{"title":"سفرنامہ","description":"\u003cp\u003eسفرناموں کی بہترین کتابوں کا مجموعہ۔\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"tashqand-say-istanbul","title":"Tashqand Se Istanbul تاشقند سے استنبول","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Altaf Ahmad Aamir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 176\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب میرے اُس سفر کی داستان ہے جو میں نے قاسم علی شاہ کے ساتھ کیا ۔ تاریخ کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے ہی تاشقند، بخارا، سمر قند، قونیہ اور استنبول دیکھنے کا شوق رہا۔ کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی کی اور یہ تمام شہر صدیوں تک علم و ادب، سائنس، فلسفہ اور آرٹ کے مراکز رہے۔ ان شہروں نے ایسی ایسی عظیم شخصیات پیدا کیں جنہوں نے اپنے علم و فضل، دانش و تصوف اور فلسفہ و فن سے دُنیا بھر کو متاثر کیا۔ یہیں سے علوم دینیہ کی بڑی بڑی ہستیاں خدمتِ اسلام کے لیےاُٹھیں جن کے افکار سے آج بھی قلوب و اذہان میں روشنی ہوتی ہے۔ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ اس سفر میں مجھے قاسم علی شاہ کے ساتھ میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاری، حضرت قثم بن عباس، حضرت امام بخاری، حضرت بہاؤالدین نقشبندی، حضرت اسماعیل سامانی اور مولانا جلال الدین رُومی کے مزارات اقدس کی زیارت نصیب ہوئی۔ علاوہ ازیں امیر تیمور کا مقبرہ، سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد، توپ قاپی محل، دُنیا کا سب سے قدیم گرجاگھر آیا صوفیہ ، پرنسس آئی لینڈ اور قدیم شہر سیلے دیکھنے کا موقع ملا۔ لہٰذا میں نے اس کتاب میں ان شہروں کی سیاحت کے دوران میں اپنے مشاہدات اور محترم قاسم علی شاہ کی گفتار سے جو کچھ سیکھا اور وہ مقامات جہاں ہمیں جانے کا موقع ملا، ان کی تاریخ کو مختصراً تحریر کیا ہے۔ امید ہے میری یہ چھوٹی سی کاوش آپ کے لیے معلومات کا خزینہ ثابت ہو گی۔ (الطاف احمد عامر)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48378499203257,"sku":"KW-ALT-0433","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a65b3ed5dad41785050093.jpg?v=1785175344"},{"product_id":"diyar-e-shams","title":"Diyar e Shams (Turkey Nama) دیارِ شمس (ترکی نامہ)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Dr. Zahid Munir Amir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 216\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر زاہد منیرعامر صاحب کی ترکی سے دلچسپی جو بچپن میں ٹکٹ جمع کرنے کے شغف کے مرحلے سے شروع ہوئی تھی عمر گزرتے گزرتے مطالعات میں اضافے کے ساتھ ایک باشعور محبت میں منتقل ہوگئی اور یہ محبت انھیں ترکی بھی کھینچ لائی ۔یعنی ڈاکٹر صاحب کا علم الیقین ترکی تشریف آوری کے بعد عین الیقین کے مرحلے تک پہنچ گیا اور جس طرح سے ان کی اس تصنیف سے علم ہوتا ہے ترکی کی زیارت نے ان کی ترکی سے محبت اور تُرک دوستی میں مثبت اضافہ کیا ہے۔اِس امر کے ڈاکٹر صاحب خود بھی معترف ہیں کہ وہ لکھتے ہیں:’’یورپ کا پہلا سفر 2011ء میں کیا گیا تھا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی ، سوئٹزرلینڈ اور سپین کے اس سفر کی روداد ہنوز نامکمل ہے۔ دوسرا سفر یورپ یونان، اٹلی اور نیدرلینڈز کا تھا، اس کی روداد سفر بھی ہنوز قلمبند نہیں ہوئی ہے لیکن ترکی ایسا زور آور نکلا کہ تمام اسفار کو پیچھے چھوڑکر سب سے پہلے اپنا سفرنامہ لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی ترکی نے زورِبازو سے نہیں بلکہ زورِ محبت سے یورپ کے معروف و مشہور ملکوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا سفرنامہ قلمبند کرایا اور بہت ہی خوب کیا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا یہ سفرنامہ اردو زبان میں لکھے گئے سفرناموں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے…ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کاوش میں قارئین کرام کو ترکی کے دو بڑے اور اہم شہروں