{"product_id":"zangaar-زنگار","title":"ZANGAAR  زنگار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی سے میری ایک یادگار ملاقات ترکی میں ہوئی تھی، جہاں ہم چند دوسرے اہلِ قلم کے ساتھ ایک تنظیم کی طرف سے مدعو کیے گئے تھے۔ میرا ایک عجیب خیال ہے جو کبھی غلط اور کبھی درست نکلتا ہے کہ ’’سوکھے سڑے‘‘ لوگ عموماً چڑچڑے اور زندگی بیزار ہوتے ہیں جبکہ موٹے صحت مند لوگوں کی سوچیں اور رویے مثبت ہوتے ہیں۔ عامر خاکوانی کے جثے کو دیکھ کر میں نے پہلے ہی ان کی شخصیت کا اندازہ لگا لیا تھا، یہ اندازہ دورانِ سفر درست نکلا اور اب جب میں نے ان کے منتخب کالموں کا مطالعہ کیا ہے تو جی چاہتا ہے کہ ان سے باقاعدہ دوستی کی جائے۔ عامر کے سبھی کالموں سے کبھی مجھے اتفاق ہوا ہے اور نہ عامر میرے سبھی کالموں سے اتفاق کی غلطی کر سکتا ہے۔ تاہم میں نے ان کے منتخب کالم جو وقتی موضوعات پر نہیں بلکہ ابدی موضوعات کے حامل ہیں، پڑھے تو مجھے ہر کالم ’’جہانِ دگر‘‘ نظر آیا۔ ادب، فلم، حالات سے مایوسی کے بجائے جدوجہد پر یقینِ کامل، یعنی وہی ایک مثبت شخص ان کے کالموں میں نظر آیاجس کا اندازہ میں نے انہیں ایک نظر دیکھ کر لگا لیا تھا۔سب سے خوب صورت بات ان کی تحریر ہے۔ ثقیل سے ثقیل موضوعات پر لکھی ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے ان کے قارئین آدھے راستے میں ’’خداحافظ‘‘ کہتے نظر نہیں آتے بلکہ خود کو آخر تک ساتھ چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یار عامر خاکوانی ! تمہارے ان منتخب کالموں سے میں ’’جیلس‘‘ ہوگیا ہوں۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعطاء الحق قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2012ءمیں شائع ہونے والی اپنی کتاب کے دیباچے میں عرض کیا تھا: عامر خاکوانی میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں ،اب بھی ہیں۔ اگرچہ کچھ تنقیدی نکات ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ جس انشراح سے عامر خاکوانی لکھتے ہیں عصری صحافت میں اس کی مثال کم ہو گی۔ سوچ سمجھ کر طے کیا گیا مؤقف، رواں اور بے ریا لہجہ۔ غیر جانبداری مگر دکھاوے کی نہیں۔ نقطۂ نظر اور عقیدہ رکھتے ہیں مگر لازماً کسی گروہ کے حامی یا مخالف نہیں۔ آزادمصنف کی روش یہی ہوتی ہے۔ یہ تحریر یں پڑھتے ہوئے والٹیئر یاد آتا ہے ، جس نے کہا تھا، \"Every word of a writer is an act of generosity\" لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے ۔ جی جان سے ، خلوصِ قلب سے کی جانے والی عنایت ۔ شرط یہ کہ وہ دل صداقت کا مسکن ہو ، تلاشِ حق کا آرزومند!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہارون الرشید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی ان لکھنے والوں میں سے ہیں جن کا میں شروع ہی سے مداح رہا ہوں اور سچّی بات یہ ہے کہ ان کے کالم کا میں ہمیشہ انتظار کرتا ہوں۔ ان کے لیے میرے ذہن میں یہی تاثر ہے کہ یہ شخص بیش بہا پڑھتا ہے اور پڑھنے کے بعد اسے اتنے اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ کمال ہوجاتا ہے۔ یہی عامر خاکوانی کی تحریر کا حُسن ہے۔ میں کبھی کبھی کوشش کرتا ہوں کہ کاش میں بھی ایسی خوب صورتی کے ساتھ لکھ سکتا اور اتنے اختصار کے ساتھ اتنی زیادہ معلومات قارئین تک پہنچا سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاوریا مقبول جان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتعارف مصنف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعامر خاکوانی کو صحافت میںپچیس برس کا عرصہ ہو چکا۔ اُردو ڈائجسٹ سے سفر کا آغاز کیا۔ ساڑھے تین سال بعد روزنامہ جنگ کا نیوز رُوم جائن کر لیا، وہاں تین سال کام کیا۔ روزنامہ ایکسپریس کی پنجاب اور کے پی کے سے اشاعت کا آغاز 2002ء میں ہوا۔ عامر خاکوانی انچارج ایکسپریس میگزین سیکشن کے طور پر اخبار کی بانی ٹیم کا حصہ تھے۔ یہیں پر 2004ءکے اوائل میں ’’زنگار‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے، یہ سفر تاحال جاری ہے۔ دس سال ایکسپریس میں کام کرنے کے بعد اگست 2012ء میں بطور میگزین ایڈیٹر\/ کالم نگار روزنامہ دُنیا کی بانی ٹیم کا حصہ بنے۔ دُنیا ہی میں ڈائجسٹ ایڈیشن کا تجربہ کیا جس کی پیروی بعد میں کئی اخبارات نے کی۔ پانچ سال دُنیا اخبار میں کام کرنے کے بعد 2017ء میں روزنامہ 92 نیوز کی بانی ٹیم میںشامل ہوئے۔ پچھلے تین برسوں سے 92 نیوز اخبار ہی میں بطور میگزین ایڈیٹر \/ کالم نگار کام کر رہے ہیں۔ عامرخاکوانی نے کالم نگاری میں کئی تجربات کیے اور اُردو کالم کے کینوس کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ کرنٹ افیئرز پر کالم لکھے، مگر خود کو یہاں تک محدود نہیں کیا اور بہت سے مستقل موضوعات پر کالم لکھے جن کا تازہ پن اور شگفتگی برسوں بعد بھی برقرار ہے۔ وہ کتابوں سے محبت کے دعوے دار ہیں، اپنے کالموں میں کتابوں اور مطالعہ کے ذوق کو فروغ دینے کے لیے مسلسل مساعی کی۔ ادب، تاریخ، تصوف، روحانیت، سیاست اور سماجی ایشوز سے لے کر سپورٹس اور موٹیویشنل موضوعات پر کالم لکھے۔ زیر نظر کتاب ’’ زنگار ‘‘ انھی کالموں کا انتخاب ہے۔ عامر خاکوانی کے مطابق انھوں نے آٹھ نو سو کالموں میں سے صرف اسی بیاسی کالم منتخب کیے، جن کی تازگی اور مہک آج بھی پہلے جیسی ہے۔ عامرخاکوانی کے کالموں کی پہچان ان کا معتدل اور متوازن اندازِ بیان اور غیرجانبداری سے ایشو ٹو ایشو رائے دینا ہے۔ عامر خاکوانی کی اس کتاب میں دانستہ طور پر صرف وہی تحریریں شائع کی گئی ہیں جو پڑھنے والوں کی سوچ، طرزِزندگی اور تقدیر بدل سکیں۔ ایسے کالم جو مثبت سوچ اور اُمید کی نئی توانائی آپ میں بھر دیں۔ ایسی تحریریں جو بار بار پڑھنے کے باوجود باسی نہ لگیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458573709497,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5fcb93164f9e61607176982.jpg?v=1785843338","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/products\/zangaar-%d8%b2%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}