{"title":"Autobiography","description":null,"products":[{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-khalid-jamil-akhtar\"\u003eDR. KHALID JAMIL AKHTAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 478\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369887510713,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950"},{"product_id":"mujhe-sab-hai-yaad-zara-zara-مجھے-سب-ہے-یاد-ذرا-ذرا","title":"MUJHE SAB HAI YAAD ZARA ZARA مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwar-masood\"\u003eANWAR MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 192\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقارئینِ کرام! یہ تصنیف بڑی تنوع کی حامل ہے۔ اِس میں کچھ ایسی یادوں کا تذکرہ ہے جو حافظے کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں اور تنہائی جنھیں دُہراتی رہتی ہے۔ بعض واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں اور کئی ایک ایسے حیرت انگیز، تحیر خیز اور ’اَن فراموش ایبل‘ ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے پر میں آج تک ششدر ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِن تحریروں کے بعد کا بیشتر حصہ فارسی شعر و ادب سے متعلق ہے۔ 62-1961ء کے دوران جب میں یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں ایم اے فارسی کی تیّاری کر رہا تھا، مجھے سیّد وزیر الحسن عابدی جیسے فارسی ادب کے جیّد سکالر کے لیکچروں سے استفادے کا موقع ملا۔ عابدی صاحب جیسے اساتذہ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے نصابی اور غیرنصابی اِرشادات اور فرمودات میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ اِن قیمتی ملفوظات کا ایک حصہ بھی اِس کتاب میں شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء میں مجھے جدید فارسی کی تحصیل کے لیے ایران جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ہمیں تہران کے نزدیک واقع ایک یونیورسٹی (دانشگاهِ سپاہیانِ انقلاب) کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں ایران کے بڑے فاضل اساتذہ (محمد حسین خراسانی صاحب، غروی صاحب، صالحی صاحب اور اُستاد دادبِہ) کے لیکچروں کی بدولت فارسی زبان اور شعر و ادب کی نزاکتوں اور نزہتوں سے بڑی نادر آگاہی اور شناسائی حاصل ہوئی۔ 120 دنوں پر محیط قیامِ ایران کے مشاہدات اور نوٹس بھی اِس کتاب کا حصّہ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب میں ان یادوں اور یادداشتوں کی گٹھڑی آپ کے حوالے کرتا ہوں… سپردم به تو مایهٔ خویش را… \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے کہا نہیں تھا؟… اِس پیرانہ سالی میں بھی… مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور مسعود)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Kitab Wala","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385735786681,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/695282dd415721767015133.jpg?v=1785282657"},{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/zafar-ullah-poshni\"\u003eZAFAR ULLAH POSHNI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 352\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385918599353,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1785285644"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/autobiography.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}