{"title":"Urdu Calssics","description":null,"products":[{"product_id":"chehra-ba-chehra-roo-ba-roo-چہرہ-بچہرہ-روبرو","title":"CHEHRA BA-CHEHRA ROO BA-ROO چہرہ بچہرہ روبرو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 143\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch6 class=\"mt-2\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cstrong\u003eAuthor Biography:\u003c\/strong\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی کا ناول ’’چہرہ بچہرہ روبرو‘‘ محض نفسیاتی یا معاشرتی ناول نہیں بلکہ ایک تاریخی اور سوانحی ناول ہے جس کا مرکزی کردار قرۃ العین طاہرہ\/ام سلمیٰ( فاطمہ زرّیں تاج) ہے، ایران کی بابی تحریک سے وابستہ ایک غیر معمولی شخصیت؛ جو رویا میں آنے والے زمانے کے کسی طاقت کے سر چشمے کی تاہنگ میں تھی۔ کربلا کی تمثیل سے آغاز پانے والے اور شہدائے کربلا کے غم میں رچے بسے بیانیے کے اس ناول میں مصنفہ نے انیسویں صدی کے ایرانی معاشرے، مذہبی تحریکوں اور ایک غیر معمولی عورت کی فکری و روحانی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ایک ایسی غیر معمولی عورت جو اپنے علم، فصاحت، شاعرانہ صلاحیت اور فکری آزادی کے باعث اپنے عہد کی روایتی عورتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں عورت کی علمی اور سماجی آزادی محدود تھی، مگر اپنے غیر معمولی علم و شعور کے باعث روایت کے بنائے ہوئے حصار کو توڑنے کی کوشش میں رہی اور ناول میں محض ایک تاریخی کردار کی بجائے حق کی تلاش، فکری آزادی اور روحانی اضطراب کی نمائندہ علامت ہو گئی۔ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں قرۃ العین کی شاعری، خیالات اور روحانی بےقراری کو بڑی فنکاری سے پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے ایران کے متوسط طبقے کی معاشرت، مذہبی فضا، رسم و رواج اور سیاسی حالات کو کہانی میں سمو دیا ہے۔ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی تشکیل اور واقعات کی معنویت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے شاعرانہ اور علامتی اسلوب ، کرداروں کی داخلی کیفیات، مکالموں کی فکری گہرائی اورجزیات کے ساتھ منظرنگاری نےناول کو تخلیقی وقار عطا کیا ہے۔ خصوصاً قرۃ العین طاہرہ کے کردار کے ذریعے عورت کی فکری خود مختاری اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اُردو کے اہم تاریخی اور فکری ناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔\u003cbr\u003e(محمد حمید شاہد)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eقرۃ الـــــعـــــین طــــاہــــرہ۔ جنابِ طاہرہ۔ زرّیں تاج۔ اُمِ سلمٰی۔ قزوین کی شاعرہ۔ وہ جو اپنے جمالِ خاص کی وجہ سے بھی معروف تھی۔ ایک عارفہ۔ بابی مذہبی تحریک کا ایک کلیدی کردار۔ عورتوں کے حقوق کی بےباک علمبردار۔ ایک واعظہ۔ ایک باحثہ۔ ایک عالمہ۔ حق اور سچ کی پُرشوق متلاشی۔ سوز اور غنائیت سے لبریز کلام کہنے والی۔ خالقِ کائنات سے چہرہ بچہرہ رو برو ہونے کے لیے ہر لمحہ مضطرب۔ ہر ساعت مشتاق۔ تخلیق کے ہوشربا رازوں سے پردہ اٹھانے کی شدّت سے خواہش مند۔ جاوید نامہ میں غالب اور حلّاج کے شانہ بشانہ۔ رومی اور اقبال سے فلکِ مشتری میں تصوّف کے ارفع معاملات پہ مکالمہ کرنے والی۔ سفرِ مدام سفر کا رستہ چننے والی۔ وہ جس کی نوائے طاہرہ نے عشقِ حقیقی کے رازدان اقبال کے دل پر انتہائی گہرا اثر چھوڑا۔ ایسے بلند روحانی مرتبے کے باوجود انیسویں صدی کے فارس میں بسنے والی یہ عظیم ہستی اسرار اور نسیان کے دھندلکوں میں کھو چکی ہے۔ جمیلہ ہاشمی کی یہ دل کو موہ لینے والی تحریر اس غیرمعمولی شخصیت، اس کے ہنگامہ خیز زمانے اور اس کی نہایت کٹھن فکری اور روحانی سرگزشت کی عمیق جستجو بھی ہے اور دل گداز روئیداد بھی۔ اور اپنائیت، عقیدت اور محبت میں گُندھا ہوا خراجِ عقیدت بھی۔ جمیلہ ہاشمی نے جس مہارت اور عمدگی سے تاریخ کے اس پیچیدہ اور نت نئی مذہبی تعبیرات، تحریکوں، فتنوں اور فسادات سے بھرپور دور اور قرۃ العین طاہرہ کے جذباتی، روحانی اور مابعد الطبیعیاتی مخمصوں، دبدھاؤں، وسوسوں اور اذیتوں کا احاطہ کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے۔ طاہرہ جس بے مثال سوز، حزن اور انتہائے عشق کے اظہار کی بابت زندہ جاوید ہیں وہ کیفیت، شدّت اور جذبہ جمیلہ ہاشمی کی نثر میں سرایت کر کے اسے بھی آنے والے وقتوں کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔ اُردو ادب کے اس جوہرِ بیش بہا کی دل کش اشاعتِ نو اتنی ہی خوش آئند ہے جیسے کسی پُرمسرت بشارت کا ظہور۔\u003cbr\u003e(اسامہ صدیق)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eروہی، چہرہ بچہرہ رو برو، دشتِ سوس کی دنیا فنی لحاظ سے تلاشِ بہاراں، آتشِ رفتہ، آپ بیتی جگ بیتی اور اپنا اپنا جہنم سے مختلف دنیا ہے۔ آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی کی دنیا برصغیر ہی کے لوکیل (Locale) سے تعلّق رکھتی ہیں۔ روہی سے چہرہ بچہرہ رو برو، ہر چند کہ نئی کہانی ہے، نئی تاریخ ہے، نئی لینڈ سکیپ ہے لیکن روہی میں جس زندگی کی تڑپ ہے وہ قرۃ العین طاہرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔\u003cbr\u003e(محمد علی صدیقی)\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e’’چہرہ بچہرہ رو برو‘‘ اس طور اُردو کے بڑے تاریخی ناولوں سے الگ ہے کہ ان میں عموماً ناول نگار ایک وسیع کائنات میں کھڑا ہو کر دیکھتا ہے کہ تاریخ کس طرح انسانوں کی اٹل تقدیر بن گئی ہے۔ یہاں جمیلہ ہاشمی نے ایک جہت کا اضافہ یہ کیا کہ کردار کے داخل سے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ موجود تاریخ کس طرح ایک شخصیت کی تعمیر میں شامل ہوتی ہے اور پھر کیسے اس کی کیمیاوی ہیئت بدل جاتی ہے اور ایک انسانی میڈیم سے گزرنے کے بعد اس کی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اس سارے عمل کے مطالعے کے لیے بہت چھوٹی چھوٹی لکیروں سے منظر بنائے گئے ہیں، مرتکز اور تاثر کے نقطے خلق کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب کردار اور تاریخ کے رشتے کے مطالعے کی حیثیت سے تو خیر بہت اہم ہے ہی، اُردو ناولٹ کی رَو میں ایک منفرد اضافہ بھی ہے اور خود جمیلہ ہاشمی کے ہاں فن کی ایک نئی اور انوکھی سطح۔ \u003cbr\u003e(سراج منیر)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48367850684601,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1443.jpg?v=1785192590"},{"product_id":"parai-aag-latini-amriki-khawateen-ki-muntakhab-kahaniyan-پرائی-آگ-لاطینی-امریکی-خواتین-کی-منتخب-کہانیاں","title":"PARAI AAG: LATINI AMRIKI KHAWATEEN KI MUNTAKHAB KAHANIYAN پرائی آگ: لاطینی امریکی خواتین کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/altaf-fatima\"\u003eALTAF FATIMA\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eEditor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/alberto-manguel\"\u003eALBERTO MANGUEL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 236\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eسیاسی اقتدار اور معاشی خوش حالی کا بھی کسی علاقے یا ملک کے ادب کو دنیا میں نمایاں مقام عطا کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی امریکا کے ادب پر ایک مدت تک بہت کم توجہ دی گئی۔ حالانکہ سترھویں صدی میں جو انقلابی نسوانی آواز سسٹر ہوانا اینس دے لاکرث نے بلند کی تھی وہ قابلِ تقلید تھی۔ لیکن مردانہ بالادستی کے خلاف اس واشگاف انداز میں اظہارِ خیال کو استثنائی اور اتفاقی روگردانی سمجھا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپھر زمانے نے کروٹ لی اور آج یہ کہنے میں مضا ئقہ نہیں کہ فکشن ہو یا شاعری، تخلیقی سرگرمی کے ضمن میں جنوبی اور وسطی امریکا کو ’’بیسویں صدی میں‘‘ ایک اندازِ نو کا مرکز قرار دینا انسب ہو گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ادبی ریلے میں، جو دنیا کو چونکا گیا، خواتین کیوں پیچھے رہتیں۔ زیرِ نظر انتخاب میں لاطینی امریکا کی خواتین کے چنیدہ افسانے شامل ہیں جو اس عجیب و غریب خطۂ ارض کی بوالعجبیوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ غالباً سب سے نرالا افسانہ ایلینا پونیاٹائوسکا کا ہے جس میں طنز و مزاح کی زیریں رو کھلبلی سی مچائے رکھتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان افسانوں کا ترجمہ معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ نے کیا ہے۔ ان کی شستہ نثر پڑھ کر آپ ایک نئے ذائقے سے محظوظ ہوں گے۔ ایک دور افتادہ دنیا کے یہ بیانیے جو نامانوس بھی لگیں گے، اور کہیں کہیں جانے پہچانے بھی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد سلیم الرحمٰن)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48369154031801,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/IMG-1458.jpg?v=1785191752"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-hardback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK HARDBACK COLLECTOR’S EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے مجلد کولیکٹرز ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370815107257,"sku":null,"price":6000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69708a458e0251768983109.jpg?v=1785200140"},{"product_id":"lord-of-the-rings-urdu-3-book-paperback-collector-s-edition-box-set-لارڈ-آف-دی-رنگز-اردو-تین-حصے-مجلد-کولیکٹرز-ایڈیشن-باکس-سیٹ-copy","title":"LORD OF THE RINGS (URDU) – 3-BOOK PAPERBACK EDITION BOX SET لارڈ آف دی رنگز (اردو) - تین حصے پیپربیک ایڈیشن باکس سیٹ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/j-r-r-tolkien-1\"\u003eJ. R. R. TOLKIEN\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 1224\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e💥 ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا پہلی بار مکمل اُردو ترجمہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e🔸 محدود تعداد میں شائع ہونے والا ڈیلکس کولیکٹرز ایڈیشن\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 پہلی کتاب — انگوٹھی کا ساتھ (The Fellowship of the Ring)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 دوسری کتاب — دو مینار (The Two Towers)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e📙 تیسری کتاب — بادشاہ کی واپسی (The Return of the King)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eترجمہ: شوکت نواز نیازی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناشر: بک کارنر، پاکستان\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e▪️ تین جلدیں ▪️ کُل صفحات 1224 ▪️ ہارڈ بیک ▪️ باکس سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانٹرنیشنل سٹینڈرڈ بک نمبر (ISBN): 978-969-662-658-9\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشہرۂ آفاق طویل طلسماتی داستان ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ (The Lord of the Rings) بیسویں صدی کے عظیم انگریزی ادیب اور ماہر لسانیات جے آر آر ٹولکین (J R R Tolkien) کا لافانی شاہکار ہے۔ 1937ء اور 1949ء کے درمیان مراحل میں تحریر کردہ لارڈ آف دی رنگز کا شمار دنیا کی کامیاب ترین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2021ء تک اس کتاب کے 60 کروڑ نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ یوں اس کا شمار عالمی فکشن میں آج تک شائع ہونے والی دس مقبول ترین کتابوں میں ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ پہلی بار تین جلدوں میں شائع کی گئی، جن کے نام ’’انگوٹھی کا ساتھ‘‘ (The Fellowship of the Ring)، ’’دو مینار‘‘ (The Two Towers) اور ’’بادشاہ کی واپسی‘‘ (The Return of the King) تھے۔ یہ تینوں کتابیں علی الترتیب 29 جولائی 1954ء، 11 نومبر 1954ء اور 20 اکتوبر 1955ء کو لندن سے منظرِ عام پر آئیں۔ 1957ء میں اِن تینوں جلدوں کا یکجا ایک باکس ایڈیشن نکالا گیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنامور مترجم شوکت نواز نیازی نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کی تینوں جلدوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل ٹولکین کے ناول ’’دی ہابٹ‘‘ کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔ ’’دی ہابٹ‘‘ کو ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ کا ابتدائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف اور خوب صورت ڈبے سے آراستہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانگریزی زبان کے قارئین کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: جنھوں نے ’’لارڈ آف دی رنگز‘‘ اور ’’دی ہابٹ‘‘ پڑھ رکھے ہیں اور جو انھیں پڑھیں گے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سنڈے ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان کتابوں کا حُسن ہی ہے جو تلوار کی مانند کاٹتا ہے یا سرد فولاد کی مانند \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eجلا دیتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو آپ کا دل توڑ کر رکھ دے گی۔ ان کتابوں کا اسلوب شاندار اور جاندار ہے کیونکہ چند ’’اچھے‘‘ کرداروں کے تاریک پہلو بھی ہیں اور اسی طرح کچھ ’’برے‘‘ کرداروں میں ’’اچھی‘‘ ترنگ یا تحریک پائی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼سی ایس لیویس (شہرۂ آفاق طلسماتی سلسلے ’’کرانیکلز آف نارنیا‘‘ کے مصنف)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ آج تک اس صنف میں لکھی جانے والی بہترین کتاب پڑھنے سے محروم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼کینیتھ ایف سلیٹر (نیبولا سائنس فکشن جریدے کے نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمہماتی کہانی سے پہلی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ متنوع اور پُرجوش ہو… ٹولکین کی تخلیقی قوت کبھی ماند نہیں پڑتی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (ممتاز انگریزی شاعر اور نقاد)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایک شاہکار کہانی… اپنی نوعیت میں ایک رزمیہ داستان… جس میں اعلیٰ درجے کی مہم، تجسّس، اسرار، شاعری اور فینٹسی کے عناصر شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e✍🏼بوسٹن سنڈے ہیرلڈ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370888507577,"sku":null,"price":4500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d79351e3f8b1775735633.jpg?v=1785201268"},{"product_id":"aap-beeti-jag-beeti-آپ-بیتی-جگ-بیتی","title":"AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/jamila-hashmi\"\u003eJAMILA HASHMI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 248\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔ \u003cbr\u003eبک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔ \u003cbr\u003eجمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔ \u003cbr\u003eفنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔\u003cbr\u003e(طاہرہ اقبال)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386020540601,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69392b684d5f11765354344.jpg?v=1785286071"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/urdu-calssics.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}