{"title":"Fiction","description":null,"products":[{"product_id":"ulysses-vol-1-یولیسس-جلد-1","title":"ULYSSES (VOL. 1) یولیسس (جلد 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/james-joyce\"\u003eJAMES JOYCE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwer-sen-roy\"\u003eANWER SEN ROY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 582\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369721082041,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0a0274071e61779040884.jpg?v=1785193243"},{"product_id":"matilda-illustrated-مٹیلڈا","title":"MATILDA (ILLUSTRATED) مٹیلڈا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/roald-dahl\"\u003eROALD DAHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’مٹیلڈا‘‘ ایک غیرمعمولی ذہانت کی حامل بچی کی کہانی ہے جسے اپنے والدین کی جانب سے بےاعتنائی اور سکول میں اپنی ہیڈ مسٹریس مس ٹرنچ بُل کی جانب سے بےجا سختی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ اپنی مقبولیت کی بِنا پر اس کتاب کو مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا گیا ہے، جس میں اداکارہ جولی رچرڈسن، مریم مارگولیس اور کیٹ ونسلیٹ کی آڈیو ریڈنگ بھی شامل ہے۔ مشہور اداکار ڈینی ڈویٹو کی ہدایت کاری میں 1996 کی فلم Matilda پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں دو حصوں پر مشتمل بی بی سی 4 کا ریڈیو پروگرام، لندن کے ویسٹ اینڈ پر پیش کیا گیا۔ 2022 میں تھیٹر میوزیکل پر ترتیب دی گئی فلم Matilda the Musical ریلیز ہوئی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2003 میں ’’مٹیلڈا‘‘ کو بی بی سی کی جانب سے مرتب کردہ سو بہترین برطانوی ناولوں کے ایک جائزے The Big Read میں 74ویں نمبر پر رکھا کیا گیا۔ 2012 میں اسے امریکی ماہانہ سکول لائبریری جرنل کی طرف سے ترتیب کردہ جائزے میں بچوں کے بہترین ناولوں میں 30 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ٹائم میگزین نے اپنی ’’بچوں کی 100 بہترین کتابیں‘‘ نامی فہرست میں ’’مٹیلڈا‘‘کا نام دیا۔ 2012 میں برطانیہ کی رائل میل نے مٹیلڈا ورم ووڈ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ پرجاری کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب شائع ہونے کے اگلے ہی سال ’’مٹیلڈا‘‘کو 1989 کا ریڈ ہاؤس چلڈرن بک ایوارڈ دیا گیا۔ 2000 میں، اسے بلیو پیٹر بک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ ٹاپ 100 میں رولڈ ڈال کی چار کتابوں میں پہلی کتاب تھی، یہ تعداد کسی بھی دوسرے مصنف سے زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں اس کتاب کی فروخت 17 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور 2016 کے بعد سے مٹیلڈا نے فروخت میں رولڈ ڈال کی دیگر تمام کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرولڈ ڈال کو بخوبی یاد تھا کہ بچوں کی دنیا میں رہنا کیسا ہوتا ہے اور اس نے مٹیلڈا لکھتے وقت ایسے حالات کو مدنظر رکھا۔ رولڈ ڈال سے منسوب ایک قول کے مطابق زندگی کو بچوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہو گا اور اپنے اوپر بڑوں کی طرف دیکھنا ہو گا، جو ہر وقت آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی سخت گیر بڑوں پر مٹیلڈا کے کردار کی فتح اسی نظریہ پر مبنی ہے۔ مٹیلڈا نے 1988 میں چلڈرن بک ایوارڈ جیتا اور 1999 میں اسے سات سے گیارہ سال کی عمر کے 15,000 بچوں پر مشتمل ورلڈ بک ڈے سروے میں بچوں کی سب سے مقبول کتاب قرار دیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370028413113,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a44a803505a51782884355.jpg?v=1785194581"},{"product_id":"masoomiyat-ka-qatl-معصومیت-کا-قتل","title":"MASOOMIYAT KA QATL معصومیت کا قتل","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/harper-lee\"\u003eHARPER LEE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Shaukat Niazi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 302\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجیم دھیرے سے بولا، ’’ایٹیکس؟‘‘ وہ دروازے میں مڑا اور بولا، ’’ہاں، بیٹا؟‘‘ جیم نے پوچھا، ’’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے معلوم نہیں، لیکن انھوں نے کر دیا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں، انھوں نے آج رات بھی ایسا ہی کیا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ اور جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں تو... لگتا ہے کہ صرف بچّوں کو ہی دکھ ہوتا ہے... شب بخیر!‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ ہارپر لی اپنے اس شہرۂ آفاق کلاسیک ناول میں سکاؤٹ فنچ اور جیم فنچ نامی دو کمسن بچوں کی معصوم نگاہوں سے انیس سو تیس کی دہائی کی جنوب امریکی ریاستوں میں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر عوام کی عمومی نامعقولیت اور تعصّب کا بیان بیک وقت انتہائی لطیف، پُرمزاح، دل کو چھو لینے والے لیکن دردناک انداز میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک چھوٹےسے امریکی شہر کے تعصّب، تشدد اور منافقت میں ڈوبے ہوئے ضمیر کا ایک ایسے شخص سے ٹکراؤ ہوتا ہے جو انصاف کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ کیا یہ معاشرہ اپنے درمیان سے اٹھ کھڑے ہونے والے ایک فرد کی یہ بغاوت برداشت کر پائے گا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370618532025,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69abc28ad8dee1772864138.jpg?v=1785199208"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370815107257,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69708a458e0251768983109.jpg?v=1785200140"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-paperback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ-copy","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK