{"title":"سیاست","description":"\u003cp\u003eCollection of the best books on politics.\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"taqseem-e-hind-تقسیم-ہند","title":"TAQSEEM-E-HIND تقسیم ہند","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/abdul-waheed-khan\"\u003eABDUL WAHEED KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 304\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003eAuthor Biography:\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eعبدالوحید خاں برصغیر کے اُن ممتاز دانشوروں، مؤرخین اور سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تحریکِ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور اسلامی سیاسی فکر پر گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی حلقوں میں بھی طویل عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کی صوبائی مسلم لیگوں کی ورکنگ کمیٹیوں کی رکنیت نے انھیں برصغیر کی سیاسی جدوجہد کا براہِ راست مشاہدہ عطا کیا۔ عبدالوحید خاں 1915ء میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔ ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ اور ’’تاریخِ افکار و سیاسیاتِ اسلامی‘‘ ان کی معروف تصانیف ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کا گجراتی اور بنگالی سمیت برصغیر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب India Wins Freedom کے جواب میں عبدالوحید خاں نے 1961ء میں انگریزی زبان میں India Wins Freedom – The Other Sideتصنیف کی، جس میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے واقعات کا ایک مختلف تاریخی زاویۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’’تقسیمِ ہند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور زیرِ نظر کتاب اسی اہم تصنیف کی نئی اشاعت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عبدالوحید خاں اپنے خاندان سمیت ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور یہیں سے الیکشن بھی کامیابی سے لڑا۔ وہ صدر ایوب خان کی حکومت میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی اور بنگلا دیش کے قیام کو اُس وقت کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ انھیں گہرے صدمے سے دوچار کر گیا، جس کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eذاتی طور پر مجھے مولانا آزاد کے علم و فضل سے ہمیشہ عقیدت رہی ہے، جس کو نہ سیاسی طوفان و طلاطم متزلزل کر سکے، نہ شدید اصولی اختلافات اُن کی ’’خمِ زلفِ کمال‘‘ کی اسیری سے چھڑا سکے۔ اضطراب و ہیجان کے اس دَور میں بھی، جبکہ مولانا کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی تھیں، میں ان کی رنگیں بیانیوں اور فطری لطافتوں سے حظ اٹھاتا رہتا تھا۔ مگر ارادت کیشی کے اِس مضبوط حصار کے باوجود جو میرے تصوّرات نے مرحوم کی ذات کے اِردگرد قائم کر رکھا ہے، جیسے ہی اُن کی کتاب ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ شائع ہوئی اور وہ ایک سیاسی مورّخ کی حیثیت سے نمودار ہوئے، خودبخود وہ تمام نقوش و خطوط اُجاگر ہو گئے جو اُن کی شکست خوردہ قیادت کے جذبۂ انتقام اور احساسِ کمتری نے اُن کے ذہن و فکر کے گوشوں میں بنائے تھے اور جو اَب تک مدّھم اور پھیکے پڑے ہوئے تھے اور دماغوں سے محو ہوتے جا رہے تھے۔ مولانا کا اشہبِ قلم تاریخِ آزادئ ہند کے میدان میں شہ گام کے لیے نکلا تھا، لیکن ان کے ذہنِ رسا نے ان کی عنان خود اپنی زخم خوردہ انانیت و اِمامت کی شاہراہوں کی طرف پھیر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخِ آزادی کی منزل تو ایک طرف رہ گئی، البتہ اس کو مولانا کے ذہنی و قلبی واردات، اُن کے ذاتی رجحانات اور عقائد، ان کے اپنے افکار و توہمات کی وادیوں میں جولانیوں کا موقع مل گیا۔ (عبدالوحید خاں)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجناب عبد الوحید خاں کی تصنیف ’’ تقسیمِ ہند‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ سے متعلق تاریخ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔ انھوں نے مولانا کے فکری تضادات پر سخت گرفت کی ہے اور محققانہ دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری سے انڈیا ونز فریڈم کے اقتباسات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتے ہیں۔ انھوں نے تاریخی واقعات کے تناظر میں مولانا ابوالکلام کے یک طرفہ نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے اور نہایت ذمہ داری سے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ کانگریس اور انگریزی گٹھ جوڑ کو بھی آشکار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے باعث نوجوان نسل گمراہ کن تصورات کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ تاریخِ پاکستان کے اکابرین سے متعلق شکوک وشبہات کا خاتمہ کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف مسلسل محاذ بنا کر ان کے اخلاص کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتاب پاکستان سے وابستگی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں دھول اڑائی گئی ہے اور عبد الوحید خاں نے آئینے پر جمی گرد کو صاف کر دیا ہے۔ اس کتاب کو ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ سادہ اور عام فہم زبان میں تاریخ کا تقابلی مطالعہ نہایت خوش گوار تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر شاہد اشرف)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367641624761,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a53624f332ea1783849551.jpg?v=1785181357"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/molvi-tamizuddin-khan\"\u003eMOLVI TAMIZUDDIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 456\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367625568441,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"amn-mumkin-he-امن-ممکن-ہے","title":"AMN MUMKIN HE امن ممکن ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fredrik-s-heffermehl\"\u003eFREDRIK S. HEFFERMEHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 222\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفریڈرک ا یس ہیفرمیہل 11 نومبر 1938ء کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ اوسلو یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ وہ ناروے کے معروف قانون دان، مصنف اور امن کے فعال کارکن تھے۔ انھوں نے 1965ء سے 1982ء تک ایک وکیل اور سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا۔ وہ 1980ء سے 1982ء تک نارویجن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے پہلے سیکرٹری جنرل رہے۔ بعد ازاں انھوں نے امن اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک مصنف اور کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ ناروے کی امن کونسل کے اعزازی صدر، اور بین الاقوامی امن بیورو کے نائب صدر رہے۔ فریڈرک ہیفرمیہل جوہری ہتھیاروں کے خلاف وکلا کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے منتخب نائب صدر تھے۔ انھوں نے 21 دسمبر 2023 کو وفات پائی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوجاہت مسعود 1966ء میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور یورپی قانون میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کی۔ 1994ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ پاکستانی دیہات میں بارہ برس انسانی حقوق کی تعلیم کا فرض ادا کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس اور صحافت سے منسلک ہیں۔ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر اہلِ ثقافت سے انٹرویو کرتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2015ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’امن ممکن ہے‘‘ ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو امن کی تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ ’’جنگیں ختم کرنے‘‘ کے نعرے میں کشش ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن قریب قریب ایسی ہی شدّت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مقصد حقیقی دنیا میں کچھ زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بہت سے معروف امن پسند اہلِ دانش نے امن کے لیے اپنی کامیاب اور متنوع کوششوں کی روشنی میں اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ ان تحریروں میں مایوسی اور الم ناکی کی عکاسی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جنگ اور امن کے مسائل سے نمٹنے کے عملی ذرائع اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے صاحبانِ علم میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ جس روز انسانوں نے متحد ہو کر امن کو انسانی بقا کی بنیادی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، اس دن دنیا کی کوئی طاقت کرۂ ارض پر قیامِ امن کو نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی متعدد تحریروں میں پڑھنے والوں کو قیامِ امن کے لیے ان علانیہ اور پس پردہ کوششوں سے متعارف کرایا گیا ہے جنھیں حالیہ برسوں میں ’’نئی سفارت کاری‘‘ کی اصطلاح بخشی گئی ہے۔ ایسی سفارت کاری میں امن کے برہنہ پا اور تہی دست علمبردار گلی کوچوں میں بسنے والے سادھارن اور گمنام امن پسندوں کی آواز اور تحفظات کو ان راہداریوں اور ایوانوں تک لے جاتے ہیں جہاں تجربہ کار اور پیشہ ور سفارت کار ہماری دنیا کو چلانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچونکہ ایسی متبادل سفارت کاری کا بیشتر کام پس منظر میں رہتے ہوئے کیا جاتا ہے، اس لیے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا کے بظاہر عام شہری امن کا عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیسے بظاہر ’’ناممکن‘‘ مرحلے طے ہو رہے ہیں۔ دو، صرف دو مثالیں لیجیے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے دنیا میں بارودی سرنگوں پر پابندی کا جھنڈا اٹھایا، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کا بِیڑا اٹھایا۔ روایتی انداز سے سوچنے والے تجربہ کار ماہرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ دونوں مقاصد ناقابلِ حصول ہیں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ان دونوں اہداف کے لیے کوشش کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ زیرِ نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دونوں اہداف نہ صرف یہ کہ حاصل کر لیے گئے، بلکہ یہ بھی کہ ان کامیابیوں تک پہنچنے میں صرف پانچ برس لگے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب مئی 1999ء کی ہیگ کانفرنس اپیل برائے امن کے لیے پہلے سے تیار کردہ مواد کا حصہ ہے۔ آج سِول سوسائٹی 21ویں صدی کے لیے امن اور انصاف کا ایک نیا ایجنڈا مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ تمام جدید ہتھیار بدیہی طور پر تمام انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لیے آج روایتی فوج ہمیں تسلی بخش سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی باوجود اس کے کہ ہم سب انسان فوج اور ہتھیاروں کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب فریڈرک ایس ہیفرمیہل کا پختہ یقین ہے کہ جس دن انسانوں نے بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود پائیدار امن کے لیے جدید ہتھیاروں کے ناقابلِ بھروسا ہونے کی حقیقت سمجھ لی، اس روز دنیا بھر میں کوئی طاقت امن کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فوج کی پیش قدمی سے کہیں زیادہ ناقابلِ مزاحمت وہ خیال ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔‘‘\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370449449145,"sku":null,"price":0.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69eef77a492aa1777268602.jpg?v=1785198082"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/politics.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}