{"title":"Memoir","description":null,"products":[{"product_id":"tashqand-say-istanbul","title":"Tashqand Se Istanbul تاشقند سے استنبول","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Altaf Ahmad Aamir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 176\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب میرے اُس سفر کی داستان ہے جو میں نے قاسم علی شاہ کے ساتھ کیا ۔ تاریخ کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے ہی تاشقند، بخارا، سمر قند، قونیہ اور استنبول دیکھنے کا شوق رہا۔ کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی کی اور یہ تمام شہر صدیوں تک علم و ادب، سائنس، فلسفہ اور آرٹ کے مراکز رہے۔ ان شہروں نے ایسی ایسی عظیم شخصیات پیدا کیں جنہوں نے اپنے علم و فضل، دانش و تصوف اور فلسفہ و فن سے دُنیا بھر کو متاثر کیا۔ یہیں سے علوم دینیہ کی بڑی بڑی ہستیاں خدمتِ اسلام کے لیےاُٹھیں جن کے افکار سے آج بھی قلوب و اذہان میں روشنی ہوتی ہے۔ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ اس سفر میں مجھے قاسم علی شاہ کے ساتھ میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاری، حضرت قثم بن عباس، حضرت امام بخاری، حضرت بہاؤالدین نقشبندی، حضرت اسماعیل سامانی اور مولانا جلال الدین رُومی کے مزارات اقدس کی زیارت نصیب ہوئی۔ علاوہ ازیں امیر تیمور کا مقبرہ، سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد، توپ قاپی محل، دُنیا کا سب سے قدیم گرجاگھر آیا صوفیہ ، پرنسس آئی لینڈ اور قدیم شہر سیلے دیکھنے کا موقع ملا۔ لہٰذا میں نے اس کتاب میں ان شہروں کی سیاحت کے دوران میں اپنے مشاہدات اور محترم قاسم علی شاہ کی گفتار سے جو کچھ سیکھا اور وہ مقامات جہاں ہمیں جانے کا موقع ملا، ان کی تاریخ کو مختصراً تحریر کیا ہے۔ امید ہے میری یہ چھوٹی سی کاوش آپ کے لیے معلومات کا خزینہ ثابت ہو گی۔ (الطاف احمد عامر)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48378499203257,"sku":"KW-ALT-0433","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a65b3ed5dad41785050093.jpg?v=1785175344"},{"product_id":"diyar-e-shams","title":"Diyar e Shams (Turkey Nama) دیارِ شمس (ترکی نامہ)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Dr. Zahid Munir Amir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 216\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر زاہد منیرعامر صاحب کی ترکی سے دلچسپی جو بچپن میں ٹکٹ جمع کرنے کے شغف کے مرحلے سے شروع ہوئی تھی عمر گزرتے گزرتے مطالعات میں اضافے کے ساتھ ایک باشعور محبت میں منتقل ہوگئی اور یہ محبت انھیں ترکی بھی کھینچ لائی ۔یعنی ڈاکٹر صاحب کا علم الیقین ترکی تشریف آوری کے بعد عین الیقین کے مرحلے تک پہنچ گیا اور جس طرح سے ان کی اس تصنیف سے علم ہوتا ہے ترکی کی زیارت نے ان کی ترکی سے محبت اور تُرک دوستی میں مثبت اضافہ کیا ہے۔اِس امر کے ڈاکٹر صاحب خود بھی معترف ہیں کہ وہ لکھتے ہیں:’’یورپ کا پہلا سفر 2011ء میں کیا گیا تھا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی ، سوئٹزرلینڈ اور سپین کے اس سفر کی روداد ہنوز نامکمل ہے۔ دوسرا سفر یورپ یونان، اٹلی اور نیدرلینڈز کا تھا، اس کی روداد سفر بھی ہنوز قلمبند نہیں ہوئی ہے لیکن ترکی ایسا زور آور نکلا کہ تمام اسفار کو پیچھے چھوڑکر سب سے پہلے اپنا سفرنامہ لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی ترکی نے زورِبازو سے نہیں بلکہ زورِ محبت سے یورپ کے معروف و مشہور ملکوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا سفرنامہ قلمبند کرایا اور بہت ہی خوب کیا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا یہ سفرنامہ اردو زبان میں لکھے گئے سفرناموں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے…ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کاوش میں قارئین کرام کو ترکی کے دو بڑے اور اہم شہروں استنبول اور قونیہ سے بخوبی متعارف کروایا ہے جس کا علم کتاب کی فہرست پر نظر دوڑاتے ہی ہوجاتا ہے…ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کامیں پھر سے اپنے شہر ’’استنبول‘‘ سے پر کشش انداز میں نئے سرے سے متعارف کرانے کی وجہ سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ستارۂ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاستنبول یونیورسٹی، شعبۂ اردو، استنبول،ترکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیوں تو ادب کی تمام اصناف ہی قاری کو جہانِ دیگر میں لے جاتی ہیں لیکن سفرنامہ ایک ایسی صنف ہے جو اپنے پڑھنے والے کو کسی افسانوی دنیا کی نہیں بلکہ حقیقی مناظر کی سیر کرواتا ہے۔ ایک اچھے سفرنامے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ مصنف (سیاح) نت نئی زمینوں کے دَر کچھ اس طرح کھولے کہ قارئین اس کے ساتھ اس سفر میں شریک ہو جائیں۔ ایک ایسا ہی سفرنامہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جس میں مصنف نے ترکی کی سیاحت کے دوران اپنے تجربات اور احساسات کو بخوبی قلم بند کیا ہے۔ میری مراد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سیاحت نامے ’’دیارِ شمس‘‘ سے ہے۔ ترکی کے دو صوفیانہ شہروں میں گھومتے ہوئے زاہد منیر عامر نے انتہائی باریک بینی اور اشتیاق سے ترک ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کو رقم کرتے ہوئے جو جذبہ شدت سے کار فرما نظر آتا ہے وہ ترکی سے محبت ہے۔ محبت کے بغیر یہ کام ہو بھی نہیں سکتا۔ سفرنامے کا انتساب ڈاکٹر صاحب نے ہمارے عظیم ترک رہنما کمال اتاترک کے نام کیا ہے جو پاک ترک دوستی کا خوب صورت استعارہ ہے۔آپ کا بہت شکریہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر …بہت شکریہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹرآسمان بیلن اوزجان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصدرشعبہ اردو،انقرہ یونیورسٹی، ترکی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342630367417,"sku":"KW-DR.-0434","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5d7660e7dfb341568039143_f02f9b8f-ecd7-426c-a04f-7f2bdf95018c.jpg?v=1785174543"},{"product_id":"mera-pakistani-safarnama","title":"Mera Pakistani Safarnama - میرا پاکستانی سفر نامہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Balraj Sahni\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yasir Jawad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 168\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eہندوستانی فلم اور سٹیج اداکار بلراج ساہنی (یکم مئی 1913ء -13 اپریل 1973ء) کا خاندان 1947ء میں بھیرہ سے ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ہندی کے مشہور مصنف، ڈرامانگار اور اداکار تھے۔ بلراج ساہنی راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ انگلش ادب میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ واپس راولپنڈی چلے گئے اور اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگے۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلش اور ہندی کے اُستاد کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی وِشو بھارتی یونیورسٹی (بنگال) چلے گئے۔ بلراج نے پدمنی، نوتن، مینا کماری، وجینتی مالا اور نرگس کے ساتھ بندیا، سیما، سونے کی چڑیا، سٹہ بازار، بھابی کی چُوڑیاں، کٹھ پتلی، لاجونتی اور گھر سنسار جیسی فلموں میں کام کیا۔ نِیل کمل، گھر گھر کی کہانی، دو راستے اور ایک پھول دو مالی میں اُن کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ پنجابی کلاسک فلم ’’نانک دُکھیا سب سنسار‘‘ کے علاوہ ’’ستلج دے کنڈھے‘‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ بلراج ساہنی نے بطور لکھاری بھی اپنے جوہر دکھائے۔ اُنھوں نے ہندی، انگلش اور پنجابی میں لکھا۔ 1962ء میں اپنے آبائی وطن (مغربی پنجاب) کا دورہ کرنے کے بعد یہ کتاب ’’میرا پاکستانی سفرنامہ‘‘ لکھی۔ یہ تقسیمِ ہند کی وجہ سے بے وطن ہونے والوں کے دُکھ بھرپور طریقے سے بیان کرتی ہے۔ وہ لاہور، جھنگ، سرگودھا، بھیرہ اور راولپنڈی میں تجربات اور ملاقاتوں کا حال بہت خوب صورت انداز میں بتاتے ہیں۔ اُن کے خالص پنجابی انداز کو ترجمے میں ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے روس کا سفرنامہ بھی لکھا جسے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ اُن کی نظمیں اور افسانے ادبی جرائد میں چھپتے رہے۔ ان کی خودنوشت ’’میری فلمی آتم کتھا‘‘ یعنی فلمی آپ بیتی کو بہت سراہا گیا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے پی کے وسُودیون نائر کے ساتھ مل کر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن بنائی۔ وہ بعد میں اِس تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں دہلی میں غریبوں کے لیے لائبریری اور مطالعہ گاہ بنائی۔ آخری فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی ڈبنگ مکمل ہوتے ہی اُن کی وفات ہو گئی۔ وہ اپنی بیٹی شبنم کی بے وقت موت کی وجہ سے شدید غم زدہ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631252153,"sku":"KW-BAL-0435","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f8952695ea241602835049_fdd3c8ae-39b1-4a3a-95f3-2e47b232f871.jpg?v=1785108831"},{"product_id":"zard-patton-ki-bahar","title":"Zard Patton Ki Bahar - زرد پتوں کی بہار","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ram Lal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eاصنافِ ادب میں خود نوشت، سوانح عمری، سفر نامہ اور خطوط اس لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہر خاص و عام کا دامنِ دل کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مطالعے سے قارئین کے ذوقِ تجسّس کو یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ ہر چند یہ تینوں صنفیںاپنے عناصرِ ترکیبی کے لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی عنصر قدر مشترک کا درجہ ضرور رکھتا ہے اور اسی قدر مشترک کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیوں کا رُوپ اختیار کر لیتی ہیں۔ دراصل قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بےحجابانہ فن کار کے دل و دماغ میں اُتر جائے اور اس خواہش کی تکمیل میں یہ اصناف بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ \u003cbr\u003eیہ اور بات ہے کہ کوئی فن کار ان اصناف کی وجہ سے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے لیکن یہ بہرحال ہیں ثانوی اصناف۔ میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، مہدی افادی، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، رشید احمد صدیقی، جوشؔ اور احسانؔ دانش وغیرہ بنیادی طور پر شاعر ہیں یا ادیب و نقّاد لیکن ان میں سے ہر ایک نے اِن ثانوی اصناف میں سے کسی نہ کسی کو اس طرح اپنایا کہ اب اس کا شمار ان کے امتیازات میں ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کلیہ مان لیا جائے تو اس کا اطلاق رام لعل کے سفر نامہ ’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ پر زیادہ بہتر طور پر ہوتا ہے۔ رام لعل بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار بھی اتنے قد آور کہ انھوں نے اس صنف کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور افسانہ نگاروں کی اس نئی نسل کو حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری سے قریب تر کر دیا جو منزل کی تلاش میں بھٹک رہی تھی اور جسے ’’برگ حشیش‘‘ کو ’’شاخ نبات‘‘ بتانے والے حضرات بہکا رہے تھے۔\u003cbr\u003eکوئی دو سال پہلے رام لعل نے ہندوستان سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔’’زرد پتوں کی بہار‘‘ اسی سفر کی یاد گار ہے۔ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں لیکن رام لعل کے اس سفر کو اس طرح کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو اُن کا وطن سے وطن کو سفر تھا۔ میانوالی (پاکستان) اُن کی جنم بھومی ہے لیکن اُنھوں نے تاریخ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا۔ جنم بھومی کی یاد کسے نہیں آتی، رام لعل بھی اس یاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور یادوں کے سائے میں اُنھوں نے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اور جب اُن کی عمر تجربہ کرتے رہنے کے حصار سے نکل کر تجربات کو عبرت و بشارت کا درجہ عطا کرنے کے قلم رو میں داخل ہوئی تو جس انسانی فطرت کو اُنھوں نے اپنے سینے میں لوریاں دے دے کر سُلائے رکھا تھا، وہ بیدار ہو گئی اور اُس نے رام لعل کو ان کی جنم بھومی میں پہنچا کے دم لیا۔ \u003cbr\u003e’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ رام لعل کا نہیں بلکہ انسانی فطرت اور جبلّت کا سفر نامہ ہے، یہ ایک فرد کا نہیں، نسل سے نسل کا سفر نامہ ہے۔ رام لعل کے اس سفر نامے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا دل دھڑک رہا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہی ادبی تخلیق لازوال بھی ہوتی ہے اور آفاقی بھی،جس میں انسانیت اپنے اصل خط و خال کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمود الٰہی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631514297,"sku":"KW-RAM-0436","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/608b949c0ccba1619760284_0bce1f1c-cba6-49da-ae83-55c2b9052d86.jpg?v=1785108419"},{"product_id":"uncle-sam","title":"Uncle Sam Kay Des Se - انکل سام کے دیس میں","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salman Khalid\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 184\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو کبھی لائل پور کہلاتا تھا۔ ان کے اطوار میں لائل پور کی تہذیب، روایت اور شگفتگی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی سوچ، فکر اور تحریر میں ایک قدیمی دانش کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان اہلِ نظر میں سے ہیں جو نئی بستیاں ڈھونڈتے ہیں؛ نئے اُفق کی تلاش، نئے زمانوں کی کھوج۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ اپنی طرز کا ایک انوکھا سفرنامہ ہے جو کمال دلآویزی سے امریکی ریاستوں، درودیوار اور مکینوں سے روشناس کراتا ہے اور سطور اور بین السطور میں کچھ کہتے، کچھ نہ کہتے، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ دردمندی، گداز اور اخلاص، اس تحریر کا اصل خاصہ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد نے خاص مہربانی یہ کی کہ وہ اخوت کے دوستوں میں شامل ہو گئے اور اس کتاب کی آمدنی انھوں نے اخوت یونیورسٹی کے لیے عطیہ کر دی جس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کیا جانا چاہیے۔ اخوت، الحمدللّٰہ، قرضِ حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اخوت یونیورسٹی بھی علم کا ایک بڑا مرکز بنے گی( ان شاءاللّٰہ) اور اس کا ایک حصہ سلمان خالد کے نام اور اخوت کے ان دوستوں کے نام مختص ہو گا جو پاکستان سے باہر ہیں لیکن پاکستان ان کے دل میں بستا ہے۔ اخوت کی تسبیح میں پروئے ہوئے یہ اَن گنت موتی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہی کی چمک سے غربت، افلاس اور جہالت کے اندھیرے دُور ہوں گے۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ ایک پاکستانی کی کہانی ہے۔ مقام اور موقع محل بدل جاتے ہیں، محبّت قائم رہتی ہے۔ اس کتاب سے بھی وہی مہک پُھوٹتی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر امجد ثاقب)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد ایک علم دوست، صاحبِ دل اور صاحبِ مطالعہ شخص ہیں۔ صاحبِ قلم ادب کا شناور ہو تو اس کا اندازِ تحریر بہت متنوع اور جاندار ہوتا ہے۔ سلمان خالد بہت انوکھے انداز میں اپنے قارئین کو امریکہ کی مختلف ریاستوں، مختلف شہروں کی سیر پوری معلومات کے ساتھ کراتے ہیں۔ ان کا ہشاش بشاش طرزِ تحریر کسی گرانی کے بغیر ہزاروں میل کا سفر طے کرا دیتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد بہت روانی کے ساتھ امریکی طرزِ معاشرت اور امریکیوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات سے آگاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے مزاج، سیاسی رجحانات، سماجی تعلقات اور وہاں کا کلچر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے ہم خود یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ایک ٹورسٹ کے انداز سے نہیں، ایک بھیدی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور یہی آنکھ قاری کی بھی وا ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا یہ سفرنامہ ایک اچھے فیملی مین اور شریف انسان کے ان دس دنوں کی کہانی ہے جو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں بھی اسی طرح آئیں لیکن اپنی عادتوں کی وجہ سے ہم اپنے ایسے دنوں میں بھی وہ رنگ نہیں بھر سکتے جو سلمان خالد نے پینٹ کیے۔ ہر قدم پہ خدا کا شکر ادا کرتا، کھانے انجوائے کرتا، بیگم بچوں کو سیر کراتا سلمان خالد وہ دیسی ہے جو امریکہ جا کر نہیں بدلا، کم از کم اس کتاب سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ دو تین گھنٹے میں کتاب مُک جاتی ہے لیکن خیال آتا ہے کہ سفر جاری رہنا چاہیے تھا۔ کوئی ایک آدھی گوری اپنی حدیں پار کرتی، کوئی پب ہوتا، کوئی ان پہ ڈُل جاتا .... ایک دو جگہ ویسے یہ سانحہ بھی پیش آیا لیکن خود سے تیس سال بڑی خواتین نے ہی نظرِ شفقت کی، خدا جانے کیا وجہ ہوئی۔ اگر آپ سفرناموں میں اچھا کھانا انجوائے کرتے ہیں، رواں نثر پڑھنا چاہتے ہیں اور قدم قدم پہ بہت زیادہ انگریزی الفاظ سے نہیں گھبراتے (جو میں خود بھی استعمال کرتا ہوں) تو بسم اللہ کیجیے، پسند آئے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسنین جمال- داڑھی والا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632235193,"sku":"KW-SAL-0437","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62d96404eb3231658414084_a66b8f6f-d393-45b2-83d4-9bcfd85a9ee0.jpg?v=1785108182"},{"product_id":"aankh-cheen","title":"Hairat bhari aankh mein cheen - حیرت بھری آنکھ میں چین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 320\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاگر میں کہہ دوں کہ مجھے سلمیٰ اعوان کی نثر سے عشق ہے تو یقین جانیے اس میں رتی برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ میں برسوں سے انھیں پڑھ رہا ہوں؛ تب سے جب مجھے ڈھنگ سے قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ جیسی جیتی جاگتی، الہڑ مٹیار کی سی چنچل نثر وہ لکھتی ہیں، کوئی ہے جو ویسی لکھ پائے؟ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپورتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے اُنگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی چِین کے اس سفرنامے میں ہو رہا ہے۔ چِین جو میں نے دیکھ رکھا ہے؛ مگر جس رُخ سے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے میں نے نہیں دیکھا۔ میں ایک بچے کی طرح اُن کی انگلی تھامے حیرت سے چِین کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا؛ اس چِین کو جس کے سامنے کے مناظر میں تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی جھانک رہا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کہیں ستر اور اسّی کی دہائیوں والی اس چینی قوم کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو سائیکلوں پر سوار تھی اور پھر پیڈل مارنے والے زمانے کے لد جانے کے ذکر کے بعد وہ چِین دکھاتی ہیں جس میں عوام شاندار ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں، بسوں اور میٹرو میں سفر کرتے ہیں اور مخصوص یونیفارم پہننے والی خوب رُو لڑکیاں برینڈڈ ملبوسات میں ہیں اور ٹکا کے میک اَپ کرتی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجالندھر کے گاؤں سمی پور میں قیامِ پاکستان سے چار سال قبل پیدا ہونے والی سلمیٰ اعوان ساری عمر ملکوں ملکوں گھومتی رہی ہیں اور دُنیا کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکا یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں۔ لہٰذا چِین کے اس سفرنامے میں یہاں وہاں کے اور ہر زمانے کے مناظر بہم ہو کر اسے کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ سفر نامہ اس لڑکی کی کہانی ہو گیا ہے جس نے ڈھاکا یونیورسٹی کے گرلز ہال میں چِین اور روس نواز طالبات کے مائو اور لینن سے یگانگت کے نعرے سنے تھے اور مائو کی ترجمہ شدہ طوفانی نظموں کو جوشیلی آوازوں میں جنونی لڑکیوں سے گاتے ہوئے سنا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمٰی اعوان چِین کی عظمت کے ایک ایک نشان کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ چلن بھی سُجھا دیتی ہیں جو کسی زندہ قوم کا ہو سکتا ہے ۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632464569,"sku":"KW-SAL-0438","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63b9264516f481673078341_8394acef-a397-4b02-b611-4a983848a456.jpg?v=1785107948"},{"product_id":"salma-awan","title":"Hairat bhari aankh mein cheen, Jo Dekha Jo Suna Jo Beeta (2 Books Set) - حیرت بھری آنکھ میں چین، جو دیکھا جو سنا جو بیتا (دو کتب)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 662\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342633349305,"sku":"KW-SAL-0439","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/642fc74c768e31680852812_df0311dd-780d-4ead-9f13-518055308653.jpg?v=1785107844"},{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester - ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Siddiqui\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 208\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342634528953,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 335\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635053241,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"hawai-rozi","title":"Hawai Rozi - ہوائی روزی","description":"\u003cp\u003e \u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Khawar Jamal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کی تحریر میں بلا کی روانی، دلچسپی، چاشنی اور شرارت ہے۔ ہم سب ہمیشہ سے جاننا چاہتے تھے کہ فضائی سفر کے دوران روبوٹ کی طرح نظر آنے والا فضائی عملہ آپس میں کس طرح پیش آتا ہو گا اور ان میں کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ خاور جمال نے کمال دلچسپی سے یہ احوال بیان کیا ہے۔ میں ہمیشہ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ سرزمینِ ملتان سے ہیں جس سے مجھے عشق ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سطر سطر پر حیرتوں، مسکراہٹوں اور انکشافات سے پالا پڑے گا۔ سو پلیز سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو جائیے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگل نوخیز اختر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے تو مجھے کتاب کا عنوان ’’ہوائی روزی‘‘ بے حد پسند آیا ہے۔ چوں کہ مصنف ایک فضائی میزبان ہیں تو اس مناسبت سے کتاب کا نام ذو معنی ہے بلکہ کسی نقاد کی طرح کہوں تو ایہام ہے۔ بقول یوسفی، جہاں کسی لفظ کا مشکل متبادل موجود ہے وہاں آسان لفظ کہیں نہیں لگاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ نئی کتاب دیکھ کر میں اس کا سرسری جائزہ لیتا ہوں، سونگھتا ہوں، خوشبو آئے تو کھول کر دیکھتا ہوں کہ اس میں جان ہے یا نہیں پھر ہی اسے پڑھنے کا تردد کرتا ہوں، ورنہ پرے رکھ دیتا ہوں۔ اس کتاب کی مہک نے پہلے صفحے سے ہی مجھے اپنی جانب کھینچ لیا، اس اجنبی دوشیزہ کی طرح جو پاس سے گزرتی ہے تو فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصرف کتاب کا نام ہی نہیں، اس کے ابواب کے عنوانات بھی بہت عمدہ اور تخلیقی ہیں۔ مصنف خاور جمال ایک فضائی میزبان ہیں اور اس کتاب میں انھوں نے فضائی میزبانی کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھی اس لیے یہ اپنی جگہ ایک قابلِ ذکر کام ہے۔ خاور جمال میں حسِ مزاح خوب ہے اور بعض جگہ انھوں نے صرف مزاح سے ہی کام نہیں لیا بلکہ قاری کو رُلا بھی دیا ہے، خاص طور سے وہ باب جس میں انھوں نے اپنے اُن دوستوں کا ذکر کیا ہے جو ایک فضائی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ واقعی بہت دُکھ بھرا باب ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ نوجوان اگر اسی طرح لکھتا رہا تو ایک دن پائلٹ بن جائے گا۔ اس مصنف میں لکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ موصوف سکہ بند لکھاری حسنین جمال کے بھائی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سب سے میٹھی گنڈیری آپ کو آخر میں پیش کی جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر پیرزادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘... لیکن ایک جغادری قسم کے گھاگ لکھاری کے دل سے نکلی ہوئی بات کبھی سیدھی کاغذ تک نہیں پہنچتی۔ پہلے اسے دماغ کی لیبارٹری سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں اس پر تراش خراش کے نشتر چلتے ہیں۔ پھر خود تنقید کے کیمیائی محلول میں ڈبو کر اس کی تمام آلائشیں صاف کی جاتی ہیں، خوب صورت بوتلوں میں بند کر کے ان پر دیدہ زیب لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں اور پراڈکٹ کو قارئین کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کے دل سے جو باتیں نکلی ہیں، انھیں وہ کسی طرح کے تکلفات کی راہ پر ڈالنے کی بجائے بلا کم و کاست اور براہ راست کاغذ پر لے آئے ہیں۔ اور یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔ ان کی باتیں کچے ناریل کا پانی ہیں۔ چینی اور فوڈ کلر کی ملاوٹ سے بے نیاز یہ مشروب آپ کے مشام جاں کو سیراب کرتا ہوا سیدھا آپ کی روح میں اتر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرنل محمد خان نے فوجی رنگروٹوں کی بظاہر خشک اور بے کیف زندگی سے جس دلچسپ انداز میں پردہ اٹھایا تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خاور جمال نے ہمیں بتایا ہے کہ ایئر سٹیورڈ کو محض مسافروں میں کھانا بانٹنے والا ایک کارکن مت سمجھیے۔ وہ بھی آپ کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہے اور سینے میں دھڑکتا ہوا ایک دل رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر ہم دوسرے جنم پہ یقین رکھتے تو دعا کرتے کہ اگلی بار خاور جمال ایک ایئر ہوسٹس کے روپ میں نمودار ہو تاکہ اس کتاب کا ایک نسائی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف وقار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635348153,"sku":"KW-KHA-0443","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a35b052deda1721981701_0bb53bab-df88-498c-9c6d-a72034688a9a.jpg?v=1785106121"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e215\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636232889,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Nawab Sikandar Begum\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: Zaif Syed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 238\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636855481,"sku":"KW-NAW-0446","price":1125.