استنبول اور قونیہ سے بخوبی متعارف کروایا ہے جس کا علم کتاب کی فہرست پر نظر دوڑاتے ہی ہوجاتا ہے…ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کامیں پھر سے اپنے شہر ’’استنبول‘‘ سے پر کشش انداز میں نئے سرے سے متعارف کرانے کی وجہ سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ستارۂ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاستنبول یونیورسٹی، شعبۂ اردو، استنبول،ترکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیوں تو ادب کی تمام اصناف ہی قاری کو جہانِ دیگر میں لے جاتی ہیں لیکن سفرنامہ ایک ایسی صنف ہے جو اپنے پڑھنے والے کو کسی افسانوی دنیا کی نہیں بلکہ حقیقی مناظر کی سیر کرواتا ہے۔ ایک اچھے سفرنامے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ مصنف (سیاح) نت نئی زمینوں کے دَر کچھ اس طرح کھولے کہ قارئین اس کے ساتھ اس سفر میں شریک ہو جائیں۔ ایک ایسا ہی سفرنامہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جس میں مصنف نے ترکی کی سیاحت کے دوران اپنے تجربات اور احساسات کو بخوبی قلم بند کیا ہے۔ میری مراد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سیاحت نامے ’’دیارِ شمس‘‘ سے ہے۔ ترکی کے دو صوفیانہ شہروں میں گھومتے ہوئے زاہد منیر عامر نے انتہائی باریک بینی اور اشتیاق سے ترک ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کو رقم کرتے ہوئے جو جذبہ شدت سے کار فرما نظر آتا ہے وہ ترکی سے محبت ہے۔ محبت کے بغیر یہ کام ہو بھی نہیں سکتا۔ سفرنامے کا انتساب ڈاکٹر صاحب نے ہمارے عظیم ترک رہنما کمال اتاترک کے نام کیا ہے جو پاک ترک دوستی کا خوب صورت استعارہ ہے۔آپ کا بہت شکریہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر …بہت شکریہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹرآسمان بیلن اوزجان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصدرشعبہ اردو،انقرہ یونیورسٹی، ترکی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342630367417,"sku":"KW-DR.-0434","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5d7660e7dfb341568039143_f02f9b8f-ecd7-426c-a04f-7f2bdf95018c.jpg?v=1785174543"},{"product_id":"mera-pakistani-safarnama","title":"Mera Pakistani Safarnama - میرا پاکستانی سفر نامہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Balraj Sahni\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yasir Jawad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 168\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eہندوستانی فلم اور سٹیج اداکار بلراج ساہنی (یکم مئی 1913ء -13 اپریل 1973ء) کا خاندان 1947ء میں بھیرہ سے ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ہندی کے مشہور مصنف، ڈرامانگار اور اداکار تھے۔ بلراج ساہنی راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ انگلش ادب میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ واپس راولپنڈی چلے گئے اور اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگے۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلش اور ہندی کے اُستاد کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی وِشو بھارتی یونیورسٹی (بنگال) چلے گئے۔ بلراج نے پدمنی، نوتن، مینا کماری، وجینتی مالا اور نرگس کے ساتھ بندیا، سیما، سونے کی چڑیا، سٹہ بازار، بھابی کی چُوڑیاں، کٹھ پتلی، لاجونتی اور گھر سنسار جیسی فلموں میں کام کیا۔ نِیل کمل، گھر گھر کی کہانی، دو راستے اور ایک پھول دو مالی میں اُن کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ پنجابی کلاسک فلم ’’نانک دُکھیا سب سنسار‘‘ کے علاوہ ’’ستلج دے کنڈھے‘‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ بلراج ساہنی نے بطور لکھاری بھی اپنے جوہر دکھائے۔ اُنھوں نے ہندی، انگلش اور پنجابی میں لکھا۔ 1962ء میں اپنے آبائی وطن (مغربی پنجاب) کا دورہ کرنے کے بعد یہ کتاب ’’میرا پاکستانی سفرنامہ‘‘ لکھی۔ یہ تقسیمِ ہند کی وجہ سے بے وطن ہونے والوں کے دُکھ بھرپور طریقے سے بیان کرتی ہے۔ وہ لاہور، جھنگ، سرگودھا، بھیرہ اور راولپنڈی میں تجربات اور ملاقاتوں کا حال بہت خوب صورت انداز میں بتاتے ہیں۔ اُن کے خالص پنجابی انداز کو ترجمے میں ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے روس کا سفرنامہ بھی لکھا جسے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ اُن کی نظمیں اور افسانے ادبی جرائد میں چھپتے رہے۔ ان کی خودنوشت ’’میری فلمی آتم کتھا‘‘ یعنی فلمی آپ بیتی کو بہت سراہا گیا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے پی کے وسُودیون نائر کے ساتھ مل کر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن بنائی۔ وہ بعد میں اِس تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں دہلی میں غریبوں کے لیے لائبریری اور مطالعہ گاہ بنائی۔ آخری فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی ڈبنگ مکمل ہوتے ہی اُن کی وفات ہو گئی۔ وہ اپنی بیٹی شبنم کی بے وقت موت کی وجہ سے شدید غم زدہ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631252153,"sku":"KW-BAL-0435","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f8952695ea241602835049_fdd3c8ae-39b1-4a3a-95f3-2e47b232f871.jpg?v=1785108831"},{"product_id":"zard-patton-ki-bahar","title":"Zard Patton Ki Bahar - زرد پتوں کی بہار","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ram Lal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eاصنافِ ادب میں خود نوشت، سوانح عمری، سفر نامہ اور خطوط اس لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہر خاص و عام کا دامنِ دل کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مطالعے سے قارئین کے ذوقِ تجسّس کو یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ ہر چند یہ تینوں صنفیںاپنے عناصرِ ترکیبی کے لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی عنصر قدر مشترک کا درجہ ضرور رکھتا ہے اور اسی قدر مشترک کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیوں کا رُوپ اختیار کر لیتی ہیں۔ دراصل قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بےحجابانہ فن کار کے دل و دماغ میں اُتر جائے اور اس خواہش کی تکمیل میں یہ اصناف بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ \u003cbr\u003eیہ اور بات ہے کہ کوئی فن کار ان اصناف کی وجہ سے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے لیکن یہ بہرحال ہیں ثانوی اصناف۔ میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، مہدی افادی، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، رشید احمد صدیقی، جوشؔ اور احسانؔ دانش وغیرہ بنیادی طور پر شاعر ہیں یا ادیب و نقّاد لیکن ان میں سے ہر ایک نے اِن ثانوی اصناف میں سے کسی نہ کسی کو اس طرح اپنایا کہ اب اس کا شمار ان کے امتیازات میں ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کلیہ مان لیا جائے تو اس کا اطلاق رام لعل کے سفر نامہ ’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ پر زیادہ بہتر طور پر ہوتا ہے۔ رام لعل بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار بھی اتنے قد آور کہ انھوں نے اس صنف کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور افسانہ نگاروں کی اس نئی نسل کو حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری سے قریب تر کر دیا جو منزل کی تلاش میں بھٹک رہی تھی اور جسے ’’برگ حشیش‘‘ کو ’’شاخ نبات‘‘ بتانے والے حضرات بہکا رہے تھے۔\u003cbr\u003eکوئی دو سال پہلے رام لعل نے ہندوستان سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔’’زرد پتوں کی بہار‘‘ اسی سفر کی یاد گار ہے۔ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں لیکن رام لعل کے اس سفر کو اس طرح کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو اُن کا وطن سے وطن کو سفر تھا۔ میانوالی (پاکستان) اُن کی جنم بھومی ہے لیکن اُنھوں نے تاریخ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا۔ جنم بھومی کی یاد کسے نہیں آتی، رام لعل بھی اس یاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور یادوں کے سائے میں اُنھوں نے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اور جب اُن کی عمر تجربہ کرتے رہنے کے حصار سے نکل کر تجربات کو عبرت و بشارت کا درجہ عطا کرنے کے قلم رو میں داخل ہوئی تو جس انسانی فطرت کو اُنھوں نے اپنے سینے میں لوریاں دے دے کر سُلائے رکھا تھا، وہ بیدار ہو گئی اور اُس نے رام لعل کو ان کی جنم بھومی میں پہنچا کے دم لیا۔ \u003cbr\u003e’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ رام لعل کا نہیں بلکہ انسانی فطرت اور جبلّت کا سفر نامہ ہے، یہ ایک فرد کا نہیں، نسل سے نسل کا سفر نامہ ہے۔ رام لعل کے اس سفر نامے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا دل دھڑک رہا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہی ادبی تخلیق لازوال بھی ہوتی ہے اور آفاقی بھی،جس میں انسانیت اپنے اصل خط و خال کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمود الٰہی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631514297,"sku":"KW-RAM-0436","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/608b949c0ccba1619760284_0bce1f1c-cba6-49da-ae83-55c2b9052d86.jpg?v=1785108419"},{"product_id":"uncle-sam","title":"Uncle Sam Kay Des Se - انکل سام کے دیس میں","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salman Khalid\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 184\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو کبھی لائل پور کہلاتا تھا۔ ان کے اطوار میں لائل پور کی تہذیب، روایت اور شگفتگی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی سوچ، فکر اور تحریر میں ایک قدیمی دانش کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان اہلِ نظر میں سے ہیں جو نئی بستیاں ڈھونڈتے ہیں؛ نئے اُفق کی تلاش، نئے زمانوں کی کھوج۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ اپنی طرز کا ایک انوکھا سفرنامہ ہے جو کمال دلآویزی سے امریکی ریاستوں، درودیوار اور مکینوں سے روشناس کراتا ہے اور سطور اور بین السطور میں کچھ کہتے، کچھ نہ کہتے، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ دردمندی، گداز اور اخلاص، اس تحریر کا اصل خاصہ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد نے خاص مہربانی یہ کی کہ وہ اخوت کے دوستوں میں شامل ہو گئے اور اس کتاب کی آمدنی انھوں نے اخوت یونیورسٹی کے لیے عطیہ کر دی جس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کیا جانا چاہیے۔ اخوت، الحمدللّٰہ، قرضِ حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اخوت یونیورسٹی بھی علم کا ایک بڑا مرکز بنے گی( ان شاءاللّٰہ) اور اس کا ایک حصہ سلمان خالد کے نام اور اخوت کے ان دوستوں کے نام مختص ہو گا جو پاکستان سے باہر ہیں لیکن پاکستان ان کے دل میں بستا ہے۔ اخوت کی تسبیح میں پروئے ہوئے یہ اَن گنت موتی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہی کی چمک سے غربت، افلاس اور جہالت کے اندھیرے دُور ہوں گے۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ ایک پاکستانی کی کہانی ہے۔ مقام اور موقع محل بدل جاتے ہیں، محبّت قائم رہتی ہے۔ اس کتاب سے بھی وہی مہک پُھوٹتی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر امجد ثاقب)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد ایک علم دوست، صاحبِ دل اور صاحبِ مطالعہ شخص ہیں۔ صاحبِ قلم ادب کا شناور ہو تو اس کا اندازِ تحریر بہت متنوع اور جاندار ہوتا ہے۔ سلمان خالد بہت انوکھے انداز میں اپنے قارئین کو امریکہ کی مختلف ریاستوں، مختلف شہروں کی سیر پوری معلومات کے ساتھ کراتے ہیں۔ ان کا ہشاش بشاش طرزِ تحریر کسی گرانی کے بغیر ہزاروں میل کا سفر طے کرا دیتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد بہت روانی کے ساتھ امریکی طرزِ معاشرت اور امریکیوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات سے آگاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے مزاج، سیاسی رجحانات، سماجی تعلقات اور وہاں کا کلچر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے ہم خود یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ایک ٹورسٹ کے انداز سے نہیں، ایک بھیدی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور یہی آنکھ قاری کی بھی وا ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا یہ سفرنامہ ایک اچھے فیملی مین اور شریف انسان کے ان دس دنوں کی کہانی ہے جو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں بھی اسی طرح آئیں لیکن اپنی عادتوں کی وجہ سے ہم اپنے ایسے دنوں میں بھی وہ رنگ نہیں بھر سکتے جو سلمان خالد نے پینٹ کیے۔ ہر قدم پہ خدا کا شکر ادا کرتا، کھانے انجوائے کرتا، بیگم بچوں کو سیر کراتا سلمان خالد وہ دیسی ہے جو امریکہ جا کر نہیں بدلا، کم از کم اس کتاب سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ دو تین گھنٹے میں کتاب مُک جاتی ہے لیکن خیال آتا ہے کہ سفر جاری رہنا چاہیے تھا۔ کوئی ایک آدھی گوری اپنی حدیں پار کرتی، کوئی پب ہوتا، کوئی ان پہ ڈُل جاتا .... ایک دو جگہ ویسے یہ سانحہ بھی پیش آیا لیکن خود سے تیس سال بڑی خواتین نے ہی نظرِ شفقت کی، خدا جانے کیا وجہ ہوئی۔ اگر آپ سفرناموں میں اچھا کھانا انجوائے کرتے ہیں، رواں نثر پڑھنا چاہتے ہیں اور قدم قدم پہ بہت زیادہ انگریزی الفاظ سے نہیں گھبراتے (جو میں خود بھی استعمال کرتا ہوں) تو بسم اللہ کیجیے، پسند آئے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسنین جمال- داڑھی والا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632235193,"sku":"KW-SAL-0437","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62d96404eb3231658414084_a66b8f6f-d393-45b2-83d4-9bcfd85a9ee0.jpg?v=1785108182"},{"product_id":"aankh-cheen","title":"Hairat bhari aankh mein cheen - حیرت بھری آنکھ میں چین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 320\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاگر میں کہہ دوں کہ مجھے سلمیٰ اعوان کی نثر سے عشق ہے تو یقین جانیے اس میں رتی برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ میں برسوں سے انھیں پڑھ رہا ہوں؛ تب سے جب مجھے ڈھنگ سے قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ جیسی جیتی جاگتی، الہڑ مٹیار کی سی چنچل نثر وہ لکھتی ہیں، کوئی ہے جو ویسی لکھ پائے؟ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپورتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے اُنگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی چِین کے اس سفرنامے میں ہو رہا ہے۔ چِین جو میں نے دیکھ رکھا ہے؛ مگر جس رُخ سے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے میں نے نہیں دیکھا۔ میں ایک بچے کی طرح اُن کی انگلی تھامے حیرت سے چِین کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا؛ اس چِین کو جس کے سامنے کے مناظر میں تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی جھانک رہا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کہیں ستر اور اسّی کی دہائیوں والی اس چینی قوم کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو سائیکلوں پر سوار تھی اور پھر پیڈل مارنے والے زمانے کے لد جانے کے ذکر کے بعد وہ چِین دکھاتی ہیں جس میں عوام شاندار ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں، بسوں اور میٹرو میں سفر کرتے ہیں اور مخصوص یونیفارم پہننے والی خوب رُو لڑکیاں برینڈڈ ملبوسات میں ہیں اور ٹکا کے میک اَپ کرتی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجالندھر کے گاؤں سمی پور میں قیامِ پاکستان سے چار سال قبل پیدا ہونے والی سلمیٰ اعوان ساری عمر ملکوں ملکوں گھومتی رہی ہیں اور دُنیا کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکا یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں۔ لہٰذا چِین کے اس سفرنامے میں یہاں وہاں کے اور ہر زمانے کے مناظر بہم ہو کر اسے کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ سفر نامہ اس لڑکی کی کہانی ہو گیا ہے جس نے ڈھاکا یونیورسٹی کے گرلز ہال میں چِین اور روس نواز طالبات کے مائو اور لینن سے یگانگت کے نعرے سنے تھے اور مائو کی ترجمہ شدہ طوفانی نظموں کو جوشیلی آوازوں میں جنونی لڑکیوں سے گاتے ہوئے سنا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمٰی اعوان چِین کی عظمت کے ایک ایک نشان کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ چلن بھی سُجھا دیتی ہیں جو کسی زندہ قوم کا ہو سکتا ہے ۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632464569,"sku":"KW-SAL-0438","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63b9264516f481673078341_8394acef-a397-4b02-b611-4a983848a456.jpg?v=1785107948"},{"product_id":"salma-awan","title":"Hairat bhari aankh mein cheen, Jo Dekha Jo Suna Jo Beeta (2 Books Set) - حیرت بھری آنکھ میں چین، جو دیکھا جو سنا جو بیتا (دو کتب)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 662\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342633349305,"sku":"KW-SAL-0439","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/642fc74c768e31680852812_df0311dd-780d-4ead-9f13-518055308653.jpg?v=1785107844"},{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester - ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Siddiqui\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 208\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342634528953,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 335\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635053241,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"hawai-rozi","title":"Hawai Rozi - ہوائی روزی","description":"\u003cp\u003e \u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Khawar Jamal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کی تحریر میں بلا کی روانی، دلچسپی، چاشنی اور شرارت ہے۔ ہم سب ہمیشہ سے جاننا چاہتے تھے کہ فضائی سفر کے دوران روبوٹ کی طرح نظر آنے والا فضائی عملہ آپس میں کس طرح پیش آتا ہو گا اور ان میں کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ خاور جمال نے کمال دلچسپی سے یہ احوال بیان کیا ہے۔ میں ہمیشہ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ سرزمینِ ملتان سے ہیں جس سے مجھے عشق ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سطر سطر پر حیرتوں، مسکراہٹوں اور انکشافات سے پالا پڑے گا۔ سو پلیز سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو جائیے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگل نوخیز اختر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے تو مجھے کتاب کا عنوان ’’ہوائی روزی‘‘ بے حد پسند آیا ہے۔ چوں کہ مصنف ایک فضائی میزبان ہیں تو اس مناسبت سے کتاب کا نام ذو معنی ہے بلکہ کسی نقاد کی طرح کہوں تو ایہام ہے۔ بقول یوسفی، جہاں کسی لفظ کا مشکل متبادل موجود ہے وہاں آسان لفظ کہیں نہیں لگاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ نئی کتاب دیکھ کر میں اس کا سرسری جائزہ لیتا ہوں، سونگھتا ہوں، خوشبو آئے تو کھول کر دیکھتا ہوں کہ اس میں جان ہے یا نہیں پھر ہی اسے پڑھنے کا تردد کرتا ہوں، ورنہ پرے رکھ دیتا ہوں۔ اس کتاب کی مہک نے پہلے صفحے سے ہی مجھے اپنی جانب کھینچ لیا، اس اجنبی دوشیزہ کی طرح جو پاس سے گزرتی ہے تو فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصرف کتاب کا نام ہی نہیں، اس کے ابواب کے عنوانات بھی بہت عمدہ اور تخلیقی ہیں۔ مصنف خاور جمال ایک فضائی میزبان ہیں اور اس کتاب میں انھوں نے فضائی میزبانی کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھی اس لیے یہ اپنی جگہ ایک قابلِ ذکر کام ہے۔ خاور جمال میں حسِ مزاح خوب ہے اور بعض جگہ انھوں نے صرف مزاح سے ہی کام نہیں لیا بلکہ قاری کو رُلا بھی دیا ہے، خاص طور سے وہ باب جس میں انھوں نے اپنے اُن دوستوں کا ذکر کیا ہے جو ایک فضائی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ واقعی بہت دُکھ بھرا باب ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ نوجوان اگر اسی طرح لکھتا رہا تو ایک دن پائلٹ بن جائے گا۔ اس مصنف میں لکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ موصوف سکہ بند لکھاری حسنین جمال کے بھائی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سب سے میٹھی گنڈیری آپ کو آخر میں پیش کی جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر پیرزادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘... لیکن ایک جغادری قسم کے گھاگ لکھاری کے دل سے نکلی ہوئی بات کبھی سیدھی کاغذ تک نہیں پہنچتی۔ پہلے اسے دماغ کی لیبارٹری سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں اس پر تراش خراش کے نشتر چلتے ہیں۔ پھر خود تنقید کے کیمیائی محلول میں ڈبو کر اس کی تمام آلائشیں صاف کی جاتی ہیں، خوب صورت بوتلوں میں بند کر کے ان پر دیدہ زیب لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں اور پراڈکٹ کو قارئین کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کے دل سے جو باتیں نکلی ہیں، انھیں وہ کسی طرح کے تکلفات کی راہ پر ڈالنے کی بجائے بلا کم و کاست اور براہ راست کاغذ پر لے آئے ہیں۔ اور یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔ ان کی باتیں کچے ناریل کا پانی ہیں۔ چینی اور فوڈ کلر کی ملاوٹ سے بے نیاز یہ مشروب آپ کے مشام جاں کو سیراب کرتا ہوا سیدھا آپ کی روح میں اتر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرنل محمد خان نے فوجی رنگروٹوں کی بظاہر خشک اور بے کیف زندگی سے جس دلچسپ انداز میں پردہ اٹھایا تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خاور جمال نے ہمیں بتایا ہے کہ ایئر سٹیورڈ کو محض مسافروں میں کھانا بانٹنے والا ایک کارکن مت سمجھیے۔ وہ بھی آپ کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہے اور سینے میں دھڑکتا ہوا ایک دل رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر ہم دوسرے جنم پہ یقین رکھتے تو دعا کرتے کہ اگلی بار خاور جمال ایک ایئر ہوسٹس کے روپ میں نمودار ہو تاکہ اس کتاب کا ایک نسائی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف وقار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635348153,"sku":"KW-KHA-0443","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a35b052deda1721981701_0bb53bab-df88-498c-9c6d-a72034688a9a.jpg?v=1785106121"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e215\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636232889,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Nawab Sikandar Begum\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: Zaif Syed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 238\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636855481,"sku":"KW-NAW-0446","price":1125.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"musalmanon-ka-ilm-jughrafiya-aur-shoq-e-siyahat","title":"Musalmanon Ka ilm e Jughrafiya aur Shoq e Sayyahat مسلمانوں کا علمِ جغرافیہ اور شوقِ سیاحت","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e SUFI GHULAM MUSTAFA TABASSAM\u003c\/p\u003e","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342639968441,"sku":"KW-SUF-0454","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1404.jpg?v=1785005694"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shueyb Gandapur\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e152\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368616964281,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/travelogue.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}