{"title":"ناول","description":"\u003cp\u003eNovel — Fictional and Non-Fictional Novels' Best Collection.\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"prem-pujaran-aur-mard-e-inqilab-پریم-پجارن-اور-مرد-انقلاب","title":"PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/quddus-sehbai\"\u003eQUDDUS SEHBAI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eYear: 2026\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمیرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eقدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367705653433,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1442.jpg?v=1785192773"},{"product_id":"chehra-ba-chehra-roo-ba-roo-چہرہ-بچہرہ-روبرو","title":"CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 143\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ\/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد حمید شاہد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eقرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔\u003cbr\u003e(اسامہ صدیق)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eروہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔\u003cbr\u003e(محمد علی صدیقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔ \u003cbr\u003e(سراج منیر)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367850684601,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1443.jpg?v=1785192590"},{"product_id":"ulysses-vol-1-یولیسس-جلد-1","title":"ULYSSES (VOL. 1) یولیسس (جلد 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/james-joyce\"\u003eJAMES JOYCE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwer-sen-roy\"\u003eANWER SEN ROY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 582\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369721082041,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0a0274071e61779040884.jpg?v=1785193243"},{"product_id":"masoomiyat-ka-qatl-معصومیت-کا-قتل","title":"MASOOMIYAT KA QATL معصومیت کا قتل","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/harper-lee\"\u003eHARPER LEE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Shaukat Niazi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 302\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجیم دھیرے سے بولا، ’’ایٹیکس؟‘‘ وہ دروازے میں مڑا اور بولا، ’’ہاں، بیٹا؟‘‘ جیم نے پوچھا، ’’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے معلوم نہیں، لیکن انھوں نے کر دیا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں، انھوں نے آج رات بھی ایسا ہی کیا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ اور جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں تو... لگتا ہے کہ صرف بچّوں کو ہی دکھ ہوتا ہے... شب بخیر!‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ ہارپر لی اپنے اس شہرۂ آفاق کلاسیک ناول میں سکاؤٹ فنچ اور جیم فنچ نامی دو کمسن بچوں کی معصوم نگاہوں سے انیس سو تیس کی دہائی کی جنوب امریکی ریاستوں میں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر عوام کی عمومی نامعقولیت اور تعصّب کا بیان بیک وقت انتہائی لطیف، پُرمزاح، دل کو چھو لینے والے لیکن دردناک انداز میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک چھوٹےسے امریکی شہر کے تعصّب، تشدد اور منافقت میں ڈوبے ہوئے ضمیر کا ایک ایسے شخص سے ٹکراؤ ہوتا ہے جو انصاف کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ کیا یہ معاشرہ اپنے درمیان سے اٹھ کھڑے ہونے والے ایک فرد کی یہ بغاوت برداشت کر پائے گا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370618532025,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69abc28ad8dee1772864138.jpg?v=1785199208"},{"product_id":"cairo-trilogy-bayn-al-qasrayn-qasr-al-shawq-al-sukkariyya-urdu-3-volumes-box-set-قاہرہ-ٹرائلوجی-بین-القصرین-قصر-الشوق-السکریۃ-اردو-تین-جلدیں","title":"CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/naguib-mahfouz\"\u003eNAGUIB