{"title":"Urdu Books","description":"\u003cp\u003eUrdu zuban mein likhی gayi kitabein — novel, shayari, adab, aur bahut kuch.\u003c\/p\u003e","products":[{"product_id":"100-mashhoor-natain","title":"100 Mashhoor Natain - 100 مشہور نعتیں","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Syed Zeeshan Nizami\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 160\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48378451493049,"sku":"KW-SYE-0115","price":150.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/2.jpg?v=1784990738"},{"product_id":"sciency-daryaftain","title":"100 Azeem Sciency Daryaftain - 100 عظیم سائینسی دریافتیں","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Malik Muhammad Shahid Iqbal\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342577447097,"sku":"KW-MAL-0230","price":630.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5c4ef7be0bcc11548679102_f8dca416-ff84-4a7d-8ced-72b9a859c361.jpg?v=1785110177"},{"product_id":"tashqand-say-istanbul","title":"Tashqand Se Istanbul تاشقند سے استنبول","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Altaf Ahmad Aamir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 176\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ کتاب میرے اُس سفر کی داستان ہے جو میں نے قاسم علی شاہ کے ساتھ کیا ۔ تاریخ کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے ہی تاشقند، بخارا، سمر قند، قونیہ اور استنبول دیکھنے کا شوق رہا۔ کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی کی اور یہ تمام شہر صدیوں تک علم و ادب، سائنس، فلسفہ اور آرٹ کے مراکز رہے۔ ان شہروں نے ایسی ایسی عظیم شخصیات پیدا کیں جنہوں نے اپنے علم و فضل، دانش و تصوف اور فلسفہ و فن سے دُنیا بھر کو متاثر کیا۔ یہیں سے علوم دینیہ کی بڑی بڑی ہستیاں خدمتِ اسلام کے لیےاُٹھیں جن کے افکار سے آج بھی قلوب و اذہان میں روشنی ہوتی ہے۔ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ اس سفر میں مجھے قاسم علی شاہ کے ساتھ میزبانِ رسول حضرت ابوایوب انصاری، حضرت قثم بن عباس، حضرت امام بخاری، حضرت بہاؤالدین نقشبندی، حضرت اسماعیل سامانی اور مولانا جلال الدین رُومی کے مزارات اقدس کی زیارت نصیب ہوئی۔ علاوہ ازیں امیر تیمور کا مقبرہ، سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد، توپ قاپی محل، دُنیا کا سب سے قدیم گرجاگھر آیا صوفیہ ، پرنسس آئی لینڈ اور قدیم شہر سیلے دیکھنے کا موقع ملا۔ لہٰذا میں نے اس کتاب میں ان شہروں کی سیاحت کے دوران میں اپنے مشاہدات اور محترم قاسم علی شاہ کی گفتار سے جو کچھ سیکھا اور وہ مقامات جہاں ہمیں جانے کا موقع ملا، ان کی تاریخ کو مختصراً تحریر کیا ہے۔ امید ہے میری یہ چھوٹی سی کاوش آپ کے لیے معلومات کا خزینہ ثابت ہو گی۔ (الطاف احمد عامر)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48378499203257,"sku":"KW-ALT-0433","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a65b3ed5dad41785050093.jpg?v=1785175344"},{"product_id":"diyar-e-shams","title":"Diyar e Shams (Turkey Nama) دیارِ شمس (ترکی نامہ)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Dr. Zahid Munir Amir\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 216\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر زاہد منیرعامر صاحب کی ترکی سے دلچسپی جو بچپن میں ٹکٹ جمع کرنے کے شغف کے مرحلے سے شروع ہوئی تھی عمر گزرتے گزرتے مطالعات میں اضافے کے ساتھ ایک باشعور محبت میں منتقل ہوگئی اور یہ محبت انھیں ترکی بھی کھینچ لائی ۔یعنی ڈاکٹر صاحب کا علم الیقین ترکی تشریف آوری کے بعد عین الیقین کے مرحلے تک پہنچ گیا اور جس طرح سے ان کی اس تصنیف سے علم ہوتا ہے ترکی کی زیارت نے ان کی ترکی سے محبت اور تُرک دوستی میں مثبت اضافہ کیا ہے۔اِس امر کے ڈاکٹر صاحب خود بھی معترف ہیں کہ وہ لکھتے ہیں:’’یورپ کا پہلا سفر 2011ء میں کیا گیا تھا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی ، سوئٹزرلینڈ اور سپین کے اس سفر کی روداد ہنوز نامکمل ہے۔ دوسرا سفر یورپ یونان، اٹلی اور نیدرلینڈز کا تھا، اس کی روداد سفر بھی ہنوز قلمبند نہیں ہوئی ہے لیکن ترکی ایسا زور آور نکلا کہ تمام اسفار کو پیچھے چھوڑکر سب سے پہلے اپنا سفرنامہ لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ یعنی ترکی نے زورِبازو سے نہیں بلکہ زورِ محبت سے یورپ کے معروف و مشہور ملکوں کو پیچھے دھکیل کر اپنا سفرنامہ قلمبند کرایا اور بہت ہی خوب کیا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا یہ سفرنامہ اردو زبان میں لکھے گئے سفرناموں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے…ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کاوش میں قارئین کرام کو ترکی کے دو بڑے اور اہم شہروں استنبول اور قونیہ سے بخوبی متعارف کروایا ہے جس کا علم کتاب کی فہرست پر نظر دوڑاتے ہی ہوجاتا ہے…ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کامیں پھر سے اپنے شہر ’’استنبول‘‘ سے پر کشش انداز میں نئے سرے سے متعارف کرانے کی وجہ سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ستارۂ امتیاز)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاستنبول یونیورسٹی، شعبۂ اردو، استنبول،ترکی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیوں تو ادب کی تمام اصناف ہی قاری کو جہانِ دیگر میں لے جاتی ہیں لیکن سفرنامہ ایک ایسی صنف ہے جو اپنے پڑھنے والے کو کسی افسانوی دنیا کی نہیں بلکہ حقیقی مناظر کی سیر کرواتا ہے۔ ایک اچھے سفرنامے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ مصنف (سیاح) نت نئی زمینوں کے دَر کچھ اس طرح کھولے کہ قارئین اس کے ساتھ اس سفر میں شریک ہو جائیں۔ ایک ایسا ہی سفرنامہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جس میں مصنف نے ترکی کی سیاحت کے دوران اپنے تجربات اور احساسات کو بخوبی قلم بند کیا ہے۔ میری مراد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سیاحت نامے ’’دیارِ شمس‘‘ سے ہے۔ ترکی کے دو صوفیانہ شہروں میں گھومتے ہوئے زاہد منیر عامر نے انتہائی باریک بینی اور اشتیاق سے ترک ثقافت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کو رقم کرتے ہوئے جو جذبہ شدت سے کار فرما نظر آتا ہے وہ ترکی سے محبت ہے۔ محبت کے بغیر یہ کام ہو بھی نہیں سکتا۔ سفرنامے کا انتساب ڈاکٹر صاحب نے ہمارے عظیم ترک رہنما کمال اتاترک کے نام کیا ہے جو پاک ترک دوستی کا خوب صورت استعارہ ہے۔آپ کا بہت شکریہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر …بہت شکریہ!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپروفیسر ڈاکٹرآسمان بیلن اوزجان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصدرشعبہ اردو،انقرہ یونیورسٹی، ترکی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342630367417,"sku":"KW-DR.-0434","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5d7660e7dfb341568039143_f02f9b8f-ecd7-426c-a04f-7f2bdf95018c.jpg?v=1785174543"},{"product_id":"mera-pakistani-safarnama","title":"Mera Pakistani Safarnama - میرا پاکستانی سفر نامہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Balraj Sahni\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yasir Jawad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 168\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eہندوستانی فلم اور سٹیج اداکار بلراج ساہنی (یکم مئی 1913ء -13 اپریل 1973ء) کا خاندان 1947ء میں بھیرہ سے ہجرت کر کے بھارت چلا گیا۔ ان کے بھائی بھیشم ساہنی بھی ہندی کے مشہور مصنف، ڈرامانگار اور اداکار تھے۔ بلراج ساہنی راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ انگلش ادب میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ واپس راولپنڈی چلے گئے اور اپنے خاندان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگے۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں وہ انگلش اور ہندی کے اُستاد کی حیثیت سے رابندر ناتھ ٹیگور کی وِشو بھارتی یونیورسٹی (بنگال) چلے گئے۔ بلراج نے پدمنی، نوتن، مینا کماری، وجینتی مالا اور نرگس کے ساتھ بندیا، سیما، سونے کی چڑیا، سٹہ بازار، بھابی کی چُوڑیاں، کٹھ پتلی، لاجونتی اور گھر سنسار جیسی فلموں میں کام کیا۔ نِیل کمل، گھر گھر کی کہانی، دو راستے اور ایک پھول دو مالی میں اُن کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ پنجابی کلاسک فلم ’’نانک دُکھیا سب سنسار‘‘ کے علاوہ ’’ستلج دے کنڈھے‘‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ بلراج ساہنی نے بطور لکھاری بھی اپنے جوہر دکھائے۔ اُنھوں نے ہندی، انگلش اور پنجابی میں لکھا۔ 1962ء میں اپنے آبائی وطن (مغربی پنجاب) کا دورہ کرنے کے بعد یہ کتاب ’’میرا پاکستانی سفرنامہ‘‘ لکھی۔ یہ تقسیمِ ہند کی وجہ سے بے وطن ہونے والوں کے دُکھ بھرپور طریقے سے بیان کرتی ہے۔ وہ لاہور، جھنگ، سرگودھا، بھیرہ اور راولپنڈی میں تجربات اور ملاقاتوں کا حال بہت خوب صورت انداز میں بتاتے ہیں۔ اُن کے خالص پنجابی انداز کو ترجمے میں ہر ممکن حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے روس کا سفرنامہ بھی لکھا جسے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ اُن کی نظمیں اور افسانے ادبی جرائد میں چھپتے رہے۔ ان کی خودنوشت ’’میری فلمی آتم کتھا‘‘ یعنی فلمی آپ بیتی کو بہت سراہا گیا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔ اُنھوں نے پی کے وسُودیون نائر کے ساتھ مل کر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن بنائی۔ وہ بعد میں اِس تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں دہلی میں غریبوں کے لیے لائبریری اور مطالعہ گاہ بنائی۔ آخری فلم ’’گرم ہوا‘‘ کی ڈبنگ مکمل ہوتے ہی اُن کی وفات ہو گئی۔ وہ اپنی بیٹی شبنم کی بے وقت موت کی وجہ سے شدید غم زدہ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631252153,"sku":"KW-BAL-0435","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5f8952695ea241602835049_fdd3c8ae-39b1-4a3a-95f3-2e47b232f871.jpg?v=1785108831"},{"product_id":"zard-patton-ki-bahar","title":"Zard Patton Ki Bahar - زرد پتوں کی بہار","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ram Lal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eاصنافِ ادب میں خود نوشت، سوانح عمری، سفر نامہ اور خطوط اس لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہر خاص و عام کا دامنِ دل کھینچ لیتے ہیں اور ان کے مطالعے سے قارئین کے ذوقِ تجسّس کو یک گونہ تسکین ملتی ہے۔ ہر چند یہ تینوں صنفیںاپنے عناصرِ ترکیبی کے لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی عنصر قدر مشترک کا درجہ ضرور رکھتا ہے اور اسی قدر مشترک کی بنیاد پر کبھی کبھی یہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیوں کا رُوپ اختیار کر لیتی ہیں۔ دراصل قاری کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بےحجابانہ فن کار کے دل و دماغ میں اُتر جائے اور اس خواہش کی تکمیل میں یہ اصناف بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ \u003cbr\u003eیہ اور بات ہے کہ کوئی فن کار ان اصناف کی وجہ سے ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر لے لیکن یہ بہرحال ہیں ثانوی اصناف۔ میرؔ، غالبؔ، شبلیؔ، مہدی افادی، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، رشید احمد صدیقی، جوشؔ اور احسانؔ دانش وغیرہ بنیادی طور پر شاعر ہیں یا ادیب و نقّاد لیکن ان میں سے ہر ایک نے اِن ثانوی اصناف میں سے کسی نہ کسی کو اس طرح اپنایا کہ اب اس کا شمار ان کے امتیازات میں ہوتا ہے۔ اگر اسے ایک کلیہ مان لیا جائے تو اس کا اطلاق رام لعل کے سفر نامہ ’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ پر زیادہ بہتر طور پر ہوتا ہے۔ رام لعل بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار بھی اتنے قد آور کہ انھوں نے اس صنف کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور افسانہ نگاروں کی اس نئی نسل کو حقیقت پسندی اور حقیقت نگاری سے قریب تر کر دیا جو منزل کی تلاش میں بھٹک رہی تھی اور جسے ’’برگ حشیش‘‘ کو ’’شاخ نبات‘‘ بتانے والے حضرات بہکا رہے تھے۔\u003cbr\u003eکوئی دو سال پہلے رام لعل نے ہندوستان سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔’’زرد پتوں کی بہار‘‘ اسی سفر کی یاد گار ہے۔ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں لیکن رام لعل کے اس سفر کو اس طرح کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ تو اُن کا وطن سے وطن کو سفر تھا۔ میانوالی (پاکستان) اُن کی جنم بھومی ہے لیکن اُنھوں نے تاریخ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا۔ جنم بھومی کی یاد کسے نہیں آتی، رام لعل بھی اس یاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور یادوں کے سائے میں اُنھوں نے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھ لیا تھا اور جب اُن کی عمر تجربہ کرتے رہنے کے حصار سے نکل کر تجربات کو عبرت و بشارت کا درجہ عطا کرنے کے قلم رو میں داخل ہوئی تو جس انسانی فطرت کو اُنھوں نے اپنے سینے میں لوریاں دے دے کر سُلائے رکھا تھا، وہ بیدار ہو گئی اور اُس نے رام لعل کو ان کی جنم بھومی میں پہنچا کے دم لیا۔ \u003cbr\u003e’’زرد پتّوں کی بہار‘‘ رام لعل کا نہیں بلکہ انسانی فطرت اور جبلّت کا سفر نامہ ہے، یہ ایک فرد کا نہیں، نسل سے نسل کا سفر نامہ ہے۔ رام لعل کے اس سفر نامے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا دل دھڑک رہا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہی ادبی تخلیق لازوال بھی ہوتی ہے اور آفاقی بھی،جس میں انسانیت اپنے اصل خط و خال کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمحمود الٰہی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342631514297,"sku":"KW-RAM-0436","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/608b949c0ccba1619760284_0bce1f1c-cba6-49da-ae83-55c2b9052d86.jpg?v=1785108419"},{"product_id":"uncle-sam","title":"Uncle Sam Kay Des Se - انکل سام کے دیس میں","description":"\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salman Khalid\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 184\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو کبھی لائل پور کہلاتا تھا۔ ان کے اطوار میں لائل پور کی تہذیب، روایت اور شگفتگی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی سوچ، فکر اور تحریر میں ایک قدیمی دانش کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان اہلِ نظر میں سے ہیں جو نئی بستیاں ڈھونڈتے ہیں؛ نئے اُفق کی تلاش، نئے زمانوں کی کھوج۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ اپنی طرز کا ایک انوکھا سفرنامہ ہے جو کمال دلآویزی سے امریکی ریاستوں، درودیوار اور مکینوں سے روشناس کراتا ہے اور سطور اور بین السطور میں کچھ کہتے، کچھ نہ کہتے، بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ دردمندی، گداز اور اخلاص، اس تحریر کا اصل خاصہ ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد نے خاص مہربانی یہ کی کہ وہ اخوت کے دوستوں میں شامل ہو گئے اور اس کتاب کی آمدنی انھوں نے اخوت یونیورسٹی کے لیے عطیہ کر دی جس پر انھیں ہدیۂ تبریک پیش کیا جانا چاہیے۔ اخوت، الحمدللّٰہ، قرضِ حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اخوت یونیورسٹی بھی علم کا ایک بڑا مرکز بنے گی( ان شاءاللّٰہ) اور اس کا ایک حصہ سلمان خالد کے نام اور اخوت کے ان دوستوں کے نام مختص ہو گا جو پاکستان سے باہر ہیں لیکن پاکستان ان کے دل میں بستا ہے۔ اخوت کی تسبیح میں پروئے ہوئے یہ اَن گنت موتی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہی کی چمک سے غربت، افلاس اور جہالت کے اندھیرے دُور ہوں گے۔ ’’انکل سام کے دیس سے‘‘ ایک پاکستانی کی کہانی ہے۔ مقام اور موقع محل بدل جاتے ہیں، محبّت قائم رہتی ہے۔ اس کتاب سے بھی وہی مہک پُھوٹتی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر امجد ثاقب)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد ایک علم دوست، صاحبِ دل اور صاحبِ مطالعہ شخص ہیں۔ صاحبِ قلم ادب کا شناور ہو تو اس کا اندازِ تحریر بہت متنوع اور جاندار ہوتا ہے۔ سلمان خالد بہت انوکھے انداز میں اپنے قارئین کو امریکہ کی مختلف ریاستوں، مختلف شہروں کی سیر پوری معلومات کے ساتھ کراتے ہیں۔ ان کا ہشاش بشاش طرزِ تحریر کسی گرانی کے بغیر ہزاروں میل کا سفر طے کرا دیتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد بہت روانی کے ساتھ امریکی طرزِ معاشرت اور امریکیوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات سے آگاہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے مزاج، سیاسی رجحانات، سماجی تعلقات اور وہاں کا کلچر اس طرح بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے ہم خود یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ایک ٹورسٹ کے انداز سے نہیں، ایک بھیدی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور یہی آنکھ قاری کی بھی وا ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمان خالد کا یہ سفرنامہ ایک اچھے فیملی مین اور شریف انسان کے ان دس دنوں کی کہانی ہے جو ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں بھی اسی طرح آئیں لیکن اپنی عادتوں کی وجہ سے ہم اپنے ایسے دنوں میں بھی وہ رنگ نہیں بھر سکتے جو سلمان خالد نے پینٹ کیے۔ ہر قدم پہ خدا کا شکر ادا کرتا، کھانے انجوائے کرتا، بیگم بچوں کو سیر کراتا سلمان خالد وہ دیسی ہے جو امریکہ جا کر نہیں بدلا، کم از کم اس کتاب سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ دو تین گھنٹے میں کتاب مُک جاتی ہے لیکن خیال آتا ہے کہ سفر جاری رہنا چاہیے تھا۔ کوئی ایک آدھی گوری اپنی حدیں پار کرتی، کوئی پب ہوتا، کوئی ان پہ ڈُل جاتا .... ایک دو جگہ ویسے یہ سانحہ بھی پیش آیا لیکن خود سے تیس سال بڑی خواتین نے ہی نظرِ شفقت کی، خدا جانے کیا وجہ ہوئی۔ اگر آپ سفرناموں میں اچھا کھانا انجوائے کرتے ہیں، رواں نثر پڑھنا چاہتے ہیں اور قدم قدم پہ بہت زیادہ انگریزی الفاظ سے نہیں گھبراتے (جو میں خود بھی استعمال کرتا ہوں) تو بسم اللہ کیجیے، پسند آئے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسنین جمال- داڑھی والا)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632235193,"sku":"KW-SAL-0437","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/62d96404eb3231658414084_a66b8f6f-d393-45b2-83d4-9bcfd85a9ee0.jpg?v=1785108182"},{"product_id":"aankh-cheen","title":"Hairat bhari aankh mein cheen - حیرت بھری آنکھ میں چین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 320\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاگر میں کہہ دوں کہ مجھے سلمیٰ اعوان کی نثر سے عشق ہے تو یقین جانیے اس میں رتی برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ میں برسوں سے انھیں پڑھ رہا ہوں؛ تب سے جب مجھے ڈھنگ سے قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ جیسی جیتی جاگتی، الہڑ مٹیار کی سی چنچل نثر وہ لکھتی ہیں، کوئی ہے جو ویسی لکھ پائے؟ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپورتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے اُنگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی چِین کے اس سفرنامے میں ہو رہا ہے۔ چِین جو میں نے دیکھ رکھا ہے؛ مگر جس رُخ سے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے میں نے نہیں دیکھا۔ میں ایک بچے کی طرح اُن کی انگلی تھامے حیرت سے چِین کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا؛ اس چِین کو جس کے سامنے کے مناظر میں تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی جھانک رہا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کہیں ستر اور اسّی کی دہائیوں والی اس چینی قوم کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو سائیکلوں پر سوار تھی اور پھر پیڈل مارنے والے زمانے کے لد جانے کے ذکر کے بعد وہ چِین دکھاتی ہیں جس میں عوام شاندار ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں، بسوں اور میٹرو میں سفر کرتے ہیں اور مخصوص یونیفارم پہننے والی خوب رُو لڑکیاں برینڈڈ ملبوسات میں ہیں اور ٹکا کے میک اَپ کرتی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجالندھر کے گاؤں سمی پور میں قیامِ پاکستان سے چار سال قبل پیدا ہونے والی سلمیٰ اعوان ساری عمر ملکوں ملکوں گھومتی رہی ہیں اور دُنیا کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکا یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں۔ لہٰذا چِین کے اس سفرنامے میں یہاں وہاں کے اور ہر زمانے کے مناظر بہم ہو کر اسے کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ سفر نامہ اس لڑکی کی کہانی ہو گیا ہے جس نے ڈھاکا یونیورسٹی کے گرلز ہال میں چِین اور روس نواز طالبات کے مائو اور لینن سے یگانگت کے نعرے سنے تھے اور مائو کی ترجمہ شدہ طوفانی نظموں کو جوشیلی آوازوں میں جنونی لڑکیوں سے گاتے ہوئے سنا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمٰی اعوان چِین کی عظمت کے ایک ایک نشان کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ چلن بھی سُجھا دیتی ہیں جو کسی زندہ قوم کا ہو سکتا ہے ۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحمد حمید شاہد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342632464569,"sku":"KW-SAL-0438","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63b9264516f481673078341_8394acef-a397-4b02-b611-4a983848a456.jpg?v=1785107948"},{"product_id":"salma-awan","title":"Hairat bhari aankh mein cheen, Jo Dekha Jo Suna Jo Beeta (2 Books Set) - حیرت بھری آنکھ میں چین، جو دیکھا جو سنا جو بیتا (دو کتب)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 662\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342633349305,"sku":"KW-SAL-0439","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/642fc74c768e31680852812_df0311dd-780d-4ead-9f13-518055308653.jpg?v=1785107844"},{"product_id":"tdm","title":"Toronto, Dubai aur Manchester - ٹورنٹو، دوبئی اور مانچسٹر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Siddiqui\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 208\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجُز رسی، نکتہ آفرینی، مشاہدے کا فطری تجسّس۔ مطالعے، خصوصاً تاریخ و تہذیب سے غیرمعمولی شغف، پھر شگفتہ و شیریں طرزِنگارش پہ دَست رَس۔ اب دیکھیے، داستانوں کی داستاں، یوں تو زیرِ نظر کتاب ایک سفر نامہ ہے لیکن لطفِ بیاں نے اسے کیسا دل کَش و دل آرا، علم انگیز، خیال پرور، تخلیقی قسم کی دستاویز بنا دیا ہے۔ لگتا ہے، قاری بھی تین برّ ِاعظموں کے عروس البلاد شہروں ٹورنٹو، دُبئی اور مانچسٹر کی درس گاہوں، عجائب گھروں، ریستورانوں، گلیوں اور بازاروں کے نو بہ نو مناظر میں شاہد صدیقی کا شریکِ سفر ہے اور چَونک چَونک جاتا ہے کہ دُور دراز، بعید از قیاس گوشوں پر مصنّف کی نظر رسائی کیسی حیرت انگیز ہے۔ سادگی، روانی، برجستگی تحریری خوبیاں ہیں تو بہ قدرِ مطالب و مفہوم حدود کا تعیّن بھی۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ ہنر خوب آتا ہے کہ انھیں کہاں قلم روک دینا ہے۔ باقی قاری پر ہے کہ اس تحریرِ دل پَذیر کے پس منظر میں وہ اپنے فکر و تخیل سے کہاں تک اخذ و استنباط کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشکیل عادل زادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہد صدیقی نے تعلیم، لسانیات اور صنفی مطالعات میں اپنا نقش قائم کرنے کے بعد تخلیقی نثرمیں اپنے دست خط ثبت کیے ہیں۔ جب انھوں نے جگہوں، گزرے دنوں اور شخصیات پر لکھنا شروع کیا تو یوں لگا ایک رُکا ہوا دریا تھا جو جادوئی روانی سے بہنے لگا ہے۔ شاہد صاحب کی تحریریں اس لحاظ سے منفرد اورممتاز ہیں کہ ان میں اصناف کی روایتی حدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں۔ تندی صہبا سے گویا آبگینہ پگھل جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اصناف کی حدوں کی شکست شعوری سبب سے نہیں، لاشعوری تخلیقی وجہ سے ہے۔ اس کتاب کو بھی کسی ایک صنف: سفرنامہ، یاد نگاری، آپ بیتی، خاکہ نگاری میں قید نہیں کیا جاسکتا، مگر ان سب اصناف کو ان تحریروں سے منہا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب مل کر ایک نئی مگر سحر انگیز ہیئت کو وجود میں لاتی ہیں۔ یہ کتاب ان شہروں کی کہانی ہے جہاں وہ رہے بسے تھے اور جہاں وہ اپنی رُوح کے کچھ حصے چھوڑ آئے تھے۔ رُوح کے چھوڑے حصوں کی بازیافت جس نشاط انگیز انداز میں کی جانی چاہیے، وہ قاری کو اس کتاب میں جا بجا، وافر ملتا ہے۔ ایک دل رُبا اسلوب میں، ایک ہلکے سے ملال اور نشاط کے ملے جلے عجب احساس کے ساتھ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ شاہد صدیقی کا سفر نامہ ہے جو داستان گوئی کا ہنر و فن بھی جانتا ہے اور اپنے دور کے حقائق پر گہری نظر و مطالعہ بھی رکھتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا ہنرمند لکھاری ہو تو وہ سفرنامے کی تفصیل کو زندگی کے سفرنامے میں ڈھال دیتا ہے۔ پھر ایک عدد زندگی تنہا فرد کی زندگی نہیں ہوتی، کئی اور زندگیاں بھی اس کے ساتھ سفر میں ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں کو اپنی زندگی کے ساتھ ہم سفر بنا کر ہم آہنگ کرنا ہی دراصل سفرنامہ لکھنے کا ہنر ہے۔ شاہد صدیقی نے ایک داستان گو کے انداز میں اپنا سفر یوں بیان کیا ہے کہ دیکھا بھالا منظر بھی ایک نئے رُخ سے نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔ Van Gogh کی اصل پینٹنگز کی گیلری گھومتے ہوئے میں ذرا بھی جذباتی نہیں ہوئی، مگر شاہد صدیقی نے جس طرح Van Gogh کا باب لکھا ہے، میں ان پینٹنگز کو تصوّر کی آنکھ سے دوبارہ دیکھتے ہوئے جذباتی ہوگئی اور کچھ دیر اسی باب پر ٹھہری رہی۔ یہ ہوتی ہے سفرنامے کی گرفت!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنورالہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342634528953,"sku":"KW-SHA-0441","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/65c887e89a1df1707640808_558a1111-d59d-4d05-a433-60c81e1d090c.jpg?v=1785106895"},{"product_id":"roos","title":"Roos Aik Jaadui Sar Zameen - روس ایک جادوئی سرزمین","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 335\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسفرنامے کا بڑا ہی متاثر کن پہلو وہ ہے جب مصنفہ اُس گھر میں جاتی ہے جہاں فیودور دستوئیفسکی اور اس کی بیوی اینا رہتے تھے۔ اِس ملاقات کو اُس نے جس انداز میں لکھا ہے وہ مصنفہ کی ناول نگار سے بے پایاں محبت کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا اور متاثر ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانتظار حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کا منظر، لینن کے مجسمے کو گرانے کا احوال، سلجھے ہوئے لوگوں کی ایک دوسرے سے دشمنی اور دوستی کے قصے، کسی تاریخ دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالغ نظر دانشور کی حیثیت سے دیکھے اور لکھے۔ میں نے آج سے 40 برس پہلے سوویت یونین کو دیکھا تھا۔ مگر انقلاب کے بعد کا روس مجھے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکشور ناہید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ تاریخ، ادب، مصوری اور گزرے ہوئے زمانوں کو اپنی تحریر کے آئینے میں دکھاتی چلی جاتی ہیں اور ہم ان کے دلکش طرزِ بیان کے رَس اور رنگینی میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ وہ روس کے اُس دَور کا ذکر بہت پُرلطف انداز میں کرتی ہیں جب سلطنت روس مشرف بہ اسلام ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کا ذکر انھوں نے اس دلداری سے کیا ہےکہ پڑھتے ہوئے لطف آتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزاہدہ حنا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسلمیٰ اعوان کے فکشن کو دیکھیں، ان کے سفرناموں کو دیکھیں۔ یہ محض سفرنامہ نگار نہیں ہیں۔ وہ بہت فوکسڈ اور ایک واضح سمت میں سوچ سمجھ کر لکھنے والی ہیں۔ میں نے ان کے جتنے بھی سفرنامے، خواہ وہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، روس، سپین یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے ہوں، سب کے اندر ایک فوکسڈ نقطۂ نظر کو موجود پایا۔ وہ سیاسی طور پر ایک بہت باشعور اور واضح نقطۂ نظر رکھنے والی ادیبہ ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاصغر ندیم سیّد\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635053241,"sku":"KW-SAL-0442","price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66953adfa81f61721055967_9d10d9a7-6085-470d-a2fa-bbab6608a359.jpg?v=1785106548"},{"product_id":"hawai-rozi","title":"Hawai Rozi - ہوائی روزی","description":"\u003cp\u003e \u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Khawar Jamal\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کی تحریر میں بلا کی روانی، دلچسپی، چاشنی اور شرارت ہے۔ ہم سب ہمیشہ سے جاننا چاہتے تھے کہ فضائی سفر کے دوران روبوٹ کی طرح نظر آنے والا فضائی عملہ آپس میں کس طرح پیش آتا ہو گا اور ان میں کیا باتیں ہوتی ہوں گی؟ خاور جمال نے کمال دلچسپی سے یہ احوال بیان کیا ہے۔ میں ہمیشہ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں۔ یہ سرزمینِ ملتان سے ہیں جس سے مجھے عشق ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سطر سطر پر حیرتوں، مسکراہٹوں اور انکشافات سے پالا پڑے گا۔ سو پلیز سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو جائیے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eگل نوخیز اختر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسب سے پہلے تو مجھے کتاب کا عنوان ’’ہوائی روزی‘‘ بے حد پسند آیا ہے۔ چوں کہ مصنف ایک فضائی میزبان ہیں تو اس مناسبت سے کتاب کا نام ذو معنی ہے بلکہ کسی نقاد کی طرح کہوں تو ایہام ہے۔ بقول یوسفی، جہاں کسی لفظ کا مشکل متبادل موجود ہے وہاں آسان لفظ کہیں نہیں لگاتے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ نئی کتاب دیکھ کر میں اس کا سرسری جائزہ لیتا ہوں، سونگھتا ہوں، خوشبو آئے تو کھول کر دیکھتا ہوں کہ اس میں جان ہے یا نہیں پھر ہی اسے پڑھنے کا تردد کرتا ہوں، ورنہ پرے رکھ دیتا ہوں۔ اس کتاب کی مہک نے پہلے صفحے سے ہی مجھے اپنی جانب کھینچ لیا، اس اجنبی دوشیزہ کی طرح جو پاس سے گزرتی ہے تو فضا اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصرف کتاب کا نام ہی نہیں، اس کے ابواب کے عنوانات بھی بہت عمدہ اور تخلیقی ہیں۔ مصنف خاور جمال ایک فضائی میزبان ہیں اور اس کتاب میں انھوں نے فضائی میزبانی کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں پڑھی اس لیے یہ اپنی جگہ ایک قابلِ ذکر کام ہے۔ خاور جمال میں حسِ مزاح خوب ہے اور بعض جگہ انھوں نے صرف مزاح سے ہی کام نہیں لیا بلکہ قاری کو رُلا بھی دیا ہے، خاص طور سے وہ باب جس میں انھوں نے اپنے اُن دوستوں کا ذکر کیا ہے جو ایک فضائی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ واقعی بہت دُکھ بھرا باب ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ نوجوان اگر اسی طرح لکھتا رہا تو ایک دن پائلٹ بن جائے گا۔ اس مصنف میں لکھنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ موصوف سکہ بند لکھاری حسنین جمال کے بھائی ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ سب سے میٹھی گنڈیری آپ کو آخر میں پیش کی جائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر پیرزادہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘... لیکن ایک جغادری قسم کے گھاگ لکھاری کے دل سے نکلی ہوئی بات کبھی سیدھی کاغذ تک نہیں پہنچتی۔ پہلے اسے دماغ کی لیبارٹری سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں اس پر تراش خراش کے نشتر چلتے ہیں۔ پھر خود تنقید کے کیمیائی محلول میں ڈبو کر اس کی تمام آلائشیں صاف کی جاتی ہیں، خوب صورت بوتلوں میں بند کر کے ان پر دیدہ زیب لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں اور پراڈکٹ کو قارئین کی منڈی میں بھیج دیا جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخاور جمال کے دل سے جو باتیں نکلی ہیں، انھیں وہ کسی طرح کے تکلفات کی راہ پر ڈالنے کی بجائے بلا کم و کاست اور براہ راست کاغذ پر لے آئے ہیں۔ اور یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔ ان کی باتیں کچے ناریل کا پانی ہیں۔ چینی اور فوڈ کلر کی ملاوٹ سے بے نیاز یہ مشروب آپ کے مشام جاں کو سیراب کرتا ہوا سیدھا آپ کی روح میں اتر جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرنل محمد خان نے فوجی رنگروٹوں کی بظاہر خشک اور بے کیف زندگی سے جس دلچسپ انداز میں پردہ اٹھایا تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خاور جمال نے ہمیں بتایا ہے کہ ایئر سٹیورڈ کو محض مسافروں میں کھانا بانٹنے والا ایک کارکن مت سمجھیے۔ وہ بھی آپ کی طرح گوشت پوست کا ایک انسان ہے اور سینے میں دھڑکتا ہوا ایک دل رکھتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر ہم دوسرے جنم پہ یقین رکھتے تو دعا کرتے کہ اگلی بار خاور جمال ایک ایئر ہوسٹس کے روپ میں نمودار ہو تاکہ اس کتاب کا ایک نسائی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آ سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعارف وقار\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635348153,"sku":"KW-KHA-0443","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66a35b052deda1721981701_0bb53bab-df88-498c-9c6d-a72034688a9a.jpg?v=1785106121"},{"product_id":"battuta","title":"Safarnama Ibn e Battuta سفر نامہ ابنِ بطوطہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Ibn e Battuta\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Raees Ahmad Jafri\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 760\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eیہ سفر نامہ، ابن بطوطہ نے اپنی مادری زبان یعنی عربی میں تحریر کیا۔ اس کی عربی، صحیح معنوں میں ’’عربی مبین‘‘ جیسی ہے۔ اتنی رواں، اتنی سادہ، اتنی شگفتہ کہ بس... ’’وہ کہے اور سنا کرے کوئی‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدورانِ سفر وہ یادداشتیں مرتب کرتا رہا، 25 سال کے بعد وطن پہنچا اور پھر گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر ان یادداشتوں کی مدد سے سفر نامہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ کہیں کہیں بھول چوک یا غلط فہمی یا التباس تقاضائے بشری ہے لیکن اس کے حافظے کی داد دینی چاہیے کہ اس نے جو کچھ لکھا، بڑی کوتاہیوں سے پاک ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوہ بادشاہوں سے بھی ملا اور وزیروں سے بھی، ابنِ خلیفۃ المسلمین سے بھی اور امرائے عرب و عجم سے بھی، اہلِ علم سے بھی اور اصحابِ سیف سے بھی، سب کے بارے میں اُس نے اظہارِ رائے کیا، بڑے بے لاگ انداز میں... جو دِل میں وہ زبان پر!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاور خود اپنے کو بھی نہیں چھوڑا ہے... حد یہ ہے کہ حیاتِ عیش و نشاط کی داستانِ شبینہ بیان کرنے میں بھی اس نے کوئی تکلّف نہیں کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان ایسی نہیں جس میں اس کتاب کا ترجمہ نہ ہوا ہو... مشرق اور ایشیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس منچلے سیّاح کے قدم نہ پہنچے ہوں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسر زمینِ مغرب کے بعض مقامات کی بھی ابن بطوطہ نے سیاحت کی... اور پھر اپنے تاثرات و مشاہداتِ سفر، پوری سچائی، بے باکی اور جراَت کے ساتھ قلم بند کر دیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342635872441,"sku":"KW-IBN-0444","price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66e80898eb4ef1726482584_7eabc06d-d6c3-46b3-bcb1-8c493be7ba5b.jpg?v=1785012028"},{"product_id":"italy","title":"Italy he dekhne ki cheez اٹلی ہے دیکھنے کی چیز","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Salma Awan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e215\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eکچھ سفر شوق کے تھے۔ دعاؤں کے عوض ملے تھے۔ سالوں اُن کے عشق میں ڈوبی رہی۔ انھیں دیکھا بھی محبتوں سے اور اُن پر لکھا بھی چاہتوں سے۔ اُن کا خمار ایسا تھا کہ ’’میں نے دنیا بھلا دی تھی تیری چاہت میں‘‘ جیسی صورت کے حقیقی ترجمان تھے۔ کچھ دانہ پانی کا طفیل تھے۔ کچھ کے معاملے میں نیت بڑی کھوٹی تھی۔ اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانہ پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموںنے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔ یوں جگہیں تو چھوٹی موٹی اور بھی دیکھیں اور اطمینان و سکون سے دیکھیں۔ ہاں مگر جب لکھنے کے لیے بیٹھی، ڈائری کھولی اور اپنے جذبات واحساسات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ میرے رنڈی رونے اٹلی کی ہر جگہ جاتے ہوئے ایک سے تھے۔ سب سے بڑا میرا مسئلہ اکیلے ہونے کا تھا۔ پھر عمر بھی بڑھاپے میں داخل شدہ جہاں دل کی ذرا سی بات پر ہنگامہ کھڑا ہونے کا اندیشہ سر پر لٹکی تلوار کی طرح دِکھنے لگتا تھا۔ لکھتے ہوئے اُن کا بار بار سیاپا کرنا مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اپنے قاری کو بورکروں۔ اُس خوف کو دہراؤں۔ پس چند شہروں تک ہی میںنے اپنے قلبی احساسات اور اپنے مشاہدات کو تفصیلاً لکھا۔ میرا ٹرینوں میں دھکے کھانا اور ہر روز نئی جگہ جانے کے تجربات کے ساتھ جو لازمے تھے وہ تھے تو اگرچہ مختلف مگر میرے احساسات ایک جیسے ہی تھے۔ اب قاری کو کسی امتحان میں ڈالنا مقصود نہ تھا۔ ہاں اگر کسی مقام پر اِن جذبات کا اعادہ محسوس ہو تومعافی کی خواستگار رہوں گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(سلمٰی اعوان)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636232889,"sku":"KW-SAL-0445","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/67ac4c352eb061739344949_558995cb-91b8-46ff-bd17-1610f8ba404e.jpg?v=1785011527"},{"product_id":"safarnama-hajj","title":"Safarnama-e-Hajj سفر نامۂ حج","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Nawab Sikandar Begum\u003c\/p\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: Zaif Syed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 238\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم آف بھوپال کا یہ نایاب حج نامہ جو 1867ء میں قلم بند ہونے کے بعد وقت کی گرد تلے دب گیا تھا، بالآخر 158 سال بعد اُردو قارئین کے لیے پہلی بار زیورِ طباعت سے آراستہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک روحانی سفر کی کہانی نہیں، ایک باشعور اور زیرک ملکہ کا انیسویں صدی کے عرب معاشرے کا باریک بین مشاہدہ اور بےلاگ تنقیدی جائزہ ہے۔ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام، حاجیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک، مکہ اور جدہ کے باسیوں کی عادات، رسوم، لباس اور طرزِ زندگی، یہ سب جزئیات اس سفرنامے میں شفافیت کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کو دو غیرمعمولی اعزاز حاصل ہیں: یہ نہ صرف اُردو زبان میں لکھا جانے والا پہلا حج نامہ ہے، بلکہ کسی بھی مسلمان خاتون حکمران کی تحریر کردہ پہلی کتاب بھی ہے۔ یہ محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ اپنے عہد سے کہیں آگے کی نسوانی آواز اور بین الثقافتی تجزیے کا نادر امتزاج ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنواب سکندر بیگم بھوپال (1818-1868ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انھیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت، اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھوپال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے روایت کو توڑتے ہوئے پردہ ترک کیا اور عملی سیاست اور انتظامِ حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنتِ برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انھوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اِس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی جسے اُردو کا پہلا حج نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ سفرنامہ اُن کی باریک بینی، طرزِ حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں جنھیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیف سید ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا اُردو ناول ’’گل مینہ‘‘ اپنی نوعیت کا پہلا اُردو ناول ہے جو پاکستان کی شورش زدہ مغربی سرحد کے عوام، خصوصاً خواتین، کو پچھلی چند دہائیوں سے درپیش صدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ \"The Dark Side of Paradise\" اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’آدھی رات کا سورج‘‘ 2013 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایک تجرباتی ناول ہے جو ماضی اور حال، فکشن اور نان فکشن، تاریخ اور سفرنامے کو منفردانداز میں آمیخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانے اور نظمیں پاکستان اور بھارت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیف سید نے خورخے لوئیس بورخیس کے افسانوں، مضامین اور نظموں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، جو دو کتابوں ’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’باغِ ہزار پیچ‘‘ کے عنوانات سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تاریخ، ادب، ثقافت، سائنس اور دیگر کئی موضوعات پر بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کے اہم موضوعات میں ارتقا، تاریخ، مسئلۂ جبر و قدر، شعور، مصنوعی ذہانت اور کوزمالوجی وغیرہ شامل ہیں۔ زیف سید اس وقت انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر ہیں، جو برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس سے قبل وہ بی بی سی، وائس آف امریکا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342636855481,"sku":"KW-NAW-0446","price":1125.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/687fb21d9541d1753199133_cea1a2cc-8dcc-4f88-98bc-b8dd31759288.jpg?v=1785011204"},{"product_id":"pathron-ka-encyclopedia-pathron-say-elaj","title":"Pathron Ka Encyclopedia - Pathron Say Elaj | Bundle پتھروں کا انسائیکلوپیڈیا - پتھروں سے علاج | بنڈل","description":"\u003cp\u003eپتھروں سے شغف رکھنے والوں کی لیے خوبصورت کتابیں\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1- پتھروں کا انسائیکلوپیڈیا | نایاب تصاویر کے ساتھ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمصنف: انجم سلطان شہباز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2- پتھروں سے علاج | مصنف: سیّد ذیشان نظامی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342637543609,"sku":"KW-ANJ-0448","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e18ba0621f921578678790_4641d6fa-2c82-4059-bcb7-438aa4946548.jpg?v=1785008116"},{"product_id":"dunya-kay-70-ajoobay-4-color","title":"Dunya kay 70 Ajoobay (4 Color) دنیا کے 70 عجوبے","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahida Latif\u003c\/p\u003e","brand":"ilm o irfan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342638624953,"sku":"KW-SHA-0450","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/601bdde93fc231612439017_af45bd05-41a7-4a04-9edc-1f506c16e53f.jpg?v=1785006910"},{"product_id":"musalmanon-ka-ilm-jughrafiya-aur-shoq-e-siyahat","title":"Musalmanon Ka ilm e Jughrafiya aur Shoq e Sayyahat مسلمانوں کا علمِ جغرافیہ اور شوقِ سیاحت","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e SUFI GHULAM MUSTAFA TABASSAM\u003c\/p\u003e","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342639968441,"sku":"KW-SUF-0454","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1404.jpg?v=1785005694"},{"product_id":"paksitani-khel","title":"Pakistani Khel پاکستانی کھیل","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Khalid Mehmood Asim\u003c\/p\u003e","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342640591033,"sku":"KW-KHA-0455","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5e1b1bd9542a01578834905_a76b63f8-778f-4ad8-a6b7-a2e46bc425c3.jpg?v=1785005320"},{"product_id":"ijazadat-ki-tarikh","title":"Ijaadat ki Tarikh ایجادات کی تاریخ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Yasir Jawad\u003c\/p\u003e","brand":"Al Faisal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342640722105,"sku":"KW-YAS-0456","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1401.jpg?v=1785004631"},{"product_id":"hayat-ul-haywan-2-vol-urdu","title":"Hayat ul Haiwan (2 Vol) حیاتُ الحَیوان (2 جلدیں)","description":"\u003cp\u003e \u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Allama Muhammad Kamaluddin Dameeri\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eMolana Abdul Rasheed\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eعلامہ کمال الدین دمیری کی شہرہ آفاق کتاب کا اردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیات الحیوان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eحیوانات کا بے مثال انسائیکلو پیڈیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلامہ کمال الدین دمیری نے یہ کتاب 1370ء میں 560 کتب اور 199 دواوین شعراء سے منتخب کر کے تصنیف کی۔اس کتاب میں حروف تہجی کے اعتبار سے صدہا جانوروں کے نام،کنیت، لغوی تشریحیں،ان کی عادات و خصائل، قرآن و حدیث کے متعلقہ حوالہ جات، شرعی حلت و حرمت، طبعی فائدے،ان کے حوالے سے خوابوں کی تعبیر، تعویزات و عملیات اور نادر دلچسپ واقعات و اشعار و ضرب الامثال کا عظیم ذخیرہ موجود ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالمیزان نے عام قاری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے فاضل علماء سے اس کے جدید عربی نسخے سے انتہائی آسان، سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کروایا ہے اس میں ترجمہ کے ساتھ ساتھ جدید حواشی بھی شامل ہیں ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"مکتبہ الحسن","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342642589881,"sku":"KW-ALL-0460","price":4100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1400.jpg?v=1785004065"},{"product_id":"ali","title":"Mera Bhai Muhammad Ali میرا بھائی محمد علی","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Rahaman Ali\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eYasir Jawad\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشاید ہی کسی اور شخص کے متعلق اتنا کچھ لکھا گیا ہو جتنا کہ محمد علی کے بارے میں۔ بلاشبہ وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ چاہا جانے والا سپورٹس مین تھا۔ اپنے دورِ عروج میں وہ دنیا کا سب سے مشہور شخص تھا۔ اِس کے باوجود اُسے سب سے زیادہ جاننے والے شخص، یعنی اس کے اکلوتے بھائی اور قریب ترین دوست رحمان علی کی آواز تاحال ہم تک نہیں پہنچی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکوئی بھی اور شخص رحمان علی سے بڑھ کر محمد علی کے قریب نہیں تھا۔ کیسیئس اور رُڈولف آرنیٹ کلے کے ہاں جنم لینے والے دونوں بھائیوں نے اکٹھے پرورش پائی، ساتھ رہے، مل کر ٹریننگ کی، سفر کیے اور گلی محلوں سے لے کر رِنگ تک ہر جگہ اکٹھے لڑے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہمہ وقت اپنے بھائی کی صحبت میں رہنے والے رحمان علی نے اُس کے بہترین اور بدترین پہلوؤں کو دیکھا: مذاق کرنے میں بے رحم اور حاسد بڑا بھائی، بے باک وکیل، شوہر اور باپ۔ اِس کتاب میں وہ معروف کہانیوں کے بارے میں اندر کی بات بتاتا ہے، اور ایسی کہانیاں بھی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں سنیں۔ وہ ایک فخر مند، اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والے مگر اکثر زیادتیوں کا نشانہ بننے والے آدمی کی رنگارنگ اور بہت عمیق تصویر پیش کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاِس غیر معمولی اور بے لاگ یادداشت میں رحمان ایک کہیں زیادہ ہمہ جہت اور ذاتی کہانی بیان کرتا ہے جو عظیم محمد علی کے متعلق کسی بھی اور کتاب سے بڑھ کر ہے – یعنی دو بھائیوں کی کہانی جو پیدائش سے لے کر آخر دم تک ساتھ ساتھ رہے۔ یہ کتاب بیسویں صدی کی ایک نہایت مشہور اور مثالی شخصیت کو ایک اہم ترین تناظر میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرحمان علی باکسنگ کے لیجنڈ محمد علی کا اکلوتا بھائی ہے۔ کوئی بھی اور شخص محمد علی کے اتنا قریب نہیں رہا – بھائیوں اور بہترین دوستوں کی حیثیت میں وہ اکٹھے رہے، مل کر ٹریننگ کی اور زندگی کے اہم ترین تجربات کا اکٹھے سامنا کیا –’’نیشن آف اسلام‘‘ میں محمد علی کی شمولیت سے لے کر جارج فورمین کے خلاف طوفانی مقابلے تک، اور اُس کے بعد بھی۔ رحمان نے محمد علی کو مشق کروائی اور اُس کے قریبی حلقے میں شامل رہا، اپنے بھائی کے سارے کیریئر میں ایک معتمدِ خاص اور ذاتی باڈی گارڈ کا کردار ادا کیا۔ رحمان 1972ء میں خود بھی بطور ہیوی ویٹ باکسر ریٹائر ہوا تو چودہ مقابلے جیت چکا تھا جبکہ تین ہارا اور ایک میں برابر رہا۔ وہ لُوئس وِل کینٹکی میں مقیم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e--\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاسر جواد ترجمہ کے میدان میں نہایت وسیع اور متنوع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ فرانز کافکا کا ناول ’’مقدمہ‘‘ (1995ء) تھا۔ وہ اب تک سائنس، فلسفہ، الٰہیات، تاریخ، مذاہب اور نفسیات کے موضوع پر 170 سے زائد کتب کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ ان میں سیمون دی بووا (عورت)، ہیروڈوٹس (تواریخ)، کارل ساگان (کاسموس)، سٹیفن ہاکنگ (وقت کی مختصر تاریخ) سمیت سر لائیٹنر، کیرن آرم سٹرانگ (خدا کی تاریخ)، سعدی شیرازی (گلستان و بوستان)، ایڈورڈ سعید (ثقافت اور سامراج)، ٹیری ایگلٹن اور فلپ کے حتی (تاریخ عرب) جیسے مصنّفین کی تخلیقات شامل ہیں۔ اُن کی تحقیقی کتاب ’’سو عظیم فلسفی‘‘ کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ ’’انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم‘‘ اور 2500 صفحات پر مشتمل ’’عالمی انسائیکلوپیڈیا‘‘ ترتیب دیا۔ وِل ڈیورانٹ کی ’’انسانی تہذیب کے معمار‘‘ سمیت متعدد تحریروں کا ترجمہ کیا اور مشہور کتاب ’’داستانِ فلسفہ‘‘ کی ایڈیٹنگ کے فرائض انجام دیے۔ ان دنوں وِل ڈیورانٹ ہی کی عظیم الشان کتاب ’’تہذیب کی کہانی‘‘ کا مکمل ترجمہ کر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ اُردو کی تاریخ میں ترجمے کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655467705,"sku":"KW-RAH-0487","price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender_0000c389-5264-44cb-9992-81fc9a6e2bbd.jpg?v=1785002774"},{"product_id":"wicket-se-wicket-tak","title":"Wicket se Wicket tak وکٹ سے وکٹ تک","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Peter Oborne\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eNajam Latif\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eوکٹ سے وکٹ تک“ معروف برطانوی ادیب اور تبصرہ نگار پیٹر اوبورن کی شہرہ آفاق کتاب Wounded Tiger, A History of Pakistan Cricket کا اردو ترجمہ ہے جسے 2014ءمیں کرکٹ پر سال کی بہترین کتاب ہونے پر وِزڈن انعام حاصل ہوا۔پیٹر اوبورن، پاکستان اور اس کی کرکٹ کے زبردست مداح اور حامی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ حقائق پر مبنی پاکستان کرکٹ کی متنازع تاریخ پر پس پردہ واقعات سے بھرپور دھماکا خیز کتاب ہے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم تقسیم ِبرصغیر کے بعد افراتفری کے دَور میں مرتب ہوئی۔ ابتدائی طور پر پاکستانی ٹیم منتشر ہونے کے ساتھ ساتھ کمزور اورمالی طور پر غیرمستحکم تھی مگر وہ بتدریج ترقی کرتے ہوئے دنیائے کرکٹ کی اہم طاقت بن کر ابھری۔کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں نے پاکستان کو دنیا میں مرتبہ ومقام حاصل کرنے میں مدددی۔ دفاعی حالات میں جرا¿ت مندی اور مزاحمت میں شکست دینے کی کوشش میں اے ایچ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد، ماجد خان، جاوید میاںداد، عبدالقادر، وسیم اکرم اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کا مقام نمایاں ہے۔پاکستان کرکٹ کی داستان فتوحات، حادثات اور المناک واقعات سے بھرپور ہے۔ اس کے علاوہ میچوں میں بے ایمانی اور جوئے کے رحجان سے مزید بدنامی ہوئی۔ 2009ءسے شدت پسندی کے خوف نے پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ کو جلاوطنی میں دھکیل دیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کھیل کب واپس وطن لوٹ سکے گا۔ مگر پیٹر اوبورن کی تحریر اُمید سے بھرپور ہے۔ اُس کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ کرکٹ جو صرف کراچی اور لاہور کے عظیم شہروں تک محدود تھی، اب پورے ملک سے کھلاڑی اور مداح پیدا کررہی ہے۔ پاکستانی خواتین کی کرکٹ کی دل کو گرما دینے والی کہانی بھی بیان کی گئی ہے جو آج وہ بھی کھیل کی دنیا میں طاقت بن چکی ہے۔ اپنے تمام مصائب کے باوجود کرکٹ پاکستانیوں کو اعلیٰ کارکردگی اور اپنے آپ کو متعارف کروانے کا موقع دیتی ہے جس سے انہیں اپنی پہچان کا احساس ہوتا ہے اور اپنے ملک پر فخر کرنے کا شعور ملتا ہے۔کرکٹ کے اعلیٰ حکام اور سابق کھلاڑیوں کی یادوں سے بھرپور یہ کہانی سیاسی، سماجی اور ثقافتی گہرائیوں تک پہنچتی ہے۔ پاکستان کرکٹ پر یہ کتاب ایک قوم اور اس کے پسندیدہ کھیل پر مکمل اور جامع مطالعہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jumhoori","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655762617,"sku":"KW-PET-0488","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender_c868fa99-932c-4849-a62c-bcbca331ed2c.jpg?v=1785001795"},{"product_id":"cricket-ka-field-marshal","title":"Javeed Miandaad Cricket Ka Field Marshal جاوید میانداد کرکٹ کا فیلڈ مارشل","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Muhammad Sajjad Khan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBeautifully printed and bound edition published by Book Corner. Ideal for readers and collectors.\u003c\/p\u003e","brand":"Freed Pub","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342655959225,"sku":"KW-MUH-0489","price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1397.jpg?v=1785000903"},{"product_id":"shahid-afridi-game-changer","title":"Shahid Afridi - Game Changer شاہد آفریدی - گیم چینجر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shahid Afridi\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eTranslator: \u003c\/strong\u003eDr. Saad S. Khan\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eYear\u003c\/strong\u003e: 2022\u003c\/p\u003e","brand":"Jumhoori","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48342657335481,"sku":"KW-SHA-0490","price":870.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/FullSizeRender.jpg?v=1784999554"},{"product_id":"guinness-world-records","title":"Guinness World Records 2020","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Guinness World Records\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eFully revised and updated, the record-breaking compendium of superlatives is back and bursting with facts, figures and incredible stories – each one selected to inspire you to learn about the fascinating world we live in… and to break records of your own.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eIn a series of 11 fact-packed chapters, we introduce you to the record-holders who’ve pushed the boundaries of what’s possible. Meet…\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e• The adventurers who trek, swim, ski, climb and fly to all four corners of the globe\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e• The real-life cyborgs who augment their bodies with cutting-edge technology\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e• The painters, sculptors, musicians and moviemakers taking performance art to new levels\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e• The stars of social media generating millions of views on YouTube, Instagram, Facebook and Twitter\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e• The athletic legends who continue to raise the bar in the world of sports\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBut it’s not only human beings who set records. Explore the wilder side of life with 24 pages of record-breaking animals, and take a trip around the world to visit the most awe-inspiring sights on each continent!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePlus, we investigate 10 record-breaking robots to find out what makes them tick. And look out for our exciting new “Snapshot” feature, in which our digital artists put a unique visual spin on some iconic record-holders such as the largest ever crocodile, the richest person on Earth and the tallest living tree – prepare to be amazed!\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48345692373177,"sku":null,"price":2695.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/5d7c8e74445f01568444020_e047364e-fd68-4cdb-b68d-642cef4cfa19.jpg?v=1785006463"},{"product_id":"coming-back-the-odyssey-of-a-pakistani-through-india-2nd-edition","title":"COMING BACK: THE ODYSSEY OF A PAKISTANI THROUGH INDIA (2ND EDITION)","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor:\u003c\/strong\u003e Shueyb Gandapur\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e152\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eComing Back: The Odyssey of a Pakistani through India\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor \u0026amp; Photographer: Shueyb Gandapur\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eBook Size: 6.5\" x 9.5\"\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eGenres: Travel, Memoir, India, Subcontinent, Non-fiction, Pictorial Book\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePraise for the Book:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“A charming little travelogue where our writer opens a window to our enemy’s house and discovers a home as haunted as ours.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mohammad Hanif, author of A Case of Exploding Mangoes\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur had crossed continents before he decided to visit India. He takes us on a colourful guided tour of mosques, monuments, shrines, and temples, from the Taj Mahal to the ghats of Benares, from Ghalib’s grave to a room that houses the belongings of Qurratulain Hyder. He encounters hostility and hospitality, religious differences and inclusiveness, and an end to certain preconceptions and prejudices which make him feel at once a sense of homecoming and a frequent estrangement. His gaze is both intimate in its celebration of old and new friendships, and clear eyed about the widening gap between the country of his birth and the land he longed to visit. His discoveries both in the erstwhile centres of Muslim culture and in the Hindu heartlands are oen shot through with an abiding sense of wonder.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Aamer Hussein, author of The Cloud Messenger\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s endearing travelogue begins with a child’s yearning to visit a land he had heard about from his grandfather. He makes a cautious but nuanced foray into the space of ‘neighbourly relations’—the highs and lows of the India-Pakistan relationship. Every vignette in this travelogue is engaging. e book is a page turner.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Mehr Afshan Farooqi, author of Ghalib: Flowers in a Mirror\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e“Shueyb Gandapur’s narrative is engaging and written with immense sensitivity. The author is a keen observer and displays empathy throughout his journeys. The divided Indian subcontinent has deprived the younger generations of South Asians to freely travel and interact. Aside from its descriptive merits, this book is an important addition to texts that defy borders guarded by nationalisms.”\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e– Raza Rumi, author of Delhi by Heart\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAbout the Author:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eA world traveller, Shueyb Gandapur has visited more than a hundred countries. He hails from Dera Ismail Khan and lives between Dubai and London. A chartered accountant by profession, he writes about his travels occasionally and paints in his free time. This is his first travel memoir.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003ePreface\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen I first started putting the recollections of my visit to India in writing, I had no idea that they would assume the shape of a book one day. Back in London, several months after my trip, I contin- ued to revel in my memories of the country: its sights, smells and sounds. Those memories demanded to be written down, for they seemed too significant in my life’s journey to be allowed to wear away with the corrosive forces of time. A journalist friend, who took very good care of me in Delhi, also insisted that I write down my impressions of his country with the offer of getting them pub- lished in a newspaper he worked for.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLike any modern-day traveller, I had brought back a sizeable repository of photographs, as well as some audio clips and a few random notes jotted down on my phone. But every time I thought to mould all of this raw material into a meaningful form, I reached an impasse. I realised that this was partly due to the restrictions that a long piece or a series for a newspaper or magazine placed on my writing. It was difficult to capture the breadth of what I experi- enced in India in such a narrow form.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eThen came Christmas break the following year, and unchar- acteristically, I had time off from work without any plans of us- ing it to travel to a new country. This was when the reprimand of my conscience over my prolonged inertia became unbearable. I picked up my pen and let the ink flow. Flow it did, like a river that determines its own course. I do not know what came upon me, but I had never experienced such fluency in my writing before. The film of my trip to India started playing before my eyes. I kept on writing until I had recorded everything I remembered. When I finished, I heaved a sigh of relief as if a debt had been repaid. I sent the entire text to the journalist friend who had urged me to write. He responded with a promise that he would give it a read; a promise that might now get fulfilled, since the manuscript has acquired the form of a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eExcerpts from this travel account were published in a literary journal and then it started gathering dust. A few years later, I at- tended a book launch in London at the insistence of a friend who was moderating a session with the author. The event that I attend- ed out of obligation to a friend turned out to be quite interesting for myself too. It was there that I had my first encounter with the publisher of Kantara Press, Jamil Chishti. That chance meeting led to the idea to convert my travel account into a book.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eWhen the idea of this book was initially discussed, I was not sure if I was qualified to author a book on this subject due to my brief visit of only two and a half weeks. This is, of course, not the first volume of its kind. Books about Pakistanis visiting India and vice versa have been written before. Writers have spoken about the similarities and familiarities they found in unlikely places. Some went on a quest to rediscover family roots, others tried to uncov- er the reality of everyday existence on “the other side” that is not reflected in media reports. But then I realised that my personal experience had its own place in time and history, distinct from the perspective and experience of everyone else, so why should it not be heard by the people of our two countries as well as the wider world?\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAs I now had a larger canvas to work with, I revisited the se- ries and updated the narrative, unhindered by the restriction of a word count. Distance from the actual occasion of the visit be- stowed me with further insights and interpretations. The detail I had to skip previously in the interest of brevity was reincorporat- ed. A few months later, when I went back to my hometown, Dera Ismail Khan, wiser by the experiences gathered during my India trip, I looked at the crumbling houses, deserted temples and old neighbourhoods with more reverence and tenderness. They had once been inhabited and frequented by the city’s Hindu and Sikh residents, who were uprooted during the chaos of Partition, and now lived hundreds of miles away, remembering and commem- orating what they had lost. I felt like I had completed a circle and incorporated those later impressions in my account.