{"product_id":"kala-pani-کالا-پانی","title":"KALA PANI  کالا پانی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eڈیڑھ سو برس قبل\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2 مئی 1864ء کو عدالت میں جج کی آواز گونجی:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتم بہت عقلمند، ذی علم اور قانون دان، اپنے شہر کے نمبردار اور رئیس ہو، تم نے اپنی ساری عقلمندی اور قانون دانی کو سرکار کی مخالفت میں خرچ کیا۔ تمہارے ذریعے سے آدمی اور روپیہ سرکار کے دشمنوں کو جاتا تھا۔ تم نے سوائے انکار بحث کے کچھ حیلتاً بھی خیرخواہی سرکار کا دَم نہیں بھرا اور باوجود فہمائش کے اس کے ثابت کرانے میں کچھ کوشش نہ کی۔ اس واسطے تم کو پھانسی دی جاوے گی۔ میں تم کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوں گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفر نے بے خوف کہا:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’جان لینا اور دینا خدا کا کام ہے، آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ رب العزت قادر ہے کہ میرے مرنے سے پہلے تم کو ہلاک کر دے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ گواہ ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولوی محمد جعفرؒ کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور جج اگلے چند روز میں دنیا سے سدھار گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1۔15 دسمبر1864ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچیف کورٹ… کا فیصلہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھانسی کی سزا حبسِ دوام بعبور دریائے شور میں تبدیل ہو گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کس کو سزا حبس دوام دی گئی؟ یہ کس قافلے کا رہرو تھا؟ کس تحریک کا امین تھا؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ تحریک سیّد احمد شہیدؒ، جہاد اور تجدید، احیائے دین کی لے کر اُٹھے جس میں سرفروش اپنی گردنیں اپنی ہتھیلیوں پر لیے پھرتے تھے۔ سیّد احمد شہیدؒ نے طاغوت اور لرزتی کانپتی دم توڑتی سکھا شاہی حکومت کے خلاف تلواریں نیام سے نکال کر وقت کے پہیّے کو گھمایا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان شدید ابتلاء و آزمائش میں تھے۔ زندگیاں اجیرن، مساجد اور اسلامی شعائر کی اعلانیہ بے حرمتی کا دور دورہ تھا۔ جہاد کا اصل مقصد، ہدف، منزل حکومت الٰہیہ کا قیام تھا۔ وہ غلامی کی زنجیریں کاٹنے اپنے قافلہ کے ساتھ بالاکوٹ تک پہنچے۔ لیکن زمین پر میرجعفر از بنگال، میر صادق از دکن ننگ دین ننگ ملت ایسے انگریزوں اور سکھوں کے کاسۂ لیس، مسلمانوں کی صفوں میں خیمہ زن تھے۔ انہوں نے اپنے پیادے، وزیر، گھوڑے، مہرے، بساط سیاست پر ترتیب دیے اور چال چلی…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e24 ذیقعدہ 1425ھ (6 مئی 1831ء) تاریخ کا وہ روشن دن ہے جس نے سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کو سرفروشوں سمیت جامِ شہادت نوش کرتے دیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیّد احمد شہیدؒ کی تحریک پر قلم رواں ہو تو کہیں پڑاؤ ملے نہ سانس لوں اور میں لکھتا چلا جاؤں، لیکن…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبڑی طویل کہانی ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر کبھی اے دوست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے قاری نے 1800ء میں سیّد احمد شہیدؒ کے ساتھ سانس لینا ہے اور اپنی سانسوں میں پاکیزگی رواں رکھنی ہے تو مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ کی ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ کی جلد ششم (حصہ اوّل، دوم) مطالعہ کر لے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولانا جعفر تھانیسریؒ، سیّد احمد شہیدؒ کی تحریک کے وہ امین ہیں جنہوں نے اپنی مکمل زندگی، بیوی بچے، اپنا مال اسباب، اپنا آرام، اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش کر دی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکوہِ استقامت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ نے ورق الٹے تو میں نے ایک سو ترپّن سال بعد جانا، جیسے یہ کل کی بات ہے۔ یہ قصہ پارینہ نہیں، بلکہ ورق تازہ ہے جس پر لہو کے چھینٹوں سے نقش گری کی گئی ہے۔ صعوبت اور سختیاں جھیل کر اس ورق تازہ کی جلد بندی ہوئی ہے۔ یہ ضلع انبالہ ہے۔ میں قصبہ تھانیسر میں ہوں۔ میاں جیون ا رائیں قبیلے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپؒ نے اپنے بیٹے کانام جو 1838ء میں پیدا ہوا، محمد جعفر تجویز کیا۔ محمد جعفر کے والد کا جلد انتقال ہو گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمولاناؒ کا کہنا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میں نے دس برس کی عمر تک کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ اپنے باپ کے فوت ہو جانے کے بعد جبکہ میری عمر دس بارہ برس کی تھی اور میرا چھوٹا بھائی چھ مہینے کا تھا، ہم اپنی والدہ کی سرپرستی میں تربیت پانے لگے۔ میری والدہ بالکل ناخواندہ تھیں۔ انہیں کوئی مذہبی تعلیم نہ دی گئی تھی۔ لڑکپن میں مَیں نے تعلیم کی طرف مطلق توجہ نہ کی اور آزاد پھرتا رہا۔ مجھے تھوڑی سی عقل آ گئی تو تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہی محمد جعفر، میں عرض کر رہا تھا، چشم فلک نے نظارہ دیکھا… سورج کی طرح طلوع ہوا اور تاریخ کے صفحات پر نصف النہار ہو گیا۔ قرآن کریم کے تین پارے حفظ کرنے اور سیکڑوں احادیث مبارکہ قلب میں محفوظ کر لینے والے نمازِ تہجد کے عادی مولوی محمد جعفر تھانیسریؒ نے مروّجہ تعلیم کی تکمیل کے بعد عرائض نویسی شروع کی اور اس میں مہارت کی چوٹی چھو لینے پر وکلاء، عرائض نویس قانون اور اُس کے ضابطوں کے بارے اُن سے رجوع کرنے لگے اور شہرت کو چاند لگنے لگے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآزادی کا سفر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم یوں ہی آزاد نہیں ہو گئے۔ 1947ء تک کا سفر بڑا کٹھن، جان لیوا اور اَن گنت سر کٹانے والے سرفروشوں اور مجاہدین کے لہو سے مزیّن ہے۔ وہ جو دار و رسن پر کھینچے گئے اُن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایک مغل شہنشاہ کی بیٹی کے علاج کے سلسلہ میں آنے والا انگریز ڈاکٹر جس نے چوہے کی طرح نہر میں سوراخ کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی سوراخ سے شگاف تک کے مرحلے ٹاپتی ہندوستان پر قابض ہو گئی۔ اس شگاف کو پاٹنے میں جہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے اپنا حق ادا کیا، نواب سراج الدولہ سے علامہ اقبالؒ تک، یہ شاہراہ سرخ کارپٹ سے سجی تو ہم نے آزادی کا سانس لیا… جو قومیں اپنے محسنین کو یاد نہیں رکھتیں، وہ دنیا کے نقشے سے معدوم ہو جاتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجس قافلے، جس آزادی کایہ قصہ ہے، اس قصے میں مولانا جعفر تھانیسریؒ کا روشن اور تابناک نام قیامت تک دمکتا رہے گا۔ مجاہدین نے کیسے اپنی زندگیاں وار دیں۔ اپنا آرام، عیش، گھر بار، بیوی بچے، اپنا دیار، اپنی مٹی، اپنی زمین تج دی۔ پابجولاں وہ ہنستے رہے اور سرِدار کھینچے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکالا پانی… کالا پانی ہے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان تک سفر کی اوگھٹ گھاٹیوں میں سے گزرنا اتنا آسان تھا کیا۔