PAPERBACK EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے پیپربیک ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370888507577,"sku":null,"price":4500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d79351e3f8b1775735633.jpg?v=1785201268"},{"product_id":"cairo-trilogy-bayn-al-qasrayn-qasr-al-shawq-al-sukkariyya-urdu-3-volumes-box-set-قاہرہ-ٹرائلوجی-بین-القصرین-قصر-الشوق-السکریۃ-اردو-تین-جلدیں","title":"CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/naguib-mahfouz\"\u003eNAGUIB MAHFOUZ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yaqub Yawar\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1176\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eعربی ناول نگاری کی تاریخ میں نجیب محفوظ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کے بڑے ادیب اور بیسویں صدی کے عربی فکشن کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کا مشہور کارنامہ ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ (Cairo Trilogy) ہے جس میں تین لازوال ناول شامل ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبین القصرین: یہ ناول ایک خاندان کی کہانی ہی نہیں، قاہرہ کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) کا مصر، عوامی اضطراب اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بین القصرین‘‘ نہ صرف نجیب محفوظ کے فن کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ عربی ناول کی تاریخ کا ایک عظیم موڑ بھی ہے۔ اس ناول نے عربی ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا اور عرب معاشرت کےپیچیدہ حقائق کو فکشن کی زبان میں لازوال کر دیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقصر الشوق: یہ دوسرا ناول ہے جو پہلے ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں کہانی نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس میںقاری مصر کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی فضا سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر ’’بین القصرین‘‘ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے حالات اور تحریکِ آزادی کا اثر ہے، تو ’’قصر الشوق‘‘ میں ہم بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مصر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں آزادی کے خواب، جدیدیت کی لہر اور روایتی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ نجیب محفوظ نے اس ناول میں نہ صرف قاہرہ کے گلی کوچوں کوحیاتِ جاودانی بخش دی ہے، بلکہ انسانی روح کی بےچینی اور تلاش کو بھی لازوال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’قصرالشوق‘‘ آج بھی نہ صرف عربی ادب کا اہم حوالہ ہے بلکہ یہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام کا حامل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالسکریہ: یہ اس سلسلے کا تیسرا اور اختتامی ناول ہے، جو پہلی بار 1957ء میں شائع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوجی انقلاب (1952ء) کے بعد ایک نئی سیاسی فضا جنم لے چکی تھی۔ ’’السکریۃ‘‘ دراصل اسی تبدیلی کے بطن میں ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو زمانے کے تغیّرات کے ساتھ اپنے اقدار، نظریات اور وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ محفوظ نے اس ناول میں ماضی اور حال کے تصادم، روایت اور جدیدیت کی کشمکش، اور فرد کی داخلی تنہائی کو ایسی فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پورے مصر کی اجتماعی روح کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان گھروں، گلیوں اور چہروں سے بھی بنتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے دکھوں اور سوالوں کے ساتھ جیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370892210361,"sku":null,"price":4000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d5df106e8c61775623952.jpg?v=1785201889"},{"product_id":"sholokhov-chekhov-saltykov-choti-bari-kahaniyan-شولوخوف-چیخوف-سلتیخوف-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"SHOLOKHOV, CHEKHOV, SALTYKOV: CHOTI BARI KAHANIYAN شولوخوف، چیخوف، سلتیخوف : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/mikhail-sholokhov-1\"\u003eMIKHAIL SHOLOKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Zaki Naqvi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTag: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anton-chekhov\"\u003eANTON CHEKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 124\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذکی نقوی 1987ء میں صحرائے تھل کی ایک بستی عباس پور (کوٹ شاکر) میں پیدا ہوئے۔ وہ اُردو ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے گریجوایٹ ہیں۔ عملی زندگی کی ابتدا میں فوجی تھے، اب مدرّس ہیں۔ اُردو کہانی اور عالمی ادب ان کے دلچسپی کے مشاغل رہے ہیں۔ خود بھی کہانیاں لکھتے ہیں، ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’دیار و دشت‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جسے سال 2025ء کا آصف فرخی علم و آگہی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کے نزدیک روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو روسی ادب، عالمی ادب میں سب سے بڑا ادب ہے، اسی والہانہ شوق سے انھوں نے یہ تراجم کیے ہیں۔ شولوخوف کی ’’تقدیر‘‘ کا ترجمہ ’’تسطیر‘‘ میں شائع ہوا تو سنجیدہ قارئین نے اس کی روانی اور اسلوب کو بہت سراہا۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48386114060473,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6955035f744961767179103.jpg?v=1785286500"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/fiction.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}