{"product_id":"ghaddaar-2nd-edition-غدار","title":"GHADDAAR (2ND EDITION)  غدار","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر اُردو کا مقبول و محبوب، مجتہد اور منفرد فن کار ہے۔ انسان دوستی اور رجائیت اُس کا مشرب ہے۔ عوامی مسائل اور عوامی جدوجہد اُس کی تخلیقات کے موضوعات ہیں۔ اپنی گراں قدر تصانیف کی بدولت وہ عصرِحاضر کے مقتدر عالمی فنکاروں کی صفِ اوّل میں گنا جاتا ہے۔ اُس کی مقبولیت کا سبب جہاں عوام سے اس کی بے پناہ محبت ہے، جس کا اظہار وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں میں کرتا ہے، وہاں اُس کا منفرد اسلوب اور دلکش طرزِ بیان بھی ہے جس سے وہ اپنے قارئین کے دل موہ لیتا ہے۔ ”غدار“ کرشن چندر کا ایک اہم ناول ہے جسے ۱۹۶۰ء میں خاص اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اس ناول کا موضوع ۱۹۴۷ء کے فساداتِ پنجاب ہیں۔ اس سے قبل اس موضوع پر اس کی کہانیوں کا مجموعہ ”ہم وحشی ہیں“ شائع ہو کر اہلِ نظر سے خراجِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبدقسمتی سے برصغیر کے دونوں طرف آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں، جن کے دِلوں میں نفرت کا ناگ کُنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ کرشن چندر انتظار کرتا رہا۔ وہ پورے تیرہ سال یہ آس لگائے بیٹھا رہا کہ اس ناگ کا پَھن آپ سے آپ کُچل دیا جائے گا لیکن اس طویل انتظار کے بعد جب اُس کی یہ آس نِراس میں تبدیل ہونے لگی، جب اُس نے دیکھا کہ ہر طرف ہم وجودیت (Co-Existence) کا دور دَورہ ہے، دُنیا کی بڑی سے بڑی قوتیں باہمی خیرسگالی اور تعاون، امن اور آشتی کی باتیں کرتی ہیں لیکن ان دونوں آزاد ملکوں کے لوگ جو کل تک ایک دوسرے کا گوشت پوست تھے، آج ایک دوسرے کو اس طرح گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں، جیسے اَزلی دشمن ہوں، تو اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اُس نے اس ناول کے رُوپ میں نفرت کے زہر کا تریاق پیش کیا!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمواد اور اُسلوب کی مانند اس ناول کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے جو ایک زبردست طنز پر مبنی ہے اور جو ناول کے پلاٹ کے پسِ منظر سے اُبھرا ہے۔ پلاٹ کا تانا بانا فساداتِ پنجاب سے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ فرقہ وارانہ فسادات پوری وحشت ناکی کے ساتھ بَرپا تھے تو انسانیت مسخ ہو کر رہ گئی تھی۔ زندگی کی اقدار جیسے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ اگر کوئی فرزندِ اسلام، برادرانِ ملت سے کہتا تھا کہ ہندوئوں اور سکھوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے۔ قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے کہ ہمسایہ کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرو۔ ان کے قتلِ عام سے باز رہو، تو نام نہاد ”رضا کار“ جھٹ فتویٰ داغ دیتے تھے کہ یہ ”سچا مسلمان“ نہیں۔ یہ تو لالوں کا ایجنٹ اور سکھوں کا وظیفہ خوار ہے۔ اس ”غدار“ کو گولی سے اُڑا دو۔ اسی طرح اگر کوئی سکھ یا ہندو اپنے دھرم کے بھائی بندوں سے اپیل کرتا تھا کہ سری گورو گرنتھ صاحب کے مہاوالیہ ”ایک پتا، ایکس کے ہم بارک“ (ہم سب اُس قادرِ مطلق کی اولاد ہیں) کے انوسار مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے خون سے ہاتھ نہ رنگو تو خود ساختہ ”جتھے دار“ اُس ”غدار“ ہندو یا سکھ کو اہلِ اسلام کا پِٹھو جتلا کر فی الفور ”جھٹکانے“ کا فرمان صادر کرتے تھے۔ چنانچہ اس دَورِ ابتلا میں بہت سے اس طرح کے مسلمان، سکھ اور ہندو ”غدار“ شہید کیے گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکرشن چندر کے اس ناول کا ہیرو بھی ایسا ہی غدار ہے۔ جب وہ ایک مسلمان کو ”جھٹکانے“ سے گریز کرتا ہے تو ”جتھے“ کا ”جتھے دار“ بُلّو آگے بڑھتا ہے اور ڈپٹ کر کہتا ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”او۔ کتے باہمن! تُو کیا لڑے گا، پرے ہٹ جا، غدار!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتو یہ ہے غدار،\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eبرعکس نہند نامِ زنگی کافور!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس ناول کی کہانی ۱۹۴۷ء کے شرمناک فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس میں اُلجھاوے نہیں، گرہیں نہیں، اس کی شاید ضرورت بھی نہیں۔ مصنف فی الحقیقت کہانی کی وساطت سے ہمیں ایک فلسفہ سمجھانا چاہتا ہے۔ انسانیت، نیک کرداری، امن اور اخوت کا فلسفہ! کہانی مختصراً یُوں ہے:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e”بیج ناتھ (ناول کا ہیرو) راوی کے اُس پار ضلع گورداسپور کے موضع کوٹلی سُودکاں کے ایک کھاتے پیتے برہمن گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ وہ فسادات کے طوفان میں گِھر کر موج ہائے خون کے تھپیڑے کھاتا ہوا لاہور پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان دوست وہاں کی مسموم فضا سے بخیریت بچ نکلنے میں اُس کی اِعانت کرتا ہے۔ پھر وہ قتل و غارت کے کبھی نہ ختم ہونے والے خونیں مراحل سے گزر کر گرتا پڑتا راوی کے کنارے پر پہنچ کر جان بچانے کے لیے اُس میں کود پڑتا ہے اور تَیر کر دوسرے کنارے اس پار پہنچتا ہے۔ اس طرف بھی مذہبی جنون کے صدقے حیوانیت، بربریت اور بہیمیت کا ننگا ناچ اُسے دیکھنے کو ملا۔ جب اُسے پتا چلا کہ فسادیوں کے ہاتھوں اُس کے خاندان کے کچھ افراد قتل اور اُس کی بہن اغوا کر لی گئی (وہ اعِزّہ واقارب سے بچھڑ کر تن تنہا ”پاکستان“ سے ”ہندوستان“ پہنچا تھا) تو وہ بھی مشتعل ہو گیا اور مسلمانوں کے قاتلوں میں شریک ہو گیا لیکن اس کا یہ اشتعال بالکل عارضی تھا۔ بہت جلد اُس نے اپنی کمزوری پر قابو پا لیا۔ فرقہ وارانہ نفرت اور مخاصمت کی لمبی، خوفناک اور دُکھ بھری رات کا اَنت ہوا اور راوی کے کنارے اَمن، اخوت، انسانیت اور آس کا سویرا جگمگا اُٹھا!“\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eساری کہانی میں کہیں اُکتاہٹ نہیں بلکہ قاری جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر پُرامن شہریوں کے قتلِ عام اور مجسمۂ عصمت خواتین کے اغوا اور عصمت دَری کے دلدوز اور رُوح فرسا واقعات کا دِل تھام کر مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اس سحرکاری کا ایک سبب تو مصنف کا دِلفریب پیرایۂ اظہار ہے اور دوسرے وہ حکمت (Tact) ہے جس سے کام لے کر پلاٹ میں سانحاتِ فسادات کی تلخی کے ساتھ محبّت اور رُومان کی چاشنی بھی شامل کر دی گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eرازؔ سنتوکھ سری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48473278873785,"sku":"BC SSH","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6a6781da8238d1785168346.jpg?v=1785947299","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/ghaddaar-2nd-edition-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}