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shueyb Gandapur\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e152\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368616964281,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/molvi-tamizuddin-khan\"\u003eMOLVI TAMIZUDDIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 456\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367625568441,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-khalid-jamil-akhtar\"\u003eDR. KHALID JAMIL AKHTAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 478\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369887510713,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950"},{"product_id":"mujhe-sab-hai-yaad-zara-zara-مجھے-سب-ہے-یاد-ذرا-ذرا","title":"MUJHE SAB HAI YAAD ZARA ZARA مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwar-masood\"\u003eANWAR MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 192\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقارئینِ کرام! یہ تصنیف بڑی تنوع کی حامل ہے۔ اِس میں کچھ ایسی یادوں کا تذکرہ ہے جو حافظے کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں اور تنہائی جنھیں دُہراتی رہتی ہے۔ بعض واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں اور کئی ایک ایسے حیرت انگیز، تحیر خیز اور ’اَن فراموش ایبل‘ ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے پر میں آج تک ششدر ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِن تحریروں کے بعد کا بیشتر حصہ فارسی شعر و ادب سے متعلق ہے۔ 62-1961ء کے دوران جب میں یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں ایم اے فارسی کی تیّاری کر رہا تھا، مجھے سیّد وزیر الحسن عابدی جیسے فارسی ادب کے جیّد سکالر کے لیکچروں سے استفادے کا موقع ملا۔ عابدی صاحب جیسے اساتذہ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے نصابی اور غیرنصابی اِرشادات اور فرمودات میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ اِن قیمتی ملفوظات کا ایک حصہ بھی اِس کتاب میں شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء میں مجھے جدید فارسی کی تحصیل کے لیے ایران جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ہمیں تہران کے نزدیک واقع ایک یونیورسٹی (دانشگاهِ سپاہیانِ انقلاب) کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں ایران کے بڑے فاضل اساتذہ (محمد حسین خراسانی صاحب، غروی صاحب، صالحی صاحب اور اُستاد دادبِہ) کے لیکچروں کی بدولت فارسی زبان اور شعر و ادب کی نزاکتوں اور نزہتوں سے بڑی نادر آگاہی اور شناسائی حاصل ہوئی۔ 120 دنوں پر محیط قیامِ ایران کے مشاہدات اور نوٹس بھی اِس کتاب کا حصّہ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب میں ان یادوں اور یادداشتوں کی گٹھڑی آپ کے حوالے کرتا ہوں… سپردم به تو مایهٔ خویش را… \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے کہا نہیں تھا؟… اِس پیرانہ سالی میں بھی… مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور مسعود)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Kitab Wala","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385735786681,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/695282dd415721767015133.jpg?v=1785282657"},{"product_id":"qabil-e-aitraaz-2nd-edition-قابل-اعتراض-دوسرا-ایڈیشن","title":"QABIL-E-AITRAAZ - 2ND EDITION قابل اعتراض - دوسرا ایڈیشن","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/hashir-irshad\"\u003eHASHIR IRSHAD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 414\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385777434809,"sku":"BC