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eRelations between India and Pakistan are almost always char- acterised by varying degrees of mistrust and animosity with oc- casional efforts towards rapprochement, which rekindle over- whelming, although short-lived, feelings of warmth on both sides. The legacy of unresolved conflicts from the time of Partition has translated into four wars and many stand-offs that brought the two neighbours to the brink of war several times. At the time of my visit in the summer of 2017, the political climate was freezing cold and it has remained so, if not worsened, since then. This low period has lasted for longer than ever before during my lifetime. The forces of jingoism now act and speak with more confidence, drowning out voices calling for peace and free movement. Cross-border travel, which had picked up steam at the turn of the century, has almost dried up completely now.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eI have tried to narrate my observations and impressions from many meetings and encounters in India about whether the adverse political climate between our two countries has had any effect on the attitudes and perceptions of ordinary people, about whether it is still possible, despite all the hurdles, to reach out and connect with each other based on our many cultural commonalities. What I saw and felt is told in the account that follows.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368616964281,"sku":null,"price":1395.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/699d8d6b29ab81771933035_0ccd5bf3-7202-4418-a8fa-ccd1fcbb1203.jpg?v=1785012955"},{"product_id":"taqseem-e-hind-تقسیم-ہند","title":"TAQSEEM-E-HIND تقسیم ہند","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/abdul-waheed-khan\"\u003eABDUL WAHEED KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 304\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003eAuthor Biography:\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eعبدالوحید خاں برصغیر کے اُن ممتاز دانشوروں، مؤرخین اور سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تحریکِ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور اسلامی سیاسی فکر پر گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی حلقوں میں بھی طویل عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کی صوبائی مسلم لیگوں کی ورکنگ کمیٹیوں کی رکنیت نے انھیں برصغیر کی سیاسی جدوجہد کا براہِ راست مشاہدہ عطا کیا۔ عبدالوحید خاں 1915ء میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔ ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ اور ’’تاریخِ افکار و سیاسیاتِ اسلامی‘‘ ان کی معروف تصانیف ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کا گجراتی اور بنگالی سمیت برصغیر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب India Wins Freedom کے جواب میں عبدالوحید خاں نے 1961ء میں انگریزی زبان میں India Wins Freedom – The Other Sideتصنیف کی، جس میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے واقعات کا ایک مختلف تاریخی زاویۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’’تقسیمِ ہند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور زیرِ نظر کتاب اسی اہم تصنیف کی نئی اشاعت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عبدالوحید خاں اپنے خاندان سمیت ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور یہیں سے الیکشن بھی کامیابی سے لڑا۔ وہ صدر ایوب خان کی حکومت میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی اور بنگلا دیش کے قیام کو اُس وقت کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ انھیں گہرے صدمے سے دوچار کر گیا، جس کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eذاتی طور پر مجھے مولانا آزاد کے علم و فضل سے ہمیشہ عقیدت رہی ہے، جس کو نہ سیاسی طوفان و طلاطم متزلزل کر سکے، نہ شدید اصولی اختلافات اُن کی ’’خمِ زلفِ کمال‘‘ کی اسیری سے چھڑا سکے۔ اضطراب و ہیجان کے اس دَور میں بھی، جبکہ مولانا کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی تھیں، میں ان کی رنگیں بیانیوں اور فطری لطافتوں سے حظ اٹھاتا رہتا تھا۔ مگر ارادت کیشی کے اِس مضبوط حصار کے باوجود جو میرے تصوّرات نے مرحوم کی ذات کے اِردگرد قائم کر رکھا ہے، جیسے ہی اُن کی کتاب ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ شائع ہوئی اور وہ ایک سیاسی مورّخ کی حیثیت سے نمودار ہوئے، خودبخود وہ تمام نقوش و خطوط اُجاگر ہو گئے جو اُن کی شکست خوردہ قیادت کے جذبۂ انتقام اور احساسِ کمتری نے اُن کے ذہن و فکر کے گوشوں میں بنائے تھے اور جو اَب تک مدّھم اور پھیکے پڑے ہوئے تھے اور دماغوں سے محو ہوتے جا رہے تھے۔ مولانا کا اشہبِ قلم تاریخِ آزادئ ہند کے میدان میں شہ گام کے لیے نکلا تھا، لیکن ان کے ذہنِ رسا نے ان کی عنان خود اپنی زخم خوردہ انانیت و اِمامت کی شاہراہوں کی طرف پھیر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخِ آزادی کی منزل تو ایک طرف رہ گئی، البتہ اس کو مولانا کے ذہنی و قلبی واردات، اُن کے ذاتی رجحانات اور عقائد، ان کے اپنے افکار و توہمات کی وادیوں میں جولانیوں کا موقع مل گیا۔ (عبدالوحید خاں)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eجناب عبد الوحید خاں کی تصنیف ’’ تقسیمِ ہند‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ سے متعلق تاریخ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔ انھوں نے مولانا کے فکری تضادات پر سخت گرفت کی ہے اور محققانہ دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری سے انڈیا ونز فریڈم کے اقتباسات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتے ہیں۔ انھوں نے تاریخی واقعات کے تناظر میں مولانا ابوالکلام کے یک طرفہ نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے اور نہایت ذمہ داری سے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ کانگریس اور انگریزی گٹھ جوڑ کو بھی آشکار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے باعث نوجوان نسل گمراہ کن تصورات کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ تاریخِ پاکستان کے اکابرین سے متعلق شکوک وشبہات کا خاتمہ کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف مسلسل محاذ بنا کر ان کے اخلاص کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتاب پاکستان سے وابستگی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں دھول اڑائی گئی ہے اور عبد الوحید خاں نے آئینے پر جمی گرد کو صاف کر دیا ہے۔ اس کتاب کو ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ سادہ اور عام فہم زبان میں تاریخ کا تقابلی مطالعہ نہایت خوش گوار تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر شاہد اشرف)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367641624761,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a53624f332ea1783849551.jpg?v=1785181357"},{"product_id":"waqt-ki-kasauti-وقت-کی-کسوٹی","title":"WAQT KI KASAUTI وقت کی کسوٹی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/molvi-tamizuddin-khan\"\u003eMOLVI TAMIZUDDIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 456\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ’نظریۂ پاکستان‘ کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔ \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367625568441,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1440.jpg?v=1785193019"},{"product_id":"a-house-without-a-door","title":"A HOUSE WITHOUT A DOOR","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/khalid-fateh-muhammad\"\u003eKHALID FATEH MUHAMMAD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003ePaperback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 117\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eYear: 2026\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eKhalid Fateh Muhammad is a retired cavalry officer, novelist, short story writer, translator, critic, and editor of a quarterly Urdu magazine. He has authored twelve Urdu and two Punjabi novels, nine collections of stories, and eight collections of translations of international fiction into Urdu.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eHis fiction revolves around the common man, highlighting his miseries from the perspective of the modern world. His emphasis is on his psychological wounds, rather than the financial hardships he undergoes. He believes in hope, and to drive his point home, he uses the tool of fantasy, coupled, at times, with hallucinatory realism, and the stark, gnashing reality staring at him.\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eHis is a different voice, with a bitter message spelled out in the sweetest of words. He uses symbols and metaphors to make his stories more effective and appealing, but he writes what he feels, not what others expect him to write.\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367488041145,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1441.jpg?v=1785192907"},{"product_id":"prem-pujaran-aur-mard-e-inqilab-پریم-پجارن-اور-مرد-انقلاب","title":"PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/quddus-sehbai\"\u003eQUDDUS SEHBAI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eYear: 2026\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eمیرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eقدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367705653433,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1442.jpg?v=1785192773"},{"product_id":"chehra-ba-chehra-roo-ba-roo-چہرہ-بچہرہ-روبرو","title":"CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 143\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ\/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد حمید شاہد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eقرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔\u003cbr\u003e(اسامہ صدیق)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eروہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔\u003cbr\u003e(محمد علی صدیقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔ \u003cbr\u003e(سراج منیر)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367850684601,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1443.jpg?v=1785192590"},{"product_id":"chenung-چِننگ","title":"CHENUNG چِننگ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/farrukh-yar-1\"\u003eFARRUKH YAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمعافی منگساں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاُس جیون نی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیہڑا روز جی وی نہ سکیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتن مَن مِتھے ڈُونگھے پینڈے \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنَک نَک آئے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eباغ بہشتی کوِیں کھِڑدا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتانگھاںپُرزے پُرزے ہو کے\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاپنے آسے پاسے اُڈیاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکدھرے کدھرے جڑیاں \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہِک مِک ہو کے جُڑ نہ سکیاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلمّی کھِلری راتڑی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدینہہ دیہاڑا چارواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجِتھے سبھ پرنیویں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاوتھے بُرج اٹھارواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتینڈے بھاگ اُچیچویں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمینڈا خاب ہزارواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسَوکھیاں پچھلی پوڑھیاں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگلا منڈل بھارواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاوہا برفاں چیرسی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجس دا سالُو دھارواں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار دی شاعری سندھ دے پانیاں وانگوں واہندی، وگدی تے جِیوندی شاعری اے۔ اوہدیاں پنجابی نظماں پنڈی گھیب توں اُٹھ کے جگ جہان تک اپنْی سُنجان بنا لیندیاں نیں۔ ایہ شاعری ماں بولی، لوک ریت تے اجوکی سُرت نُوں اِک مِک کردی اے۔ نظماں پڑھ کے ایویں لگدا اے: ’’تیں مِلیاں میڈی تازگی وو۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼 رفعت عباس\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار اردو نظم دا ہک بھرواں تے نویکلا شاعر اے، تے ’چِنَنگ‘ اوہدیاں پنجابی رچناواں دا سوہنا اظہار اے۔ ایس کتاب وچ شاہ حسین والی لِشک، لوک شاعری دا رس تے اجوکی سوچ دی چس اکٹھے ہن۔ اوہ پنجابی دے سبھو لہجیاں نال پیار کردا ہویا اپنا وکھرا لہجہ تخلیق کریندا اے۔ اوہ اردو وچ لکھے \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیاں پنجابی وچ — ’’جو آھا سوآھا۔‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼 سرمد صہبائی\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368486383801,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1444.jpg?v=1785192419"},{"product_id":"afkar-e-faqeer-افکارِ-فقیر","title":"AFKAR-E-FAQEER افکارِ فقیر","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/sarfraz-a-shah\"\u003eSYED SARFRAZ A. SHAH\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003ePages: 272\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسرفراز احمد شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e12 جون 1944ء کو جالندھر کے ایک نجیب الطرفین سیّد گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ہیں۔ مختلف سرکاری اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ عرصہ برمنگھم یونیورسٹی میں مینجمنٹ کے موضوع پر بطور وزٹنگ فیکلٹی لیکچرز بھی دیے۔ مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے ایک معروف صنعتی و تجارتی گروپ کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں 65 سے زائد ممالک کا دورہ کرچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم اور عالمی رجحانات پر گہری اور متوازن نظر رکھتے ہیں۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی و رُوحانی تعلیمات سے اُن کی دیرینہ دلچسپی ہے۔ اپنی گوناگوں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کی صحبت سے لاکھوں لوگ مستفیض ہو چکے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے سرفراز شاہ صاحب کو توکل، اطمینان اور یقین کی دولت سے بےحساب نوازا ہے جسے وہ اپنے دوستوں میں کھلے دل سے بانٹتے رہتے ہیں۔ اُس ذاتِ اقدس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کے لہجے میں ایسی محبت، جذبہ اور مان ہوتا ہے جو سامعین کے دلوں میں رب تعالیٰ کی محبت، قرب اور دوستی کے حصول کی تڑپ بیدار کردیتا ہے۔ خوش کلام اِتنے کہ دھیمے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جب گُفتگو کرتے ہیں تو گویا وقت کی گردش تھم جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسید سرفراز احمد شاہ دورِ حاضر میں پاک و ہند کے اُن معدوے چند دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا دینی اور دنیاوی علم بیک وقت قابلِ تعریف اور مستند ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— امجد اسلام امجد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیری خواہش ہے کہ یہ کتاب وہ لوگ بھی پڑھیں جو تشکیک کا شکار ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنی سوچ کی راہیں بدل لیں، کیونکہ میرے نزدیک تشکیک ہی ایک دن منزل تک لے جانے والی ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عطاء الحق قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحترم سید سرفراز اے شاہ کے نزدیک تصوف کا مقصد دُنیا سے کنارہ کشی نہیں بلکہ دُنیا میں رہتے ہوئے باوقار اور باعمل انسان بننا ہے۔ وہ تصوف کو تقدیر پرستی کی بجائے خود احتسابی اور عملی جدوجہد سے جوڑتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— قیوم نظامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسید سرفراز شاہ صاحب کی مجلس میں موضوع کوئی بھی زیرِبحث ہو، تان ہمیشہ خالق و مالک حقیقی اللہ عزوجل سے بالواسطہ نہیں بلاواسطہ جڑنے، مانگنے اور مانگتے چلے جانے پر ٹوٹتی ہے اور انسان کچھ دیر کے لیے صرف اپنے رب کا ہوکر رہ جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارشاد احمد عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسائنسی پس منظر اور جدید عقلیات کے پس منظر میں شدید ضرورت تھی کہ تصوف کی داخلی دنیا سے کوئی صاحبِ معرفت صوفی اُٹھے اور اس عظیم علمی میراث کو عام فہم انداز سے نئی نسل تک منتقل کرے۔ ازحد مسرت سے یہ ماننا پڑے گا کہ قبلہ سید سرفراز شاہ صاحب نے یہ کام کمال درجہ عمدگی اور مہارت سے انجام دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عامر خاکوانی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھیں دیکھ کر میں سمجھا کہ یہ شاہ صاحب کے کوئی کارکن ہیں۔ اصل شاہ صاحب ابھی تشریف لائیں گے۔ سفید ریش ہوں گے، لمبا چغا زیب تن ہو گا، انداز معززیت سے بھرپور ہو گا، جیسے مروجہ عالم دین، بزرگ یا پیر فقیر ہوتے ہیں۔ پتا نہیں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ علمائے کرام، بزرگ اور پیر صاحبان کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ ہم میں سے نہ ہوں، جیسے وہ کوئی مختلف مخلوق ہوں۔ شاہ صاحب کے پاس بیٹھ کر میں نے محسوس کیا جیسے وہ ہم میں سے تھے، جیسے میرے پاس کوئی دوست یا ساتھی بیٹھا تھا۔ اس کے برعکس علمائے دین کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے نقیب کہہ رہے ہوں۔ ہٹو بچو، باادب، باملاحظہ ہوشیار، عالی جناب، عالم دین قدم رنجا فرما رہے ہیں۔ شاہ صاحب کو دیکھ کر میرا یقین ایمانِ کامل میں بدل گیا اور میں نے محسوس کیا جیسے میں ان کی خدمت میں خود حاضر نہیں ہوا، بلکہ بھیجا گیا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ صاحب کا اسمِ گرامی سرفراز اے شاہ ہے، وہ ایک معروف کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے مرشد محترم سید یعقوب علی شاہ ہیں جن کا وصال 13 اگست 1986ء کو ہوا، مزارِ اقدس میانی صاحب لاہور میں واقع ہے۔ ان کا سلسلہ چشتیہ، صابریہ، وارثیہ ہے۔ سید سرفراز شاہ کو خلافت 1984ء میں عطا ہوئی تھی۔ جب سے خدمتِ خلق جاری ہے۔ ہفتے میں ایک دن حاجت مندوں اور سائلوں سے بلاامتیاز اور بلا افتراق و تفریق ملتے ہیں۔ مشورہ دیتے ہیں، دعا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیر خانے کا رنگ سراسر مفقود ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ممتاز مفتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(’’الکھ نگری‘‘ سے ماخوذ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368783818937,"sku":null,"price":1750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1455.jpg?v=1785191939"},{"product_id":"sufi-صوفی","title":"Sufi صوفی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/baba-irfan-ul-haq\"\u003eBABA IRFAN UL HAQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 208\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48368938123449,"sku":null,"price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1456.jpg?v=1785191846"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/altaf-fatima\"\u003eALTAF FATIMA\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/alberto-manguel\"\u003eALBERTO MANGUEL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 236\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369154031801,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"ulysses-vol-1-یولیسس-جلد-1","title":"ULYSSES (VOL. 1) یولیسس (جلد 1)","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/james-joyce\"\u003eJAMES JOYCE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anwer-sen-roy\"\u003eANWER SEN ROY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 582\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369721082041,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a0a0274071e61779040884.jpg?v=1785193243"},{"product_id":"teesra-janam-تیسرا-جنم","title":"TEESRA JANAM تیسرا جنم","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-khalid-jamil-akhtar\"\u003eDR. KHALID JAMIL AKHTAR\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 478\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل اختر پاکستان کے نامور طبی معالج، استاد اور مصنف ہیں۔ ان کی پیدائش ضلع جہلم کے ایک گاؤں رانجھا میرا کے جٹ گھرانے میں ہوئی۔ زندگی انھیں دنیا بھر میں گھماتی رہی لیکن اپنی مٹی سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔ میٹرک کیڈٹ کالج پٹارو سے کیا اور بورڈ میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے، تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور سلسلۂ تعلیم جاری رکھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پہلے میرٹ پر داخلہ ہوا اور مزید علم کی جستجو انھیں دیارِغیر لے گئی، لندن یونیورسٹی سے نیورولوجی اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز لندن سے ڈی سی این کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آئے اور ملک کے پہلے Rehab Center کی بنیاد رکھی۔ ازاں بعد میو ہسپتال لاہور میں درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد جمیل بنیادی طور پر ایک نیوروفزیشن ہیں ۔ انھوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور پاکستان میں Rehabilitation Medicine کے شعبے کو ایک نئی پہچان عطا کی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب معالج ہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر مصنف بھی ہیں جو اپنے تجربات اور مشاہدات کو تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تیسرا جنم‘‘، ’’درحقیقت‘‘، ’’نئی منزلیں نئے راستے‘‘ اور ’’تیسرا پہلو‘‘ شامل ہیں۔ خود معذور ہونے کے باوجود ڈاکٹر خالد جمیل کی معذور افراد کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز عطا کیا اور ’’بگ برادر‘‘ کا خطاب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے معذوری کے بعد معذوری کے معنی ہی بدل دیے ... وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں اور زندگی اُن سے پیار کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل جنھیں ان کی خدمات کی وجہ سے بگ برادر کے خطاب سے نوازا گیا تھا، اپنی اس داستانِ حیات ’’تیسرا جنم‘‘ کو ایک ایسی ہی غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اس کتاب کی اضافی خوبی خالد جمیل کا باقاعدہ ادیب نہ ہونا ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم اس ’’بے ساختگی‘‘ سے محروم رہ جاتے جو اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ اس میں بیان کی گئی زندگی ایک غیرمعمولی صورتِ حال کو پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک بہادر اور پُرعزم انسان نے تقدیر کی پیدا کردہ ایک ایسی تباہ کن صورتِ حال کا انتہائی کامیابی سے سامنا کیا جس کے آگے نوے فیصد لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور یوں جیتے جی مر جاتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(امجد اسلام امجد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ’’تیسرا جنم‘‘ نے مجھے ششدر کر دیا اور اگر میں یہ کہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد میں نے بھی ’’دوسرا جنم‘‘ لیا ہے تو بےجا نہ ہو گا۔ یہ ہمت، جراَت اور استقلال کی ایک ایسی سچی کہانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ آپ بیتی کتاب سے کہیں زیادہ ایک ’’تھراپی‘‘ ہے… ہر وہ شخص جو مکمل شکست کے بعد زندگی میں مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا ہو… اس کے لیے یہ کتاب کسی تیر بہدف نسخہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر خالد جمیل قلم کاری کے میدان میں ہم سے بہت بعد میں آئے… اور بہت سے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے کہ یہ ’’تیسرا جنم‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خالد جمیل… بڑا معالج ہے یا بڑا مصنف!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(حسن نثار)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل کی خود نوشت ہمت و جراَت کی شان دار کہانی ہے جس کا نام ’’تیسرا جنم‘‘ بہت معنی آفریں ہے۔ تین بار پیدا ہونے کی بات تو اس نے تکلفاً کر دی ہے وہ تو جیتے جی امر ہونے کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ کتاب بہت خوب صورت، دلچسپ اور مزے دار ہے۔ اس میں تہذیبی ابدیت تو ہے ہی، تخلیقی ادبیت بھی ہے۔ ایسی کتاب خالد جمیل کے علاوہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ وہ شاید خود بھی ایسی کتاب دوبارہ نہ لکھ سکے۔ حادثوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں مگر زخم کھا کر درد کو محسوس کرنے اور شفا پانے کے تجربے میں ہر شخص دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ تو کئی لوگوں کو لگتی ہے مگر اسے جس طرح خالد جمیل نے محسوس کیا اور اس پر قابو پایا وہ صرف اسی کا حصّہ ہے اور جس طرح اپنی کتاب میں لکھ دیا وہ بھی منفرد ہے۔ یہ کتاب خالد جمیل کی پہلی کتاب ہے۔ یہ اس کی آخری کتاب بھی ہو تو کوئی رنج نہیں۔ جو کچھ اس نے اب تک کھویا ہے جو کچھ اس نے پایا ہے اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اپنی کتاب میں ایک بڑا ادیب بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ میں اسے بتانا نہیں چاہتا۔ کاش اسے پتا نہ چلے کہ جو کچھ اس نے کر دکھایا ہے وہ کارنامہ ہے اور کارنامے سوچ کر نہیں کیے جاتے۔ یہ کتاب اس نے بےدھیانی میں لکھی ہے اور بےدھیانی سے بڑی کوئی حقیقت نہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر خالد جمیل عزم و حوصلے کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ ان سے مل کر، انھیں دیکھ کر اور سُن کر پتا چلتا ہے کہ ہمت کرے انسان تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ماہر معالج ہی نہیں، انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور بھی ہیں۔ قلم اٹھاتے ہیں تو زندگی کی رعنائیوں کو بے نقاب کرتے چلے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ ان کا خاص موضوع ہے اور انھیں تبدیل کرنے کی امنگ ان میں بھری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ہمارا جسم، ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے چلنے اور دیکھنے کا انداز، یہ سب بغیر زبان کے بذاتِ خود گفتگو کرتے ہیں اور چاہت یا نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جسے سامنے والا سمجھ لیتا ہے۔ ان کے انشائیے یا تاثراتی موضوع اپنے قارئین کو ’’خاموش گفتگو‘‘ کا ڈھنگ سکھاتے ہیں اور لفظوں کے استعمال کا قرینہ بھی۔ آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں اور آپ کا دامن امید اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔ ان کو پڑھیے تو سہی، آپ امیر ہیں یا غریب، بوڑھے ہیں یا جوان، خاتون ہیں یا صاحب، آپ اپنے اندر کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور محسوس کریں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(مجیب الرحمٰن شامی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں جب ڈاکٹر خالد جمیل کی کتاب پڑھ رہا تھا تو اس کا ہر لفظ مجھے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکتا ہوا لگتا تھا جو میں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہوں، چنانچہ میں نے کوشش کی کہ میں اس کتاب کو ’’نامحرم‘‘ قرار دے کر اس سے پردہ کر لوں، لیکن اس کی سحر انگیز نثر اور دل میں اتر جانے والی باتوں نے (اللہ مجھے معاف کرے) مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس ’’نامحرم‘‘ کو اپنی ذات میں جھانکنے کی اجازت دے دوں، کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ ’’نامحرم‘‘ نہ صرف یہ کہ مجھے، مجھ سے متعارف کرا رہا ہے بلکہ تہذیبِ ذات بھی کر رہا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عطاء الحق قاسمی)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369887510713,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69e9b572d208d1776924018.jpg?v=1785193950"},{"product_id":"matilda-illustrated-مٹیلڈا","title":"MATILDA (ILLUSTRATED) مٹیلڈا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/roald-dahl\"\u003eROALD DAHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’مٹیلڈا‘‘ ایک غیرمعمولی ذہانت کی حامل بچی کی کہانی ہے جسے اپنے والدین کی جانب سے بےاعتنائی اور سکول میں اپنی ہیڈ مسٹریس مس ٹرنچ بُل کی جانب سے بےجا سختی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ اپنی مقبولیت کی بِنا پر اس کتاب کو مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا گیا ہے، جس میں اداکارہ جولی رچرڈسن، مریم مارگولیس اور کیٹ ونسلیٹ کی آڈیو ریڈنگ بھی شامل ہے۔ مشہور اداکار ڈینی ڈویٹو کی ہدایت کاری میں 1996 کی فلم Matilda پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں دو حصوں پر مشتمل بی بی سی 4 کا ریڈیو پروگرام، لندن کے ویسٹ اینڈ پر پیش کیا گیا۔ 2022 میں تھیٹر میوزیکل پر ترتیب دی گئی فلم Matilda the Musical ریلیز ہوئی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2003 میں ’’مٹیلڈا‘‘ کو بی بی سی کی جانب سے مرتب کردہ سو بہترین برطانوی ناولوں کے ایک جائزے The Big Read میں 74ویں نمبر پر رکھا کیا گیا۔ 2012 میں اسے امریکی ماہانہ سکول لائبریری جرنل کی طرف سے ترتیب کردہ جائزے میں بچوں کے بہترین ناولوں میں 30 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ٹائم میگزین نے اپنی ’’بچوں کی 100 بہترین کتابیں‘‘ نامی فہرست میں ’’مٹیلڈا‘‘کا نام دیا۔ 2012 میں برطانیہ کی رائل میل نے مٹیلڈا ورم ووڈ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ پرجاری کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب شائع ہونے کے اگلے ہی سال ’’مٹیلڈا‘‘کو 1989 کا ریڈ ہاؤس چلڈرن بک ایوارڈ دیا گیا۔ 2000 میں، اسے بلیو پیٹر بک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ ٹاپ 100 میں رولڈ ڈال کی چار کتابوں میں پہلی کتاب تھی، یہ تعداد کسی بھی دوسرے مصنف سے زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں اس کتاب کی فروخت 17 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور 2016 کے بعد سے مٹیلڈا نے فروخت میں رولڈ ڈال کی دیگر تمام کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرولڈ ڈال کو بخوبی یاد تھا کہ بچوں کی دنیا میں رہنا کیسا ہوتا ہے اور اس نے مٹیلڈا لکھتے وقت ایسے حالات کو مدنظر رکھا۔ رولڈ ڈال سے منسوب ایک قول کے مطابق زندگی کو بچوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہو گا اور اپنے اوپر بڑوں کی طرف دیکھنا ہو گا، جو ہر وقت آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی سخت گیر بڑوں پر مٹیلڈا کے کردار کی فتح اسی نظریہ پر مبنی ہے۔ مٹیلڈا نے 1988 میں چلڈرن بک ایوارڈ جیتا اور 1999 میں اسے سات سے گیارہ سال کی عمر کے 15,000 بچوں پر مشتمل ورلڈ بک ڈے سروے میں بچوں کی سب سے مقبول کتاب قرار دیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370028413113,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a44a803505a51782884355.jpg?v=1785194581"},{"product_id":"purana-kunwan-پرانا-کنواں","title":"PURANA KUNWAN پرانا کنواں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/tahir-javed-mughal\"\u003eTAHIR JAVED MUGHAL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 192\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eبڑوں کے لیے تو بہت کچھ لکھا، مگر دل میں ہمیشہ ایک خلش سی رہی کہ اپنی بساط کے مطابق نونہالوں کے لیے بھی کچھ تخلیق کیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ بچوں کے لیے، اُنہی کی سطح پر آ کر لکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہے، اس کا عملی تجربہ مجھے اِس تحریر کے دوران ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبک کارنر جہلم کے گگن اور امر صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس کتاب کو بھی پوری توجہ اور دل جمعی سے سجایا سنوارا ہے۔ محترمہ فاطمہ راحی نے ناول کے مرکزی خیال کے عین مطابق خوبصورت تصاویر بنا کر گویا بچوں کے دل جیت لیے ہیں۔ کتاب کا دیدہ زیب سرورق بھی ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eیہ تین ایسے بچوں کی کہانی ہے جو سیر و تفریح کی غرض سے گھر سے نکلے، مگر پھر اچانک سنگین واقعات اور حادثات کے بھنور میں پھنستے چلے گئے۔ وہ اپنی ذہانت، دلیری اور ایک مہربان شخص کی مدد سے ان کٹھن حالات سے کیسے ٹکر لیتے ہیں؟ یہ ایک ایسی دلچسپ روداد ہے جو قدم قدم پر آپ کو حیران کرے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپیارے بچو! آپ کو شاید پوری طرح یہ احساس نہ ہو کہ گھر سے باہر جب چند لمحوں کے لیے بھی آپ اپنے بڑوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہے۔ خدا نہ کرے کہ یہ چند لمحے، ہفتوں اور مہینوں کی جدائی میں بدل جائیں، اگر ایسا ہو تو سوچیں کہ آپ کے والدین اور اہلِ خانہ پر کیا قیامت گزرے گی!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپیارے بچو! موجودہ ڈیجیٹل دور میں آپ کے لیے احتیاط پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ یاد رکھیے کہ برے لوگوں کے پاس آپ کو بہکانے، ورغلانے اور اپنوں سے دور کرنے کے اب کئی جدید اور خطرناک طریقے موجود ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدعا ہے کہ اللہ پاک آپ سب کو اپنے پیاروں کے سائے میں ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(طاہر جاوید مُغل)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370414715065,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69f320618b44f1777541217.jpg?v=1785196790"},{"product_id":"jang-e-azeem-awwal-asl-kahani-kya-hai-جنگ-عظیم-اول-اصل-کہانی-کیا-ہے","title":"JANG-E-AZEEM AWWAL: ASL KAHANI KYA HAI? جنگ عظیم اول: اصل کہانی کیا ہے؟","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-mujahid-kamran-1\"\u003eDR MUJAHID KAMRAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9\/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370438406329,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d3b81f7433f1775482911.jpg?v=1785197336"},{"product_id":"amn-mumkin-he-امن-ممکن-ہے","title":"AMN MUMKIN HE امن ممکن ہے","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fredrik-s-heffermehl\"\u003eFREDRIK S. HEFFERMEHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/wajahat-masood-1\"\u003eWAJAHAT MASOOD\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 222\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفریڈرک ا یس ہیفرمیہل 11 نومبر 1938ء کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ اوسلو یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ وہ ناروے کے معروف قانون دان، مصنف اور امن کے فعال کارکن تھے۔ انھوں نے 1965ء سے 1982ء تک ایک وکیل اور سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا۔ وہ 1980ء سے 1982ء تک نارویجن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے پہلے سیکرٹری جنرل رہے۔ بعد ازاں انھوں نے امن اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک مصنف اور کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ ناروے کی امن کونسل کے اعزازی صدر، اور بین الاقوامی امن بیورو کے نائب صدر رہے۔ فریڈرک ہیفرمیہل جوہری ہتھیاروں کے خلاف وکلا کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن کے منتخب نائب صدر تھے۔ انھوں نے 21 دسمبر 2023 کو وفات پائی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوجاہت مسعود 1966ء میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کیا۔ برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اور یورپی قانون میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کی۔ 1994ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ پاکستانی دیہات میں بارہ برس انسانی حقوق کی تعلیم کا فرض ادا کیا۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس اور صحافت سے منسلک ہیں۔ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن پر اہلِ ثقافت سے انٹرویو کرتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 2015ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’امن ممکن ہے‘‘ ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو امن کی تحریک سے براہِ راست وابستہ نہیں ہیں۔ یہ لوگ ’’جنگیں ختم کرنے‘‘ کے نعرے میں کشش ضرور محسوس کرتے ہیں لیکن قریب قریب ایسی ہی شدّت سے یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ مقصد حقیقی دنیا میں کچھ زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب میں بہت سے معروف امن پسند اہلِ دانش نے امن کے لیے اپنی کامیاب اور متنوع کوششوں کی روشنی میں اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔ ان تحریروں میں مایوسی اور الم ناکی کی عکاسی پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جنگ اور امن کے مسائل سے نمٹنے کے عملی ذرائع اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے والے صاحبانِ علم میں سے بیشتر کا خیال ہے کہ جس روز انسانوں نے متحد ہو کر امن کو انسانی بقا کی بنیادی ترجیح قرار دینے کا فیصلہ کر لیا، اس دن دنیا کی کوئی طاقت کرۂ ارض پر قیامِ امن کو نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کی متعدد تحریروں میں پڑھنے والوں کو قیامِ امن کے لیے ان علانیہ اور پس پردہ کوششوں سے متعارف کرایا گیا ہے جنھیں حالیہ برسوں میں ’’نئی سفارت کاری‘‘ کی اصطلاح بخشی گئی ہے۔ ایسی سفارت کاری میں امن کے برہنہ پا اور تہی دست علمبردار گلی کوچوں میں بسنے والے سادھارن اور گمنام امن پسندوں کی آواز اور تحفظات کو ان راہداریوں اور ایوانوں تک لے جاتے ہیں جہاں تجربہ کار اور پیشہ ور سفارت کار ہماری دنیا کو چلانے کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eچونکہ ایسی متبادل سفارت کاری کا بیشتر کام پس منظر میں رہتے ہوئے کیا جاتا ہے، اس لیے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہماری دنیا کے بظاہر عام شہری امن کا عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیسے بظاہر ’’ناممکن‘‘ مرحلے طے ہو رہے ہیں۔ دو، صرف دو مثالیں لیجیے۔ امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے دنیا میں بارودی سرنگوں پر پابندی کا جھنڈا اٹھایا، نیز بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کا بِیڑا اٹھایا۔ روایتی انداز سے سوچنے والے تجربہ کار ماہرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ دونوں مقاصد ناقابلِ حصول ہیں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا ان دونوں اہداف کے لیے کوشش کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ زیرِ نظر کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یہ دونوں اہداف نہ صرف یہ کہ حاصل کر لیے گئے، بلکہ یہ بھی کہ ان کامیابیوں تک پہنچنے میں صرف پانچ برس لگے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eزیرِ نظر کتاب مئی 1999ء کی ہیگ کانفرنس اپیل برائے امن کے لیے پہلے سے تیار کردہ مواد کا حصہ ہے۔ آج سِول سوسائٹی 21ویں صدی کے لیے امن اور انصاف کا ایک نیا ایجنڈا مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ تمام جدید ہتھیار بدیہی طور پر تمام انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لیے آج روایتی فوج ہمیں تسلی بخش سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی باوجود اس کے کہ ہم سب انسان فوج اور ہتھیاروں کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مرتب فریڈرک ایس ہیفرمیہل کا پختہ یقین ہے کہ جس دن انسانوں نے بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود پائیدار امن کے لیے جدید ہتھیاروں کے ناقابلِ بھروسا ہونے کی حقیقت سمجھ لی، اس روز دنیا بھر میں کوئی طاقت امن کی تحریک کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’فوج کی پیش قدمی سے کہیں زیادہ ناقابلِ مزاحمت وہ خیال ہے جس کا وقت آ چکا ہو۔‘‘\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370449449145,"sku":null,"price":0.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69eef77a492aa1777268602.jpg?v=1785198082"},{"product_id":"masoomiyat-ka-qatl-معصومیت-کا-قتل","title":"MASOOMIYAT KA QATL معصومیت کا قتل","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/harper-lee\"\u003eHARPER LEE\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Shaukat Niazi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 302\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eجیم دھیرے سے بولا، ’’ایٹیکس؟‘‘ وہ دروازے میں مڑا اور بولا، ’’ہاں، بیٹا؟‘‘ جیم نے پوچھا، ’’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’مجھے معلوم نہیں، لیکن انھوں نے کر دیا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں، انھوں نے آج رات بھی ایسا ہی کیا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ اور جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں تو... لگتا ہے کہ صرف بچّوں کو ہی دکھ ہوتا ہے... شب بخیر!‘‘\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eامریکی مصنفہ ہارپر لی اپنے اس شہرۂ آفاق کلاسیک ناول میں سکاؤٹ فنچ اور جیم فنچ نامی دو کمسن بچوں کی معصوم نگاہوں سے انیس سو تیس کی دہائی کی جنوب امریکی ریاستوں میں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر عوام کی عمومی نامعقولیت اور تعصّب کا بیان بیک وقت انتہائی لطیف، پُرمزاح، دل کو چھو لینے والے لیکن دردناک انداز میں پیش کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک چھوٹےسے امریکی شہر کے تعصّب، تشدد اور منافقت میں ڈوبے ہوئے ضمیر کا ایک ایسے شخص سے ٹکراؤ ہوتا ہے جو انصاف کے حصول کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ کیا یہ معاشرہ اپنے درمیان سے اٹھ کھڑے ہونے والے ایک فرد کی یہ بغاوت برداشت کر پائے گا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370618532025,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69abc28ad8dee1772864138.jpg?v=1785199208"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370815107257,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69708a458e0251768983109.jpg?v=1785200140"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-paperback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ-copy","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK PAPERBACK EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے پیپربیک ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370888507577,"sku":null,"price":4500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d79351e3f8b1775735633.jpg?v=1785201268"},{"product_id":"cairo-trilogy-bayn-al-qasrayn-qasr-al-shawq-al-sukkariyya-urdu-3-volumes-box-set-قاہرہ-ٹرائلوجی-بین-القصرین-قصر-الشوق-السکریۃ-اردو-تین-جلدیں","title":"CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/naguib-mahfouz\"\u003eNAGUIB MAHFOUZ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Yaqub Yawar\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1176\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eعربی ناول نگاری کی تاریخ میں نجیب محفوظ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کے بڑے ادیب اور بیسویں صدی کے عربی فکشن کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کا مشہور کارنامہ ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ (Cairo Trilogy) ہے جس میں تین لازوال ناول شامل ہیں:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبین القصرین: یہ ناول ایک خاندان کی کہانی ہی نہیں، قاہرہ کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) کا مصر، عوامی اضطراب اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بین القصرین‘‘ نہ صرف نجیب محفوظ کے فن کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ عربی ناول کی تاریخ کا ایک عظیم موڑ بھی ہے۔ اس ناول نے عربی ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا اور عرب معاشرت کےپیچیدہ حقائق کو فکشن کی زبان میں لازوال کر دیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقصر الشوق: یہ دوسرا ناول ہے جو پہلے ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں کہانی نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس میںقاری مصر کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی فضا سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر ’’بین القصرین‘‘ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے حالات اور تحریکِ آزادی کا اثر ہے، تو ’’قصر الشوق‘‘ میں ہم بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مصر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں آزادی کے خواب، جدیدیت کی لہر اور روایتی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ نجیب محفوظ نے اس ناول میں نہ صرف قاہرہ کے گلی کوچوں کوحیاتِ جاودانی بخش دی ہے، بلکہ انسانی روح کی بےچینی اور تلاش کو بھی لازوال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’قصرالشوق‘‘ آج بھی نہ صرف عربی ادب کا اہم حوالہ ہے بلکہ یہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام کا حامل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eالسکریہ: یہ اس سلسلے کا تیسرا اور اختتامی ناول ہے، جو پہلی بار 1957ء میں شائع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوجی انقلاب (1952ء) کے بعد ایک نئی سیاسی فضا جنم لے چکی تھی۔ ’’السکریۃ‘‘ دراصل اسی تبدیلی کے بطن میں ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو زمانے کے تغیّرات کے ساتھ اپنے اقدار، نظریات اور وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ محفوظ نے اس ناول میں ماضی اور حال کے تصادم، روایت اور جدیدیت کی کشمکش، اور فرد کی داخلی تنہائی کو ایسی فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پورے مصر کی اجتماعی روح کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان گھروں، گلیوں اور چہروں سے بھی بنتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے دکھوں اور سوالوں کے ساتھ جیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370892210361,"sku":null,"price":4000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d5df106e8c61775623952.jpg?v=1785201889"},{"product_id":"gynae-feminism-4-books-set-zindagi-se-darte-ho-v-vakhri-kitab-rahem-pe-rahm-dufi-dufi-dufi-گائنی-فیمن-ازم-چار-کتابوں-کا-مجموعہ-زندگی-سے-ڈرتے-ہو-وی-وکھری-کتاب-رحم-پہ-رحم-دفعی-دفعی-دفعی","title":"GYNAE FEMINISM | 4 BOOKS SET | ZINDAGI SE DARTE HO, V: VAKHRI KITAB, RAHEM PE RAHM, DUFI DUFI DUFI گائنی فیمن ازم | چار کتابوں کا مجموعہ | زندگی سے ڈرتے ہو، وی وکھری کتاب، رحم پہ رحم، دفعی دفعی دفعی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/dr-tahira-kazmi\"\u003eTAHIRA KAZMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 856\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e\u003cbr\u003e📕 زندگی سے ڈرتے ہو \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eماضی میں اگر ان موضوعات کو شرم و حیا کے غلیظ پردوں میں لپیٹ کر عورت کی زندگی کو اہم نہیں جانا گیا تو کیا ضروری ہے کہ اکیسویں صدی کی عورت بھی غاروں اور جنگلوں میں رہنے والوں کی سی زندگی بسر کرے۔ جسم کو سمجھنا اور اس کے متعلق بات کرنا بنیادی انسانی حق ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📘 وِی: وَکھری کتاب\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسوچیے ایسی عورت معاشرے کو کیا دے سکتی ہے جو اپنے جسم کے ایک اہم عضو کا نام تک نہیں لے سکتی اور تکالیف دور کرنے کے لیے سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے ان ٹوٹکوں کا سہارا لیتی ہے جو ماؤں اور نانیوں دادیوں کی سرگوشیوں کی صورت اس تک پہنچتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📕 رحم پہ رحم \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعورت اکائی ہے اور کوئی بھی معاشرہ اور ادب اس وقت تک ثمر آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنت اور بنے گئے الفاظ اس اکائی کے گرد نہ گھومتے ہوں۔ عورت کا دکھ سکھ، کرب و آگہی، مسائل و تکالیف جہالت کے پردے ہٹا کر زندگی کے سٹیج پر لے آنا ہی اصل ادب ہے اور ادیب کو حیاتِ جاوداں تب ہی نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنے الفاظ کو ہچکچاہٹ، انا، جھوٹی شرم و حیا اور مصنوعی اقدار و روایات کے نقاب نہ پہنائے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دفعی دفعی دفعی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدرد جسم اور اعضا سے اُٹھتا ہو یا دل کے نہاں خانوں میں دوڑتا ہو یا روح کے پوشیدہ احساس سے جنم لیتا ہو ، عورت سراپا درد ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے ایسی آنکھ اور ایسا دل چاہیے جو اسے اپنے جیسا سمجھے، اپنے جیسا انسان!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ایک پیش رو، ڈاکٹر طاہرہ خاموشی، منافقت اور ظلم کو توڑ رہی ہیں، اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ (زبیدہ مصطفی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہم سب مرحوم شوکت علی کاظمی کے ممنونِ احسان ہیں جنھوں نے طاہرہ جیسی سرشور بیٹی اس سماج کو دی۔ (زاہدہ حنا )\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ کاظمی نے اپنے کالموں میں، عورتوں کے حق میں آواز اُٹھاتے ہوئے، مردانہ برتری کے علم بردار معاشروں کی چیرپھاڑ کرنے میں کمی نہیں چھوڑی۔ (محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ وہ کہتی ہے ’’میں فیمینسٹ نہیں ہوں‘‘، اسے ظاہری سلوگنز سے نفرت ہے، وہ اندر سے سچی اور زبان سے کڑوی عورت ہے۔ (کشور ناہید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ طاہرہ بیدار ذہن، نڈر اور بےباک لکھاری ہیں تلخ باتیں کہنے کا ہنر انھیں آتا ہے۔ (افتخار عارف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی عورتوں کی جسمانی تکالیف کا مداوا یا علاج ہی نہیں کرتیں بلکہ بہت ہی لطیف اور ہنر مندانہ انداز میں کاؤنسلنگ کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ (خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ ہمیں ایک طاہرہ کاظمی نہیں طاہرہ کاظمی ازم کی ضرورت ہے۔ (انور سن رائے)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e◼️ اکیسویں صدی میں اُردو زبان طاہرہ کاظمی کی احسان مند رہے گی کہ انھوں نے صنفی امتیاز کی ناانصافی کی مخالفت میں احتجاج کی تپش کو اُردو کا قالب بخشا۔ (وجاہت مسعود)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380320612537,"sku":"BC SSH 4","price":3500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69c3a6f1a8c021774429937.jpg?v=1785247966"},{"product_id":"the-giver-urdu-دی-گیور-اردو","title":"THE GIVER - URDU دی گیور - اردو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/lois-lowry\"\u003eLOIS LOWRY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Asma Hussain\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 174\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eایک زبردست اور ذہن کو جھنجوڑ دینے والا ناول۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہایت مہارت سے بُنی ہوئی کہانی، جس میں یوٹوپیائی معاشرے کا کھوکھلا پن اور ہو لناکی بتدریج ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک فکر انگیز ناول۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— کرکس رِیویوز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری ایک بار پھر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ وہ بے شمار سوالات اٹھاتی ہیں مگر جواب کم دیتی ہیں، متجسس قارئین کے لیے پرت در پرت آشکار ہوتی کہانی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری کی نثر کی سادگی اور سلاست قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— بُک لسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤر ی نے ایک خوبصورت اور فکر انگیز سائنس فکشن ناول لکھ ڈالا ہے۔ کہانی مہارت سے بُنی گئی ہے؛ اورایک اَن دیکھی بے چینی کی فضا دھیرے دھیرے کہانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور آزادی اور تحفظ کے درمیان توازن کا موضوع نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ہارن بُک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دی گیور‘‘ ایسی باتیں کرتا ہے جنھیں بار بار دہرایا نہیں جا سکتا اور مجھے امید ہے کہ بہت سے نوجوان اِن باتوں پر توجہ دیں گے۔ ایک تنبیہ کہانی کے روپ میں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— واشنگٹن پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤری (پیدائش: 20 مارچ 1937ء) ایک معروف امریکی مصنفہ ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، جو اکثر ڈسٹوپیا، یادداشت اور انسانی تعلقات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاؤری کو سب سے زیادہ ان کی ’’دی گیور‘‘ (The Giver) سیریز کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر پہلی کتاب دی گیور) 1993ء( کے لیے جو ایک کنٹرولڈ معاشرے کی کہانی ہے۔ ان کی تخلیقات کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں، جن میں دو نیوبیری میڈلز بھی شامل ہیں۔ پہلا ’’نمبر دی سٹارز‘‘ (1989ء) کو دیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں ایک تاریخی ناول ہے اور دوسرے میڈل سے ’’دی گیور‘‘ کو نوازا گیا۔ لوئس لاؤری کی تحریریں نوجوان قارئین کو نہ صرف داستان گوئی سے محظوظ کراتی ہیں، بلکہ انھیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید دور کی سب سے مؤثر اور بااثر مصنّفین میں شمار ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسماء حسین کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پاکستان سٹڈیز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد کے گورنمنٹ کالجز اور ایک امریکن یونیورسٹی میں بطور اُردو لیکچرر تدریس کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی عالمی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل کتاب ’’تین درویش‘‘، نوبیل انعا م یافتہ ادیبہ ہان کانگ کے مشہور ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’شاکاہاری‘‘ اور مشہور اسرائیلی ادیب کی مختصر کہانیوں کے تراجم ’’پائپس اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’ خانہ روشن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانوں کے تراجم اور ان کے اپنے افسانے مختلف آن لائن جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسماء حسین آج کل ڈنمارک میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380644720825,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d0bd991dec41775287705.jpg?v=1785249865"},{"product_id":"ikees-aik-so-baais-اکیس-ایک-سو-بائیس","title":"IKEES AIK SO BAAIS اکیس ایک سو بائیس","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/khalid-jawed\"\u003eKHALID JAWED\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 239\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کی نثر سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ خالد جاوید کی نثر کیکڑے کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں سب کچھ سمیٹتے ہوئے۔ ان کی نثر ہر ناپسندیدہ چیز کا بوجھ اٹھاتی ہے، اسی لیے لوگ اس سے آنکھ چراتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے افسانے کو عام بیانیے کی سطح سے اٹھا کر کسی طرح کے روحانی منشور کا درجہ عطا کردیتی ہیں۔ اس بیانیے کا ہی کمال ہے کہ ’’نعمت خانہ‘‘ جیسا ناول اُردو تو اُردو، انگریزی زبان میں بھی شاید ہی لکھا گیا ہو۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمس الرحمٰن فاروقی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانیاں بہت اکیلی اور بےمیل اور ہر طرح کی باہری امداد اور سہارے سے محروم ہیں۔ ان کو سہارا ملتا ہے اپنی گھنی سرکش زبان اور ہر طرح کی بندشوں کو خاطر میں نہ لانے والے بیان سے۔ یہ کہانیاں قرۃالعین حیدر، انتظار حسین اور نیرمسعود کی کہانیوں سے تو الگ ہیں ہی، ہم عصر لکھنے والوں سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ گہرے وجودی سوالات اور فکری بحثوں کے پہلو خالدجاوید کے یہاں اس خاموشی کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، جیسے ٹہنیوں پر انکھوے اور کونپلیں پھوٹتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—شمیم حنفی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کا بیانیہ زندگی کے اصل جوہر سے مماثل ہے۔ وہ ایک ہی کہانی میں لگاتار مختلف اشکال اختیار کرتا جاتا ہے۔ عقل اور پاگل پن، سنجیدہ اور کامک، اصل اور نقل، دکھ اور قہقہہ اور ایسے ہی دوسرے متضاد عناصر اتنی سرعت اور تیزی کے ساتھ ان کے بیانیے میں آتے جاتے رہتے ہیں کہ بیانیہ کو اس کی اصل ماہیت میں گرفت میں لے پانا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے، جتنا کہ ’وقت‘ کو گرفت میں لے پانا۔ خالدجاوید کے اس بیانیے کا کوئی رول ماڈل مجھے ہندوستانی ادب میں نہیں نظر آیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ادّین باجپئی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eہیئت کا نستعلیق حسن خالدجاوید کے بیانیہ کا وصف ہے۔ زبان و بیان پر انھیں غیرمعمولی قدرت حاصل ہے۔ افسانے کا ایسا حسنِ تعمیر میں نے اور کہیں نہیں دیکھا۔ خالدجاوید کی نگاہِ تخیل ہر جگہ پہنچ جاتی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے زبان بھی اپنی زنبیل لےکر باریک سے باریک جذبات اور لطیف سے لطیف احساس کو الفاظ کا جامہ پہنانے کےلیے حاضر ہوجاتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—وارث علوی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالدجاوید کے فکشن پر گفتگو کرنے کے لیے تنقید کے رسمی اور کتابی آلات تقریباً ناکافی ہیں۔ تنقید کے دستیاب آلات ناقد کی نااہلی کہ جو اس کے فکشن کی جسامت پر چست نہیں بیٹھتے۔ باربار فلسفیانہ استبعاد سے مڈبھیڑ اور زبان کی اندرونی قوتوں کو مسلسل بروئے کار لانے کا عمل ہمیں اس سے جوجھنے اور دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اتنے مراحل سے گزرنے کی جس میں تاب و توانائی ہو، اسے ہی اس سرکش دیو کو بوتل میں اتارنے کی جسارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ورنہ گفتگو سے خاموشی ہزارہا بہتر عمل ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—عتیق اللہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کی کہانی ’ادبھُت‘ ہے۔ ان کے یہاں کچھ اس قسم کی Dark Intensity ہے جو میں نے اب تک اپنی پڑھی ہوئی، ہندی تو کیا کسی عالمی کہانی میں بھی نہیں دیکھی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—نِرمل ورما\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالد جاوید کے فکشن کا ماجرا اتنا مکمل ہے کہ فارم، تکنیک یا صنف کے تعین کے سوالات غیرضروری ہوجاتے ہیں۔ ان کے یہاں کرافٹ کا شعور اتنا گہرا ہے کہ کرافٹ سادگی کے ساتھ موجود ہوتے ہوئے بھی غائب معلوم ہوتی ہے۔ یہ وژن خالدجاوید کی تازہ کاری کا جوہر ہے اور یہ جوہر انھیں معاصر اُردو افسانے میں ایک بالکل ہی منفرد انداز کا حامل بنادیتا ہے، جس کے موجد بھی وہ نظر آتے ہیں اور خاتم بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—آصف فرّخی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبظاہر خالدجاوید کی باتیں سادہ محسوس ہوتی ہیں، مگر یہ سادگی ایک فریب ہے۔ وہ اس تضاد کو جس اسلوب میں سامنے لاتے ہیں وہ پُرفریب ہے۔ اس پر مستزاد خالدجاوید کی نثر کا بےساختہ پن اور بہاؤ۔ اس نثر میں کہیں شعریت نہیں۔ نثریت اپنے کمال کی طرف گامزن محسوس ہوتی ہے۔ یہ نثر فی الوقت انھیں سے مخصوص ہے اور کوئی ان کا حریف نہیں۔ معاصر اُردوفکشن میں بھی ان کا کوئی حریف نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e—ناصر عباس نیّر\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380890677433,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aedd829f05c1773067650.jpg?v=1785251080"},{"product_id":"allah-miyan-ka-kaarkhana-اللہ-میاں-کا-کارخانہ","title":"ALLAH MIYAN KA KAARKHANA اللہ میاں کا کارخانہ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/mohsin-khan\"\u003eMOHSIN KHAN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 310\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمیں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی کبھی بچہ تھا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ پڑھا تو یاد آیا کہ کبھی میں بھی اپنی سہمی سہمی آنکھوں سے اُس عجیب کارخانے کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا! میں بھی طرح طرح کے سوالات کیا کرتا تھا! کبھی خود سے اور کبھی دوسروں سے۔ میں بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کون کر رہا ہے؟ ایک پیڑ کے سارے پھول ایک جیسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ خوشبو کیا چیز ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ جب طوطا بول سکتا ہے تو کتا کیوں نہیں بولتا؟ اگر اللہ سب کچھ دیکھتا ہے تو کہاں سے دیکھتا ہے؟ وہ کہاں چھپا رہتا ہے کہ ہمیں تو دیکھ سکتا ہے مگر ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ہیں؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ کا وہ بچہ جو حادثات، واقعات اور سوالات کے جنگل میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، اکیلا نہیں ہے! وہ بچہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ہے۔ وقت نے اس سے اس کی معصومیت چُرا لی ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہ مایوس نہیں ہے، اسے یقین ہے کہ ایک دن اس کو سب کچھ مل جائے گا، وہ بھی جو اُس سے چھین لیا گیا ہے اور وہ بھی جو اُس کا حق ہے۔ خواہش اور کوشش کا یہ سفر کتنا لمبا ہے، کسے معلوم ہے؟\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیرے خیال میں برادرِ محترم محسن خان کا ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ ایک ناول نہیں ہے، بلکہ ایک کیفیت ہے جس کا لطف اسے محسوس کرنے میں ہے، بیان کرنے میں نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(جاوید صدیقی)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپکاسو نے ایک بار اپنی پینٹنگز کے حوالے سے کہا تھا کہ میں دنیا کو بچوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محسن خان کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ مجھے ایک ایسے البم کی طرح نظر آتا ہے جس کی ہر تصویر کو ایک بچے کی آنکھ نے اپنے معصوم آنسوؤں سے رنگا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں اُردو میں جو ناول منظرِ عام پر آئے ہیں، ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اُن سب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام کا حامل ہے۔ خدا، کا ئنات اور انسان کے باہمی رشتوں سے بننے والی تکون کو محسن خان نے جس سادگی مگر فنکاری کے ساتھ بیان کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ناول کے بیانیہ میں بالائی سطح پر بغیر کسی مابعد الطبیعیاتی ڈسکورس کا پرچار کیے، گہرے مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی سوالات، ناول کے متن میں اسی طرح سامنے آ جاتے ہیں جیسے انکھوئے سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ میں محسن خان کی اس بہترین تخلیق کے لیے اُنھیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eقاری کی اُنگلی پکڑ کے اُسے ایسی مہارت اور ہنرمندی سے اُس عالمِ حیرت میں لے جانا جسے ہم بچپن کہتے ہیں کہ وہ انگشتِ بدنداں وہاں یکسر کھو جائے اور واپس آنے کا نام نہ لے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو کوئی ڈکنز، مارک ٹوین، ہارپر لی، الطاف فاطمہ یا جے ڈی سالنجر جیسا قلم کارِ ساحر نُما ہی کر پاتا ہے۔ ایک بچے کے زاویۂ نظر سے لکھے محسن خان کے اس دل موہ لینے والے ناول میں ہمیں ایسی ہی ساحری نظر آتی ہے۔ معصومیت کے دیس میں جہاں ہمیں تجسّس، انکشاف، برجستگی اور معنویت کے بہت سے پہلو ملتے ہیں وہیں اس کی فضا میں قلابازیاں کھاتی رنگین پتنگوں کا چلبلاپن، فروری کے نئے کھلے پھولوں کی تازگی، اور کھلنڈرے بچوں کی کھلکھلاہٹ نمایاں ہے۔ زندگی اکثر اپنا مکھوٹا اتار کر ایک سے ایک بھیانک چہرہ دکھاتی ہے۔ لیکن اللہ میاں کے کارخانے کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے، اس کے المیوں اور محرومیوں سے سمجھوتا کرتے کرتے، اور اس میں خوشگوار لمحوں کو جاتی پگڈنڈیوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کم سن جبران ہم بالغوں کو جینے کے بہت سے گُر سکھاتا ہے۔ اور تعصب، ریاکاری اور بغض سے پاک ایک روشن خیال زندگی گزارنے کی ہمت دیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(اسامہ صدیق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380992684217,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69a040b66fdfc1772110006.jpg?v=1785251603"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/urdu-books.oembed?page=2","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}