{"product_id":"jazu-bhaiyya-جاذو-بھیا-copy","title":"BIKHRI HAI MERI DASTAAN بکھری ہے میری داستاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/muhammad-izhar-ul-haq\"\u003eMUHAMMAD IZHAR UL HAQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 336\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eعالی جناب محمد اظہار الحق کی نظم و نثر کا ایک زمانہ قائل ہے۔ دنیا اخبار میں شائع ہونے والے ان کے بےشمار کالم ادب پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کتاب قبلہ گاہی کی آپ بیتی ہے، جگ بیتی بھی۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے کہ یہ رواں، سادہ و شگفتہ، حقیقت آمیز، عبرت آموز، اثر و تاثر سے لب ریز تحریر، ایک حق شناس و حق نیوش شاعر و ادیب کی نوشتہ ہے...  اور کیا چاہیے۔\u003cbr\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجیسے درسی کتب میں طالبِ علموں کی ذہانت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا جاتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب بیان کریں یا ہندوستان پر اتنے حملوں کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح اُن سے اگر یہ پوچھا جائے کہ خودنوشتوں کے لکھنے کے اسباب بیان کریں تو ان کا جواب کچھ یوں ہو گا... (1) ادیب کے پاس لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تو وہ خود نوشت لکھ دیتا ہے۔ (2) خودنوشت عام طور پر عمر کے آخری حصّے میں لکھی جاتی ہے۔ (3) اگر مصنف کبھی چھوٹا موٹا افسر رہا ہے تو وہ اپنی افسری کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے، اور یہ دھاک بیٹھتی نہیں، اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ (4) ادیب نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے لتّے لینے ہوتے ہیں۔ یہ لتّے کس طرح لیے جاتے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے۔ (5) علاوہ ازیں مصنف نے اپنے کم از کم سترہ فرضی عشقوں کی روداد بیان کرنی ہوتی ہے۔ اظہار الحق کی آپ بیتی مندرجہ بالا اسباب پر پوری نہیں اُترتی۔ یہ میری پسندیدہ خود نوشت ’’جہانِ دانش‘‘ کی مانند ایک ’’جہانِ اظہار‘‘ ہے۔ آپ اس جہان میں ایک مرتبہ اتر جائیے تو آپ پر کئی جہان منکشف ہوتے چلے جائیں گے۔ اظہار اُن چند شاعروں میں شامل ہے جو بہت زورآور اور مؤثر نثر لکھنے پر قادر ہیں... اور مجھے امید ہے کہ یہ خود نوشت ان کا ’’سوان سانگ‘‘ یا راج ہنس کا آخری گیت ثابت نہیں ہو گی۔ اُن کا تخلیقی پرندہ ہمیشہ کی طرح فضائے بسیط میں پرواز کرتا رہے گا۔\u003cbr\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395804147897,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68a7137745bff1755779959.jpg?v=1785372822","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/jazu-bhaiyya-%d8%ac%d8%a7%d8%b0%d9%88-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%a7-copy","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}