچے اپنی ان فاطمہ باجی کا شکریہ ادا کریں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسن منظر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکراچی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48512825688249,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68485ae0931d51749572320.jpg?v=1785964650","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/jaan-ke-dushman-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}