{"product_id":"wuthering-heights-urdu-illustrated-edition-ودرنگ-ہائیٹس-مصور-ایڈیشن","title":"WUTHERING HEIGHTS (URDU) - ILLUSTRATED EDITION  ودرنگ ہائیٹس - مصور ایڈیشن","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003e’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ عشق بلاخیز کی داستان ہے۔ پاگل کردینے والا عشق، جو مثبت اقدار کو دبا کر منفی اقدار کو نمایاں کرتا ہے، جو ایسا وحشی جذبہ بن کر سامنے آتا ہے کہ انسانوں کو ان کی سطح سے گرا کر وحشیوں اور جانوروں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جس کا سکہ ایک صدی سے زائد عرصے سے رائج ہے اور وقت کے گزرنے اور زمانے کی تبدیلیوں نے اس سکّے کو دھند لایا ہے نہ اسے بے وقعت بنایا ہے بلکہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے اس سکّے کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کی عالمگیر کشش کو ہر قاری نے محسوس کیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار ٹی وی ڈرامے لکھے اور پیش کیے جاچکے ہیں۔ ریڈیو کے لیے اسے بار بار دُنیا بھر میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر مبنی کئی بار فلمیں بن چکی ہیں، جن میں وہ فلم خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جس میں سرلارنس اولیور نے ہید کلف کا کردار ادا کیا تھا۔ شیکسپیئر کے بعض لازوال کرداروں کی طرح ہید کلف بھی ایک ایسا کردار ہے جسے دُنیا کے بڑے فنکار اپنے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے اسے ادا کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ دُنیائے ادب کا عظیم تخلیقی کارنامہ ہے۔ یہ اس لیے بھی بڑا فن پارہ ہے کہ اس کی خالق نے بھی کرب ناک زندگی بسر کی تھی اور وہ سارا کرب اس ناول میں منتقل ہو جاتاہے۔ اس عشق میں وہ منفی قوتیں شامل ہوجاتی ہیں جنھوں نے ہید کلف کو وحشی بنا دیا۔ ایملی برانٹے کو زندگی نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ کوئی دوسرا ناول لکھ سکے۔ اس کا پہلا اور آخری ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ ہے اوراس ناول نے ہی اسے زندہ ٔجاوید کر دیا۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ مقامی لوگوں کی زبان میں اس جگہ کو کہتے تھے جہاں آندھیاں چلتی ہوں، ہوائیں چیختی ہوں، طوفان آتے ہوں۔ ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ ناول بھی عشق کے طوفان اور عشق کی آندھی کا قصہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eستار طاہر\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eایملی جین برانٹے(30 جولائی 1818ء - 19 دسمبر1848ء) انگریزی کی مشہور ناول نگار اور شاعرہ، اپنے واحد ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کے لیے پوری دُنیا\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیں پہچانی گئی۔ ابتدا میں ایلس بیل (Ellis Bell) کے قلمی نام سے لکھا۔ بعداز مرگ بڑی بہن شارلٹ برانٹے کے انکشاف سے کتابیں ایملی برانٹے کے اصل نام سے شائع ہوئیں۔ پیدائش بریڈفورڈ کے نواحی گاؤں تھونٹن میں ہوئی جہاں باپ مقامی گرجے کا پادری تھا۔ ایملی کا بچپن مشکل حالات میں گزرا۔ نوعمری میں ہی اپنی ماں اور دو بڑی بہنوں کی موت کا صدمہ سہنا پڑا۔ وبا پھیلی تو مختصر سی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ بیس سال کی عمر سےسکول میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ چار سال بعد فرنچ اور جرمن زبان سیکھنے کے لیے شارلٹ کے ہمراہ برسلز کا سفر کیا۔ مگر خالہ کی ناگہانی موت کے باعث وطن واپس لوٹنا پڑا۔ ایملی اور اس کی چھوٹی بہن این چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز دونوں کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ 1846ء میں پہلی بار تینوں برانٹے سسٹرز کی شاعری یکجا صورت میں ’’Poems by Currer, Ellis and Acton Bell ‘‘ کے ٹائٹل سے ان کے قلمی ناموں سے منظرِ عام پر آئی۔ اشاعت کے کئی ماہ تک اس کتاب کی صرف دو کاپیاں فروخت ہوسکیں، مگر ان بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ یوں شارلٹ نے ’’جین آئر‘‘، این نے ’’ایگنس گرے‘‘ اور ایملی نے ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسے لازوال ناول تخلیق کیے۔ ایملی نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت دُکھ سہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے جو کرب ناک زندگی بسر کی اس کا سارا کرب اپنے اس اکلوتے شاہکار ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ میں بھر دیا۔ ایملی کی زندگی ہمیشہ ایک معمہ رہی ہے کیونکہ اس کی زندگی کے حالات، ماسوائے اس کی بہن شارلٹ اور برسلز کے استاد کی زبانی، کہیں اور سے نہیں ملتے۔ پُراسرار اور شرمیلی ایملی اپنے باپ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ٹی بی کا شکار ہوگئی اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ جیسا شاہکار چھوڑ کر تیس سال کی عمر میں اپنے ماں، باپ اور بہنوں کے پاس چلی گئی۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمترجم:\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Shamshir Haider","offers":[{"title":"Hardcover","offer_id":48445968908473,"sku":"BC SSH","price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0797\/8654\/1241\/files\/60a60f665bf551621495654.jpg?v=1785756665","url":"https:\/\/kitabwala.shop\/ur\/products\/wuthering-heights-urdu-illustrated-edition-%d9%88%d8%af%d8%b1%d9%86%da%af-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%b9%d8%b3-%d9%85%d8%b5%d9%88%d8%b1-%d8%a7%db%8c%da%88%db%8c%d8%b4%d9%86","provider":"Kitab Wala","version":"1.0","type":"link"}