MAHFOUZ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yaqub Yawar\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1176\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eعربی ناول نگاری کی تاریخ میں نجیب محفوظ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کے بڑے ادیب اور بیسویں صدی کے عربی فکشن کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کا مشہور کارنامہ ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ (Cairo Trilogy) ہے جس میں تین لازوال ناول شامل ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبین القصرین: یہ ناول ایک خاندان کی کہانی ہی نہیں، قاہرہ کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) کا مصر، عوامی اضطراب اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بین القصرین‘‘ نہ صرف نجیب محفوظ کے فن کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ عربی ناول کی تاریخ کا ایک عظیم موڑ بھی ہے۔ اس ناول نے عربی ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا اور عرب معاشرت کےپیچیدہ حقائق کو فکشن کی زبان میں لازوال کر دیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقصر الشوق: یہ دوسرا ناول ہے جو پہلے ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں کہانی نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس میںقاری مصر کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی فضا سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر ’’بین القصرین‘‘ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے حالات اور تحریکِ آزادی کا اثر ہے، تو ’’قصر الشوق‘‘ میں ہم بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مصر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں آزادی کے خواب، جدیدیت کی لہر اور روایتی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ نجیب محفوظ نے اس ناول میں نہ صرف قاہرہ کے گلی کوچوں کوحیاتِ جاودانی بخش دی ہے، بلکہ انسانی روح کی بےچینی اور تلاش کو بھی لازوال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’قصرالشوق‘‘ آج بھی نہ صرف عربی ادب کا اہم حوالہ ہے بلکہ یہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام کا حامل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالسکریہ: یہ اس سلسلے کا تیسرا اور اختتامی ناول ہے، جو پہلی بار 1957ء میں شائع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوجی انقلاب (1952ء) کے بعد ایک نئی سیاسی فضا جنم لے چکی تھی۔ ’’السکریۃ‘‘ دراصل اسی تبدیلی کے بطن میں ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو زمانے کے تغیّرات کے ساتھ اپنے اقدار، نظریات اور وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ محفوظ نے اس ناول میں ماضی اور حال کے تصادم، روایت اور جدیدیت کی کشمکش، اور فرد کی داخلی تنہائی کو ایسی فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پورے مصر کی اجتماعی روح کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان گھروں، گلیوں اور چہروں سے بھی بنتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے دکھوں اور سوالوں کے ساتھ جیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370892210361,"sku":null,"price":4000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d5df106e8c61775623952.jpg?v=1785201889"},{"product_id":"ikees-aik-so-baais-اکیس-ایک-سو-بائیس","title":"IKEES AIK SO BAAIS اکیس ایک سو بائیس","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/khalid-jawed\"\u003eKHALID JAWED\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 239\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کی نثر سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ خالد جاوید کی نثر کیکڑے کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں سب کچھ سمیٹتے ہوئے۔ ان کی نثر ہر ناپسندیدہ چیز کا بوجھ اٹھاتی ہے، اسی لیے لوگ اس سے آنکھ چراتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے افسانے کو عام بیانیے کی سطح سے اٹھا کر کسی طرح کے روحانی منشور کا درجہ عطا کردیتی ہیں۔ اس بیانیے کا ہی کمال ہے کہ ’’نعمت خانہ‘‘ جیسا ناول اُردو تو اُردو، انگریزی زبان میں بھی شاید ہی لکھا گیا ہو۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمس الرحمٰن فاروقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانیاں بہت اکیلی اور بےمیل اور ہر طرح کی باہری امداد اور سہارے سے محروم ہیں۔ ان کو سہارا ملتا ہے اپنی گھنی سرکش زبان اور ہر طرح کی بندشوں کو خاطر میں نہ لانے والے بیان سے۔ یہ کہانیاں قرۃالعین حیدر، انتظار حسین اور نیرمسعود کی کہانیوں سے تو الگ ہیں ہی، ہم عصر لکھنے والوں سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ گہرے وجودی سوالات اور فکری بحثوں کے پہلو خالدجاوید کے یہاں اس خاموشی کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، جیسے ٹہنیوں پر انکھوے اور کونپلیں پھوٹتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمیم حنفی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کا بیانیہ زندگی کے اصل جوہر سے مماثل ہے۔ وہ ایک ہی کہانی میں لگاتار مختلف اشکال اختیار کرتا جاتا ہے۔ عقل اور پاگل پن، سنجیدہ اور کامک، اصل اور نقل، دکھ اور قہقہہ اور ایسے ہی دوسرے متضاد عناصر اتنی سرعت اور تیزی کے ساتھ ان کے بیانیے میں آتے جاتے رہتے ہیں کہ بیانیہ کو اس کی اصل ماہیت میں گرفت میں لے پانا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے، جتنا کہ ’وقت‘ کو گرفت میں لے پانا۔ خالدجاوید کے اس بیانیے کا کوئی رول ماڈل مجھے ہندوستانی ادب میں نہیں نظر آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ادّین باجپئی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیئت کا نستعلیق حسن خالدجاوید کے بیانیہ کا وصف ہے۔ زبان و بیان پر انھیں غیرمعمولی قدرت حاصل ہے۔ افسانے کا ایسا حسنِ تعمیر میں نے اور کہیں نہیں دیکھا۔ خالدجاوید کی نگاہِ تخیل ہر جگہ پہنچ جاتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے زبان بھی اپنی زنبیل لےکر باریک سے باریک جذبات اور لطیف سے لطیف احساس کو الفاظ کا جامہ پہنانے کےلیے حاضر ہوجاتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—وارث علوی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالدجاوید کے فکشن پر گفتگو کرنے کے لیے تنقید کے رسمی اور کتابی آلات تقریباً ناکافی ہیں۔ تنقید کے دستیاب آلات ناقد کی نااہلی کہ جو اس کے فکشن کی جسامت پر چست نہیں بیٹھتے۔ باربار فلسفیانہ استبعاد سے مڈبھیڑ اور زبان کی اندرونی قوتوں کو مسلسل بروئے کار لانے کا عمل ہمیں اس سے جوجھنے اور دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اتنے مراحل سے گزرنے کی جس میں تاب و توانائی ہو، اسے ہی اس سرکش دیو کو بوتل میں اتارنے کی جسارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ورنہ گفتگو سے خاموشی ہزارہا بہتر عمل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—عتیق اللہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانی ’ادبھُت‘ ہے۔ ان کے یہاں کچھ اس قسم کی Dark Intensity ہے جو میں نے اب تک اپنی پڑھی ہوئی، ہندی تو کیا کسی عالمی کہانی میں بھی نہیں دیکھی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—نِرمل ورما\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کے فکشن کا ماجرا اتنا مکمل ہے کہ فارم، تکنیک یا صنف کے تعین کے سوالات غیرضروری ہوجاتے ہیں۔ ان کے یہاں کرافٹ کا شعور اتنا گہرا ہے کہ کرافٹ سادگی کے ساتھ موجود ہوتے ہوئے بھی غائب معلوم ہوتی ہے۔ یہ وژن خالدجاوید کی تازہ کاری کا جوہر ہے اور یہ جوہر انھیں معاصر اُردو افسانے میں ایک بالکل ہی منفرد انداز کا حامل بنادیتا ہے، جس کے موجد بھی وہ نظر آتے ہیں اور خاتم بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—آصف فرّخی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبظاہر خالدجاوید کی باتیں سادہ محسوس ہوتی ہیں، مگر یہ سادگی ایک فریب ہے۔ وہ اس تضاد کو جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں وہ پُرفریب ہے۔ اس پر مستزاد خالدجاوید کی نثر کا بےساختہ پن اور بہاؤ۔ اس نثر میں کہیں شعریت نہیں۔ نثریت اپنے کمال کی طرف گامزن محسوس ہوتی ہے۔ یہ نثر فی الوقت انھیں سے مخصوص ہے اور کوئی ان کا حریف نہیں۔ معاصر اُردوفکشن میں بھی ان کا کوئی حریف نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380890677433,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aedd829f05c1773067650.jpg?v=1785251080"},{"product_id":"allah-miyan-ka-kaarkhana-اللہ-میاں-کا-کارخانہ","title":"ALLAH MIYAN KA KAARKHANA اللہ میاں کا کارخانہ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/mohsin-khan\"\u003eMOHSIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمیں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی کبھی بچہ تھا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ پڑھا تو یاد آیا کہ کبھی میں بھی اپنی سہمی سہمی آنکھوں سے اُس عجیب کارخانے کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا! میں بھی طرح طرح کے سوالات کیا کرتا تھا! کبھی خود سے اور کبھی دوسروں سے۔ میں بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کون کر رہا ہے؟ ایک پیڑ کے سارے پھول ایک جیسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ خوشبو کیا چیز ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ جب طوطا بول سکتا ہے تو کتا کیوں نہیں بولتا؟ اگر اللہ سب کچھ دیکھتا ہے تو کہاں سے دیکھتا ہے؟ وہ کہاں چھپا رہتا ہے کہ ہمیں تو دیکھ سکتا ہے مگر ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ہیں؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ کا وہ بچہ جو حادثات، واقعات اور سوالات کے جنگل میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، اکیلا نہیں ہے! وہ بچہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ہے۔ وقت نے اس سے اس کی معصومیت چُرا لی ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہ مایوس نہیں ہے، اسے یقین ہے کہ ایک دن اس کو سب کچھ مل جائے گا، وہ بھی جو اُس سے چھین لیا گیا ہے اور وہ بھی جو اُس کا حق ہے۔ خواہش اور کوشش کا یہ سفر کتنا لمبا ہے، کسے معلوم ہے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے خیال میں برادرِ محترم محسن خان کا ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ ایک ناول نہیں ہے، بلکہ ایک کیفیت ہے جس کا لطف اسے محسوس کرنے میں ہے، بیان کرنے میں نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپکاسو نے ایک بار اپنی پینٹنگز کے حوالے سے کہا تھا کہ میں دنیا کو بچوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محسن خان کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ مجھے ایک ایسے البم کی طرح نظر آتا ہے جس کی ہر تصویر کو ایک بچے کی آنکھ نے اپنے معصوم آنسوؤں سے رنگا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں اُردو میں جو ناول منظرِ عام پر آئے ہیں، ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اُن سب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام کا حامل ہے۔ خدا، کا ئنات اور انسان کے باہمی رشتوں سے بننے والی تکون کو محسن خان نے جس سادگی مگر فنکاری کے ساتھ بیان کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ناول کے بیانیہ میں بالائی سطح پر بغیر کسی مابعد الطبیعیاتی ڈسکورس کا پرچار کیے، گہرے مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی سوالات، ناول کے متن میں اسی طرح سامنے آ جاتے ہیں جیسے انکھوئے سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ میں محسن خان کی اس بہترین تخلیق کے لیے اُنھیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقاری کی اُنگلی پکڑ کے اُسے ایسی مہارت اور ہنرمندی سے اُس عالمِ حیرت میں لے جانا جسے ہم بچپن کہتے ہیں کہ وہ انگشتِ بدنداں وہاں یکسر کھو جائے اور واپس آنے کا نام نہ لے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو کوئی ڈکنز، مارک ٹوین، ہارپر لی، الطاف فاطمہ یا جے ڈی سالنجر جیسا قلم کارِ ساحر نُما ہی کر پاتا ہے۔ ایک بچے کے زاویۂ نظر سے لکھے محسن خان کے اس دل موہ لینے والے ناول میں ہمیں ایسی ہی ساحری نظر آتی ہے۔ معصومیت کے دیس میں جہاں ہمیں تجسّس، انکشاف، برجستگی اور معنویت کے بہت سے پہلو ملتے ہیں وہیں اس کی فضا میں قلابازیاں کھاتی رنگین پتنگوں کا چلبلاپن، فروری کے نئے کھلے پھولوں کی تازگی، اور کھلنڈرے بچوں کی کھلکھلاہٹ نمایاں ہے۔ زندگی اکثر اپنا مکھوٹا اتار کر ایک سے ایک بھیانک چہرہ دکھاتی ہے۔ لیکن اللہ میاں کے کارخانے کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے، اس کے المیوں اور محرومیوں سے سمجھوتا کرتے کرتے، اور اس میں خوشگوار لمحوں کو جاتی پگڈنڈیوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کم سن جبران ہم بالغوں کو جینے کے بہت سے گُر سکھاتا ہے۔ اور تعصب، ریاکاری اور بغض سے پاک ایک روشن خیال زندگی گزارنے کی ہمت دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380992684217,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a040b66fdfc1772110006.jpg?v=1785251603"},{"product_id":"banglay-ki-baoli-بنگلے-کی-باؤلی","title":"BANGLAY KI BAOLI بنگلے کی باؤلی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/ali-akbar-natiq\"\u003eALI AKBAR NATIQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 224\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48384464879801,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a7c9d77a86a1772603863.jpg?v=1785272587"},{"product_id":"vibhaj-وبھاج","title":"VIBHAJ وبھاج","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/muhammad-hafeez-khan\"\u003eMUHAMMAD HAFEEZ KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 303\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمحمد حفیظ خان کے جتنے ناول میری نظر سے گزرے ہیں، ان کے مطالعے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان سے اتنا کم اعتنا کیوں کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے ناول اور کرداروں کی جس ہنرمندی سے انھوں نے عکاسی کی ہے وہ قابلِ توجہ ہے۔ جرم و سزا کی ان دنیاؤں میں عورت اور مرد اپنے اردگرد میں اس طرح مدغم ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ وہ زمین سے اُگے ہیں یا ان کی بدولت زمین میں کوئی الم ناکی سرایت کر گئی ہے۔ قدم بہ قدم ہر شے ایک ایسی ابتری کا حصہ بنتی جاتی ہے جس میں سلوک اور وحشت کی کیفیتیں افق کی طرح ہمیشہ عین سامنے اور ہمیشہ پہنچ سے باہر معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا بےباک قلم واقعیت پسندی کو عجب افتاد سے دوچار کرتا جاتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمد حفیظ خان کے اس ناول کو پڑھتے ہوئے میں حیرت سے زیادہ صدمے سے دوچار ہوا ہوں۔ میں ششدر تھا کہ کیا ایسے موضوع پر بھی قلم اُٹھا یا جا سکتا ہے جس پر لکھنے سے قلم جل اُٹھے، معاشرے کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، پڑھنے والے ساکت و متحیر ہوں اور ہم عصر ادیب طعنہ زنی کریں کہ اس موضوع پر کیوں لکھا گیا۔ لیکن میرے نزدیک لائقِ تحسین امر یہ ہے کہ انھوں نے عام روایتی قسم کا ناول نہیں لکھا، بلکہ مختلف کرداروں کی بنت سے ایک منفرد موضوع پر لکھا ہے۔ یہ موضوع کیا ہے اور وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، جب آپ اس ناول کو پڑھیں گے تو جان جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ موضوع نازک نہیں، حقیقت ہے اور حقیقت میں نزاکت نہیں ہوتی، سختی بھی ہوتی ہے اور تلخی بھی۔ پچاس ساٹھ سال پہلے میرے نہایت قریبی دوست اور فکشن رائٹر اکرام اللّٰہ صاحب کا ایک ناول ’’گُرگِ شب‘‘ شائع ہوا تھا۔ اُس کا موضوع بھی مختلف تھا۔ بدقسمتی سے اُس پر پابندی لگ گئی لیکن وہ دوبارہ چھپا اور پھر کئی بار چھپا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے سماجی اخلاقیات کے پیمانے، سچ کے پیمانے بدلنے لگتے ہیں۔ ہر وہ چیز بدلنے لگتی ہے جو کل کلاں ممنوع ہوا کرتی تھی۔ جو ماضی میں قدغن زدہ تھا، وہ آج نارمل ہوا کرتا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ محمد حفیظ خان کا یہ ناول بھی آج کے منظر نامے میں قبول کیا جائے گا۔ اگر چہ حیرت سے، اگرچہ اچنبھے سے اور شاید کسی حد تک حسد سے کہ ہم نے اس موضوع پر قلم کیوں نہیں اُٹھایا۔