آ… میرے عہد کے انسان! تو بھی پابجولاں بھوکا پیاسا، یہ سفر کاٹ! تو بھی اٹھارہ برس اپنی مٹی سے بچھڑ کر اپنے پیاروں سے جدا ہو کر دیکھ…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسامنے دیکھ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاک آواز سنائی دی ہے، پانیوں پر سے سرکتی کُرلاتی تلاش کرتی آواز! جب بحری جہاز، انڈمان کے کنارے لگا تو ساحل پر بیسیوں مولوی اور منشی منتظر تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’کیا مولوی محمد جعفر اور مولوی یحییٰ علی صاحب بھی اس جہاز پر آئے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں بھی وہیں تھا اُسی جزیرہ پر، میں بھی قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہا تھا، آواز دینے والوں میں مولوی احمد اللہؒ کے ساتھ میں بھی صف میں شامل تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنیچے اتر کر ہم کو یہاں معلوم ہوا کہ مولوی احمد اللہ صاحب ہم سے ایک برس بعد پٹنہ میں قید ہو کر 15جون 1865ء کو ہم سے چھ مہینے پہلے پورٹ بلیر میں پہنچ گئے اور ایک دوسرے جہاز کے قیدیوں سے جو ہم سے اوّل اسی جیل تھانہ سے چل کر فقط دو روز پہلے ہم سے پہنچے تھے، ہماری آمد کا حال معلوم کر کے مولوی صاحب ہمارے منتظر تھے اور یہ سب لوگ انہیں کے اشارے ہمارے لینے کو گھاٹ پر آئے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخیر ہم لوگ بوٹ سے اتر کر اسی مجمع کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کرتے ہوئے اپنے چالان کے قیدیوں سے جدا ہو کر منشی غلام نبی صاحب محرر مرین ڈیپارٹمنٹ کے مکان پر پہنچے۔ وہاں مولوی احمد اللہ صاحب اور دوسرے اکثرمعزز لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور اسی مکان میں ہم تینوں آدمی رہنے لگے۔ اسی دم ہماری بیڑی کٹوا دی اور عمدہ لباس جوہمارے واسطے تیارکر کے رکھا تھا ہم کو پہنایا گیا اورتمام جلسہ کے ساتھ ہم نے دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھایااور اس تاریخ سے تاریخ رہائی تک ہم نے پھر بارک یا لباس یا کھانا قیدیوں کا کبھی نہیں دیکھا۔ گو اُسی تاریخ سے ہم قید سے رہا ہو گئے۔ گواٹھارہ برس تک مثل ملزمان کالے پانی میں رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسی شام سے گھرگھرہماری دعوتیں ہونے لگیں اور وہ وہ نفیس اور عمدہ کھانے ہم کوکھلائے گئے کہ ہند میں مجھ کو تو کبھی ایسے کھانے نصیب بھی نہ ہوئے تھے۔ وہ ہمارا خیال کہ اب ہم کو ساری عمر صرف جیل کا کھانا کھانا پڑے گا، اس قادرِ مطلق نے اس نعم البدل کے ہمارے دل سے قلع قمع کرا دیا اور اپنی قدرت کو دکھلا دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ہم اس جزیرے میں پہنچے ہزاروں مرد عورت قیدیوں کو دیکھا کہ ماتھا ان کا کھود کر پیشانی پر ان کا نام اور جرم اور لفظ دائم الحبس لکھا ہواہے کہ وہ نوشت مثل نوشتہ تقدیر کے تمام عمر نہیں مٹتی۔ مگر یہ تائید الٰہی سنیے کہ ہمارے پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے وہ حکم ماتھا کھودنے کا تمام عملداری سرکار سے ہمیشہ کے واسطے موقوف ہوگیاتھا۔ اس سبب سے اس داغِ دائم الحبس سے بھی ہم محفوظ رہے۔ ‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخوبی۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتواریخ العجائب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک شخص کی خود نوشت نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ایمانیات کے درجہ میں ترتیب پانے لائق ہے۔ اس کے مطالعہ سے میں نے جانا کہ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا ربّ کریم پر ایمان اتنا پختہ اور غیر متزلزل تھا کہ کہیں ان کے پاؤں نہیں ڈگمگائے۔ وہ جس ابتلاء میں مبتلا ہوئے، رب کریم نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انہیں اس مشکل سے نکال لیا۔ تکالیف میں ان کے لیے آسانیوں کے دروازے کھول دیے۔ مولاناؒ نے اپنی خود نوشت میں اللہ رب العزت کے اس انعام اور شانِ کریمی کا ذکر تسلسل سے کیا ہے۔ یہ خود نوشت قاری کے دل میں موجود ایمان پر برگ و بار لاتی ہے اور انسان کا دل اس رب کریم کی رحمتوں پر پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ میں نے اپنے قلب پر واضح اس کتاب کے روحانی ثمرات محسوس کیے ہیں۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ عالم باعمل کی تحریر بھی اس کی صحبت کی مثل ہوتی ہے جس کی خوشبو دل و روح میں سرایت کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ واقعی تواریخ عجیب ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب مولانا جعفر تھانیسریؒ اٹھارہ برس کی جلاوطنی کاٹ کر وطن لوٹے تو ہر شخص کی خواہش تھی کہ اُن پتھریلے سیاہ جزائر کے بارے میں جانے جہاں انگریزوں نے عقوبت خانے تیار کیے اور باغیوں کو اُن میں مقید کر دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجزائر انڈمان خلیج بنگال کے مشرق کو 92 درجہ 470 دقیقہ طول شرقی اور 11 درجہ 43 دقیقہ عرض شمالی پر کلکتہ سے قریب چھ سو میل کے واقع ہیں۔ یہ مجموعہ جزائر 1746 میل کے گھیرے میں، جس میںقریب ایک ہزار جزیرے شامل ہیں، بنام انڈمان مشہور ہے۔ علم طبقات الارض کے محققوں کا یہ قول ہے کہ یہ جزائر کسی زمانہ میں براعظم ایشیا سے ملے ہوئے تھے۔ پھر زمانے کے پھیر پھار اور سمندر کی موجوں سے کٹتے کٹتے اوّل یہ ٹکڑا بر اعظم ایشیا سے علیحدہ ہو گیا تھااور پھر آخر کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہوتے چھوٹے چھوٹے جزیرے ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہاں سے پانچ روز میں کلکتہ سے اگن بوٹ پہنچتاہے اور تین روز میں رنگون سے مولین یہاں سے تین سو میل مشرق وشمال اور سنگا پور چار سو میل گوشہ مشر ق و جنوب میں اور پنانگ تین سو پچاس میل مشرق میں اور نکوباریاننکوڑی اسّی میل جنوب میں اور مدراس آٹھ سو میل مغرب اور لنکا آٹھ سومیل گوشہ مغرب و جنوب میں واقع ہیں۔ یہ جزائر سب پہاڑ ہیں، ہموار زمین بہت کم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقریب سوبرس کے ہوئے سب سے اوّل لیفٹیننٹ بلیر ایک جہازی سردار نے یہاں آکر لنگر ڈالا تھا۔ اسی سبب سے پورٹ بلیر اس جزیرے کا نام ہوا۔ انہیں ایام میں جس کو سو برس ہوئے سرکار نے پہلے بھی قیدیانِ حبس بعبور دریائے شور کا رکھنا تجویز کیا تھا۔ مگر ناموافقی آب و ہوا کے سبب سے 1796ء میںیہ جزیرہ آباد ہو کر پھر اُجڑ گیا تھا۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد سرکار کو پھر اس کی ضرورت ہوئی اور مارچ 1858ء سے گویا دوبارہ اس کی آبادی شروع ہوئی اور پہلے پہل بغاوت کے قیدی یہاں لاکر رکھے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشروع آبادی میں مدت تک جنگلی لوگ سخت مخالف رہے۔ چنانچہ دومرتبہ انہوںنے ڈاکٹر واکر صاحب سپرنٹنڈنٹ اوّل کے عہد میں بڑی بھاری جنگلیوں کی فوج جمع کر کے ایک دفعہ ہدو پر دوسری بار ابرڈین پر حملہ کیا۔ آخر ملایمی اور حکمتِ عملی سرکار سے وہ فرمانبردار ہوگئے اور اب جنگل یا بستی میں جہاں کہیں وہ ملتے ہیں تو نہایت خاطر داری سے پیش آتے ہیں، گو شروع آبادی میں ان وحشیوں نے بہت خون خرابے کیے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ چار فٹ سے پانچ انچ تک اونچے مثل حبشیوں کے سیاہ فام، گول سر، آنکھیں ابھری ہوئیں، سر پر بھیڑ کے سے بال مگر نہایت مضبوط اور قوی ہوتے ہیں۔ ان کل جزائر انڈمان میں ان کی بارہ ذاتیں ہیں، ایک ذات کی زبان دوسری قوم سے بہت کم ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ جنگلی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا آسمان میں رہتا ہے، وہی خالق ہر شے کا ہے اور سب سے بڑا ہے۔ وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا محل بہت عمدہ اور نفیس آسمان میں ہے اس کوکوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کے گھر سے پانی برستا ہے، بجلی کا شعلہ اور کڑک بھی اسی کے پاس سے آتی ہے، موت بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ بھلائی اور روزی بھی وہی دیتاہے۔ مسماۃ چانا پالک ایک اس کی جورو بھی ہے اس کی جورو کو بھی فنا نہیں اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوئی۔ مگر اس کا درجہ خدا سے کم ہے۔ اس کا کام ہے کہ سمندر میں مچھلیاں پیدا کرے، وہی مچھلیوں کو آسمان سے گراتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ شیطان کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب برے کام شیطان کراتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ شیطان دو ہیں، ایک زمین کا شیطان جس کا نام اِرم چوگلا ہے۔ جب زمین پر کوئی ناگہانی موت سے مر جاتا ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ارم چوگلا نے مار ڈالا ہے۔ ایک سمندر کا شیطان ہے جس کا نام جورو ونڈا ہے۔ جب کوئی آدمی ڈوب کر مر جاتا ہے توکہتے ہیں کہ اس کو جورو ونڈا نے مار ڈالا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ فرشتوں کے بھی قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مرد عورت دونوں جنس سے ہیں اور جنگل میں رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھوت پریت کے بھی قائل ہیں مگر کہتے ہیں کہ ان کو کچھ اختیار نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا یا غیر خدا کی کسی چیز کی پوجا نہیں کرتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ لوگ طوفانِ نوح کے بھی قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک بار زمین پرایساطوفان آیا تھا کہ ساری دنیا ڈوب گئی تھی اور ان جنگلیوں کے بزرگ ایک کشتی بنا کر اس پرسوار ہو گئے تھے اور ایام طوفان میں بہت دنوں تک اس کشتی میں سوار رہے۔ جب طوفان رفع ہوا تو وہ کشتی کسی پہاڑ منجملہ کوہ ہائے جزائر انڈمان کے ٹھہری تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم سے طبع شدہ ’’کالا پانی‘‘ کے نسخہ کی انفرادیت و اہمیت\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’بک کارنر‘ جہلم کی خواہش تھی کہ ہمارے ادارہ سے کالا پانی (تواریخ عجیب) کا صحیح ترین نسخہ شائع ہو۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ تگ و دو کی۔ ہری پور سے محبی زاہد کاظمی کی معاونت بھرپور رہی اور ’بک کارنر‘ جہلم کے ڈائریکٹر امر شاہد نے ذاتی دلچسپی لے کر اس کتاب کے متعدد نسخے فراہم کیے۔ یہ اُن ہی کی معاونت کا ثمر ہے کہ مجھے صحیح ترین نسخہ تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن بہت چھوٹے سائز پر شائع ہوا تھا، جس میں کوئی ذیلی سرخی نہ تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر محمد ایوب قادری کا کہنا ہے، ’’کالا پانی کا پہلا ایڈیشن ہمیں مفتی انتظام اللہ شہابی کے ذخیرہ علمیہ سے دستیاب ہوا۔ اب یہ کتاب آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس (کراچی) کی لائبریری میں موجود ہے۔‘‘ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کراچی کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ ڈاکٹر ایوب قادری مرحوم نے چھان پھٹک کے بعد انہی دو ایڈیشنوں کو سامنے رکھ کر اصل متن کی صحت کو جانچا پرکھا، اور ادارہ یادگارِغالب نے یہ کتاب 2015ء میں شائع کی۔ اسی تلاش کے سفر میں دوسرے نسخہ کی فائل دستیاب ہوئی اور اطمینان ہو گیا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیجیے…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمطالعہ کیجیے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتاریخ کی سیر سے لطف اندوز ہوں اور دل و روح کو سرشار کیجیے کہ مطالعہ ہی زندگی، مطالعہ ہی سانسوں کا تسلسل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حامد سراج\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخانقاہ سراجیہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچشمہ بیراج، ضلع میانوالی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48460324602041,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6750fa7ba751785155834.jpg?v=1785856367","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/kala-pani-%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}