{"title":"ناول","description":"\u003cp\u003eNovel — Fictional and Non-Fictional Novels' Best Collection.\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"prem-pujaran-aur-mard-e-inqilab-پریم-پجارن-اور-مرد-انقلاب","title":"PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمیرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eقدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432284893369,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1442.jpg?v=1785192773"},{"product_id":"chehra-ba-chehra-roo-ba-roo-چہرہ-بچہرہ-روبرو","title":"CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ\/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد حمید شاہد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eقرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔\u003cbr\u003e(اسامہ صدیق)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eروہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔\u003cbr\u003e(محمد علی صدیقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔ \u003cbr\u003e(سراج منیر)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432285155513,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1443.jpg?v=1785192590"},{"product_id":"ulysses-vol-1-یولیسس-جلد-1","title":"ULYSSES (VOL. 1) یولیسس (جلد 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432286400697,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0a0274071e61779040884.jpg?v=1785193243"},{"product_id":"masoomiyat-ka-qatl-معصومیت-کا-قتل","title":"MASOOMIYAT KA QATL معصومیت کا قتل","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eجیم دھیرے سے بولا، ’’ایٹیکس؟‘‘ وہ دروازے میں مڑا اور بولا، ’’ہاں، بیٹا؟‘‘ جیم نے پوچھا، ’’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے معلوم نہیں، لیکن انھوں نے کر دیا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں، انھوں نے آج رات بھی ایسا ہی کیا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ اور جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں تو... لگتا ہے کہ صرف بچّوں کو ہی دکھ ہوتا ہے... شب بخیر!‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ ہارپر لی اپنے اس شہرۂ آفاق کلاسیک ناول میں سکاؤٹ فنچ اور جیم فنچ نامی دو کمسن بچوں کی معصوم نگاہوں سے انیس سو تیس کی دہائی کی جنوب امریکی ریاستوں میں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر عوام کی عمومی نامعقولیت اور تعصّب کا بیان بیک وقت انتہائی لطیف، پُرمزاح، دل کو چھو لینے والے لیکن دردناک انداز میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک چھوٹےسے امریکی شہر کے تعصّب، تشدد اور منافقت میں ڈوبے ہوئے ضمیر کا ایک ایسے شخص سے ٹکراؤ ہوتا ہے جو انصاف کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ کیا یہ معاشرہ اپنے درمیان سے اٹھ کھڑے ہونے والے ایک فرد کی یہ بغاوت برداشت کر پائے گا؟\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432312647865,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69abc28ad8dee1772864138.jpg?v=1785199208"},{"product_id":"cairo-trilogy-bayn-al-qasrayn-qasr-al-shawq-al-sukkariyya-urdu-3-volumes-box-set-قاہرہ-ٹرائلوجی-بین-القصرین-قصر-الشوق-السکریۃ-اردو-تین-جلدیں","title":"CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eعربی ناول نگاری کی تاریخ میں نجیب محفوظ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کے بڑے ادیب اور بیسویں صدی کے عربی فکشن کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کا مشہور کارنامہ ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ (Cairo Trilogy) ہے جس میں تین لازوال ناول شامل ہیں:\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبین القصرین: یہ ناول ایک خاندان کی کہانی ہی نہیں، قاہرہ کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) کا مصر، عوامی اضطراب اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بین القصرین‘‘ نہ صرف نجیب محفوظ کے فن کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ عربی ناول کی تاریخ کا ایک عظیم موڑ بھی ہے۔ اس ناول نے عربی ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا اور عرب معاشرت کےپیچیدہ حقائق کو فکشن کی زبان میں لازوال کر دیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقصر الشوق: یہ دوسرا ناول ہے جو پہلے ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں کہانی نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس میںقاری مصر کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی فضا سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر ’’بین القصرین‘‘ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے حالات اور تحریکِ آزادی کا اثر ہے، تو ’’قصر الشوق‘‘ میں ہم بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مصر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں آزادی کے خواب، جدیدیت کی لہر اور روایتی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ نجیب محفوظ نے اس ناول میں نہ صرف قاہرہ کے گلی کوچوں کوحیاتِ جاودانی بخش دی ہے، بلکہ انسانی روح کی بےچینی اور تلاش کو بھی لازوال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’قصرالشوق‘‘ آج بھی نہ صرف عربی ادب کا اہم حوالہ ہے بلکہ یہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام کا حامل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالسکریہ: یہ اس سلسلے کا تیسرا اور اختتامی ناول ہے، جو پہلی بار 1957ء میں شائع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوجی انقلاب (1952ء) کے بعد ایک نئی سیاسی فضا جنم لے چکی تھی۔ ’’السکریۃ‘‘ دراصل اسی تبدیلی کے بطن میں ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو زمانے کے تغیّرات کے ساتھ اپنے اقدار، نظریات اور وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ محفوظ نے اس ناول میں ماضی اور حال کے تصادم، روایت اور جدیدیت کی کشمکش، اور فرد کی داخلی تنہائی کو ایسی فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پورے مصر کی اجتماعی روح کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان گھروں، گلیوں اور چہروں سے بھی بنتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے دکھوں اور سوالوں کے ساتھ جیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432340041913,"sku":null,"price":4000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d5df106e8c61775623952.jpg?v=1785201889"},{"product_id":"ikees-aik-so-baais-اکیس-ایک-سو-بائیس","title":"IKEES AIK SO BAAIS اکیس ایک سو بائیس","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eان کی نثر سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ خالد جاوید کی نثر کیکڑے کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں سب کچھ سمیٹتے ہوئے۔ ان کی نثر ہر ناپسندیدہ چیز کا بوجھ اٹھاتی ہے، اسی لیے لوگ اس سے آنکھ چراتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے افسانے کو عام بیانیے کی سطح سے اٹھا کر کسی طرح کے روحانی منشور کا درجہ عطا کردیتی ہیں۔ اس بیانیے کا ہی کمال ہے کہ ’’نعمت خانہ‘‘ جیسا ناول اُردو تو اُردو، انگریزی زبان میں بھی شاید ہی لکھا گیا ہو۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمس الرحمٰن فاروقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانیاں بہت اکیلی اور بےمیل اور ہر طرح کی باہری امداد اور سہارے سے محروم ہیں۔ ان کو سہارا ملتا ہے اپنی گھنی سرکش زبان اور ہر طرح کی بندشوں کو خاطر میں نہ لانے والے بیان سے۔ یہ کہانیاں قرۃالعین حیدر، انتظار حسین اور نیرمسعود کی کہانیوں سے تو الگ ہیں ہی، ہم عصر لکھنے والوں سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ گہرے وجودی سوالات اور فکری بحثوں کے پہلو خالدجاوید کے یہاں اس خاموشی کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، جیسے ٹہنیوں پر انکھوے اور کونپلیں پھوٹتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمیم حنفی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کا بیانیہ زندگی کے اصل جوہر سے مماثل ہے۔ وہ ایک ہی کہانی میں لگاتار مختلف اشکال اختیار کرتا جاتا ہے۔ عقل اور پاگل پن، سنجیدہ اور کامک، اصل اور نقل، دکھ اور قہقہہ اور ایسے ہی دوسرے متضاد عناصر اتنی سرعت اور تیزی کے ساتھ ان کے بیانیے میں آتے جاتے رہتے ہیں کہ بیانیہ کو اس کی اصل ماہیت میں گرفت میں لے پانا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے، جتنا کہ ’وقت‘ کو گرفت میں لے پانا۔ خالدجاوید کے اس بیانیے کا کوئی رول ماڈل مجھے ہندوستانی ادب میں نہیں نظر آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ادّین باجپئی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیئت کا نستعلیق حسن خالدجاوید کے بیانیہ کا وصف ہے۔ زبان و بیان پر انھیں غیرمعمولی قدرت حاصل ہے۔ افسانے کا ایسا حسنِ تعمیر میں نے اور کہیں نہیں دیکھا۔ خالدجاوید کی نگاہِ تخیل ہر جگہ پہنچ جاتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے زبان بھی اپنی زنبیل لےکر باریک سے باریک جذبات اور لطیف سے لطیف احساس کو الفاظ کا جامہ پہنانے کےلیے حاضر ہوجاتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—وارث علوی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالدجاوید کے فکشن پر گفتگو کرنے کے لیے تنقید کے رسمی اور کتابی آلات تقریباً ناکافی ہیں۔ تنقید کے دستیاب آلات ناقد کی نااہلی کہ جو اس کے فکشن کی جسامت پر چست نہیں بیٹھتے۔ باربار فلسفیانہ استبعاد سے مڈبھیڑ اور زبان کی اندرونی قوتوں کو مسلسل بروئے کار لانے کا عمل ہمیں اس سے جوجھنے اور دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اتنے مراحل سے گزرنے کی جس میں تاب و توانائی ہو، اسے ہی اس سرکش دیو کو بوتل میں اتارنے کی جسارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ورنہ گفتگو سے خاموشی ہزارہا بہتر عمل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—عتیق اللہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانی ’ادبھُت‘ ہے۔ ان کے یہاں کچھ اس قسم کی Dark Intensity ہے جو میں نے اب تک اپنی پڑھی ہوئی، ہندی تو کیا کسی عالمی کہانی میں بھی نہیں دیکھی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—نِرمل ورما\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کے فکشن کا ماجرا اتنا مکمل ہے کہ فارم، تکنیک یا صنف کے تعین کے سوالات غیرضروری ہوجاتے ہیں۔ ان کے یہاں کرافٹ کا شعور اتنا گہرا ہے کہ کرافٹ سادگی کے ساتھ موجود ہوتے ہوئے بھی غائب معلوم ہوتی ہے۔ یہ وژن خالدجاوید کی تازہ کاری کا جوہر ہے اور یہ جوہر انھیں معاصر اُردو افسانے میں ایک بالکل ہی منفرد انداز کا حامل بنادیتا ہے، جس کے موجد بھی وہ نظر آتے ہیں اور خاتم بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—آصف فرّخی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبظاہر خالدجاوید کی باتیں سادہ محسوس ہوتی ہیں، مگر یہ سادگی ایک فریب ہے۔ وہ اس تضاد کو جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں وہ پُرفریب ہے۔ اس پر مستزاد خالدجاوید کی نثر کا بےساختہ پن اور بہاؤ۔ اس نثر میں کہیں شعریت نہیں۔ نثریت اپنے کمال کی طرف گامزن محسوس ہوتی ہے۔ یہ نثر فی الوقت انھیں سے مخصوص ہے اور کوئی ان کا حریف نہیں۔ معاصر اُردوفکشن میں بھی ان کا کوئی حریف نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432434151609,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aedd829f05c1773067650.jpg?v=1785251080"},{"product_id":"allah-miyan-ka-kaarkhana-اللہ-میاں-کا-کارخانہ","title":"ALLAH MIYAN KA KAARKHANA اللہ میاں کا کارخانہ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمیں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی کبھی بچہ تھا!\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ پڑھا تو یاد آیا کہ کبھی میں بھی اپنی سہمی سہمی آنکھوں سے اُس عجیب کارخانے کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا! میں بھی طرح طرح کے سوالات کیا کرتا تھا! کبھی خود سے اور کبھی دوسروں سے۔ میں بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کون کر رہا ہے؟ ایک پیڑ کے سارے پھول ایک جیسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ خوشبو کیا چیز ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ جب طوطا بول سکتا ہے تو کتا کیوں نہیں بولتا؟ اگر اللہ سب کچھ دیکھتا ہے تو کہاں سے دیکھتا ہے؟ وہ کہاں چھپا رہتا ہے کہ ہمیں تو دیکھ سکتا ہے مگر ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ہیں؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ کا وہ بچہ جو حادثات، واقعات اور سوالات کے جنگل میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، اکیلا نہیں ہے! وہ بچہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ہے۔ وقت نے اس سے اس کی معصومیت چُرا لی ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہ مایوس نہیں ہے، اسے یقین ہے کہ ایک دن اس کو سب کچھ مل جائے گا، وہ بھی جو اُس سے چھین لیا گیا ہے اور وہ بھی جو اُس کا حق ہے۔ خواہش اور کوشش کا یہ سفر کتنا لمبا ہے، کسے معلوم ہے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے خیال میں برادرِ محترم محسن خان کا ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ ایک ناول نہیں ہے، بلکہ ایک کیفیت ہے جس کا لطف اسے محسوس کرنے میں ہے، بیان کرنے میں نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپکاسو نے ایک بار اپنی پینٹنگز کے حوالے سے کہا تھا کہ میں دنیا کو بچوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محسن خان کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ مجھے ایک ایسے البم کی طرح نظر آتا ہے جس کی ہر تصویر کو ایک بچے کی آنکھ نے اپنے معصوم آنسوؤں سے رنگا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں اُردو میں جو ناول منظرِ عام پر آئے ہیں، ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اُن سب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام کا حامل ہے۔ خدا، کا ئنات اور انسان کے باہمی رشتوں سے بننے والی تکون کو محسن خان نے جس سادگی مگر فنکاری کے ساتھ بیان کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ناول کے بیانیہ میں بالائی سطح پر بغیر کسی مابعد الطبیعیاتی ڈسکورس کا پرچار کیے، گہرے مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی سوالات، ناول کے متن میں اسی طرح سامنے آ جاتے ہیں جیسے انکھوئے سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ میں محسن خان کی اس بہترین تخلیق کے لیے اُنھیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقاری کی اُنگلی پکڑ کے اُسے ایسی مہارت اور ہنرمندی سے اُس عالمِ حیرت میں لے جانا جسے ہم بچپن کہتے ہیں کہ وہ انگشتِ بدنداں وہاں یکسر کھو جائے اور واپس آنے کا نام نہ لے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو کوئی ڈکنز، مارک ٹوین، ہارپر لی، الطاف فاطمہ یا جے ڈی سالنجر جیسا قلم کارِ ساحر نُما ہی کر پاتا ہے۔ ایک بچے کے زاویۂ نظر سے لکھے محسن خان کے اس دل موہ لینے والے ناول میں ہمیں ایسی ہی ساحری نظر آتی ہے۔ معصومیت کے دیس میں جہاں ہمیں تجسّس، انکشاف، برجستگی اور معنویت کے بہت سے پہلو ملتے ہیں وہیں اس کی فضا میں قلابازیاں کھاتی رنگین پتنگوں کا چلبلاپن، فروری کے نئے کھلے پھولوں کی تازگی، اور کھلنڈرے بچوں کی کھلکھلاہٹ نمایاں ہے۔ زندگی اکثر اپنا مکھوٹا اتار کر ایک سے ایک بھیانک چہرہ دکھاتی ہے۔ لیکن اللہ میاں کے کارخانے کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے، اس کے المیوں اور محرومیوں سے سمجھوتا کرتے کرتے، اور اس میں خوشگوار لمحوں کو جاتی پگڈنڈیوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کم سن جبران ہم بالغوں کو جینے کے بہت سے گُر سکھاتا ہے۔ اور تعصب، ریاکاری اور بغض سے پاک ایک روشن خیال زندگی گزارنے کی ہمت دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48432467804345,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a040b66fdfc1772110006.jpg?v=1785251603"},{"product_id":"banglay-ki-baoli-بنگلے-کی-باؤلی","title":"BANGLAY KI BAOLI بنگلے کی باؤلی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436956790969,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a7c9d77a86a1772603863.jpg?v=1785272587"},{"product_id":"vibhaj-وبھاج","title":"VIBHAJ وبھاج","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eمحمد حفیظ خان کے جتنے ناول میری نظر سے گزرے ہیں، ان کے مطالعے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان سے اتنا کم اعتنا کیوں کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے ناول اور کرداروں کی جس ہنرمندی سے انھوں نے عکاسی کی ہے وہ قابلِ توجہ ہے۔ جرم و سزا کی ان دنیاؤں میں عورت اور مرد اپنے اردگرد میں اس طرح مدغم ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ وہ زمین سے اُگے ہیں یا ان کی بدولت زمین میں کوئی الم ناکی سرایت کر گئی ہے۔ قدم بہ قدم ہر شے ایک ایسی ابتری کا حصہ بنتی جاتی ہے جس میں سلوک اور وحشت کی کیفیتیں افق کی طرح ہمیشہ عین سامنے اور ہمیشہ پہنچ سے باہر معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا بےباک قلم واقعیت پسندی کو عجب افتاد سے دوچار کرتا جاتا ہے۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمد حفیظ خان کے اس ناول کو پڑھتے ہوئے میں حیرت سے زیادہ صدمے سے دوچار ہوا ہوں۔ میں ششدر تھا کہ کیا ایسے موضوع پر بھی قلم اُٹھا یا جا سکتا ہے جس پر لکھنے سے قلم جل اُٹھے، معاشرے کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، پڑھنے والے ساکت و متحیر ہوں اور ہم عصر ادیب طعنہ زنی کریں کہ اس موضوع پر کیوں لکھا گیا۔ لیکن میرے نزدیک لائقِ تحسین امر یہ ہے کہ انھوں نے عام روایتی قسم کا ناول نہیں لکھا، بلکہ مختلف کرداروں کی بنت سے ایک منفرد موضوع پر لکھا ہے۔ یہ موضوع کیا ہے اور وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، جب آپ اس ناول کو پڑھیں گے تو جان جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ موضوع نازک نہیں، حقیقت ہے اور حقیقت میں نزاکت نہیں ہوتی، سختی بھی ہوتی ہے اور تلخی بھی۔ پچاس ساٹھ سال پہلے میرے نہایت قریبی دوست اور فکشن رائٹر اکرام اللّٰہ صاحب کا ایک ناول ’’گُرگِ شب‘‘ شائع ہوا تھا۔ اُس کا موضوع بھی مختلف تھا۔ بدقسمتی سے اُس پر پابندی لگ گئی لیکن وہ دوبارہ چھپا اور پھر کئی بار چھپا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے سماجی اخلاقیات کے پیمانے، سچ کے پیمانے بدلنے لگتے ہیں۔ ہر وہ چیز بدلنے لگتی ہے جو کل کلاں ممنوع ہوا کرتی تھی۔ جو ماضی میں قدغن زدہ تھا، وہ آج نارمل ہوا کرتا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ محمد حفیظ خان کا یہ ناول بھی آج کے منظر نامے میں قبول کیا جائے گا۔ اگر چہ حیرت سے، اگرچہ اچنبھے سے اور شاید کسی حد تک حسد سے کہ ہم نے اس موضوع پر قلم کیوں نہیں اُٹھایا۔\u003cbr\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385710850233,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/697c6ecb55a111769762507.jpg?v=1785281594"},{"product_id":"bebasi-بے-بسی","title":"BEBASI بے بسی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eیہ ان فراموش کردہ خِطوں کے زمین زادوں کا قصۂ درد ہے جن کا کہیں تذکرہ نہیں ہوتا۔ یہ وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سارے خطے میں بسنے والے عام انسان کی بےبسی کی داستان ہے۔ یہ بدامنی و شورش سے بکھر جانے والے عام لوگوں اور اس سارے بد نصیب خطے کے اُجڑنے کی کہانی ہے۔ یہ ایک سائیکاٹرسٹ کے قلم سے موجودہ سماج کے تضادات، اعتقادات، انسانی رویوں، معاشرتی ناانصافیوں اور مذہبی، لسانی، طبقاتی و اختیاراتی تقسیم کا تذکرہ ہے۔ یہ اس خطۂ کرب و ابتلا کے ایک عہد کے رہنے والوں کی کہانی ہے۔ یہاں کی آئندہ نسلوں کے لیے آئندہ زمانوں کے لیے۔ یہ ناول ہے، فکشن ہے— یہ سچ ہے۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد مسعود خٹک ایک معروف سائیکاٹرسٹ ہیں۔ پیشہ ورانہ مصروفیات کے علاوہ کتابیں پڑھنا، لکھنا اور سفر کرنا ان کا طرزِ زندگی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ طبی نفسیات پر لکھنے کے علاوہ دو کتابوں، ’’پاکستانی معاشرہ، ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ‘‘ اور پانچ ممالک کے سفر نامے ’’جہانِ حیرت‘‘ کے مصنّف ہیں۔ اب ڈیرہ اسماعیل خان میں سندھ کنارے رہتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48385916174521,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d76de0a60721775726048.jpg?v=1785284984"},{"product_id":"amrit-امرت","title":"AMRIT امرت","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e’امرت‘‘ محض ایک کم عمر لڑکی کی ہنستی کھیلتی زندگی کی کہانی نہیں، بلکہ خاندانی روایات پر قربان ہو جانے والی لڑکی کی مدوجزر سے بھرپور جدوجہد کی داستان ہے۔ قاری اس کہانی کو پڑھتا نہیں ہے بلکہ اس میں سانس لیتا ہے، جیتا ہے، چلتا پھرتا ہے، خوشی اور غم میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے بلکہ رشتوں کے مصنوعی چہروں کی پرتیں کھولنے والا آئینہ ہے۔ مشکل میں آپ کے ساتھ کھڑے ہونے والے وہ نہیں ہوتے جن سے آپ توقع کرتے ہیں، بلکہ آپ کے اپنے وہ ہیں جو اندھیرے میں بھی آپ کا سایہ بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ شیریں حیدر اس ناول میں امرت کی صورت بقلم خود کہانی سناتی ہیں تو قاری ہمہ تن گوش ہو کر سنتا ہے۔ زبان عام فہم اور سادہ ہونے کے باوجود اثر انگیز ہے۔ رسوم و رواج جو نسلوں سے چلتے آ رہے ہیں وہ کس طرح آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہیں۔ ’’امرت‘‘ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتی، اندر اتر کر دیر تک بے چین رکھتی ہے، آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e(محمد حفیظ خان)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437018230969,"sku":"BC SSH","price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a2a2cbba55a1772266187.jpg?v=1785285318"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-زیر-زمیں-سرگوشیاں","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN زیر زمیں سرگوشیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003e1864ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386189426873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1785286992"},{"product_id":"mirza-ghalib-aik-sawanahi-manzarnama-illustrated-edition-مرزا-غالب-ایک-سوانحی-منظرنامہ-مصور-ایڈیشن","title":"MIRZA GHALIB - AIK SAWANAHI MANZARNAMA (ILLUSTRATED EDITION) مرزا غالب - ایک سوانحی منظرنامہ (مصور ایڈیشن)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eگلزار کے دو نہایت مقبول ٹیلی وِژن سیریلز میں سے ایک مرزا غالب کی زندگی پر ہے اور دوسرا منشی پریم چند کی کہانیوں پر۔ یہ دونوں منظرنامے ’’بک کارنر‘‘ اب کتابی صورت میں شائع کر چکا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگلزار کا پہلا حوالہ ادب ہے۔ بقول احمد ندیم قاسمی، ’’پاکستان کے ہر وِڈیو سنٹر میں اشتہار پایا جاتا ہے کہ یہاں گلزار کی ’مرزا غالب‘ موجود ہے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کی ڈائریکٹ کی ہوئی فلمیں اجازت ، موسم ، آندھی ، ماچس ، لیکن وغیرہ کے موضوعات دیکھیں تو دوسرا حوالہ بھی ادب سے جا کر جُڑتا ہے ...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کے کیریئر میں صرف فلمیں ہی نہیں، بلکہ شاعری اور کہانیوں کے مجموعے بھی شامل ہیں، ’’چاند پکھراج کا‘‘ اور ’’راوی پار‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ بٹوارے پر ایک ناول ’’دو لوگ‘‘ بھی لکھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمارے دینہ (جہلم) والے گلزار کا لٹریچر سے رشتہ یہاں کی مٹی سے اُگا ہوا ہے۔ شاعری اور افسانے لکھتے ہیں، اور تین مصرعوں پر مبنی نظم ’’تروینی‘‘ کے خالق بھی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلکھنا گلزار کا پہلا عشق ہے، ان کا جنون، اُن کا جذبہ،اُن کا جینا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امر شاہد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں غالب کے فراق میں تھا اور سُن رکھا تھا کہ دلّی کی —\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِسی بے نور اندھیری سی ، گلی قاسم ،سے \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہے \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک قرآنِ سخن کا صفحہ کھلتا ہے \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسد اللہ خان غالب کا پتا ملتا ہے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہاں پہنچا۔ حویلی پر دستک دی، پکارا— کوئی جواب نہ ملا ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک چٹھی رساں وہاں سے گزرا۔ کہنے لگا، ’’ارے بھائی، مرزا نوشہ اب یہاں نہیں رہتے۔ وہ تو بستی نظام الدین مستقل قیام کر چکے ہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبستی پہنچا، اور غالب کے مزار پر حاضری دی ۔ اُن سے ہم کلام ہوا، ’’حضور! سارا جہاں آپ کی بات کرتا ہے اور کون سی ایسی جا ہے جہاں آپ نہیں پہنچے۔ میرے گھر کیوں نہیں آئے، سیالکوٹ کیوں نہیں آئے، جہلم کیوں نہیں پہنچے، جہلم— جہاں گلزار بستے تھے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاک ہو جائیں گے ہم ’’آپ کے گھر آنے تک‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیری بے قراری جس میں ’’تم کو خبر ہونے تک‘‘ کو ’’آپ کے گھر آنے تک‘‘ میں بدل چکا تھا، کو دیکھتے ہو ئے بڑے پیار سے کہنے لگے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’میاں! اگر تم گلزار کو ہمراہ لے آؤ تو میں بھی چلا آؤں گا— تمھارے ہاں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(گل شیر بٹ)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395380064441,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/689f10d5d93b41755254997.jpg?v=1785365912"},{"product_id":"na-khuda-ناخُدا","title":"NA-KHUDA ناخُدا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eاُردو کے مایۂ ناز گیت نگار، فسانہ ساز اسد محمد خاں کا پورٹ ٹرسٹ کی ملازمت سے نمٹ کے سب رنگ کے دفتر آ جانا معمول تھا۔ ایسے شامل تھے کہ ادارے کے رکن ہی معلوم ہوتے تھے۔ کہانیوں کے انتخاب میں اُن کی بھی رائے لی جاتی تھی۔ ان سے بھی التجا کی جاتی رہی کہ سب رنگ کے لیے کوئی ناول لکھیں تو کیا خوب ہو۔ شوکت صدیقی کی طرح وہ بھی پس و پیش کرتے رہے اور کئی برس کے اصرار کے بعد آخر پس پا ہو گئے اور ’’ناخدا‘‘ کے عنوان سے طویل سرگزشت کا آغاز کیا۔ ناخدا — ایک بے زمیں، بے آسماں آدم زاد کی کہانی، وہ صحراؤں، سمندروں، بیابانوں اور اِنسانوں سے نبرد آزما تھا۔ \u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’باسودے کی مریم‘، ’بُرجِ خموشاں‘ اور ’کھڑکی بھر آسماں‘ کے خالق، صاحبِ خیال، صاحبِ طرز، نقش پرداز، داستاں کار اسد محمد خاں کا اندازِ بیاں ان کا اپنا ہے، سب رنگ کے قارئین ہی صحیح بتا سکیں گے کہ ’’ناخدا‘‘ کی اگلی قسط کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور اب قسطوں کا انتظار ختم، بک کارنر جہلم کے برادران گگن اور امر شاہد نے پورا ناول شائع کر کے اُردو کے ناقابلِ فراموش ناولوں کی فہرست میں ایک اور ناول کا اضافہ کردیا ہے۔ فسانۂ ناخدا کی اثرآفرینی و دل کشی اپنی جگہ، اسد بھائی کا منفرد طرزِ نگارش اور دلیرانہ بے باکانہ اسلوب مستزاد ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437039399097,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6932df6fdce911764941679.jpg?v=1785366440"},{"product_id":"mitro-marjani-مترو-مرجانی","title":"MITRO MARJANI مترو مرجانی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eکرشنا سوبتی (18، فروری 1925ء — 25، جنوری 2019ء) ہندی زبان ہی کی نہیں برصغیر اور دنیا بھر میں لکھنے والی اہم عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ پنجابی تھیں اور ہندی میں لکھتی تھیں۔ وہ کہانی کار، ناول نگار اورمضمون نگار تھیں۔ انھیں اُن کے ناول ’’زندگی نامہ‘‘ پر 1980ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ 1996ء میں انھیں ساہتیہ فیلوشپ حاصل ہوئی، اسے اکادمی کا سب سے بڑا اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی ادب کی خدمت کے سلسلے میں انھیں 2017ء میں گیان پیٹھ انعام سے نوازا گیا۔ کرشنا سوبتی کا شاہ کار ان کا 1966ء میں لکھا گیا ناول ’’مترو مرجانی‘‘ ہے۔ اس کی اشاعت کے ساتھ ہی ہندی ادب کے قارئین کو کرشنا سوبتی سے پیار ہو گیا۔ اس ناول کو ایک جوان اور شادی شدہ عورت کی جنسی زندگی کی ایسی تصویر قرار دیا جاتا ہے جو نام نہاد مہذب تو مہذب، غیر مہذب سماج میں بھی ناقابلِ معافی تصور کی جاتی ہے۔ کرشنا سوبتی کی ولادت تقسیم سے قبل پاکستان کے گجرات میں ہوئی۔ تعلیم کے سلسلے میں لاہور بھی رہیں۔ ان کے دوسرے ناولوں میں ’’ڈار سے بچھڑی‘‘، ’’سورج مکھی اندھیرے کے‘‘، ’’یاروں کا یار‘‘ اور ’’دل و دانش‘‘ شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’نفیسہ‘‘، ’’سکہ بدل گیا‘‘ اور ’’بادلوں کے گھیرے‘‘ اہم قرار دیے گئے۔ ’’دل و دانش‘‘ کا 2005ء میں ریما آنند اور میناکشی سوامی نے انگریزی ترجمہ کیا، اس ترجمے کو کراس ورڈ اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی تخلیقات کے کئی غیر ملکی اور ہندوستانی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ 2022ء میں ہندی کے لیے پہلا بُکر عالمی انعام حاصل کرنے والی گیتانجلی شری انھیں اپنا گرو مانتی ہیں۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ دو ناولوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے گیتانجلی شری کے ناول ’’ریت سمادھی‘‘، محمود درویش، ایڈونس اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو میں منتقل کیا۔ ان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ان کا ابتدائی بچپن ریاست بہاولپور اور پنجاب میں گزرا اور گیارہ سال کی عمر سے کراچی میں ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور 2015ء میں بی بی سی اُردو سے ریٹائر ہوئے۔ اس سے پہلے وہ اُردو کے بڑے اخبارات سے بھی منسلک رہے لیکن وہ زیادہ اہم اُن چار روزناموں کو سمجھتے ہیں جن کے وہ بنیاد گزار ایڈیٹر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی اور ایسی صاف ستھری صحافت سے متعارف کرایا کہ کراچی میں ان کا نکالا ہوا اخبار خواتین ہاکر بھی فروخت کرنے لگیں۔ 1976ء سے وہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48395750015161,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6930171e8e5671764759326.jpg?v=1785371327"},{"product_id":"who-knows-the-bounds-of-desire","title":"WHO KNOWS THE BOUNDS OF DESIRE","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cspan\u003eA once-resplendent city, the jewel of the realm, now an empire of carbon—overtaken by avarice and apathy. Its grand houses dilapidated, its ancient trees shorn, its governance degraded and its populace in decline. Now, it is arduous to pursue justice, knowledge and kindness, or even take a breath of fragrant air.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBut all isn’t lost. As twilight descends, small flickers of light sustain, fighting away the growing darkness and keeping hope alive.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eKhalid, the stargazer, in love with the idea of love—never quite finding it.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eTayyaba Khala with her meditations on science and religion, and her evocative verse.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eSitara Bano, the ‘Atomic Moth’ turned formidable lawyer.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eChotay Shah, and his wondrous mechanical spiders.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThe do-gooder duo of Mian Imran Hameed and Shareef sahib. \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThe sun may be setting here, but who is to say that these small sparks of light may not light up the wildernesses of hearts?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eDizzying in ambition and elegiac in its prose, Who Knows the Bounds of Desire links the present with what has passed, carrying forth themes and tropes from classical Urdu, Persian, Punjabi, Arabic and Hindi grand epics, and offers verses from the finest metaphysical Urdu poetry. \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThe Novelists can’t change the world, but they do keep accounts of our gains and our losses. This, too, is a stock-keeping of our times.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA well-ventilated novel, where the winds blow in from every quarter, representing a city mired in the frantic present and an insoluble past, with a distracted opulence, half-salvaged and half-abandoned. The narrative dives into a mirror-like depth, as if in a state of dereliction, showing old houses, back alleys, civic modernity, gardens and graveyards. Images and voices pile up and intermingle, reduced sometimes to shadows and whispers, fading in and out, as if part of an incomprehensible play. Narratives implode as they invariably do when handled by a prescient author. Osama Siddique is an expert handler, playing with a remote, as characters and vistas appear and vanish. Here is a novel, taking an unruffled look at the troubled and the troublesome and the ridiculous, and completely at home with what it depicts. A very likable spell-binder.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— M. SALIM-UR-RAHMAN\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eOSAMA SIDDIQUE grew up in Lahore, and studied at Government College and LUMS. He then read law as a Rhodes Scholar at Oxford, and obtained master’s and doctorate degrees from Harvard Law School, where he has also taught as a visiting professor. He has worked as a corporate lawyer in New York, as an advocate of appellate courts, a legal scholar, university teacher and reform consultant in Pakistan, and as a law and policy instructor in many other countries. He is the author of two books and multiple other publications in the legal field, and has also published two previous novels in English and Urdu to critical and popular acclaim—Snuffing Out the Moon and Ghuroob e Shehr Ka Waqt. He lives in Lahore.\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48395783766201,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/692c1e94bf4201764499092.jpg?v=1785372403"},{"product_id":"girdaab-e-hairatگرداب-حیرت","title":"GIRDAAB-E-HAIRAT گردابِ حیرت","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eانیس اشفاق کا تعلق تہذیبی شہر لکھنؤ سے ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم اوّل تا آخر اسی شہر سے حاصل کی اور 1983ء میں وہ یہیں کی دانش گاہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو میں لیکچرر کے مستقل عہدے پر فائز ہوئے۔ کوئی 32 برس درس و تدریس کی خدمات انجام دینے کے بعد 2012ء میں وہ پروفیسر اور صدر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ انیس اشفاق اہم اور نامور ادیبوں کی علمی صحبتوں میں جوان ہوئے اور انہی صحبتوں نے ان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ تخلیق، تنقید اور تحقیق سے متعلق اب تک ان کی 25 کتابیں اور 300سے زائد مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اُن کی مشہور تنقیدی کتابوں میں ’’اُردو غزل میں علامت نگاری‘‘، ’’ادب کی باتیں‘‘، ’’بحث و تنقید‘‘، ’’ غزل کا نیا علامتی نظام‘‘ اور ’’غالب دنیائے معانی کا مطالعہ‘‘ شامل ہیں۔ ’’گردابِ حیرت‘‘ سے قبل انھوں نے چار بہت اہم ناول ’’دکھیارے‘‘ (2014ء)، ’’خواب سراب‘‘ (2017ء)، ’’پری ناز اور پرندے‘‘ (2018ء) اور ’’ھیچ‘‘ (2024ء) سپرد قلم کیے ہیں۔ ان چاروں ناولوں کو بر صغیر میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’کتبے پڑھنے والے‘‘ کو بھی خاصی شہرت ملی ہے۔ 2016ء میں شائع کراچی سے متعلق اُن کے سفرنامے ’’درِ شہرِ دوستداراں‘‘ کو بھی پاک و ہند میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ 2019ء میں ان کا شعری مجموعہ ’’ ایک نیزہ خونِ دل‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ انیس اشفاق نے مشہور ادیبوں سے متعلق مونو گراف بھی لکھے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کتاب ’’نیّر مسعود: ہمہ رنگ ہمہ داں‘‘ کو ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔ ان کی دو کتابیں ’’میرے لڑکپن کا لکھنؤ‘‘ اور ’’خاکے‘‘ اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ انیس اشفاق نے بہت سے قومی اور عالمی ادبی اجتماعات میں شرکت کی ہے۔ وہ بہت سے باوقار ادبی اداروں کے رکن ہیں اور انھیں ملک اور بیرونِ ملک کئی اہم ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48428360270009,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c169a91e4b31757505961.jpg?v=1785615590"},{"product_id":"bikhri-hai-meri-dastaan-بکھری-ہے-میری-داستاں-copy","title":"INSAAN, AY INSAAN ! انسان اے انسان","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eحسن منظر اُردو کے ایک ایسے افسانہ و ناول نگار ہیں جو زندگی کو زمانۂ حال اور عہدِ ماضی کے تمام افسانہ نگاروں سے یک سر الگ انداز میں دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے مشاہداتِ حیات کو افسانے یا ناول کی صورت میں پیش کرتے ہیں تو یہ بات بالخصوص متاثر کرتی ہے کہ ان کے افسانے اور ناول کے بیانیے میں ان کی زندگی کا تجربہ اور اس کا تجزیہ شامل ہوتا ہے، لیکن وہ آپ کے خیالات کو منقلب کرنے کے آرزو مند نظر نہیں آتے، اس کے برعکس وہ معاشرتی اور تہذیبی حقیقت کو اپنے تجزیے کی روشنی میں اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ حقیقت کی جراحت یا بہجت آپ کو اپنی طرف متوجّہ کر لیتی ہے۔ حسن منظر کا نیا ناول ’’انسان، اے انسان‘‘ ان کے سابقہ ناولوں: ’’العاصفہ‘‘، ’’وبا‘‘ اور ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘ سے اِس لحاظ سے مختلف ہے کہ اِس میں اُنھوں نے مرکزی کردار تلمیذ الرحمٰن کو مثال بنا کر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے— ’’انسان اے انسان— آخر تُو کیا ہے؟‘‘ اور جواب کی جستجو میں حیاتیاتی واقعات، سانحات اور حالات کی قاشیں جمع کرنے کی بجائے تلمیذ کی پوری زندگی کو موضوع بنایا ہے۔ اِس ناول میں اُنھوں نے 1940ء سے لے کر 1960ء کے وسط تک کے معاشرتی عمل کو اپنے منفر د مشاہدات اور تلمیذ کے انفرادی اور رنگ بدلتے ردِّ عمل کے حوالے سے اِس طرح پیش کر دیا ہے که ناول زندگی کا مرقّع بن گیا ہے اور تاثر کی متنوّع کیفیات پیدا کرتا چلا جاتا ہے، اور انجام اتنا اچانک اور غیر متوقّع ہے کہ تلمیذ پھانسی کے تختے پر چڑھنے کی بجائے پھر زندگی کے میدان میں کود جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’انسان، اے انسان‘‘ ایک باشعور تخلیقی فن کار کا ناول ہے، جو حقیقت کو انوکھے زاویوں سے دیکھتا ہے اور انھیں اپنے فطری اسلوب میں احساسات کے جزر و مد کے ساتھ پیش کر دیتا ہے، لیکن قاری محسوس کرتا ہے کہ اس کی سوچ کو مہمیز کر دیا گیا ہے۔ فن کی اس بلندی پر اُردو کے جو ناول پہنچے ہیں، وہ انگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں، اور ان میں ’’انسان، اے انسان‘‘ بھی شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انور سدید)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48425935077561,"sku":"BC SSH","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c847f38086d1757956083.jpg?v=1785616278"},{"product_id":"mitti-ki-sanjh-aur-rais-e-azamمٹی-کی-سانجھ-اور-رئیس-اعظم","title":"MITTI KI SANJH AUR RAIS-E-AZAM مٹی کی سانجھ اور رئیس اعظم","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجدید فكشن میں طاہرہ اقبال كی شناخت اور انفرادیت مستحكم ہو چكی۔ وہ اُردو افسانوی ادب كو خوبصورت كہانیوں كے تین مجموعے ’’سنگ بستہ‘‘، ’’ریخت‘‘ اور ’’گنجی بار‘‘ دے چكی ہیں اور اب ’’مٹی كی سانجھ‘‘ اور ’’رئیس اعظم‘‘ جیسے دو بھرپور ناول، جو اُن كے پھیلتے اور وسیع تر ہوتے فنی اور فكری آفاق كی نشان دہی كرتے ہیں۔ طاہرہ اقبال كی انفرادیت ان كے اچھوتے اسلوب میں پوشیدہ ہے جو بےساختگی، تیكھے پن، پنجابیت اور دل كش تشبیہوں، استعاروں اور علامتوں سے مل كر بنا ہے۔حقیقت یہ ہے كہ انھوں نے فكشن كے مروجہ اسلوب كو الٹ پلٹ كر ركھ دیا ہے اور اپنے اظہار كے لیے ایك بالكل ہی نئی، انوكھی مگر خوبصورت تخلیقی زبان وضع كی ہے جو مروّجہ اُردو اورمقامی زبانوں كے تال میل سے معرضِ وجود میں آئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں كہ دونوں ناول وسطی پنجاب كی جاگیرداری معاشرت كا بھرپور مطالعہ پیش كرتے ہیں۔ ان میں اس دیہی وسیب كے قریباً سارے ہی رنگ اور زاویے سمٹ آئے ہیں۔ اب تك ہم جاگیرداری رہتل كے بارے میں روایتی اور سرسری انداز كی فلمیں اور ڈرامے دیكھتے رہے یا كبھی كبھار كوئی افسانہ پڑھنے كو مل جاتا جو جاگیرداری كے كسی ایك پہلو كو روشن كرتا۔ مگر طاہرہ اقبال نے اسے زور دار اسلوب كے ساتھ بھرپور طریقے سے لكھا اور اپنے فرسٹ ہینڈ نالج كو فكشن كی فنی شكل دی۔ مجھے یقین ہے كہ اپنے دلكش اسلوب، دیہی معاشرت كی پیش كش اور كردار نگاری كے حوالے سے یہ دونوں ناول اُردو ادب میں بہت بڑا اضافہ تصور كیے جائیں گے۔ (منشا یاد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eطاہرہ اقبال جدید اُردو فکشن میں ایک مخصوص کلچر، زبان اور اسلوبِ حیات کی ترجمان بن کر سامنے آئی ہیں۔ ان کی کہانیاں پنجاب کی آب و ہوا، یہاں کی مٹی کی بُو باس، موسموں کے رنگ ڈھنگ اور سماجی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی بہت قریب سے کھینچی ہوئی تصویریں ہیں۔ گنجی بار اور نیلی بار کے علاقوں کی تھمی ہوئی اور متحرک فضاؤں، ان میں رچی بسی آوازوں، گھلے ملے چہروں اور مسلسل رواں دواں کہانیوں کو طاہرہ اقبال نے زاویے بدل بدل کر دیکھا، محسوس کیا اور بیان کیا ہے۔ ’’مٹی کی سانجھ‘‘ اور ’’رئیسِ اعظم‘‘ کا موضوع اور ماجرا بھی اسی علاقے اور اس کی قدیم اور جدید زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ گہرے پکے رنگوں کی امین اس دھرتی کے انگ انگ کا احوال یہاں کھلتا ہے اور ایک تازہ تاثر کے ساتھ اپنی پہچان کراتا ہے۔زبان و بیان اور اسلوبیاتی پیش کش میں طاہرہ اقبال کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔ (رشید امجد)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426166780089,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ce66f32574b1758357235.jpg?v=1785616955"},{"product_id":"yunani-asbaaq-greek-lessonsیونانی-اسباق","title":"YUNANI ASBAAQ (GREEK LESSONS) یونانی اسباق","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eپیچ در پیچ اور نہایت لطیف ’’یونانی اسباق‘‘ زبان، جبر، غم و اندوہ اور قربت پر ایک غیرمعمولی مراقبہ ہے۔ ہان کانگ ایک منفرد مصنفہ ہیں۔ چند جملوں میں ہی وہ گویا مکمل انسانی تجربے کی وسعت کو سمیٹ لیتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیٹی کیتامورا، مصنفہ \"Intimacies\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ زبان، سیکھنے کے عمل، اور ربط کی امید کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ یہ ذہن اور جسم، ہمارے خیالات اور حواس— یعنی اس بات پر ہے کہ دنیا میں ایک انسان ہونا دراصل کیا مطلب رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—جولیا فِلپس، مصنفہ \"Disappearing Earth\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ کی کتاب پڑھنا ایک ایسا لطف ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ شاعرانہ بھی اور فکری طور پر گہری بھی، \"Greek Lessons\" انسانی ربط کی نازکی اور قوت کے بارے میں ایک خوبصورت اور دل میں اُتر جانے والی کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—اینجی کم، مصنفہ \"Miracle Creek\" اور \"Happiness Falls\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیران کر دینے والی ہان کانگ ہمیشہ سب سے زیادہ انکشافاتی مصنفہ رہی ہیں: وہ جذبات کے اُفق کو وسیع تر کر دیتی ہیں۔ بلاشبہ وہ میری پسندیدہ مصنفہ ہیں جن کے ساتھ پڑھنا، سوچنا اور دُنیا کو دیکھنا بےحد متاثر کن ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—میکس پورٹر، مصنف \"Grief Is The Thing With Feathers\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحسی و روحانی بصیرت سے مالا مال اور عرفان سے معمور۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—کیتھی پارک ہانگ، مصنفہ \"Minor Feelings\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزبان کے اشتراک میں پائے جانے والے ناقابلِ بیان اعتماد کی ایک عکّاسی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—دی نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک غیرمعمولی ناول جو ہر بار پڑھنے پر نئی گہرائیوں سے آشکار کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—گارجین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہان کانگ27 نومبر 1970ء کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگ جُو میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف کوریائی ادیب ہان سونگ وون کی صاحبزادی ہیں۔ 1993ء میں انھوں نے ادبی سفر کا آغاز اپنی نظم ’’ادب اور معاشرہ‘‘ کی اشاعت سے کیا۔ 1994ء میں اُن کی کہانی \"The Scarlet Anchor\" کو سیئول شِنمن کے سالانہ ادبی مقابلے میں منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد اُن کی تخلیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا، جن میں انسانی وجود، تنہائی، اداسی اور معنویت کی تلاش جیسے موضوعات غالب نظر آتے ہیں۔ ان کے ابتدائی کاموں میں کہانیوں کا مجموعہ \"A Love of Yeosu\" (1995) اور ناول \"Black Deer\" (1998) شامل ہیں۔ 1999ء میں ان کا ناول \"Baby Buddha\" کورین ناول لٹریچر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے ناول \"Mongolian Mark\" میں جسمانی خواہشات اور فنکارانہ لطافت کو اس مہارت سے ہم آہنگ کیا گیا ہے کہ یہ فن پارہ کوریائی عصری ادب کا ایک اہم سنگِ میل بن چکا ہے۔ اس ناول پر انھیں 2005ء میں یی سانگ ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہان کانگ کی عالمی شہرت کا آغاز 2016ء میں اُس وقت ہوا جب ان کا ناول \"The Vegetarian\" بُکر انٹرنیشنل پرائز جیتنے والا پہلا کوریائی ناول قرار پایا۔ اس ناول میں انھوں نے جسم، تشدد اور انکار کے پیچیدہ تعلق کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ 2024ء میں انھیں ادب کے شعبے میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی کوریائی مصنفہ اور پہلی ایشیائی خاتون ہیں۔ یہ اعزاز اُنھیں ان کے ادبی کمالات اور انسان دوست فکر کے اعتراف کے طور پر عطا کیا گیا۔ یہ امر نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ہان کانگ اپنی حساسیت، فنی زبان، اور الم انگیز نقطۂ نظر کے باعث نہ صرف کوریائی ادب بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک منفرد اور مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ وہ نئی نسل کی خواتین اہلِ قلم کے لیے تخلیقی افق کی علامت بن چکی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیونس خان 15 مارچ 1964ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1987ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈبل میتھس اور انگلش میں گریجویشن مکمل کی۔ 1992ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی بی اے (آنرز) کیا اور 1994ء میں ایم بی اے شروع کیا، تاہم وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔ اس دوران پی ٹی سی ایل میں جاب کرتے رہے، مگر ادب سے رشتہ مسلسل مضبوط ہوتا گیا۔ 2014ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ لاہور میں سافٹ ویئر ہاؤس قائم کیا اور یوں عملی طور پر آئی ٹی کے شعبے سے بھی جڑ گئے۔ 2018ء میں انھوں نے تخلیقی تحریر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ڈویلپمنٹ اور ای کامرس مینجمنٹ جیسے جدید علوم میں مہارت حاصل کی۔ ان کے تحقیقی و تجزیاتی مضامین اور تبصرے مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ فطرت اور بلندیوں سے شغف انھیں دنیا کی بلندترین چوٹیوں میں سے ایک ’’کے وَن‘‘ کے بیس کیمپ تک لے گیا، جس کی روداد سہ ماہی ’’لوح‘‘ میں شائع ہوئی۔ یونس خان عالمی ادب کی کئی اہم کتابوں کو اُردو میں منتقل کر چکے ہیں جن میں نوبیل انعام یافتہ مصنفہ ہان کانگ کا ناول ’’یونانی اسباق‘‘، کنفیوشس کی کتاب ’’سنگی کتابیں کاغذی پیراہن‘‘، سیمون دی بووا کا ناول ’’شعور کی عمر‘‘ اور اَینی اَرنو کی یادداشتیں ’’گمشدہ‘‘ شامل ہیں۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426362765497,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ca50506b30d1758089296.jpg?v=1785617665"},{"product_id":"qilaقلعہ","title":"QILA قلعہ","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003e1922 — زمانۂ تحریر ’’قلعہ‘‘، زبان: جرمن، اصل عنوان: Das Schloss (داس شلوس)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1926 — کافکا نے یہ ناول 1922ء میں لکھنا شروع کیا تھا، مگر یہ ادھورا رہ گیا۔ 1924ء میں کافکا کی وفات کے بعد اُن کے قریبی دوست اور ادبی ورثے کے نگران میکس براڈ نے اُن کی وصیت کے برخلاف اسے شائع کیا۔ یوں یہ ناول 1926ء میں میونخ (جرمنی) کے پبلشر \"Kurt Wolff Verlag\" سے پہلی بار منظرِ عام پر آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1930 — اس ناول کا پہلا انگریزی ترجمہ ’’دی کاسل‘‘ (The Castle) کے عنوان سے وِلا میوئر (Willa Muir) نے اپنے شوہر ایڈوِن میوئر (Edwin Muir) کے ساتھ مل کر کیا جو 1930ء میں لندن اور نیو یارک سے پہلی بار شائع ہوا۔ وِلا میوئر (1890–1970) سکاٹ لینڈ کی ایک معروف مترجم، ناول نگار اور نقاد تھیں۔ وہ خاص طور پر جرمن سے انگریزی میں تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ ان کا بڑا کارنامہ فرانز کافکا اور ہرمن ہیسے جیسے جرمن ادیبوں کے کاموں کو انگریزی قارئین تک پہنچانا ہے۔ ایڈون میوئر (1887–1959) سکاٹ لینڈ کے شاعر، ناقد اور مترجم تھے۔ دونوں نے کافکا کے ناولوں کو انگریزی ادب میں متعارف کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2007 — معروف ترجمہ نگار طارق عزیز سندھو نے ایڈوِن اور وِلا میوئر کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کو ’’قلعہ‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں منتقل کیا۔ پہلی اشاعت 2007ء میں جبکہ دوسری اشاعت 2021ء میں ہوئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ نیا ایڈیشن نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426416079033,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68c175701ccc81757508976.jpg?v=1785617886"},{"product_id":"naujavan-werther-ki-dastan-e-ghamنوجوان-ورتھر-کی-داستان-غم","title":"NAUJAVAN WERTHER KI DASTAN-E-GHAM نوجوان ورتھر کی داستان غم","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکہا جاتا ہے کہ جرمن زبان میں آج تک ’’ورتھر‘‘ جیسی شہرت و مقبولیت اور کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور نہ کسی ملک کی کسی ادبی تصنیف نے آج تک اتنی جلدی عظیم الشان شہرت پائی۔ نوجوانوں کا یہ حال ہو گیا تھا کہ انھوں نے ورتھر کی مفروضہ پوشاک یعنی نیلا کوٹ، پیلی واسکٹ اور پیلی پتلون پہننا شروع کر دیا تھا اور بقول مادام دی اسٹائل کتنوں نے ورتھر کی طرح دردمند اور دل فگار بن کر خودکشی بھی کر لی۔ کتنی بیویاں اپنے خشک مزاج شوہروں سے تنگ آکر کسی رنگین مزاج ورتھر کی دل نواز صحبتوں سے لطف اُٹھانے کی آرزوئیں کرنے لگیں۔ ادب میں بھی ورتھریت بُری طرح سرایت کر گئی۔ ورتھر اور شارلوٹے پر نظمیں لکھی گئیں جنھیں عوام سڑکوں پر گاتے پھرتے تھے۔ جرمنی میں یہ تو سب ہوتا رہا مگر یورپ کے دوسرے ملکوں میں اس کی شہرت بہت جلد ہو گئی۔ فرانس میں اس کا شان دار خیر مقدم کیا گیا اور انگلستان میں اس کا پہلا ترجمہ فرانسیسی سے شائع ہوا۔ اطالوی زبان میں بھی اس کا ترجمہ اسی زمانے میں شائع ہوا۔ چینی فنکاروں نے شیشے پر شارلوٹے اور ورتھر کی تصویر بنائی۔ غرض کہ تھوڑے دنوں میں گوئٹے یورپی ادب کی ایک نہایت ممتاز اور قابلِ احترام ہستی تسلیم کیا جانے لگا اور مدتوں وہ صرف ’’ورتھر‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے مشہور رہا لیکن ’’ورتھر‘‘ کو صرف اٹھارہویں صدی کی خیال پرستی کا آئینہ ہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ’’ورتھر‘‘ ایک زخمی دل کی پُکار ہے جو خیال پرستی کا عہد ختم ہو جانے کے بعد بھی آج ہماری توجہ کو کاوش و اضطراب کے ساتھ اپنی طرف جذب کرتی ہے۔ کون ہے جس کی آہوں سے افسانۂ سوز وگداز نہ نکلا ہو اور کون ہے جو حادثاتِ زمانہ کے بے رحم ہاتھوں سے محفوظ رہا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426470768825,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68b1dbdc9a9111756486620.jpg?v=1785618131"},{"product_id":"aik-tees-saala-auratایک-تیس-سالہ-عورت","title":"AIK TEES SAALA AURAT ایک تیس سالہ عورت","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eتعارف:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1832ء زمانۂ تحریر: ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘، زبان: فرانسیسی، اصل عنوان: La Femme de trente ans\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1842ء یہ ناول پہلی مرتبہ بالزاک کے مرتب کردہ ناولوں کی سیریز ’’دی ہیومن کامیڈی‘‘ (La Comédie humaine) کے پہلے باضابطہ ایڈیشن کا حصہ بنا اور تیسری جلد میں کہانی نمبر 111 کے طور پر شامل کیا گیا۔ یہ سیریز پیرس کے تین پبلشرز Furne، J.-J. Dubochet اور Hetzelکی شراکت سے شائع ہوئی۔ تاہم اس کے بعد یہ ناول کئی صورتوں میں شائع ہوتا رہا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1900ء ایلن میرج(Ellen Marriage)نے اس ناول کو \"A Woman of Thirty\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ انگریزی ادب میں بالزاک کے سب سے اہم مترجمین میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے تراجم نے پہلی بار بالزاک کو مکمل اور باضابطہ طور پر انگریزی قارئین تک پہنچایا۔ ایلن میرج نے اکثر اپنے اصل نام سے ترجمے کیے، لیکن حساس تحریروں کے لیے \"James Waring\" کے قلمی نام کا استعمال کیا۔ ان کے کام نے بالزاک کو عالمی شہرت دلائی اور انگریزی ادب میں ان کے مقام کو مستحکم بنایا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025ء ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب و شاعر انعام ندیم نے اس ناول کا ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ کے نام سے انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا۔ وہ اِس سے قبل گابریئل گارسیا مارکیز، ربی سنکر بل اور میورئیل موفروئے کی کتابوں کے ترجمے کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور سکیچز سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانیسویں صدی کے ممتاز فرانسیسی ناول نگار، اونورے دَ بالزاک (20 مئی 1799ء - 18 اگست 1850ء) کا شمار دنیا کے عظیم لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ جزئیات کا باریک بین مشاہدہ اور سماج کی غیر مرصع عکاسی بالزاک کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات ہیں، جن کی بنیاد پر انھیں یورپی ادب میں حقیقت نگاری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نہایت زود نویس، اگرچہ ناہموار، لکھنے والے تھے، اور ان کی تخلیقات کا وسیع اور نامکمل مجموعہ ’’دی ہیومن کامیڈی‘‘ (La Comédie humaine) اس ارادے سے لکھا گیا تھا کہ بحالیِ شاہی (1815ء - 1830ء) اور جولائی بادشاہت (1830ء - 1848ء) کے زمانے میں فرانسیسی سماج کا ایک ہمہ گیر اور کثیرالجہتی نقشہ پیش کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالزاک فرانس کے علاقے اندر-اے-لُوآر کے شہر تور (Tours) میں ایک خوشحال بورژوا خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فرانسیسی انقلاب کے دوران ایک علاقائی منتظم تھے۔ بالزاک نے ابتدائی تعلیم واندوم کے سخت گیر ادارے ’’کالج آف دی اوریٹورینز‘‘ میں حاصل کی، اور پھر 1816ء سے پیرس میں تعلیم جاری رکھی، جہاں انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایک وکیل کے دفتر میں کلرک کے طور پر بھی کام کیا۔ جلد ہی وہ صحافت کی طرف مائل ہو گئے اور نئے ادبی اور فکری رسائل میں لکھنے لگے۔ صحافت کی ابتدائی تربیت نے ان کی نثر کو غیرمعمولی حد تک فصیح، اختصار کی حامل اور عام زندگی کے روزمرہ پر مرکوز بنا دیا۔ اس اعتبار سے بالزاک ایک ایسے مصنف تھے جو ’’جدیدیت‘‘ کی اصطلاح کے رائج ہونے سے پہلے ہی جدید طرزِ اظہار کے حامل تھے۔ 1829ء میں ان کی کہانیوں کامجموعہ ’’نجی زندگی کے مناظر‘‘ (Scènes de la vie privée) کے عنوان سے شائع ہوا، جس نے قارئین اور نقادوں دونوں کی توجہ حاصل کی۔ یہ وہ کہانیاں تھیں جو ایک صحافی کی نگاہ سے بیان کی گئی تھیں— ایسی کہانیاں جو جدید زندگی کا تانا بانا بیان کرتی تھیں اور سماجی و سیاسی حقیقتوں سے منہ نہیں موڑتی تھیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بالزاک کی منفرد آواز ابھر کر سامنے آئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس سے پہلے وہ ناشروں کے ایما پر سر والٹر سکاٹ اور این ریڈکلف کے انداز میں تاریخ پر مبنی کمزور ناول لکھ چکے تھے، لیکن وہ سب فرضی ناموں کے تحت شائع ہوئے تھے۔ تاہم، 1829ء میں شائع ہونے والے ناول ’’آخری شوآن‘‘ (Le dernier Chouan) کے ساتھ وہ سنجیدہ اور طویل فکشن کے مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے۔ بالزاک نے اپنے اگلے بڑے ادبی کارنامے ’’بڈھا گوریو‘‘ (Le père Goriot—1835) میں ولیم شیکسپیئر کے مشہور المیے ’’کنگ لیئر‘‘ کی کہانی کو 1820ء کی دہائی کے پیرس میں منتقل کر دیا تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ جدید دنیا میں اب صرف ’’اثر و رسوخ‘‘ اور ’’تعلقات‘‘ ہی اصل قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے تمام ناول ایک ایسی دنیا کا مشترکہ تصور پیش کرتے ہیں جہاں قدیم بادشاہی نظام کی سماجی و سیاسی درجہ بندیاں ختم ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ اقربا پروری، سرپرستی، اور تجارتی دولت کی حامل ایک جعلی اشرافیہ نے لے لی ہے— اور جہاں منظم مذہب کے زوال کے بعد مال دار طبقے نے ایک نئی ’’روحانی پیشوائی‘‘ کا کردار سنبھال لیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاپنے مختصر افسانوں اور ناولٹوں کے ساتھ ساتھ، بالزاک نے کئی طویل اور یادگار ناول بھی لکھے جن میں ’’کھوئی ہوئی خوش فہمیاں‘‘ (Les Illusions Perdues—1843)، ’’طوائف کی شان و شوکت اور ذلت‘‘ (Splendeurs et misères des courtisanes—1847) ’’عم زاد پونس‘‘ (Le Cousin Pons—1847) اور ’’عم زاد بیت‘‘ (La Cousine Bette—1848) نمایاں ہیں۔ اسی طرح دیہاتی زندگی پر مبنی ناولوں میں ’’پادری تور‘‘ (Le curé de Tours—1832)، ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘، (Eugénie Grandet —1833)، ’’سنہری آنکھوں والی لڑکی‘‘ (La Fille aux yeux d'or—1835)، ’’اُرسول میروے‘‘ (Ursule Mirouet —1842) اور ’’مودیست مینیوں‘‘ (Modeste Mignon —1844) کو بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کی تخلیقی رفتار بے مثال تھی، لیکن اس قدر زودنویسی میں ناہمواری فطری بات تھی۔ ہر کامیابی انھیں مزید وسیع منصوبوں کی طرف دھکیلتی رہتی تھی، یہاں تک کہ 1847ء کے قریب ان کی صحت جواب دینے لگی۔ 1849ء میں جب ان کی صحت بگڑ چکی تھی، بالزاک پولینڈ گئے تاکہ ایویلین ہانسکا نامی ایک دولت مند پولش خاتون سے ملاقات کریں جن سے وہ پندرہ برس سے خط و کتابت کر رہے تھے۔ 1850ء میں ان دونوں نے شادی کی، لیکن بالزاک صرف تین ماہ بعد ہی وفات پا گئے۔ انھیں پیرس کے معروف قبرستان پیر لاشیز (Père Lachaise) میں دفن کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبالزاک نے انسانی نفسیات اور سماج کے مشاہدے میں نہایت گہرائی اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا جس کا اثر بعد کے ادیبوں پر اس قدر گہرا ہے کہ اس کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دنیا بھر کے متعدد عظیم ناول نگار— چاہے وہ روس کے لیو ٹالسٹائی اور دستوئیفسکی ہوں، امریکا کے ارنسٹ ہیمنگوے اور ٹام وولف، فرانس کے مارسل پروست، یا جرمنی کے رابرٹ موزل— سبھی بالزاک کی فن اور سچائی سے وابستگی کے مقروض رہے ہیں، اور اس کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ مترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم 1967ء میں شہداد پور، سندھ میں پیدا ہوئے، وہ ایک متنوع ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ 2023ء میں ان کی غزلوں کا مجموعہ ’’درِ خواب‘‘ اور 2025ء میں نظموں کا مجموعہ ’’تصویر میں چلتا آدمی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اگرچہ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، تاہم بعد ازاں اپنے یکے بعد دیگرے شائع ہونے والے ادبی تراجم کی بدولت انھوں نے اُردو کے معروف اور ممتاز مترجمین کی صفِ اوّل میں جگہ بنا لی۔ انھوں نے متعدد ادبی متون، بالخصوص فکشن کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کے قابلِ ذکر ترجموں میں عمر شاہد حامد کے ناول “The Prisoner”، ربی سنکر بل کے دو ناولوں “Dozakhnama” اور “A Mirrored Life” اور میورئیل موفروئے کے “Rumi’s Daughter” کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ ہسپانوی ادیب گابریئل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول “Until August” کا اُردو ترجمہ شامل ہے۔ انعام ندیم نے مارکیز کی کُل کہانیوں کا بھی اُردو میں ترجمہ کیا جو ’’ساری کہانیاں‘‘ کے عنوان سے 2025ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں مارکیز کی تمام کہانیاں ایک ہی جلد میں، ان کی ہسپانوی زبان میں اصل اشاعت کی زمانی ترتیب کے مطابق شائع کی گئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم نے آصف فرخی کے بارے میں ایک انتھالوجی، ذکیہ مشہدی کی منتخب کہانیاں، شاعر اکبر معصوم کی کلیات اور پاکستان میں اُردو نثری نظموں کا ایک انتخاب بھی مرتب کیا ہے۔ انھوں نے مشہور ہندی افسانہ نگار بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا بھی ترجمہ کیا، ان کا یہ انتخاب بعد ازاں دسویں یو بی ایل لٹریچر اینڈ آرٹس ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم کو متعدد ادبی اعزازات سے نوازا گیا جن میں ان کے پہلے شعری مجموعے ’’درِ خواب‘‘ پر ملنے والا عکس خوشبو ایوارڈ، “A Mirrored Life” کے اُردو ترجمے ’’آئینہ سی زندگی‘‘ پر ملنے والا یو بی ایل لٹریری ایوارڈ 2021ء برائے ترجمہ اور “Rumi’s Daughter” کے ترجمے ’’دُخترِ رومی‘‘ پر ملنے والا ڈاکٹر جمیل جالبی ایوارڈ 2024 ءبرائے ترجمہ شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاعر، ادیب ، مترجم اور مرتب کی حیثیت سے انعام ندیم کی ایک درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ وہ کراچی میں مقیم ہیں اور درس و تدریس سے منسلک ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48426521886905,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ad72b91a4ba1756197561_5fc70200-eaec-4690-b0a1-16cbf2bc77f7.jpg?v=1785618432"},{"product_id":"wohi-naam-saare-وہی-نام-سارے","title":"WOHI NAAM SAARE وہی نام سارے","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو 16 نومبر 1922ء کو پرتگال کے صوبہ ربیٹجو کے ایک چھوٹے سے گاؤں ازینہاگا میں پیدا ہوئے اور پُرتگال میں بے زمین ہاریوں کے ایک غریب گھرانے میں افلاس و عسرت کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے زندگی بسر کی۔ ساراماگو کو سکول کی تعلیم کے فوراً بعد گاڑیوں کی مرمت کی ورکشاپ میں دو سال کام کرنا پڑا۔ مختلف شعبوں میں مزدوری اور نوکریوں کے بعد ایک اشاعتی ادارے سے وابستہ ہو گئے لیکن نومبر 1975ء میں سیاسی بحران کی وجہ سے یہ ملازمت بھی چھوڑ دی۔ اِس سے پہلے وہ 1969ء میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ اُنھوں نے سیاست میں باضابطہ حصہ لیا۔ واضح اور دو ٹوک سیاسی رائے رکھتے تھے جس کا کاٹ دار اظہار وہ ہمیشہ اپنی مختلف تحریروں میں کرتے رہے۔ ساراماگو کا پہلا ناول 1947ء میں شائع ہوا، مگر اس کے بعد وہ طویل عرصے تک ادبی طور پر خاموش رہے۔ 1966ء میں اُن کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا، اور پھر ادبی و تنقیدی مضامین، اخباری کالم اور دوسری زبانوں کے معاصر ادب کے تراجم کا ایک سلسلہ چل پڑا جس نے ان کو بے حد فعال ادبی شخصیت بنا دیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1982ء میں شائع ہونے والے ناول \"Baltasar and Blimunda\" نے اُنھیں عالمی شہرت دلائی اور یہ ناول پین کلب ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہا۔ تاہم 1995ء میں شائع ہونے والا ان کا شہرۂ آفاق ناول \"Blindness\" اُن کے ادبی مقام کو مزید مستحکم کر گیا۔ ممتاز شاعر اور مترجم احمد مشتاق نے اس ناول کا ’’اندھے لوگ‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا، جو اُردو داں طبقے میں نہایت مقبول ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو اپنی تحریر میں کثرت سے تشبیہات کا استعمال کرتے ہیں، اورمنتشر خیال عناصر کے ذریعے معاشرے پر تفصیلی اور تنقیدی نظر ڈالتے ہیں۔ ساراماگو کے اسلوب کی ایک خصوصیت مکالموں اور بیانیہ کی آمیزش ہے، جس میں کم رموز والے طویل جملے ہوتے ہیں جو کئی صفحات پر محیط بھی ہو سکتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے سارا ماگو فاؤنڈیشن نے اکتوبر 2011ء میں ان کے ایک گم شدہ ناول \"Skylight\" کی اشاعت کا اعلان کیا۔ یہ ناول 1950ء کی دہائی میں لکھا گیا تھا اور ایک ناشر کی محفوظ شدہ دستاویزات میں رہا جس کو یہ مخطوطہ بھیجا گیا تھا۔ ساراماگو اپنی موت تک اس کام کے بارے میں خاموش رہے۔ اس ناول کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو اپنی زندگی کے آخری برسوں میں افریقی ساحل کے قریب واقع جزائر کناریہ (Canary Islands) میں رہائش پذیر ہو گئے اور اسی جزیرے میں 18 جون، 2010ء کو 87 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1998ء میں حوزے ساراماگو کو ادب کا نوبیل انعام اس دلیل کے ساتھ دیا گیا تھا، ’’وہ شخص جو تخیل، ہمدردی اور ستم ظریفی کے واسطے سے دستیاب تمثیلوں کے ساتھ ہمیں ایک بار پھر ایک گمراہ کن حقیقت کو سمجھنے کا اہل بناتا ہے۔‘‘ ادب کے نوبیل انعام سے نوازے جانے سے قبل وہ ایک شدید تنازع کا اُس وقت شکار ہو گئے تھے جب حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی پر مبنی ناول کو پُرتگالی حکومت نے ادبی انعام کے لیے نامزد ہونے سے روک دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنوبیل انعام برائے ادب 1998ء کے علاوہ حوزے سارا ماگو کو ملنے والے انعامات و اعزازت کی طویل فہرست ہے۔ 1995ء میں وہ پُرتگالی زبان کی نثر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانے والے سب سے نمایاں ادیب قرار پائے اور انھیں کاموئیش ایوارڈ (Camões Award) سے نوازا گیا جو پُرتگالی زبان کا سب سے بڑا ادبی انعام سمجھا جاتا ہے۔ 24 اگست 1985ء کو انھیں ’’آرڈر ملٹری آف سینٹیاگو دَ ایسپیڈا‘‘ کا کمانڈر بنایا گیا اور 3 دسمبر 1998ء کو انھیں اسی آرڈر کا سب سے اعلیٰ درجہ ’’گرانڈے کولار‘‘ دیا گیا جو عموماً صرف سربراہانِ مملکت کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ 2004ء میں انھیں بین الاقوامی ادبی اعزاز ’’امریکا ایوارڈ برائے ادب‘‘ سے سرفراز کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد فتح محمد (پیدائش 1945ء) افسانہ نگار، ناول نویس، مترجم، نقاد اور تجزیہ نگار ہیں۔ ان کا خاندان ماڑی بوچیاں، ضلع گورداس پور، مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے قلعہ جے سنگھ، ضلع گوجرانوالا میں آباد ہوا۔ تب وہ زندگی کے اُس مرحلے پر تھے جہاں نوجوان اپنے مستقبل کی طرف پرواز لیتے ہیں، دورانِ تعلیم ہی وہ عساکرِ پاکستان کی ملازمت کے لیے منتخب کر لیے گئے اور اگلے پچّیس برس ملک کے مختلف خطوں میں بشمول مشرقی پاکستان اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل رہے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد 1993ء میں لکھنے کا آغاز کیا۔ 1998ء میں پہلی کہانی ’’اماں نیلی ‘‘لکھی اور اُس کے بعد ایک چو مکھی جنگ کا آغاز ہوا۔ زندگی کی دیگر مصروفیات کے ساتھ لکھنے کے لیے وقت نکالتے اور مطالعے کو لکھنے سے بھی زیادہ ترجیح دیتے۔ یہ تینوں کام آج بھی اُتنی ہی تن دہی سے کیے جا رہے ہیں جتنا کہ تیس برس پہلے۔ وقت نے اُن کے جذبے اور ہمت پر اوس نہیںڈالی۔ مشرقی پاکستان کے مشاہدوں پر مبنی ناول ’’خلیج‘‘ ان کی وجۂ شہرت بنا۔ ان کے تخلیقی سرمائے میں 12 اُردو اور 2 پنجابی ناولوں سمیت 8افسانوی مجموعے شامل ہیں۔ وہ فیودور دستوئیفسکی، حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے تراجم بھی کر چکے ہیں۔ایک سہ ماہی ادبی رسالے ’’ادراک‘‘ کے بانی مدیر ہیں۔ خالد فتح محمد اپنے خاندان کے ساتھ 1993ء سے گوجرانوالا چھاؤنی میں رہائش پذیر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1997 — زمانۂ تحریر ’’وہی نام سارے‘‘، زبان: پُرتگیزی، اصل عنوان: Todos os Nomes (تودوس اوز نامیز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1997 — پہلی بار یہ ناول لزبن (پُرتگال) کے مشہور اشاعتی ادارے ’’کامینہو‘‘ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1999 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ مارگریٹ جل کوسٹا (Margaret Jull Costa) نے \"All the Names\"کے عنوان سے کیا۔ وہ ایک برطانوی ادبی مترجم ہیں جو پُرتگالی اور ہسپانوی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے عالمی شہرت رکھتی ہیں۔ اس ترجمے کو آکسفرڈ وَائیڈن فیلڈ ٹرانسلیشن پرائز سے نوازا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے مارگریٹ جل کوسٹا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’وہی نام سارے‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل فیودور دستوئیفسکی، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2025 — جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے حوزے ساراماگو کی اہلیہ پیلار دَ رِئیو (Pilar del Río) اور صاحبزادی ویولانتے ساراماگو ماتوش (Violante Saramago Matos) سے باضابطہ تحریری معاہدے کے تحت اس ترجمے کے اشاعتی حقوق حاصل کیے ہیں اور اس ناول کو ’’بک کارنر ورلڈ وائیڈ کلاسِکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ا-ا-\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eآرا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسویڈش اکیڈمی نے اُس کے ناولوں کوتخیل ،ہمدردی اور استہزا سے بھرپور تماثیل قرار دیا ہے۔ یہ بیانیہ اُس کے تازہ ترین ناول کی مکمل تصویر ہے — دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمیں ساراماگو جیسی گہری، مختلف اور وسیع دانش کی ضرورت ہے — جان برگر، دی گارجین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدل چسپ اور ساتھ ہی پریشان کن جو شاید ادب ِ عالیہ کی نشانی ہے — انتھونی ڈینئیلز، سنڈے ٹیلی گراف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجناب حوزے کی صورت میں مصنف نے جدید ادب میں ایک غیرمعمولی کردار تخلیق کیا ہے،کچھ نقادوں نے، کسی بھی طرح یہ مبالغہ نہیںہے، اُسے میلوائل کے پُراسرار کردار بارتلیبی کے متوازی رکھا ہے — میرسیڈیس مومانے، اَل پائس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتجسّس کو اُبھارتا،متحرک اور ایذارسا ںناول، جو استعاراتی بھول بھلیاں اور گمراہ کن نشانوں کو اپنے جلو میں لیے ہو ئے ہے — دی ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ زندوں اورمرتے ہوؤں کا ملاپ ہے جو حوزے ساراماگو کی تحریرکا خاصا ہے — دی نیو سٹیٹس مین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک ماورائی،مخفی حُسن۔ آشکار سے نجات، نظریاتی لیکن لاتعلق، انتہائی پُر سکون ماحول اور پُرکشش مزاح پیش کرتا ہے — لٹریری ریویو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہم ایک بار پھر ماہر قصہ گو اور اُس کے سحر انگیز کہانی بننے کے جوہر کے شکر گزار ہیں — رچرڈ اے پرَیتو، ورلڈ لٹریچر ٹوڈے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساراماگو کے فکشن کی جڑیں بہت گہری ہیں،جو یورپ کے مثالی فکشن کو چھوتی ہیں جس میں انسانی رُوح، یلغار کرتی ہوئی غیر انسانی اشرافیائی طاقتوں کے سامنے مدافعت کرتی ہے۔ ’’وہی نام سارے‘‘ حوزے ساراماگو کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول ’’اندھے لوگ‘‘ کا ایک قابلِ تعریف جانشین ہے — لیزا جاردئین، دی ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک خائف کلرک کی عمدہ کہانی جو اپنے طاقت ور مالک کی طاقت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا دل کو چھوتا ہوا مزاح ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کو للکارتا ہے جہاں کند ذہنوں کی معرفت محبت اور موت کی ایسی قطعی طور پر فہرست تیار کی جاتی ہے جو اِس کتاب کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے — کرس ڈولان، گلاسگو ہیرالڈ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسارا ماگو کی آواز ایک چمکتا ہوا تنوع سامنے لاتی ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑتا۔ یہ ایک عمدہ تحفہ ہے، اور جیسے جیسے ساراماگو عمر رسیدہ ہوتا ہے، وہ اِسے ایسے طریقوں میں استعمال کرنے کے لیے آمادہ نظر آتا ہے جو مزید سہل بھی ہیں، ایک کلرک کی کہانی بارش کے ایک دِن، بے رنگ شہر میں، اُس کی خواہش اور علم تک ہی محدود ہے، وہ ایسی ایسی کہانیاں نکالتا ہے جو گہرائی میں جاتی ہیں، اِ س کہانی کی طرح — مائیکل پائی، سکاٹس مین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحوزے ساراماگو کے ’’وہی نام سارے‘‘ نے ہمیں یاد دلایا کہ اُس نے اُس سال کا نوبیل انعام کیوں جیتا۔ یہ ایک کلرکی غلطی کے دنیا کی زندگی پر اثرات کو تلاش کرتا ہے، یہ دونوں نامعلوم اور سنگین، واضح اور سادہ ہیں۔ ایک دل کش مہم، نامعلوم عورت کی تلاش، ایسے فقروں کے اوپر تیرتی ہے جو کہ لہروں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر گرتے ہیں — رابرٹ وائینڈر، نیو سٹیٹس مین\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48428352897209,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68ef57d6122231760516054.jpg?v=1785630874"},{"product_id":"sunehri-ankhon-wali-larki-سنہری-آنکھوں-والی-لڑکی","title":"SUNEHRI ANKHON WALI LARKI سنہری آنکھوں والی لڑکی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس ناول میں بالزاک نے جس بے رحمانہ طریقے سے پیرس کا پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ کلاسیک ہے۔ پیرس کے بے رحم لوگوں کا جو نقشہ بالزاک نے کھینچا ہے اس سے آپ کو خوف آنے لگتا ہے۔ آج کے جدید دَور کا انسان لرز جاتا ہے کہ دو سو سال پہلے پیرس واقعی ایسا تھا جہاں غربت، لالچ، حسد، اس سطح پر پہنچے ہوئے تھے کہ بالزاک نے پیرس کو ایک جہنم قرار دے دیا۔ بالزاک کی ایک اور خوبی دیکھیں وہ اپنی تحریروں میں جج، جیوری یا جلّاد بننے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ ہر کردار کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود کو جیسے چاہے کہانی کے پلاٹ میں لے کر چلے۔ بعض اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ بالزاک خود ایک تماشائی کی طرح اپنی کہانی کے کرداروں کو چپ چاپ بیٹھا انجوائے کر رہا ہے۔ وہ کردار خود ہی اپنی کہانی لکھتے ہیں، خود ہی سازشیں کرتے، آپس میں لڑتے جھگڑتے یا محبّت کرتے ہیں۔ بالزاک صرف اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے، باقی سب کچھ کردار خود ہی کرتے ہیں۔ یہ ناول انسانی جذبات، حسد، شک، فریب اور محبّت کی کہانی ہے جس میں فرانس کے ایک امیرزادے ہنری کو ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی ’’پاکٹویا‘‘ سے محبّت ہو جاتی ہے لیکن درمیان میں وہی شک اور حسد، نفرت کے بیج بو دیتے ہیں اور ایک المیہ جنم لیتا ہے یہ ناول اسی ٹریجڈی کی کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکیا چند سکوں کے عوض ایک ماں سے اس کی مامتا اور اس کے جذبات خریدے جا سکتے ہیں؟ پیرس میں ہر کوئی برائے فروخت ہے ، جہاں وفا کی کوئی قدروقیمت نہیں؟ جہاں محبت بھی بکتی ہے؟ انسانی جذبات کے سوداگر جیب میں سونے کے سکے لیے پھرتے ہیں اور مزے کی بات ہے اس سودے کے گاہک بھی میسر ہیں۔ان سب سوالوں کے جواب آپ بالزاک کے اس ناول میں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436693074105,"sku":"BC SSH","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69f20c3ea32d51777470526.jpg?v=1785689397"},{"product_id":"dukhtar-e-rumi-2nd-edition-دختر-رومی-دوسرا-ایڈیشن","title":"DUKHTAR E RUMI (2ND EDITION) دختر رومی (دوسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eمیورئیل موفروئے اپنی تخلیقات میں روحانیت کی کھوج کے لیے شہرہ رکھتی ہیں۔ مختلف ثقافتوں اور ان کی روایات کے بارے میں گہرے تجسّس نے انھیں ایک ایسی ادیبہ کے طور پر متعارف کروایا ہے جو اپنی کہانیوں میں روحانیت کی خوبصورت آمیزش کرنا جانتی ہیں۔ اگرچہ ان کا نسبی تعلّق فرانس سے ہے لیکن وہ انگریزی میں لکھتی ہیں اور ممتاز ادیبہ ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکا سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا جس کے بعد وہ بی بی سی لندن سے بطور صحافی اور ریڈیو پروڈیوسر منسلک ہوگئیں۔ 1997ء میں بی بی سی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی کتاب ‘‘Breathing Truth’’ عظیم فارسی شاعر مولانا جلال الدین رُومی کے اقوال اور حکایات کا مجموعہ تھی۔ بعدازاں ان کا اوّلین ناول ‘‘Rumi’s Daughter’’ شائع ہوا۔ 2004ء میں شائع ہونے والی یہ دلکش کتاب قارئین کو مشہور فارسی شاعر اور صوفی جلال الدین رُومی کی لے پالک بیٹی ’کیمیا خاتون‘ سے متعارف کراتی ہے۔ اس ناول کے ذریعے میورئیل نے عرفانِ ذات کی پیچیدگیوں اور روشن خیالی سے مملو روحانیت کو نہایت مہارت سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے بڑی چابک دستی کے ساتھ تاریخ کے تحقیقی مواد کو اپنی تخیلاتی کہانی کے ساتھ ہم آمیز کر کے ایک واضح اور مستند بیانیہ تخلیق کیا ہے۔ اس ناول کا نو زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ زیرِ نظر اُردو ترجمہ اس کتاب کا دسواں ترجمہ ہے۔ فارسی شعروادب سے اپنی دلچسپی برقرار رکھتے ہوئے، میورئیل نے اس کے بعد اپنا دوسرا ناول ‘‘The Garden of Hafez’’ لکھا، جس کا تانا بانا مشہور شاعر حافظ شیرازی کی حیات اور ان کی شاعری کے گرد بُنا گیا ہے۔ میورئیل موفروئے کی دیگر کتابوں میں ‘‘On the Other Side of Love’’بھی شامل ہے۔ اپنے شاندار تعلیمی پس منظر کے ساتھ، میورئیل نے سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریقن سٹڈیز سے فارسی زبان میں فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ بی اے کی ڈگری لی ہے۔ وہ اسلامی تصوف کی پُرشوق قاری اور پُرجوش وکیل ہیں اور اکثر اس موضوع پر مکالمہ کرتی رہتی ہیں۔ میورئیل موفروئے اِن دنوں لندن میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم اُردو کے شاعر اور مترجم ہیں۔ ان کی پیدائش 2 اپریل 1967ء کوسندھ کے ایک قصبے شہدادپور میں ہوئی۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے پہلے معاشیات اور پھر اُردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگریاں لیں۔ 1990ء کے ابتدائی عشرے میں شاعری کا آغاز کیا اور 2003ء میں ان کا پہلاشعری مجموعہ ’’درِ خواب‘‘ شائع ہوا جو غزلوں پر مشتمل ہے۔ اسی برس اس شعری مجموعے کو ’’عکسِ خوشبو‘‘ ادبی اعزاز دیا گیا۔ انعام ندیم نے متعدد انگریزی ناولوں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں عمر شاہد حامد کا ناول ‘‘The Prisoner’’ اور ربی سنکر بل کے دو ناول ‘‘Dozakhnama’’ اور ‘‘A Mirrored Life’’ شامل ہیں۔ ان کے دیگر تراجم میں شیاؤ ہونگ کا ناول ‘‘Tales of Hulan River’’ بھی شامل ہے۔ مشہور ہندی ادیب بھیشم ساہنی کی کہانیوں کے ایک انتخاب کا ترجمہ بھی کیا جو ’’امرتسر آگیا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس ترجمے کو 2022ء میں یوبی ایل ادبی ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا۔ انعام ندیم نے متعدد کتابیں بھی مرتّب کی ہیں جن میں آصف فرخی کی یاد میں مضامین کی ایک کتاب ’’اُس آدمی کی کمی‘‘ شامل ہے جو 2021ء میں شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے معروف ہندوستانی افسانہ نگار ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا ایک انتخاب ’’بڑی حویلی کی بیبیاں‘‘ کے عنوان سے کیا۔ انعام ندیم نے کاشف حسین غائر کے ساتھ مل کر معروف شاعر اکبر معصوم کی کلیات ’’گُلِ معانی‘‘ بھی مرتّب کی۔ انھوں نے پاکستان میں لکھی جانے والی نثری نظم کا ایک جامع انتخاب بھی مرتّب کیا جو 2022ء میں اکادمی ادبیات اسلام آباد سے شائع ہوا۔ شاعری اور تراجم کے علاوہ انعام ندیم موسیقی کے بارے میں مضامین بھی لکھتے ہیں۔ وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436752515257,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69ea00c426bc81776943300.jpg?v=1785689662"},{"product_id":"dukhtar-e-rumi-2nd-edition-دختر-رومی-دوسرا-ایڈیشن-copy","title":"JANE EYRE - URDU جین آئر - اردو","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعام طور پر ہر ناول کے واقعات ایک خاص کلائمکس کی طرف تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کلائمکس پر ناول کی دلچسپی اپنے انتہا پر پہنچی ہوتی ہے اور قاری اس میں پوری طرح ڈوبا ہوتا ہے۔ لیکن ’’جین آئر‘‘ میں محض ایک کلائمکس نہیں۔ اس میں تین واضح کلائمکس ہیں جو قاری کی توجہ اور استغراق پر پوری کمانڈ رکھتے ہیں۔ایسا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور یہ مہارت بہت کم مصنّفین کو حاصل ہوئی ہے۔ جین آئر سے پہلے شارلٹ برانٹے کا لکھا ہوا ایک مسودہ انگلستان کے ایک ممتاز پبلشر کی توجہ حاصل نہ کر سکا کیونکہ مصنفہ ایک ’گمنام‘ لڑکی تھی۔ لیکن جب ’’جین آئر‘‘ کا مسودہ اُس کے پاس پہنچا تو اگرچہ اُس نے بےدلی سے پڑھنا شروع کیا لیکن وہ اس میں اس حد تک ڈوب گیا کہ اس نے اگلے چوبیس گھنٹوں کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور ایک ہی نشست میں پورا ناول پڑھ ڈالا۔ نتیجۃً یہ لافانی شاہکار شائع ہوا اور شارلٹ برانٹے گمنامی سے نکل کر شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی۔ پھر اس کا وہ ناول بھی طمطراق سے شائع ہوا جو پہلے پبلشر کو پسند نہ آیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سیّد قاسم محمود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب تک شاندار انداز میں لکھے گئے ناولوں میں سے ایک!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سارہ واٹرز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول کےآخر میں ہم شارلٹ برانٹے کی قابلیت، شدتِ جذبات اور\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eغیر منصفانہ روّیوں پر اس کی برہمی میں ڈوب جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- ورجینیا وُولف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفکشن کی دُنیا میں ’’جین آئر‘‘واحد اعلیٰ ترین کردار ہے۔ ذرا دیکھیے تو، اگرچہ وہ جین نام کی طرح سیدھی سادی ہے مگر اسے اپنی قدروقیمت، ذہانت اور قوتِ فیصلہ کا مکمل ادراک ہے۔ وہ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار رکھتی ہے۔ اتنی جرأت مند ہے کہ جبر اور ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی غلط کام کرنے کی بجائے وہ بیابانوں میں اکیلے چلے جانے اور موت قبول کرنے کوبھی تیار ہے۔ کیا شاندار ناول ہے ! کیاشاندار لڑکی ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e- سُوزن آئزک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیتیم جین کا بچپن خوش گوار نہیں ہے مگر اس کے کردار کی مضبوطی اور جرأت اسے ظالم ممانی اور سخت گیر سکول کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت دیے رکھتے ہیں۔ تاہم اس کی زندگی کا سب سے سخت مرحلہ ابھی آنا باقی ہے۔ ایک پُراسرار گھر میں گورنس کی نوکری کے بعد گھر کے مالک سے جذباتی وابستگی بالآخر جین کو مجبور کرتی ہے کہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ اپنے نظریات اور جذبات میں سے کسی ایک کو قربان کر دے....کیا جین کو محبّت کی خاطر اپنے حالات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسے سمجھوتا کرلینا چاہیے؟ یا اپنے ماضی کی طرح اب بھی وہ حالات سے مقابلہ جاری رکھے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e-ایڈیٹر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشارلٹ برانٹے (21 اپریل 1816ء - 31 مارچ 1855ء) مشہور برطانوی مصنفہ، اپنے ناول ’’جین آئر‘‘ کی وجہ سے عالمی شہرت کی حامل، برانٹے سسٹرز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں سب سے بڑی بہن، باپ پیٹرک برانٹے پادری تھا، ماں بچپن میں ہی گزر گئی، پرورش باپ اور خالہ( الزبتھ) نے مل کر کی۔ 1824ء میں لنکاشائر کے ایک سکول میں اپنی بہنوں کے ہمراہ داخلہ لیا۔ یہی سکول بعد میں ’’جین آئر‘‘ میں مذکور ’’لوؤڈ سکول‘‘ کی بنیاد بنا۔ ایک سال بعد وبا پھیلی تو سکول چھوڑ کر واپس یارک شائر میں اپنے گاؤں ہاوَرتھ چلی آئی جہاں والد نے گھر پر ہی بچیوں کی تعلیم کا انتظام کر دیا۔ یوں برانٹے سسٹرز کے مل کر پڑھنے اور کہانیاں لکھنےکا آغاز ہوا۔ 1825ء میں دوبڑی بہنوں (ماریا اور الزبتھ) کا وبا کے باعث انتقال ہو گیا۔ وبا ختم ہوئی تو شارلٹ کو رَوہیڈ کے سکول میں بھیجا گیا جہاں کچھ عرصہ بعد اس نےبطور ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا مگر سکول میں حفظانِ صحت کے ناقص حالات نے جلد ہی اسے سخت بیمار کر دیا اور یوں ملازمت ترک کرنی پڑی۔ بھائی برانوَل نے اپنے آرٹ کے شوق اور نشے کی لت میں برانٹے گھرانے کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا، مجبوراً شارلٹ کو ایک جگہ گورنس کا کام کرنا پڑا اور برانٹے سسٹرز کا اپنا سکول بنانے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔ خالہ کو جب علم ہوا تو اپنی تمام جمع پونجی اس کام کے لیے پیش کر دی۔ سکول کی خشتِ اوّل کے طور پر شارلٹ اور ایملی، فرنچ اور جرمن زبانیں سیکھنے برسلز پہنچیں۔ اس قیام کے دوران شارلٹ کو صحیح معنوں میں اپنی ذات کی شناخت کا موقع ملا جس کا نتیجہ بعد ازاں ’’جین آئر‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ وطن واپسی ہوئی، سکول کا آغاز کیا مگر چھوٹا قصبہ ہونے کے باعث سکول بند کرنا پڑا، یوں برانٹے سسٹرز کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شارلٹ کی بہنیں چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز ان کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ جس کےبعد تینوں برانٹے سسٹرز نے اپنا شعری مجموعہ فرضی ناموں سے شائع کروایا۔ یہ شعری مجموعہ بھی سکول کی طرح ناکام ہوگیا۔ مگران بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی جانب متوجہ ہوئیں۔ یوں 1847ء میں ’’جین آئر‘‘ کا ظہور ہوا جو چھپنے کے فوراً بعد زبردست مقبول ہوگیا۔ مگر اس ناول کی اشاعت کے بعد شارلٹ کی زندگی میں خوشیاں کم ہی رہیں۔ جوان بھائی برانوَل کی موت ہوئی تو تین ماہ بعد جوان بہن ایملی بھی بھائی کے پیچھے چل دی۔ اگلے سال سب سے چھوٹی بہن این بھی گزر گئی۔ شارلٹ تو بالکل تنہا رہ گئی۔ رشتوں سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر ایک سیدھے سادے شخص کےساتھ اپنی پسند کی شادی میں منسلک ہو گئی۔ کچھ ماہ بعد ناول ’’ایما‘‘ کا آغاز کیا، مگر قدرت کو اس ناول کی تکمیل منظور نہ تھی۔ شارلٹ دورانِ زچگی اپنی 39ویں سالگرہ سے تین ہفتے پہلے اس دُنیا سے رخصت ہو گئی۔ ’’جین آئر‘‘ کے علاوہ ’’شرلی‘‘،’’وِیلیٹ‘‘،’’دِی پروفیسر‘‘ اور نامکمل ناول ’’ایما‘‘ شارلٹ کی یادگاریں ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436787118265,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e254ac5e41b1776440492.jpg?v=1785690009"},{"product_id":"jane-eyre","title":"JANE EYRE","description":"","brand":"MISC","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48436988838073,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62b829baac5b71656236474.jpg?v=1785690427"},{"product_id":"jane-eyre-1","title":"JANE EYRE","description":"","brand":"ILQA","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437040349369,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60f3e483753c71626596483.jpg?v=1785690605"},{"product_id":"naulakhi-kothi-11th-edition-نولکھی-کوٹھی-گیارہواں-ایڈیشن","title":"NAULAKHI KOTHI (11TH EDITION)  نولکھی کوٹھی (گیارہواں ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ جب آپ اس علاقے کو اپنے ندی نالوں، پیڑ پودوں، پھلوں، پھولوں، جانوروں، مکانوں اور حویلیوں، برتن بھانڈوں، سبزی ترکاریوں اور فصلوں، غلوں اور دالوں، آبادی کے مختلف حصوں، اس کے سماج کی تہہ داریوں، اس کے طبقاتی پیچ و خم اور جوڑنے والی ڈوریوں، افراد اور ان کے عمل سے نکلتا دیکھتے ہیں، جبکہ اس پر رومانیت کی چھوٹ بھی نہ پڑی ہو۔ یہ تحریر سوشل ریئلزم یعنی حقیقت نگاری کا ایک ایسا نادر و نایاب نمونہ ہے جسے ادب میں حالیہ مقبول اور کارآمد ٹیکنیک میجک ریئلزم کی ضرورت نہیں پڑی۔ حقیقت خود میجک میں تبدیل ہو گئی ہے جس سے بڑے بڑے سینئر ادیب سبق لے سکتے ہیں۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کے بیانیے کی زبان ایک خاص انداز کی ہے جو متن کے اندر سے خودبخود پھوٹتی معلوم ہوتی ہے۔ پنجابی الفاظ اور پنجابی دیہی طریقۂ اظہار سے مملو، رواں دواں اور انٹیمیٹ۔ لیکن انگریز کرداروں کی عکاسی میں اور ان کی بات چیت دوہرانے میں یہ زبان اور طریقۂ اظہار ناکام رہتا ہے اور غیرحقیقی لگنے لگتا ہے۔ یہ اس ناول کی واحد کمزوری ہے کہ انگریز کردار انگریز نہیں لگتے۔ میرا خیال ہے کہ کتاب کے انگریزی ترجمے میں یہ خامی تو خود بخود غائب ہو جائے گی۔ تو مبارک باد علی اکبر ناطق کو، جو ایک شاندار ادیب ہے۔ قابلِ احترام، قابلِ محبت اور قابلِ رشک!! جس کی وجہ سے اسے ہمارے ان گھڑ ماحول میں کچھ مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اسے علم ہونا چاہیے کہ حسد میں برائیاں کرنا بھی ایک تحسین ہے جو سَر کے بل کھڑی ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(فہمیدہ ریاض)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق جدید اُردو ادب کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ایک دل آویز رزمیہ داستان ہے، پنجاب کے ماضی اور حال کی ایک شوخ و شنگ سیر، اور ہمارے نوآبادیاتی آقاؤں پر ایک شاعرانہ سوالیہ نشان۔ مجھے یہ خوش نصیبی حاصل ہے کہ ناطق کا گاؤں اوکاڑہ میں میرے گاؤں سے محض چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان صفحات سے ہماری جَوتی ہوئی زمین کی خوشبو آتی ہے اور ہمارے مشترک لہو کی سرخی جھلکتی ہے۔ میں کسی زبان میں ایسا کوئی ادیب نہیں جانتا جو قلم سے ایسی سحر انگیزی رقم کرے اور پھر انہی ہاتھوں سے سرخ اینٹوں کی دلکش عمارتیں بھی استوار کر دے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد حنیف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(انگریزی ایڈیشن سے)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437238333625,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699ecbd2245b01772014546.jpg?v=1785692143"},{"product_id":"kamari-wala-5th-edition-کماری-والا-پانچواں-ایڈیشن","title":"KAMARI WALA (5TH EDITION)  کماری والا (پانچواں ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eناطق کے لیے اب یہ حکم لگانا مشکل ہے کہ اُن کی اگلی منزل کہاں تک جائے گی کہ ہربار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے تمام کام میں تازگی ہے، روایت اور تاریخ کا شعور حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ جس طرح اُن کا شعر اور پھر فکشن میں کام ہے۔ اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناولسٹ بھی۔ اُن کےفکشن میں پنجاب کی سرزمین میں غیرمعمولی دلچسپی اُن کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیتی ہے۔ ناطق کی نثر سے مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ناطق کے فکشن کا قاری خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں، انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ علی اکبر ناطق سے اُردو ادب جتنی بھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہو گا۔ اِن کا سفر بہت طویل ہے، راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشمس الرحمٰن فاروقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق کا فکشن حقیقت اور کہانی کے پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لے کر آتا ہے۔ وہ دیہات اور اُس کے کرداروں کی بازیافت کا آدمی ہے اور حقیقی طور پر سن آف سوئل ہے۔ وہ احمد ندیم قاسمی کی طرح دیہات کا رومان پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے کرداروں کو حقیقت کی زندگی عطا کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حُسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق ایک عجیب سا لااُبالی نوجوان ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اگلے لمحے آپ کا دُشمن ہو جائے یا فوراً ہی آپ کو گلے لگا لے لیکن یہ طے ہے کہ افسانے، ناول یا شاعری میں اس کی صلاحیتیں بلاخیز ہیں۔ اس کا افسانوی مجموعہ ’’شاہ محمد کاٹانگہ‘‘ ایسا ہے کہ اُردو ادب کا ایک سراسر نیا رُوپ اس میں سواری کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمستنصر حُسین تارڑ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خُوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قِصّہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفہمیدہ ریاض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق کے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے مجھے ایسا جکڑا کہ ایک ہی نشست میں تقریباً ساڑھے چار سو صفحات کی یہ کتاب پڑھ گیا، بیچ میں کھانا وغیرہ کھایا ہو تو میں اس کی قسم نہیں دیتا۔ ناطق کے ناول نے مجھے حیران تو نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی شاعری اور افسانہ نگاری کی دھاک پہلے ہی بٹھا چکا تھا، البتہ پریشان ضرور کیا کہ ^\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اقبال\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فقیر بستی میں تھا‘‘ پڑھتے ہوئے گمان تک نہیں ہوتا کہ ہم آزاد کو نہیں، علی اکبر ناطق کو پڑھ رہے ہیں۔ آزاد پر یہ کتاب پچھلے سو سال میں واحد کتاب ہے جو واقعی اپنے موضوع اور اسلوب کے حوالے سےپڑھنے کے قابل اور لائق تحسین ہے۔ ناطق نے مولانا محمد حسین آزاد کا قلم مستعار لے کر یہ کتاب لکھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق دیہی زندگی کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحریر پڑھتے جائیں، آنکھوں کے سامنے فلم چلتی جائے گی۔ ان کے پہلے ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے اُردو فکشن میں ان کے بلند مقام کا تعین کردیا ہے۔ ناطق ہمارے ہی دور کے نوجوان ہیں اس لیے ناول پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے کتنی خوبی سے انگریز سرکار کے نمائندوں کی ذہنیت، سکھ رعایا کی معاشرت اور مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ناول کی نولکھی کوٹھی اوکاڑہ میں واقع ہے۔ اسی اوکاڑہ میں، جہاں علی اکبر ناطق نے جنم لیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمبشر علی زیدی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعرفان جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437247475897,"sku":"BC SSH","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699415d25ff131771312594.jpg?v=1785692347"},{"product_id":"kai-chand-the-sar-e-asman-3rd-edition-کئی-چاند-تھے-سر-آسماں","title":"KAI CHAND THE SAR-E ASMAN (3RD EDITION)  کئی چاند تھے سر آسماں","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے مصنف شمس الرحمٰن فاروقی اُردو دنیا کی ایسی عہدساز شخصیت ہیں جن کے کام، علمی توفیقات اور تخلیقی امتیازات کا ہر سطح پراعتراف کیا گیا۔ ہندوستانی حکومت نے انھیں ’’پدم شری‘‘ جیسا بڑا ایوارڈ دیا تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ خلاق شاعر، مجتہد نقاد، دانشور، مدیر اور سب سے بڑھ کر ایسے ناول نگار جنھوں نے اپنے فن پارے کو تہذیبی مرقع بنا کر اس صنف پر امکانات کے نئے آفاق کھول دیے۔ شمس الرحمٰن فاروقی 15 جنوری 1936ء کو پرتاب گڑھ، یوپی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ علم وفضل کی قدیم روایت اپنے بزرگوں سے وراثت میں پائی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے 1953ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ نکالا اور کئی نسلوں کے ادیبوں کی تربیت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’’شعر شور انگیز‘‘، ’’تفہیمِ غالب‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اُردو غزل کے اہم موڑ‘‘، ’’ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘، ’’قبضِ زماں‘‘ اور زیرِ نظر شاہکار ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کے مصنف ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e----\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمدتوں بعد اُردو میں ایک ایسا ناول آیا ہے جس نے ہند و پاک کی ادبی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیا اس کا مقابلہ اس ہلچل سے کیا جائے جو ’’امرائو جان ادا‘‘ نے اپنے وقت میں پیدا کی تھی؟ اور یہ ناول ایک ایسے شخص کے قلم سے ہے جسے اوّل اوّل ہم نقاد اور محقق کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے بطور ناول نگار خود کو منکشف کیا ہے اور محقق فاروقی یہاں پر ناول نگار فاروقی کو پوری پوری کمک پہنچا رہا ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ تحقیق و تنقید اور تخلیق کا کوئی ساتھ نہیں۔ لیکن زیرِ نظر ناول کو اس بات کی، جسے قاعدئہ کلی کے طور پر دیکھا گیا ہے، استثنائی صورت سمجھنا چاہیے۔ یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے رُوپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں لہٰذا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کچھ الگ طرح کا ناول ہے۔ ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کو جزئیات پر مکمل مہارت ہے۔ انھوں نے وزیر خانم کی زندگی کو اس درجہ لطافت، نزاکت اور تمام باریک جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری تہذیب، جسے ہند مسلم تہذیب کہیے اور اس کے آخری دنوں میں اس کی چمک دمک اور برگ وبار کا پورا نقشہ آجاتا ہے.... اور وزیر خانم کا کردار بھی کیا کردار ہے کہ وہ تنہا اپنی ذات میں اس تہذیب کا مجسم وجود معلوم ہوتی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eانتظار حسین\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437295677625,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64ede6dee1dfa1693312734.jpg?v=1785693329"},{"product_id":"chand-ko-gul-karen-to-hum-janen-3rd-edition-چاند-کو-گل-کریں-تو-ہم-جانیں-تیسرا-ایڈیشن","title":"CHAND KO GUL KAREN TO HUM JANEN (3RD EDITION)   چاند کو گل کریں تو ہم جانیں (تیسرا ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس ناول نے میرے اندرعجیب و غریب کیفیات برپا کیں۔ اس کا ماحول تاریک ہے اور قدرے بھیانک بھی۔ نہایت وسیع پھیلائو ہونےکے باوجود مصنف نے بہت مہارت سے اور قدرے اختصار کے ساتھ ماضی، حال اور مستقبل کے نسبتی سلسلوں کی بنت کاری کی ہے۔ اس تجربے کا ماحصل یہ لرزا دینے والا تصور ہے کہ بدی یعنی حرص اور تخریب کی جبلت انسان کی تقدیر ہے۔ نہایت فن کاری سے لکھا گیا یہ ناول تاریخ و ثقافت کے طویل ادوار کو اپنے پُراعتماد بیانیے سے ایسے یکجا کرتا ہے کہ ماضی اور حال کی تصاویر اتنی ہی جاندار نظر آتی ہیں جتنا مستقبل کا تصور۔ ناول یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ روز حاضر کے خوف آنے والے دنوں کے ہیبت ناک اندیشوں سے کچھ کم نہیں۔ علمیت اور ذہانت سے لبریز یہ تحریر پڑھنے والے کو لبھاتی بھی ہے اور ڈراتی بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شمس الرحمٰن فاروقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے اپنے کسی ناول میں لکھا تھا کہ وقت ایک تسلسل کے ساتھ گزرتا جاتا ہے اور ہم ٹھہرے ہوتے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ وقت ہے جو تھم چکا ہے اور یہ ہم ہیں جو گزرتے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق کا ناول ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ پڑھتے ہوئے میں اس سراب کا شکار ہوا کہ وقت ٹھہر چکا ہے اور یہ اسامہ صدیق ہے جو اس میں گزرتا جاتا ہے۔ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی جانب ایک کھوجی کی مانند سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی تخلیقی قوت وقت کے نقشِ پا کو دریافت کرنے کبھی تو الٹے قدموں ماضی میں چلی جاتی ہے اور کبھی مستقبل کی جانب گامزن ہو جاتی ہے۔ ماضی کا سفر آسان ہوتا ہے کہ آپ تحقیق اور وجدان کو بروئے کار لا کر اسے زندہ کر سکتے ہیں، موجودہ زمانہ آپ کی آنکھوں میں عکس ہوتا جاتا ہے اور آپ اسے اپنے مشاہدے میں منتقل کر کے بیان کر جاتے ہیں لیکن مستقبل میں اترنے کے لیے اپنی جان دائو پر لگانی پڑتی ہے اور یہ صرف قوتِ متخیّلہ ہے جس کے زور پر آپ تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی تصویرمیں کون سے کردار حرکت کریں گے۔ جیسے کچھ مہم جو گہرے غاروں کی تاریکی میں اتر جاتے ہیں اور نئی دُنیائیں دریافت کرتے ہیں ایسے ہی اسامہ اپنے تخیل کے سہارے مستقبل کے اجنبی اور نادریافت غاروں میں اترا ہے اور اَن دیکھی دُنیائوں کے باشندوں کو اپنے زورِ قلم سے زندہ کر دیا ہے۔ اسامہ جس آسانی اور قوت بھری روانی سے ماضی میں لوٹ جاتا ہے، پھر حال کا سفر اختیار کر کے مستقبل میں جا آباد ہوتا ہے، میرے لیے شدید حیرت کا باعث بنا۔ میں تو اپنے ناول ’’بہائو‘‘ کے کرداروں کی تلاش میں سرسوتی ندی کے سوکھتے ہوئے پانیوں تک جا پہنچا۔ موہنجوداڑو کی گلیوں کی مسافت اختیار کی۔ ان زمانوں میں واپس گیا تو بس وہیں رہ گیا، لوٹ آنا میرے بس میں نہ رہا اور اسامہ ہے کہ نہ صرف ماضی میں کچھ ایام بسر کرتا ہے، پھر حال کو بیان کرتے ہوئے مستقبل کی وادیوں میں کوہ نوردی کرنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر ان مسافتوں کی تھکن ہی نہیں ۔ اس کی تحریر کی دل کشی اور دل ربائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ادب کے آسمان پر اسامہ ایک ایسے ماہتاب کی مانند ابھرا ہے جو کبھی بجھایا تو نہ جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مستنصر حسین تارڑ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُسامہ صدیق لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان بارہ سالوں کے علاوہ جو تحصیلِ علم اور ملازمت کے سلسلے میں لاہور سے دُور بیرونِ ملک گزارے، وہ باقی تمام عمر لاہور ہی سے جڑے رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک معلم، محقق، مصنّف، قانون دان اور پالیسی امور کے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے کیتھیڈرل ہائی سکول، کریسنٹ ماڈل سکول، گورنمنٹ کالج لاہور اور لمز (LUMS) سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفرڈ یونیورسٹی میں بطور Rhodes Scholar قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ برصغیر کی قانونی تاریخ پر ان کی کتاب \"Pakistan’s Experience with Formal Law: An Alien Justice\" جو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے چھاپی ہے اب تک کئی انعامات جیت چکی ہے۔ اُن کا تاریخی ناول \"Snuffing Out the Moon\" سب سے پہلے پینگوئن رینڈم ہاؤس سے چھپا۔ عاصم بخشی نے اس ناول کا اُردو ترجمہ ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ کے نام سے کیا اور بک کارنر نے چھاپا۔ کتاب اور اس کا ترجمہ دونوں بہت معروف و مقبول ہوئے۔ ان کا اُردو کا پہلا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ بھی بک کارنر سے 2023ء میں شائع ہوا ہے۔ عالمی ادب، ہمارے خطے کے قصے، کہانیاں اور داستانیں، تاریخی تحقیق، سیاحت، قدیم کھنڈر، پُرانے درخت، اصلاحاتی کام اور بیش قیمت انسانی رشتے ان کی زندگی کی دل چسپیاں بھی ہیں، جستجو بھی اور حاصل بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر عاصم بخشی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے فکشن تراجم سہ ماہی جرائد آج، دنیا زاد، نقاط اور آن لائن جریدے جائزہ ڈاٹ کام پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی افسانوی ادب کے علاوہ انھوں نے جوشوا ہیشل اور چارلس پرس کے مضامین کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کے نان فکشن تراجم کے مجموعے ’نئی زمینوں کی تلاش‘ نے 2017ء میں اُردو سائنس بورڈ کی طرف سے بہترین کتاب کا اُردو سائنس ایوارڈ حاصل کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48437342011577,"sku":"BC SSH","price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6983043d446ba1770193981_40eebc3c-f3ee-49aa-b89e-5b56181cc164.jpg?v=1785693616"},{"product_id":"jise-raat-le-uri-hawa-5th-edition-جسے-رات-لے-اڑی-ہوا","title":"JISE RAAT LE URI HAWA (5TH EDITION)  جسے رات لے اڑی ہوا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eان قصوں میں کردار بھی ہیں، واقعات بھی، آپ بیتی بھی اور جگ بیتی بھی، جسمانی خواہشات سے متعلق تلذذ انگیزی بھی ہے اور روحانی کیفیات کا حال بھی، روح کو چھونے والے انفرادی المیے بھی اور طبقاتی تقسیم کی پیداکردہ معاشرے کی اجتماعی بےبسی کی تصویریں بھی، بھارتی فلموں میں دکھائی جانے والی انڈر ورلڈ سے ملتے جلتے کردار بھی اور اقدار کے نوحوں کے پہلو بہ پہلو رفعتِ افکار بھی۔ اس کے مختلف ابواب کے درمیان ایک مخصوص نوع پر تسلسل بھی ہے اور بے رابطگیٔ گفتار بھی، لیکن مجھے اس کتاب کی جس خوبی نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اس کی اپنے آپ کو پڑھوانے کی غیرمعمولی قوت اور صلاحیت ہے جو میرے نزدیک کسی بھی اچھی تحریر کا جزوِاعظم ہوتی ہے۔ اس کتاب کی ایک اور اہم اور قابلِ ذکر خوبی مصنف کی اپنے موضوع اور اس کے متعلقات پر ماہرانہ گرفت ہے کہ وہ ہر واقعے اور کردار کی جزئیات کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ چیزیں، کردار اور منظر آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے۔ کردارنگاری اور منظرنویسی میں انھیں ایک خاص ملکہ حاصل ہے، وہ ایک عمدہ سکرین پلے رائٹر اور باریک بین ڈائریکٹر کی طرح کسی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب آپ یہ کتاب پڑھیں گے تو یقیناً ان کی ہنروری سے بہت لطف اندوز ہوں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھے تو یہ کتاب ایک بےتکلف آزادہ رو اور آوارہ خرام ناول ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس خوش طبع کتاب کے بارے میں کوئی تنقیدی نکتہ اٹھانا زیادتی کی بات لگتی ہے مگر اس پر ناول ہونے کا اشتباہ یوں ہوتا ہے کہ مرکزی کردار کے حادثۂ پیدائش اور پھر انتقال کے مرحلے ہماری آنکھوں کے سامنے طے ہوتے ہیں۔ مرکزی کردار خود مصنف کا ہم زاد ہو نہ ہو، اس کی موت کے معاملے کو بھی اسی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے جو اس مصنف کا امتیاز ہے۔ ماڈل چاہے کیسا بھی ہو، محمد اقبال دیوان صاحب نے کتاب اپنی وضع کی لکھی ہے، نرالے ڈھب کی۔ ایسی خوش باش اور خوش اطوار کتاب کہ بےساختہ پڑھتے جائیے، جی خوش کرتے جائیے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(آصف فرّخی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھے ’’جسے رات لے اُڑی ہوا‘‘ پڑھنے کے بعد مصنف کے مشاہدے سے خوف، ان کی معلومات اور مطالعے پر رشک آیا۔ کتاب بےحد دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب کرداروں کا ایک حسین مرقع ہے جو ہمارے اردگرد موجود ہونے کے باوجود نظروں سے اوجھل ہیں۔ سرکاری ملازم تو ہم بھی رہے مگر دیوان صاحب نے شریکِ کار ہونے کے دوران، انھیں کب دیکھا اور برتا، یہ بات ہمارے لیے باعثِ حیرانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مہتاب اکبر راشدی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہو گا کہ ہم نے فٹ بال کا کوئی عمدہ میچ ٹی وی پر چھوڑا ہو وہ بھی ورلڈکپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دنوں میں، ذرا مشکل سی بات ہے۔ یہ ظلم ہم پر دیوان صاحب کی کتاب نے کیا اور خوب کیا۔ کتاب ایک دفعہ شروع کی تو رکھنے کو دل نہ چاہا۔ اس کی معلومات، اس کے کردار، ان کی بُوقلمونیاں، ایک عجب نیرنگِ تماشا ہیں۔ اب تک یہ کتاب ہم نے تین دفعہ پڑھی ہے اور شناخت پریڈ جاری ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عبیداللّٰہ بیگ)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیوان صاحب نے جو انکشافات اس کتاب میں کیے ہیں وہ ہم جیسے کھوجیوں کے لیے بھی چونکا دینے والے اور دل چسپ ہیں۔ ان کی وقائع نگاری میں دسترس کو دیکھ کر ہم نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ وہ ایک بند گلی کی بند زبان اور بےلگام مغرور اور علم دشمن بیوروکریسی کے ممبر ہیں، اگر وہ بھولے بھٹکے سے کوچۂ صحافت کی طرف آ جاتے تو بہت سوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(نذیر لغاری)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438470344889,"sku":"BC SSH","price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6936d512540191765201170.jpg?v=1785702809"},{"product_id":"jise-raat-le-uri-hawa-5th-edition-جسے-رات-لے-اڑی-ہوا-copy","title":"KARAMAZOF BRADARAAN (3RD EDITION)  کرامازوف برادران","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’کرامازوف برادران‘‘(1880ء) دستوئیفسکی کا آخری ناول ہے، جسے دُنیا کے ہر نقاد نے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا ہے۔ ناول کا ہیرو الیوشا رُوسی قوم، رُوسی مذہب اور مذہبیت کی اعلیٰ ترین پیداوار ہے اور اسے اپنی سرزمین اور ماحول سے بہت گہرا اور سچا لگائو ہے۔ اس کی سیرت اور وہ اصول جن پر وہ تعمیر کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دستوئیفسکی بغاوت، انکار اور شک کے تمام مراحل طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا ناول وہ طوفان برپا کر دیتا ہے، جس سے پرانی دُنیا بگڑتی اور نئی دنیا بنتی ہے۔ 1958ء میں ہالی ووڈ نے اس ناول پر فلم بھی بنائی جس میں یوئل برینر نے میٹسا کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا، لیکن اپنی اس موت سے پہلے بھی دستوئیفسکی ایک بار موت کا مزہ چکھ چکا تھا اور تجربہ اتنا انوکھا اور دُور رَس نتائج کا حامل تھا کہ اس کے اثرات دستوئیفسکی کے شاہکار ناولوں پر واضح طور سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دستوئیفسکی کو اُردو میں منتقل کرنا بطور خاص مشکل کام ہے لیکن کسی کو ہمت تو کرنی تھی۔ یہ سوچ کر مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم شاہد حمید نے اس عظیم ناول کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انھوں نے اِس ضخیم ناول کے ترجمے پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اپنے عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن اُن سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو رُوس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آ گئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اِس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول اُن کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری، جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِ لسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گاؤں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقّاد مظفر علی سیّد فرسٹ ایئر سے سِکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ شاہد حمید نے دورانِ تعلیم بطور صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا، پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پُرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالبِ علمی ہی میں ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا، پھر لیو طالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بِیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنتِ شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلۂ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبّر اور تعصّب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘، غسّان کنفانی کی ’’دُھوپ میں لوگ‘‘ اور جوسٹین گارڈر کی بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ مراکش کے ادیب محمد مرابط کے افسانوں کا انتخاب ’’بڑا آئینہ‘‘ بھی ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصّہ صَرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب و روز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقّاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیر معمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ ممتاز فکشن نگار نیّر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ نامور شاعر افتخار عارف نے ’’کرامازوف برادران‘‘ کی جدید طباعت دیکھ کر کہا، ’’دستوئیفسکی کا شمار دُنیا کے عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ طالسطائی، گورکی، جین آسٹن، مارکیز، یوسا کی صف میں بھی وہ نمایان نظر آتے ہیں۔ دُنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ان کے تراجم کیے گئے ہیں۔ اُردو ترجمہ شاہد حمید مرحوم نے کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اُردو تراجم کی تاریخ میں یہ ترجمہ بہ لحاظ صحتِ متن اور رُوسی زبان کی فضا کو برقرار رکھنے کی ہنروری کے سبب تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بک کارنر جہلم کے عزیزم گگن شاہد اور امر شاہد نے اس کتاب کو شائع کر کے بڑا کام کیا ہے۔ اِس عالمی اہمیت کے ناول کی اشاعتِ جدید ایک واقعے سے کم نہیں۔‘‘ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29 جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسرورق مصور:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوسیلی پیروف (1834ء-1882ء): 1870ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں پیروف کی مصوری نے رُوس کی عظیم ثقافت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ 1872ء میں اس نے دستوئیفسکی کی یہ تصویر مکمل کی۔ یہ دستوئیفسکی کا ادبی کام تھا جس نے پیروف کو اس طرح متاثر کیا کہ اس نے انیسویں صدی کے رُوس کی پریشان حال سیاسی، سماجی اور روحانی فضا میں انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھائیں۔ اس جدید طباعت کے سرورق پر دی گئیں دونوں تصاویر پیروف ہی کے موئے قلم کے شاہکار ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438475915449,"sku":"BC SSH","price":3400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68863a237df111753627171.jpg?v=1785703182"},{"product_id":"jurm-o-sazaa-crime-and-punishment-illustrated-edition-جرم-و-سزا-مصور-ایڈیشن","title":"JURM O SAZAA (CRIME AND PUNISHMENT) (ILLUSTRATED EDITION)  جرم و سزا (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eدستوئیفسکی کے دئیے ہوئے خیالی پیکر ہمیں پسند ہوں یا ناپسند، بہرحال نہ وہ کٹھ پُتلیاں ہیں، نہ موم کے پُتلے ___ کیوں کہ ان میں غضب کی شدّت ہوتی ہے۔ تراشنے والا اُن میں اپنے لہو کی گردش اور سینے کی آگ کچھ اس طرح بانٹ دیتا ہے کہ وہ خود پگھل کر گُم نہیں ہوتے، ہمیں پگھلا دیتے ہیں۔ صفِ اوّل سے زیادہ صفِ دوم کے، بظاہر معمولی (مگر ’’ابنارمل‘‘) کرداروں میں یہ شدّت اور بھی بڑھی ہوتی ہے اور وہی اس کے خیالات کی ترجمانی خوب کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک خاصیت تھی جس نے دستوئیفسکی کا سایہ اس کے قد سے لمبا کر دیا۔ روسی زبان نے عالمی ادب کو ایک وقت میں تین بڑے ناول دئیے (1867-70) ترگینف کا ’’باپ اور بیٹے‘‘، ٹالسٹائی کا ’’جنگ اور امن‘‘ اور دستوئیفسکی کا ’’جرم و سزا‘‘۔ ایک نے سماجی کشمکش کے تانے بانے دکھائے، دوسرے نے تاریخی باب کے لہوترنگ ورق پھیلائے، مگر دستوئیفسکی نے فرد کا باطن، جرم کی نفسیات، جبر و اختیار کی رسّہ کشی میں ’’مجھے سب کچھ جائز ہے‘‘ کا انجام دانائی اور دیوانگی کا متوازی عمل اور پھر نئی زندگی تک پہنچنے کا حوصلہ سب کھوند ڈالا، سب کا رس یکجان کر دیا۔ بعضوں کی نظر میں یہ ناول ایکشن اور اندرونی ہلچل کے تلازمے میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ کوئی کسی نظر سے دیکھے، آج یہ عالم ہے کہ کوئی ترقّی یافتہ زبان اس کے ترجموں سے خالی نہیں، اور اُسے پڑھے بغیر کوئی شخص عالمی ادب کا طالب علم نہیں۔ (ظ - انصاری)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e---\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں-\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438790914233,"sku":"BC SSH","price":2100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62375959877e81647794521.jpg?v=1785704429"},{"product_id":"idiot-illustrated-edition-ایڈیٹ-مصور-ایڈیشن","title":"IDIOT (ILLUSTRATED EDITION)  ایڈیٹ (مصور ایڈیشن)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور دستوئیفسکی (1821-81ء) روسی نثر کے دورِ عروج کی پیداوار ہے؛ سیاسی اور سماجی خلفشار کے زمانے کا بہترین ترجمان ہے۔ اپنے زمانے کی اہم تحریکوں کے گہرے مطالعے اور تحریروں میں انھیں ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے فرد کے باطن کا دشوار سفر کیا اور ہمیں انسانی فطرت کی بے تابیوں اور تضادوں کا شعور بخشا۔ آج هم اس کے نظریوں، نعروں، استعاروں اور پیش گوئیوں سے چاہے کتنا ہی اختلاف کر لیں، لیکن دکھی آتماؤں کا درد جاننے، انسان کی دکھتی رگ ٹٹولنے میں، مستقبل کے خطروں اور خوابوں سے آگاہ کرنے میں وہ ہمارے زمانے کے بہترین ادب کا پیش رو ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس نے صرف روسی زبان یا صرف یورپ کو نہیں، پورے عالمی ادب کو چند شاهکار افسانے اور ناول دیے ہیں۔ مغرب میں جب اس کی تصانیف کی دھوم مچی تو نطشے اور فرائڈ سے لے کر لوکاچ اور سارتر تک نے اسے دنیا کا ایک عظیم ناول نگار اور آدم شناسی کا بلند مینار تسلیم کیا۔ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ تخلیقی ادب کا زمانی فاصله شیکسپیئر کے بجائے دستوئیفسکی سے ناپنا چاہیے یعنی یوں که دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور اس کے بعد کا ادب۔ کیونکہ اس ایک قلم نے افسانے اور ناول کا پچھلا تصور یکسر قلم زد کردیا ہے۔ اس نے دنیا کو پہلی بار فلسفیانہ ناول دیے ہیں اور دُور تک خواب و حقیقت کی متوازی لائنیں بچھائی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر ناول ’’ایڈیٹ‘‘ (The Idiot) کم و بیش ڈیڑھ سال کی مدّت (1867-68ء) اور دو قسطوں میں لکھا گیا جب مصنف اپنی بیوی کے ساتھ جنیوا میں پیسے پیسے کو محتاج زندگی بسر کر رها تھا، بار بار ناول کی بساط بچھاتا، پھر الٹ پلٹ دیتا۔ پردیس کی بےکسی، مفلسی اور مرگی کی بیماری کے باوجود اسے یہ لگن تھی کہ نئی قسم کا ناول اور اپنے آدرش کا ایک صاف ستھرا هیرو دنیائے ادب کو پیش کرے۔ 12 جنوری 1868ء کے ایک خط میں اپنے پبلشر دوست مائیکوف کو لکھتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’...بڑی مدّت سے ایک خیال مجھے ستا رہا ہے۔ مگر میں اسے ناول میں ڈھالتے ڈرتا ہوں۔ کیونکه خیال نہایت نازک اور دشوار ہے۔ میں اسے سنبھال نہیں پاؤں گا، اگر چه دل اسی میں اٹکا ہوا ہے اور مجھے پسند بہت ہے۔ آئیڈیا یه که ایک مثالی انسان کی بھرپور تصویر کشی کی جائے؛ میرا اندازہ هے که اس سے زیادہ دشوار اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا، خصوصاً ہمارے زمانے میں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کا کہنا تھا کہ اوروں نے بھی اپنے اپنے طور پر ایسے ایک لاجواب انسان کی تصویرکشی کی ضرور ہے، لیکن تھوڑی بہت، بھرپور کسی کے ہاں نہیں۔ اور جن حالات میں ہم جی رہے ہیں، ان میں اگر کوئی ایک نیک نفس، راست باز، صاف گو، صاف دل، بے ریا اور بے غرض فرد اعلیٰ انسانی آدرشوں کے ساتھ سماج میں اتر آئے تو اس کا کیا حشر ہوگا، یہ دیکھنا چاہیے۔ دستوئیفسکی نے بار بار پلان بدلے، سخت ذهنی اور جسمانی اذیت سہی، تب جا کے اس ہیرو نے یہ آخری شکل پائی جو ناول میں موجود ہے اور جسے اپنے ارد گرد کی دنیا سے ’’ایڈیٹ‘‘ یا گاؤدی کا خطاب ملتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه مرکزی کردار ایک خاندانی آدمی ہے، موروثی رئیس زاده لیکن ماں باپ کے سائے سے محروم۔ لڑکپن سے ہی کسی ذهنی بیماری کے کارن اپنے خاندانی ماحول اور وطن سے دُور سوئٹزر لینڈ بھیج دیا جاتا ہے، علاج کے لیے۔ وہ بیماریوں، ہمدردیوں، قدرتی منظروں اور چھل کپٹ سے دور معصوم بچوں کی دنیا میں برسوں رہ کر جوانی میں وطن واپس آتا ہے۔ بڑی تمنائیں لیے ہوئے آتا ہے؛ ماضی کا درد، مستقبل کے خواب، انجانی دنیا کی تلاش، بھلمنساهت سے پیار، وہ جہاں جس محفل میں بیٹھتا ہے، دل اس کی طرف کھنچتے ہیں، لیکن وہ کہیں بھی پوری طرح فٹ نہیں ہوتا؛ جہاں اس کی عزت کی جاتی ہے وہیں مذاق بھی اڑتا ہے، دنیا جسے هوشیاری اور دنیاداری کہتی ہے، وہ اسے نہیں آتی، نتیجه یه که هر جگہ بالآخر اسے ایک احمق اور اناڑی شمار کیا جاتا ہے۔ اور صورت سوال سوسائٹی کے منظر سے خالی ہاتھ گم ہو جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه هیرو هے پرنس میشکن۔ روسی زبان کا لفظ ’’کنیاز‘‘، جسے ہم نے ’’پرنس‘‘ لکھا، اس کے اعلیٰ خاندان کی نشان دہی کرتا ہے اور بس۔ دکھی، بد نصیب، آبرو باخته اور مجرمانہ ذہنیت کے مرد و زن کو وہ غیر نہیں سمجھتا، انھیں اپناتا ہے اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ آدم کی گم شدہ جنت آدمی کے حوالے کرنے میں اسے کسی حیلے حوالے سے عار نہیں اور ایسا آدمی طبقوں، فتنوں، سازشوں میں کٹے پھٹے سماج کو درکار نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیه هیرو، یه ناکام اور ستم زده شهری میشکن دستوئیفسکی کا مثالی آدمی ہے جس کا پیکر اس نے بڑے چاؤ سے، بڑی نزاکت اور احتیاط سے تراشا ہے اور جس کی قسمت میں پسپائی لکھ دی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eهمارے زمانے کے ایک اہم سوویت مصنف فیدن نے لکھا هے که :\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’...بچپن میں بےکس، تنہا اور مریض لڑکے کی زندگی بتاکر یه پرنس خود اپنے تجربے سے جان گیا هے کہ بے رخی اور بےعزتی کے ہاتھوں انسان کیا کیا دکھ جھیلتا ہے۔ اب وہ هر ایک دکھیا اور ستم زدہ شخص کا دکھ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ مصنف نے هیرو (میشکن) کی زبان سے اس غیرانسانی برتاؤ کے خلاف آواز بلند کی ہے جو مجرم، آبرو باخته عورت، روگی اور بچے کے ساتھ سوسائٹی روا رکھتی هے۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیشکن کے پردے میں دستوئیفسکی نے زبان کھولی اور وہ خیالات جن پر بعد میں آکر ٹھہرا، پہلی بار یہیں ظاہر ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجب یه ناول 1868ء اور 1869ء کے دوران رسالے میں قسط وار چھپا تو دستوئیفسکی دور پردیس میں بیٹھا اہلِ وطن کی توجہ اور قدردانی کا سخت آرزومند تھا، مگر یہاں بھی ناکامی رہی۔ ناول نے فوری مقبولیت نہیں پائی۔ پیٹرزبرگ اور ماسکو ، دو بڑے ادبی مرکزوں میں جو نظریاتی نزاع چل رہا تھا، اس میں ’’ایڈیٹ‘‘ نه پوری طرح اِس فریق کے آرکسٹرا میں کھپ سکتا تھا، نه اُس فریق کے اکسٹراز میں۔ یوں بھی مصنف کی نازک مزاجی، بلکه بددماغی نے اپنے ہمسروں سے بگاڑ مول لے رکھا تھا۔ پھر ناول میں کئی واقعات خود مصنف کی ذاتی زندگی اور واقعی تجربوں سے نکل کر آئے تھے۔ (مثلاً پھانسی کے تختے پر چڑھنے کے وقت کی ذہنی حالت یا مرگی کا دورہ جسے لفظوں کا جامہ پہنانے میں دستوئیفسکی نے کمال کر دیا ہے، پھر اس کے ان سیاسی، سماجی خیالات کی جھلک، جو اپنے وقت کے انقلابیوں کو اسی طرح ناگوار گزرے جس طرح مغربی تہذیب کے دل دادہ حلقوں کو۔) اور یه ناول اپنی بناوٹ میں ڈرامائی ایکشن اور معمول کی دلچسپ رومانی روش سے بھی ہٹا ہوا تھا۔ غرض کہ پٹ گیا... اور دستوئیفسکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدیکھ کر طرزِ تپاک اهلِ دنیا، جل گیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کے لیے قدردانی کے دروازے دیر سے کھلے جب وہ ان سے بے نیاز ہوچکا تھا اور ابھی انیسویں صدی کا آخری کیلنڈر پرانا نہیں ہوا تھا کہ ’’ایڈیٹ‘‘ کے ٹائپ کو ’’ڈان کیخوتے‘‘ (Don Quixote) اور ’’پک وک پیپرز‘‘ کا عہدِ آفریں همسر مان لیا گیا۔ مصنف کے ہم عصر لیوٹالسٹائی نے اسے جوہری کی نظر میں بیش قیمت هیرا قرار دیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ سماج، جس کی جھلکیاں دستوئیفسکی کے ناولوں، خصوصاً زیر نظر ناول میں دکھائی دیتی ہیں، روس کی موجودہ نسل کے لیے اجنبی اور کہیں دور پار کی سنی سنائی بات معلوم ہوتا ہے۔ لیکن هم هندوستانیوں کے لیے جانا پہچانا ہے، اور شہریت کے پورے حقوق لیے شان سے دندناتا پھر رہا ہے۔ یه بھی ایک وجه هے که دستوئیفسکی کی آواز اور الفاظ ہمیں کسی غیر ملکی ساز کا تاثر نہیں دیتے۔ اس کے تاثرات میں بھی ہمیں اپنا پن ملتا ہے۔ اس اپنے پن کے سہارے هم انیسویں اور بیسویں صدی کے بعض تاریک سماجی گوشوں میں جھانک لیتے ہیں اور انسان کی ته در ته کیفیت کو ہمدردی سے سمجھنے میں ہمارے شعور کو روشنی ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمه براهِ راست روسی متن سے کیا گیا ہے اور اس پہلو کا خاص خیال رکھا گیا هے که اُردو عبارت اتنی سلیس، رواں اور بامحاوره نه هونے پائے کہ مصنف کی اصل عبارت کے مدّھم اور پنچم سُر، ہلکے اور تیز رنگ، پیچیدہ اور سلیس جملے، سب کے سب خلط ملط ہو جائیں، اصل کا مزہ ہی جاتا رہے۔ عبارت کو بنانا سجانا تورگینف کا ہنر تھا اور دستوئیفسکی اور تورگینف کی کبھی نہیں بنی۔ نہ ان کے آرٹ کی آج تک بنی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e* * *\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس سے پہلے دستوئیفسکی کے ناول ’’بےچارے لوگ‘‘، ’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ اور تین ناولٹ ’’کہانیاں‘‘ کے نام سے براہِ راست روسی سے اُردو کا لباس اختیار کر کے ماسکو سے شائع ہو چکے ہیں۔ یه چوتھا ہے اور اسی کے انجام پر باقی دو اہم ناولوں کی تقدیر کا مدار بھی ہے۔ فقط۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماسکو\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1980ء\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438830301369,"sku":"BC SSH","price":2100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/662d1623f0b1e1714230819.jpg?v=1785704651"},{"product_id":"bechaare-log-2nd-edition-بےچارے-لوگ","title":"BECHAARE LOG (2ND EDITION)  بےچارے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کی زندگی ایک بڑی ہستی کی درد بھری کہانی ہے جسے انسانیت کے مصائب نے مار رکھا تھا۔ اس کی جینئس (ذکاوت) نے سماجی خرابیوں اور انسانی درد و غم کا بھاری پتّھر اٹھایا اور خود اس کے بوجھ میں پس گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودر میخائلووچ دستوئیفسکی (1881ء۔ 1821ء) ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والد شہر کے کسی خیراتی ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔ 1843ء میں دستوئیفسکی سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویٹ ہوا اور انجینئرنگ وزارت میں ڈیزائن تیار کرنے کے کام پر ملازم ہو گیا۔ اپنی ملازمت سے وہ مطمئن نہ ہو سکا۔ 1844ء میں اس نے استعفا دے دیا اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کا پہلا کارنامہ یہی ناول تھا— ’’بے چارے لوگ‘‘— جس نے اسے شہرت عطا کی۔ یہ ناول ان دبے کچلے لوگوں کے نام معنون ہے جنھیں مصنّف نے اس دردمندی سے اس شدّتِ احساس سے یہاں پیش کیا ہے۔ اس میں سب سے نمایاں کردار ماکار الیکسئی وچ دے وشکن ایک نہایت خستہ حال اور خود کو ہیچ پوچ سمجھنے والا کلرک ہے جسے زندگی کے مصائب نے اس درجہ کچل ڈالا ہے کہ اس میں یہ بھی مان لینے کی ہمت نہیں رہی کہ وہ ستم زدہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب خطوط کے ایک سلسلے کے طور پر لکھی گئی ہے جس میں گویا مصنّف نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا اور اس کی وجہ سے مصنّف کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ہیرو کی ذہنیت کی انتہائی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ وہ ذہنیت جو گاہے گاہے مضحکہ خیز بلکہ قابلِ رحم تک ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگوگول اور بیلینسکی کے معتقد کی حیثیت سے دستوئیفسکی نے ابتدا میں ادب کی بہترین روایات کو مد نظر رکھا۔ مگر دستوئیفسکی کی روحانی نشوونما بہت بُری طرح کچلی گئی۔ ایک ترقی پسند سیاسی حلقے سے واسطہ رکھنے کے جرم میں اس پر مقدمہ چلا۔ سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا، لیکن بعد میں اس سزا میں تخفیف کرکے اسے جلاوطنی بھگتنی پڑی۔ یہ اس وقت جب کہ مصنّف کچی پھانسی کی ذلت انگیز سزا کاٹ چکا تھا۔ جلا وطنی کے دس برس کاٹ کر وہ ملک میں واپس آیا اور واپسی کے بعد اتنا بدل چکا تھا کہ مقدمے سے پہلے کے دستوئیفسکی میں اور اس میں بڑا بل آگیا۔ اس کا ’’انسان کی فطرت‘‘ پر سے ہی اعتماد اُٹھ گیا۔ بالآخر اس نے مذہب کے دامن میں پناہ لی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول ’’بےچارے لوگ‘‘ کا مصنّف اس درد بھری مسیحی محبّت کی راہ پر کھڑا نظر آتا ہے جس کے بارے میں روس کے انقلابی ڈیموکریٹ ہرتسین نے لکھا تھا، ’’انفعالی محبّت بہت جاندار بھی ہوسکتی ہے، وہ روتی ہے، وہ بولتی ہے، اپنے آنسو پونچھتی ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ وہ کچھ کرتی نہیں۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبنی نوعِ انسان پر سے اعتماد اٹھ جانے کی وجہ سے دستوئیفسکی میں یہ بات آگئی کہ جہاں وہ سماجی ناانصافیوں کو بے نقاب کرتا ہے وہیں کئی رجعت پرست خیالات کا اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ انسان کو برائی کے ایک مجہول تصور میں اور سماجی پستی میں دھکیلتا ہے۔ تاہم اس کی تصنیفات کی صداقت آج بھی زندہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438912188601,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/616a83589e9161634370392.jpg?v=1785704923"},{"product_id":"bel-ami-بیل-آمی","title":"BEL AMI  بیل آمی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eموپاساں کو بہت کم وقت ملا، صرف 43 سال، اور اس کا ادبی سفر صرف دس برسوں پر محیط ہے۔ 1880ء سے 1890ء تک۔ ان دس برسوں میں اس نے چھ ناول لکھے اور 300 مختصر کہانیاں۔ اُس کا ایک ناول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بیل آمی‘‘ اُردو داں طبقے میں خاصا معروف ہے۔ اس ناول سے اس نے خوب پیسا کمایا۔ اس دولت سے شہر کے فیشن ایبل علاقے میں فلیٹ لیا۔ یہاں ایک گوشۂ راز و نیاز ترتیب دیا۔ محققین کے بہ قول اس گوشے میں پیرس کی خوش اندام خواتین کا اجتماع رہتا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک کتاب کے دیباچے میں موپاساں نے ادبی ضابطے کی وضاحت کی ہے۔ اُس کے بیان کے مطابق، عام اور غیرڈرامائی واقعات کے لیے سادہ بیانی ہی بہتر طریق کار ہے۔ وہ سادہ لفظیات کا حامی ہے اور بیان کی زیبائش اور آرائش سے پرہیز کرتا ہے۔ موقع محل کی نسبت سے اُسے موزوں تر لفظ کے انتخاب میں ملکہ حاصل تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ لکھنے والے کو معروضی اور غیرجذباتی انداز اختیار کرنا چاہیے اور خود کو داخل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ موپاساں کا بیشتر کام اُداسی اور قنوطیت کی ایک فضا بناتا ہے۔ اُس کے کردار عموماً سطحی، لالچی، نکمّے، کمینے، شیخی خورے اور کنجوس ہیں۔ وہ خیر و شر کے فیصلے صادر نہیں کرتا۔ جس قماش کے وہ لوگ ہیں، اُن کے دُکھ سُکھ سب کچھ وہ جُوں کا تُوں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس نے کِسانوں اور تاجروں کی خاکہ کشی خُوب کی ہے اور وہ صرف انہی کرداروں تک محدود نہیں رہا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eموپاساں نے آخری دن بہت آزمائش میں گزارے۔ 34 سال کی عمر میں وہ اعصابی تناؤ کا مریض ہو گیا تھا۔ 1891ء میں اسے مکمّل جنون کی حالت میں پیرس کے شفاخانے میں داخل کر دیا گیا اور کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اِسی ذہنی اِختلال نے 6 جولائی 1893ء کو اُس کی جان لے لی۔ مگر یہ تو اس کی ظاہری دُوری تھی، وہ آج بھی ہمارے درمیان بہ تمام و کمال بہ ہمہ نفس موجود ہے۔ اِس سے بڑی زندگی اور کیا ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438932734137,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69f74ad3d86c91777814227.jpg?v=1785705036"},{"product_id":"zillaton-kay-maaray-log-ذلتوں-کے-مارے-لوگ","title":"ZILLATON KAY MAARAY LOG  ذلتوں کے مارے لوگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eدستوئیفسکی کا جلاوطنی سے واپسی کے بعد لکھا گیا یہ پہلا بڑا ادبی کام تھا۔ یہ ناول پہلی بار 1861ء میں رسالہ ’’وَریمیہ‘‘ (وقت) میں ’’ذلتوں کے مارے لوگ: ایک ناکام ادیب کی ڈائری سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جسے مصنف نے اپنے بڑے بھائی میخائل دستوئیفسکی کے نام معنون کیا تھا۔ یہ رسالہ خود مصنف اور اُس کے بھائی میخائل کی ادارت میں جاری ہوا۔ رسالے کے مواد کو مکمل کرنے کے لیے، دستوئیفسکی کو ایک طویل ناول لکھنے کی ضرورت پیش آئی جسے قسط وار شائع کیا جا سکے۔ ناول کا بڑا حصہ مصنف نے رسالے کے اگلے شمارے کی ڈیڈ لائن کے مطابق قسط وار لکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کا تصور دستوئیفسکی کو 1857ء ہی میں آ گیا تھا۔ 1860ء میں سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہونے کے بعد، اس نے فوراً اس خیال کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ جولائی 1861ء میں اس ناول کی آخری قسط منظرِ عام پر آئی، اور اُسی سال یہ ایک علیحدہ اشاعت کی صورت میں سینٹ پیٹرزبرگ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول کے چند مقامات پر مصنف، ایوان پترو وِچ کے ذریعے، اپنے پہلے ناول ’’بے چارے لوگ‘‘ کی قسمت کا ذکر کرتا ہے، جو 1846ء میں ’’پیٹرزبرگ کولیکشن‘‘ میں شائع ہوا اور بے حد کامیاب رہا۔ خاص طور پر نقاد بیلنسکی (جسے ناول میں نقاد ’’ب‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے) نے اس کی بہت تعریف کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ دراصل اُن لوگوں کی کہانی ہے، جو سماج کے کناروں پر زندہ ہیں __ بے بس، مگر انسانی عظمت کے خواب سے جڑے ہوئے۔ یہ ناول، نہ صرف درد کی داستان ہے بلکہ محبت، قربانی، اور سماجی انصاف کی ایک خاموش پکار بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438973268153,"sku":"BC SSH","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68639e2234df81751359010.jpg?v=1785705282"},{"product_id":"chacha-ka-khawab-چچا-کا-خواب","title":"CHACHA KA KHAWAB چچا کا خواب","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439004659897,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6865482b101c11751468075.jpg?v=1785705403"},{"product_id":"gambler-گیمبلر","title":"GAMBLER  گیمبلر","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439052632249,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/686616dce28401751520988.jpg?v=1785705563"},{"product_id":"nihayat-afsos-naak-waqia-نہایت-افسوس-ناک-واقعہ","title":"NIHAYAT AFSOS-NAAK WAQIA  نہایت افسوس ناک واقعہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ نامی چھوٹی سی کہانی (1862ء) میں دستوئیفسکی نے اسی زمانے کے مسائل یعنی ساتویں دہائی کے واقعات اور مسائل کو لیا ہے۔ دستوئیفسکی اس کو اس طرح شروع کرتے ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یہ افسوس ناک واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جب ہمارے وطن عزیز کا نوجیون بےپناہ جوش و خروش اور سادہ و پُرکار ہیجان کے ساتھ شروع ہوا.....‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کہانی میں اعتدال پرستوں پر طنز ہے۔ کہانی کے ہیرو، راجدھانی کے ’’ترقی پسند‘‘ جنرل پرالینسکی کے زندگی کے سطحی نظریے، خود پسندی اور مقبولیت کے لیے دوڑ دھوپ کو نمایاں طور پر پیش گیا ہے۔ ’’اونچے لوگوں‘‘ پر تیز طنز کے ساتھ ’’نہایت افسوس ناک واقعہ‘‘ میں، غریبوں، بھک منگوں، پیٹرزبرگ کے غریب محلوں کی زندگی اور انسانی تعلقات کے رکیک پہلوؤں کے المیے کو بھی عریاں کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور میخائلووچ دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ کُل سات بہن بھائی تھے۔ بچپن اور لڑکپن کی بھلی یادوں میں ماں کی سنائی ہوئی آپ بیتیاں شامل تھیں۔ لیکن گھریلو ملازمہ الیونا کی سنائی ہوئی پریوں کی کہانیاں بھائیوں بہنوں کو دل و جان سے پسند تھیں۔ دیہات تک کے سفر اور وہاں گزاری چھٹیوں کا الگ مزہ تھا۔ کہانیاں سننے اور پڑھنے کا چسکا دستوئیفسکی کو بچپن سے پڑ گیا تھا۔ ہسپتال کے دُکھی مریضوں اور دیہات کے زرعی غلاموں سے، جو کم دکھی نہ تھے، ملنے جلنے اور دُکھڑے سننے میں اس کا دل بہت لگتا۔ وہ ماسکو کے مارینسکی کے ایک غریب طبیب کے بیٹے تھے۔ گھریلو حالات اتنے خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی سے انھیں غربت اور مصیبت سے سابقہ پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ ان کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلنسکی نے انھیں ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اُن کے ناولوں نے انھیں رُوسی انشا پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ اس دوران میں دستوئیفسکی بعض نوجوانوں کے ایسے حلقے میں آنے جانے لگے جو روس کے حالات بدلنے، انقلاب برپا کرنے اور زار کا تختہ اُلٹنے کی باتیں کرتے تھے۔ بدقسمتی سے اس حلقے اور اس میں ہونے والی بحثوں کی بھنک حکومت کے خفیہ اداروں کے کان میں بھی پڑ گئی۔ حکم ہوا کہ سب نوجوانوں کو دھر لیا جائے۔ اس میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ یہ 22 اپریل 1849ء کا واقعہ ہے، دستوئیفسکی کو سزائے موت سنائی گئی جس پر عمل کرنے کے لیے انھیں لے جایا گیا، لیکن اس سے پہلے کہ ان کے گلے میں پھندا ڈالا جاتا، ان کی سزائے موت کی تبدیلی کا حکم آ گیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے دستوئیفسکی کے اعصاب اور رُوح پر ساری عمر اپنا تاثر قائم رکھا۔ بہرحال وہ عالمی ادب کو اپنے عظیم ناولوں سے مالا مال کرنے کے لیے بچ گئے اور انھیں سائبیریا بھیج دیا گیا۔ 1859ء میں قید و بند کی صعوبتوں سے نجات کے بعد دستوئیفسکی پھر اپنی تخلیقی دُنیا میں واپس آگئے۔ انھیں اسی زمانے میں مرگی کا مرض لاحق ہوا تھا۔ دستوئیفسکی کے فن میں اب وہ باطنی و نفسیاتی گہرائی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کی مثال پوری دُنیا کا ادب پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دستوئیفسکی کے خاص اور شاہکار ناولوں کو دُنیا کی ہر بڑی زبان میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ’’جرم و سزا‘‘ پر فلمیں بنیں، ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ ’’کرامازوف برادران‘‘ آخری ناول ہے۔ سکہ بند مترجم شاہد حمید کی محنتِ شاقہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل اس مشکل اور دقیق ناول کا اُردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ خود دستوئیفسکی اس کو اپنا سب سے وقیع کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہ ناول ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا۔ دستوئیفسکی کو پڑھنا ایک عظیم تجربہ ہے۔ بقول محمد حسن عسکری جو لوگ اپنے آپ اور اپنے باطن کے جہنم کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دستوئیفسکی کو کبھی ڈھنگ سے پڑھ سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دُنیائے ادب کے لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والے دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گئے۔ ان کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ ان کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظ انصاری (پیدائش 6 فروری 1925ء - وفات 31 جنوری 1991ء)، حقیقی نام ظل حسنین نقوی، اُردو کے نام وَر ادیب، نقّاد، محقق اور مترجم، سہارن پور میں پیدا ہوئے جو اترپردیش میں ہے۔ حصولِ تعلیم کے بعد جب دہلی آئے تو وہاں ایک روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ اس زمانے کے ایک ہفتہ وار اخبار کے مدیر سید سبطِ حسن تھے، یہ کمیونسٹ پارٹی کا اخبار تھا۔ ظ انصاری اس کی مجلسِ ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ترقی پسندی کا بڑا شور تھا اور کئی لکھاریوں کی طرح وہ بھی گرفتار ہوئے۔ وہ کمیونزم کے نظری پیروکار تھے، لیکن بعد میں مایوس ہو گئے۔ صحافت کو پیشہ بنایا اور قلم تھاما تو علمی و ادبی مضامین، کالم اور مختلف اصنافِ ادب کو اپنے فکر اور فن سے مالا مال کیا۔ اخبار اور مختلف رسائل سے منسلک رہے اور اپنی علمی استعداد بڑھاتے رہے۔ ظ انصاری نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی۔ روس کے دارالترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ روسی شعر و ادب کا ترجمہ براہ راست روسی سے اردو زبان میں کیا کرتے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جو اُن سے پہلے کسی اُردو ادیب نے نہیں کیا۔ ماسکو میں جو بھی انھوں نے کام کیے وہ اپنے معیار کے لحاظ سے بے حد اہم ہیں۔ انھیں وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی۔ انھوں نے مولانا آزاد، غالب، میر، خسرو، اقبال اور انیس پر اپنی تحقیق کو سپردِقلم کیا۔ ظ انصاری نے انگریزی، فارسی اور رُوسی زبانوں کی کُل 38 کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس، فریڈرک اینگلز اور لینن کی منتخب تصانیف کے ساتھ ساتھ دستوئیفسکی، چیخوف اور پشکن کے ناول بھی ترجمہ کیے۔ دستوئیفسکی کی تحریریں بہت گنجلک ہونے کے باعث ان کا ترجمہ کرنا کوئی عام بات نہیں، اُردو جو رُوسی زبان کے مقابلے میں کم ترقی یافتہ ہے، یہ کام ظ انصاری جیسا ہمہ جہت شخص ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ ان کے ترجموں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ کتابیں اُردو زبان ہی میں لکھی گئی ہیں۔ تراجم کے علاوہ انھوں نے دو جلدوں پر مبنی اُردو رُوسی اور رُوسی اُردو لغت بھی مرتب کی جو 55000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ جدید رُوسی شاعری کا اُردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ کہہ سکتے ہیں ظ انصاری ایک فعال اور متحرک شخص کا نام رہا ہے۔ ان کی یادیں اور زبان و ادب سے متعلق گراں قدر خدمات انھیں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439079796921,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/686835f61322d1751660022.jpg?v=1785705688"},{"product_id":"safed-raatein-سفید-راتیں","title":"SAFED RAATEIN سفید راتیں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’سفید راتیں‘‘، روسی عنوان: Белые ночи (بیلیے نوچی)، زمانۂ تحریر 1848ء۔ یہ ناول دستوئیفسکی نے اپنے ابتدائی دورِ تخلیق یعنی ستمبر تا نومبر 1848ء کے دوران لکھا۔ 31 اکتوبر 1848ء کو سینٹ پیٹرزبرگ کی سینسر کمیٹی سے اس کہانی کو شائع کرنے کی اجازت ملی اور پہلی مرتبہ رسالہ ’’اوچیست وینیے زاپسکی‘‘ (وطن کی یادداشتیں) کے شمارہ نمبر 12 میں شائع ہوئی۔ کتابی شکل میں یہ کہانی پہلی بار 1865ء میں ایک علیحدہ مطبوعہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوئی۔ اس وقت روس میں مختصر کہانیوں کو الگ سے کتابچے کی صورت میں بھی شائع کیا جاتا تھا۔ مصنف نے اسے ’’ف ستیلووسکی پریس‘‘، سینٹ پیٹرزبرگ سے شائع کروایا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء میں کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) نے پہلی مرتبہ اس ناول کو \"White Nights\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ ان کے تراجم نے دستوئیفسکی کی تحریروں کو پہلی بار انگریزی قارئین کے سامنے پیش کیا، اگرچہ بعد میں آنے والے مترجمین نے زیادہ معیاری اور مکمل ترجمے پیش کیے۔ 2010ء میں رونلڈ مائیر (Ronald Meyer) کا ترجمہ \"White Nights\" ہی کے عنوان سے پینگوئن کلاسکس سیریز میں شائع ہوا اور اپنی روانی و ادبی حسن کی بنا پر بہت سراہا گیا۔ مائیر ایک امریکی مترجم اور روسی ادب کے ماہر ہیں۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اور دوستوئیفسکی، ٹالسٹائی اور دیگر روسی ادیبوں کے تراجم کے لیے معروف ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب کے معروف کہانی کار اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے رونلڈ مائیر کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’سفید راتیں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہی نہیں، اس اشاعت میں دوستوئیفسکی کی ایک چونکا دینے والی طلسماتی کہانی ’’بوبوک‘‘ بھی شامل ہے، جو پہلی بار ’’ڈائری آف اے رائٹر‘‘ کے حصے کے طور پر فروری 1873ء میں اخبار ’’گراژدینین‘‘ (Citizen in Russia) میں شائع ہوئی تھی۔ مترجم اِس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس مجموعے کو بک کارنر کی ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا گیا ہے۔ یہ اشاعت کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف کے ساتھ دل کش سرورق اور مصوری سے آراستہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439111123129,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/68b317da306961756567514.jpg?v=1785705833"},{"product_id":"anna-karenina-modern-illustrated-edition-اینا-کریننا-ماڈرن-مصور-ایڈیشن","title":"ANNA KARENINA (MODERN) - ILLUSTRATED EDITION  اینا کریننا (ماڈرن) - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی، لیو نکولائی وِچ: تخلیق کار، ادیب، داستاں گو، مفکّر، معلّم اور کسان۔ 1828ء، خاندانی ریاست، یَسنایا پولیانا، رُوس میں پیدائش، ایک امیر زادے، جاگیر دار، بہت بڑی ریاست کے مالک، سخت کوش، آوارہ مزاج، درد مند اور حقیقت شعار۔ نَو برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ جوانی، جوانی کی طرح گزاری۔ عمر کے بیسویں سال کازان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ترک کر دی۔ 1849ء میں اپنی جاگیر میں کاشت کاروں کے بچّوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔ ناکام ہو جانے پر سیر سپاٹے میں جی لگایا، ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے، دُنیا سے کھیلنے لگے۔ 1851ء میں ایک ملازمت مل گئی۔ قلم کاری کا جوہر خلقی تھا۔ ملازمت کے دوران اپنی سوانح ’’بچپن، لڑکپن اور جوانی‘‘ کی پہلی جلد ’’بچپن‘‘ رقم کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1852ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اِس عہد کے تجربے اُن کے شاہ کار ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کی بنیاد بنے۔ فوج کی ملازمت بھی جلد ہی ترک کر دی۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ کبھی ماسکو کا رُخ کرتے، کبھی اپنی جاگیر پر واپس آ جاتے۔ ماسکو میں ’’باپ اور بیٹے‘‘ کے مصنّف جلیل القدر اِیوان ترگینف اور دوسرے ہم عصر ادیبوں سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ ہم ذوقوں، ہم فکروں کی صحبتوں میں ذوق و فکر کی نمو تیز ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی تو، بہ قولِ فیض، لوح و قلم کی پرورش ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ کم عمری ہی میں اُنھوں نے ایک فکر انگیز قلم کار کی حیثیت سے سارے روس میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ وہ بڑی سنجیدہ تحریریں تخلیق کرنے لگے تھے، لیکن اُن کی زندگی اور زندگی کے معاملات و معمولات کچھ الگ تھے۔ نہ ایسی سنجیدگی، نہ اخلاقی اقدار کا ایسا پاس و لحاظ، جو اُن کی تحریروں کا خاصّہ تھا، جن تحریروں سے اُن کے خالق کی ایک تصویر بنتی تھی۔ وہ خوش اندام، لالہ فام نازنینوں کے شیدائی تھے۔ مست اَلست، خوب شراب لنڈھاتے تھے اور خوب خلوتیں آباد کیا کرتے تھے۔ اُدھر مقبوضہ علاقوں کے دشمن سپاہیوں سے اُن کا ربط ضبط رہتا تھا تو اِدھر سینٹ پیٹرز برگ کی کلیسائی قلم رَو میں اُنھوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ ایک دیہی دوشیزہ سے راز و نیاز اِس انتہا سے دوچار ہوئے کہ وہ اُن کے بچّے کی ماں بن بیٹھی۔ یہ قصّہ کسی نہ کسی طور ناخوشگوار انجام سے دوچار ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1857ء سے 1861ء تک اُنھوں نے مغربی یورپ کا دورہ کیا۔ جدید تہذیب کا یہ براہِ راست مشاہدہ اُن کے فکری و نظری سفر میں مہمیزی کا باعث ہوا۔ 1862ء میں، عمر 34 سال ہو گئی تھی اور بہت زندگی کھیل لی، بہت رنگ جما لیا تھا کہ کچھ قرار آیا۔ اپنے دوست کی 18 سالہ بیٹی سوفیا بہرس پر جا کے نظر ٹھیری اور شادی کر لی اور مسلسل پندرہ سال اپنی جاگیر پر نہایت شادماں، نہایت بھرپور زندگی گزاری۔ 26 سالہ ازدواجی رفاقت میں سوفیا 13 بچّوں کی ماں بنی۔ دونوں میں بڑی یک جائی تھی۔ شوہر کے بیش تر تخلیقی کام سوفیا کی اعانت کے مرہونِ منّت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1870ء ٹالسٹائی کے لیے فکری گرداب کا سال تھا۔ شک اور ابہام کی آلودگی سے وہ اپنے خاص فکر و نظر کی تقطیر کرنے اور انسانی زندگی کے ایک صاف اور سیدھا راستہ ڈھونڈ لینے کا یقین حاصل کرنے کے مراحل سے گزرا کیے اور اُنھوں نے کُھلے عام اپنے نظریات کی تلقین و تبلیغ شدّ و مد سے شروع کر دی۔ جمہوریت، مساوات، اخوّت اور انسان دوستی، اب یہی اُن کی زندگی کے مقاصد تھے۔ 1879ء میں اُنھوں نے رُوس کے سرکاری کلیسا سے اپنا ناتا توڑ لیا اور خود اپنے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ سوفیا نے اُن کی مخالفت کی اور تب اُنھیں ایسا لگا کہ شادی اُن کے عزائم کی راہ میں دیوار بن چکی ہے۔ 