\u003cbr\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385710850233,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697c6ecb55a111769762507.jpg?v=1785281594"},{"product_id":"bebasi-بے-بسی","title":"BEBASI بے بسی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shahid-masaud-khattak\"\u003eSHAHID MASAUD KHATTAK\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ ان فراموش کردہ خِطوں کے زمین زادوں کا قصۂ درد ہے جن کا کہیں تذکرہ نہیں ہوتا۔ یہ وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سارے خطے میں بسنے والے عام انسان کی بےبسی کی داستان ہے۔ یہ بدامنی و شورش سے بکھر جانے والے عام لوگوں اور اس سارے بد نصیب خطے کے اُجڑنے کی کہانی ہے۔ یہ ایک سائیکاٹرسٹ کے قلم سے موجودہ سماج کے تضادات، اعتقادات، انسانی رویوں، معاشرتی ناانصافیوں اور مذہبی، لسانی، طبقاتی و اختیاراتی تقسیم کا تذکرہ ہے۔ یہ اس خطۂ کرب و ابتلا کے ایک عہد کے رہنے والوں کی کہانی ہے۔ یہاں کی آئندہ نسلوں کے لیے آئندہ زمانوں کے لیے۔ یہ ناول ہے، فکشن ہے— یہ سچ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد مسعود خٹک ایک معروف سائیکاٹرسٹ ہیں۔ پیشہ ورانہ مصروفیات کے علاوہ کتابیں پڑھنا، لکھنا اور سفر کرنا ان کا طرزِ زندگی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ طبی نفسیات پر لکھنے کے علاوہ دو کتابوں، ’’پاکستانی معاشرہ، ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ‘‘ اور پانچ ممالک کے سفر نامے ’’جہانِ حیرت‘‘ کے مصنّف ہیں۔ اب ڈیرہ اسماعیل خان میں سندھ کنارے رہتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385916174521,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d76de0a60721775726048.jpg?v=1785284984"},{"product_id":"amrit-امرت","title":"AMRIT امرت","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shireen-haider-1\"\u003eSHIREEN HAIDER\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 704\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e’امرت‘‘ محض ایک کم عمر لڑکی کی ہنستی کھیلتی زندگی کی کہانی نہیں، بلکہ خاندانی روایات پر قربان ہو جانے والی لڑکی کی مدوجزر سے بھرپور جدوجہد کی داستان ہے۔ قاری اس کہانی کو پڑھتا نہیں ہے بلکہ اس میں سانس لیتا ہے، جیتا ہے، چلتا پھرتا ہے، خوشی اور غم میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے بلکہ رشتوں کے مصنوعی چہروں کی پرتیں کھولنے والا آئینہ ہے۔ مشکل میں آپ کے ساتھ کھڑے ہونے والے وہ نہیں ہوتے جن سے آپ توقع کرتے ہیں، بلکہ آپ کے اپنے وہ ہیں جو اندھیرے میں بھی آپ کا سایہ بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ شیریں حیدر اس ناول میں امرت کی صورت بقلم خود کہانی سناتی ہیں تو قاری ہمہ تن گوش ہو کر سنتا ہے۔ زبان عام فہم اور سادہ ہونے کے باوجود اثر انگیز ہے۔ رسوم و رواج جو نسلوں سے چلتے آ رہے ہیں وہ کس طرح آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہیں۔ ’’امرت‘‘ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتی، اندر اتر کر دیر تک بے چین رکھتی ہے، آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ \u003cbr\u003e(محمد حفیظ خان)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48385916338361,"sku":"BC SSH","price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a2a2cbba55a1772266187.jpg?v=1785285318"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-زیر-زمیں-سرگوشیاں","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN زیر زمیں سرگوشیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fyodor-dostoevsky\"\u003eFYODOR DOSTOEVSKY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Khalid Fateh Muhammad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 159\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386189426873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1785286992"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/novel.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}