SSH","price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d4dd19403661775557913.jpg?v=1785283313"},{"product_id":"kahaniyan-duniya-ki-کہانیاں-دنیا-کی","title":"KAHANIYAN DUNIYA KI کہانیاں دنیا کی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/salma-awan\"\u003eSALMA AWAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان متعدد جہات سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں میں جو خصوصیت دوسری خصوصیات کے مقابلے میں بہت نمایاں محسوس ہوئی وہ سلمیٰ اعوان کے مشاہدے کی اتنی شدید، بلکہ میں کہوں گا کہ اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی وَرید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال دکھایا گیا ہے۔ سلمیٰ کا اسلوب اتنا رواں اور پُرکشش ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے فن میں کوئی ایسا سحر ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور صرف لے لیتا ہی نہیں، اپنی گرفت کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(احمد ندیم قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ کسی منہ بند چشمے کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ ’’وہ اک تارا‘‘ کیا کمال کی کہانی ہے۔ مجھے تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی کہانی کو صرف میں ہی سمجھ سکتا ہوں کہ میں اُس پس منظر سے مکمل واقف ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاینا اور ہیثم کی محبت کی کہانی میں روس کے لیڈروں کی سیاسی اور ذاتی بدکاریوں کا احوال بریژنیف سے لے کر لینن تک یہ سب احوال ایک ملک کی گرتی ہوئی اخلاقیات اور اس کے ساتھ ہی عوام میں غیر مقبولیت کو سلمیٰ نے سیاسی انداز میں نہیں بلکہ کہانی کی اس روانی میں جس میں اینا اور ہیثم کی محبت، قربت اور پھر ہجر کی وہ داستان ہے جو ختم ہوتی ہے اس مقام پہ جہاں مرزا صاحباں یا ہیر رانجھے کی کہانی ختم ہوتی ہے۔ نثر کی چاشنی کو شاعری کے تلازمے کے ساتھ پیش کر کے سلمیٰ نے اظہاریہ کو اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ پشکن کی نظموں کے تراجم جو ظ انصاری نے کیے ہیں، یوجینی یوٹو شینکو اور شولوخوف کا حوالہ، گوربا چوف کی گلاس ناسٹ کا تذکرہ ہو کہ جس نے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کی نیو رکھی۔ اُسی زمانے میں چیچنین مسلمان جنگجوؤں اور روسی فوجوں کی لڑائی جو آج تک دہشت گردوں کی شکل میں پاکستان کی حدود میں موجود ہیں۔ پھر روسیوں کا وہ احساسِ شرمندگی کہ افغانستان پر حملہ کرنا حماقت تھی۔ یہ تمام تفاصیل اس باریکی سے بیان کی گئی ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے آنکھیں جھپکی نہیں جاتی ہیں۔ پاکستان میں روس کے انقلاب کے بعد اُردو افسانے میں کوئی بیانیہ اس طرح کا نہیں ملتا ہے جیسا کہ سلمیٰ اعوان نے لکھا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’تہذیبوں کے تصادم، ان کے جبر، ننگی بربریت اور وحشی پن کی کہانیاں اگر صدیوں پرانی تھیں تو آج کی نئی کہانیاں بھی اسی طرح کی ہیں۔‘‘ یہ کڑوا اور کسیلا تاثر سلمیٰ اعوان کا ہے جن کی اُردو ادب میں اولین نمود افسانے کی صف میں ہوئی تھی۔ سلمیٰ اعوان کو اپنے مشاہدات میں وسعت پیدا کرنے کا خیال آیا تو وہ دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ممالک غیر کے جغرافیے اور تاریخ میں ہی سفر نہیں کیا بلکہ اپنے زیرِ قدم ممالک کے معاشروں سے کہانیاں بھی جمع کیں۔ یہ دنیا کی کہانیاں ہیں اور یہ روس، فلسطین، عراق، سری لنکا، مصر، ترکی اور بنگلا دیش کے کرداروں اور معاشروں سے تراشی گئی ہیں۔ اب ان کی کتاب ’’کہانیاں دنیا کی‘‘ پڑھی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ محدب شیشے سے حیرتوں کو جمع کر رہی ہیں اور حیرتوں کو کہانیوں کا روپ دے رہی ہیں جن کے کردار حقیقی نظر آتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مسعود مفتی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385891696825,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697b5df228c8a1769692658.jpg?v=1785284577"},{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/zafar-ullah-poshni\"\u003eZAFAR ULLAH POSHNI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 352\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385918599353,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1785285644"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/memoir.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}