{"title":"سوانح حیات","description":"\u003cp\u003eBest collection of biographies.\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"mera-pakistani-safarnama","title":"Mera Pakistani Safarnama - میرا پاکستانی سفر نامہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Balraj Sahni\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yasir Jawad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 168\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eہندوستانی فلم اور سٹیج اداکار بلراج ساہنی (یکم مئی 1913ء -13 اپریل 1973ء) کا خاندان 1947ء میں بھیرہ سے ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ہندی کے مشہور مصنف، ڈرامانگار اور اداکار تھے۔ بلراج ساہنی راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ انگلش ادب میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ واپس راولپنڈی چلے گئے اور اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگے۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلش اور ہندی کے اُستاد کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی وِشو بھارتی یونیورسٹی (بنگال) چلے گئے۔ بلراج نے پدمنی، نوتن، مینا کماری، وجینتی مالا اور نرگس کے ساتھ بندیا، سیما، سونے کی چڑیا، سٹہ بازار، بھابی کی چُوڑیاں، کٹھ پتلی، لاجونتی اور گھر سنسار جیسی فلموں میں کام کیا۔ نِیل کمل، گھر گھر کی کہانی، دو راستے اور ایک پھول دو مالی میں اُن کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ پنجابی کلاسک فلم ’’نانک دُکھیا سب سنسار‘‘ کے علاوہ ’’ستلج دے کنڈھے‘‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ بلراج ساہنی نے بطور لکھاری بھی اپنے جوہر دکھائے۔ اُنھوں نے ہندی، انگلش اور پنجابی میں لکھا۔ 1962ء میں اپنے آبائی وطن (مغربی پنجاب) کا دورہ کرنے کے بعد یہ کتاب ’’میرا پاکستانی سفرنامہ‘‘ لکھی۔ یہ تقسیمِ ہند کی وجہ سے بے وطن ہونے والوں کے دُکھ بھرپور طریقے سے بیان کرتی ہے۔ وہ لاہور، جھنگ، سرگودھا، بھیرہ اور راولپنڈی میں تجربات اور ملاقاتوں کا حال بہت خوب صورت انداز میں بتاتے ہیں۔ اُن کے خالص پنجابی انداز کو ترجمے میں ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے روس کا سفرنامہ بھی لکھا جسے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ اُن کی نظمیں اور افسانے ادبی جرائد میں چھپتے رہے۔ ان کی خودنوشت ’’میری فلمی آتم کتھا‘‘ یعنی فلمی آپ بیتی کو بہت سراہا گیا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے پی کے وسُودیون نائر کے ساتھ مل کر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن بنائی۔ وہ بعد میں اِس تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں دہلی میں غریبوں کے لیے لائبریری اور مطالعہ گاہ بنائی۔ آخری فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی ڈبنگ مکمل ہوتے ہی اُن کی وفات ہو گئی۔ وہ اپنی بیٹی شبنم کی بے وقت موت کی وجہ سے شدید غم زدہ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631252153,"sku":"KW-BAL-0435","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f8952695ea241602835049_fdd3c8ae-39b1-4a3a-95f3-2e47b232f871.jpg?v=1785108831"},{"product_id":"zard-patton-ki-bahar","title":"Zard Patton Ki Bahar - زرد پتوں کی بہار","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ram Lal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eاصنافِ ادب میں خود نوشت، سوانح عمری، سفر نامہ اور خطوط اس لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہر خاص و عام کا دامنِ دل کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مطالعے سے قارئین کے ذوقِ تجسّس کو یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ ہر چند یہ تینوں صنفیںاپنے عناصرِ ترکیبی کے لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی عنصر قدر مشترک کا درجہ ضرور رکھتا ہے اور اسی قدر مشترک کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیوں کا رُوپ اختیار کر لیتی ہیں۔ دراصل قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بےحجابانہ فن کار کے دل و دماغ میں اُتر جائے اور اس خواہش کی تکمیل میں یہ اصناف بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ \u003cbr\u003eیہ اور بات ہے کہ کوئی فن کار ان اصناف کی وجہ سے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے لیکن یہ بہرحال ہیں ثانوی اصناف۔ میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، مہدی افادی، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، رشید احمد صدیقی، جوشؔ اور احسانؔ دانش وغیرہ بنیادی طور پر شاعر ہیں یا ادیب و نقّاد لیکن ان میں سے ہر ایک نے اِن ثانوی اصناف میں سے کسی نہ کسی کو اس طرح اپنایا کہ اب اس کا شمار ان کے امتیازات میں ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کلیہ مان لیا جائے تو اس کا اطلاق رام لعل کے سفر نامہ ’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ پر زیادہ بہتر طور پر ہوتا ہے۔ رام لعل بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار بھی اتنے قد آور کہ انھوں نے اس صنف کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور افسانہ نگاروں کی اس نئی نسل کو حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری سے قریب تر کر دیا جو منزل کی تلاش میں بھٹک رہی تھی اور جسے ’’برگ حشیش‘‘ کو ’’شاخ نبات‘‘ بتانے والے حضرات بہکا رہے تھے۔\u003cbr\u003eکوئی دو سال پہلے رام لعل نے ہندوستان سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔’’زرد پتوں کی بہار‘‘ اسی سفر کی یاد گار ہے۔ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں لیکن رام لعل کے اس سفر کو اس طرح کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو اُن کا وطن سے وطن کو سفر تھا۔ میانوالی (پاکستان) اُن کی جنم بھومی ہے لیکن اُنھوں نے تاریخ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا۔ جنم بھومی کی یاد کسے نہیں آتی، رام لعل بھی اس یاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور یادوں کے سائے میں اُنھوں نے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اور جب اُن کی عمر تجربہ کرتے رہنے کے حصار سے نکل کر تجربات کو عبرت و بشارت کا درجہ عطا کرنے کے قلم رو میں داخل ہوئی تو جس انسانی فطرت کو اُنھوں نے اپنے سینے میں لوریاں دے دے کر سُلائے رکھا تھا، وہ بیدار ہو گئی اور اُس نے رام لعل کو ان کی جنم بھومی میں پہنچا کے دم لیا۔ \u003cbr\u003e’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ رام لعل کا نہیں بلکہ انسانی فطرت اور جبلّت کا سفر نامہ ہے، یہ ایک فرد کا نہیں، نسل سے نسل کا سفر نامہ ہے۔ رام لعل کے اس سفر نامے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا دل دھڑک رہا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہی ادبی تخلیق لازوال بھی ہوتی ہے اور آفاقی بھی،جس میں انسانیت اپنے اصل خط و خال کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمود الٰہی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631514297,"sku":"KW-RAM-0436","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/608b949c0ccba1619760284_0bce1f1c-cba6-49da-ae83-55c2b9052d86.jpg?v=1785108419"},{"product_id":"hawai-rozi","title":"Hawai Rozi - ہوائی روزی","description":"\u003cp\u003e \u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Khawar Jamal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کی تحریر میں بلا کی روانی، دلچسپی، چاشنی اور شرارت ہے۔ ہم سب ہمیشہ سے جاننا چاہتے تھے کہ فضائی سفر کے دوران روبوٹ کی طرح نظر آنے والا فضائی عملہ آپس میں کس طرح پیش آتا ہو گا اور ان میں کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ خاور جمال نے کمال دلچسپی سے یہ احوال بیان کیا ہے۔ میں ہمیشہ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ سرزمینِ ملتان سے ہیں جس سے مجھے عشق ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سطر سطر پر حیرتوں، مسکراہٹوں اور انکشافات سے پالا پڑے گا۔ سو پلیز سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو جائیے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگل نوخیز اختر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے تو مجھے کتاب کا عنوان ’’ہوائی روزی‘‘ بے حد پسند آیا ہے۔ چوں کہ مصنف ایک فضائی میزبان ہیں تو اس مناسبت سے کتاب کا نام ذو معنی ہے بلکہ کسی نقاد کی طرح کہوں تو ایہام ہے۔ بقول یوسفی، جہاں کسی لفظ کا مشکل متبادل موجود ہے وہاں آسان لفظ کہیں نہیں لگاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ نئی کتاب دیکھ کر میں اس کا سرسری جائزہ لیتا ہوں، سونگھتا ہوں، خوشبو آئے تو کھول کر دیکھتا ہوں کہ اس میں جان ہے یا نہیں پھر ہی اسے پڑھنے کا تردد کرتا ہوں، ورنہ پرے رکھ دیتا ہوں۔ اس کتاب کی مہک نے پہلے صفحے سے ہی مجھے اپنی جانب کھینچ لیا، اس اجنبی دوشیزہ کی طرح جو پاس سے گزرتی ہے تو فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصرف کتاب کا نام ہی نہیں، اس کے ابواب کے عنوانات بھی بہت عمدہ اور تخلیقی ہیں۔ مصنف خاور جمال ایک فضائی میزبان ہیں اور اس کتاب میں انھوں نے فضائی میزبانی کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھی اس لیے یہ اپنی جگہ ایک قابلِ ذکر کام ہے۔ خاور جمال میں حسِ مزاح خوب ہے اور بعض جگہ انھوں نے صرف مزاح سے ہی کام نہیں لیا بلکہ قاری کو رُلا بھی دیا ہے، خاص طور سے وہ باب جس میں انھوں نے اپنے اُن دوستوں کا ذکر کیا ہے جو ایک فضائی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ واقعی بہت دُکھ بھرا باب ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ نوجوان اگر اسی طرح لکھتا رہا تو ایک دن پائلٹ بن جائے گا۔ اس مصنف میں لکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ موصوف سکہ بند لکھاری حسنین جمال کے بھائی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سب سے میٹھی گنڈیری آپ کو آخر میں پیش کی جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر پیرزادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘... لیکن ایک جغادری قسم کے گھاگ لکھاری کے دل سے نکلی ہوئی بات کبھی سیدھی کاغذ تک نہیں پہنچتی۔ پہلے اسے دماغ کی لیبارٹری سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں اس پر تراش خراش کے نشتر چلتے ہیں۔ پھر خود تنقید کے کیمیائی محلول میں ڈبو کر اس کی تمام آلائشیں صاف کی جاتی ہیں، خوب صورت بوتلوں میں بند کر کے ان پر دیدہ زیب لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں اور پراڈکٹ کو قارئین کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کے دل سے جو باتیں نکلی ہیں، انھیں وہ کسی طرح کے تکلفات کی راہ پر ڈالنے کی بجائے بلا کم و کاست اور براہ راست کاغذ پر لے آئے ہیں۔ اور یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔ ان کی باتیں کچے ناریل کا پانی ہیں۔ چینی اور فوڈ کلر کی ملاوٹ سے بے نیاز یہ مشروب آپ کے مشام جاں کو سیراب کرتا ہوا سیدھا آپ کی روح میں اتر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرنل محمد خان نے فوجی رنگروٹوں کی بظاہر خشک اور بے کیف زندگی سے جس دلچسپ انداز میں پردہ اٹھایا تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خاور جمال نے ہمیں بتایا ہے کہ ایئر سٹیورڈ کو محض مسافروں میں کھانا بانٹنے والا ایک کارکن مت سمجھیے۔ وہ بھی آپ کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہے اور سینے میں دھڑکتا ہوا ایک دل رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر ہم دوسرے جنم پہ یقین رکھتے تو دعا کرتے کہ اگلی بار خاور جمال ایک ایئر ہوسٹس کے روپ میں نمودار ہو تاکہ اس کتاب کا ایک نسائی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف وقار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635348153,"sku":"KW-KHA-0443","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a35b052deda1721981701_0bb53bab-df88-498c-9c6d-a72034688a9a.jpg?v=1785106121"},{"product_id":"ali","title":"Mera Bhai Muhammad Ali میرا بھائی محمد علی","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Rahaman Ali\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eYasir Jawad\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشاید ہی کسی اور شخص کے متعلق اتنا کچھ لکھا گیا ہو جتنا کہ محمد علی کے بارے میں۔ بلاشبہ وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ چاہا جانے والا سپورٹس مین تھا۔ اپنے دورِ عروج میں وہ دنیا کا سب سے مشہور شخص تھا۔ اِس کے باوجود اُسے سب سے زیادہ جاننے والے شخص، یعنی اس کے اکلوتے بھائی اور قریب ترین دوست رحمان علی کی آواز تاحال ہم تک نہیں پہنچی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکوئی بھی اور شخص رحمان علی سے بڑھ کر محمد علی کے قریب نہیں تھا۔ کیسیئس اور رُڈولف آرنیٹ کلے کے ہاں جنم لینے والے دونوں بھائیوں نے اکٹھے پرورش پائی، ساتھ رہے، مل کر ٹریننگ کی، سفر کیے اور گلی محلوں سے لے کر رِنگ تک ہر جگہ اکٹھے لڑے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ وقت اپنے بھائی کی صحبت میں رہنے والے رحمان علی نے اُس کے بہترین اور بدترین پہلوؤں کو دیکھا: مذاق کرنے میں بے رحم اور حاسد بڑا بھائی، بے باک وکیل، شوہر اور باپ۔ اِس کتاب میں وہ معروف کہانیوں کے بارے میں اندر کی بات بتاتا ہے، اور ایسی کہانیاں بھی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں سنیں۔ وہ ایک فخر مند، اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والے مگر اکثر زیادتیوں کا نشانہ بننے والے آدمی کی رنگارنگ اور بہت عمیق تصویر پیش کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِس غیر معمولی اور بے لاگ یادداشت میں رحمان ایک کہیں زیادہ ہمہ جہت اور ذاتی کہانی بیان کرتا ہے جو عظیم محمد علی کے متعلق کسی بھی اور کتاب سے بڑھ کر ہے – یعنی دو بھائیوں کی کہانی جو پیدائش سے لے کر آخر دم تک ساتھ ساتھ رہے۔ یہ کتاب بیسویں صدی کی ایک نہایت مشہور اور مثالی شخصیت کو ایک اہم ترین تناظر میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرحمان علی باکسنگ کے لیجنڈ محمد علی کا اکلوتا بھائی ہے۔ کوئی بھی اور شخص محمد علی کے اتنا قریب نہیں رہا – بھائیوں اور بہترین دوستوں کی حیثیت میں وہ اکٹھے رہے، مل کر ٹریننگ کی اور زندگی کے اہم ترین تجربات کا اکٹھے سامنا کیا –’’نیشن آف اسلام‘‘ میں محمد علی کی شمولیت سے لے کر جارج فورمین کے خلاف طوفانی مقابلے تک، اور اُس کے بعد بھی۔ رحمان نے محمد علی کو مشق کروائی اور اُس کے قریبی حلقے میں شامل رہا، اپنے بھائی کے سارے کیریئر میں ایک معتمدِ خاص اور ذاتی باڈی گارڈ کا کردار ادا کیا۔ رحمان 1972ء میں خود بھی بطور ہیوی ویٹ باکسر ریٹائر ہوا تو چودہ مقابلے جیت چکا تھا جبکہ تین ہارا اور ایک میں برابر رہا۔ وہ لُوئس وِل کینٹکی میں مقیم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e--\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد ترجمہ کے میدان میں نہایت وسیع اور متنوع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ فرانز کافکا کا ناول ’’مقدمہ‘‘ (1995ء) تھا۔ وہ اب تک سائنس، فلسفہ، الٰہیات، تاریخ، مذاہب اور نفسیات کے موضوع پر 170 سے زائد کتب کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ ان میں سیمون دی بووا (عورت)، ہیروڈوٹس (تواریخ)، کارل ساگان (کاسموس)، سٹیفن ہاکنگ (وقت کی مختصر تاریخ) سمیت سر لائیٹنر، کیرن آرم سٹرانگ (خدا کی تاریخ)، سعدی شیرازی (گلستان و بوستان)، ایڈورڈ سعید (ثقافت اور سامراج)، ٹیری ایگلٹن اور فلپ کے حتی (تاریخ عرب) جیسے مصنّفین کی تخلیقات شامل ہیں۔ اُن کی تحقیقی کتاب ’’سو عظیم فلسفی‘‘ کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ ’’انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم‘‘ اور 2500 صفحات پر مشتمل ’’عالمی انسائیکلوپیڈیا‘‘ ترتیب دیا۔ وِل ڈیورانٹ کی ’’انسانی تہذیب کے معمار‘‘ سمیت متعدد تحریروں کا ترجمہ کیا اور مشہور کتاب ’’داستانِ فلسفہ‘‘ کی ایڈیٹنگ کے فرائض انجام دیے۔ ان دنوں وِل ڈیورانٹ ہی کی عظیم الشان کتاب ’’تہذیب کی کہانی‘‘ کا مکمل ترجمہ کر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ اُردو کی تاریخ میں ترجمے کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655467705,"sku":"KW-RAH-0487","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender_0000c389-5264-44cb-9992-81fc9a6e2bbd.jpg?v=1785002774"},{"product_id":"cricket-ka-field-marshal","title":"Javeed Miandaad Cricket Ka Field Marshal جاوید میانداد کرکٹ کا فیلڈ مارشل","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Muhammad Sajjad Khan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBeautifully printed and bound edition published by Book Corner. Ideal for readers and collectors.\u003c\/p\u003e","brand":"Freed Pub","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655959225,"sku":"KW-MUH-0489","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1397.jpg?v=1785000903"},{"product_id":"shahid-afridi-game-changer","title":"Shahid Afridi - Game Changer شاہد آفریدی - گیم چینجر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Afridi\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eDr. Saad S. Khan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eYear\u003c\/strong\u003e: 2022\u003c\/p\u003e","brand":"Jumhoori","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342657335481,"sku":"KW-SHA-0490","price":870.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender.jpg?v=1784999554"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/molvi-tamizuddin-khan\"\u003eMOLVI TAMIZUDDIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 456\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367625568441,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-khalid-jamil-akhtar\"\u003eDR. KHALID JAMIL AKHTAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 478\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369887510713,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/biography.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}