1888ء میں اُنھوں نے سوفیا کو آزاد کر دیا، یا یوں کہا جائے کہ خود آزاد ہو گئے۔ 1901ء میں اُن کے ناول ’’حیاتِ نو‘‘ پر روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اُن سے مقاطعہ کر لیا۔ ٹالسٹائی کی انقلابی فکر روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگی تھی۔ اپنی مدلّل اور مؤثر تحریروں کی وجہ سے روس میں اُن کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاثر و رسوخ اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ روسی حکومت کو اُن کی باغیانہ سرگرمیوں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی ایک سچّے اور کھرے تخلیق کار تھے۔ ناول ’’اینا کریننا‘‘ یا ’’جنگ اور امن‘‘ ہی نہیں، اُن کے دیگر قلمی کام بھی کارناموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا سارا تخلیقی کام، مقالات اور خطوط پر مشتمل نوّے جلدوں کے مساوی ہے۔ اُنھوں نے اپنی ساری جاگیر اور دولت خاندان کے افراد، اپنے مزارعوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی تھی اور خود کو بالکلّیہ قلم کاری اور اپنے ’اِزم‘ کی ترویج و توسیع کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اپنی ڈائری میں اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ جارج ایلیٹ، ہومر، شیکسپیئر، تھیکیرے، پُشکن، ڈکنز، سروینٹیس، کانٹ، بودلیئر، گوئٹے اور روسی ہم عصر ترگینف اور دستوئیفسکی کی تحریروں نے اُن کی زندگی اور کام پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ خود ٹالسٹائی کی تحریروں نے نسلیں متاثر کی ہیں۔ گاندھی، مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر اور بے شمار نام وَروں نے ٹالسٹائی کی فکر سے اکتساب کیا ہے۔ وہ بہت پُرنویس، پُرخیال ادیب تھے۔ خود اُن کا اصرار تھا کہ اُنھیں محض قصّہ گو کی حیثیت سے شناخت نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسات سال زندگی اور مل جاتی تو اپنے خوابوں کی تعبیر 1917ء کا انقلاب بھی دیکھ لیتے۔ 1910ء میں ٹالسٹائی کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وقت کہاں ختم ہوا، ٹالسٹائی تو بہت زندہ ہیں۔ اِتنا منفرد، اِتنا کثیر اور فکرانگیز ترکہ چھوڑ جانے والا کیسے ختم ہو سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحریر: شکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439380345017,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64c91f47505d71690902343.jpg?v=1785707014"},{"product_id":"anna-karenina-classical-illustrated-edition-اینا-کریننا-کلاسیکل-مصور-ایڈیشن","title":"ANNA KARENINA (CLASSICAL) - ILLUSTRATED EDITION  اینا کریننا (کلاسیکل) - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی، لیو نکولائی وِچ: تخلیق کار، ادیب، داستاں گو، مفکّر، معلّم اور کسان۔ 1828ء، خاندانی ریاست، یَسنایا پولیانا، رُوس میں پیدائش، ایک امیر زادے، جاگیر دار، بہت بڑی ریاست کے مالک، سخت کوش، آوارہ مزاج، درد مند اور حقیقت شعار۔ نَو برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ جوانی، جوانی کی طرح گزاری۔ عمر کے بیسویں سال کازان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے، ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ترک کر دی۔ 1849ء میں اپنی جاگیر میں کاشت کاروں کے بچّوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔ ناکام ہو جانے پر سیر سپاٹے میں جی لگایا، ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے، دُنیا سے کھیلنے لگے۔ 1851ء میں ایک ملازمت مل گئی۔ قلم کاری کا جوہر خلقی تھا۔ ملازمت کے دوران اپنی سوانح ’’بچپن، لڑکپن اور جوانی‘‘ کی پہلی جلد ’’بچپن‘‘ رقم کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1852ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اِس عہد کے تجربے اُن کے شاہ کار ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کی بنیاد بنے۔ فوج کی ملازمت بھی جلد ہی ترک کر دی۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ کبھی ماسکو کا رُخ کرتے، کبھی اپنی جاگیر پر واپس آ جاتے۔ ماسکو میں ’’باپ اور بیٹے‘‘ کے مصنّف جلیل القدر اِیوان ترگینف اور دوسرے ہم عصر ادیبوں سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ ہم ذوقوں، ہم فکروں کی صحبتوں میں ذوق و فکر کی نمو تیز ہوتی ہے۔ ٹالسٹائی تو، بہ قولِ فیض، لوح و قلم کی پرورش ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ کم عمری ہی میں اُنھوں نے ایک فکر انگیز قلم کار کی حیثیت سے سارے روس میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ وہ بڑی سنجیدہ تحریریں تخلیق کرنے لگے تھے، لیکن اُن کی زندگی اور زندگی کے معاملات و معمولات کچھ الگ تھے۔ نہ ایسی سنجیدگی، نہ اخلاقی اقدار کا ایسا پاس و لحاظ، جو اُن کی تحریروں کا خاصّہ تھا، جن تحریروں سے اُن کے خالق کی ایک تصویر بنتی تھی۔ وہ خوش اندام، لالہ فام نازنینوں کے شیدائی تھے۔ مست اَلست، خوب شراب لنڈھاتے تھے اور خوب خلوتیں آباد کیا کرتے تھے۔ اُدھر مقبوضہ علاقوں کے دشمن سپاہیوں سے اُن کا ربط ضبط رہتا تھا تو اِدھر سینٹ پیٹرز برگ کی کلیسائی قلم رَو میں اُنھوں نے رسائی حاصل کر لی تھی۔ ایک دیہی دوشیزہ سے راز و نیاز اِس انتہا سے دوچار ہوئے کہ وہ اُن کے بچّے کی ماں بن بیٹھی۔ یہ قصّہ کسی نہ کسی طور ناخوشگوار انجام سے دوچار ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1857ء سے 1861ء تک اُنھوں نے مغربی یورپ کا دورہ کیا۔ جدید تہذیب کا یہ براہِ راست مشاہدہ اُن کے فکری و نظری سفر میں مہمیزی کا باعث ہوا۔ 1862ء میں، عمر 34 سال ہو گئی تھی اور بہت زندگی کھیل لی، بہت رنگ جما لیا تھا کہ کچھ قرار آیا۔ اپنے دوست کی 18 سالہ بیٹی سوفیا بہرس پر جا کے نظر ٹھیری اور شادی کر لی اور مسلسل پندرہ سال اپنی جاگیر پر نہایت شادماں، نہایت بھرپور زندگی گزاری۔ 26 سالہ ازدواجی رفاقت میں سوفیا 13 بچّوں کی ماں بنی۔ دونوں میں بڑی یک جائی تھی۔ شوہر کے بیش تر تخلیقی کام سوفیا کی اعانت کے مرہونِ منّت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1870ء ٹالسٹائی کے لیے فکری گرداب کا سال تھا۔ شک اور ابہام کی آلودگی سے وہ اپنے خاص فکر و نظر کی تقطیر کرنے اور انسانی زندگی کے ایک صاف اور سیدھا راستہ ڈھونڈ لینے کا یقین حاصل کرنے کے مراحل سے گزرا کیے اور اُنھوں نے کُھلے عام اپنے نظریات کی تلقین و تبلیغ شدّ و مد سے شروع کر دی۔ جمہوریت، مساوات، اخوّت اور انسان دوستی، اب یہی اُن کی زندگی کے مقاصد تھے۔ 1879ء میں اُنھوں نے رُوس کے سرکاری کلیسا سے اپنا ناتا توڑ لیا اور خود اپنے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی۔ سوفیا نے اُن کی مخالفت کی اور تب اُنھیں ایسا لگا کہ شادی اُن کے عزائم کی راہ میں دیوار بن چکی ہے۔ 1888ء میں اُنھوں نے سوفیا کو آزاد کر دیا، یا یوں کہا جائے کہ خود آزاد ہو گئے۔ 1901ء میں اُن کے ناول ’’حیاتِ نو‘‘ پر روس کے آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اُن سے مقاطعہ کر لیا۔ ٹالسٹائی کی انقلابی فکر روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگی تھی۔ اپنی مدلّل اور مؤثر تحریروں کی وجہ سے روس میں اُن کا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاثر و رسوخ اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ روسی حکومت کو اُن کی باغیانہ سرگرمیوں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی ایک سچّے اور کھرے تخلیق کار تھے۔ ناول ’’اینا کریننا‘‘ یا ’’جنگ اور امن‘‘ ہی نہیں، اُن کے دیگر قلمی کام بھی کارناموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا سارا تخلیقی کام، مقالات اور خطوط پر مشتمل نوّے جلدوں کے مساوی ہے۔ اُنھوں نے اپنی ساری جاگیر اور دولت خاندان کے افراد، اپنے مزارعوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی تھی اور خود کو بالکلّیہ قلم کاری اور اپنے ’اِزم‘ کی ترویج و توسیع کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اپنی ڈائری میں اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ جارج ایلیٹ، ہومر، شیکسپیئر، تھیکیرے، پُشکن، ڈکنز، سروینٹیس، کانٹ، بودلیئر، گوئٹے اور روسی ہم عصر ترگینف اور دستوئیفسکی کی تحریروں نے اُن کی زندگی اور کام پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔ خود ٹالسٹائی کی تحریروں نے نسلیں متاثر کی ہیں۔ گاندھی، مارٹن لُوتھر کنگ جونیئر اور بے شمار نام وَروں نے ٹالسٹائی کی فکر سے اکتساب کیا ہے۔ وہ بہت پُرنویس، پُرخیال ادیب تھے۔ خود اُن کا اصرار تھا کہ اُنھیں محض قصّہ گو کی حیثیت سے شناخت نہ کیا جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسات سال زندگی اور مل جاتی تو اپنے خوابوں کی تعبیر 1917ء کا انقلاب بھی دیکھ لیتے۔ 1910ء میں ٹالسٹائی کا وقت ختم ہو گیا، لیکن وقت کہاں ختم ہوا، ٹالسٹائی تو بہت زندہ ہیں۔ اِتنا منفرد، اِتنا کثیر اور فکرانگیز ترکہ چھوڑ جانے والا کیسے ختم ہو سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتحریر: شکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439421960377,"sku":"BC SSH","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/64c91c346463c1690901556.jpg?v=1785707305"},{"product_id":"anna-karenina-classical-illustrated-edition-اینا-کریننا-کلاسیکل-مصور-ایڈیشن-copy","title":"HAJI MURAD  حاجی مراد","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مُراد‘‘ ٹالسٹائی کا آخری ناول ہے۔ انقلابِ رُوس سے پہلے کےوسطی ایشیا کے علاقے کاکیشیا میں ٹالسٹائی نے اپنی زندگی کے کچھ ایام بسر کیے تھے۔ اس علاقے میں صدیوں سے بسنے والے مسلمانوں، ان کی تاریخ، رسم و رواج اور تمدّن سے ٹالسٹائی بےحد متاثر ہوا۔ وسطی ایشیا کا یہ علاقہ رُوس کے بڑے ادیبوں کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ پشکن نے بھی اس علاقے کے مسلمان لیجنڈری ہیرو پر ایک ناول ’’کپتان کی بیٹی‘‘ لکھا تھا۔ ٹالسٹائی نے ’’حاجی مُراد‘‘ کو چُنا۔ حاجی مراد کا کردار انسان کی عظمتوں، خامیوں اور نازک جذبات کا جیتا جاگتا مجسمہ بن کر ٹالسٹائی کے تخلیق کیے ہوئے کرداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ حاجی مُراد حریت پسند ہے، وہ انا کا شکار ہے.... وہ انا جو اسے امام شامل سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیتی ہے، وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے تڑپتا ہے، ان کی زندگی کے لیے وہ سفید رُوسیوں کے بادشاہ ’’زارِ رُوس‘‘ سے بھی مفاہمت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے.... لیکن اپنی مذہبی جذباتیت، عقیدے کی سچائی اور رُوس دشمنی، جو آزادی کی علامت ہے، سے دستبردار نہ ہو سکا۔ یہ اس کردار کی وہ پیچیدگی ہے جس نے ٹالسٹائی جیسے عظیم ناول نگار کو متاثر کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیّد قاسم محمود\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e----\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں آپ کو صرف یہ بتانے کےلیے لکھ رہا ہوں کہ مجھے آپ کا ہم عصر ہونے پر کس قدر خوشی محسوس ہوتی ہے....\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور ایک آخری پُرخلوص درخواست ہے: میرے دوست! لکھنے کی طرف لوٹ آؤ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبسترِ مرگ سے ایوان ترگینف کا خط، ٹالسٹائی کے نام\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شخص فن کا دیوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیودور دستوئیفسکی - رُوسی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں نے ’’حاجی مراد‘‘ پڑھا تواندازہ ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس سے ہمیں سیکھنا چاہیے۔ جب دوبارہ پڑھا تو میں دنگ رہ گیا.... میں نہیں سمجھتا کہ مجھ میں اتنی اہلیت ، اتنی طاقت، یا اتنی خواہش ہے کہ میں اتنی جزئیات نگاری کر سکوں جیسی ٹالسٹائی نے کی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں ٹالسٹائی کا پیروکار ہوں مگر میں اس جیسا کبھی نہیں لکھ سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسحاق بابِیل - رُوسی ادیب و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مراد‘‘ میرے لیے ادبِ عالیہ کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ یہ دُنیا کی بہترین کہانی ہے.... یا یوں کہہ لیجیے کہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاب تک میں نے جتنی کہانیاں پڑھی ہیں ان میں سب سے اعلیٰ کہانی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیرلڈ بلُوم - امریکی نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eٹالسٹائی اپنے کرداروں میں دیوتاؤںکی طرح رُوح پھونک دیتا ہے۔ ’’حاجی مراد‘‘ بھی اس سےمستثنیٰ نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجارج سٹائنر - امریکی نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’حاجی مراد‘‘ ٹالسٹائی کی آخری،سب سے نکھری ہوئی کہانیوں میں سے ایک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجان بیلی - برطانوی نقاد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439470325945,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60f6d67e76a0c1626789502.jpg?v=1785707529"},{"product_id":"maa-ماں","title":"MAA  ماں","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e1906ء میکسم گورکی نے ناول ’’ماں‘‘ روسی زبان میں تحریر کیا۔ یہ تصنیف روس میں جاری انقلابی ہلچل کے پس منظر میں لکھی گئی، مگر اُس زمانے کی سخت سنسرشپ کے باعث ناول کو روس میں شائع کرنے کی اجازت نہ ملی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1907ء ناول کی پہلی مکمل اشاعت انگریزی ترجمے کی صورت میں امریکا میں ہوئی۔ یہ ابتدا میں نیویارک کے جریدے Appleton’s Magazine میں قسط وار شائع ہوا۔ بعد ازاں D. Appleton \u0026amp; Company نے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔ انگریزی ترجمہ Isabel F. Hapgood نے کیا اور پیش لفظ امریکی صحافی Charles Edward Russell نے تحریر کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1907ء ’’ماں‘‘ کا مکمل روسی متن پہلی بار برلن سے شائع ہوا۔ یہ ایڈیشن روسی مہاجر پبلشر J. Ladyschnikow Verlag نے شائع کیا۔ اُس وقت روس میں اس کی آزاد اشاعت ممکن نہ تھی، اور مکمل متن کی اشاعت بیرونِ ملک ہی ممکن ہوئی۔ روس میں اسے شائع کرنے کی اجازت 1917ء کے انقلاب کے بعد ملی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1956ء سیّد محمد مہدی نے ناول کا براہِ راست روسی سے اُردو ترجمہ کیا، جسے ماسکو سے ’’بدیسی کتابوں کا اشاعت گھر‘‘ نے شائع کیا۔ اس ایڈیشن میں ’’کوکرینکسی‘‘ (Kukryniksy) کی تخلیق کردہ تصاویر شامل تھیں۔ کوکرینکسی دراصل سوویت دور کے تین معروف مصوروںMikhail Kupriyanov، Porfiry Krylov اور Nikolai Sokolovکا مشترکہ قلمی نام تھا جو ایک ہی دستخط کے ساتھ کام کرتے تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1987ء ’’پس لفظ‘‘ کے اضافے کے ساتھ اس کا چوتھا اور نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن ماسکو کے ’’رادوگا اشاعت گھر‘‘ سے شائع ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2022ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کےتحت شائع کیا۔ اس جدید اشاعت کو کوکرینکسی کی بنائی گئی تصویروں اور کتاب، مصنف و مترجم کے تعارف سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439547723961,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d5b815efa01771920257.jpg?v=1785707865"},{"product_id":"teen-rahi-تین-راہی","title":"TEEN RAHI  تین راہی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eبڑا سا بھورا ٹوٹا پھوٹا مکان جو شہری کاریگروں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا ___ غربت کا ہر طرف راج تھا ___ زبردست کمزور کو مارتا تھا، بڑا چھوٹے کو خوب زوروں سے پیٹتا تھا ایسا کہ کبھی کبھی لوگ مر بھی جاتے تھے ___ یہاں تین دوستوں کا بچپن اور جوانی گزرتی ہے ____ یہ ہیں ہٹاکٹا دیہاتی جوان ایلیا لونیف جو ناول کا ہیرو ہے، خاموش اور بے زبان یاکوف فلیمونوف اور لوہار کا آزاد اور لڑاکو بیٹا پاویل گراچیوف ___ ایک عظیم مصور کی مہارت کے ساتھ گورکی نے انسانی زندگی کی تباہی کی تصویر کشی کی ہے، ویرا اور اولم پیادا نامی لڑکیوں کے بارے میں، ایلیا لونیف کے المیہ انجام، یاکوف فلیمونوف کی قبل از وقت موت کے بارے میں لکھا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح پاویل گراچیوف نے نئے دوست بنانے اور ان کے ساتھ مل کر زندگی کی نئی حقیقتوں سے آشنا ہوا ___\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439582884025,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/620e4e8d8af871645104781.jpg?v=1785708041"},{"product_id":"aur-don-behta-raha-2nd-edition-اور-ڈان-بہتا-رہا","title":"AUR DON BEHTA RAHA (2ND EDITION)  اور ڈان بہتا رہا","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eپس ورق:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعظیم رُوسی مصنف میخائیل شولوخوف کا نوبل انعام یافتہ ناول ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ پوری دُنیا میں معروف و مقبول ہے۔ اس ناول میں بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کے رُوس کی ثقافت و معاشرت اور اجتماعی و انفرادی نفسیات کا بےمثال فن کارانہ بیان ہے۔ ناول کی کہانی دریائے ڈان کے کنارے آباد رُوسی کاسکوں کے گِرد گھومتی ہے۔ دل کش منظر کشی، جزئیات نگاری، کردار نگاری اور دل نشیں اسلوبِ نگارش کے باعث یہ ناول قاری کی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہاں سماجی حقیقت نگاری (Social Realism) کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ حقیقت افسانے سے بڑھ کر تحیر خیز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جوں جوں ناول پڑھتے جاتے ہیں اس کے کردار ہمارے ارد گرد چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ یہی ایک غیر معمولی ادبی شہ پارے کی نشانی ہوتی ہے۔ پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۹۱۸ء) اور بالشویک انقلاب (۱۹۱۷ء) کے تفصیلی ادبی بیان نے اس ناول کو بےحد اہم بنا دیا ہے۔ مصنف نے انقلاب کے حالات اور کرداروں کی جس طرح لفظی تصویر کشی کی ہے وہ کسی فنی معجزے سے کم نہیں ہے۔ انقلابِ رُوس کے تعلق سے بےپناہ ادب تخلیق ہوا لیکن زیرِنظر ناول جیسی فن کارانہ دیانت، غیر جانب داری، بےباکی اور انسان دوستی شاید ہی کسی اور ناول میں نظر آئے۔ یہاں انسان نظریے سے اہم تر دکھائی دیتا ہے۔ امن، جنگ، انقلاب اور خانہ جنگی کا احوال بیان کرتے ہوئے ناول نگار کی چابک دستی اور بیان پر گرفت داد سے بالا ہے۔ مخمور جالندھری نے جس محنت، مہارت اور ہمہ گیری سے ناول کا اردو ترجمہ کیا اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ اس اعلیٰ درجے کے ناول کا ترجمہ بھی اتنا ہی اعلیٰ درجے کا ہوا ہے۔ مترجم کی اُردو زبان پر تخلیقی گرفت اور مناسب ترین الفاظ کا چناؤ قابلِ تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ نہ صرف رُوسی بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک شہ کار ہے۔ بڑا ادب پڑھنے کے شوقین افراد کے لیے یہ ناول ایک سوغات سے کم نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمصنف کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیخائیل شولوخوف ۱۹۰۵ء میں ویشانسکایا، رُوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ۱۹۱۸ء میں محض تیرہ سال کی عمر میں شولوخوف کو تعلیم چھوڑ کر روسی خانہ جنگی میں شامل ہونا پڑا۔ وہ بالشویکوں کی فوج میں شامل ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے افسانے لکھنے شروع کر دیے تھے۔ ۱۹۲۲ء میں وہ صحافی بننے کی امید لیے ماسکو چلے گئے جہاں وہ گزر اوقات کے لیے مزدوری بھی کرنے لگے۔ جلد ہی وہ اپنے آبائی علاقے میں پلٹ آئے اور خود کو تصنیف و تالیف کے لیے وقف کردیا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا عرصۂ تخلیق ۱۹۲۶ء تا ۱۹۴۰ء ہے۔ اس ناول کو ان کی تمام تصانیف میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اسی ناول نے ان کو سٹالن پرائز اور نوبیل پرائز سے سرفراز کیا ۔ ان کے ایک اور ناول کو لینن پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی کتابیں ۴۷ زبانوں میں ترجمہ اور ۴۵ ملکوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ میخائیل شولوخوف کا انتقال ۱۹۸۴ء میں ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم کے بارے میں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۳۷ء میں ہوا۔ انہوں نے متعدد قلمی ناموں سے ’’تھرلر‘‘ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اٹھایا۔ میخائیل شو لوخوف کے ’’کنوارے کھیت‘‘ اور ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ انھی کے فن ترجمہ کے شاہ کار ہیں۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ نٹ ہیمسن کی ’’بھوک‘‘، میکسم گورکی کی ’’دیوانہ ہے دیوانہ‘‘ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہ کار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری ۱۹۷۹ء کو ہوا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا ترجمہ اپنی زبان، اسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48439599136953,"sku":"BC SSH","price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6437c73054ab91681377072.jpg?v=1785708717"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/novel.oembed?page=6","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}