{"product_id":"kamari-wala-5th-edition-کماری-والا-پانچواں-ایڈیشن","title":"KAMARI WALA (5TH EDITION)  کماری والا (پانچواں ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eناطق کے لیے اب یہ حکم لگانا مشکل ہے کہ اُن کی اگلی منزل کہاں تک جائے گی کہ ہربار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے تمام کام میں تازگی ہے، روایت اور تاریخ کا شعور حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ جس طرح اُن کا شعر اور پھر فکشن میں کام ہے۔ اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناولسٹ بھی۔ اُن کےفکشن میں پنجاب کی سرزمین میں غیرمعمولی دلچسپی اُن کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیتی ہے۔ ناطق کی نثر سے مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ناطق کے فکشن کا قاری خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں، انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ علی اکبر ناطق سے اُردو ادب جتنی بھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہو گا۔ اِن کا سفر بہت طویل ہے، راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمس الرحمٰن فاروقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق کا فکشن حقیقت اور کہانی کے پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لے کر آتا ہے۔ وہ دیہات اور اُس کے کرداروں کی بازیافت کا آدمی ہے اور حقیقی طور پر سن آف سوئل ہے۔ وہ احمد ندیم قاسمی کی طرح دیہات کا رومان پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے کرداروں کو حقیقت کی زندگی عطا کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حُسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق ایک عجیب سا لااُبالی نوجوان ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اگلے لمحے آپ کا دُشمن ہو جائے یا فوراً ہی آپ کو گلے لگا لے لیکن یہ طے ہے کہ افسانے، ناول یا شاعری میں اس کی صلاحیتیں بلاخیز ہیں۔ اس کا افسانوی مجموعہ ’’شاہ محمد کاٹانگہ‘‘ ایسا ہے کہ اُردو ادب کا ایک سراسر نیا رُوپ اس میں سواری کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمستنصر حُسین تارڑ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خُوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قِصّہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفہمیدہ ریاض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق کے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے مجھے ایسا جکڑا کہ ایک ہی نشست میں تقریباً ساڑھے چار سو صفحات کی یہ کتاب پڑھ گیا، بیچ میں کھانا وغیرہ کھایا ہو تو میں اس کی قسم نہیں دیتا۔ ناطق کے ناول نے مجھے حیران تو نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی شاعری اور افسانہ نگاری کی دھاک پہلے ہی بٹھا چکا تھا، البتہ پریشان ضرور کیا کہ ^\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اقبال\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فقیر بستی میں تھا‘‘ پڑھتے ہوئے گمان تک نہیں ہوتا کہ ہم آزاد کو نہیں، علی اکبر ناطق کو پڑھ رہے ہیں۔ آزاد پر یہ کتاب پچھلے سو سال میں واحد کتاب ہے جو واقعی اپنے موضوع اور اسلوب کے حوالے سےپڑھنے کے قابل اور لائق تحسین ہے۔ ناطق نے مولانا محمد حسین آزاد کا قلم مستعار لے کر یہ کتاب لکھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق دیہی زندگی کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحریر پڑھتے جائیں، آنکھوں کے سامنے فلم چلتی جائے گی۔ ان کے پہلے ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے اُردو فکشن میں ان کے بلند مقام کا تعین کردیا ہے۔ ناطق ہمارے ہی دور کے نوجوان ہیں اس لیے ناول پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے کتنی خوبی سے انگریز سرکار کے نمائندوں کی ذہنیت، سکھ رعایا کی معاشرت اور مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ناول کی نولکھی کوٹھی اوکاڑہ میں واقع ہے۔ اسی اوکاڑہ میں، جہاں علی اکبر ناطق نے جنم لیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمبشر علی زیدی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرفان جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437247475897,"sku":"BC SSH","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699415d25ff131771312594.jpg?v=1785692347","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/kamari-wala-5th-edition-%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%88%db%8c%d8%b4%d9%86","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}