{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-khalid-jamil-akhtar\"\u003eDR. KHALID JAMIL AKHTAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 478\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369887510713,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/teesra-janam-%d8%aa%db%8c%d8%b3%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d9%86%d9%85","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}