{"product_id":"nai-kahaniyan-aur-zara-si-baat-نئی-کہانیاں-اور-ذرا-سی-بات","title":"NAI KAHANIYAN AUR ZARA SI BAAT  نئی کہانیاں اور ذرا سی بات","description":"\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003e\u003cspan\u003eافسانہ نگار تسنیم منٹو کے اختیار کردہ موضوعات میں حیرت انگیز تنوع ہے۔ اِسی سبب سے ان کے افسانوں کے کردار بھی اپنے اپنے مقام پر منفرد ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کے افسانوں کا قاری، ان کے ہر افسانے میں، معاشرے کی نئی صورتِ حال، نئے نفسیاتی مسائل اور نئے افراد سے متعارف ہوتا ہے۔ یوں جدید اُردو افسانے کا پینوراما اُفق تا اُفق پھیل جاتا ہے۔ اِن افسانوں میں ان کی قوتِ مشاہدہ نے کہیں بھی ٹھوکر نہیں کھائی۔ ان کا تجزیاتی مزاج کہیں بھی مبالغے کی زد میں نہیں آیا۔ اُن کے اُسلوبِ اظہار کی روانی میدان میں بہتے ہوئے دریا کی مثال ہے کہ وہ بہہ رہا ہوتا ہے، مگر بہتا محسوس نہیں ہوتا۔ زبان و بیان کی یہ وہ صفت ہے جو دورِ حاضر میں بہت کم افسانہ نگاروں کو ودیعت ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاحمد ندیم قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتسنیم کی کہانیاں اِس لیے بھی خاص ہیں کہ اِن میں ایک معمر عورت کے تجربات ایک بھرپُور معاشرتی حوالے کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ یہ عورت بھرے پُرے خاندان میں سانس لیتی ہے۔ وہ معاشی طور پر بھی زیر دست نہیں۔ اُس میں اپنی ہستی اور عزّتِ نفس کا نہایت مہذب شعور ہے۔ وہ خود رحمی کا بھی شکار نہیں۔ بس وہ اپنی عمر کے معاملات کو نہایت وقار کے ساتھ بسر کر رہی ہے۔ اُس کے اِس تجربے میں رُوحانی پہلو غالب ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ہمارے معاشرے میں آنے والی بہت بڑی تبدیلی ہے۔ ذہنی بلوغت کے آثار ہیں کہ اب عورت ہر عمر اور زندگی کے ہر مرحلے کو نہ صرف قبول، بلکہ اُس کا خندہ پیشانی سے استقبال بھی کرتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eخالدہ حسین\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمجھے اکثر محسوس ہوتا کہ تسنیم منٹو کو بھی راجندر سنگھ بیدی کے ایک قول کے مطابق گلی کے ہر موڑ پر بیسیوں افسانے پڑے نظر آتے ہوں گے، جنھیں عام لوگ روند کر گزر جاتے ہیں، لیکن افسانہ نگار کسی ایک افسانے کو اُٹھاتا ہے، اور اُسے فن پارہ بنا دیتا ہے۔ بلا شبہ تسنیم منٹو نے اپنے افسانے زندگی کے گھمسان سے ہی تلاش کیے ہیں، اور یہ موضوعات کے اعتبار سے متنوع، ابلاغ کے لحاظ سے مستقیم اور تکنیک کے لحاظ سے داخلی آہنگ کے آئینہ دار ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر انور سدید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکچھ لوگ دیر سے آتے ہیں، مگر جلد چھا جاتے ہیں۔ تسنیم منٹو بھی ادب میں دیر سے آئیں، مگر بہت جلد اپنا نمایاں مقام اور معتبر نام بنالیا۔ اُنھوں نے ابھی تک کم لکھا ہے، لیکن جو کچھ اور جتنا بھی لکھا، وہ اُن کی حیثیت اور اہمیت منوانے کے لیے کافی ہے۔ وہ کہانی لکھتی ہیں، بیان کرتی ہیں، وہ واقعات کو بُنتی ہیں، چُنتی ہیں، اور تحریر کا جامہ پہنا دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے، اُن کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ شاید قلم تھک جاتا ہے اور کاغذ کا سینہ تنگ پڑ جاتا ہے۔ اُن کی ایک کہانی ہی میں کئی کہانیاں چہک اور مہک رہی ہوتی ہیں، دیکھیں، تو کبھی آپس میں گندھی ہوتی ہیں، غور کریں تو دسیوں داستانیں کہہ رہی ہوتی ہیں۔ یہ خوبی بہت کم لکھنے والوں کو ملتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاظہر جاوید\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eکہانی شاید اُس وقت پیدا نہیں ہوتی جب اُسے سوچا جاتا ہے، بلکہ یہ درجہ بدرجہ پڑھنے والے کے اندر مُرتّب ہوتی ہے، مصنف کا تصور اُس کی تصنیف کا پیش رو ہوا کرتا ہے، اور پھر پڑھنے والے مصنف کی تحریر کو خود مصنف سے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تحریر میں مضمر انکشافی صورتِ حال کو اپنے اُوپر وارد کر لیتے ہیں۔ کہانیوں کا یہ ناگہانی انجام مصنف کے دائرئہ اختیار سے باہر ہے۔ تسنیم کی کہانیاں اِس عہد کی پڑھی لکھی، صاحبِ ادراک اور صاحبِ ثروت عورتوں کی انانیت کے لیے ایک ایسا ہی لمحہء فکریہ ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر شاہین مفتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eتسنیم کی کہانیاں من گھڑت نہیں، من کی کہانیاں ہیں، وہ جن کرداروں کو بہت گہرا دیکھ لیتی ہے، اور پہچان گہری ہونے پر کہانی کے لیے اُن کا حق تسلیم کر لیتی ہے۔ اور پھر جیسا کہ ہوتا ہے، اپنا لکھا ہوا کردار اپنا ہو جاتا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ ایک معمولی کردار کو، ایک ذرا سی بات کو جب ادب کے دربار میںکوئی مقام مل جاتا ہے، تب وہ بڑا بن جاتا ہے، اور وہ بات بڑی بات بن جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eافضل توصیف\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48484575445177,"sku":"BC SSH","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/689330481be9b1754476616.jpg?v=1786044059","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/nai-kahaniyan-aur-zara-si-baat-%d9%86%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%b1%d8%a7-%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}