{"product_id":"nikalta-huwa-din-نکلتا-ہوا-دن","title":"NIKALTA HUWA DIN  نکلتا ہوا دن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار معاصر اُردو نظم کے ممتاز شاعر ہیں۔ جدید نظم کے شاعر کو امتیاز مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے نظم میں محض نیا ڈِکشن ہی نہیں، نئی حسیت بھی پیش کرنا ہوتی ہے۔ جدید شاعر سے زیادہ کوئی لفظ و معنی اور ہیئت و موضوع کی کشاکش سے آگاہ اور ان سے عہدہ بَر آ ہونے کے اختراعی طریقوں سے واقف نہیں ہوا کرتا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار کے یہاں نیا، منفرد اور ان کا اپنا ڈِکشن بھی ہے، اور ایک نئی، خود اپنے مطالعے و تفکر، ذوقِ جمال اور معاصر دنیا کی تفہیمِ خاص سے اخذ کی گئی حسیت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفرخ یار کی نظمیں پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انھیں اس زمین اور انسانی وجود پر گزرنے والے وقت سے بہ طور خاص دل چسپی ہے۔ ان کے زیرِ نظر مجموعے کا نام ’’نکلتا ہوا دن‘‘ بھی، وقت سے ان کے لگاؤ، اور کچھ کچھ تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمان و مکاں کے طلسم کو توڑ کر انسانی وجود یا اس سے ماورا کی کسی جہت کو دریافت کرنے میں یقین رکھتے محسوس نہیں ہوتے، بلکہ مقام و زماں اور ان سے انسانی ہستی کے تعلق اور ان کے بیچ جاری، ہمہ جہت گفت و شنید سے پیدا ہونے والے طلسم کو منظوم کرنے میں اعتقاد رکھتے محسوس ہوتے ہیں۔ زمین و زماں اور وجود میں ربطِ باہمی کا احساس ہی انھیں ایک طرف حقیقی، حسیاتی سطح پر محسوس کرنے کی تحریک دیتا ہے، اور دوسری طرف ان کی استعاراتی، علامتی و تہذیبی جہات سے متعارف ہونے اور معانقہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ وہ مٹی و ہستی کی مہک، قوتِ نمو، مظاہرِ وجود، ان کی اساطیر، قصوں، کاروانوں، تجربوں سب کو بیان میں لاتے ہیں۔ بیان کے لیے وہ اپنی ایک مخصوص زبان وضع کرتے ہیں۔ اس زبان میں زمین، اس پر بہتی ندیوں، جنگلوں، ٹیلوں، ویرانوں، بارانی فصلوں، گزرتے موسموں، گزرے زمانے کی تاریخ اور لکھی کہانیوں، ان کے کرداروں کا ذکر ہے۔ کئی طرح کے آہنگ بھی ان کی نظم میں ملتے ہیں، جن میں یہیں کی مٹی کلام کرتی اور گنگناتی محسوس ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاس مجموعے کی پہلی نظم ’’زمیں ہر جگہ بولتی ہے‘‘ (جو طویل ہے)، میں تو ان کی نظم نگاری کے جملہ بہترین عناصر سمٹ آئے ہیں۔ اس بنا پر یہ اُردو کی اہم نظموں میں شمار کی جائے گی۔ ان کی باقی نظموں میں ایک دوسرے وجود سے مسلسل مکالمہ ہے۔ اس مکالمے میں وارفتگی کے ساتھ ساتھ، دو روحوں کے اکٹھے سفر کے کئی مراحل کا احوال ہے۔ یہ نظمیں ذات کا سفرنامہ بھی کہی جا سکتی ہیں، اور اس سفرنامے میں دشت بھی ہے اور وحشت بھی۔ انسانی وجود کا دشت اور انسانی دل کی وحشت۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاپنے عہد کے ایک ممتاز شاعر کی کتاب کا تعارف میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(ناصر عباس نیّر)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48458488381625,"sku":"BC SSH","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/66f7e69b930ea1727522459.jpg?v=1785840769","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/nikalta-huwa-din-%d9%86%da%a9%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%af%d9%86","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}