{"product_id":"faqeer-basti-mei-tha-3rd-edition-فقیر-بستی-میں-تھا","title":"FAQEER BASTI MEI THA (3RD EDITION)  فقیر بستی میں تھا","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white mt-4 pt-0 pb-3 clear\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cspan\u003eمحمد حسین آزاد کی کہانی میری زبانی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمَیں دسویں جماعت میں تھا، اپنے گائوں میں رہتا تھا۔ گھر کے سامنے ایک پانی کا نالہ بہتا تھا اور نالے پر ٹاہلیوں کے بےشمار چھائوں بھرے درخت تھے۔ اُن کے نیچے بان کی چارپائی بچھا کر اکثر کتابیں پڑھتا تھا۔ ایک دن میرے ہاتھ ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی کتاب’’ مباحث‘‘ آ گئی۔ مختلف مضامین کی دلچسپ کتاب تھی۔ اُسی میں ایک مضمون ’’مَیں اور میرؔ‘‘ بھی تھا۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ نے مولوی محمد حسین آزاد پر جرح کی تھی کہ اُس نے ’’ آبِ حیات‘‘ میں میرؔ صاحب کے کردار کو متنازع بنا ڈالا۔ میرؔ کو مبالغہ کی حد تک خودپسند ثابت کیا۔ مجھے اِس مضمون میں دیے گئے دلائل بہت عجیب اور متضاد لگے۔ مضمون پڑھ کر اُلٹا مَیں آزاد کے لیے تڑپ اُٹھا۔ جلد مولوی آزاد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کو ڈھونڈنے نکلا۔ اوکاڑہ شہر میں کسی دُکان پر ’’آبِ حیات‘‘ نہیں تھی۔ اُسی دن ریلوے اسٹیشن پر آیا، ایک بجے کی ریل پر بیٹھا اور لاہور پہنچ گیا۔ اُردو بازار لاہور سے ’’آبِ حیات‘‘ خریدی اور شام کی ٹرین سے اپنے شہر نکل لیا۔ راستے میں کتاب کا بے صبری سے مطالعہ شروع کر دیا۔ پھر بہت عرصہ یہ کتاب میری حرزِجان رہی اور مَیں مولانا کا عاشق ہو گیا۔ پھر جہاں سے جو کچھ بھی آزاد کے حوالے سے ملا، پڑھ ڈالا۔ لاہور میں آزاد کے ٹھکانوں کو تلاش کیا۔ جب دہلی گیا تو وہاں بھی آزاد کے پُرانے گھر اور کھجور والی مسجد کو ڈھونڈا۔ آزاد کے رشتے داروں کو ڈھونڈا۔ اُن میں ایک آغا سلمان باقر ملے، اُنھوں نے مجھے آزاد کے متعلق بہت مالا مال کر دیا، خدا اُنھیں سلامت رکھے۔ حتیٰ کہ آزاد کے بارے میں میری معلومات دہلی، لکھنؤ، لاہور اور دیگر مقامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہو گئیں۔ بعض معلومات اتنی دلچسپ، بالکل نئی اور ہمہ رنگ تھیں کہ پہلے تحریر میں نہیں آئی تھیں اور مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب دستِ غیبی ہے۔ قدرت چاہتی ہے کہ یہ اُن قارئین تک پہنچایا جائے جو اُردو ادب اور مولانا محمد حسین آزاد سے محبّت کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک وقت آیا کہ میں نے آزاد پر قلم اٹھایا اور یہ کتاب ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ وجود میں آئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اِس کتاب کے سرورق کے عنوان سے لے کر ابواب کے تمام عنوانات تک اُسی میرؔ کے مصرعوں سے لیے گئے ہیں۔ وہی میرؔ جس کے متعلّق سیّد عبداللہ کا اپنے مضمون میں دعویٰ تھا کہ اُس کے ساتھ مولوی آزاد نے انصاف نہیں کیا۔ لیکن مَیں کہوں گا کہ بخدا خود قاضی عبدالودود سے لے کر سیّد عبد اللہ اور وہاں سے آج تک کے تمام نقّادوں نے مولوی آزاد کے ساتھ انصاف نہیں کیا جنھیں مَیں نے اِس کتاب میں ظاہر کیا ہے۔ چلیے اب آپ اِس کتاب کو پڑھیے!!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعلی اکبر ناطق\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48476014739641,"sku":"BC SSH","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/63e34fe0b3eab1675841504.jpg?v=1785966407","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/faqeer-basti-mei-tha-3rd-edition-%d9%81%d9%82%db%8c%d8%b1-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%da%be%d8%a7","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}