{"product_id":"ishq-nama-shah-hussain-2nd-edition-عشق-نامہ-شاہ-حسین","title":"ISHQ NAMA : SHAH HUSSAIN (2ND EDITION)  عشق نامہ : شاہ حسین","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eاس کتاب کے مقدمے اور پیش لفظ میں بے شمار ایسے مقامات ہیں جو فرخ یار نے کچھ اس طرح بیان کیے ہیں، یوں ان کی کلید کھولی ہے کہ آنکھیں روشن ہوتی جاتی ہیں، ان کے معانی کھلنے لگتے ہیں۔ یہ کتاب، تصوف، اس کی اصطلاحات اور شاہ حسین کے ساتھ حقیقی سیاق و سباق میں معاملہ کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے چالیس پچاس برسوں میں، پنجابی شاعری اور تصوف کے حوالے سے ایسی کتاب نہیں چھپی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافتخار عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار نے شاہ حُسین کی کافیوں کی ایک ایک سطر کا نہایت محویت کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ ’’عشق نامہ‘‘ ہند و پاک میں راگ راگنیوں کا جنم، ان کی کیفیات، شعری اور صوفیانہ روایات کی تفصیل کو پوری آب و تاب اور جمالیاتی احساس کے ساتھ بیان میں لاتی ہے۔ فرخ کی یہ سحربیانی ہم پر ایک ایسا عالمِ صحو و سکر طاری کرتی ہے جہاں رمزیں خودبخود کھُلتی چلی جاتی ہیں۔ کہیں بھور سمے کی رام کلی، کہیں تلنگ کی تپش تو کہیں سندھڑا کی گونج، کہیں دھناسری کی کوملتا اور کہیں بسنت کی چنچلتا۔ شاستر سنگیت، خسروی انگ اور پھربھگتی انگ کا رچاؤ ایک ترکیبی ثقافت کا آہنگ بن جاتا ہے۔ یہ کتاب استعاروں اور علامتوں کا دریا ہے جس کے بہاؤ کا کوئی انت نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسرمد صہبائی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eملامتی صوفی سخن ور کی تشریح کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ پھر وہ حافظ شیرازی ہو یا شاہ حُسین! ہستی کی نفی اور بات ہے، مگر ہستی کی ملامت دُنیا کے بپھرے سمندر کے بیچ بھنور کا سا معاملہ ہے! فرخ یار اس تشریحِ عشقِ حسین کے بھنور میں خود بھی اتھاہ اترے ہوئے نظر آتے ہیں اور قاری کو بھی اس کی جانب کھینچتے ہیں!\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنور الہدیٰ شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ حُسین کی اصل حیثیت ان کا پیر یا مرید ہونا نہیں ہے، ان کا متصوفانہ جوہر اور شاعرانہ کمال جس بنیاد پر ایک ہوتا دکھائی دیتا ہے، وہ ہے صوفیانہ احوال کی جمالیاتی تشکیلِ نو۔ معنی کی جہت سے بھی اور اظہار کے پہلو سے بھی۔ اس بات کو ہمارے فاضل دوست نے تاریخی سیاق و سباق سے محققانہ انداز سے دیکھا اور دکھایا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاحمد جاوید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ حسین کے کلام کا اتنا درست متن، مشکل الفاظ کے ایسے واضح معانی اور اتنا شستہ و رواں ترجمہ اور کہیں نہیں ملے گا۔ اگر اس شاہ کار کے کچھ اجزا یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہوں اور اسے کوئی اعلیٰ ایوارڈ دیا جائے تو یہ اس کی معمولی سی قدر شناسی ہو گی۔ فرخ یار کو کسی اچھی یونیورسٹی میں شاہ حسین کی زندگی، شاعری اور افکار و نظریات پر کوئی کورس پڑھانا چاہیے۔ بہترین نصابی کتاب تو وہ لکھ ہی چکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمعین نظامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eعہدِ وسطیٰ کے برصغیر میں وسط ایشیائی مسلم تہذیبی اثرات اور مقامی تہذیب کے امتزاج سے جو ایک نئی ترکیبی، صلح کُل کی حامل تہذیب پیدا ہوئی، پنجاب میں اس کی نمائندگی کرنے والوں میں بابا فرید کے بعد دوسرا نام شاہ حُسین کا ہے۔ ان کی ملامت گہرے عرفانی اور اخلاقی اسباب کے باعث تھی مگر اسے ان کی شخصیت اور کلام کو مسخ کرنے کی بنیاد بنایا گیا۔ فرخ یار نے تصوف کی ارتقائی تاریخ کو محققانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے، تمام سلاسل، صوفیہ، بھگتی اور خصوصاً قلندریہ و ملامتی رجحانات، شاہد بازی کے عجمی ذوق کا تفصیلی تاریخی جائزہ لیا ہے۔ دیگر صوفی شعرا پر کام کرنے کے لیے اس کتاب کو بطورِ کینن استعمال کیا جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناصرعباس نیّر\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48438469525689,"sku":"BC SSH","price":1700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/6894de09880291754586633.jpg?v=1785702635","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/ishq-nama-shah-hussain-2nd-edition-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}