{"title":"World Fiction in Urdu","description":null,"products":[{"product_id":"matilda-illustrated-مٹیلڈا","title":"MATILDA (ILLUSTRATED) مٹیلڈا","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/roald-dahl\"\u003eROALD DAHL\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/shaukat-nawaz-niazi\"\u003eSHAUKAT NAWAZ NIAZI\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 223\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003e’مٹیلڈا‘‘ ایک غیرمعمولی ذہانت کی حامل بچی کی کہانی ہے جسے اپنے والدین کی جانب سے بےاعتنائی اور سکول میں اپنی ہیڈ مسٹریس مس ٹرنچ بُل کی جانب سے بےجا سختی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ اپنی مقبولیت کی بِنا پر اس کتاب کو مختلف ذرائع ابلاغ میں ڈھالا گیا ہے، جس میں اداکارہ جولی رچرڈسن، مریم مارگولیس اور کیٹ ونسلیٹ کی آڈیو ریڈنگ بھی شامل ہے۔ مشہور اداکار ڈینی ڈویٹو کی ہدایت کاری میں 1996 کی فلم Matilda پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں دو حصوں پر مشتمل بی بی سی 4 کا ریڈیو پروگرام، لندن کے ویسٹ اینڈ پر پیش کیا گیا۔ 2022 میں تھیٹر میوزیکل پر ترتیب دی گئی فلم Matilda the Musical ریلیز ہوئی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2003 میں ’’مٹیلڈا‘‘ کو بی بی سی کی جانب سے مرتب کردہ سو بہترین برطانوی ناولوں کے ایک جائزے The Big Read میں 74ویں نمبر پر رکھا کیا گیا۔ 2012 میں اسے امریکی ماہانہ سکول لائبریری جرنل کی طرف سے ترتیب کردہ جائزے میں بچوں کے بہترین ناولوں میں 30 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ٹائم میگزین نے اپنی ’’بچوں کی 100 بہترین کتابیں‘‘ نامی فہرست میں ’’مٹیلڈا‘‘کا نام دیا۔ 2012 میں برطانیہ کی رائل میل نے مٹیلڈا ورم ووڈ کے نام سے یادگاری ڈاک ٹکٹ پرجاری کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکتاب شائع ہونے کے اگلے ہی سال ’’مٹیلڈا‘‘کو 1989 کا ریڈ ہاؤس چلڈرن بک ایوارڈ دیا گیا۔ 2000 میں، اسے بلیو پیٹر بک ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ ٹاپ 100 میں رولڈ ڈال کی چار کتابوں میں پہلی کتاب تھی، یہ تعداد کسی بھی دوسرے مصنف سے زیادہ تھی۔ دنیا بھر میں اس کتاب کی فروخت 17 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور 2016 کے بعد سے مٹیلڈا نے فروخت میں رولڈ ڈال کی دیگر تمام کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرولڈ ڈال کو بخوبی یاد تھا کہ بچوں کی دنیا میں رہنا کیسا ہوتا ہے اور اس نے مٹیلڈا لکھتے وقت ایسے حالات کو مدنظر رکھا۔ رولڈ ڈال سے منسوب ایک قول کے مطابق زندگی کو بچوں کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے لیے آپ کو اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہو گا اور اپنے اوپر بڑوں کی طرف دیکھنا ہو گا، جو ہر وقت آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی سخت گیر بڑوں پر مٹیلڈا کے کردار کی فتح اسی نظریہ پر مبنی ہے۔ مٹیلڈا نے 1988 میں چلڈرن بک ایوارڈ جیتا اور 1999 میں اسے سات سے گیارہ سال کی عمر کے 15,000 بچوں پر مشتمل ورلڈ بک ڈے سروے میں بچوں کی سب سے مقبول کتاب قرار دیا گیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48370028413113,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a44a803505a51782884355.jpg?v=1785194581"},{"product_id":"the-giver-urdu-دی-گیور-اردو","title":"THE GIVER - URDU دی گیور - اردو","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/lois-lowry\"\u003eLOIS LOWRY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Asma Hussain\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 174\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eایک زبردست اور ذہن کو جھنجوڑ دینے والا ناول۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— نیویارک ٹائمز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنہایت مہارت سے بُنی ہوئی کہانی، جس میں یوٹوپیائی معاشرے کا کھوکھلا پن اور ہو لناکی بتدریج ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک فکر انگیز ناول۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— کرکس رِیویوز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری ایک بار پھر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ وہ بے شمار سوالات اٹھاتی ہیں مگر جواب کم دیتی ہیں، متجسس قارئین کے لیے پرت در پرت آشکار ہوتی کہانی۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— پبلشرز وِیکلی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلاؤری کی نثر کی سادگی اور سلاست قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— بُک لسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤر ی نے ایک خوبصورت اور فکر انگیز سائنس فکشن ناول لکھ ڈالا ہے۔ کہانی مہارت سے بُنی گئی ہے؛ اورایک اَن دیکھی بے چینی کی فضا دھیرے دھیرے کہانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور آزادی اور تحفظ کے درمیان توازن کا موضوع نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ہارن بُک\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’دی گیور‘‘ ایسی باتیں کرتا ہے جنھیں بار بار دہرایا نہیں جا سکتا اور مجھے امید ہے کہ بہت سے نوجوان اِن باتوں پر توجہ دیں گے۔ ایک تنبیہ کہانی کے روپ میں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— واشنگٹن پوسٹ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eلوئس لاؤری (پیدائش: 20 مارچ 1937ء) ایک معروف امریکی مصنفہ ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، جو اکثر ڈسٹوپیا، یادداشت اور انسانی تعلقات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاؤری کو سب سے زیادہ ان کی ’’دی گیور‘‘ (The Giver) سیریز کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر پہلی کتاب دی گیور) 1993ء( کے لیے جو ایک کنٹرولڈ معاشرے کی کہانی ہے۔ ان کی تخلیقات کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں، جن میں دو نیوبیری میڈلز بھی شامل ہیں۔ پہلا ’’نمبر دی سٹارز‘‘ (1989ء) کو دیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں ایک تاریخی ناول ہے اور دوسرے میڈل سے ’’دی گیور‘‘ کو نوازا گیا۔ لوئس لاؤری کی تحریریں نوجوان قارئین کو نہ صرف داستان گوئی سے محظوظ کراتی ہیں، بلکہ انھیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید دور کی سب سے مؤثر اور بااثر مصنّفین میں شمار ہوتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاسماء حسین کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پاکستان سٹڈیز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد کے گورنمنٹ کالجز اور ایک امریکن یونیورسٹی میں بطور اُردو لیکچرر تدریس کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی عالمی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل کتاب ’’تین درویش‘‘، نوبیل انعا م یافتہ ادیبہ ہان کانگ کے مشہور ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’شاکاہاری‘‘ اور مشہور اسرائیلی ادیب کی مختصر کہانیوں کے تراجم ’’پائپس اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’ خانہ روشن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانوں کے تراجم اور ان کے اپنے افسانے مختلف آن لائن جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسماء حسین آج کل ڈنمارک میں مقیم ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48380644720825,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69d0bd991dec41775287705.jpg?v=1785249865"},{"product_id":"sahar-e-bangal-bangaladeshi-adab-ki-muntakhab-kahaniyan-سحر-بنگال-بنگلہ-دیشی-ادب-کی-منتخب-کہانیاں","title":"SAHAR-E-BANGAL: BANGALADESHI ADAB KI MUNTAKHAB KAHANIYAN سحر بنگال: بنگلہ دیشی ادب کی منتخب کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Hina Jamshed\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eBinding: \u003cspan class=\"text-capitalize\"\u003eHardback\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 216\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eقوتِ تحریر بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ محمد خالد اختر کا اسلوب ایسا تھا کہ ان کی طبع زاد تحریر، ترجمہ لگتی تھی۔ حنا جمشید کا ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں طبع زاد تحریر کا ذائقہ ہے۔ رواں، سلیس، باغ کے درمیان بہتی ہوئی آہستہ رَو ندی کی طرح! \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eان بنگلا دیشی کہانیوں کا تعلق ہمارے ساتھ صرف عالمی ادب کے حوالے سے نہیں ہے۔ یہ اُس سرزمین کی کہانیاں ہیں جو کبھی ہمارے جسم کا حصہ تھی۔ اِن کہانیوں کے لکھنے والے اور اِن کہانیوں کے اندر چلنے پھرنے والے ہمارے ماں جائے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارا جسم دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ مترجم نے ان دو ٹکڑوں کو پھر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ میری رائے میں اس کی کوشش کامیاب رہی ہے۔ دنیا کو یہ دو ٹکڑے اب بھی الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جب آپ اِن کہانیوں کو پڑھیں گے تو محسوس کریں گے کہ یہ کہانیاں آپ کے اپنوں کی ہیں۔ یہ درد کتھا تقسیمِ ہند سے شروع ہوتی ہے، پھر تقسیمِ پاکستان سے ہوتی ہوئی آج کے بنگلا دیش تک پہنچتی ہے۔ ان کہانیوں میں آسام بھی ہے، جو کبھی ایک تھا، آج تین ٹکڑوں میں منقسم ہے اور اس کا چوتھا ٹکڑا بنگلا دیش میں ہے۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ انسان پر ظلم تاریخ ہی نے نہیں، جغرافیے نے بھی کیے ہیں۔ مگر یہ بات، کہانیاں، بلند آواز میں نہیں، سرگوشی میں بتاتی ہیں اور یہ حنا جمشید کا کمال ہے کہ اس نے چیخ کو سرگوشی بنا کر پیش کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(محمد اظہارالحق)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48381115302073,"sku":"BC SSH","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69ad294193b181772955969.jpg?v=1785252279"},{"product_id":"pat-jhar-ka-tufan-پت-جھڑ-کا-طوفان","title":"PAT JHAR KA TUFAN پت جھڑ کا طوفان","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/gabriel-garcia-marquez-1\"\u003eGABRIEL GARCIA MARQUEZ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Inaam Nadeem\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 158\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1955 — زمانۂ تحریر: ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘، ۔ زبان: ہسپانوی۔ نام: لا ہوخاراسکا (La hojarasca)، مصنف: گابریئل گارسیا مارکیز\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1955 — یہ ناول پہلی مرتبہ کولمبیا کے پبلشر Ediciones S.L.B. (Bogotá, Colombia) نے شائع کیا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1972 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ گریگری رباسا (Gregory Rabassa) نے “Leaf Storm” کے عنوان سے کیا۔ پہلی اشاعت میں مارکیز کی چند ابتدائی کہانیاں بھی شامل تھیں، اس لیے کتاب کا عنوان “Leaf Storm and Other Stories” رکھا گیا تھا۔ رباسا ایک ممتاز امریکی مترجم تھے جو ہسپانوی اور پرتگالی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے گابریئل گارسیا مارکیز سمیت کئی لاطینی امریکی ادیبوں کی تخلیقات کو انگریزی میں منتقل کر کے عالمی قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارکیز نے ایک بار کہا تھا کہ وہ رباسا کے انگریزی تراجم کو پڑھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اصل ہسپانوی متن سے بھی بہتر ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب، شاعر اور مترجم انعام ندیم نے گریگری رباسا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل مارکیز کا گمشدہ ناول “Until August” اور ان کی تمام کہانیاں بھی اُردو میں منتقل کر چکے ہیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026 — پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس شاہکار کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا ہے۔ اس خصوصی اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ مارکیز کا پہلا ناول ہے۔ تنہائی مارکیز کے نزدیک ایک بنیادی اہمیت کی حامل شے ہے۔ تنہائی انسانی وجود کا ناگزیر سفر ہے۔ تنہائی کے اس موضوع کو مارکیز نے پہلی بار اس ناول میں پیش کیا ہے۔ ناول میں مارکیز نے اپنے شہرۂ آفاق مگر خیالی قصبے ماکوندو کا بیان کیا ہے۔ ماکوندو کی ویرانی کو جس ہولناک مگر بے حد اچھوتے انداز میں اس ناول میں پیش کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بعد مارکیز نے ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘ اور ’’منحوس وقت‘‘ نام سے دو ناول اور لکھے مگر دراصل ’’تنہائی کے سو سال‘‘ وہ ناول ہے جس میں ہر اعتبار سے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بیج پنہاں ہیں۔ وہی انسان کی ازلی تنہائی اور وہی ویران قصبہ ماکوندو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں پوری شدت کے ساتھ ابھر کر آیا۔ میرے خیال میں ہر اس قاری کو جو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ پڑھ چکا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے، پہلے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے اس اعتبار سے بھی کہ یہ اس زمانے میں لکھا گیا جب مارکیز کے معاشی حالات خراب تھے۔ وہ جس ہوٹل میں آکر ٹھہرتا تھا، کبھی کبھی اس کے کمرے کا کرایہ دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ ہوٹل کے مالک کے پاس ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مسودہ بطور ضمانت رکھوا دیا کرتا تھا اور ہوٹل کا مالک اس بات سے واقف تھا کہ مارکیز کے لیے ان کاغذوں کی بہت اہمیت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارکیز کا مخصوص اسلوب یا تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری اس ناول میں بھی موجود ہے، مگر اتنی نہیں جتنی ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں نظر آتی ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں جادوئی حقیقت نگاری سے زیادہ حقیقت کا جادو نظر آتا ہے، جو اور بھی بڑی بات ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانعام ندیم ہمارے عہد کے نمایاں ترین اور بےحد اہم شاعر ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ناقابلِ یقین حد تک ایک اعلیٰ درجے کے مترجم بھی ہیں۔ اس ناول سے پہلے وہ مارکیز کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بالزاک کے مشہور ناول ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ اور ربی سنکربل کے ناول ’’دوزخ نامہ‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ میورئیل موفروئے کے ناول کا بھی ’’دخترِ رومی‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ فکشن اور بالخصوص عالمی فکشن پر انعام ندیم کی نظر بہت گہری ہے اور وہ فکشن کے بہترین پارکھ ہیں۔ اسی لیے ان کے ترجموں کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ کسی بھی مترجم کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متن میں پوشیدہ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے کس طرح دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد الفاظ یا جملے اور ان کی ساخت نہیں ہے، نہ ہی ثقافتی پس منظر ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد لفظوں کی مخصوص گونج، لَے، لہجہ اور ان کے حسی ارتعاشات ہیں۔ کسی بھی متن میں معنی اتنے اہم نہیں ہوتے (کہ ان تک تو ٹیڑھا میڑھا ترجمہ کر کے بھی پہنچا جاسکتا ہے)، بلکہ معنی تک پہنچنے والے راستے اہم ہوتے ہیں اور مارکیز کے یہاں تو سب سے زیادہ اہمیت ان راستوں ہی کی ہے۔ اس کے فکشن کا سارا جوہر یا رمز لفظوں کی انھیں گونج، احساس اور لَے میں پوشیدہ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں ان بظاہر ناقابلِ ترجمہ عناصر کو جس خوبی کے ساتھ انعام ندیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ترجمے کا مطلب ایک زبان ہی نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک کلچر اور ایک روایت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہے۔ گویا ایک دنیا کو دوسری دنیا میں لے جانا۔ انعام ندیم نے یہ مشکل کام بھی کر کے دکھایا ہے، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ترجمہ ہمیشہ اصل تخلیق کے برابر کے معیار کا ہونا چاہیے اور ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ جس بلند معیار کا حامل ناول ہے، انعام ندیم کا ترجمہ بھی اسی بلند معیار کا ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کے باوصف انعام ندیم نے دراصل اُردو زبان کے نئے امکانات بھی منکشف کیے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ ترجمہ ایک نئی تخلیق بھی کہا جا سکتا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں انعام ندیم کو ان کے اس کارنامے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(خالد جاوید)\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48381395566777,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/69aed45f9b38c1773065311.jpg?v=1785254042"},{"product_id":"sholokhov-chekhov-saltykov-choti-bari-kahaniyan-شولوخوف-چیخوف-سلتیخوف-چھوٹی-بڑی-کہانیاں","title":"SHOLOKHOV, CHEKHOV, SALTYKOV: CHOTI BARI KAHANIYAN شولوخوف، چیخوف، سلتیخوف : چھوٹی بڑی کہانیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/mikhail-sholokhov-1\"\u003eMIKHAIL SHOLOKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Zaki Naqvi\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTag: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/anton-chekhov\"\u003eANTON CHEKHOV\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 124\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eذکی نقوی 1987ء میں صحرائے تھل کی ایک بستی عباس پور (کوٹ شاکر) میں پیدا ہوئے۔ وہ اُردو ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے گریجوایٹ ہیں۔ عملی زندگی کی ابتدا میں فوجی تھے، اب مدرّس ہیں۔ اُردو کہانی اور عالمی ادب ان کے دلچسپی کے مشاغل رہے ہیں۔ خود بھی کہانیاں لکھتے ہیں، ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’دیار و دشت‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جسے سال 2025ء کا آصف فرخی علم و آگہی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کے نزدیک روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے تو روسی ادب، عالمی ادب میں سب سے بڑا ادب ہے، اسی والہانہ شوق سے انھوں نے یہ تراجم کیے ہیں۔ شولوخوف کی ’’تقدیر‘‘ کا ترجمہ ’’تسطیر‘‘ میں شائع ہوا تو سنجیدہ قارئین نے اس کی روانی اور اسلوب کو بہت سراہا۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Paperback","offer_id":48386114060473,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6955035f744961767179103.jpg?v=1785286500"},{"product_id":"zer-e-zameen-sargoshiyan-زیر-زمیں-سرگوشیاں","title":"ZER-E-ZAMEEN SARGOSHIYAN زیر زمیں سرگوشیاں","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor: \u003ca class=\"pointer link-dark-blue\" href=\"https:\/\/bookcorner.shop\/author\/fyodor-dostoevsky\"\u003eFYODOR DOSTOEVSKY\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eTranslator: Khalid Fateh Muhammad\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 159\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003e\n\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء زمانۂ تحریر ’’زیرِ زمیں سرگوشیاں‘‘، زبان: رُوسی، اصل عنوان: Записки из подполья \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1864ء دستوئیفسکی کا یہ ناول پہلی بار رسالہ ’’ایپوک‘‘ (Epoch) میں سلسلے وار شائع ہوا۔ اس تصنیف کا ابتدائی اعلان دستوئیفسکی نے ’’ایپوک‘‘ ہی میں ’’ایک اعتراف‘‘ (A Confession) کے عنوان سے کیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1866ء کتابی شکل میں یہ ناول نظرثانی شدہ ایڈیشن کے طور پر شائع ہوا۔ اس کے بعد یہ دستوئیفسکی کے بعد میں آنے والے بڑے ناولوں کا نقطۂ آغاز بنا۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1918ء اس ناول کا پہلا باقاعدہ انگریزی ترجمہ 1913ء میںسی جے ہوگارتھ (C. J. Hogarth) نے \"Letters from the Underworld\" کے عنوان سے کیا، تاہم کونسٹینس گارنیٹ (Constance Garnett) کا 1918ء میں شائع ہونے والا ترجمہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ معروف، مستند اور بااثر ثابت ہوا۔ انھوں نے اسے \"Notes from Underground\" کے عنوان سے انگریزی زبان میں منتقل کیا۔ وہ دستوئیفسکی، ٹالسٹائی، چیخوف اور تُرگینیف کے تراجم کے لیے مشہور ہوئیں۔ \u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء نامور کہانی کار، نقاد اور ترجمہ نگار خالد فتح محمد نے کونسٹینس گارنیٹ کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’زیرِزمیں سرگوشیاں‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل حوزے ساراماگو، اورحان کمال اور ہیرٹا میولر کے ناولوں کے ترجمے بھی کر چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e2026ء جہلم، پاکستان سے ’’بک کارنر‘‘ نے اس ناول کو ’’ورلڈ وائیڈ کلاسکس‘‘ سیریز کے تحت شائع کیا۔ اس اشاعت کو نستعلیق کمپوزنگ کے ساتھ کتاب، مصنف اور مترجم کے تعارف سے آراستہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h5\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48386189426873,"sku":"BC SSH","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/696505921617e1768228242.jpg?v=1785286992"}],"url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/collections\/world-fiction-in-urdu.oembed","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}